Tag: سندھ

  • سندھ حکومت کا سال 2025–26 کے مجموعی بجٹ تین ہزار 450 ارب روپے۔ سروس ڈیلیوری اور ترقیاتی اخراجات سمیت کس شعبے میں کتنی رقم مختص؟

    سندھ حکومت کا سال 2025–26 کے مجموعی بجٹ تین ہزار 450 ارب روپے۔ سروس ڈیلیوری اور ترقیاتی اخراجات سمیت کس شعبے میں کتنی رقم مختص؟

    سندھ حکومت نے مالی سال 2025–26 کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 3450 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ یہ بجٹ سندھ اسمبلی سے منظور شدہ ہے اور اس میں پورے مالی سال کے سرکاری اخراجات کا تخمینہ شامل ہے۔

    یہ بجٹ بنیادی طور پر دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک سروس ڈیلیوری یعنی روزمرہ اخراجات، اور دوسرا ترقیاتی اخراجات۔

    سروس ڈیلیوری کے لیے مختص رقم تقریباً 2100 ارب روپے ہے۔ یہ وہ اخراجات ہیں جو حکومت کو روزمرہ نظام چلانے کے لیے کرنا ہوتے ہیں۔ ان میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، دفاتر کے انتظامی اخراجات، تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر عوامی خدمات سے متعلق اخراجات شامل ہیں۔ اس حصے کا مقصد موجودہ نظام کو فعال رکھنا ہے۔

    ترقیاتی اخراجات کے لیے تقریباً 1350 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔ ان منصوبوں میں اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر، سڑکوں اور پلوں کا انفراسٹرکچر، عوامی سہولیات اور جاری و نئے ترقیاتی پروگرام شامل ہوتے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق سندھ حکومت کا بجٹ 2025–26 روزمرہ انتظامی ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایک طرف موجودہ نظام کو برقرار رکھنا اور دوسری طرف ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

    مختصراً، سندھ کا کل بجٹ 3450 ارب روپے ہے، جس میں سے 2100 ارب روپے سروس ڈیلیوری اور 1350 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔

     

  • قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والے شہر نئوں کوٹ کے ہر سال ڈوبنے کی کہانی

    قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والے شہر نئوں کوٹ کے ہر سال ڈوبنے کی کہانی

    سندھ کے قدیم دریائے ہاکڑو کے بہاؤ پر بسنے والا نئوں کوٹ کا شہر ہر سال سیلاب کی زد میں آتا ہے۔ یہ شہر انتظامی طور پر دو اضلاع، تھرپارکر اور میرپور خاص، میں تقسیم ہے۔ تھرپارکر کی حدود میں آنے والا حصہ ڈھورو بازار یا سنتورو فارم کہلاتا ہے، جبکہ میرپور خاص کی حدود میں موجود حصہ نئوں کوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    وہ وقت جب تھر تک پکی سڑکیں نہیں پہنچی تھیں، نئوں کوٹ اس خطے کا مرکزی شہر تھا۔ اس وقت تھرپارکر کی چار میں سے تین تحصیلوں کی آمدورفت اسی شہر کے ذریعے ہوتی تھی، کیونکہ یہی واحد شہر تھا جہاں سے ریلوے سڑک گزرتی تھی۔ اسی ریلوے لائن نے نئوں کوٹ کو تجارتی اور آبادیاتی طور پر وسعت دی۔

    وقت کے ساتھ لوگوں نے قدیم دریائے ہاکڑو کے کنارے آبادیاں بنائیں۔ رفتہ رفتہ یہ آبادیاں پھیلتی گئیں اور ایک وقت آیا کہ شہر کا بڑا حصہ خشک ہو چکے ہاکڑو کے اندر تک جا بسا۔ چونکہ دریا برسوں سے سوکھا ہوا تھا، اس لیے لوگوں کو یہ احساس ہی نہ رہا کہ وہ ایک قدیم دریا کے بہاؤ میں رہائش اختیار کر چکے ہیں۔

    یہ حقیقت پہلی بار 2011 میں اس وقت سامنے آئی جب شدید سیلاب آیا۔ نئوں کوٹ کی سب سے بڑی مارکیٹ اور سنتورو فارم، ڈھورو بازار سمیت متعدد کالونیاں مکمل طور پر زیر آب آ گئیں۔ دکانیں ڈوب گئیں اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی اور وہ قریبی ریت کے ٹیلوں پر جا کر آباد ہوئے۔ تقریباً دو مہینے تک متاثرہ خاندان انہی ٹیلوں پر رہے۔ پانی اترنے کے بعد لوگ دوبارہ شہر کی طرف لوٹ آئے۔

    اس کے بعد 2020 اور 2022 میں بھی سیلاب آیا اور نئوں کوٹ ایک بار پھر ڈوب گیا۔ ہر بار منظر ایک جیسا رہا، نقل مکانی، ریت کے ٹیلے اور واپسی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جب بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، شہر کے لوگ خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کہیں دوبارہ سیلاب نہ آ جائے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ ایک دہائی کے دوران سندھ میں غیر معمولی بارشیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ جب بھی سندھ میں دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، اس کا براہ راست اثر نئوں کوٹ پر پڑتا ہے۔ قدیم ہاکڑو اب سندھ کا سب سے بڑا سیلابی نالا بن چکا ہے، جو سیلابی پانی کو شکور جھیل اور پھر سمندر کی جانب لے جاتا ہے، اور اسی بہاؤ میں نئوں کوٹ بار بار ڈوب جاتا ہے۔

    ہر بڑے سیلاب کے دوران نئوں کوٹ میڈیا کی خبروں میں تو آ جاتا ہے، مگر شہر کو مستقل بنیادوں پر محفوظ بنانے کے لیے اب تک کوئی جامع منصوبہ بندی سامنے نہیں آ سکی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے یہاں آباد ہیں، مگر بدلتے موسم اور بڑھتی بارشوں نے ان کی زندگی غیر محفوظ بنا دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو فوری اور عملی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

    شہر کے رہائشی سنجے کمار کا کہنا ہے کہ اگر نئوں کوٹ کو بچانا ہے تو ہاکڑو کے نالے کو باقاعدہ طور پر خالی کر کے اس کے اوپر فلائی اوور یا متبادل راستہ بنایا جائے، تاکہ سیلاب کے دوران آمدورفت متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق جب نئوں کوٹ ڈوبتا ہے تو تھرپارکر کا رابطہ باقی سندھ سے کٹ جاتا ہے، جس سے پورا خطہ مفلوج ہو جاتا ہے۔

