مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے ملک کا تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ خطے میں جنگی صورتحال کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مجموعی معاشی استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس نازک صورتحال میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ممکنہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ خطے میں استحکام بحال ہو اور اس کے معاشی اثرات کو محدود کیا جا سکے۔
دوسری جانب پاکستان کو اپریل کے مہینے میں بھاری مالی ادائیگیوں کا سامنا ہے۔ حکومت نے متحدہ عرب امارات سے لیے گئے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر یو اے ای کے مطالبے پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں یو اے ای اس رقم کو پاکستان کی درخواست پر طویل مدت کے لیے رول اوور کرنے کے بجائے ہر ماہ کی بنیاد پر توسیع دے رہا تھا، جس کے باعث معاشی غیر یقینی میں اضافہ ہو رہا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے تھے۔
حکومت نے یو اے ای کے مطالبے پر فیصلہ کیا ہے کہ یہ رقم اسی ماہ واپس کر دی جائے گی۔
پاکستان کی حکومت کی جانب سے ترتیب دئیے گئے ادائیگیوں کے شیڈول کے تحت 450 ملین ڈالر 11 اپریل کو، 2 ارب ڈالر 17 اپریل کو جبکہ باقی 1 ارب ڈالر 23 اپریل کو ادا کیے جائیں گے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے 1996 میں بھی 450 ملین ڈالر ایک سال کے لیے حاصل کیے تھے، جن کی واپسی بھی اب مکمل کی جا رہی ہے۔سنگین معاشی چیلنجز میں پاکستان کو اسی ماہ تقریباً 1.3 ارب ڈالر کے یوروبانڈز کی میچورٹی کا بھی سامنا ہے۔
اگر مجموعی طور پر اپریل میں 4.8 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں تو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر تقریباً ساڑھے گیارہ ارب ڈالر رہ جانے کا امکان ہے۔
اور یہ حالات پاکستان کو مزید معاشی مشکلات کا شکار کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت متحدہ عرب امارات، سعودی عبر اور چین نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مجموعی طور پر ساڑھے بارہ ارب ڈالر پاکستان کے مرکزی بینک میں پروگرام کے اختتام، یعنی آئندہ سال ستمبر تک برقرار رکھیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حالات میں پاکستان کے لیے معاشی نظم و ضبط برقرار رکھنا، سفارتی محاذ پر متوازن پالیسی اپنانا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی اور علاقائی غیر یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سندھ ایک ایسا خطہ ہے جہاں زمین، پانی اور موسم مل کر پرندوں کے لیے ایک مکمل دنیا تشکیل دیتے ہیں۔ اگر پاکستان کو پرندوں کی سرزمین کہا جائے تو سندھ اس کا سب سے بھرپور اور متنوع حصہ ہے۔
مستند سائنسی ریکارڈ کے مطابق سندھ میں تقریباً 450 سے 500 کے درمیان پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جو پورے پاکستان میں ریکارڈ ہونے والی تقریباً 790 سے 800 اقسام کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی عکاسی ہے، جہاں ہر خطہ اپنے اندر مختلف پرندوں کو جگہ دیتا ہے۔
سندھ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کے مختلف ماحولیاتی خطوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر خطہ مخصوص پرندوں کا گھر ہے۔
سب سے پہلے انڈس ڈیلٹا کی بات کی جائے تو یہ دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی اور سمندری اثرات ایک منفرد ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اس علاقے میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔
اس کے علاوہ سمندری بگلوں کی مختلف اقسام، ٹرن، سینڈ پائپر، پلور اور اویسٹر کیچر جیسے ساحلی پرندے یہاں عام ہیں۔ یہ وہ پرندے ہیں جو ساحل، کیچڑ اور اتھلے پانی میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا نہ صرف مقامی بلکہ بیرونی پرندوں کے لیے بھی ایک محفوظ ٹھکانہ ہے۔
دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں سے ایک انڈس ڈیلٹا میں موجود مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔ ساگا ڈیجیٹل
ساحلی سندھ، جس میں کراچی سے لے کر ٹھٹھہ اور بدین تک کا علاقہ شامل ہے، پرندوں کے لیے ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔ یہاں سمندر کے کنارے، کھارے پانی کی جھیلیں اور مینگرووز مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں سی گل، ٹرن، کارمورینٹ اور دیگر سمندری پرندے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے زیادہ تر مچھلیوں اور سمندری حیات پر انحصار کرتے ہیں۔
اس کے بعد سندھ کے ویٹ لینڈز یعنی جھیلوں اور دلدلی علاقوں کی بات آتی ہے، جو اس صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
ماہرین کے مطابق سندھ صوبہ صحرا، پہاڑ، سمندر، دریا کے ساتھ آب گاہوں کی بہتات کے باعث ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت جنگلی حیات کے حیاتی تنوع کے لحاظ سے ایک امیر خطہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رامسر کنونشن کے تحت پاکستان میں عالمی اہمیت رکھنے والی 19 آب گاہوں کو ’رامسر سائٹ‘ قرار دیا گیا ہے، جن میں نو صرف سندھ صوبے میں ہیں۔
ان میں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، انڈس ڈیلٹا، انڈس ڈولفن ریزرو، دیہہ اکڑو، ڈرگ جھیل، جبو لگون، نرڑی لگون اور رن آف کچھ شامل ہیں جبکہ رامسر سائیٹ حب ڈیم کا آدھا حصہ سندھ اور آدھا بلوچستان میں ہے۔
یہ وہ مقامات ہیں جہاں سردیوں کے موسم میں ہزاروں میل دور سے آنے والے پرندے قیام کرتے ہیں۔ یہاں بطخیں، ہنس، کونج، مختلف اقسام کے بگلے، ایگریٹ، ہیرون، پیلیکن اور واڈر پرندے بڑی تعداد میں دیکھے جاتے ہیں۔ سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون بھی انہی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
سندھ کے آب گاہوں میں سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون سمیت مختلف پرندے بری تداد میں ملتے ہیں۔ تصویر: ساگا ڈیجیٹل
پنجاب میں صرف تین، بلوچستان میں پانچ اور خیبر پختونخوا میں دو آب گاہوں کو رامسر سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے شہر رامسر میں ’کنونشن آن ویٹ لینڈ‘ یعنیٰ آب گاہوں کے تحفظ کا یہ عالمی معاہدہ دو فروری، 1971 کو طے پانے کے بعد 1975 میں نافذ ہوا۔
اس معاہدے کے تحت ایسی آب گاہیں جہاں کثیر تعداد میں پودوں، پرندوں اور مچھلیوں کی درجنوں اقسام پرورش پاتی ہیں اور یہ آب گاہیں ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے روزگار کا بھی ذریعہ ہوں تو انہیں رامسر سائٹ قرار دیا جاتا ہے۔
انڈس فلائے وے زون، جاڑوں میں وسطی ایشیا کی جانب نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے راستے میں واقع ہے اور سرد ممالک سے پرندے دو درجن سے زائد ممالک سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جاڑوں میں پاکستان میں موجود کُل پرندوں کا 30 فیصد ان مہمان پرندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
سندھ کا ریگستانی خطہ، خاص طور پر تھر، بظاہر خاموش اور خشک نظر آتا ہے، مگر یہاں زندگی ایک مختلف انداز میں موجود ہے۔تھر میں موروں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
پاکستان میں مور سب سے زیادہ سندھ کے تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں۔ مستند معلومات کے مطابق تھرپارکر، خصوصاً مٹھی، نگرپارکر اور اسلام کوٹ کے علاقوں کو پاکستان میں موروں کا سب سے بڑا مسکن مانا جاتا ہے۔ بعض سرکاری اور تحقیقی اندازوں کے مطابق صرف اسی خطے میں دسیوں ہزار مور موجود ہیں۔
