Tag: پاکستان

  • 15 مئی 1987: جب پاکستان کے ارب پتی صنعتکار کو اغوا کر لیا گیا

    15 مئی 1987: جب پاکستان کے ارب پتی صنعتکار کو اغوا کر لیا گیا

    سیٹھ سلیمان داؤد کا خاندان اصل میں موجودہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر ‘بانٹوا’ (عبدالستار ایدھی کا آبائی گاؤں) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت کراچی میں بانٹوا میمن برادری کا کاروبار پر بڑا اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے سن 1900 میں اپنی کاروباری زندگی کا آغاز ایک چھوٹی دکان سے کیا۔

    انہوں نے اپنے بیٹوں احمد داؤد، صدیق داؤد اور میر محمد داؤد کی ایسی تربیت کی کہ وہ آگے چل کر ہندوستان کے بڑے تاجروں میں شمار ہونے لگے۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے داؤد خاندان نے ٹیکسٹائل تجارت میں بہت نام کمایا تھا۔

    سیٹھ سلیمان داؤد کے بیٹوں میں سیٹھ احمد داؤد سب سے زیادہ بااثر شخصیت تھے۔ انہیں پاکستان میں ‘صنعتکاری کا باپ’ بھی کہا جاتا تھا۔ 1947 میں قائداعظم محمد علی جناح کی اپیل پر سیٹھ احمد داؤد نے اپنا سارا کاروبار ہندوستان سے ختم کرکے پاکستان (کراچی) منتقل کردیا۔

    داؤد خاندان نے کراچی میں پہلی کپڑے کی مل ‘داؤد کاٹن ملز’ قائم کی، جو اس وقت پاکستان کی بڑی ملوں میں شمار ہوتی تھی۔ داؤد گروپ کا کاروبار تیزی سے ترقی کرتا گیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی:

    1۔ داؤد ہرکیولس (Dawood Hercules):
    امریکی کمپنی ہرکیولس کے ساتھ مل کر پاکستان کی پہلی بڑی کیمیائی کھاد (Fertilizer) کمپنی قائم کی۔

    2۔ کاغذ کی صنعت:
    مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں کرنافلی پیپر ملز قائم کی۔

    3۔ پیٹرولیم:
    پاکستان گم (Pakistan Gum) اور پیٹرولیم کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی۔

    4۔ بینکاری اور انشورنس:
    سینٹرل انشورنس کمپنی اور بینکاری کے شعبے میں بھی ان کا بڑا حصہ تھا۔

    1970 کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لیا گیا تو داؤد گروپ کو شدید مالی نقصان پہنچا۔ ان کی کئی اہم ملیں اور کارخانے حکومت کے قبضے میں چلے گئے۔

    سیٹھ احمد داؤد کچھ عرصہ ملک سے باہر رہے، پھر واپس آکر کاروبار کو دوبارہ منظم کیا۔ اس خاندان نے ‘داؤد فاؤنڈیشن’ کے نام سے سماجی و فلاحی ادارہ قائم کیا۔ داؤد خاندان نے صرف دولت ہی نہیں کمائی بلکہ خیرات اور تعلیمی کاموں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

    داؤد فاؤنڈیشن، جو 1960 میں قائم ہوئی، نے پاکستان میں انجینئرنگ کے شعبے میں کراچی کو ‘داؤد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی’ کا بڑا تحفہ دیا، جو بعد میں ‘داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی’ کے نام سے مشہور ہوا۔

    داؤد گروپ کے نام سے کئی اسکول، اسپتال اور لائبریریاں آج بھی کام کر رہی ہیں۔ بعد میں احمد داؤد کے بیٹے حسین داؤد نے اینگرو (Engro) کے ساتھ الحاق کرکے ‘داؤد گروپ آف کمپنیز’ کو مزید وسعت دی۔

    آج یہ خاندان پاکستان کے طاقتور ترین کاروباری گروپوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے کئی صنعتی ادارے اور کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں چند یہ ہیں:

    1۔ داؤد انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ
    2۔ داؤد تکافل
    3۔ داؤد ہرکولیس کیمیکلز
    4۔ داؤد جوٹ ملز
    5۔ داؤد شپنگ کمپنی
    6۔ داؤد پیٹرولیم لمیٹڈ
    7۔ بورے والا ٹیکسٹائل ملز
    8۔ داؤد سینٹرل انشورنس کمپنی
    9۔ داؤد یاماہا لمیٹڈ
    10۔ اسلام آباد آٹو موٹو کمپنی لمیٹڈ
    11۔ بلوچستان انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ
    12۔ الفا انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ
    13۔ گیئر ہابنگ لمیٹڈ
    14۔ ڈائی کاسٹنگ لمیٹڈ
    15۔ اومیگا فارگنگ لمیٹڈ
    16۔ کریسنٹ پاک انڈسٹریز
    17۔ طٰہٰ گارمنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ
    18۔ طٰہٰ ٹیکسٹائل پرائیویٹ لمیٹڈ
    19۔ اِن باکس بزنس پرائیویٹ لمیٹڈ
    20۔ ڈاولینس پاکستان لمیٹڈ
    21۔ ڈیسکان پاکستان
    22۔ حبکو پاور پلانٹ
    23۔ اینگرو کارپوریشن

    سیٹھ سلیمان داؤد کی محنت اور احمد داؤد کے وژن نے ایک ایسی سلطنت قائم کی جو آج بھی ‘داؤد گروپ’ اور ‘اینگرو’ کی صورت میں پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

    15 مئی 1987 کو سیٹھ احمد داؤد کے چھوٹے بھائی سیٹھ احمد سلیمان داؤد ضلع ٹنڈو محمد خان میں اپنے زرعی فارموں سے مرسڈیز کار میں واپس کراچی آرہے تھے کہ بلڑی شاہ کریم کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کرلیا۔

    پاکستان کی بااثر ارب پتی فیملی کے فرد سیٹھ احمد سلیمان داؤد کے اغوا کی خبر ملتے ہی جنرل ضیا الحق کی پوری انتظامی مشینری حرکت میں آگئی۔ داؤد فیملی کے تعلقات نہ صرف جنرل ضیا سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام سے تھے بلکہ عرب حکمرانوں سے بھی ان کی جان پہچان تھی، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومت ان کی بازیابی کے لیے سرگرم ہوگئی۔