    نئوں کوٹ آج بھی قدیم ہاکڑو کے بہاؤ میں سانس لے رہا ہے، مگر ہر آنے والا مون سون اس شہر کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ اگر بروقت منصوبہ بندی نہ کی گئی تو یہ شہر ہر سال اسی طرح ڈوبتا رہے گا۔

     

  • وہیکل بم کیا ہے؟ پاکستان میں گاڑی بم کی تاریخ

    وہیکل بم کیا ہے؟ پاکستان میں گاڑی بم کی تاریخ

    کراچی میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی برآمد کرلی۔
    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کے مطابق گاڑی میں 3400 کلوگرام بارود بھرا ہوا تھا، دہشتگرد گروہ نے کراچی اسٹاک ایکسچینج کو بارودی مواد سے اُڑانے کی تیاری کررکھی تھی۔ دھماکے کے لیے اس طرح کی گاڑی کو
    وہیکل بورن امپرووائزڈ ایکسپلوسِو ڈیوائس جسے عام زبان میں وہیکل بم یا گاڑی بم کہا جاتا ہے،

    وہیکل بورن امپرووائزڈ ایکسپلوسِو ڈیوائس جسے عام زبان میں وہیکل بم کہا جاتا ہے، ایسا دھماکہ خیز آلہ ہوتا ہے جو کسی گاڑی کے اندر یا اس پر نصب کیا جاتا ہے۔ گاڑی کار ہو سکتی ہے، وین، پک اپ، بس یا بڑا ٹرک بھی۔ گاڑی کی مدد سے بارودی مواد ہدف تک پہنچایا جاتا ہے، اسی لیے اس طریقے میں تباہی کی شدت زیادہ ہوتی ہے اور نفسیاتی اثر بھی گہرا پڑتا ہے۔

    یہ ہتھیار کیوں خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ گاڑی عام ٹریفک میں غیر نمایاں رہتی ہے اور اس میں بھاری مقدار میں بارود منتقل کیا جا سکتا ہے۔ شہری علاقوں میں ایسی گاڑیاں ہجوم تک آسانی سے پہنچ جاتی ہیں۔ ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ بہت سے حملوں میں دھماکے کا وقت اس طرح چنا جاتا ہے کہ زیادہ لوگ موجود ہوں، تاکہ خوف کا اثر طویل ہو۔

    کن گاڑیوں کا زیادہ استعمال ہوا۔ پاکستان میں زیادہ تر حملوں میں عام کاریں اور چھوٹی وینز استعمال ہوئیں کیونکہ یہ آسانی سے دستیاب رہیں۔ پک اپ اور لوڈر گاڑیاں زیادہ وزن اٹھانے کے لیے استعمال ہوئیں۔ سب سے تباہ کن حملوں میں بڑے ٹرک اور ڈمپر استعمال کیے گئے جن میں سینکڑوں کلو بارودی مواد بھرا گیا۔ بعض علاقوں میں موٹر سائیکلیں بھی استعمال ہوئیں تاکہ تنگ گلیوں سے گزر ممکن ہو۔ ایک دلچسپ مگر تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ کچھ حملوں میں ایمبولینس یا سروس گاڑیوں کا بیرونی ڈھانچا استعمال کیا گیا تاکہ جانچ سے بچا جا سکے۔

    پاکستان میں وہیکل بم حملوں کی ابتدا اور پھیلاؤ۔ دو ہزار سات کے بعد یہ رجحان نمایاں ہوا اور بڑے شہری مراکز اس کی زد میں آئے۔ اکتوبر 2007 میں کراچی کے علاقے کارساز میں سیاسی قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایک سو اسی سے زائد افراد جان سے گئے اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال بنا کہ ہجوم میں ہونے والا وہیکل بم کس قدر تباہی لا سکتا ہے۔

    ستمبر 2008 میں اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل کے باہر ڈمپر ٹرک میں نصب وہیکل بم پھٹا۔ پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ دھماکے کے بعد آگ نے عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس واقعے نے سیکیورٹی منصوبہ بندی میں فاصلے اور مضبوط رکاوٹوں کی اہمیت کو نمایاں کیا۔

    کراچی میں مارچ 2013 کو عباس ٹاؤن کے قریب کار بم دھماکا ہوا۔ چالیس سے زائد افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی خاص بات یہ تھی کہ پہلے دھماکے کے بعد دوسرا دھماکا بھی ہوا، جس نے امدادی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔ یہ حکمت عملی کم استعمال ہوتی ہے مگر انتہائی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔

    بلوچستان میں وہیکل بم حملوں نے خاص طور پر شدید اثرات چھوڑے۔ جنوری 2013 میں کوئٹہ کے علمدار روڈ کے قریب کار بم دھماکے میں نوے سے زائد افراد جان سے گئے اور ایک سو بیس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ بلوچستان کی تاریخ کے مہلک ترین شہری حملوں میں شمار ہوتا ہے۔ کوئٹہ اور مستونگ کے واقعات نے یہ واضح کیا کہ مذہبی اجتماعات اور زیارات بھی نشانے پر رہے۔

    پشاور میں چیک پوسٹوں، بازاروں اور پولیس تنصیبات کے قریب وہیکل بم حملے ہوئے۔ ان حملوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ عام شہری بھی متاثر ہوئے۔ ایک کم معلوم پہلو یہ ہے کہ کچھ حملوں میں گاڑی کو اس طرح پارک کیا گیا کہ دھماکے کی سمت عمارتوں کے اندر کی طرف ہو، تاکہ نقصان زیادہ ہو۔

    دنیا کے بڑے وہیکل بم اور ان کا سبق۔ جدید دور کا سب سے ہلا دینے والا وہیکل بم حملہ 2017 میں صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ہوا۔ ایک بڑے ٹرک میں بھرے گئے بارودی مواد نے پورے علاقے کو تباہ کر دیا۔ سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال بنا کہ ٹرک بم ایک پورے شہر کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے 1995 میں امریکا کے شہر اوکلاہوما میں ٹرک بم حملے نے یہ ثابت کیا کہ یہ خطرہ صرف جنگی علاقوں تک محدود نہیں۔

