Tag: پاکستان

  • پاکستان میں پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کا آغاز

    پاکستان میں پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کا آغاز

    وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار جدید ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاؤڈ اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا۔

    حکومت نے اس منصوبے کو ملک کی ڈیجیٹل ترقی، محفوظ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

    جمع کے روز اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید مرکز کے قیام سے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا، سرکاری اور نجی اداروں کو محفوظ ڈیجیٹل سہولتیں میسر آئیں گی اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اس جدید مرکز کا دورہ کیا اور وہاں موجود سہولتیں دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق پاکستان کے انجینئروں، ماہرین اور متعلقہ اداروں نے انتہائی مختصر مدت میں یہ منصوبہ مکمل کرکے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو قومی ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسی جذبے سے کام جاری رکھا گیا تو پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے اہم سرکاری اداروں کو بتدریج اس نئے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا تاکہ سرکاری خدمات مزید تیز، محفوظ اور مؤثر بنائی جا سکیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی معیشت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی اور پاکستان کو بھی اسی سمت تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔

    تقریب میں بتایا گیا کہ اسکائی 47 قراقرم ون ملک کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیار کلاؤڈ پلیٹ فارم ہے۔ اس کی ابتدائی استعداد آٹھ اعشاریہ پانچ میگاواٹ ہے، جبکہ کراچی کے پورٹ قاسم میں مزید پانچ میگاواٹ صلاحیت کا ایک اور ڈیٹا سینٹر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے، جسے رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

    حکام کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان میں ڈیٹا محفوظ رکھنے کی صلاحیت بڑھے گی، ملکی اداروں کو بیرون ملک سرورز پر انحصار کم کرنا پڑے گا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی جدید سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ اس سے بینکنگ، ٹیلی کمیونی کیشن، صحت، تعلیم، ای کامرس اور سرکاری اداروں کو جدید ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور منصوبے پر کام کرنے والی تمام ٹیموں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کے باہمی تعاون سے ایسے منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کسی بھی ملک کی ٹیکنالوجی، کاروبار اور سرکاری خدمات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اس نوعیت کی جدید سہولت کے قیام سے مقامی آئی ٹی صنعت، سافٹ ویئر کمپنیوں، فری لانسرز اور اسٹارٹ اپ اداروں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

    ڈیٹا سینٹر کیا ہوتا ہے اور مصنوعی ذہانت میں اس کا کیا کردار ہے؟

    ڈیٹا سینٹر ایک ایسا جدید اور محفوظ کمپیوٹر مرکز ہوتا ہے جہاں ہزاروں طاقتور سرور، ڈیٹا محفوظ رکھنے والے آلات، نیٹ ورکنگ کا نظام، بجلی کا بیک اپ اور ٹھنڈک فراہم کرنے کا خصوصی انتظام موجود ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی ویب سائٹس، موبائل ایپس، بینک، سرکاری ادارے، اسپتال، جامعات اور کاروباری ادارے اپنا ڈیٹا انہی مراکز میں محفوظ رکھتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے انتہائی طاقتور کمپیوٹر، تیز رفتار پروسیسر اور بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ یہ تمام سہولتیں ڈیٹا سینٹر فراہم کرتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ اے آئی ماڈل تیار کرتا ہے یا لاکھوں صارفین کو آن لائن خدمات دیتا ہے تو اس کے لیے مسلسل کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے، جو صرف جدید ڈیٹا سینٹر ہی مہیا کر سکتے ہیں۔

    ڈیٹا سینٹرز کی بدولت چیٹ بوٹس، زبان کا ترجمہ، چہرے کی شناخت، طبی تشخیص، موسم کی پیش گوئی، مالیاتی تجزیے، سمارٹ شہروں کے نظام اور خودکار صنعتی مشینوں جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت بہتر انداز میں کام کر سکتی ہے۔

    اگر پاکستان میں مزید جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیے جائیں تو مقامی کمپنیوں کو بیرون ملک سرورز پر کم انحصار کرنا پڑے گا، ڈیٹا زیادہ محفوظ رہے گا، آن لائن خدمات کی رفتار بہتر ہوگی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی صنعتوں، روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس طرح ڈیٹا سینٹر مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • امریکہ نے جبری مشقت روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد نئے ٹیرف نافذ کر دیے

    امریکہ نے جبری مشقت روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد نئے ٹیرف نافذ کر دیے

    گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کی شرائط پر مکمل عمل درآمد نہ کرنے پر تنقید کے بعد اب امریکہ نے بھی ’جبری مشقت‘ روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف نافذ کر دیے ہیں، جن کا اطلاق آج سے ہو گیا ہے۔

    متاثرہ ممالک میں بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، برطانیہ، چین، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر نئے امریکی ٹیرف منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

    پاکستان میں ماضی میں بھی مزدوروں کے حقوق، بچوں سے مشقت اور جبری مزدوری کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اب بھی ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔

    پاکستانی تاجروں کے نمائندے اور ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر مجید عزیز نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جبری مشقت ی نئی شق کو ٹیرف عائد کرنے کی وجہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف تجارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، سفارتی تعلقات اور سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    جبری مشقت کے الزامات کی بنیاد پر جاری کیا گیا صدارتی حکم نامہ عدالتوں یا دوطرفہ مذاکرات میں زیادہ دیر برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں یورپی ممالک کو بھی ان ممالک کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے جہاں آمرانہ حکومتیں ہیں یا جمہوری نظام موجود نہیں۔ حالانکہ کئی یورپی ممالک نے قوانین سازی، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے کنونشنز کی توثیق اور سخت نگرانی کے ذریعے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔

    پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے جبری مشقت کے خاتمے یا اس میں نمایاں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کیے ہیں۔

    مثبت پہلو صرف یہ ہے کہ اگر پاکستان، ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں ایک قابل اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے تو ممکن ہے اس پر اضافی ٹیرف عائد نہ کیا جائے، یا پھر صرف علامتی نوعیت کا معمولی ٹیرف لگایا جائے۔

    ای ایف پی کا مؤقف ہے کہ جبری مشقت نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ پائیدار کاروباری ترقی، منصفانہ مسابقت اور معاشی ترقی کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جبری مشقت کا خاتمہ حکومتوں، آجروں، مزدوروں اور آجر تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق نئے ٹیرف ان تمام ممالک پر لاگو ہوں گے جن سے امریکہ بڑی مقدار میں اشیا درآمد کرتا ہے۔ ان 60 ممالک سے ہونے والی درآمدات امریکہ کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 99.4 فیصد بنتی ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔ ان تحقیقات میں الزام لگایا گیا تھا کہ مختلف ممالک میں جبری مشقت کے ذریعے تیار ہونے والی اشیا امریکہ برآمد کی جا رہی ہیں اور متعلقہ حکومتیں اس مسئلے کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوں گے۔ پاکستان 10 فیصد ٹیرف والے ممالک میں شامل ہے، کیونکہ انہوں نے مبینہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ان اقدامات سے مطمئن نہیں اور اس مسئلے پر نظر رکھے گا۔

    یہ نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب اس سال کے آغاز میں صدر ٹرمپ کی جانب سے تقریباً تمام درآمدات پر عائد کیا گیا 10 فیصد عمومی ٹیرف امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ نے ایک مختلف قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے نئے ٹیرف نافذ کیے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنی تجارتی پالیسی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے دستیاب ہر قانونی اختیار استعمال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک قانونی اختیار پر عدالت پابندی عائد کر دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اپنی تجارتی حکمت عملی ترک کر دے گی۔

    امریکی انتظامیہ نے ان ٹیرف کے نفاذ کے لیے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کی شق 301 کا سہارا لیا ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق اس قانون کے تحت لگائے جانے والے ٹیرف عدالتوں میں زیادہ مضبوط قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی ایسے اقدامات عدالتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود برقرار رہے ہیں۔

    امریکہ نے واضح کیا ہے کہ تمام درآمدات پر یہ ٹیرف لاگو نہیں ہوں گے۔ خام تیل، قدرتی گیس اور بعض ایسی مصنوعات جن کی مقامی سطح پر دستیابی ممکن نہیں، انہیں اس اقدام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ امریکی معیشت اور صنعت کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف کو اسی وقت نافذ کیا گیا جب پہلے سے موجود 10 فیصد عمومی ٹیرف کی مدت ختم ہوئی، تاکہ درآمد کنندگان کو ایک ہی وقت میں مختلف اقسام کے ٹیرف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور کاروباری اداروں کے لیے نظام نسبتاً آسان رہے۔

    حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کاروباری حلقے بار بار ٹیرف کی شرحوں میں تبدیلی سے پریشان تھے۔ اس لیے اب حکومت نے نسبتاً واضح اور مستقل نظام متعارف کرانے کی کوشش کی ہے تاکہ درآمد کنندگان کو پہلے سے معلوم ہو کہ انہیں کس شرح سے ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔

    ادھر یورپی یونین نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے ان ٹیرف کو "منفی حیرت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جبری مشقت سے متعلق امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔

    سوئٹزرلینڈ نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی فیصلے کی مخالفت کی ہے، جبکہ ناروے نے کہا ہے کہ وہ جواب میں امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    برازیل نے بھی اپنے سامان پر 12.5 فیصد ٹیرف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی تعلقات باہمی برابری کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔ دوسری جانب میکسیکو کے وزیر اقتصادیات نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر مؤثر ٹیرف کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    آسٹریلیا، جس پر بھی 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، نے امریکی فیصلے کو مکمل طور پر غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر تجارت ڈان فیرل نے کہا کہ ان کی حکومت امریکہ سے مسلسل رابطے میں رہے گی تاکہ آسٹریلوی مصنوعات پر عائد تمام ٹیرف ختم کرائے جا سکیں۔

    امریکی انتظامیہ اس کے علاوہ بھی مزید تجارتی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان میں ایک تحقیق چین، میکسیکو اور یورپی یونین سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں پر عالمی سطح پر صنعتی پیداوار کی ضرورت سے زیادہ صلاحیت پیدا کرنے کے الزامات سے متعلق ہے۔

    اسی ہفتے وائٹ ہاؤس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ سے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک نیا ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ یہ اقدام ایک ایسے امریکی قانون کے تحت کیا جا رہا ہے جسے اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت تجارتی پالیسی کو مزید سخت بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں دیگر ممالک پر بھی نئے تجارتی اقدامات متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ یہ نئے امریکی ٹیرف ان کی برآمدات اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

  • پاکستان نے زرِ مبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی معاونت طلب کر لی

    پاکستان نے زرِ مبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی معاونت طلب کر لی

    پاکستان نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے پر دباؤ کم کرنے اور عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کرنے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی خصوصی مالی معاونت کی درخواست کی ہے۔

    اس پیش رفت سے آگاہ ایک ذریعے نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کی مشکلات کا شکار معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق پاکستان نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں دونوں ممالک کے درمیان پانچ سال تک کی مدت پر مشتمل دو طرفہ زرِ مبادلہ استحکام معاونتی سہولت قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس کی مالیت 10 ارب ڈالر ہوگی۔ اس سہولت کا مقصد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے کی قدر پر دباؤ میں کمی اور بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے ایران جنگ کے حوالے سے سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کیا، جس کے بعد اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان کو امید ہے کہ وہ امریکا اور دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکے گا۔

    رپورٹ کے مطابق اگر یہ سہولت منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان کو نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر کثیر الجہتی قرض دہندگان پر انحصار بھی کسی حد تک کم ہو سکے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت سخت مالیاتی اور مالی نظم و ضبط کی پالیسیوں پر عمل کر رہا ہے۔

    امریکی وزارت خزانہ نے اس درخواست پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی وزارت خزانہ نے بھی رائٹرز کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    تاہم پاکستان کی وزارت خزانہ نے ایک الگ بیان میں بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی۔ بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے خطے کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کے باعث پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات پر بات کی اور امریکا سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں تک بہتر رسائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور ملک کی مالی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے تعاون کی درخواست کی۔ وزارت خزانہ کے بیان میں 10 ارب ڈالر کی مجوزہ سہولت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    بیان کے مطابق دونوں ممالک نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، امریکی سرمایہ کاری میں اضافے اور مشترکہ معاشی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت اصلاحات پر عمل کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت حکومت کو ٹیکسوں میں اضافہ، سرکاری اخراجات میں کمی اور مختلف معاشی اصلاحات کرنا پڑی ہیں، جنہیں سیاسی طور پر مشکل فیصلے تصور کیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نوعیت کی زرِ مبادلہ استحکام سہولتیں بہت کم ممالک کو دی جاتی ہیں۔ یہ سہولتیں عموماً امریکی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں اور ان کے تحت ڈالر، کرنسی تبادلے یا مالی ضمانتیں دی جاتی ہیں تاکہ کسی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور اس کی کرنسی کو استحکام حاصل ہو۔ یہ امریکی فیڈرل ریزرو کی مستقل کرنسی تبادلہ سہولتوں سے مختلف ہوتی ہیں۔

    رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ پاکستان 2023 میں قرضوں کی ادائیگی میں ممکنہ ڈیفالٹ سے بال بال بچا تھا، جب اسے آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر کا ہنگامی پروگرام ملا۔ بعد ازاں ملک نے سات ارب ڈالر کا توسیعی قرض پروگرام حاصل کیا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت بھی ملی۔ اس کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی سرکاری قرضوں، رول اوور انتظامات اور چین و سعودی عرب جیسے دوست ممالک کی مالی معاونت پر کافی حد تک انحصار کرتے ہیں۔

    مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا پاکستان کی درخواست منظور کرتا ہے تو اس کے دو اہم اثرات ہوں گے۔ ایک طرف پاکستان کو فوری مالی سہارا ملے گا اور دوسری طرف عالمی سرمایہ کاروں کو یہ مثبت اشارہ جائے گا کہ امریکا پاکستان کی معیشت پر اعتماد رکھتا ہے۔

    اس سے روپے پر دباؤ کم ہونے، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے اور قرض لینے کی لاگت میں کمی کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان حالیہ برسوں میں امریکا کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو نئی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کرپٹو کرنسی، معدنیات، جائیداد اور دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی کام جاری ہے، جبکہ ریکوڈک منصوبے سمیت بعض شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

  • پاکستان کے سات شہروں میں 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک مقدار، ماہرین صحت

    پاکستان کے سات شہروں میں 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک مقدار، ماہرین صحت

    پاکستان کے سات شہروں کے زیادہ خطرے والے علاقوں میں 12 سے 36 ماہ عمر کے تقریباً 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے (لیڈ) کی مقدار محفوظ حد سے زیادہ پائی گئی ہے، جبکہ کراچی میں بھی تقریباً 39 فیصد بچے اس خطرناک دھات سے متاثر پائے گئے ہیں۔

    ماہرین صحت نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں میں سیسے کی آلودگی، اس کے ذرائع اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کرے تاکہ والدین میں آگاہی پیدا ہو اور متعلقہ ادارے مؤثر اقدامات کر سکیں۔

    یہ بات لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پروجیکٹ (LEEP) پاکستان، یونیسیف پاکستان اور کامزمین کنسلٹنٹس کے اشتراک سے کراچی پریس کلب میں منعقدہ ایک روزہ صحافتی تربیتی ورکشاپ کے مقررین نے کہی۔ ورکشاپ میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد صحت اور ماحولیات کے صحافیوں نے شرکت کی، جہاں بچوں میں سیسے کی آلودگی سے متعلق تازہ تحقیقی نتائج، اس کے بڑے ذرائع اور اس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    یونیسیف پاکستان کی ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر حمیرا ارشاد نے پاکستان چائلڈ ہُڈ لیڈ ایکسپوژر سروے کے نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سات زیادہ خطرے والے شہروں میں 12 سے 36 ماہ عمر کے دو ہزار 175 بچوں کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔

    سروے کے مطابق تقریباً 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار محفوظ حد سے زیادہ تھی، جبکہ کراچی کے منتخب علاقوں میں یہ شرح تقریباً 39 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ یہ سروے صرف زیادہ خطرے والے شہری علاقوں میں کیا گیا تھا اور اس کے نتائج پورے پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتے، اس لیے ملک میں مسئلے کی اصل شدت جاننے کے لیے قومی سطح پر سروے کرانے کی ضرورت ہے۔

    آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر فاطمی نے کہا کہ سیسے کی آلودگی بچوں کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جس کا اکثر والدین کو اس وقت تک علم نہیں ہوتا، جب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے، کیونکہ اس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیسے کی معمولی مقدار بھی بچوں کے دماغ، اعصابی نظام، سیکھنے کی صلاحیت اور مجموعی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے اس مسئلے میں علاج سے زیادہ اہمیت بچاؤ کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بچے زیادہ تر سیسہ ملے آرائشی رنگ، ملاوٹ شدہ مصالحہ جات، سرمہ اور غیر قانونی لیڈ ایسڈ بیٹری ری سائیکلنگ کے ذریعے سیسے کی زد میں آتے ہیں اور ان ذرائع پر قابو پا کر بڑی حد تک بچوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

    لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پروجیکٹ پاکستان کے کنٹری ہیڈ عابد حسن نے کہا کہ پاکستان میں خون میں سیسے کی مقدار اور اس کے اصل ذرائع معلوم کرنے کے لیے قومی سطح پر نمائندہ سروے ناگزیر ہے تاکہ اس کی بنیاد پر صحت، ماحولیات، صنعت اور خوراک سے متعلق ادارے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار ایسے سروے کے لیے تعاون پر آمادہ ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ لیپ پاکستان اس وقت بچوں میں سیسے کی آلودگی کے تین بڑے ذرائع، یعنی آرائشی رنگ، سرمہ اور سیسہ ملی ہلدی کے خاتمے پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں آرائشی رنگوں میں سیسے کی زیادہ سے زیادہ حد 90 پارٹس پر