    بڑی کوششوں کے بعد کراچی سے آنکھوں کے معروف ڈاکٹر رضوی کو حکومتی اداروں نے اپنی تحویل میں لیا۔ اسی ڈاکٹر کے ذریعے ضلع جامشورو کے کوہستان کے بااثر ملک خاندان کے چند افراد کو بھی ریاستی اداروں نے حراست میں لیا، جن کے ذریعے سیٹھ احمد سلیمان داؤد کو اغوا کرنے والے ڈاکوؤں سے رابطہ قائم ہوا۔

    داؤد فیملی اپنے فرد کی زندہ بازیابی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار تھی۔ آخرکار جامشورو کوہستان کے ملک سرداروں اور کراچی سے گرفتار کیے گئے مشہور ماہرِ چشم ڈاکٹر رضوی کے ذریعے ڈاکوؤں کو تاوان دے کر سیٹھ احمد سلیمان داؤد کو 20 دن بعد بازیاب کرا لیا گیا۔

    سیٹھ احمد سلیمان داؤد کی بازیابی کے بعد پولیس نے اس اغوا میں ڈاکٹر رضوی، کوہستان کے ملکوں کے علاوہ جن ڈاکوؤں کو ملوث ظاہر کیا ان میں سندھ کے بدنام مجرم مٹھو قصائی، غلام نبی سہاگ، لالا علی مراد اور دیگر شامل تھے۔

  • ہرمز بحران: پاکستان سمیت ایشیا میں ایندھن کی قلت، اسکول بند، دکانوں کے اوقات محدود، عالمی ادارے کی نئی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی

    ہرمز بحران: پاکستان سمیت ایشیا میں ایندھن کی قلت، اسکول بند، دکانوں کے اوقات محدود، عالمی ادارے کی نئی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی

    ’دنیا کو 2026 میں تاریخ کے سب سے بڑے توانائی جھٹکوں میں سے ایک کا سامنا ہے، جس نے عالمی معیشت، خوراک، ٹرانسپورٹ اور توانائی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

    یہ دعویٰ انرجی ٹرانزیشن کمیشن (Energy Transitions Commission یا ETC) کی نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز بحران کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے ثابت کردیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار عالمی معیشت کی ایک بڑی کمزوری بن چکا ہے۔

    ’Lessons on Energy Security after the Hormuz Crisis‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث روزانہ تقریباً 18.4 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جو عالمی تیل سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر ہے، جبکہ عالمی ایل این جی تجارت کا تقریباً 20 فیصد بھی متاثر ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اس بحران نے 1973 کے عرب آئل ایمبارگو سے بھی بڑا سپلائی جھٹکا پیدا کیا ہے۔

    انرجی ٹرانزیشن کمیشن ایک عالمی اتحاد ہے جس میں توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی، مالیاتی اداروں اور ماحولیاتی تنظیموں سے وابستہ رہنما شامل ہیں۔ یہ ادارہ دنیا کو 2050 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کی طرف منتقل کرنے سے متعلق پالیسی اور تحقیقاتی سفارشات تیار کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کمیشن کے شریک چیئرمین لارڈ ایڈیر ٹرنر اور جولس کورٹن ہورسٹ ہیں جبکہ یہ ادارہ SYSTEMIQ کے تحت کام کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے خام تیل کا تقریباً 84 فیصد اور ایل این جی کا 80 فیصد ایشیائی ممالک کو جاتا ہے، اسی لیے بحران کا سب سے زیادہ اثر ایشیا پر پڑ رہا ہے۔

    رپورٹ میں پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، بھارت اور فلپائن کو ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں ایندھن کی حقیقی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں ایل پی جی اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے گھریلو اخراجات، ٹرانسپورٹ اور زراعت کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں ریستورانوں اور کینٹینز نے اوقات کار محدود یا بندش اختیار کرلی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ صنعتی ادارے مخصوص ایندھن کی دستیابی کے مطابق اپنی پیداوار محدود کر رہے ہیں جبکہ کھاد کی سپلائی متاثر ہونے سے زرعی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بعض کسان کھاد کے بغیر کاشتکاری پر مجبور ہو رہے ہیں جس سے خوراک کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ ماضی کے توانائی بحرانوں کی طرح ایک بار پھر دکانوں اور ریستورانوں کے اوقات کار محدود کیے جا رہے ہیں جبکہ توانائی بچانے کے لیے ریموٹ ورک اور کم اوقات کار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول دو ہفتوں کے لیے بند کیے گئے جبکہ بنگلہ دیش میں جامعات بند کی گئیں اور گھروں و کاروباری مراکز کو غیر ضروری روشنیاں کم کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ تیل کی قیمتیں تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 90 سے 120 ڈالر تک جا پہنچی ہیں جبکہ ایشیائی ایل این جی قیمتیں 10 سے 12 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 25 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس بحران سے 2026 کے دوران عالمی معیشت پر اضافی ایک سے دو ٹریلین ڈالر تک کے ایندھن اخراجات کا بوجھ پڑ سکتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ یورپ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور یورپی یونین کو روزانہ تقریباً 500 ملین یورو کا نقصان ہورہا ہے، جبکہ قطر کے راس لفان ایل این جی پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان کے باعث عالمی ایل این جی مارکیٹ کئی برس متاثر رہ سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق موجودہ بحران نے یہ واضح کردیا ہے کہ فوسل فیول نظام مسلسل درآمد، ترسیل اور عالمی تجارتی راستوں پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے جنگ، جغرافیائی تنازعات یا سپلائی میں رکاوٹ فوری طور پر پوری دنیا میں قیمتوں کے بحران میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

    اس کے مقابلے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ صاف توانائی کے نظام زیادہ محفوظ، زیادہ منتشر اور طویل المدتی انفراسٹرکچر پر مبنی ہوتے ہیں، جیسے سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز، بیٹریاں اور بجلی کے گرڈ۔

    رپورٹ کے مطابق صاف توانائی کے منصوبوں میں 70 سے 90 فیصد لاگت ابتدائی سرمایہ کاری پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے عالمی قیمتوں کے اچانک جھٹکوں کا اثر نسبتاً کم پڑتا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں سولر توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پاکستان کو فوسل فیول قیمتوں کے بدترین اثرات سے جزوی تحفظ فراہم کیا، خاص طور پر 2022 کے بحران کے بعد۔

