Tag: سندھ

  • اپنے نام کی رہائشی کالونی بناکر کر ایک ہزار درخت لگانے والے مٹھی کے ریٹائرڈ کانجی مل میگھواڑ

    اپنے نام کی رہائشی کالونی بناکر کر ایک ہزار درخت لگانے والے مٹھی کے ریٹائرڈ کانجی مل میگھواڑ

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کے ضلعی ہیڈکواٹر مٹھی میں رٹائرڈ بینکر کانجی مل میگھواڑ نے تقریباً 45 سال قبل اپنے نام ‘ کانجی مل کالونی’ کے نام پر رہائشی کالونی بنائی اور وہاں ایک ہزار پودے لگائے جوکہ اب بڑے پیڑ بن چکے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کانجی مل میگھواڑ نے کہا: ‘میرا گاؤں مٹھی سے دور ہے اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے، اس لیے مین نے 1993 میں نقل مکانی کرکے میں مٹھی شھر میں آباد ہوا۔ جہاں میں بینک میں ملازمت کرتا تھا اسی دوران مجھے خیال آیا کہ میں کیوں نہ ایک رہائشی کالونی بناؤں اور یہاں شجرکاری کروں۔

    ‘تو میں نے یہ کالونی بنائی اور پودے لاگئے جو آج بڑے درخت بن گئے ہیں۔’

  • حر تحریک کے لازوال خواتین کردار

    حر تحریک کے لازوال خواتین کردار

    سورمی ڈھِجانی نظاماني، فقیر فتح محمد نظاماني کی اہلیہ اور فقیر عبدالقادر نظاماني کی والدہ تھیں۔ حر تحریک کے دوران وہ برطانوی سامراج کے خلاف گوریلا جدوجہد میں عملی طور پر شریک رہیں۔ اماں ڈھِجانی نظاماني نے حر مجاہدین کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف متعدد چھاپہ مار اور گوریلا کارروائیوں میں حصہ لیا۔ بالآخر برطانوی افواج نے انہیں سانگھڑ سے گرفتار کر لیا۔

    اماں ڈھِجانی نظاماني نے اپنی زندگی کے تقریباً دس سال سینٹرل جیل حیدرآباد، سینٹرل جیل سکھر اور مختلف عقوبت خانوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ چند سال قبل وہ تقریباً پچانوے برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں۔ سندھ آج بھی ان کی بہادری اور جرأت کو سلام پیش کرتا ہے۔

    اسی طرح مَکھی کے علاقے، گھِجھر پٹ کے گاؤں محمد بخش ہنگور کے بہادر حریانی گاؤں میں، جب مرد موجود نہیں تھے، تو گاؤں کی تمام عورتوں نے مل کر مورچہ بندی کی اور حریانی مسمات شاہل کی قیادت میں انگریز فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس معرکے میں مسمات شاہل نے جامِ شہادت نوش کیا۔

    سنجهوري کے گاؤں بھڑی کی سُکھی خاصخيلي بھی حر تحریک کی جدوجہد کے دوران برطانوی فوج سے مقابلہ کرتے ہوئے گرفتار ہوئیں اور انہوں نے اپنی جوانی کے قیمتی سال سینٹرل جیل سکھر میں گزارے۔ اسی واقعے میں ان کی تیرہ سالہ رشتہ دار بچی بختاور خاصخيلي انگریز فوج کے ہاتھوں شہید ہوئی۔

    گاؤں گلشير وسان کی حریانی مسمات حاکم زادی کو بھی حر گوریلوں کا ساتھ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال سینٹرل جیل حیدرآباد اور سینٹرل جیل سکھر میں گزارے، جبکہ کچھ عرصہ سخت مشقت کے ساتھ عقوبت خانوں میں بھی قید رہیں۔

    مکھی کے گاؤں کھکارو پٹ کی حریانی مائی قائماں ملاني نے دیگر ساتھی خواتین کے ساتھ مل کر انگریز فوجی دستوں کے خلاف شدید مزاحمت کی۔ بالآخر وہ گرفتار ہوئیں اور طویل قید کاٹی۔

    جھول کی غلام فاطمہ کیریو، المعروف کرڑی کیرانی نے تو ایک مسلح دستہ تک منظم کیا تھا، جو اکثر رات کے وقت انگریز فوجی چوکیوں پر حملہ کرتا، فوجیوں کو ہلاک کرتا اور ان کا اسلحہ و گولہ بارود چھین کر لے جاتا تھا۔ انہی اچانک اور جرأت مندانہ کارروائیوں کی وجہ سے انہیں کرڑی کیریانی کہا جانے لگا۔ آخرکار وہ بھی گرفتار ہوئیں اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں اور عقوبت خانوں میں گزارا۔

    اسی طرح وطن کی آزادی کے لیے “آزادی یا موت” اور “وطن یا کفن” کے نعرے کے تحت جدوجہد کرنے والی حریانی سون بائي بهن  کو بھی سندھ کی ایک عظیم خاتون گوریلا قائد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 1888 سے 1896 کے دوران جب حر تحریک کا آغاز ہوا تو حر گوریلا کارروائیوں میں مائی سون بائي بهن کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

     

    مائی سون بائي بهن، حر کمانڈر محبت فقیر بهن کی بہن اور عظیم مجاہد وريام فقير خاصخيلي (رلي وارو) کی اہلیہ تھیں۔ ان کے دو بیٹے بچو بادشاہ خاصخيلي اور پير بخش فقير خاصخيلي تھے، جن میں پير بخش فقير خاصخيلي نار وارو فقير کے نام سے مشہور ہوئے۔

    شہید بچو بادشاہ کی شادی مائی سعيدان خاصخيلی سے ہوئی جبکہ ان کے بھائی پير بخش فقير کی شادی مائی بيگم بهن سے ہوئی۔ جب بچو بادشاہ نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا اور گوریلا جنگ کا آغاز ہوا تو اگر ان کارروائیوں میں مائی سون بائی بهن کا ذکر نہ ہو تو حر تحریک کی داستان ادھوری رہ جاتی ہے۔