نگرپارکر کے قریب واقع کارونجھر کے پہاڑی سلسلے اور اس کے آس پاس کے علاقے بھی موروں کے لیے نہایت موزوں ہیں، جہاں قدرتی ماحول، جھاڑی دار زمین، کھلے میدان اور بارش کے بعد بننے والے پانی کے ذخائر انہیں رہنے اور افزائش کے لیے بہترین حالات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی مور کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اسے ایک خوبصورت اور قابل احترام پرندہ سمجھتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی تعداد یہاں برقرار رہی ہے۔
پاکستان کے دیگر حصوں جیسے جنوبی پنجاب یا بلوچستان میں بھی مور پائے جاتے ہیں، لیکن وہاں ان کی تعداد کم ہے اور وہ اس طرح بڑی آبادی میں موجود نہیں جیسے سندھ کے تھرپارکر میں دیکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھرپارکر کو پاکستان میں موروں کا سب سے اہم اور قدرتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ حیاتاتی تنوع کے شاہوکار اس خطے میں نہایت اہم پرندہ تلور یا ہوبارا بسٹرڈ بھی بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چکور، لوا، ریگستانی چڑیاں، سینڈگروز اور دیگر صحرائی پرندے یہاں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے سخت گرمی، کم پانی اور کھلے میدانوں کے ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رن آف کچھ، جو سندھ اور بھارت کے درمیان واقع ایک نمکین میدان ہے، ایک منفرد ماحولیاتی خطہ ہے۔ بارشوں کے بعد یہ علاقہ پانی سے بھر جاتا ہے اور پرندوں کے لیے جنت بن جاتا ہے۔ یہاں فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، پلور، ایوو سیٹ اور دیگر واڈر پرندے بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ خاص طور پر ان پرندوں کے لیے اہم ہے جو نمکین پانی اور کیچڑ والے میدانوں میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔
سندھ کے میدانی اور زرعی علاقے بھی پرندوں سے خالی نہیں ہیں۔ یہاں عام طور پر نظر آنے والے پرندوں میں چڑیا، کوا، مینا، بلبل، فاختہ، کبوتر اور مختلف شکاری پرندے شامل ہیں۔ چیل، باز اور عقاب جیسے پرندے کھلے میدانوں میں شکار کرتے ہیں۔ سبز طوطا، جسے طوطا یا توتا کہا جاتا ہے، باغات اور درختوں والے علاقوں میں عام ہے۔ ڈرونگو، جسے بعض علاقوں میں بھجنگا کہا جاتا ہے، اپنی جرات اور چالاکی کے لیے مشہور ہے۔
سندھ سے تعلق رکھنے والا منفرد پرندہ جس کا نام ہی سندھ ہُد ہُد یا Sind woodpecker ہے۔ یہ دریائے سندھ سے متصل میدانوں اور جنگلات، کھیر تھر نیشنل پارک میں پایا جاتا ہے۔ تصویر: یاسر پیچوہو
سندھ کے پہاڑی سلسلے، خاص طور پر کیرتھر رینج، ایک اور اہم ماحولیاتی خطہ ہیں۔ یہاں پہاڑی پرندے جیسے چکور، عقاب، باز اور دیگر شکاری پرندے پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقے ان پرندوں کے لیے موزوں ہیں جو بلند جگہوں اور چٹانی ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں۔
پاکستان کے دیگر خطوں کی نسبت سندھ میں پرندوں کی زیادہ تعداد کیو؟
سب سے پہلی وجہ ماحولیاتی تنوع ہے۔ سندھ میں سمندر، دریا، جھیلیں، صحرا، پہاڑ، رن آف کچھ اور زرعی زمین سب ایک ہی خطے میں موجود ہیں۔ یہ تنوع مختلف اقسام کے پرندوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
دوسری وجہ پانی کی فراوانی ہے۔ سندھ میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مستقل ویٹ لینڈز موجود ہیں، جو پرندوں کے لیے خوراک اور آرام کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔
تیسری وجہ پاکستان میں رام سر سائٹس کی اکثریت کا سندھ میں ہونا ہے۔ یہ وہ بین الاقوامی اہمیت کے حامل علاقے ہیں جہاں پرندوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔
چوتھی وجہ موسم ہے۔ سندھ کا موسم سردیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے، جو سرد علاقوں سے آنے والے پرندوں کے لیے موزوں ہے۔
پانچویں وجہ پرندوں کی نقل مکانی کرنے والے راستوں پر سندھ کی موجودگی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے پرندے ان راستوں کے ذریعے سندھ پہنچتے ہیں اور یہاں قیام کرتے ہیں۔
اب اگر پورے پاکستان کی بات کی جائے تو یہ ملک بھی اپنے جغرافیے کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ شمال میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے بلند پہاڑ ہیں جہاں برفانی اور پہاڑی پرندے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سنو کاک، مونال، لامرجیئر گدھ اور مختلف اقسام کے عقاب شامل ہیں۔
پنجاب کے میدانی علاقوں میں زرعی زمین اور دریا پرندوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں چڑیا، مینا، بلبل، فاختہ، بطخیں اور دیگر عام پرندے پائے جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں جنگلات اور پہاڑی علاقے پرندوں کی ایک الگ دنیا رکھتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے وسیع مگر خشک علاقے مخصوص صحرائی اور نیم صحرائی پرندوں کا گھر ہیں۔
پاکستان میں پائے جانے والے چند نمایاں پرندوں میں مور، چکور، تلور، مصری گدھ، شاہین، عقاب، فلیمنگو، کونج، بطخیں اور مختلف اقسام کے بگلے شامل ہیں۔ سندھ اسپیرو اور سندھ وُڈپیکر جیسے پرندے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ خطہ عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت رکھتا ہے۔
ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے کئی علاقوں میں ایسے پرندے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جو پاکستان کے دیگر حصوں میں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، خاص طور پر ساحلی اور ویٹ لینڈ پرندے۔ اسی
طرح کچھ پرندے صرف مختصر وقت کے لیے یہاں قیام کرتے ہیں، مگر ان کی موجودگی بھی مجموعی تنوع میں شامل ہوتی ہے۔
فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، جو بعض اوقات ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں، سندھ کے ساحلی علاقوں میں ایک حیرت انگیز منظر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح جھیلوں پر اترنے والے ہزاروں بطخوں اور ہنسوں کے غول اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ خطہ پرندوں کے لیے کتنا اہم ہے۔
اگر ایک جملے میں کہا جائے تو سندھ صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ پرندوں کی ایک مکمل دنیا ہے، جہاں ہر موسم، ہر خطہ اور ہر منظر ایک نئی کہانی سناتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں آسمان صرف خالی نہیں ہوتا بلکہ پرندوں کی پرواز سے بھرا ہوتا ہے، اور یہی اسے پاکستان کا سب سے امیر خطہ بناتا ہے۔
پانی کا عالمی دن، 22 مارچ 2026، ہمارے لیے محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کا آئینہ ہے۔ اس بار موضوع ‘پانی اور جنسی مساوات’ ہے، مگر پاکستان کے تناظر میں یہ سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ کیا پانی واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا یہ بھی طاقت، پیسے اور اثر و رسوخ کے تابع ہو چکا ہے؟
ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں زیادہ تر گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے۔ اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس قسمت کو بھی اب خریدا اور بیچا جا رہا ہے۔
پانی کی منڈی محض شرمندگی نہیں، ایک اجتماعی ناکامی کی علامت بن چکی ہے۔ شاید ہم دنیا کے ان چند معاشروں میں شامل ہیں جہاں سرکاری ناکامی کو اس جملے سے جائز ٹھہرایا جاتا ہے کہ ‘ہم تو خود بھی ٹینکر کا پانی استعمال کرتے ہیں’۔ گویا پیغام واضح ہے، واٹر ٹینکر اب مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نیا معمول ہیں۔