    ملین اور ہلدی میں پانچ پارٹس پر ملین مقرر کی جا چکی ہے، جبکہ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) سرمہ کے لیے بھی قومی معیار متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے۔

    عابد حسن نے کہا کہ حکومتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں سے آرائشی رنگوں میں سیسے کی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ سندھ فوڈ اتھارٹی کی مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں سیسہ ملی ہلدی کی فروخت بھی بڑی حد تک کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا اس مسئلے کو مسلسل اجاگر کرے تو عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ پالیسی سازی میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔

    لیپ پاکستان کے پروگرام منیجر اسد پابانی نے بتایا کہ ان کی تنظیم دنیا کے 40 سے زائد ممالک میں حکومتوں، محققین، صنعت اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر بچوں کو سیسے کی آلودگی سے محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (سیپا) کے ریجنل ڈائریکٹر عمران صابر نے کہا کہ غیر قانونی لیڈ ایسڈ بیٹری ری سائیکلنگ یونٹس اور دیگر آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تاہم کارروائی کے بعد ایسے یونٹس اکثر دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ایسے عناصر کی نشاندہی اور عوام میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر احمد علی شیخ نے بتایا کہ جب ہلدی میں لیڈ کرومیٹ کے خلاف مہم شروع کی گئی تو 90 فیصد سے زائد نمونوں میں یہ مضر مادہ موجود تھا، تاہم مسلسل نگرانی، لیبارٹری تجزیوں، تاجروں سے رابطوں اور آگاہی مہم کے نتیجے میں یہ شرح کم ہو کر تقریباً پانچ فیصد رہ گئی ہے۔

    ورکشاپ کے اختتام پر صحت اور ماحولیات کے سینئر صحافی ایم وقار بھٹی نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی آلودگی، غیر محفوظ صنعتی سرگرمیوں، آلودہ صارف اشیا اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر تحقیقاتی رپورٹنگ کریں۔ انہوں نے کہا کہ درست اور حقائق پر مبنی صحافت ہی عوامی آگاہی، مؤثر قانون سازی اور بچوں کو سیسے کی آلودگی سے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

  • شاہنواز بھٹو کی بیٹی سسی بھٹو کی پاکستان آمد کا راز اور مشن

    شاہنواز بھٹو کی بیٹی سسی بھٹو کی پاکستان آمد کا راز اور مشن

    سسی بھٹو اس وقت پاکستان آئی ہیں جب ان کے والد، شہید شاہنواز بھٹو کی 18 جولائی کو 41ویں برسی منائی گئی۔

    44 سالہ سسی بھٹو مستقل طور پر امریکہ میں اپنی افغان نژاد والدہ ریحانہ کے ساتھ رہتی ہیں۔

    شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو کی والدہ فوزیہ اور سسی بھٹو کی والدہ ریحانہ آپس میں سگی بہنیں ہیں۔ اس رشتے سے فاطمہ بھٹو اور سسی بھٹو نہ صرف چچا زاد بہنیں ہیں بلکہ ماموں زاد بہنیں بھی بنتی ہیں۔

    جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیے جانے کے بعد دونوں بھائی اس وقت کی سوویت نواز افغان حکومت کے مہمان بن گئے۔

    1980 میں انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف ‘پاکستان لبریشن آرمی’ قائم کی۔ بعد میں 2 مارچ 1981 کو پی آئی اے کے طیارے کے اغوا کے بعد جب اغوا کنندگان کابل پہنچے تو اس تنظیم کا نام تبدیل کرکے ‘الذوالفقار’ رکھ دیا گیا۔

    میر مرتضیٰ بھٹو الذوالفقار کے سربراہ تھے جبکہ شاہنواز بھٹو اس تنظیم کے آپریشنل چیف کمانڈر تھے۔

    کابل میں دونوں بھائیوں نے افغان وزارت خارجہ کے ایک افسر فصیح الدین کی دو بیٹیوں، فوزیہ اور ریحانہ، سے شادیاں کیں۔

    کچھ عرصے بعد افغان انٹیلی جنس کے سربراہ حفیظ اللہ امین نے میر مرتضیٰ بھٹو کو خبردار کیا کہ جن بہنوں سے آپ نے شادی کی ہے، ان کے والد فصیح الدین کے پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے دور کی آئی ایس آئی سے رابطے ہیں اور وہ ہماری نگرانی کی فہرست میں شامل ہیں۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ دونوں بھائیوں نے اس انتباہ کو اہمیت نہیں دی۔

    29 مئی 1982 کو میر مرتضیٰ بھٹو اور فوزیہ کے ہاں فاطمہ بھٹو پیدا ہوئیں، جبکہ 24 اگست 1982 کو شاہنواز بھٹو اور ریحانہ کے ہاں سسی بھٹو کی پیدائش ہوئی۔

    جولائی 1985 میں طویل عرصے کے بعد پورا بھٹو خاندان فرانس کے ساحلی شہر کانز میں اکٹھا ہوا۔ بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو اور شاہنواز بھٹو ایک دوسرے سے ملے۔

    لیکن 18 جولائی 1985 کا دن اس خاندان کے لیے ایک المناک دن ثابت ہوا، جب شاہنواز بھٹو اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

    شاہنواز بھٹو کے فلیٹ میں اس وقت صرف ان کی اہلیہ ریحانہ اور کم عمر بیٹی سسی بھٹو موجود تھیں۔

    اطلاع ملنے پر میر مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو وہاں پہنچے تو ریحانہ سخت پریشان تھیں۔ فرانسیسی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے شاہنواز بھٹو کی لاش اپنی تحویل میں لے لی اور ریحانہ کو بھی حراست میں لے لیا۔

    شاہنواز بھٹو کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی موت ایک انتہائی خطرناک زہر سے ہوئی۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ ایسا زہر تھا جسے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ایجنٹ یا مختلف مزاحمتی تنظیموں کے ارکان انتہائی خفیہ حالات میں استعمال کرتے تھے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس زہر سے انسان چند لمحوں میں ہلاک ہو جاتا ہے۔

    واقعے کے بعد فرانسیسی پولیس نے ریحانہ کو گرفتار کر لیا۔

    ادھر میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنی اہلیہ فوزیہ کو طلاق دے دی اور اپنی کم عمر بیٹی فاطمہ بھٹو کو ساتھ لے کر شام کے دارالحکومت دمشق منتقل ہو گئے۔ دوسری جانب بے نظیر بھٹو اپنے بھائی شاہنواز بھٹو کی میت پاکستان لے آئیں، جہاں انہیں آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش بھٹو میں سپرد خاک کیا گیا۔

    فرانسیسی حکومت نے چند سال بعد ریحانہ کو رہا کر دیا، جس کے بعد وہ فرانس سے امریکہ منتقل ہو گئیں۔ سسی بھٹو بھی اپنی والدہ کے ساتھ امریکہ میں رہنے لگیں۔

    دمشق میں قیام کے دوران میر مرتضیٰ بھٹو نے غنویٰ بھٹو سے شادی کی۔ فاطمہ بھٹو کی پرورش میر مرتضیٰ بھٹو اور غنویٰ بھٹو نے مل کر کی۔ بعد میں غنویٰ بھٹو کے ہاں ان کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی پیدائش ہوئی۔

    نومبر 1993 میں میر مرتضیٰ بھٹو لاڑکانہ سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے، جس کے بعد ان کی جلاوطنی ختم ہوئی اور وہ پاکستان واپس آ گئے۔

    تاہم بھٹو خاندان کی مشکلات ختم نہ ہو سکیں۔ 20 ستمبر 1996 کو، جب بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھیں، میر مرتضیٰ بھٹو کراچی میں اپنی رہائش گاہ 70 کلفٹن کے باہر اپنے ساتھیوں سمیت پولیس فائرنگ میں ہلاک ہو گئے۔

    میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے مقدمے میں کسی کو سزا نہ مل سکی۔ بعد میں 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو بھی راولپنڈی میں ایک حملے میں جاں بحق ہو گئیں، جبکہ ان کے قتل کے مقدمے میں بھی کوئی حتمی سزا نہیں ہو سکی۔

    پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کیس میں نامزد بعض پولیس افسران کو ترقیاں دی گئیں۔

    فاطمہ بھٹو اور سسی بھٹو کے درمیان قریبی تعلقات رہے ہیں۔ جب بھی سسی بھٹو پاکستان آتیں تو وہ عموماً غنویٰ بھٹو، فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے ساتھ 70 کلفٹن میں قیام کرتیں اور اکثر ایک ساتھ نظر آتیں۔

    اس بار پاکستان آمد پر پہلی مرتبہ سسی بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے بجائے آصفہ بھٹو زرداری کی مہمان بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایئرپورٹ پر ان کا استقبال فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے بجائے آصفہ بھٹو زرداری نے کیا۔