    مائی سون بائي بهن نہ صرف اپنے بیٹوں کے ساتھ گوریلا کارروائیوں میں شریک رہیں بلکہ ان کی دونوں بہوئیں، مائی سعيدان اور مائی بيگم بهن بھی ان معرکوں میں برابر کی شریک تھیں۔ مائی سون بائي بهن کے بھائی محبت فقير بهن اور پير بخش وسان المعروف پيرو وزير بچو بادشاہ کے گوریلا دستے کے کمانڈر تھے۔

    بچو بادشاہ کی قیادت میں حر مجاہدین نے انگریزوں کا جینا دوبھر کر دیا اور ایک متبادل حکومت قائم کر لی، جس کا دائرہ سانگھڑ، میرپورخاص اور تھرپارکر تک پھیلا ہوا تھا۔ مکھی ٻيلي سے مٹھڑاؤ اور شہدادپور تک کا پورا علاقہ انگریز فوج کے خلاف شدید مزاحمت کا مرکز بنا رہا۔

     

    بعد ازاں ایک سازش کے تحت بچو بادشاہ، عيسو فقير ڏاهري اور دیگر حر مجاہدین گرفتار ہوئے اور انہیں سانگھڑ شہر کے چوک میں سرِعام پھانسی دے دی گئی۔ پير بخش وسان عرف پيرو وزير انگریز فوج سے مقابلے میں شہید ہوئے۔

    ان پھانسیوں کے بعد مائی سون بائي بهن اور ان کی دونوں بہوئیں بھی گرفتار ہوئیں اور انہیں عمر قید کی سزا دے کر کالا پانی (جيسلمير جیل) بھیج دیا گیا۔ اسی طرح سینکڑوں حر مرد و خواتین کو عقوبت خانوں میں قید رکھا گیا۔ طویل اسیری کے بعد جب برطانوی حکومت برصغیر سے ختم ہوئی تو ان بہادر حریانی خواتین کو آزادی نصیب ہوئی۔

    حر تحریک کی ان خواتین میں سعدان خاصخيلن، مريم خاصخيلن، بصران خاصخيلن، مرادان خاصخيلن، فريدان خاصخيلن، زهران خاصخيلن، عاقلان خاصخيلن، مائی بھان خاصخيلن، ہوندل خاصخيلن، مرکان خاصخيلن، لال خاتون خاصخيلن، سرندي خاصخيلن، ہول خاتون خاصخيلن، جادو خاصخيلن سمیت بے شمار گمنام حریانی خواتین شامل تھیں، جنہوں نے سندھ وطن کے لیے جدوجہد کی، شہادتیں دیں، جیلیں کاٹیں، عقوبتیں برداشت کیں اور روپوشی کی زندگی گزاری۔

  • 25 دسمبر 1876: قائدِ اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش: قائدِ اعظم کا انتقال کیسے ہوا؟

    25 دسمبر 1876: قائدِ اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش: قائدِ اعظم کا انتقال کیسے ہوا؟

    بانیِ پاکستان محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو جھِرک (سندھ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پونجا جناح تھا جو ایک تاجر تھے۔ قائدِ اعظم نے ابتدائی تعلیم کراچی کے سندھ مدرسۃ الاسلام سے حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گئے اور لنکنز اِن سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی۔ کم عمری میں ہی ممتاز بیرسٹر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔

    سیاسی زندگی کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا اور ابتدا میں ہندو مسلم اتحاد کے بڑے حامی رہے، اسی وجہ سے آپ کو ‘ہندو مسلم اتحاد کا سفیر’ کہا گیا۔ 1913 میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کر کے آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1930 کے بعد مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے تصور کو قوت دی۔ 1937
    میں مسلم لیگ نے آپ کو ‘قائدِ اعظم’ کا خطاب دیا۔
    23 مارچ 1940 کو لاہور میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی، جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا اور قائدِ اعظم اس کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اس وقت آپ کی عمر ستر برس کے قریب تھی اور صحت کمزور ہو چکی تھی۔

    بیماری اور آخری ایام

    25 مئی 1948 کو ڈاکٹروں نے آرام کی غرض سے کوئٹہ میں قیام کا مشورہ دیا۔ یکم جولائی 1948 کو کراچی آ کر سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا، مگر چھ جولائی کو طبیعت بگڑ گئی اور دوبارہ کوئٹہ جانے کا کہا گیا۔ اس سفر میں نہ کوئی سرکاری ڈاکٹر ساتھ تھا اور نہ مناسب پروٹوکول، فاطمہ جناح خود اپنے بھائی کو کوئٹہ لے گئیں۔

    14 جولائی 1948 کو ڈاکٹروں کے مشورے پر زیارت منتقل کیا گیا۔ 21 جولائی کو فاطمہ جناح نے حکومت کے ذمہ داران کو اطلاع دی کہ قائدِ اعظم کی حالت تشویشناک ہے اور فوری طبی مدد درکار ہے، مگر خاطر خواہ اقدام نہ ہو سکا۔

    اس وقت پاکستان میں پی آئی اے موجود نہ تھی۔ صرف اورینٹ ایئر لائنز تھی، جس کی زیارت کے لیے فوری پرواز دستیاب نہ تھی۔ بالآخر کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش اپنی ذاتی کوششوں سے 23 جولائی کو کوئٹہ پہنچے اور مزید ڈاکٹروں اور نرس مس ڈنہم کو بھی بلایا گیا۔ فاطمہ جناح شب بیداری کے ساتھ تیمارداری کرتی رہیں، مگر افاقہ نہ ہوا۔

    قائدِ اعظم نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں کراچی واپس لے جایا جائے۔ ایک موقع پر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان عیادت کے لیے زیارت آئے۔ فاطمہ جناح اپنی کتاب ‘میرا بھائی’ میں لکھتی ہیں کہ ملاقات کے بعد قائدِ اعظم نے کہا: ‘فاطی! تم سمجھتی ہو وہ میری عیادت کو آئے تھے؟ وہ تو یہ دیکھنے آئے تھے کہ میں کب مروں گا۔’