    وہیکل بم میں کیا بھرا جاتا ہے۔ عام طور پر کھاد پر مبنی بارودی مرکبات، فوجی گولہ بارود، ایندھن اور دھات کے ٹکڑے شامل ہوتے ہیں۔ بعض صورتوں میں آگ اور دباؤ بڑھانے کے لیے مخصوص مرکبات ملائے جاتے ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ دھماکے کے بعد بچ جانے والے پرزے اکثر تفتیشی اداروں کو حملہ آور نیٹ ورک تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔

    کم معلوم مگر اہم حقیقتیں۔ بڑے وہیکل بم کبھی اکیلے افراد تیار نہیں کرتے۔ اس کے لیے مالی وسائل، محفوظ مقامات، نقل و حمل اور تربیت یافتہ افراد کا جال درکار ہوتا ہے۔ بعض حملوں میں پہلا دھماکا ہجوم اکٹھا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور دوسرا دھماکا امدادی ٹیموں کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ طریقہ خوف اور نقصان دونوں کو بڑھاتا ہے۔ ایک اور حقیقت یہ ہے کہ بعض حملہ آور عام سروس روٹین اور اوقات کا مطالعہ کر کے حملے کا وقت طے کرتے ہیں۔

    نفسیاتی اور سماجی اثرات۔ وہیکل بم کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں ہوتا بلکہ عدم تحفظ کا احساس پھیلانا بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حملے علامتی مقامات یا مصروف علاقوں میں کیے جاتے ہیں۔ طویل مدت میں یہ معاشرے پر خوف اور بے یقینی کے اثرات چھوڑتے ہیں۔

     

  • سندھ کے مشہور عشقیہ لوک داستان مومل راڻو میں ڈھاٹی اُونٹ کے چرچے، یہ اونٹ آج بھی مقبول کیوں؟

    سندھ کے مشہور عشقیہ لوک داستان مومل راڻو میں ڈھاٹی اُونٹ کے چرچے، یہ اونٹ آج بھی مقبول کیوں؟

    سندھ کے مشہور عشقیہ لوک داستان مومل راڻو میں ڈھاٹی اُونٹ کا خاص ذکر ملتا ہے۔ اس داستان کے مرکزی کردار راڻو مہندر امرکوٹ سے جیسلمیر تک رات کی تاریکی میں سفر کر کے اپنی محبوبہ مومل سے ملنے جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی رات میں یہ طویل فاصلہ طے کر کے ملاقات کے بعد واپس آ کر آرام کرتا تھا۔ یہ روایت صحرائی سفر میں ڈھاٹی اُونٹ کی رفتار اور برداشت کی علامت بن چکی ہے۔

    سندھی شاعری کے سرتاج شاہ لطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں مومل راڻو پر پورا ایک سر تخلیق کیا ہے۔ اس سر میں ڈھاٹی اُونٹ کا ذکر بار بار آتا ہے، جو نہ صرف سواری بلکہ عشق، جدوجہد اور سفر کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُونٹ تھر کی زندگی میں محض ایک جانور نہیں بلکہ تہذیبی اور علامتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

    اُونٹ کو ریگستان کا جہاز کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ اُونٹ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں۔ اسلام کوٹ پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں ہر بدھ کے روز اُونٹوں کی باقاعدہ منڈی لگتی ہے۔ اس منڈی میں ملک کے مختلف حصوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک سے آنے والے تاجر بھی اپنی ضرورت کے مطابق اُونٹ خریدتے ہیں۔ یہ منڈی صحرائی معیشت کے ساتھ ساتھ صدیوں پرانی ثقافتی روایت کی بھی نمائندہ ہے۔

    تھر کے علاقے میں اُونٹوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں مہراںوی، کھارائی، ہائبرڈ، سندھی اور ڈھاٹی اُونٹ شامل ہیں۔ یہ اقسام سرحد کے دونوں جانب تھر، راجستھان اور مارواڑ کے علاقوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

    ان اُونٹوں کو کھیتی باڑی، بوجھ اٹھانے، پانی بھرنے، کنوؤں سے پانی کھینچنے، تیل کے گھان چلانے، اُونٹ گاڑیوں اور سواری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صحرائی زندگی میں یہ جانور انسانی بقا کا ایک اہم سہارا رہا ہے۔

    ان اقسام میں ڈھاٹی اُونٹ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ واحد قسم ہے جسے خاص طور پر سواری کے لیے پالا جاتا ہے۔ ڈھاٹی اُونٹ اپنی جسامت میں دوسرے اُونٹوں کے مقابلے میں دبلا، اونچا اور متوازن ہوتا ہے۔ یہ کم خوراک میں گزارا کر لیتا ہے، وزن میں ہلکا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے تیز رفتار سفر کرتا ہے۔ طویل فاصلے طے کرتے ہوئے یہ کم تھکتا ہے، اسی لیے قدیم زمانے میں شاہی قاصد، سوداگر اور مسافر اسے ترجیح دیتے تھے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اُونٹ اپنے جسمانی درجہ حرارت کو خود منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شدید گرمی میں اس کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور رات کے وقت کم ہو جاتا ہے، جس سے پانی کی بچت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُونٹ کئی دن تک بغیر پانی کے زندہ رہ سکتا ہے، اور ریتلے طوفانوں میں بھی اپنا راستہ پہچاننے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اگرچہ آج سڑکوں، گاڑیوں اور جدید سفری سہولتوں نے صحرائی علاقوں میں آمد و رفت کو آسان بنا دیا ہے، پھر بھی تھر، راجستھان اور گجرات کے کئی علاقوں میں اُونٹ کی اہمیت برقرار ہے۔ جدید دور میں بھی یہاں کے لوگ گھریلو کام کاج، روزمرہ ضروریات اور بعض سفری مقاصد کے لیے اُونٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ جانور آج بھی صحرائی تہذیب، معیشت اور ثقافت کا ایک زندہ استعارہ ہے۔

  • سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی کیا ہے؟

    سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی کیا ہے؟

    سندھ کی قدیم اور درد بھری رومانوی لوک داستان سسئی پنہوں کی کہانی جو محبت، تقدیر اور سماجی سرحدوں کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس داستان کو سوندی زبان کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھائی نے اپنی شاعر ی میں شامل کیا مگر یہ کہانی صرف شاعری کا موضوع نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایات میں زندہ ایک روایت ہے، جسے سندھ کے مختلف علاقوں میں مختلف انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔

    اس کہانی نے جنم لیا سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں موجود قدیم شہر بھنبھور میں، جہاں ایک میوزیم قائم ہے۔ بھنبھور میوزیم کے انچارج ظہیر احمد کے مطابق سسئی کی پیدائش سیہون شریف میں ایک ہندو خاندان کے گھر ہوئی۔ ان کے بقول خاندان نے خوشی کے موقع پر پنڈت کو بلایا تاکہ نومولود کی کنڈلی دیکھی جائے۔ پنڈت نے کنڈلی دیکھنے کے بعد کہا کہ یہ بچی ایک دن مسلمان ہو جائے گی اور اس کی شادی ایک مسلمان مرد سے ہوگی۔ یہ پیش گوئی اس دور کے سماجی تصورات کے خلاف سمجھی گئی۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ظہیر احمد نے کہا: ‘اس پیش گوئی کے بعد بچی کے والدین شدید خوف اور دباؤ کا شکار ہو گئے۔ خاندان کی روایت کے مطابق انہوں نے نومولود سسئی کو ایک صندوق میں رکھا اور دریائے سندھ کے حوالے کر دیا، یہ سوچ کر کہ شاید یوں بدنامی سے بچا جا سکے۔ ظہیر احمد کے مطابق یہ فیصلہ محبت یا نفرت سے زیادہ سماجی خوف کا نتیجہ تھا۔

    ‘یہ صندوق بہتا ہوا بھنبھور کے قریب پہنچا، جہاں ایک مسلمان دھوبی کو یہ دریا کے کنارے ملا۔ دھوبی نے صندوق کھولا تو اندر زندہ بچی کو پایا اور اسے اپنی اولاد کی طرح پالنا شروع کر دیا۔ یوں سسئی ایک ہندو خاندان میں جنم لے کر ایک مسلمان گھرانے میں پرورش پانے لگی۔’

    ظہیر احمد کے مطابق سسئی جوان ہوئی تو اپنی خوبصورتی، سادگی اور کردار کی وجہ سے مشہور ہو گئی۔ اسی دوران مکران کے علاقے سے تعلق رکھنے والے شہزادہ پنہوں بھنبھور آیا، جہاں اس کی ملاقات سسئی سے ہوئی۔ یہ ملاقات آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی، جو وقت کے ساتھ ایک عظیم داستان بن گئی۔

    ظہیر احمد نے بتایا کہ پنہوں اور سسئی کی محبت سماجی رکاوٹوں کی نذر ہو گئی۔ پنہوں کے خاندان نے اس رشتے کو قبول نہیں کیا اور اسے زبردستی واپس لے جایا گیا۔ سسئی نے پنہوں کی تلاش میں ریگستان کا سفر اختیار کیا، جو اس کہانی کا سب سے دردناک حصہ مانا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سسئی کا صحرا میں بھٹکتے ہوئے جان دینا اس محبت کی انتہا کی علامت ہے۔ یہ کہانی سندھ کی ثقافت میں اس بات کی مثال بن گئی کہ سچی محبت مذہب، ذات اور طاقت کی حدود کو نہیں مانتی۔

    ظہیر احمد کے مطابق سسئی پنہوں کی داستان آج بھی سندھ کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہانی صرف دو افراد کی محبت نہیں بلکہ اس خطے کی تاریخ، سماجی ڈھانچے اور انسان کی تقدیر کے ساتھ جدوجہد کی عکاس ہے، اسی لیے صدیوں بعد بھی اسے سنایا اور سنا جاتا ہے۔

     

  • صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے نواحی گاؤں جام خان جو وانڈھیو میں موجود پیلو کا درخت آج بھی اپنی مضبوط جڑوں اور پھیلی ہوئی شاخوں کے ساتھ قائم ہے۔ یہ درخت مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً 150 سال پرانا ہے اور تھر کے سخت موسموں، قحط اور تیز ہواؤں کا خاموش گواہ رہا ہے۔ ریگستانی خطے میں اس نوعیت کے قدیم درخت اب بہت کم رہ گئے ہیں، اسی لیے یہ پیلو خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    اس درخت کے سائے کی وسعت مقامی روایت میں مثال کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ گاؤں کے بزرگ جام خان کے پوتے ساگر خاصخیلی کے مطابق پیلو اتنا وسیع ہے کہ اس کے نیچے بیک وقت 150 افراد ‘آرام’ سے بیٹھ سکتے ہیں۔ تھر جیسے گرم اور خشک علاقے میں ایسا سایہ کسی نعمت سے کم نہیں سمجھا جاتا۔

    پیلو کا یہ درخت صرف قدرتی حسن تک محدود نہیں بلکہ گاؤں کی سماجی زندگی کا مرکز بھی رہا ہے۔ ماضی میں گاؤں کے فیصلے، مشورے اور اجتماعی بیٹھکیں اسی درخت کے نیچے ہوا کرتی تھیں۔ مسافر، چرواہے اور مقامی لوگ گرمی کی شدت میں یہاں سستا کر دم لیتے تھے۔

    نگرپارکر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پیلو کے درخت کو خاص تقدس حاصل ہے۔ اس کے پھل مقامی خوراک میں استعمال ہوتے رہے ہیں جبکہ اس کی چھال اور پتے روایتی علاج میں بھی کام آتے ہیں۔ ریگستانی ماحول میں پیلو ان چند درختوں میں شامل ہے جو کم پانی میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پیلو کی جڑیں زمین میں گہرائی تک پھیلی ہوتی ہیں، جو اسے طویل عرصے تک قائم رہنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید خشک سالی کے باوجود یہ درخت سبز رہتا ہے۔ مقامی لوگ اسے صبر، برداشت اور بقا کی علامت سمجھتے ہیں۔

    یہ درخت اب گاؤں کی شناخت اور سیاحتی کشش کا اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ اس پیلو کو دیکھنے کے لیے مختلف علاقوں سے سیاح یہاں آتے ہیں، جن کا مقامی لوگ روایتی انداز میں استقبال کرتے ہیں۔ مہمانوں کو اپنے گھروں میں بٹھایا جاتا ہے، مقامی کھانے پیش کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزار کر تھر کی روایتی مہمان نوازی کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

    جام خان جو وانڈھیو کے رہنے والوں کے لیے یہ محض ایک درخت نہیں بلکہ یادوں اور روایتوں کا مرکز ہے۔ بچوں کی کھیل کود، بزرگوں کی باتیں اور مسافروں کی کہانیاں سب اسی سائے میں پروان چڑھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درخت گاؤں کے اجتماعی تشخص کا حصہ بن چکا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ پیلو کے درخت کو صحرائی ماحول میں قدرتی پانی صاف کرنے والا نظام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی جڑیں زیر زمین نمی کو محفوظ رکھ کر اردگرد کی مٹی میں پانی کی مقدار برقرار رکھتی ہیں۔ یہ خصوصیت آس پاس کی نباتات اور چرند پرند کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

