مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے ملک کا تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ خطے میں جنگی صورتحال کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مجموعی معاشی استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس نازک صورتحال میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ممکنہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ خطے میں استحکام بحال ہو اور اس کے معاشی اثرات کو محدود کیا جا سکے۔
دوسری جانب پاکستان کو اپریل کے مہینے میں بھاری مالی ادائیگیوں کا سامنا ہے۔ حکومت نے متحدہ عرب امارات سے لیے گئے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر یو اے ای کے مطالبے پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں یو اے ای اس رقم کو پاکستان کی درخواست پر طویل مدت کے لیے رول اوور کرنے کے بجائے ہر ماہ کی بنیاد پر توسیع دے رہا تھا، جس کے باعث معاشی غیر یقینی میں اضافہ ہو رہا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے تھے۔
حکومت نے یو اے ای کے مطالبے پر فیصلہ کیا ہے کہ یہ رقم اسی ماہ واپس کر دی جائے گی۔
پاکستان کی حکومت کی جانب سے ترتیب دئیے گئے ادائیگیوں کے شیڈول کے تحت 450 ملین ڈالر 11 اپریل کو، 2 ارب ڈالر 17 اپریل کو جبکہ باقی 1 ارب ڈالر 23 اپریل کو ادا کیے جائیں گے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے 1996 میں بھی 450 ملین ڈالر ایک سال کے لیے حاصل کیے تھے، جن کی واپسی بھی اب مکمل کی جا رہی ہے۔سنگین معاشی چیلنجز میں پاکستان کو اسی ماہ تقریباً 1.3 ارب ڈالر کے یوروبانڈز کی میچورٹی کا بھی سامنا ہے۔
اگر مجموعی طور پر اپریل میں 4.8 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں تو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر تقریباً ساڑھے گیارہ ارب ڈالر رہ جانے کا امکان ہے۔
اور یہ حالات پاکستان کو مزید معاشی مشکلات کا شکار کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت متحدہ عرب امارات، سعودی عبر اور چین نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مجموعی طور پر ساڑھے بارہ ارب ڈالر پاکستان کے مرکزی بینک میں پروگرام کے اختتام، یعنی آئندہ سال ستمبر تک برقرار رکھیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حالات میں پاکستان کے لیے معاشی نظم و ضبط برقرار رکھنا، سفارتی محاذ پر متوازن پالیسی اپنانا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی اور علاقائی غیر یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