    کراچی واپسی اور انتقال

    قائدِ اعظم کو کوئٹہ ایئر بیس سے ایئر فورس کے ‘وائکنگ’ طیارے کے ذریعے کراچی لایا گیا۔ جہاز میں ڈاکٹر الٰہی بخش، فاطمہ جناح، اے ڈی سی لیفٹیننٹ مظہر، امین اور اسٹاف نرس مس ڈنہم موجود تھے۔

    ماڑی پور ایئر بیس پر صرف ان کے برطانوی ملٹری سیکریٹری کرنل جیفری نولز ایک پرانی ایمبولینس کے ساتھ موجود تھے۔ بدقسمتی سے راستے میں ایمبولینس کا ایندھن ختم ہو گیا اور وہ کچرے کے ڈھیر کے پاس کافی دیر کھڑی رہی۔

    فاطمہ جناح اپنے دوپٹے سے مکھیاں ہٹاتی رہیں۔ بعد ازاں دوسری ایمبولینس منگوا کر انہیں گورنر ہاؤس پہنچایا گیا، مگر حالت نہ سنبھل سکی۔
    بالآخر 11 ستمبر 1948 کی رات 10 بج کر 20 منٹ پر پاکستان کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح انتقال فرما گئے۔

  • لاکھوں نقطوں سے پینٹنگ بنانے والے عمرکوٹ کے آرٹسٹ

    لاکھوں نقطوں سے پینٹنگ بنانے والے عمرکوٹ کے آرٹسٹ

    سندھ کے ضلع عمرکوٹ کے شہر ڈھورونارو کے رہائشی محمد علی نے ڈاٹ پر تصویر بنانے کا منفرد کام اپنایا۔ وہ پینٹنگ کے لیے لاکھوں ڈاتس کا استعمال کرتے ہیں۔

    ڈاٹ آرٹسٹ محمد علی منڱريو نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ میں فائن آرٹسٹ ہوں اور میں نے بیچلر آف فائن آرٹس سندھ یونیورسٹی سے 2021 میں مکمل کیا۔ آرٹ کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد میں نے ایک منفرد انداز اپنایا جسے ڈاٹ آرٹ یا پوائنٹلزم موومنٹ کہتے ہیں۔ اس انداز میں ہر پینٹنگ چھوٹے چھوٹے نکتوں کے ذریعے بنائی جاتی ہے، جو تصویر میں گہرائی اور حقیقت پیدا کرتے ہیں۔

    محمد علی منڱريو کے مطابق: ‘میری زندگی اور گاؤں کے حالات میرے کام کا بنیادی حصہ ہیں۔ 2022 میں سلاب آیا جس سے نہ صرف میں بلکہ میرا پورا گاؤں متاثر ہوا۔ اس تجربے سے متاثر ہو کر میں نے ایک پینٹنگ بنائی جس میں ایک ماں اپنے بچے کو لے کر جا رہی ہے۔ ماں کے سر پر ایک کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکری ہے جس میں بچہ ہے اور ساتھ ایک کتے کا پلہ بھی موجود ہے۔

    ‘میں نے اس پینٹنگ میں پانچ لاکھ نقطوں کا استعمال کیا ہے یہ پینٹنگ نہ صرف میری تخلیقی مہارت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ انسانی جذبات اور سماجی مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

    ‘میں نے تھر کے مسائل پر بھی کام کیا، جہاں بچوں کی مشکلات اور حالات کو کینواس کے ذریعے ظاہر کیا ہے مختلف میڈیمز جیسے چارکول، پینسل اور آئل کلرز کے ذریعے پیش کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے مشہور شخصیات کے اسکیچز بھی بنائے، جیسے میں قائد اعظم محمد علی جناح ، عاطف اسلم اور اور بھی ہیروز کی پینٹنگز بنائی ہیں تاکہ فن اور ثقافت کو عام لوگوں تک پہنچایا جا سکے اور لوگ اس سے متاثر ہوں۔’

    محمد علی منڱريو کا تعلق ایک چھوٹے گاؤں سے ہے، جہاں آرٹ کے مٹیریل مہنگے اور کم دستیاب ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ اکثر ان کو اپنے کام کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

    محمد علی منڱريو کے مطابق: ‘میری خواہش ہے کہ میرے پاس ایک سٹوڈیو ہو جہاں میں اپنے منفرد انداز میں پینٹنگز تخلیق کر سکوں اور آرٹ کو ایک پروفیشنل سطح پر لے جا سکوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا کام نہ صرف گاؤں بلکہ بڑی گیلریز اور سوسائٹی تک پہنچے تاکہ لوگ میرے فن کو سمجھیں اور اس سے متاثر ہوں۔’

    محمد علی منڱريو کے لیے آرٹ صرف تخلیق کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے جو وہ اپنے کام کے ذریعے دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
    ‘میں چاہتا ہوں کہ میرا فن لوگوں کے دلوں تک پہنچے اور انہیں سوچنے، محسوس کرنے اور اپنی دنیا کے بارے میں زیادہ آگاہ ہونے پر مجبور کرے۔ میرا سفر ابھی جاری ہے اور میں اپنے منفرد اسٹائل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہوں۔’

  • مٹھی: گائے کی زچگی کے دوران موت ہونے یتیم نر بچھڑے ’سورجیو بیل’ کی مقامی افرادتمام عمر اجتماعی کفالت کیسے کرتے ہیں؟

    مٹھی: گائے کی زچگی کے دوران موت ہونے یتیم نر بچھڑے ’سورجیو بیل’ کی مقامی افرادتمام عمر اجتماعی کفالت کیسے کرتے ہیں؟

    سندھ کے ضلع تھرپارکر میں اگر زچگی کے دوران گائے مر جائے اور نر بچھڑا زندہ بچ جائے تو اس یتیم بچھڑے کو مٹھی شہر کے مرکزی چوک پر رکھ دیا جاتا ہے اور مٹھی کے رہائشی اجتماعی طور پر اس یتیم بچھڑے کو پال کر نہ صرف بڑا کرتے ہیں، مگر جب تک وہ زندہ ہوتا ہے اس بیل کی اجتماعی کفالت کی جاتی ہے۔