جب پانی خریدنا روزمرہ کا حصہ بن جائے، جب مفت ٹینکر کے لیے سفارش ڈھونڈی جائے، جب گھروں کے باہر کھڑے ٹینکر حیثیت کی علامت بن جائیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف قلت کا نہیں، اجتماعی بے حسی کا بھی ہے۔ ہم نے پانی کو حق نہیں، سہولت بنا دیا ہے، اور وہ سہولت بھی صرف اسی کے لیے ہے جس کے پاس پیسہ یا رسائی ہو۔
اعداد و شمار خاموش ہیں مگر خطرناک۔ چند دہائیوں پہلے پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی پانچ ہزار مکعب میٹر کے قریب تھی، آج یہ کم ہو کر ایک ہزار کے آس پاس رہ گئی ہے۔ یہ محض کمی نہیں، ایک واضح انتباہ ہے جسے ہم مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔
دریائے سندھ، جو ہماری زراعت اور معیشت کی شہ رگ ہے، اس کے بہاؤ میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ دوسری طرف ہم زیر زمین پانی کو اس رفتار سے نکال رہے ہیں جیسے ہر دن آخری ہو۔ دنیا بھر میں اربوں لوگ ایسے ممالک میں رہ رہے ہیں جہاں پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس عالمی بحران سے کچھ سیکھا، یا ہم بھی خاموشی سے اسی تباہی کو معمول بنا چکے ہیں؟
جب پانی کی قلت کی بات ہوتی ہے تو اکثر ڈیم، نہریں اور بارشیں زیر بحث آتی ہیں، مگر ایک حقیقت مسلسل نظر انداز ہوتی ہے۔ دیہی پاکستان میں آج بھی پانی لانا زیادہ تر خواتین اور بچیوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ میلوں پیدل چلتی ہیں، صرف اس لیے کہ گھر میں پانی ہو۔
لیکن جب پانی کی پالیسیاں بنتی ہیں تو وہ کمرے ان کے بغیر بھرے ہوتے ہیں۔ فیصلے وہ کرتے ہیں جو مسئلے کو بھگتتے نہیں، صرف اس پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں انصاف ختم ہو جاتا ہے۔
پاکستان ایک عجیب تضاد کی تصویر ہے۔ ایک طرف سیلاب اربوں گیلن پانی سمندر میں بہا دیتے ہیں، دوسری طرف شہر پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں۔
کراچی جیسے شہر میں پانی کی لائنیں صرف پانی نہیں، طاقت کی تقسیم بھی ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ کہیں پانی چوری ہوتا ہے، کہیں بیچا جاتا ہے، کہیں روکا جاتا ہے، اور کہیں لوگ قطاروں میں کھڑے رہ کر صرف اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست کی رٹ کمزور پڑتی ہے اور غیر رسمی نظام مضبوط ہو جاتا ہے۔
ہم اکثر پانی کے مسئلے کو سرحدی تنازعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے دریا پہلے خود کمزور کیے ہیں۔ جب ملک کے اندر ہی پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن نہ ہو، جب صوبوں کے درمیان اعتماد کمزور ہو، جب ڈیٹا بھی متنازع ہو جائے، تو بیرونی خطرات پر شور مچانا آسان ہو جاتا ہے، حل تلاش کرنا نہیں۔
پانی پر سیاست کرنا آسان ہے، پانی کو سنبھالنا مشکل۔
وجوہات سب کے سامنے ہیں مگر سنجیدگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ آبادی بڑھ رہی ہے مگر ذخائر نہیں، موسمیاتی تبدیلی بارشوں کے نظام کو بدل رہی ہے مگر ہماری منصوبہ بندی وہی پرانی ہے۔ آبی نظم و نسق بکھرا ہوا ہے، ادارے مختلف سمتوں میں چل رہے ہیں، اور ہم سب مل کر پانی کو ایسے استعمال کر رہے ہیں جیسے یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔
یہ سوال حکومت سے بھی ہے اور ہم سب سے بھی۔ اگر ایک قوم پانی کے مسئلے کا حل ٹینکر خریدنے میں دیکھے، اگر شہری اپنی بقا کو نجی انتظامات سے جوڑ لیں، اگر ریاست کی ذمہ داری کو ذاتی سہولت سے بدل دیا جائے، تو پھر کسی پالیسی، کسی ڈیم یا کسی منصوبے سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ یہ صرف ناکامی نہیں، ایک خطرناک معمول بن چکا ہے۔