    آج جب تھرپارکر میں ماحولیاتی تبدیلی اور درختوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جام خان جو وانڈھیو کا یہ پیلو درخت قدرتی ورثے کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ درخت یاد دلاتا ہے کہ ریگستان میں زندگی کا دارومدار مضبوط جڑوں، سایے اور انسانوں کے باہمی رشتوں کی قدر پر ہوتا ہے۔

     

  • روائتی پگڑی یا پٹکو، پھینٹو: ہند و سندھ تہذیب میں راجپوت شناخت، غیرت اور ذمہ داری کی علامت

    روائتی پگڑی یا پٹکو، پھینٹو: ہند و سندھ تہذیب میں راجپوت شناخت، غیرت اور ذمہ داری کی علامت

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ضلع تھرپارکر کا دورہ کیا۔اس دورے کے دوران انہوں نے انصاف کی فراہمی اور عدالتی نظام سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔یہ دورہ مقامی سطح پر عدالتی رسائی اور مسائل کو سمجھنے کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے یہ فیلڈ وزٹ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے کیا۔
    اس موقع پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ دورے کو عدالتی نگرانی اور مشاورت کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا۔

    دورے کے دوران مقامی افراد نے چیف جسٹس پاکستان کو راجپوتی پگڑی پہنائی۔ اس پگڑی کو مقامی زبان میں پٹکا یا پھینٹو کہا جاتا ہے۔ یہ عمل محض روایتی اعزاز نہیں بلکہ ایک گہری علامتی حیثیت رکھتا ہے۔

    روایتی پگڑی یا پٹکا یا پھینٹو کی تاریخ

    برصغیر کی سرزمین خصوصاً ہند و سندھ کا خطہ اپنی قدیم تہذیب اور علامتی روایات کے باعث منفرد مقام رکھتا ہے۔
    ان روایات میں پٹکا ایک نمایاں اور باوقار علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ سندھ کے تھرپارکر، نگرپارکر اور کارونجھر میں اسے پھینٹو کہا جاتا ہے۔ پھینٹو محض سر پر باندھنے والا کپڑا نہیں۔ یہ صدیوں پر محیط تاریخ، راجپوت شناخت، غیرت اور بہادری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا تعلق دھرتی سے وفاداری اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور سے بھی جڑا ہے۔

    پٹکے کا تعلق براہ راست ہند و سندھ تہذیبی خطے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ خطہ آج کے پاکستان اور انڈیا کے وسیع علاقوں پر مشتمل ہے۔ سندھ کے کئی اضلاع اور انڈیا کے راجستھان، گجرات خصوصاً کچھ، ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں یہ روایت زندہ ہے۔

    اگرچہ برصغیر میں مختلف اقوام پگڑی یا دستار باندھتی ہیں۔ مگر رنگین پھینٹو خاص طور پر راجپوت اقوام کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔اس کی ساخت اور رنگ اسے دوسری پگڑیوں سے منفرد بناتے ہیں۔

    تاریخی طور پر راجپوت محافظ اور جنگجو قوم سمجھے جاتے رہے ہیں۔ وہ قلعوں، سرحدوں اور پہاڑی علاقوں کے رکھوالے رہے۔اسی لیے ان کے لباس میں وقار اور جرات نمایاں نظر آتی ہے۔

    قدیم زمانے میں شوخ اور نمایاں رنگ پہننا ہر فرد کا حق نہیں تھا۔یہ اعزاز صرف سرداروں اور محافظ طبقے کو حاصل ہوتا تھا۔رنگین پھینٹو اسی امتیاز اور ذمہ داری کی علامت بن گیا۔

    پھینٹو کے رنگ محض خوبصورتی کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔ہر رنگ ایک الگ مفہوم رکھتا ہے اور ایک پیغام دیتا ہے۔سرخ قربانی، نارنجی توانائی، پیلا دانائی اور نیلا اصول پسندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    کئی رنگوں کا امتزاج راجپوت ثقافت کے اتحاد اور تنوع کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ امتزاج اجتماعی ذمہ داری اور باہمی ربط کا اظہار بھی ہے۔اسی وجہ سے پھینٹو کو سماجی شناخت کا اہم حصہ مانا جاتا ہے۔

    سندھ کے نگرپارکر اور کارونجھر میں پھینٹو کو خاص مقام حاصل ہے۔یہاں اسے صرف ثقافتی لباس نہیں سمجھا جاتا۔
    بلکہ اسے دھرتی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کا اخلاقی عہد مانا جاتا ہے۔

    روایت کے مطابق جو شخص پھینٹو باندھتا ہے۔وہ اس خطے، اس کے پہاڑوں اور پانی کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔
    اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ناانصافی اور تباہی پر خاموش نہیں رہے گا۔

    راجپوت روایت میں کسی معزز مہمان کو پھینٹو پہنانا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ عمل اعزاز کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کی منتقلی کی علامت ہوتا ہے۔یوں مہمان کو بھی دھرتی کے ورثے کا اخلاقی امین سمجھا جاتا ہے۔

    جدید دور میں جب ثقافتی اقدار ماند پڑتی جا رہی ہیں۔پٹکا یا پھینٹو راجپوت شناخت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
    یہ نئی نسل کو تاریخ اور ذمہ داری سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ کارونجھر کے بعض علاقوں میں پھینٹو باندھنے والے فرد کو مقامی سطح پر قدرتی تنازعات میں ثالث کا اخلاقی حق بھی حاصل سمجھا جاتا ہے۔یہ تصور تحریری قانون کا حصہ نہیں۔ مگر سماجی طور پر اسے بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔

    آج پھینٹو صرف روایت کی علامت نہیں رہا۔یہ ثقافتی بقا، ماحولیاتی شعور اور اجتماعی ذمہ داری کی نشانی بن چکا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ یہ روایت آج بھی زندہ اور متحرک ہے۔

    آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ پٹکا یا پھینٹو محض لباس نہیں۔یہ عزت، ذمہ داری اور دھرتی سے وفاداری کا عہد ہے۔
    راجپوت کے سر پر بندھا پھینٹو اس عہد کی خاموش گواہی دیتا ہے۔

     

  • کامریڈ جام ساقی کی والدہ کی فاتح خوانی کے لیے بغیر پروٹوکول بے نطیر بھٹو کی آمد کا قصہ