    رپورٹ میں حکومتوں کو پانچ بڑے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن میں قابل تجدید بجلی کی تیز رفتار توسیع، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ، بجلی پر مبنی ہیٹنگ اور کوکنگ، گرین فیول اور گرین فرٹیلائزر کی تیاری، اور توانائی بچت شامل ہیں۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر حکومتیں بحران کے ردعمل میں نئی فوسل فیول انفراسٹرکچر، نئی کوئلہ صلاحیت یا طویل المدتی ایل این جی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں تو اس سے مستقبل میں مزید معاشی اور توانائی بحران پیدا ہو سکتے ہیں۔

    انرجی ٹرانزیشن کمیشن کے شریک چیئرمین ایڈیر ٹرنر کے مطابق موجودہ بحران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار صرف ماحولیاتی خطرہ نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی کمزوری بھی ہے، جبکہ صاف توانائی کے نظام زیادہ محفوظ، زیادہ مؤثر اور عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے کم متاثر ہوتے ہیں۔

  • ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ 2026: پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

    ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ 2026: پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی اپریل 2026 کی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں، حراست میں ڈالی جانے والی اذیتیں، اور جبری لاپتہ کرنے کے واقعات اب بھی پیش آ رہے ہیں۔

    عدلیہ کا استحصال اور خاموشی ایک مہنگے دام

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انسانی حقوق کے وکلا کے خلاف عدلیہ کو استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ان کے سوشل میڈیا پیغامات کی وجہ سے دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ سزا انہیں محض اس لیے دی گئی کہ انہوں نے بلوچ اور پشتون کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا اور پاکستان کی عسکری پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ ایمنسٹی نے اسے اختلاف رائے کو خاموش کرانے کے لیے ایک ‘منظم ہراساں کرنے کی مہم’ قرار دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق قانون سازی میں ہونے والی تبدیلیوں میں 27ویں آئینی ترمیم خاص طور پر اہم تھی، جس نے اعلیٰ عدلیہ کی آزادی کو کمزور کیا اور مسلح افواج کے سربراہان اور صدر کو وسیع سطح پر قانونی تحفظ فراہم کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ حکام نے اظہارِ رائے کو دبانے کے لیے گرفتاریوں، سائبر کرائم اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا استعمال جاری رکھا۔ آن لائن مواد پر سنسرشپ بھی کی گئی، جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات شامل تھے۔

    مزید یہ کہ پاکستان نے چین کی مدد سے اپنا ویب مانیٹرنگ سسٹم بھی اپ ڈیٹ کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض اوقات حکومت نے تنقیدی خبریں شائع کرنے والے اخبارات سے اشتہارات واپس لے لیے، جسے دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ قرار دیا گیا۔

    جبری گمشدگی کا بڑھتا ہوا رجحان

    جبری گمشدگیاں 2025 میں ایک بڑا مسئلہ بنی رہیں۔ بلوچستان اور سندھ میں بلوچ کارکنوں کے احتجاج کو روکا گیا، اور 21 مارچ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام جبری طور پر لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے ہونے والے مظاہرے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی میں تین مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

    رپورٹ میں خاص طور پر بلوچستان میں جبری لاپتہ ہونے والوں کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں بہت سے لوگوں کی لاشیں ملیں اور پرانے مقدمات بھی حل طلب رہ گئے۔ بلوچستان میں ہی کم از کم پانچ کارکنان قتل کیے گئے، جن میں سینیٹر حبیب جالب بلوچ، محمد خان زہیب، عبدالمجید، فقیر محمد بلوچ اور زمان مری شامل ہیں۔ اگرچہ ان ماورائے قتل کے واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملوث ہونے کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں، لیکن کچھ بالواسطہ حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔

    صحافت: ایک جان لیوا پیشہ

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کو ریاستی ایجنٹوں اور مسلح گروپوں کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے اور قتل کیا جاتا ہے۔ 2010 میں پاکستان میں 19 میڈیا ورکرز قتل ہوئے، جس کے بعد پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے مہلک ملک قرار پایا۔

    مذہبی منافرت: جب قانون ہی بوجھ بن جائے

    رپورٹ نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس کے مطابق احمدی، شیعہ اور عیسائیوں کو فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ طالبان سے منسلک گروہ شیعہ، احمدی اور صوفیوں پر حملے کر رہے ہیں اور انہیں سزا سے بچنے میں آسانی ہو رہی ہے۔ احمدیوں، عیسائیوں، شیعہ اور سنی مسلمانوں کے خلاف توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

    خواتین کے خلاف تشدد: ایک خاموش وبا

    ایمنسٹی کی رپورٹ میں خواتین کے خلاف تشدد کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے مطابق ریپ، جبری شادیاں، ناموسی قتل، تیزاب سے حملے اور دیگر گھریلو تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن پولیس مقدمات درج کرنے اور ان کی چھان بین کرنے سے گریزاں ہے۔ رپورٹ میں خواتین کی ہیلپ لائن مہمان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نومبر 2010 تک 1195 خواتین کو قتل کیا گیا، جن میں سے 98 کو قتل سے پہلے ریپ کیا گیا تھا۔

    افغان پناہ گزین: ایک بے گھر قوم

    رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ ایمنسٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان فوری طور پر افغان پناہ گزینوں کی گرفتاریاں اور جبری وطن واپسی روکے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں ایمنسٹی کے سیکرٹری جنرل ایگنیس کالمارڈ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر افغان پناہ گزینوں کے ساتھ بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    یہ رپورٹ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک خطرناک انتباہ ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے، اقلیتوں کے تحفظ اور خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    انسانی حقوق کی عالمی صورتحال

    برطانوی دارالحکومت لندن ایمنیسٹی انٹرنیشنل جاری ہونے والی اس سالانہ رپورٹ میں خاص طور پر تین عالمی رہنماؤں ڈونلڈ ٹرمپ، ولادیمیر پوتن اور بینجامن نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں ’شکاری‘ قرار دیا گیا ہے۔تنظیم نے خاص طور پر غزہ، یوکرین، ایران اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری ان پالیسیوں کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی جگہوں پر جنگی جرائم، جبری نقل مکانی اور شہری انفراسٹرکچر کی تباہی جیسے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