اب بھی وقت ہے، مگر زیادہ نہیں۔ حل موجود ہیں مگر ارادہ کمزور ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے، زراعت کو جدید بنایا جا سکتا ہے، شہری نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔
مگر سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پانی کوئی لگژری نہیں بلکہ بنیادی حق ہے، اور حق کو بازار کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
ہم کب تک پانی کو قسمت پر چھوڑے رکھیں گے؟ کب تک ٹینکر ہمارے نظام کا متبادل رہیں گے؟ کب تک ایک بچی پانی کے لیے اسکول چھوڑتی رہے گی؟ اور کب تک ہم یہ سمجھتے رہیں گے کہ یہ مسئلہ کسی اور کا ہے؟
اگر پانی ختم ہو گیا تو باقی سب بحثیں بے معنی ہو جائیں گی۔
یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سچ بولیں۔ پانی کا بحران صرف وسائل کا نہیں، ضمیر کا بھی ہے۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے یہ ہفتہ نہایت تیزی رہی۔ ہفتے کے دوران مارکیٹ میں مجموعی طور پر تقریباً 4 ہزار 066 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس زبردست تیزی کے باعث مارکیٹ نے تاریخ کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 90 ہزار 566 پوائنٹس کو بھی چھو لیا، جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ سطح ہے۔
اگر جمع کے روز، رواں ہفتے کے اختتام پر کلوزنگ کی بات کی جائے تو مارکیٹ 1 لاکھ 90 ہزار 166 پوائنٹس پر بند ہوئی، یعنی مارکیٹ نے 1 لاکھ 90 ہزار پوائنٹس سے اوپر مضبوط کلوزنگ دی، جسے ماہرین ایک شاندار پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اس ہفتے مختلف شعبوں نے مارکیٹ کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا۔مارکیٹ انالسسٹ اور ریسرچر جبران سرفراز کے مطابق فرٹیلائزر، بینکنگ اور آئل اینڈ گیس سیکٹرز نے خاص طور پر اچھی کارکردگی دکھائی، جس سے مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا۔
ان کے مطابق پیر 26 جنوری کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان متوقع ہے، جس کی وجہ سے بھی مارکیٹ میں مزید تیزی متوقع ہے۔21 جنوری کو ہونے والی ٹریژری بلز کی نیلامی میں حکومت نے بیشتر مدتوں پر کٹ آف ییلڈز کو چار سال بعد پہلی بار سنگل ڈیجٹ تک کم کر دیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ممکن ہے۔
حالیہ مہنگائی کے اعداد و شمار میں بہتری کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ شرح سود میں یقیناً کمی ہوگی۔ اس وقت شرح سود 10.5 فیصد ہے، جو کہ 10 یا 9.5 فیصد متوقع ہے۔ کاروباری حضرات کی جانب مسلسل شرح سود میں کمی کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔
آنے والے دنوں میں رول اوور ویک بھی متوقع ہے، تاہم عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل صورتحال ابھی مکمل طور پر بہتر نہیں ہو سکی۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کی قیمت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور تقریباً پانچ لاکھ چھ ہزار روپے فی تولہ پر کاروبار ہو رہا ہے، جبکہ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کاروباری سرگرمی کے لحاظ سے حصص کی مجموعی تعداد کم ہو کر 875.49 ملین رہی، جو ایک ارب سے کم ہے، تاہم کاروباری مالیت بڑھ کر 58.5 ارب روپے ہو گئی۔ حجم کے اعتبار سے کے الیکٹرک سرفہرست رہی، جس کے 141.4 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
واضح رہے کہ ہفتے کے آغاز میں کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا تھا، کیونکہ دسمبر 2025 میں 244 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ اور نومبر میں سرپلس رہا تھا۔ اس کے باوجود ہفتے کے اختتام پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور مارکیٹ نئی بلندیوں تک پہنچ گئی۔