    یتیم بچھڑے کے بڑے ہونے پر اس کو ’سورجیو بیل’کا نام دیا جاتا ہے اور مٹھی شہر کے راستوں پر ٓج پر درجنوں ’سورجیو بیل’دیکھے جاسکتے ہیں۔
    سندھ میں ایک منفرد سماجی اور مذہبی روایت پائی جاتی ہے جسے مقامی طور پر سورج بیل کہا جاتا ہے۔ اس روایت کا تعلق ایسے بیل بچھڑے سے ہوتا ہے جو ولادت کے دوران گائے کی موت کے بعد زندہ بچ جائے۔ مقامی عقیدے کے مطابق جب گائے زچگی کے دوران مر جائے اور اس کا بچہ زندہ رہے تو وہ بچھڑا یتیم تصور کیا جاتا ہے اور اسے کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں رہنے دیا جاتا۔

    مقامی افراد کے مطابق سورج بیل یا ’سورجیو بیل’کو کسی ایک گھر یا باڑے میں بند نہیں کیا جاتا بلکہ اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ شہر میں گھوم پھر سکے۔ اس طرح یہ بیل پورے شہر کی مشترکہ ذمہ داری بن جاتا ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتے ہوئے سورج بیل کو دکاندار، راہگیر اور مقامی رہائشی خوراک فراہم کرتے ہیں۔ دکانوں کے سامنے اس کے لیے اناج، سبز چارہ، روٹیاں، دودھ اور دیگر اشیائے خورونوش رکھی جاتی ہیں۔

    مٹھی کے بازاروں میں سورج بیل کا آنا ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے اور لوگ اسے دیکھ کر خوراک پیش کرتے ہیں۔ سورج بیل اکثر انہی راستوں پر گھومتا ہے جہاں انسانی سرگرمیاں زیادہ ہوتی ہیں۔

    مقامی ہندو برادری کے مطابق بیل کو مذہبی اہمیت حاصل ہے اور اسے طاقت، محنت اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مٹھی میں سورج بیل کی روایت اسی مذہبی اور سماجی سوچ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں گائے کے ساتھ ساتھ بیل کو بھی مقدس جانور مانا جاتا ہے۔ اسی لیے یتیم بچھڑے کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اجتماعی نگہداشت کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

    ’سورجیو بیل’کی دیکھ بھال کے لیے کوئی باقاعدہ کمیٹی یا ادارہ قائم نہیں ہوتا بلکہ یہ ذمہ داری فطری طور پر شہر کے لوگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات مقامی لوگ اس کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے جانوروں کے ڈاکٹر سے بھی رجوع کرتے ہیں۔ اگر سورج بیل بیمار ہو جائے تو علاج کے اخراجات بھی اجتماعی طور پر برداشت کیے جاتے ہیں۔

    یہ بیل عموماً پُرامن اور مانوس ہوتا ہے کیونکہ اسے شروع سے انسانوں کے درمیان رہنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سورج بیل کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا اور ٹریفک یا بازار میں بھی محتاط انداز میں چلتا ہے۔ پولیس اور بلدیاتی عملہ بھی اس بیل کو شہر کی روایت کا حصہ سمجھتے ہوئے اسے ہٹانے کی کوشش نہیں کرتا۔

    مٹھی کی یہ روایت کئی دہائیوں سے جاری ہے اور مقامی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ ’سورجیو بیل’نہ صرف مذہبی عقیدے سے جڑا ہوا ہے بلکہ یہ روایت مٹھی میں اجتماعی ذمہ داری، جانوروں سے ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کی ایک مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ شہر میں آنے والے مہمانوں اور سیاحوں کے لیے ’سورجیو بیل’ایک منفرد منظر ہوتا ہے جو تھرپارکر کی سماجی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔

     

  • آمریت کے سائے میں محبت، خواب اور ٹوٹتا ہوا سماج: ارشد وحید کے انگریزی ناول’Other Days’ کے سندھی ترجمے کا جائزہ

    آمریت کے سائے میں محبت، خواب اور ٹوٹتا ہوا سماج: ارشد وحید کے انگریزی ناول’Other Days’ کے سندھی ترجمے کا جائزہ

    دنیائے ادب میں ناول فکشن کی ایک مقبول ادبی صنف ہے ۔ عالمی ادب میں کچھ ناول نگاروں کے ناولز کو شاہکار مانا جاتا ہے۔

    دنیا کے مشہور ناول نگاروں کی ایک طویل لسٹ بنائی جاسکتی ہے ۔ دنیا کے کئی مشہور ناولز پر ہالیووڈ اور بالیووڈ میں فلمیں بھی بنائی جاتی رہی ہیں ۔
    بر صغیر پاک و ہند میں بھی اردو میں کئی مشہورناول لکھے گئے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کی صوہائی زبانوں میں بھی قابل ذکر ادبی تخلیقیں شایع ہوتی ہیں ۔ اور دنیا کے اور ملک کے ادبی کتابوں کے تراجم بھی شایع ہوتے ریتے ہیں ، خاص طور پر سندھی زبان میں شاعری اور ادب نے بہت ترقی کی ہے ۔

    سندھی زبان میں بھی بہت سے مشہور ناول لکھے جا چکے ہیں۔ سندھی کے مشہور ناول نگاروں میں سراج ، آغا سلیم ، علی بابا ، حلیم بروہی اورامر جلیل کے لکھے ہوئے ناول نمایاں اور سر فہرست ہیں۔ سندھی میں موجودہ دور میں ناول لکھنے کا رجحان کافی بڑہا ہے۔ سندھی زبان میں ہمیشہ کتابیں چھپتی رہتی ہیں اورپڑھنے والوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا کے انفلوئنس کے باوجود اب بھی کتابیں پڑھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سندھی میں کتابیں چھپتی ہیں بلکہ دوسری زبانوں سے کتابیں ترجمہ بھی کی جاتی ہیں۔
    آج ہم ایک ایسی ہی کتاب پر بات کریں گے جو حال ہی میں سندھی میں ترجمہ ہوکر شایع ہوئی ہے ۔