    ایمنسٹی نے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جبکہ روس کے حوالے سے یوکرین جنگ کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اسی طرح امریکا کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی بعض پالیسیاں عالمی انسانی حقوق کے نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2025 انسانی حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی مشکل سال رہا، جس میں دنیا بھر میں آمریت میں اضافہ ہوا اور جمہوری اقدار کمزور ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب کئی ممالک میں اختلاف رائے کو دبایا جا رہا ہے، احتجاج کو جرم بنایا جا رہا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے۔

    ایگنس کیلامارڈ نے خبردار کیا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو گزشتہ 80 سال میں انسانی حقوق کے لیے کی گئی پیش رفت ضائع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو فوری طور پر متحد ہو کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہوگا، ورنہ ایک ایسا عالمی نظام بن سکتا ہے جہاں انصاف اور قانون کی کوئی اہمیت نہ رہے۔

  • یو اے ای نے پاکستان سے ساڑھے 3 ارب ڈالرز واپس مانگ لئے، پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا

    یو اے ای نے پاکستان سے ساڑھے 3 ارب ڈالرز واپس مانگ لئے، پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔

    ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے ملک کا تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ خطے میں جنگی صورتحال کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مجموعی معاشی استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس نازک صورتحال میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ممکنہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ خطے میں استحکام بحال ہو اور اس کے معاشی اثرات کو محدود کیا جا سکے۔

    دوسری جانب پاکستان کو اپریل کے مہینے میں بھاری مالی ادائیگیوں کا سامنا ہے۔ حکومت نے متحدہ عرب امارات سے لیے گئے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر یو اے ای کے مطالبے پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں یو اے ای اس رقم کو پاکستان کی درخواست پر طویل مدت کے لیے رول اوور کرنے کے بجائے ہر ماہ کی بنیاد پر توسیع دے رہا تھا، جس کے باعث معاشی غیر یقینی میں اضافہ ہو رہا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے تھے۔

    حکومت نے یو اے ای کے مطالبے پر فیصلہ کیا ہے کہ یہ رقم اسی ماہ واپس کر دی جائے گی۔

    پاکستان کی حکومت کی جانب سے ترتیب دئیے گئے ادائیگیوں کے شیڈول کے تحت 450 ملین ڈالر 11 اپریل کو، 2 ارب ڈالر 17 اپریل کو جبکہ باقی 1 ارب ڈالر 23 اپریل کو ادا کیے جائیں گے۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے 1996 میں بھی 450 ملین ڈالر ایک سال کے لیے حاصل کیے تھے، جن کی واپسی بھی اب مکمل کی جا رہی ہے۔سنگین معاشی چیلنجز میں پاکستان کو اسی ماہ تقریباً 1.3 ارب ڈالر کے یوروبانڈز کی میچورٹی کا بھی سامنا ہے۔

    اگر مجموعی طور پر اپریل میں 4.8 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں تو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر تقریباً ساڑھے گیارہ ارب ڈالر رہ جانے کا امکان ہے۔

    اور یہ حالات پاکستان کو مزید معاشی مشکلات کا شکار کرسکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت متحدہ عرب امارات، سعودی عبر اور چین نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مجموعی طور پر ساڑھے بارہ ارب ڈالر پاکستان کے مرکزی بینک میں پروگرام کے اختتام، یعنی آئندہ سال ستمبر تک برقرار رکھیں گے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حالات میں پاکستان کے لیے معاشی نظم و ضبط برقرار رکھنا، سفارتی محاذ پر متوازن پالیسی اپنانا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی اور علاقائی غیر یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • پاکستان کے دیگر تمام خطوں کے مقابلے میں سندھ میں پرندوں کی غیر معمولی تعداد کے پیچھے کیا راز چھپا ہے؟

    پاکستان کے دیگر تمام خطوں کے مقابلے میں سندھ میں پرندوں کی غیر معمولی تعداد کے پیچھے کیا راز چھپا ہے؟

    سندھ ایک ایسا خطہ ہے جہاں زمین، پانی اور موسم مل کر پرندوں کے لیے ایک مکمل دنیا تشکیل دیتے ہیں۔ اگر پاکستان کو پرندوں کی سرزمین کہا جائے تو سندھ اس کا سب سے بھرپور اور متنوع حصہ ہے۔

    مستند سائنسی ریکارڈ کے مطابق سندھ میں تقریباً 450 سے 500 کے درمیان پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جو پورے پاکستان میں ریکارڈ ہونے والی تقریباً 790 سے 800 اقسام کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی عکاسی ہے، جہاں ہر خطہ اپنے اندر مختلف پرندوں کو جگہ دیتا ہے۔

    سندھ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کے مختلف ماحولیاتی خطوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر خطہ مخصوص پرندوں کا گھر ہے۔

    سب سے پہلے انڈس ڈیلٹا کی بات کی جائے تو یہ دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی اور سمندری اثرات ایک منفرد ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اس علاقے میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔

    اس کے علاوہ سمندری بگلوں کی مختلف اقسام، ٹرن، سینڈ پائپر، پلور اور اویسٹر کیچر جیسے ساحلی پرندے یہاں عام ہیں۔ یہ وہ پرندے ہیں جو ساحل، کیچڑ اور اتھلے پانی میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا نہ صرف مقامی بلکہ بیرونی پرندوں کے لیے بھی ایک محفوظ ٹھکانہ ہے۔

    دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں سے ایک انڈس ڈیلٹا میں موجود مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔ ساگا ڈیجیٹل

    ساحلی سندھ، جس میں کراچی سے لے کر ٹھٹھہ اور بدین تک کا علاقہ شامل ہے، پرندوں کے لیے ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔ یہاں سمندر کے کنارے، کھارے پانی کی جھیلیں اور مینگرووز مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں سی گل، ٹرن، کارمورینٹ اور دیگر سمندری پرندے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے زیادہ تر مچھلیوں اور سمندری حیات پر انحصار کرتے ہیں۔

    اس کے بعد سندھ کے ویٹ لینڈز یعنی جھیلوں اور دلدلی علاقوں کی بات آتی ہے، جو اس صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سندھ صوبہ صحرا، پہاڑ، سمندر، دریا کے ساتھ آب گاہوں کی بہتات کے باعث ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت جنگلی حیات کے حیاتی تنوع کے لحاظ سے ایک امیر خطہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رامسر کنونشن کے تحت پاکستان میں عالمی اہمیت رکھنے والی 19 آب گاہوں کو ’رامسر سائٹ‘ قرار دیا گیا ہے، جن میں نو صرف سندھ صوبے میں ہیں۔