مجموعی طور پر اسٹاک مارکیٹ اس وقت آل ٹائم ہائی پر موجود ہے اور سرمایہ کار محتاط مگر پُرامید نظر آ رہے ہیں۔ جبران سرفراز کے مطابق فروری یا مارچ تک کے ایس ای – 100 انڈیکس دولاکھ پوائنٹس کی حد عبور کرلے گا۔
اسپاٹیفائی نے سنہ 2026 کے آغاز پر پاکستانی موسیقی کے منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا۔ ابھرتی ہوئی گلوکارہ شائے گل کو ریڈار پاکستان پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جو نئے فنکاروں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے اسپاٹیفائی کا خصوصی پلیٹ فارم ہے۔
شائے گل نے مختصر عرصے میں اپنی منفرد آواز اور گہرے موضوعات پر مبنی گیتوں سے نوجوان سامعین میں شناخت بنائی۔ ان کے گیت عدم تحفظ، اندرونی کشمکش اور خود شناسی جیسے احساسات کو سادہ مگر اثر انگیز انداز میں پیش کرتے ہیں، جس نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انہیں نمایاں مقام دلایا۔
ریڈار پاکستان میں شمولیت کے بعد شائے گل کو اسپاٹیفائی کی جانب سے خصوصی پلے لسٹس، عالمی پروموشن اور ڈیجیٹل مہمات میں نمایاں کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت منتخب فنکاروں کو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سامعین تک رسائی ملتی ہے۔
شائے گل اس سے قبل بھی اسپاٹیفائی کی وائرل پلے لسٹس میں جگہ بنا چکی ہیں، جہاں ان کے گیت لاکھوں بار سنے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ موسیقی کو ذاتی تجربات کا اظہار سمجھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ سننے والے خود کو ان کہانیوں میں پہچان سکیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ریڈار پروگرام کے ذریعے اسپاٹیفائی اب تک دنیا بھر میں سینکڑوں نئے فنکاروں کو متعارف کرا چکا ہے، جن میں سے کئی بعد میں عالمی چارٹس تک پہنچے۔ شائے گل کی شمولیت کو پاکستانی انڈی موسیقی کے لیے ایک اور مضبوط قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس انتخاب کے ساتھ شائے گل نہ صرف پاکستان کی نمائندگی کریں گی بلکہ یہ ثابت کریں گی کہ مقامی آوازیں بھی عالمی سطح پر سنی جا سکتی ہیں۔
پاکستان میں قومی شناختی کارڈ کا نظام وقت کے ساتھ ساتھ کئی مراحل سے گزرا ہے۔ آج ہر شہری کے لیے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ لازمی قرار دیا جا چکا ہے، لیکن یہ نظام شروع سے ایسا نہیں تھا۔
پاکستان بننے کے بعد کئی دہائیوں تک ملک میں کوئی باضابطہ شناختی نظام موجود نہیں تھا۔
شناخت کے ثبوت کے طور پر لوگ اپنے خاندانی کاغذات، پیدائش کے سرٹیفکیٹ یا کسی سرکاری دفتر کے جاری کردہ دستاویزات دکھاتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ، آبادی کے بڑھنے، ووٹر لسٹیں تیار کرنے، اور شہری حقوق کی فراہمی کے لیے ایک منظم قومی شناختی نظام کی ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی۔
انیس سو تہتر (1973) میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے پہلی مرتبہ ایک باقاعدہ قومی شناختی نظام متعارف کرایا۔ اسی سال قومی اسمبلی نے نیشنل رجسٹریشن ایکٹ 1973 منظور کیا جس کے تحت وزارتِ داخلہ کے ماتحت نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (NRD) قائم کیا گیا۔
اس ادارے کا مقصد ہر بالغ شہری کو ایک مخصوص قومی شناختی کارڈ جاری کرنا تھا۔
اس وقت کے کارڈ مکمل طور پر دستی یا کاغذی شکل میں ہوتے تھے، جن پر شہری کا نام، والد کا نام، پتہ، اور تصویر درج ہوتی تھی۔ ان کارڈز پر کسی قسم کی ڈیجیٹل یا سکیورٹی خصوصیت موجود نہیں تھی۔ پھر بھی یہ پاکستان کی تاریخ میں شہری شناخت کے باضابطہ آغاز کا سنگ میل ثابت ہوئے۔
انیس سو نوے کی دہائی میں جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی تھی، پاکستان میں بھی شناختی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 2000 میں حکومت نے نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ضم کر کے ایک نیا ادارہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) قائم کیا۔