    ملک کے انگریزی اور اردو کے نامور رائیٹر ارشد وحید کے ایک انگریزی ناول’Other Days’
    جس کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرس کی طرف سے 2022 میں پطرس بخاری ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ اس ناول سے پہلے بھی ارشد وحید کی کئی تصانیف اور تراجم شایع ہوچکے ہیں ۔
    حال ہی میں اس ناول کے سندھی ترجمے کی کتاب ’بیا ڈینھن‘ کے ٹائیٹل کے ساتھ شایع ہوئی ہے۔ اس ناول کا سندھی ترجمہ سندھ کے سینیئرادیب اور صحافی نصیر اعجاز نے کیا ہے۔ 294 صفحات اور خوبصورت ٹائیٹل اور عمدہ چھپائی پر مشتمل اس عمدہ ناول کا کوئی بڑا دیباچہ شامل نہیں ہے ، سچ تو یہ ہے کہ عمدہ کتابوں کو اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ امید ہے کہ یہ ناول سندھی ادب میں ترجمہ کی ہوئی اچھی اور اہم کتابوں کی لسٹ میں شمار ہوگا۔

    ناول کا آغاز ہیروئن سارا کی اپنے پرانے کلاس فیلو دائود کے ساتھ طویل عرصے کے بعد اچانک ملاقات سے ہوتی ہے۔اور پھر ان کا ماضی جیسے لوٹ آتا ہے۔ یہاں سے مصنف نے فلیش بیک ٹیکنیک کا خوبصورتی سے استعمال کرتے ہوئے کہانی کا پس منظر بیان کیا ہے۔

    مارشل لا لگنے کے بعد جنرل ضیا نے مذہب کا بے دریغ استعمال کیا، سخت قوانین نافذ کیے اور جبر و وحشت کو ملک کے عوام پر مسلط کیا۔ اس بدترین آمریت میں نوجوان طلبا پر کیا گذری اور مذہبی انتہاپسندی کی شدت میں اضافے نے ملک کے سماج کو کس طرح متاثر کیا یہ سب فنکارانہ انداز میں ناول میں بیان کیا گیا ہے۔

    یہ ناول ضیاء آمریت کے جبر کی تاریخ ہے جس نے ملک کا چہرہ مسخ کردیا اور آج تک وہ نقش مٹ نہیں پائے ہیں ۔ ضیاء آمریت کا دور سیاسی و فکری آزادیوں پر سخت پابندیوں اور جبر کا دور تھا، جس سے وابستہ تلخ سچائیوں کو اس ناول میں ادبی مہارت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے ۔

    ناول کا مرکزی خیال اہم اور حقیقت کے قریب ہے۔ رائیٹر کہیں بھی خطبہ نہیں دیتے نہ ہی اپنے خیالات و نظریات قاری پر مسلط کرتے ہیں۔ کیونکہ ادب کا کام ہی یہ ہے کہ وہ تاریخ کو بھولنے نہ دے اور اس کا فطری اظہار کرے۔ ناول کا دردناک پہلو وہ ہے جہاں طلبا سیاست تشدد پسند گروہوں میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور ایک جگہ ترقی پسند طلبا پر ہونے والا حملا سماج کی بیمار نفسیات اور مذہبی شدت پسندی کی ریاستی سرپرستی کا ثبوت دیتا ہے۔ ناول کا فنی اسلوب مضبوط، کردار حقیقی اور جاندار، زبان سادہ اور سمجھ میں آنے والی ہے۔

    مرکزی کرداروں سارا اور دائود کا اس تکلیف دہ واقعے کے بعد بچھڑ کے ملک سے باہر چلے جانا اور لمبے عرصے کے بعد واپسی، اپنے ماضی کے مناظر اور کرداروں سے ملنے کی خواہش کہانی کو آگے لے جاتی ہے۔

    دائود جو اپنی کہانی لکھنے کے لئے واپس وطن آتا ہے، اسی لئے ماضی کےکرداروں اورپرانی جگہوں کو ڈھونڈتا رہتا ہے، لیکن لمبے عرصے کےبعد واپس آنے والوں کے لئے سب کچھ ویسا نھیں رہتا، بہت کچھ بدل جاتا ہے، جگہیں، گلیاں، لوگ، اور یہاں تک کہ وہ خود بھے ویسے نھیں رہتے۔

    دائود کےماضی کی یادوں کے نقش دھندلا چکے ہوتے ہیں، یادیں ادھوری ہیں اور وہ کردار جوماضی میں اس کے ساتھ تھے اب سایوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہ نفسیاتی حقیقت ناول میں فنکارانہ انداز میں دکھائی گئی ہے ۔

    اپنی کہانی کے کردار نہ ملنا ایک فنکار/ لکھاری کے لئے اذیتناک ہے ۔کردار نہ ملنے کے بعد وہ اپنی کہانی میں ایک علامتی پتلی تماشا سجاتا ہے اور ان پتلیوں سے اپنے ماضی کے کردار ادا کرنے کے لئے کہتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوپاتا ۔ ناول کا یہ حصہ بہت متاثرکن اوراداس کردینے والا ہے ۔ پتلی تماشہ ناول میں ایک زبردست علامت اور Metafictional ہے جو جدید ادب کا اہم اسلوب ہے ۔

    کردار لکھاری کے غلام نہیں ہوتے اور وہ اپنی تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔ یادیں لکھنے والے کے کنٹرول سے باہر بھی وجود رکھتی ہیں۔ معاشرہ ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُتلے اور ہیولے کی طرح بن گئے ہیں۔ جو یہ دکھاتے ہیں کہ جبر کا دور لوگوں کے اندر کی طاقت ، آزادی اور آواز چھین لیتا ہے ۔

    لوگوں کے کردار اصل نہیں رہے۔ فقط شکلیں رہ گئیں اور مجبوری اور خوف۔ لوگ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتے۔ کسی کے ہاتھوں میں ان کی ڈور ہے اور وہ پتلے بن گئے ہیں۔ وہ کردار جو ماضی میں مضبوط، روشن اور جاندار تھے، وہ سائے بن گئے ، اپنے رنگ اور اپنی آواز کھو بیٹھے۔
    یہ سماجی بربادی کا عظیم استعارہ ہے۔