    ان میں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، انڈس ڈیلٹا، انڈس ڈولفن ریزرو، دیہہ اکڑو، ڈرگ جھیل، جبو لگون، نرڑی لگون اور رن آف کچھ شامل ہیں جبکہ رامسر سائیٹ حب ڈیم کا آدھا حصہ سندھ اور آدھا بلوچستان میں ہے۔

    یہ وہ مقامات ہیں جہاں سردیوں کے موسم میں ہزاروں میل دور سے آنے والے پرندے قیام کرتے ہیں۔ یہاں بطخیں، ہنس، کونج، مختلف اقسام کے بگلے، ایگریٹ، ہیرون، پیلیکن اور واڈر پرندے بڑی تعداد میں دیکھے جاتے ہیں۔ سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون بھی انہی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

    سندھ کے آب گاہوں میں سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون سمیت مختلف پرندے بری تداد میں ملتے ہیں۔ تصویر: ساگا ڈیجیٹل

    پنجاب میں صرف تین، بلوچستان میں پانچ اور خیبر پختونخوا میں دو آب گاہوں کو رامسر سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے شہر رامسر میں ’کنونشن آن ویٹ لینڈ‘ یعنیٰ آب گاہوں کے تحفظ کا یہ عالمی معاہدہ دو فروری، 1971 کو طے پانے کے بعد 1975 میں نافذ ہوا۔

    اس معاہدے کے تحت ایسی آب گاہیں جہاں کثیر تعداد میں پودوں، پرندوں اور مچھلیوں کی درجنوں اقسام پرورش پاتی ہیں اور یہ آب گاہیں ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے روزگار کا بھی ذریعہ ہوں تو انہیں رامسر سائٹ قرار دیا جاتا ہے۔

    انڈس فلائے وے زون، جاڑوں میں وسطی ایشیا کی جانب نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے راستے میں واقع ہے اور سرد ممالک سے پرندے دو درجن سے زائد ممالک سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جاڑوں میں پاکستان میں موجود کُل پرندوں کا 30 فیصد ان مہمان پرندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

    سندھ کا ریگستانی خطہ، خاص طور پر تھر، بظاہر خاموش اور خشک نظر آتا ہے، مگر یہاں زندگی ایک مختلف انداز میں موجود ہے۔تھر میں موروں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔

    پاکستان میں مور سب سے زیادہ سندھ کے تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں۔ مستند معلومات کے مطابق تھرپارکر، خصوصاً مٹھی، نگرپارکر اور اسلام کوٹ کے علاقوں کو پاکستان میں موروں کا سب سے بڑا مسکن مانا جاتا ہے۔ بعض سرکاری اور تحقیقی اندازوں کے مطابق صرف اسی خطے میں دسیوں ہزار مور موجود ہیں۔

    نگرپارکر کے قریب واقع کارونجھر کے پہاڑی سلسلے اور اس کے آس پاس کے علاقے بھی موروں کے لیے نہایت موزوں ہیں، جہاں قدرتی ماحول، جھاڑی دار زمین، کھلے میدان اور بارش کے بعد بننے والے پانی کے ذخائر انہیں رہنے اور افزائش کے لیے بہترین حالات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی مور کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اسے ایک خوبصورت اور قابل احترام پرندہ سمجھتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی تعداد یہاں برقرار رہی ہے۔

    پاکستان کے دیگر حصوں جیسے جنوبی پنجاب یا بلوچستان میں بھی مور پائے جاتے ہیں، لیکن وہاں ان کی تعداد کم ہے اور وہ اس طرح بڑی آبادی میں موجود نہیں جیسے سندھ کے تھرپارکر میں دیکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھرپارکر کو پاکستان میں موروں کا سب سے اہم اور قدرتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ حیاتاتی تنوع کے شاہوکار اس خطے میں نہایت اہم پرندہ تلور یا ہوبارا بسٹرڈ بھی بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چکور، لوا، ریگستانی چڑیاں، سینڈگروز اور دیگر صحرائی پرندے یہاں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے سخت گرمی، کم پانی اور کھلے میدانوں کے ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    رن آف کچھ، جو سندھ اور بھارت کے درمیان واقع ایک نمکین میدان ہے، ایک منفرد ماحولیاتی خطہ ہے۔ بارشوں کے بعد یہ علاقہ پانی سے بھر جاتا ہے اور پرندوں کے لیے جنت بن جاتا ہے۔ یہاں فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، پلور، ایوو سیٹ اور دیگر واڈر پرندے بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ خاص طور پر ان پرندوں کے لیے اہم ہے جو نمکین پانی اور کیچڑ والے میدانوں میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔

    سندھ کے میدانی اور زرعی علاقے بھی پرندوں سے خالی نہیں ہیں۔ یہاں عام طور پر نظر آنے والے پرندوں میں چڑیا، کوا، مینا، بلبل، فاختہ، کبوتر اور مختلف شکاری پرندے شامل ہیں۔ چیل، باز اور عقاب جیسے پرندے کھلے میدانوں میں شکار کرتے ہیں۔ سبز طوطا، جسے طوطا یا توتا کہا جاتا ہے، باغات اور درختوں والے علاقوں میں عام ہے۔ ڈرونگو، جسے بعض علاقوں میں بھجنگا کہا جاتا ہے، اپنی جرات اور چالاکی کے لیے مشہور ہے۔

    سندھ سے تعلق رکھنے والا منفرد پرندہ جس کا نام ہی سندھ ہُد ہُد یا Sind woodpecker ہے۔ یہ دریائے سندھ سے متصل میدانوں اور جنگلات، کھیر تھر نیشنل پارک میں پایا جاتا ہے۔ تصویر: یاسر پیچوہو
    سندھ سے تعلق رکھنے والا منفرد پرندہ جس کا نام ہی سندھ ہُد ہُد یا Sind woodpecker ہے۔ یہ دریائے سندھ سے متصل میدانوں اور جنگلات، کھیر تھر نیشنل پارک میں پایا جاتا ہے۔ تصویر: یاسر پیچوہو

    سندھ کے پہاڑی سلسلے، خاص طور پر کیرتھر رینج، ایک اور اہم ماحولیاتی خطہ ہیں۔ یہاں پہاڑی پرندے جیسے چکور، عقاب، باز اور دیگر شکاری پرندے پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقے ان پرندوں کے لیے موزوں ہیں جو بلند جگہوں اور چٹانی ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