    سسی بھٹو کے اس بدلے ہوئے رویے کے بارے میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ سسی بھٹو نے مئی 2024 میں ایک ٹویٹ کیا تھا: ‘میں اس وقت کراچی میں نہیں ہوں، اور میری دلی خواہش ہے کہ میں وہاں ہوتی تاکہ آپ میں سے بہت سے لوگوں سے مل سکتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 71 کلفٹن، جو میرے والد کا گھر تھا، میری زمین سمیت مجھ سے ناانصافی کے ساتھ چھین لیا گیا ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ میں جلد واپس آؤں گی۔’

    71 کلفٹن والے بنگلے کی دیکھ بھال فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کرتے ہیں۔

    بھٹو خاندان کے درمیان جائیدادوں پر تنازع ایک طویل عرصے سے جاری ہے، جس کا تعلق ذوالفقار علی بھٹو کی چھوڑی گئی کوٹھیوں، زرعی زمینوں اور دیگر اثاثوں کی قانونی تقسیم سے ہے۔

    اس تنازع کا آغاز شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی چھوٹی بہن صنم بھٹو کی جانب سے اپنی بھابھی غنویٰ بھٹو کے خلاف اپنے والد کی زمینوں اور اثاثوں کی قانونی تقسیم کے لیے دائر کیے گئے مقدمات سے ہوا، جنہیں بعد میں سرکاری طور پر زمینوں کی حد بندی (ڈیمارکیشن) اور تقسیم کے ذریعے حل کیا گیا۔

    صنم بھٹو کی جانب سے دائر کی گئی قانونی درخواست کے مطابق، سال 2000 میں انہوں نے کراچی کی ایک عدالت میں اپنے والد کے اثاثوں کو تمام قانونی ورثا میں تقسیم کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا، جس میں ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو، بہن بے نظیر بھٹو، اور ان کے شہید بھائیوں میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے بچوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

    متنازع جائیدادوں میں ضلع لاڑکانہ میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین، المرتضیٰ ہاؤس، 70 کلفٹن، 71 کلفٹن، نوڈیرو میں چاول کی ایک فیکٹری، رتوڈیرو میں ایک پیٹرول پمپ اور دیگر جائیدادیں شامل ہیں۔

    صنم بھٹو نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کوئی وصیت چھوڑ کر نہیں گئے تھے، اس لیے جائیداد اور دیگر اثاثے اسلامی قانون کے مطابق تمام قانونی ورثا میں تقسیم کیے جائیں۔

    اپنے مرحوم والد ذوالفقار علی بھٹو کی جائیداد کی تقسیم سے متعلق پیدا ہونے والے تنازع کو حل کرنے کے لیے صنم بھٹو نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کی لبنانی نژاد بیوہ غنویٰ بھٹو نے ان جائیدادوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

    ان جائیدادوں میں ذوالفقار علی بھٹو کے تین گھر، المرتضیٰ ہاؤس، 70 کلفٹن اور 71 کلفٹن، ایک نجی لائبریری، کئی قیمتی نوادرات اور زرعی زمین شامل ہیں۔

    1996 میں میر مرتضیٰ بھٹو کی ہلاکت کے بعد یہ اثاثے ان کی بیوہ غنویٰ بھٹو کے پاس رہے۔

    16 اپریل 2000 کو لاڑکانہ کے ریونیو حکام نے نوڈیرو کے قریب عزت واندھ گاؤں کی دیہہ بھٹا اور دیہہ پنجو میں 2,524 ایکڑ زمین کی حد بندی کرکے اس کی تقسیم کی۔

    یہ کارروائی ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی صنم بھٹو کی درخواست اور ان کی موجودگی میں کی گئی، جس کا مقصد صنم بھٹو اور ان کی بھابھی غنویٰ بھٹو کے درمیان جاری زمین کے تنازع کو حل کرنا تھا۔

    صنم بھٹو سخت سکیورٹی میں بھٹو اسٹیٹ پہنچیں۔ اس موقع پر لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آفیسر (ڈی سی او) محمد جعفر عباسی، خورشید جونیجو اور ڈاکٹر شفقت سومرو بھی ان کے ساتھ تھے۔ ریونیو اور سروے افسران اور اسٹیٹ مینیجر نے انہیں چارٹس اور نقشوں کی مدد سے زمین اور اس کی تقسیم کے بارے میں بریفنگ دی۔

    یہ زمین صنم بھٹو اور ان کی بھابھی غنویٰ بھٹو کے درمیان ایک پرانے تنازع کا سبب تھی۔

    ریونیو حکام نے زمین پر حد بندی والے مقامات پر سرخ جھنڈے نصب کیے۔ بھٹو خاندان کے پانچ ارکان میں زمین کا حصہ اس طرح تقسیم کیا گیا:

    1۔ بیگم نصرت بھٹو: 584 ایکڑ

    2۔ میر مرتضیٰ بھٹو: 720 ایکڑ

    3۔ بے نظیر بھٹو: 425 ایکڑ

    4۔ صنم بھٹو: 425 ایکڑ

    5۔ شاہنواز بھٹو کی بیٹی سسی بھٹو: 370 ایکڑ

    رتوڈیرو کے اسسٹنٹ کمشنر پہلے ہی زمین کی تقسیم کر چکے تھے، اس روز صرف اس کی حد بندی کی گئی۔

    جب زمین کی حد بندی کی جا رہی تھی تو غنویٰ بھٹو کے ملازمین مجنون ناریجو، عنایت بھٹو، اختر میرانی اور نظام کوہڑ نے فاطمہ بھٹو کی جانب سے رتوڈیرو کے مختیارکار کو ایک درخواست پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن افسر نے وہ درخواست وصول نہیں کی۔

    فاطمہ بھٹو کا مؤقف تھا کہ زمین کی حد بندی صرف تمام اسٹیک ہولڈرز (حصہ داروں) کی موجودگی میں ہونی چاہیے۔

    ملازمین نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں کچھ وقت کے لیے حراست میں رکھا اور زمین سے تین ٹریکٹر اور دیگر زرعی سامان بھی لے گئی۔

    زمین کی حد بندی کے بعد صنم بھٹو نے زمین کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور عملے کو ہدایت کی کہ وہ زمین کا قبضہ سنبھالیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اسٹیٹ کے چاروں طرف پولیس کی چار چوکیاں قائم کی گئی تھیں۔

    اس سے پہلے صنم بھٹو نے نوڈیرو ہاؤس میں بے نظیر بھٹو صاحبہ کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری، اسٹیٹ مینیجر اور عملے سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاض پھلپوٹو کو اسٹیٹ مینیجر کے طور پر برقرار رکھا جائے گا۔ وہ نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو اور صنم بھٹو کے حصوں کی دیکھ بھال کریں گے۔

    ریاض پھلپوٹو سے پہلے کراچی کے موجودہ ایڈیشنل آئی جی پولیس آزاد خان کے والد عبدالقیوم پٹھان اور مرحوم نظر محمد لغاری بھٹو خاندان کے اسٹیٹ مینیجر تھے۔ ریاض پھلپوٹو چونکہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے پرانے اور قابل اعتماد اسٹیٹ مینیجر تھے، اس لیے انہیں اندر کے کئی رازوں کا علم تھا۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی شہادت کے بعد صدر آصف علی زرداری نے بھٹو خاندان کے تقریباً تمام پرانے ملازمین کو، سوائے چند اپنے کام کے لوگوں کے، فارغ کر دیا۔ اسی کے ساتھ صدر آصف علی زرداری نے بھٹو خاندان کے پرانے اسٹیٹ مینیجر ریاض پھلپوٹو کو بھی ہٹا کر ان کی جگہ اپنے زرداری افراد تعینات کر دیے۔

    باقی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی اہلیہ شیرین امیر بیگم نے اپنے والد سے وراثت میں ملنے والا نوڈیرو کا بنگلہ اور زمینیں اپنی زندگی ہی میں بے نظیر بھٹو صاحبہ کے نام کر دی تھیں۔

    اب سسی بھٹو کی دوبارہ پاکستان آمد اور آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے ان کے استقبال اور میزبانی سے لگتا ہے کہ سسی بھٹو اپنی جائیداد کے حصول کے لیے صدر آصف علی زرداری کی مدد حاصل کریں گی، اور ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار جونیئر کے لیے جائیداد کے معاملے پر مسائل پیدا ہوں۔

    جبکہ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اپنے والد شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی قائم کردہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کو سیاسی طور پر آگے بڑھانے کے بجائے ایک نئی تنظیم کے قیام پر غور کر رہے ہیں۔ اس نکتے پر بھی شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھیوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ نئی تنظیم قائم کرنے کے بجائے شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے چھوڑے ہوئے سیاسی ورثے، یعنی پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو، کو منظم کیا جائے۔

    جبکہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو کافی عرصے سے سرگرم نہیں ہیں اور وہ لبنان میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ سسی بھٹو کے پاکستان آنے کا نیا مشن کیا ہے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

  • پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 20 سے تجاوز کر گئی، بے روزگار افراد 59 لاک: اکنامک سروے

    پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 20 سے تجاوز کر گئی، بے روزگار افراد 59 لاک: اکنامک سروے

    پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک کی آبادی بڑھ کر 25 کروڑ 20 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ آبادی میں سالانہ اضافہ 2.07 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    سروے کے مطابق ایک طرف آبادی میں تیز رفتار اضافہ حکومت کے لیے تعلیم، صحت، رہائش، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا بڑا چیلنج بن رہا ہے، تو دوسری جانب نوجوانوں کی بڑی تعداد پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے ایک نادر موقع بھی فراہم کر رہی ہے، بشرطیکہ انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔

    سالانہ بجٹ سے ایک دن پہلے، 11 جون کو جاری کیے گئے قومی اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی میں 12 کروڑ 96 لاکھ مرد جبکہ 12 کروڑ 24 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ ملک کی 66 فیصد سے زیادہ آبادی کی عمر 30 برس سے کم ہے، جبکہ تقریباً 26.6 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

    اسی طرح 56 اعشاریہ نو فیصد آبادی کام کرنے کی عمر یعنی 15 سے 64 سال کے درمیان ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہی نوجوان آبادی پاکستان کے لیے ‘ڈیموگرافک ڈویڈنڈ’ حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔

    سروے میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 15 لاکھ تھی جو 2025 میں بڑھ کر 25 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ پنجاب بدستور سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے جہاں آبادی 13 کروڑ 33 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی۔ سندھ کی آبادی 5 کروڑ 82 لاکھ 70 ہزار، خیبر پختونخوا کی 4 کروڑ 26 لاکھ 80 ہزار جبکہ بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ 52 لاکھ 10 ہزار ہو گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 14 سال کی عمر کے بچوں کا تناسب تقریباً 39.5 فیصد ہے، جبکہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد صرف 3.65 فیصد ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی نوجوان تعلیم یافتہ، ہنرمند اور روزگار یافتہ بن جائیں تو ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے، لیکن اگر انہیں مواقع نہ ملے تو یہی آبادی معاشی اور سماجی دباؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

    اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو کاروبار اور ہنر کی تربیت دینے کے لیے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم اور وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام جیسے منصوبوں پر عمل کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو خود روزگار اور جدید مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی لیبر مارکیٹ میں بھی نمایاں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق کام کرنے کی عمر کی آبادی بڑھ کر 17 کروڑ 96 لاکھ ہو گئی ہے، جو چند برس قبل 15 کروڑ 98 لاکھ تھی۔ اسی دوران لیبر فورس کی تعداد بھی بڑھ کر 8 کروڑ 31 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ملازمت کرنے والے افراد کی تعداد 6 کروڑ 72 لاکھ 50 ہزار سے بڑھ کر 7 کروڑ 72 لاکھ ہو گئی ہے۔

    اگرچہ ملازمتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، تاہم بے روزگاری میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سروے کے مطابق بے روزگار افراد کی تعداد 45 لاکھ 10 ہزار سے بڑھ کر 59 لاکھ ہو گئی جبکہ بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، مگر بڑھتی ہوئی آبادی اور لیبر فورس کے مقابلے میں ان کی رفتار اب بھی ناکافی ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق لیبر فورس میں شمولیت کی شرح بھی بہتر ہوئی ہے، جو 44.9 فیصد سے بڑھ کر 46.3 فیصد ہو گئی۔ اس میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں مختلف شعبوں میں روزگار کی صورتحال کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ زراعت اب بھی سب سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے، تاہم اس میں ملازمتوں کا حصہ 37.4 فیصد سے کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس تھوک اور پرچون تجارت، تعمیرات، ٹرانسپورٹ، مواصلات اور سماجی خدمات کے شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھے ہیں، جو معیشت میں بتدریج تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    تعمیرات کے شعبے میں روزگار کا حصہ 9.5 فیصد سے بڑھ کر 9.9 فیصد جبکہ ہولسیل اور رٹیل تجارت میں 14.5 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد ہو گیا۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ اور مواصلات میں روزگار کا حصہ 6.2 فیصد سے بڑھ کر 6.6 فیصد جبکہ سماجی اور ذاتی خدمات کے شعبے میں 16 فیصد سے بڑھ کر 17.9 فیصد ہو گیا۔

    اس کے برعکس مینوفیکچرنگ کا حصہ تقریباً جمود کا شکار رہا اور معمولی کمی کے ساتھ 14.8 فیصد پر آ گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعتی شعبہ اب بھی مطلوبہ رفتار سے نئی ملازمتیں پیدا نہیں کر پا رہا۔

    اقتصادی سروے کے مطابق حکومت نے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کو ترجیح دی ہے۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعتی شعبوں، جدید ٹیکنالوجی، تعمیرات، خدمات اور دیگر شعبوں میں تربیت دی جا رہی ہے۔

    وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں میں 77 ہزار سے زائد نوجوانوں کی تربیت جاری ہے جبکہ آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، بیرون ملک روزگار، مدرسہ طلبہ، ضم شدہ اضلاع اور دیگر شعبوں کے لیے بھی خصوصی پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق فنی تعلیم کے اداروں میں اصلاحات بھی جاری ہیں۔ ملک بھر میں 1,503 تربیتی اداروں کی رجسٹریشن کی گئی جبکہ 1,600 قومی سطح کے اسیسرز کو لائسنس جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ 70 نئے تعلیمی نصاب اور مہارتوں کے معیار تیار کیے گئے ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ڈیٹا انجینئرنگ جیسے شعبوں میں نئے ڈپلومہ پروگرام بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق مہارت حاصل کر سکیں۔

    اقتصادی سروے میں آبادی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومتوں کی خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مانع حمل سہولتوں کی فراہمی، طبی عملے کی تربیت، ڈیجیٹل نظام، آگاہی مہمات اور دور دراز علاقوں تک خدمات کی فراہمی کے اقدامات جاری ہیں تاکہ آبادی میں اضافے کی رفتار کو متوازن رکھا جا سکے۔

    حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ اس آبادی کو تعلیم، صحت، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر نوجوانوں کی بڑی تعداد کو پیداواری صلاحیتوں سے آراستہ کر دیا جائے تو یہی آبادی پاکستان کی معیشت کے لیے سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اگر روزگار کے مواقع میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سماجی دباؤ مستقبل میں مزید سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

  • پاکستان میں تعلیم کا بحران برقرار، ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے: رپورٹ

    پاکستان میں تعلیم کا بحران برقرار، ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے: رپورٹ

    پاکستان میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ملک میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔

    ایک نئی پالیسی جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تعلیم کے شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ نئی پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمزور طرز حکمرانی، ناکافی مالی وسائل، ناقص انتظامی ڈھانچہ، درست اعداد و شمار کی عدم دستیابی اور صوبوں کے درمیان نمایاں تفاوت نے لاکھوں بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا ہوا ہے۔

    یہ جامع تقابلی جائزہ رپورٹ سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) نے تیار کی ہے، جس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے تعلیمی نظام کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت پانچ سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق حاصل ہے، جبکہ وفاق اور تمام صوبوں نے نیشنل ایجوکیشن ایکشن پلان 2026 کے تحت مختلف منصوبے بھی تیار کیے ہیں۔

    اس کے باوجود عملی نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ اگر حکمرانی، احتساب اور مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو قومی تعلیمی ایمرجنسی صرف ایک علامتی اعلان بن کر رہ جائے گی۔

    رپورٹ میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بحران کئی دہائیوں سے جاری غفلت کا نتیجہ ہے۔

    تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غربت، کمزور سرکاری ادارے اور تعلیم پر مسلسل کم سرمایہ کاری نے ہر گزرتے سال کے ساتھ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ریاستی تعلیمی نظام آبادی میں اضافے کے مطابق ترقی نہیں کر سکا، جس کے نتیجے میں نجی اسکولوں کا دائرہ تو وسیع ہوا، مگر غریب اور پسماندہ طبقات کے بچوں کی تعلیمی محرومی برقرار رہی۔

    رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صوبے میں ایسے بچوں کی تعداد 96 لاکھ سے ایک کروڑ چار لاکھ کے درمیان ہے۔

    پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026 کی بنیادی رپورٹ کے مطابق 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول میں داخلہ ہی نہیں لیا، جبکہ 31 لاکھ 60 ہزار بچے داخلہ لینے کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف داخلہ دلانا کافی نہیں بلکہ بچوں کو اسکول میں برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

    پنجاب میں اگرچہ ڈیجیٹل نگرانی کے نظام، انتظامی اصلاحات اور سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، لیکن شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق اب بھی نمایاں ہے۔

    دیہی پنجاب میں 24 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 14 فیصد ہے۔

    جنوبی پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ خطہ قرار دیا گیا ہے، جہاں راجن پور میں 48 فیصد، ڈیرہ غازی خان میں 46 فیصد اور مظفر گڑھ میں 45 فیصد بچے اسکول نہیں جا رہے۔

    رپورٹ کے مطابق صوبے کو مڈل اور سیکنڈری سطح پر کم از کم 35 ہزار نئے کلاس رومز کی ضرورت ہے، جبکہ غربت، گھریلو مالی مشکلات اور چائلڈ لیبر بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔

    رپورٹ میں سندھ کی صورتحال کو دیگر صوبوں سے مختلف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق سندھ میں بنیادی مسئلہ بچوں کا ابتدائی داخلہ نہیں بلکہ پرائمری تعلیم کے بعد ان کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔

    صوبے میں تقریباً 74 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں 41 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد سندھ کی اسکول جانے کی عمر کی آبادی کا تقریباً 44 فیصد بنتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سندھ میں 36 ہزار سے زائد پرائمری اسکول موجود ہیں، لیکن مڈل اسکولوں کی تعداد صرف 2 ہزار 634 اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد ایک ہزار 674 ہے۔ اسی وجہ سے پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد تقریباً 54 فیصد بچے مزید تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 اور 2024 کے سیلاب نے بھی ہزاروں سرکاری اسکولوں کو نقصان پہنچایا، جس سے پہلے سے موجود تعلیمی مسائل مزید سنگین ہو گئے۔ اس کے علاوہ غربت، چائلڈ لیبر، جاگیردارانہ نظام اور صنفی امتیاز بھی خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو ملک بھر کے ایسے بچوں کا تقریباً 19 فیصد بنتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق دشوار گزار پہاڑی علاقے، سکیورٹی مسائل، انتظامی پیچیدگیاں اور بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں خواتین اساتذہ کی شدید کمی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بالائی کوہستان، تورغر اور باجوڑ جیسے اضلاع میں لڑکیوں کے اسکولوں اور خواتین اساتذہ کی کمی کے باعث والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں سماجی روایات بھی لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

    بلوچستان کو رپورٹ میں تعلیمی لحاظ سے سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ 2023 میں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 69 فیصد تھی جو 2025 میں کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی، تاہم صوبے میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی اب بھی برقرار ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے کئی علاقوں میں بچوں کو پرائمری اسکول تک پہنچنے کے لیے اوسطاً 30 کلومیٹر جبکہ سیکنڈری اسکول تک جانے کے لیے 360 کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے 15 ہزار 270 اسکولوں میں سے 3 ہزار 617 غیر فعال یا گھوسٹ اسکول ہیں۔ فعال اسکولوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔

    تقریباً 79 فیصد اسکولوں میں بجلی نہیں، 56 فیصد میں بیت الخلا موجود نہیں اور 49 فیصد میں چار دیواری تک نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں اسکول سے باہر بچوں میں 78 فیصد لڑکیاں ہیں، جو صنفی عدم مساوات کی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔

    رپورٹ میں اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں شہری علاقوں میں داخلے کی شرح 85 فیصد ہے، لیکن دیہی علاقوں میں یہ کم ہو کر 62 فیصد رہ جاتی ہے، جبکہ دارالحکومت کی 60 سے زیادہ غیر رسمی آبادیوں کو سرکاری تعلیمی منصوبہ بندی میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں 42 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں تقریباً نصف بچے پرائمری تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں ماؤں کی ناخواندگی اور دور افتادہ جغرافیائی حالات اہم رکاوٹیں ہیں۔

    رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تمام صوبوں میں ایک مشترکہ مسئلہ تعلیم پر کم سرکاری سرمایہ کاری ہے۔ سندھ اپنے تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ کرتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 81 فیصد ہے۔

    دوسری جانب پنجاب نے اسکولوں کی بہتری کے لیے 100 ارب روپے کے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے اور شراکت داری پر مبنی تعلیمی منصوبوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

    تاہم مجموعی طور پر پاکستان میں تعلیم پر ہونے والے اخراجات عالمی معیار سے کہیں کم ہیں، جس کی وجہ سے آبادی میں اضافے اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق تعلیمی سہولیات فراہم نہیں ہو پا رہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اب مسئلہ تشخیص کا نہیں بلکہ ان حل پر عمل درآمد کا ہے جن کی نشاندہی برسوں پہلے ہو چکی ہے۔

    اس مقصد کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ نادرا کے ب فارم سے منسلک ایک متحدہ قومی طلبہ رجسٹری قائم کی جائے تاکہ ملک بھر میں داخلوں، حاضری اور تعلیم چھوڑنے والے بچوں کا حقیقی وقت میں ریکارڈ رکھا جا سکے۔

    رپورٹ کے مطابق قابل اعتماد قومی ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں بچے سرکاری نظام کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور صوبے پرانے مردم شماری کے اعداد و شمار یا نامکمل ریکارڈ پر انحصار کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے نظام کو آپس میں مربوط کیا جائے، تیز رفتار تعلیمی پروگراموں کو قانونی حیثیت دی جائے تاکہ تعلیم سے محروم بچے دوبارہ اسکولوں میں داخل ہو سکیں، جبکہ گنجان آباد علاقوں میں دو شفٹوں میں اسکول چلانے کا نظام بھی متعارف کرایا جائے۔

    اس کے علاوہ ملک بھر میں اسکول سے باہر بچوں کا نیا سروے کرانے، خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو عام تعلیمی نظام میں شامل کرنے اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو کم از کم پانچ بچوں کو دوبارہ اسکول لانے کی قومی مہم میں شریک کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اگر ان سفارشات پر مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو لاکھوں بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رہنے سے بچایا جا سکتا ہے۔

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہفتے میں 5,800 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہفتے میں 5,800 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے نمایاں تیزی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں واضح اضافہ ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہفتے کے دوران 5 ہزار 800 سے زائد پوائنٹس بڑھ کر ایک لاکھ 85 ہزار 372 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 3.2 فیصد اضافہ ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس بہتری کی بڑی وجوہات عالمی سیاسی کشیدگی میں کمی، خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ، توقعات سے کم مہنگائی اور شرح سود میں مزید کمی کی امیدیں ہیں۔

    آبا علی حبیب سیکیورٹیز کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں نیچے آئیں، جس کے مثبت اثرات پاکستان کی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ پر بھی پڑے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں جون کے دوران مہنگائی کی شرح مارکیٹ کی توقعات سے کم رہی، جس سے سرمایہ کاروں میں اعتماد بڑھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ہفتے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی میں منافع کی شرح بھی کم ہوئی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ آئندہ مہینوں میں شرح سود مزید کم ہو سکتی ہے۔ اسی امید نے بینکنگ، ٹیکنالوجی، پاور اور دیگر شعبوں کے حصص میں خریداری کو فروغ دیا۔

    اعداد و شمار کے مطابق حجم کے لحاظ سے ٹیکنالوجی کا شعبہ سب سے زیادہ سرگرم رہا، جبکہ بینکنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، سرمایہ کاری کمپنیوں اور بجلی کے شعبے میں بھی نمایاں کاروبار ہوا۔ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باعث مجموعی مارکیٹ مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے اس ہفتے کئی بڑی عالمی منڈیوں سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ پاکستان میں 3.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 3 فیصد، امریکی ڈاؤ جونز 2 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس تقریباً 1.7 فیصد بڑھا۔

    اقتصادی اشاریوں کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں تقریباً 611 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ اس بہتری کی وجہ کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے حاصل ہونے والی رقوم کو قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ تاہم دوسری جانب مالی سال کے دوران تجارتی خسارہ 21.57 فیصد بڑھ کر 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، کیونکہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔

    توانائی کے شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سالانہ بنیاد پر 20 فیصد کم رہی۔ اس کی وجہ ایندھن کی بلند قیمتیں، طلب میں کمی اور سرحدی اسمگلنگ کو قرار دیا گیا۔ اسی طرح جولائی سے مئی کے دوران پاکستان نے 1 کروڑ 60 لاکھ ٹن سے زائد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔

    رپورٹ کے مطابق گردشی قرضے میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق بجلی کے شعبے کا گردشی قرض ایک سال میں تقریباً 780 ارب روپے کم ہو کر 1.614 کھرب روپے رہ گیا، جو توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

    اجناس کی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 71.8 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل تقریباً 68.7 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ مقامی سطح پر بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مہنگائی پر دباؤ کم ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے سرمایہ کاروں کی توجہ کمپنیوں کے دوسری سہ ماہی مالی نتائج، ٹی بلز کی آئندہ نیلامی اور عالمی سیاسی صورتحال پر مرکوز رہے گی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں نرمی کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

  • ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ: پاکستان میں ترقیاتی منصوبے بدعنوانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے خطرات سے دوچار

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ: پاکستان میں ترقیاتی منصوبے بدعنوانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے خطرات سے دوچار

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے پروجیکٹس کی منصوبہ بندی، منظوری، ٹھیکوں کی تقسیم اور عمل درآمد کے مراحل مختلف انتظامی کمزوریوں اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث بدعنوانی کے خطرات سے دوچار ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ملک میں قوانین اور ضابطے تو موجود ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے عوامی سرمایہ کاری کے نتائج متاثر ہو رہے ہیں۔