    ادبی فکر کافکا اور میلان کنڈیرا کے پاس ملتا ہے۔ یہ ناول کا سب سے گہرا ،فکری اورعلامتی حصہ ہے جہاں ناول نگار زندگی، تاریخ، سیاست اور ادب کو ایک نقطے پر لاکر جوڑتا ہے۔ ناول کے کرداروں کی ٹریجڈی یہ ہے کہ انہوں نے محبت، آزادی اور برابری کے خواب دیکھے لیکن وہ خواب پورے نہیں ہوسکے۔

    ان لوگوں کے صرف خواب ہی نہیں ٹوٹے، بلکہ وہ اپنے ہونےکا جواز ہی گنوا بیٹھے۔ جب آپ کے آدرش باقی نہ رہیں توجینے کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ ناول بڑی خوبصورتی سے یہ سوال اٹھاتا ہے۔

    وجودیت کا بڑا المیہ ہے کہ انسان اپنے لیے اجنبی بن جائے۔ اس ناول کا کمال سیاسی شکست کو وجودیت کے سوال میں بدلنا ہے۔ یہ ناول انسانی روح کی شکست کا نوحہ ہے جو پڑھنے والے کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جو انسان اپنے خواب گنوا بیٹھے کیا وہ واقعی زندہ ہے؟

    نہ پھول تھے نہ چمن تھا نہ آشیانا تھا
    چھوٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا ۔
    مرزا سلامت علی دبیر

  • سندھ: عمرکوٹ کے ڈھورونارو ریلوے اسٹیشن، جہاں سے قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی سفر کیا

    سندھ: عمرکوٹ کے ڈھورونارو ریلوے اسٹیشن، جہاں سے قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی سفر کیا

    سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں واقعہ ڈھورونارو شہر کی ریلوے سٹیشن، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ریلوے کے ذریعے سفر کیا۔
    جہاں انہوں نے مختصر خطاب کیا۔ جيسلمير اور جودھپور کے راجا بھی ریل کے راستے سے ڈھورونارو آئے تھے۔
    ڈھورونارو ریلوی سٹیشن ، جو قیام پاکستان سے پہلے انگریز سرکار کے زیر قیادت قائم ہوا، ایک تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا حامل مقام ہے۔

    یہ ریلوے سٹیشن نہ صرف ٹرانسپورٹ کا ایک اہم مرکز تھا بلکہ اس کے ارد گرد کے علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا بھی ایک بڑا سلسلہ تھا۔ 20ویں صدی کے اوائل میں، جب ہندوستان کے بڑے شہروں کے درمیان سفر کرنے کا کوئی اور متبادل نہیں تھا، اس وقت اس ڈھورونارو ریلوے سٹیشن نے مال و متاع اور تجارت کے تبادلے میں اہم کردار ادا کیا۔
    یہ سٹیشن مونا باؤ سے میر پورخاص تک ریلوے لائن کا حصہ تھا، جو اس علاقے میں لوگوں کے آمد و رفت کی ایک سہولت فراہم کرتا تھا۔ یہاں نہ صرف مقامی لوگ بلکہ دور دراز کے علاقے سے بھی لوگ روزگار کی تلاش میں آتے تھے۔ ڈھورونارو کا کاروباری مرکز بننے کے پیچھے یہاں قائم ہونے والی فیکٹریوں کا بھی بڑا ہاتھ تھا، جو مقامی لوگوں کو ملازمت فراہم کرتی تھیں۔

    ڈھورونارو کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک بار اس ریلوی سٹیشن کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس سٹیشن کے ذریعے سفر کیا اور یہاں مختصر خطاب بھی کیا۔ اس واقعے نے اس جگہ کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا۔ یہ ان کی قیادت کا ایک لمحہ تھا، جس نے لوگوں کی قومی تحریک میں جوش و ولولہ پیدا کیا۔

    اس سٹیشن کی تاریخی حیثیت اس کے ڈھانچے، طرز تعمیر اور یہاں کی وہ یادیں ہیں جو لوگوں کے دلوں میں بستی ہیں۔ آج بھی، یہ سٹیشن نہ صرف اپنے ماضی کی کہانیوں کو سناتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ان کی تاریخ سے جوڑتا ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں ایک خاص قسم کی روحانیت اور قومی جذبہ موجود ہے، جو ملک کے اتحاد اور سلامتی کی علامت ہے۔
    ڈھورونارو ریلوی سٹیشن کی شاندار تاریخ ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ یہ صرف ایک ٹرانزٹ پوائنٹ نہیں ہے، بلکہ ایک اہم ثقافتی اور معاشیاتی مرکز تھا، جو آج بھی اپنے ماضی کے آثار کی گواہی دیتا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جو ہمیں ہمارے قومی ورثے کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔

    یہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق ڈھورونارو ایک زمانے میں تجارت و کاروبار کا بڑا مرکز تھا، یہ شہر بئراجی اور صحرائی علائقوں کے مکینون کی ذریعہ معاش ہوا کرتا تھا، ہندوستان سے تجارت کے لیے لوگ ریل گاڑی کے ذریعے ڈھورونارو آتے تھے۔

    مقامی سماجی کارکن اور کاروباری شخصیت محمد ہاشم مہر نے ساگا ڈجیٹل کو بتایا کہ ڈھورونارو سندھ کا تاریخی، ٹقافتی، اور تجارتی شہر تھا، ایک دور تھا کہ یہاں فیکٹریاں ڈھورونارو کا تعارف تھیں، دور دراز سے لوگ روزگار کیلئے یہاں آتے تھے۔ ڈھورونارو سے جڑی ناقابل فراموش تاریخ ہے۔