    پاکستان کے دیگر خطوں کی نسبت سندھ میں پرندوں کی زیادہ تعداد کیو؟

    سب سے پہلی وجہ ماحولیاتی تنوع ہے۔ سندھ میں سمندر، دریا، جھیلیں، صحرا، پہاڑ، رن آف کچھ اور زرعی زمین سب ایک ہی خطے میں موجود ہیں۔ یہ تنوع مختلف اقسام کے پرندوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

    دوسری وجہ پانی کی فراوانی ہے۔ سندھ میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مستقل ویٹ لینڈز موجود ہیں، جو پرندوں کے لیے خوراک اور آرام کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔

    تیسری وجہ پاکستان میں رام سر سائٹس کی اکثریت کا سندھ میں ہونا ہے۔ یہ وہ بین الاقوامی اہمیت کے حامل علاقے ہیں جہاں پرندوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔

    چوتھی وجہ موسم ہے۔ سندھ کا موسم سردیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے، جو سرد علاقوں سے آنے والے پرندوں کے لیے موزوں ہے۔

    پانچویں وجہ پرندوں کی نقل مکانی کرنے والے راستوں پر سندھ کی موجودگی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے پرندے ان راستوں کے ذریعے سندھ پہنچتے ہیں اور یہاں قیام کرتے ہیں۔

    اب اگر پورے پاکستان کی بات کی جائے تو یہ ملک بھی اپنے جغرافیے کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ شمال میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے بلند پہاڑ ہیں جہاں برفانی اور پہاڑی پرندے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سنو کاک، مونال، لامرجیئر گدھ اور مختلف اقسام کے عقاب شامل ہیں۔

    پنجاب کے میدانی علاقوں میں زرعی زمین اور دریا پرندوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں چڑیا، مینا، بلبل، فاختہ، بطخیں اور دیگر عام پرندے پائے جاتے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں جنگلات اور پہاڑی علاقے پرندوں کی ایک الگ دنیا رکھتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے وسیع مگر خشک علاقے مخصوص صحرائی اور نیم صحرائی پرندوں کا گھر ہیں۔

    پاکستان میں پائے جانے والے چند نمایاں پرندوں میں مور، چکور، تلور، مصری گدھ، شاہین، عقاب، فلیمنگو، کونج، بطخیں اور مختلف اقسام کے بگلے شامل ہیں۔ سندھ اسپیرو اور سندھ وُڈپیکر جیسے پرندے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ خطہ عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت رکھتا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے کئی علاقوں میں ایسے پرندے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جو پاکستان کے دیگر حصوں میں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، خاص طور پر ساحلی اور ویٹ لینڈ پرندے۔ اسی

    طرح کچھ پرندے صرف مختصر وقت کے لیے یہاں قیام کرتے ہیں، مگر ان کی موجودگی بھی مجموعی تنوع میں شامل ہوتی ہے۔

    فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، جو بعض اوقات ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں، سندھ کے ساحلی علاقوں میں ایک حیرت انگیز منظر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح جھیلوں پر اترنے والے ہزاروں بطخوں اور ہنسوں کے غول اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ خطہ پرندوں کے لیے کتنا اہم ہے۔

    اگر ایک جملے میں کہا جائے تو سندھ صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ پرندوں کی ایک مکمل دنیا ہے، جہاں ہر موسم، ہر خطہ اور ہر منظر ایک نئی کہانی سناتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں آسمان صرف خالی نہیں ہوتا بلکہ پرندوں کی پرواز سے بھرا ہوتا ہے، اور یہی اسے پاکستان کا سب سے امیر خطہ بناتا ہے۔

  • پانی کا عالمی دن:  گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے

    پانی کا عالمی دن: گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے

    پانی کا عالمی دن، 22 مارچ 2026، ہمارے لیے محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کا آئینہ ہے۔ اس بار موضوع ‘پانی اور جنسی مساوات’ ہے، مگر پاکستان کے تناظر میں یہ سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ کیا پانی واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا یہ بھی طاقت، پیسے اور اثر و رسوخ کے تابع ہو چکا ہے؟

    ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں زیادہ تر گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے۔ اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس قسمت کو بھی اب خریدا اور بیچا جا رہا ہے۔

    پانی کی منڈی محض شرمندگی نہیں، ایک اجتماعی ناکامی کی علامت بن چکی ہے۔ شاید ہم دنیا کے ان چند معاشروں میں شامل ہیں جہاں سرکاری ناکامی کو اس جملے سے جائز ٹھہرایا جاتا ہے کہ ‘ہم تو خود بھی ٹینکر کا پانی استعمال کرتے ہیں’۔ گویا پیغام واضح ہے، واٹر ٹینکر اب مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نیا معمول ہیں۔

    جب پانی خریدنا روزمرہ کا حصہ بن جائے، جب مفت ٹینکر کے لیے سفارش ڈھونڈی جائے، جب گھروں کے باہر کھڑے ٹینکر حیثیت کی علامت بن جائیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف قلت کا نہیں، اجتماعی بے حسی کا بھی ہے۔ ہم نے پانی کو حق نہیں، سہولت بنا دیا ہے، اور وہ سہولت بھی صرف اسی کے لیے ہے جس کے پاس پیسہ یا رسائی ہو۔

    اعداد و شمار خاموش ہیں مگر خطرناک۔ چند دہائیوں پہلے پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی پانچ ہزار مکعب میٹر کے قریب تھی، آج یہ کم ہو کر ایک ہزار کے آس پاس رہ گئی ہے۔ یہ محض کمی نہیں، ایک واضح انتباہ ہے جسے ہم مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔

    دریائے سندھ، جو ہماری زراعت اور معیشت کی شہ رگ ہے، اس کے بہاؤ میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ دوسری طرف ہم زیر زمین پانی کو اس رفتار سے نکال رہے ہیں جیسے ہر دن آخری ہو۔ دنیا بھر میں اربوں لوگ ایسے ممالک میں رہ رہے ہیں جہاں پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس عالمی بحران سے کچھ سیکھا، یا ہم بھی خاموشی سے اسی تباہی کو معمول بنا چکے ہیں؟