    ’انفراسٹرکچر کرپشن رسک اسیسمنٹ‘کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں کے نظام کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں پاکستان کو انفراسٹرکچر گورننس کے حوالے سے 10 میں سے 6.34 کا رسک اسکور دیا گیا ہے، جسے ’زیادہ خطرے‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس درجہ بندی کا مطلب ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی، منظوری، خریداری اور ٹھیکوں کے مراحل میں انتظامی کمزوریاں موجود ہیں جو بدعنوانی یا غیر ضروری اثر و رسوخ کے امکانات کو بڑھا سکتی ہیں۔

    مطالعے کے مطابق پاکستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ کمزور مالی گنجائش ہے۔ بار بار پیش آنے والے مالیاتی بحران، قرضوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ نے ترقیاتی اخراجات کے لیے دستیاب وسائل کو محدود کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) جو ماضی میں حکومتی سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ تھا، اب مالی دباؤ کی وجہ سے سکڑ چکا ہے۔

    مجموعی عوامی سرمایہ کاری جو مالی سال 2018-17 میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 4.9 فیصد کے برابر تھی، حالیہ برسوں میں کم ہو کر تقریباً 2.6 فیصد رہ گئی ہے۔ دوسری جانب قرضوں کی ادائیگی وفاقی اخراجات کا تقریباً نصف حصہ کھا جاتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عوامی مالیاتی انتظام کے لیے آئینی اور قانونی ڈھانچہ موجود ہے، تاہم عملی صورت حال مختلف ہے۔ مالی ذمہ داری اور قرضوں کی حد سے متعلق قانون کے تحت عوامی قرضوں کی ایک حد مقرر کی گئی تھی، لیکن ملک کا قرضہ کئی برسوں سے اس قانونی حد سے تجاوز کر رہا ہے۔

    اسی طرح آڈٹ ادارے بے ضابطگیوں کی نشاندہی تو کرتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کارروائی میں تاخیر اور کمزور احتساب کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور جانچ پڑتال کے نظام میں بھی خامیاں موجود ہیں۔ اصولی طور پر ہر منصوبے کو ابتدائی تصوراتی نوٹ، فنی و مالیاتی جانچ اور مختلف منظوری کے مراحل سے گزرنا چاہیے، مگر عملی طور پر کئی وزارتیں اور محکمے ابتدائی مراحل کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست منصوبے منظوری کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔

    اس عمل سے منصوبوں کی معروضی جانچ کمزور پڑ جاتی ہے اور غیر ضروری یا کم ترجیحی منصوبوں کے شامل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

    مطالعے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں خریداری اور ٹھیکوں کی تقسیم کے قوانین بین الاقوامی معیار کے مطابق شفافیت اور مسابقت کے اصولوں پر مبنی ہیں، تاہم وقت کے ساتھ بعض قانونی تبدیلیوں نے ان اصولوں کو کمزور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض حالات میں سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کی گنجائش موجود ہے، جس سے کھلے مقابلے کے اصول متاثر ہوتے ہیں۔

    رپورٹ میں الیکٹرانک پروکیورمنٹ سسٹم (ای پی اے ڈی ایس) کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد سرکاری خریداری کے عمل کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس نظام کا نفاذ تمام اداروں میں یکساں نہیں ہے اور بعض سرکاری ادارے اب بھی اپنے الگ نظام استعمال کر رہے ہیں، جس سے معلومات کے یکجا ہونے اور مؤثر نگرانی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق انفراسٹرکچر گورننس کا بنیادی مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد میں موجود خلا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبوں کی ترجیحات کے تعین، وسائل کی تقسیم، نگرانی اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے): ایک کیس اسٹڈی

    رپورٹ میں خاص طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو بطور نمونہ ادارہ منتخب کرکے ہائی ویز پروجیکٹس کی منصوبہ بندی اور انتظامی نظام کا تجزیہ کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چند دہائیوں میں سڑکوں، توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اس کے باوجود یہ سرمایہ کاری عوام کی زندگیوں میں مطلوبہ معاشی اور سماجی بہتری لانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس صورت حال نے ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، کارکردگی اور مؤثریت کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔

    ادارہ جاتی سطح پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں 2024 کے دوران متعارف کرائی گئی اصلاحات بہتر طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہیں۔

    ایک خودمختار نیشنل ہائی وے کونسل کے قیام، پیشہ ور بورڈ کو جوابدہ چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کی تقرری اور اصلاحاتی عمل کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹرانسفارمیشن یونٹ کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارے میں اصلاحات لانے کی کوشش ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ان اصلاحات پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے تو انفراسٹرکچر کے شعبے میں حکمرانی کے معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

    تاہم جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان اصلاحات پر عمل درآمد ابھی مکمل نہیں ہو سکا اور یہ عمل سیاسی مداخلت اور اختلافات سے بھی متاثر ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے کونسل میں ابتدائی تقرریاں سرکاری اداروں کے قانون (ایس او ای ایکٹ) میں مقرر کردہ اہلیت کے معیار کے مطابق نہیں تھیں۔ اسی طرح بورڈ آف ڈائریکٹرز اب بھی زیادہ تر رسمی منظوری دینے والے ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ منصوبوں کی لاگت میں مسلسل اضافے کے حوالے سے جوابدہی کا نظام بھی واضح نہیں ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر این ایچ اے میں فیصلے اب بھی قواعد و ضوابط اور کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت اور اثر و رسوخ کے تحت کیے جاتے ہیں۔ جائزے میں مزید کہا گیا ہے کہ مختلف مفاداتی گروہوں کا اثر بہت زیادہ ہے، عوامی مشاورت زیادہ تر رسمی کارروائی تک محدود ہے، جبکہ منصوبوں کی ترجیحات کے تعین اور ٹھیکوں کی تقسیم کے عمل پر بیرونی سیاسی اثر و رسوخ بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس جائزے کا مقصد کسی مخصوص منصوبے میں بدعنوانی ثابت کرنا نہیں بلکہ ایسے انتظامی اور پالیسی عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جو بدعنوانی یا ناقص حکمرانی کے خطرات کو جنم دے سکتے ہیں۔ مطالعے کے لیے دستاویزی تحقیق کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر گورننس سے وابستہ 14 ماہرین اور متعلقہ افراد کے انٹرویوز بھی کیے گئے۔

    سرکاری اداروں کے لیے تجاویز

    رپورٹ کے اختتام پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پارلیمانی اداروں اور متعلقہ محکموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب، جانچ، خریداری اور نگرانی کے مراحل میں شفافیت، مسابقت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ عوامی سرمایہ ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور ترقیاتی منصوبے واقعی عوامی فلاح اور معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکیں۔

    رپورٹ کے مطابق سب سے پہلے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل پانچ سالہ سرمایہ کاری حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں ترجیحات، مالی وسائل اور متوقع نتائج واضح طور پر بیان کیے جائیں۔ جاری منصوبوں کے لیے کئی سالہ مالی وعدوں کو تحفظ دیا جائے تاکہ فنڈز کی کمی کے باعث تاخیر اور لاگت میں اضافے سے بچا جا سکے۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ہر منصوبہ مرحلہ وار جانچ کے عمل سے گزرے۔ منصوبے کے ابتدائی تصور، فنی و مالیاتی جانچ اور حتمی منظوری کے تمام مراحل پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ بڑے منصوبوں کی آزادانہ جانچ پڑتال کی جائے اور ان کی فزیبلٹی رپورٹس عوام کے لیے دستیاب ہوں۔ منصوبوں کی تکمیل کے بعد مکمل رپورٹ شائع کرنا بھی لازمی قرار دیا جائے۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب کے لیے واضح اور عوامی معیار مقرر کیے جائیں تاکہ سیاسی اثر و رسوخ کے بجائے قومی ضرورت، معاشی فائدے اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جا سکے۔ اسی طرح سرکاری خریداری کے نظام میں مسابقت اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کے عمل کو محدود کیا جائے اور تمام اداروں کو یکساں خریداری قوانین کا پابند بنایا جائے۔

    رپورٹ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت دیگر سرکاری اداروں کی مالی اور انتظامی معلومات عوام کے سامنے لانے، منصوبوں کے اخراجات اور معاہدوں کی تفصیلات شائع کرنے اور پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے افراد کے تحفظ کے لیے وسل بلوئر قانون نافذ کرنے اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق قواعد کو سخت بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تیاری کے مرحلے میں مقامی آبادی، خواتین اور کمزور طبقات کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبے عوامی ضروریات کے مطابق ہوں اور ان پر اعتماد میں اضافہ ہو۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے انفراسٹرکچر منصوبوں میں بدعنوانی کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

  • ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی: کیا پاکستان، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہو سکے گا؟

    ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی: کیا پاکستان، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہو سکے گا؟

    ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ آج پاکستان پہنچ رہے ہیں اور ان کے اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور علاقائی روابط سمیت متعدد اہم موضوعات پر بات چیت متوقع ہے، لیکن ان تمام معاملات میں ایک سوال سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے: کیا تقریباً تین دہائیوں سے تعطل کا شکار پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اب دوبارہ زندگی پا سکے گا؟

    یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان اس وقت شدید توانائی بحران، گیس کی قلت اور مہنگی درآمدی ایل این جی پر انحصار کے دور سے گزر رہا ہے۔ دوسری جانب حالیہ ایران۔امریکہ سفارتی پیش رفت نے بھی خطے میں توانائی کے نئے امکانات کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے۔

    پاکستان میں قدرتی گیس کئی دہائیوں تک توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ رہی۔ گھریلو صارفین، صنعتیں، بجلی گھر، کھاد ساز کارخانے اور سی این جی سیکٹر بڑی حد تک مقامی گیس پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ تاہم سوئی، ماری، قادری اور دیگر بڑے گیس ذخائر سے پیداوار میں مسلسل کمی کے باعث ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    سردیوں میں کئی شہروں خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں گیس کا دباؤ کم ہو جاتا ہے جبکہ صنعتوں کو بھی گیس کی فراہمی محدود کر دی جاتی ہے۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لیے پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے مہنگی ایل این جی درآمد کر رہا ہے، جس پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

    توانائی ماہرین کے مطابق اگر ایران سے پائپ لائن کے ذریعے گیس پاکستان پہنچتی ہے تو یہ ایل این جی کے مقابلے میں نسبتاً کم لاگت والا اور زیادہ مستحکم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    تیس برس کا خواب

    ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی کہانی 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی۔ اس وقت خیال یہ تھا کہ ایران کے وسیع گیس ذخائر سے گیس پاکستان اور پھر بھارت تک پہنچائی جائے۔

    اسی وجہ سے ابتدائی طور پر اس منصوبے کو ایران۔پاکستان۔بھارت یا آئی پی آئی پائپ لائن کہا جاتا تھا۔ منصوبہ خطے میں اقتصادی تعاون کی ایک بڑی مثال سمجھا جاتا تھا اور اسے بعض مبصرین نے "امن کی پائپ لائن” کا نام بھی دیا تھا۔

    تاہم بھارت نے قیمتوں، سکیورٹی خدشات اور سیاسی عوامل کا حوالہ دیتے ہوئے منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یوں یہ منصوبہ صرف ایران اور پاکستان کے درمیان محدود ہو گیا اور بعد میں اسے آئی پی گیس پائپ لائن کہا جانے لگا۔

    پاکستان اور ایران کے درمیان گیس خریداری کا معاہدہ 2010 میں طے پایا۔ اس کے بعد مارچ 2013 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے سرحدی علاقے میں منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔

    اس موقع پر دونوں ممالک نے اسے توانائی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ توقع تھی کہ چند برسوں میں ایرانی گیس پاکستان کے قومی نظام کا حصہ بن جائے گی اور ملک کے توانائی مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔

    لیکن یہ امیدیں جلد ہی مشکلات کی نذر ہو گئیں، کیوں کہ ایران پر امریکہ کی پابندیوں کے باعث پاکستان اپنے علاقے میں پائیپ لائین تعمیر کرنے سے ہچکچاہت کا شکار رہا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ایران نے اپنے حصے کا پائیپ بچھا دیا تھا۔ پاکستان کو خدشہ تھا کہ اگر اس نے منصوبے پر مکمل عملدرآمد کیا تو اسے امریکی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    دوسری طرف عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں نے بھی پابندیوں کے ماحول میں اس منصوبے کی مالی معاونت سے گریز کیا۔ اس وجہ سے پاکستان کو سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے مسائل کا سامنا رہا۔

    اس دوران پاکستان نے قطر سے ایل این جی درآمد کرنے کا راستہ اختیار کیا جبکہ توانائی کی پالیسیوں میں بھی تبدیلیاں آتی رہیں۔ نتیجتاً پائپ لائن منصوبہ پس منظر میں چلا گیا۔

    اس منصوبے کی بنیاد جنوبی پارس گیس فیلڈ پر ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس میں واقع یہ میدان قطر کے ساتھ مشترکہ ذخائر کا حصہ بھی ہے۔

    ایران نے اپنی سرزمین پر تقریباً 1100 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جو صوبہ بوشہر کے علاقے عسلویہ سے شروع ہو کر مختلف صوبوں سے گزرتی ہوئی پاکستان کی سرحد تک پہنچتی ہے۔

    پاکستان میں پائپ لائن کو بلوچستان کے سرحدی مقام گبد سے داخل ہونا تھا۔ وہاں سے یہ گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے گزرتی ہوئی سندھ کے شہر نواب شاہ تک پہنچنی تھی، جہاں پاکستان کا مرکزی گیس ٹرانسمیشن نیٹ ورک موجود ہے۔

    منصوبے کے مطابق پاکستان کے حصے کی لمبائی تقریباً 781 کلومیٹر رکھی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت ایران روزانہ تقریباً 750 ملین کیوبک فٹ گیس پاکستان کو فراہم کرتا۔

    ماہرین کے مطابق یہ مقدار پاکستان کی مجموعی ضروریات کا قابل ذکر حصہ پوری کر سکتی تھی۔ اس گیس کو گھریلو استعمال، صنعتوں، کھاد سازی، سی این جی اسٹیشنوں اور بجلی گھروں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

    کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو جاتا تو آج پاکستان کو گیس لوڈشیڈنگ اور مہنگی ایل

    ایران کا مؤقف اور جرمانے کا خطرہ

    ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ اس نے اپنے حصے کا کام مکمل کر دیا ہے اور اب پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

    معاہدے کے تحت پاکستان کو مخصوص مدت کے اندر اپنا حصہ تعمیر کرنا تھا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے جرمانے اور قانونی کارروائی کی ممکنہ باتیں بھی سامنے آئیں۔

    دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں مذاکرات کیے اور کوئی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جس سے معاہدہ بھی برقرار رہے اور پاکستان بین الاقوامی پابندیوں کے خطرات سے بھی محفوظ رہ سکے۔

    2024 میں نئی پیش رفت

    منصوبے میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مارچ 2024 میں پاکستان نے ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت اپنی سرزمین پر ابتدائی 80 کلومیٹر حصے کی تعمیر کی منظوری دی تو اس معاملے پر امریکہ نے کھل کر مخالفت کا اظہار کیا۔ اس دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا کہ اگر پاکستان ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے پر آگے بڑھتا ہے تو امریکہ کا ردعمل کیا ہوگا۔

    جواب میں میتھیو ملر نے کہا کہ امریکہ اس منصوبے کی حمایت نہیں کرتا اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جو بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرتا ہے، اسے ہماری پابندیوں کے خطرات کو بہت سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔” یہ وہ بیان تھا جسے بعض بین الاقوامی اور پاکستانی میڈیا اداروں نے عام فہم انداز میں "face the music” یعنی "نتائج بھگتنا پڑیں گے” کے مفہوم سے بیان کیا۔

    اس سے چند روز قبل امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو بھی کانگریس کی ایک سماعت میں کہہ چکے تھے کہ ایران سے گیس درآمد کرنے کی صورت میں پاکستان امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب پاکستان ایران کی جانب سے ممکنہ اربوں ڈالر جرمانے سے بچنے کے لیے پائپ لائن کے سرحدی حصے پر تعمیراتی کام شروع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی مخالفت کے باعث یہ منصوبہ ایک بار پھر بین الاقوامی سیاست، توانائی کی ضرورت اور اقتصادی مفادات کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن گیا۔ تاہم منصوبے کا بڑا حصہ اب بھی تعمیر کا منتظر ہے۔

    کیا موجودہ حالات میں منصوبہ ممکن ہے؟

    ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

    پاکستان کو توانائی کی شدید ضرورت ہے۔ مقامی گیس ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جبکہ درآمدی ایل این جی ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ ایسے میں ایران سے زمینی راستے کے ذریعے گیس کی فراہمی ایک پرکشش آپشن سمجھی جاتی ہے۔

    دوسری جانب ایران بھی اپنی توانائی برآمدات بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر پابندیوں کے ماحول میں نرمی آتی ہے یا دونوں ممالک کوئی ایسا طریقہ کار تلاش کر لیتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتا ہو، تو منصوبے کے دوبارہ فعال ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

    تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف سیاسی خواہش کافی نہیں ہوگی۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، بین الاقوامی مالیاتی تعاون، تکنیکی انتظامات اور مضبوط سفارتی حکمت عملی درکار ہوگی۔

    ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن محض ایک توانائی منصوبہ نہیں بلکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اقتصادی، جغرافیائی اور تزویراتی تعاون کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔

    ایرانی صدر کے موجودہ دورے کے دوران اگرچہ کسی بڑی پیش رفت کی توقعات قبل از وقت ہوں گی، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات نے اس منصوبے کو ایک بار پھر قومی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آنے والے برسوں میں بلوچستان کے سرحدی علاقے گبد سے گزرنے والی یہی پائپ لائن پاکستان کے توانائی نقشے کو بدلنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا یہ منصوبہ ماضی کی طرح ایک بار پھر سیاسی اور سفارتی رکاوٹوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