    محمد ہاشم نے مزید بتایا کہ قائد اعظم محمد علی جناح بھی ریل گاڑی کے زریعے ڈھورونارو پہنچے تھے، جيسلمير اور جودھپور کے راجا بھی ریل کے راستے سے ڈھورونارو آئے تھے۔
    مقامی سینئر صحافی عارف قریشی نے ساگا ڊیجيٹل کو بتایا کہ دھورونارو ایک دور میں مچھلی، کپاس اور مرچی کا مرکز تھا، وہ دور شہر اور پسگردائی کی خوشحالی کا دور تھا۔ آج بھی ماروی ایکسپریس کھوکھروپار سے ميرپورخاص چلتی ہے، لیکن مقرر اوقات پر گاڑی کے نہ آنے اور بوگیان کم ہونے کی وجہ سے مسافروں کو تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔

  • سکھر: دریائے سندھ کے کنارے واقع ‘ستین جو آستھان’ کے متعلق کون سی روایتیں جڑی ہیں؟

    سکھر: دریائے سندھ کے کنارے واقع ‘ستین جو آستھان’ کے متعلق کون سی روایتیں جڑی ہیں؟

    سکھر کے تاریخی منظرنامے میں میر معصوم شاہ بکھری ایک منفرد اور اہم شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ محقق سید امداد حسین شاہ کے مطابق، یہ شخصیت نہ صرف سندھ کے مغلیہ دور کی حکومتی اور فوجی ذمہ داریوں کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات کی بھی علامت ہے۔ انہوں ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ میر معصوم شاہ بکھری نے سندھ میں انتظامی اصلاحات کیں، مقامی مسائل حل کیے اور سندھ کی تحریری تاریخ میں نمایاں حصہ ڈالا۔ ان کی معروف تصنیف “تاریخِ معصومی” سندھ کی قدیم تاریخ اور معاشرتی حقائق کے لیے ایک اہم ماخذ ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نے مزید کہا کہ میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت میں ادب، شعر و شاعری اور خطاطی کا بھی گہرا تعلق تھا، اور وہ اس دور کے علمی حلقوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔

    دیگر محققین کے مطابق، مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں انہیں سندھ کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے نہ صرف انتظامی امور سنبھالے بلکہ مقامی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدامات کیے۔ ان کی بصیرت اور قیادت نے سکھر اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کو امن و استحکام فراہم کیا۔

    سید امداد حسین شاہ کے مطابق، میر معصوم شاہ بکھری نے اپنی زندگی میں ایک منفرد تعمیر، مینار بنانے کا فیصلہ کیا جو کہ کتب مینار کی طرز پر ہے ۔ یہ مینار نہ صرف شہر کی پہچان ہے بلکہ مغلیہ فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی ایک مثال بھی ہے۔ مینار کی تعمیر کا آغاز تقریباً 1595ء میں ہوا اور بعد میں میر معصوم شاہ کے بیٹے نے اسے مکمل کروایا۔

    مینار کی خاص بات اس کی عددی ترتیب اور پیمائش ہے: بنیاد اور اندرونی سیڑھیاں 84 عدد میں رکھی گئی ہیں، جبکہ عمارت کی اونچائی بھی تقریباً 84 فٹ ہے۔ بعض تاریخی حوالوں میں بتایا گیا ہے کہ مینار کی بنیاد بھی 84 فٹ چوڑی ہے، جو اس کی مضبوطی اور استحکام کی دلیل ہے۔ اوپری حصہ گنبد نما ہے، جہاں سے شہر اور دریائے سندھ کے علاقوں کا نظارہ ممکن ہوتا ہے۔ سید امداد حسین شاہ کے مطابق یہ ترتیب محض جمالیاتی نہیں بلکہ اس دور کے فنِ تعمیر اور علامتی اہمیت کی بھی عکاس ہے۔

    مینار کو دیگر محققین کے مطابق اکثر “نگرانی ٹاور” کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا تاکہ شہر اور دریائے سندھ کے اردگرد کے علاقوں پر نظر رکھی جا سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ عمارت علمی اور ثقافتی علامت بھی تھی۔ تحقیقی کتب اور مقامی دستاویزات میں ذکر ہے کہ مینار کی تعمیر میں سرخ اینٹیں، چونے کے پتھر اور مقامی و راجستھان سے منگوائے گئے پتھر استعمال کیے گئے، جو نہ صرف اس کی مضبوطی بلکہ فنّی خوبصورتی کی بھی دلیل ہیں۔

    یہ مینار گھومتی سیڑھیوں کے ذریعے چوٹی تک جاتی ہے، جو مغلیہ فنِ تعمیر کی مہارت کی عکاس ہے۔ مزید قابل ذکر بات یہ ہے کہ مینار کے ساتھ ہی میر معصوم شاہ بکھری کو دفن کیا گیا اور اسی مقام پر ان کے خاندان کے دیگر افراد کی قبریں بھی موجود ہیں، جس سے یہ جگہ نہ صرف تاریخی بلکہ یادگار مقام بھی بن جاتی ہے۔

    مینار اور میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت آج بھی شہریوں اور سیاحوں کے لیے کشش کا مرکز ہیں۔ ان کی علمی، ادبی، حکومتی اور فوجی خدمات کے علاوہ یہ عمارت فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی مثال کے طور پر موجود ہے۔ دیگر محققین بھی متفق ہیں کہ میر معصوم شاہ اور ان کا مینار سندھ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا لازمی حصہ ہیں، جن کی موجودگی شہر کی شناخت اور تاریخی تعلیم کے لیے اہم ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نےکہا کہ تاریخی ورثے کی حفاظت نہ صرف مقامی حکومت بلکہ ثقافتی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس کی اصل اہمیت سے واقف رہیں۔ مینار کی حفاظت، مرمّت اور تحقیقی کام جاری رہنا چاہیے تاکہ یہ تاریخی ورثہ زندہ اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔ اس کے ساتھ ہی، میر معصوم شاہ کی علمی اور حکومتی خدمات بھی یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ سندھ کی تاریخ کا یہ اہم باب ہمیشہ زندہ رہے

  • اقوام متحدہ نے سندھ کے قدیم لوک ساز بوڑینڈو کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرلیا

    اقوام متحدہ نے سندھ کے قدیم لوک ساز بوڑینڈو کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرلیا

    اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے سندھو تہذیب کے پانچ ہزار سال قدیم شہر موہن جو دڑو کے قدیمی آثار سے کھدائی کے دوران ملنے والے قدیم لوک ساز بوڑینڈو کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرلیا۔