    کامریڈ جام ساقی کی والدہ کی فاتح خوانی کے لیے بغیر پروٹوکول بے نطیر بھٹو کی آمد کا قصہ

    دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، دروازہ کھلا تو سامنے بے نظیر بھٹو کھڑی تھیں، پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم، اسلامی دنیا کی پہلی خاتون سربراہِ حکومت، مگر نہ کسی رسمی اعلان کے ساتھ، نہ کسی پروٹوکول کے شور میں گھری ہوئی۔ وہ اس وقار کے ساتھ گھر کے اندر آئیں جو عہدوں سے نہیں، تربیت اور شعور سے جنم لیتا ہے، اور کسی غیر ضروری تکلف کے بغیر پلنگ پر بیٹھ گئیں۔

    طاقت کا غرور نہیں، صرف وقار کی سادگی۔ ایک خاموش اعلان، اقتدار انسان کو بڑا نہیں کرتا، انسانیت عہدوں کو باوقار بناتی ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جو صرف آنکھوں سے دیکھا جا سکتا تھا، مگر دل پر نقش ہو جاتا ہے۔

    یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب اپنے نظریات کے باعث کئی سال جیل کاٹنے والے سندھ کے بائیں بازو کے ترقی پسند سیاست دان کامریڈ جام ساقی کی والدہ کا انتقال ہوا۔ کامریڈ جام ساقی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نظریے کے لیے قید و بند، ریاستی جبر اور سیاسی تنہائی جھیلی، مگر اقتدار اور آسائش سے ہمیشہ فاصلہ رکھا۔ ان کی سیاست اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا وسیلہ نہیں تھی، بلکہ اصول، سوال اور مزاحمت کی سیاست تھی۔

    جام ساقی اور بے نظیر بھٹو کے نظریاتی اختلافات واضح اور گہرے تھے۔ جام ساقی سخت گیر انقلابی، طبقاتی جدوجہد کے قائل اور ریاستی ڈھانچے کی تبدیلی کے حامی تھے، جبکہ بے نظیر بھٹو جمہوری، پارلیمانی اور عوامی رائے کے ذریعے تبدیلی کی علمبردار تھیں۔ ایک انقلابی سیاست کا نمائندہ، دوسری انتخابی سیاست کی علامت۔ مگر انسانی وقار نے اختلاف کے تمام فاصلے ختم کر دیے۔

    یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اختلاف نظریات میں ہو سکتا ہے، مگر احترام، اخلاق اور انسانیت کے اصول ہر وقت قائم رہ سکتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جو آج کی سیاست کے شور اور فاصلوں کے بیچ بھی خاموشی کے ساتھ اپنا پیغام دیتا ہے۔

    جام ساقی کے گھر میں فرنیچر تک موجود نہیں تھا۔ یہ سادگی غربت یا مجبوری کا نتیجہ نہیں، بلکہ نظریاتی انتخاب تھا۔ میزبان پریشان تھے کہ پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم، اسلامی دنیا کی پہلی خاتون سربراہ حکومت، کو کہاں بٹھایا جائے؟

    مگر بے نظیر بھٹو نے اس اضطراب کو محسوس ہونے ہی نہیں دیا۔ پلنگ پر بیٹھنا، خاموشی سے غم بانٹنا، اور گلاس پانی پینا، یہ سب ایک ایسا عمل تھا جو اقتدار اور نظریاتی اختلاف کے تمام رکاوٹوں کو توڑ دیتا ہے۔ یہ عمل محض ایک تعزیت یا اخلاقی روایت نہیں، بلکہ قیادت کا ایک زندہ اور عملی معیار تھا۔

    تعزیت کے دوران جب میزبان نے پوچھا کہ وہ ان کی خدمت میں کیا پیش کریں، تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے جام ساقی کے گھر سے ایک گلاس پانی مانگا، ایسا پانی جو نہ ابلا ہوا تھا، نہ فلٹر شدہ۔ یہ محض پانی نہیں، بلکہ نظریاتی اختلاف کے باوجود انسانی برابری کو تسلیم کرنے کا خاموش مگر گہرا اعلان تھا۔

    یہ لمحہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قیادت کا اصل امتحان اقتدار میں نہیں، بلکہ انسانوں کے درمیان کھڑے ہو کر انسان بنے رہنے میں ہے۔ بے نظیر بھٹو نے نہ کوئی تقریر کی، نہ کوئی اعلان، نہ کوئی سیاسی فائدہ سمیٹا۔ صرف ایک خاموش عمل کے ذریعے انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ حقیقی عظمت عہدوں میں نہیں، کردار، انسان دوستی اور وقار میں ہے۔

    یہ وہ مقام ہے جہاں اختلاف، نظریاتی فاصلہ، اور سیاسی کشمکش بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یہاں اقتدار کا زور نہیں، صرف انسانیت کی آواز بلند ہوتی ہے۔ یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عوامی قیادت عوام کے قریب ہوتی ہے، اور کسی عہدے یا منصب کے بغیر بھی لوگوں کے دکھ میں شریک ہونا ممکن ہے۔

    یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ بالغ جمہوریت میں اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ نظریات ٹکراتے ہیں، مگر احترام اور انسانیت قائم رہ سکتی ہے۔ آج کی سیاست میں، جہاں اختلاف فوراً نفرت، تشدد اور کردار کشی میں بدل جاتا ہے، وہاں یہ واقعہ ایک زندہ سبق ہے کہ اختلاف کے ساتھ احترام بھی ممکن ہے۔

    یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قیادت صرف عہدے، اقتدار یا نعروں میں نہیں، بلکہ انسانوں کے دکھ میں شریک ہونے میں اور نظریاتی اختلاف کے باوجود انسانیت کی پاسداری کرنے میں ہے۔

    بے نظیر بھٹو آج بھی یاد کی جاتی ہیں، اور جام ساقی آج بھی احترام کے ساتھ یاد کیے جاتے ہیں۔ یہ لمحہ دونوں شخصیات کو ایک اخلاقی بلندی پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام زندہ رہتا ہے۔

    یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ سیاست صرف اقتدار، طاقت یا منصب کی جنگ نہیں، بلکہ اخلاق، انسانیت اور احترام کا امتحان بھی ہے۔

    ایک معیار جو آج بھی سوال کرتا ہے: ہم نے سیاست تو بہت دیکھی، مگر کیا ہم نے اختلاف کے ساتھ احترام اور قیادت کے ساتھ انسانیت بھی دیکھی؟