نادرا کا قیام ایک سنگ میل تھا کیونکہ اس نے شناخت کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل ڈیٹا بیس پر منتقل کر دیا۔ اب ہر شہری کا ریکارڈ کمپیوٹر پر محفوظ ہونے لگا، جس میں نام، تصویر، فنگر پرنٹس، اور دیگر ذاتی تفصیلات شامل تھیں۔
2001 میں نادرا نے کمپیوٹرائزڈ نیشنل آئی ڈی کارڈ (CNIC) متعارف کرایا۔ یہ نیا کارڈ پرانے کاغذی کارڈ کی جگہ لینے لگا۔ ہر شہری کو ایک منفرد 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی نمبر دیا گیا، جو ملک بھر میں ہر طرح کی سرکاری دستاویزات اور لین دین کے لیے بنیاد بنا۔ CNIC میں جدید سکیورٹی فیچرز شامل تھے تاکہ اس کی نقل یا جعل سازی ممکن نہ رہے۔
وقت کے ساتھ CNIC کو ووٹنگ، بینک اکاؤنٹ کھلوانے، موبائل سم رجسٹریشن، جائیداد کی خرید و فروخت، حتیٰ کہ بیرونِ ملک سفر کے لیے بھی لازمی قرار دیا گیا۔
نادرا نے شناختی نظام کو صرف محفوظ ہی نہیں بلکہ تیز اور مؤثر بھی بنایا۔ شناختی کارڈ کے اجرا کے لیے ملک بھر میں نادرا کے دفاتر قائم ہوئے، جب کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے قونصل خانوں میں نادرا کے کاؤنٹرز کھولے گئے۔
اس دوران شہریوں کے ڈیٹا کو بایومیٹرک سسٹم سے منسلک کیا گیا جس سے فنگر پرنٹس اور چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق ممکن ہوئی۔
2012 میں نادرا نے ایک اور سنگ میل عبور کیا جب اس نے اسمارٹ نیشنل آئی ڈی کارڈ (SNIC) متعارف کرایا۔ یہ نیا کارڈ جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی تھا جس میں ایک مائیکرو چِپ نصب کی گئی۔ اس چپ میں شہری کی بنیادی معلومات کے ساتھ ساتھ بایومیٹرک اور سکیورٹی کوڈز بھی محفوظ ہوتے ہیں۔
اسمارٹ کارڈ میں پبلک کی انکرپشن کا نظام موجود ہے جو کسی بھی غیر مجاز رسائی یا ڈیٹا چوری سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اسمارٹ شناختی کارڈ صرف شناخت کے لیے نہیں بلکہ ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کا ذریعہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ نادرا نے اعلان کیا تھا کہ مستقبل میں اسمارٹ کارڈ کے ذریعے ای ووٹنگ، ای بینکنگ، صحت، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر خدمات ایک ہی کارڈ سے حاصل کی جا سکیں گی۔
آج کئی نجی اور سرکاری ادارے CNIC یا SNIC کے نمبر سے براہ راست نادرا کے ڈیٹا بیس سے شہری کی شناخت کی تصدیق کر سکتے ہیں، جس سے جعلی شناختی کارڈ یا فراڈ کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔
شناختی نظام کی ترقی صرف ٹیکنالوجی کا قصہ نہیں بلکہ یہ پاکستان میں شہری شعور اور ریاستی نظم و نسق کی علامت بھی ہے۔ نادرا کے مطابق آج پاکستان میں 12 کروڑ سے زائد شناختی کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں لاکھوں بیرونِ ملک پاکستانی بھی شامل ہیں۔ نادرا کا مرکزی ڈیٹا بیس اب ملک کے سب سے بڑے اور محفوظ ترین ڈیجیٹل ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ شناختی نظام کے قیام نے پاکستان میں کئی سماجی و اقتصادی تبدیلیاں ممکن بنائیں۔ بینکنگ، ووٹنگ، تعلیم، صحت، اور فلاحی منصوبے اب قومی شناختی ڈیٹا سے منسلک ہیں۔ یہ نظام نہ صرف سکیورٹی کے لیے اہم ہے بلکہ سماجی شمولیت، مالی شفافیت اور ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی بنیاد بھی ہے۔
پاکستانی شناختی کارڈ کی یہ کہانی دراصل ایک ایسے ملک کی کہانی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی شناخت، حقوق اور ذمہ داریوں کو جدید دنیا کے مطابق مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آج کا اسمارٹ کارڈ محض ایک پلاسٹک کی چِپ نہیں، بلکہ شہری حیثیت، اعتماد اور جدید ریاستی نظم کا مظہر ہے۔