    نئی دہلی میں یونیسکو کی بین الحکومتی کمیٹی برائے تحفظ غیر مادی ثقافتی ورثہ کے منگلو کو ہونے والے بیسویں اجلاس میں سندھ کے قدیم لوک ساز بوڑینڈو کو عالمی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

    انڈیا میں پاکستان کی ہائی کمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکص (سابق ٹوئٹر) پر اس خبر کی تصدیق کی۔

    https://x.com/PakinIndia/status/1998407287174832225

    ایکس کی پوسٹ میں پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری شعیب سرور نے سندھ کے قدیم ساز بوڑینڈو کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بوڑینڈو انڈس سویلائزیشن کی پانچ ہزار سال قدیم تہذیب کی جیتی جاگتی بازگشت ہے جو انسان کی تخلیقی صلاحیت اور یہ مقامی ثقافتی روح کی علامت ہے۔ اندراج پاکستان کی ثقافتی روایات اور مشترکہ انسانی ورثے کا اعتراف اور مسرت کا موقع ہے۔

    بوڑینڈو بنیادی طور پر چرواہوں کا ساز ہے مگر اب یہ میوزک کا اہم حصہ ہے۔ یہ موسیقی کا آلہ مٹی سے گولائی میں بنایا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ ساز کچا بجایا جاتا تھا مگر اب اسے بھٹی میں پکاتے ہیں۔

    بوڑینڈو مٹی سے بنا ساز ہے اس لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے اوائلی سازوں میں سے ایک ساز ہے۔ اور یہ پُھونک سے بجنے والے سازوں میں آتا ہے۔ جیسے بانسری، الگوزو، مرلی وغیرہ۔

    اس وقت سندھ میں بوڑینڈو بجانے والے بہت ہے کم لوگ رہ گئے ہیں۔ ان میں سے ذوالفقار لونڈ سب سے زیادہ مشہور اور اچھا بوڑینڈو بجانے والے ہیں۔
    ذوالفقار لونڈ کو بوڑینڈو بجانے پر پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور سندھ کا سب سے مشہور شاہ لطیف ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

  • کوٹری: ‘مردانہ طاقت کے لیے مفید’ دریائے سندھ کی بغیر چھلکے والی بام مچھلی

    کوٹری: ‘مردانہ طاقت کے لیے مفید’ دریائے سندھ کی بغیر چھلکے والی بام مچھلی

    سردیوں کی صبح کوٹری بیراج کے نیچے دھند کے ہلکے پردے میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریائے سندھ کا پانی گہرا اور خاموش ہے، مگر اس خاموشی میں ایک کشتی کی ہلکی سی آواز ابھرتی ہے۔ یہ عبدالمجید ملاح کی کشتی ہے۔

    ایک ایسا ماہی گیر جو اپنی پوری زندگی اسی دریا کے ساتھ گزارتا آیا ہے۔

    عبدالمجید ملاح 50 سال کے سادہ مزاج شخص ہیں۔ لیکن دریا کے معاملے میں ان کا تجربہ کسی کتاب سے کہیں زیادہ ہے۔ جال سنبھالتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ دریا کے ہر موسم کی اپنی زبان ہوتی ہے اور وہ زبان صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو نسلوں سے ان پانیوں میں سانس لے رہا ہو۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالمجید ملاح نے کہا: ‘کچھ مچھلیاں روایتی طور پر ‘گرم’ سمجھی جاتی ہیں اور لوگ انہیں جسمانی طاقت، خاص طور پر مردانہ توانائی کے لیے فائدہ مند مانتے ہیں۔

    عبدالمجید کے مطابق الّاچی مچھلی، سینگاڑہ اور بام سب سے زیادہ گرم تاثیر والی اور طاقت بخش مچھلیاں سمجھی جاتی ہیں۔ ‘بغیر جھلکے والی مچھلی ہمیشہ سے مردانہ طاقت کے لیے خاص طور پر مفید مانی جاتی رہی ہے۔’

    یہ تمام باتیں روایتی علم اور مقامی اعتقادات کا حصہ ہیں، جو ماہی گیروں کی نسلوں میں منتقل ہوتی رہی ہیں۔ عبدالمجید انہیں یقین کے ساتھ بیان کرتا ہے، لیکن ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ باتیں اس کے بزرگوں کے تجربات اور مشاہدات کا حصہ تھیں۔

    وہ مسکراتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ گرم تاثیر والی مچھلیاں کھا لے تو شدید سردی میں بھی دریائے سندھ کے ٹھنڈے پانی میں چھلانگ لگا سکتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ دریا بھی طاقت دیتا ہے اور مچھلی بھی۔

    جال کھینچتے ہوئے اس کے ہاتھ میں ایک تازہ سینگاڑہ آتی ہے۔ وہ اسے دیکھ کر کہتا ہے کہ یہ دریا کی بہترین مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ذائقے میں بھی اعلیٰ، اور روایتی اعتبار سے طاقت بخش بھی۔

    دھوپ کی ہلکی سی کرنیں جیسے ہی دریا پر پڑتی ہیں، منظر بدلنے لگتا ہے۔ پانی کی سطح چمکنے لگتی ہے، اور عبدالمجید کشتی کو آہستہ آہستہ کنارے کی طرف لے جاتا ہے۔

    اس کے چہرے پر اطمینان ہے، اس کا آج کا دن بھی دریا کے نام رہا۔

    کنارے پر اترتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ دریا انسان کی محنت کا بدلہ ضرور دیتا ہے۔

    اس کے نزدیک سندھ کا دریا صرف پانی نہیں، روزگار، روایت، طاقت اور زندگی کا استعارہ ہے۔

    عبدالمجید کی باتیں سائنس کی نہیں، بلکہ صدیوں سے چلے آنے والے لوک علم کا حصہ ہیں۔

    کوٹری بیراج کے نیچے بہتا ہوا دریائے سندھ آج بھی ایسے لوگوں کی زندگیوں کا مرکز ہے، جو اس کے رحم و کرم، اس کی سخاوت اور اس کی کہانیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