     

    نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا  ہے، ساگا  ڈیجیٹل کا لکھاری کے خیالات  سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

     

  • منفرد ادب، شاعری اور موسیقی والی صحرائے تھر کی مقبول زبان ڈھاٹکی، جس کا رسم الخط بھی ہے

    منفرد ادب، شاعری اور موسیقی والی صحرائے تھر کی مقبول زبان ڈھاٹکی، جس کا رسم الخط بھی ہے

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کے چیلہار شہر کے رہائشی اور ڈھاٹکی زبان کے شاعر اور متعدد کتابوں کے لکھاری،  صحرا  تھر کی  زبان لوک ادب لوک دانائی اور ثقافت پر کام کرنے والے بھارو مل امرانی کے مطابق ڈھاٹکی زبان کو تھر کے ریگستان میں نمایاں حیثیت حاصل ہے اور اس خطے کی اکثریت آبادی ڈھاٹکی زبان بولتی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بھارومل امرانی نے کہا: ‘سندھ کے اس ریگستانی حصے کو مُردھر یا مروستھل بھی کہا جاتا ہے۔ ‘مُردھر’ یا ‘مروستھل’ کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔ مُردھر یا مروستھل کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔

    ‘مروگجر اور مروبھاشا کی طرح ریگستانی زبان کے لئے پنگل اور ڈنگل کا اصطلاح بھی 15ویں اور 16 ٓویں صدی میں مشہور ہوئی۔تھرپارکر درواڑی اور راجپوتی تھذیب کا سنگم ہے، تھرپارکر کی علاقائی تاریخ کی طرح زبان کی تاریخ بھی قدیم ہے۔

    ‘تھر کی زبان پے موھن جو دڑو کی امر مُھر لگی ہوئی ہے، دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے ماحول کا رنگ دے کر اپنے وجود میں شامل کرنے سے اس بولی کی  وسعت بڑتی گئی، تھرپارکر کی علائقائی بولی میں جہاں پانچ ہزار سال پرانے سندھی اور دراوڑی زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں وہاں جدید دور کے سائنسی ایجادات کے سائنسی نام جنم لے رہے ہیں۔’

    بھارومل امرانی کے مطابق  تھرپارکر علاقائی لحاظ سے سات حصوں ڈاٹ، ونگو، کنٹھو، کھاہوڑ،پارکر،سامروٹی اور وٹ پے مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان حصوں میں ہر ایک حصے کا اپنا لہجا ہے۔ مگر مجموعی طور تھرپارکر میں بولی جانے والی زبان کے تیں لہجے ہیں۔ سندھی تھری، پارکری، ڈھاٹکی۔

    ‘ڈھاٹکی تھر کی اہم زبان ہے، جس کو سوڈکی بھی کہتے ہیں۔ ایک غیر سرکاری سروے مطابق ضلع تھر میں 75 فیصد لوگوں کی مادری زبان ڈاٹکی ہے، 98 فیصد تھر کی آبادی ڈھاٹکی سمجھ اور بول سکتی ہے۔

    ‘دنیا کے لوک ادب کی طرح بادشاہوں اور پریوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے مقامی لوک کرداروں کی کہانیوں اور شعر و شاعری کا بڑا ذخیرہ ملتا ہے،

    ‘موروں کے دلربا رقص اور حب الوطنی کے عظیم کردار مارئی کے داستان میں مھکتے ہوئے ڈھاٹکی کے گیتوں کو مقامی گلوکاروں مراد فقیر، مائی بھاگی، مائی ودھائی،موہن بھگت، استاد حسین فقیر، استاد شفیع فقیر، صادق فقیر، فوزیہ سومرو، عارب فقیر، حیدررند، بھگڑو ناچیز، انب فقیر،مصری ڈیپلائی، رجب فقیر، رفیق فقیر اور دیگر گلوکاروں نے دل و روح سے گایا ہے۔’

    بھارومل امرانی کے مطابق عربی رسم الخط میں سندھی الف ب کے تعاون سے ڈھاٹکی کی رسم الخط تیار کی گئی ہے۔ ڈھاٹکی زبان کے حروف تہجی کا تعداد 34 رکھا گیا ہے۔

    ڈھاٹکی پر سندھ میں ڈاکٹر پھلو سندر اور ہند میں ڈاکٹر مرلی بھوانانی نے پی ایچ ڈی کی ہے ۔ ڈھاٹکی سیکھنے کے کچھ کتاب شایع ہوئی ہیں۔ مگر اب تک ڈاٹکی کا کوئی جریدہ نہیں نکلتا۔ ریڈیو پاکستان مٹھی پے دو ڈھاٹکی کے پروگرام ڈھاٹی ماںجھا دھول اور تھر ری سرہان روزانہ نشر ہوتے ہیں۔ پیارو شوانی اور بھارومل امرانی نے شیخ ایاز کی شاعری کو ڈھاٹکی روپ دیا ہے۔ استاد لغاری نے شاھ جو رسالو کا ڈھاٹکی میں ترجمہ کیا ہے ۔

  • 28 دسمبر 1997: شیخ ایاز کا یومِ وفات، ایک دور کا اختتام

    28 دسمبر 1997: شیخ ایاز کا یومِ وفات، ایک دور کا اختتام

    ‘سندھو دیش کی دھرتی! تجھ پر اپنا سر نچھاور کروں میں مٹی ماتھے لگاؤں’

    یہ شیخ ایاز کی وہ شاعری ہے جسے سائیں جی ایم سید نے، ناراضگی کے باوجود، سندھو دیش کا قومی ترانہ قرار دیا تھا۔

    شیخ ایاز کا اصل نام شیخ مبارک علی تھا۔ ان کے والد کا نام شیخ غلام حسین تھا۔ وہ دو مارچ 1923 کو شکارپور شہر میں پیدا ہوئے۔

    شیخ ایاز نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم شکارپور ہی میں حاصل کی۔ 1941 میں بمبئی یونیورسٹی سے میٹرک پاس کیا۔ 1942 میں شکارپور کے سی اینڈ ایس کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا۔1944 میں ڈی جے سندھ کالج کراچی سے گریجویشن مکمل کی اور 1945 میں ایل ایل بی میں داخلہ لیا۔

    قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1950 میں وکالت شروع کی اور جلد ہی سندھ کے نامور وکلا میں شمار ہونے لگے۔ پہلے کراچی ہائی کورٹ میں عبدالحئی قریشی اور جمال صدیقی کے ساتھ، بعد میں خالد اسحاق اور عبدالقادر شیخ کے ساتھ وکالت کی۔ اس کے بعد سکھر میں وکالت شروع کی۔

    شیخ ایاز سندھی ادبی سنگت سندھ کے بانی اراکین میں شامل تھے۔ انہوں نے 1945 میں ڈاکٹر گربخشاڻي کی رہنمائی میں چلنے والے ‘سندھی سرکل’ کی نشستوں میں شرکت کی۔

    جب اپریل 1946 میں کراچی میں گوبند مالہی نے سندھی ادبی سنگت سندھ کی بنیاد رکھی تو شیخ ایاز اور بہاری لال چھابڑیا پہلے مشترکہ سیکریٹری منتخب ہوئے۔

    تقسیم کے سانحے میں شیخ ایاز کے قریبی دوست، نارائن شیام، کیرت بابانی، گوبند مالہی، اے جی اتم، بہاری لال چھابڑیا، موتی رام رامواڻي، ایڈووکیٹ امر لال پنجواڻي، ڈاکٹر ارجن شاد اور دیگر — بھارت چلے گئے۔ اس تاریخی سانحے نے شیخ ایاز کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔

    سندھی ادیبوں کی بڑی تعداد کے بھارت چلے جانے کے بعد شیخ ایاز اردو ادیبوں کی محفلوں میں جانے لگے۔ اردو شاعری کا انہیں پہلے ہی وسیع مطالعہ تھا، اس لیے انہوں نے اردو میں بھی شاعری کی، جہاں انہیں بڑا مقام حاصل ہوا۔

    انہوں نے شکارپور ضلع میں بھی سنگت کو منظم کیا اور انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ رہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان رائٹرز گلڈ اور سائیں جی ایم سید کی قائم کردہ بزمِ صوفیائے سندھ سے بھی گہرا تعلق رہا۔

    اپنی قومی اور مزاحمتی شاعری کے باعث شیخ ایاز کو جیل یاترا بھی کرنا پڑی۔ رجعت پسند حلقوں نے ان پر کفر اور بغاوت کے الزامات لگائے اور کئی مقدمات قائم کیے۔

    اسی سلسلے میں ‘ادب کی آڑ میں’ کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی جس میں جدید سندھی ادب اور خاص طور پر شیخ ایاز کے خلاف مہم چلائی گئی۔

    اس کے جواب میں رسول بخش پلیجو نے “انڌا اونڌا ویڄ”، مولانا غلام محمد گرامی نے “مشرقی شاعری کے فنی اقدار و رجحانات” اور قاسم پتھر نے محمد ابراہیم جویو کی رہنمائی میں “ادب کے نام پر” لکھ کر جواب دیا۔

    شیخ ایاز کا شمار سندھ کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی قومی شاعری کے سبب انہیں جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کے ادوار میں سینٹرل جیل سکھر اور سینٹرل جیل ساہیوال میں قید بھی کاٹنی پڑی۔

    ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر شیخ ایاز، وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے سندھ یونیورسٹی جامشورو کی وائس چانسلری قبول نہ کرتے تو وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بعد سندھی زبان کے سب سے بڑے شاعر ہوتے۔

    قوم پرست سیاست میں سائیں جی ایم سید کی جدوجہد اور تحریروں کے بعد، شیخ ایاز کی شاعری نے تحریک کو نیا رخ دیا۔

    سائیں جی ایم سید نے شیخ ایاز کے نظم

    ‘سندھو دیس کی دھرتی، تجھ پر سر نچھاور’

    کو آزاد سندھو دیش کا قومی ترانہ قرار دیا۔

    شیخ ایاز جہاں سائیں جی ایم سید کے بہت قریب تھے، وہیں ذوالفقار علی بھٹو شہید بھی انہیں بے حد پسند کرتے تھے۔

    لیکن 1976 میں جب شیخ ایاز نے سندھ یونیورسٹی کی وائس چانسلری قبول کی تو سائیں جی ایم سید کو شدید صدمہ ہوا۔

    میں آج آپ کو ایک تاریخی واقعہ سناتا ہوں:

    جب 1973 کا آئین منظور ہوا تو خوشی کے موقع پر جنوری 1974 میں لاڑکانہ اسٹیڈیم میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی۔

    میں اس وقت چھٹی جماعت کا طالب علم تھا اور میں نے اس تقریب میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ہاتھ ملایا تھا۔

    اس اسٹیج پر ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ٹکا خان، ممتاز علی بھٹو، غلام مصطفیٰ جتوئی، عبدالحفیظ پیرزادہ، غلام مصطفیٰ کھر اور مولانا کوثر نیازی موجود تھے۔

    صوفیانہ موسیقی کا پروگرام بھی رکھا گیا۔

    جب فقیر عبدالغفور نے لطیف سائیں کی کافی پیش کی تو اس کے بعد وزیر اعظم بھٹو نے فرمائش کی کہ شیخ ایاز کی وائی

    ‘سندھڑی تے سر کون نہ دے گا، سہندو کون ملامت او یار’ سنائی جائے۔

    جب فقیر عبدالغفور یہ وائی گا رہے تھے تو ذوالفقار علی بھٹو اپنی کرسی سے اٹھ کر ان کے ساتھ جھومنے لگے، جبکہ ٹکا خان اور دیگر وزرا یہ منظر دیکھتے رہے۔

    یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ بھٹو صاحب غیر ملکی سربراہان — شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی، یاسر عرفات، شیخ زاید — کے دورۂ لاڑکانہ کے موقع پر فقیر عبدالغفور، ڈھول فقیر اور استاد منظور علی خان سے بھٹائی اور شیخ ایاز کا کلام سنا کرتے تھے۔

    جب شیخ ایاز نے 1976 میں وائس چانسلری قبول کی تو سائیں جی ایم سید ناراض ہو گئے، مگر اس کے باوجود وہ شیخ ایاز کی شاعری کے دلدادہ رہے۔

    شیخ ایاز 1976 سے 1980 تک سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور چار سالہ مدت مکمل کی۔

    جو بھی ہو، شیخ ایاز کی سندھ سے محبت اور حب الوطنی پر مبنی شاعری کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    آج بھی جب کوئی فنکار اس وائی کو اسٹیج پر گاتا ہے تو جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں:

    ‘سندھڑی تے سر کون نہ دے گا، سہندو کون ملامت او یار’