    جب پانی کی قلت کی بات ہوتی ہے تو اکثر ڈیم، نہریں اور بارشیں زیر بحث آتی ہیں، مگر ایک حقیقت مسلسل نظر انداز ہوتی ہے۔ دیہی پاکستان میں آج بھی پانی لانا زیادہ تر خواتین اور بچیوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ میلوں پیدل چلتی ہیں، صرف اس لیے کہ گھر میں پانی ہو۔

    لیکن جب پانی کی پالیسیاں بنتی ہیں تو وہ کمرے ان کے بغیر بھرے ہوتے ہیں۔ فیصلے وہ کرتے ہیں جو مسئلے کو بھگتتے نہیں، صرف اس پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں انصاف ختم ہو جاتا ہے۔

    پاکستان ایک عجیب تضاد کی تصویر ہے۔ ایک طرف سیلاب اربوں گیلن پانی سمندر میں بہا دیتے ہیں، دوسری طرف شہر پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں۔

    کراچی جیسے شہر میں پانی کی لائنیں صرف پانی نہیں، طاقت کی تقسیم بھی ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ کہیں پانی چوری ہوتا ہے، کہیں بیچا جاتا ہے، کہیں روکا جاتا ہے، اور کہیں لوگ قطاروں میں کھڑے رہ کر صرف اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست کی رٹ کمزور پڑتی ہے اور غیر رسمی نظام مضبوط ہو جاتا ہے۔

    ہم اکثر پانی کے مسئلے کو سرحدی تنازعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے دریا پہلے خود کمزور کیے ہیں۔ جب ملک کے اندر ہی پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن نہ ہو، جب صوبوں کے درمیان اعتماد کمزور ہو، جب ڈیٹا بھی متنازع ہو جائے، تو بیرونی خطرات پر شور مچانا آسان ہو جاتا ہے، حل تلاش کرنا نہیں۔

    پانی پر سیاست کرنا آسان ہے، پانی کو سنبھالنا مشکل۔

    وجوہات سب کے سامنے ہیں مگر سنجیدگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ آبادی بڑھ رہی ہے مگر ذخائر نہیں، موسمیاتی تبدیلی بارشوں کے نظام کو بدل رہی ہے مگر ہماری منصوبہ بندی وہی پرانی ہے۔ آبی نظم و نسق بکھرا ہوا ہے، ادارے مختلف سمتوں میں چل رہے ہیں، اور ہم سب مل کر پانی کو ایسے استعمال کر رہے ہیں جیسے یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔

    یہ سوال حکومت سے بھی ہے اور ہم سب سے بھی۔ اگر ایک قوم پانی کے مسئلے کا حل ٹینکر خریدنے میں دیکھے، اگر شہری اپنی بقا کو نجی انتظامات سے جوڑ لیں، اگر ریاست کی ذمہ داری کو ذاتی سہولت سے بدل دیا جائے، تو پھر کسی پالیسی، کسی ڈیم یا کسی منصوبے سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ یہ صرف ناکامی نہیں، ایک خطرناک معمول بن چکا ہے۔

    اب بھی وقت ہے، مگر زیادہ نہیں۔ حل موجود ہیں مگر ارادہ کمزور ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے، زراعت کو جدید بنایا جا سکتا ہے، شہری نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

    مگر سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پانی کوئی لگژری نہیں بلکہ بنیادی حق ہے، اور حق کو بازار کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

    ہم کب تک پانی کو قسمت پر چھوڑے رکھیں گے؟ کب تک ٹینکر ہمارے نظام کا متبادل رہیں گے؟ کب تک ایک بچی پانی کے لیے اسکول چھوڑتی رہے گی؟ اور کب تک ہم یہ سمجھتے رہیں گے کہ یہ مسئلہ کسی اور کا ہے؟

    اگر پانی ختم ہو گیا تو باقی سب بحثیں بے معنی ہو جائیں گی۔

    یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سچ بولیں۔ پانی کا بحران صرف وسائل کا نہیں، ضمیر کا بھی ہے۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، نئی تاریخی بلند ترین سطح قائم

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، نئی تاریخی بلند ترین سطح قائم

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے یہ ہفتہ نہایت تیزی رہی۔ ہفتے کے دوران مارکیٹ میں مجموعی طور پر تقریباً 4 ہزار 066 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس زبردست تیزی کے باعث مارکیٹ نے تاریخ کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 90 ہزار 566 پوائنٹس کو بھی چھو لیا، جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ سطح ہے۔

    اگر جمع کے روز، رواں ہفتے کے اختتام پر کلوزنگ کی بات کی جائے تو مارکیٹ 1 لاکھ 90 ہزار 166 پوائنٹس پر بند ہوئی، یعنی مارکیٹ نے 1 لاکھ 90 ہزار پوائنٹس سے اوپر مضبوط کلوزنگ دی، جسے ماہرین ایک شاندار پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

    اس ہفتے مختلف شعبوں نے مارکیٹ کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا۔مارکیٹ انالسسٹ اور ریسرچر جبران سرفراز کے مطابق فرٹیلائزر، بینکنگ اور آئل اینڈ گیس سیکٹرز نے خاص طور پر اچھی کارکردگی دکھائی، جس سے مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا۔

    ان کے مطابق پیر 26 جنوری کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان متوقع ہے، جس کی وجہ سے بھی مارکیٹ میں مزید تیزی متوقع ہے۔21 جنوری کو ہونے والی ٹریژری بلز کی نیلامی میں حکومت نے بیشتر مدتوں پر کٹ آف ییلڈز کو چار سال بعد پہلی بار سنگل ڈیجٹ تک کم کر دیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ممکن ہے۔

    حالیہ مہنگائی کے اعداد و شمار میں بہتری کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ شرح سود میں یقیناً کمی ہوگی۔ اس وقت شرح سود 10.5 فیصد ہے، جو کہ 10 یا 9.5 فیصد متوقع ہے۔ کاروباری حضرات کی جانب مسلسل شرح سود میں کمی کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔

    آنے والے دنوں میں رول اوور ویک بھی متوقع ہے، تاہم عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل صورتحال ابھی مکمل طور پر بہتر نہیں ہو سکی۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کی قیمت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور تقریباً پانچ لاکھ چھ ہزار روپے فی تولہ پر کاروبار ہو رہا ہے، جبکہ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    کاروباری سرگرمی کے لحاظ سے حصص کی مجموعی تعداد کم ہو کر 875.49 ملین رہی، جو ایک ارب سے کم ہے، تاہم کاروباری مالیت بڑھ کر 58.5 ارب روپے ہو گئی۔ حجم کے اعتبار سے کے الیکٹرک سرفہرست رہی، جس کے 141.4 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے آغاز میں کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا تھا، کیونکہ دسمبر 2025 میں 244 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ اور نومبر میں سرپلس رہا تھا۔ اس کے باوجود ہفتے کے اختتام پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور مارکیٹ نئی بلندیوں تک پہنچ گئی۔

    مجموعی طور پر اسٹاک مارکیٹ اس وقت آل ٹائم ہائی پر موجود ہے اور سرمایہ کار محتاط مگر پُرامید نظر آ رہے ہیں۔ جبران سرفراز کے مطابق فروری یا مارچ تک کے ایس ای – 100 انڈیکس دولاکھ پوائنٹس کی حد عبور کرلے گا۔

  • اسپاٹیفائی نے شائے گل کو ‘ریڈار پاکستان’ آرٹسٹ منتخب کر لیا

    اسپاٹیفائی نے شائے گل کو ‘ریڈار پاکستان’ آرٹسٹ منتخب کر لیا

    اسپاٹیفائی نے سنہ 2026 کے آغاز پر پاکستانی موسیقی کے منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا۔ ابھرتی ہوئی گلوکارہ شائے گل کو ریڈار پاکستان پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جو نئے فنکاروں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے اسپاٹیفائی کا خصوصی پلیٹ فارم ہے۔

    شائے گل نے مختصر عرصے میں اپنی منفرد آواز اور گہرے موضوعات پر مبنی گیتوں سے نوجوان سامعین میں شناخت بنائی۔ ان کے گیت عدم تحفظ، اندرونی کشمکش اور خود شناسی جیسے احساسات کو سادہ مگر اثر انگیز انداز میں پیش کرتے ہیں، جس نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انہیں نمایاں مقام دلایا۔

    ریڈار پاکستان میں شمولیت کے بعد شائے گل کو اسپاٹیفائی کی جانب سے خصوصی پلے لسٹس، عالمی پروموشن اور ڈیجیٹل مہمات میں نمایاں کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت منتخب فنکاروں کو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سامعین تک رسائی ملتی ہے۔

    شائے گل اس سے قبل بھی اسپاٹیفائی کی وائرل پلے لسٹس میں جگہ بنا چکی ہیں، جہاں ان کے گیت لاکھوں بار سنے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ موسیقی کو ذاتی تجربات کا اظہار سمجھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ سننے والے خود کو ان کہانیوں میں پہچان سکیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ریڈار پروگرام کے ذریعے اسپاٹیفائی اب تک دنیا بھر میں سینکڑوں نئے فنکاروں کو متعارف کرا چکا ہے، جن میں سے کئی بعد میں عالمی چارٹس تک پہنچے۔ شائے گل کی شمولیت کو پاکستانی انڈی موسیقی کے لیے ایک اور مضبوط قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس انتخاب کے ساتھ شائے گل نہ صرف پاکستان کی نمائندگی کریں گی بلکہ یہ ثابت کریں گی کہ مقامی آوازیں بھی عالمی سطح پر سنی جا سکتی ہیں۔

  • قومی شناختی کارڈ کی تاریخ: ہاتھ سے لکھے کاغذ سے ڈیجیٹل اسمارٹ کارڈ تک

    قومی شناختی کارڈ کی تاریخ: ہاتھ سے لکھے کاغذ سے ڈیجیٹل اسمارٹ کارڈ تک

    پاکستان میں قومی شناختی کارڈ کا نظام وقت کے ساتھ ساتھ کئی مراحل سے گزرا ہے۔ آج ہر شہری کے لیے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ لازمی قرار دیا جا چکا ہے، لیکن یہ نظام شروع سے ایسا نہیں تھا۔

    پاکستان بننے کے بعد کئی دہائیوں تک ملک میں کوئی باضابطہ شناختی نظام موجود نہیں تھا۔

    شناخت کے ثبوت کے طور پر لوگ اپنے خاندانی کاغذات، پیدائش کے سرٹیفکیٹ یا کسی سرکاری دفتر کے جاری کردہ دستاویزات دکھاتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ، آبادی کے بڑھنے، ووٹر لسٹیں تیار کرنے، اور شہری حقوق کی فراہمی کے لیے ایک منظم قومی شناختی نظام کی ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی۔

    انیس سو تہتر (1973) میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے پہلی مرتبہ ایک باقاعدہ قومی شناختی نظام متعارف کرایا۔ اسی سال قومی اسمبلی نے نیشنل رجسٹریشن ایکٹ 1973 منظور کیا جس کے تحت وزارتِ داخلہ کے ماتحت نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (NRD) قائم کیا گیا۔

    اس ادارے کا مقصد ہر بالغ شہری کو ایک مخصوص قومی شناختی کارڈ جاری کرنا تھا۔
    اس وقت کے کارڈ مکمل طور پر دستی یا کاغذی شکل میں ہوتے تھے، جن پر شہری کا نام، والد کا نام، پتہ، اور تصویر درج ہوتی تھی۔ ان کارڈز پر کسی قسم کی ڈیجیٹل یا سکیورٹی خصوصیت موجود نہیں تھی۔ پھر بھی یہ پاکستان کی تاریخ میں شہری شناخت کے باضابطہ آغاز کا سنگ میل ثابت ہوئے۔

    انیس سو نوے کی دہائی میں جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی تھی، پاکستان میں بھی شناختی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 2000 میں حکومت نے نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ضم کر کے ایک نیا ادارہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) قائم کیا۔

    نادرا کا قیام ایک سنگ میل تھا کیونکہ اس نے شناخت کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل ڈیٹا بیس پر منتقل کر دیا۔ اب ہر شہری کا ریکارڈ کمپیوٹر پر محفوظ ہونے لگا، جس میں نام، تصویر، فنگر پرنٹس، اور دیگر ذاتی تفصیلات شامل تھیں۔

    2001 میں نادرا نے کمپیوٹرائزڈ نیشنل آئی ڈی کارڈ (CNIC) متعارف کرایا۔ یہ نیا کارڈ پرانے کاغذی کارڈ کی جگہ لینے لگا۔ ہر شہری کو ایک منفرد 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی نمبر دیا گیا، جو ملک بھر میں ہر طرح کی سرکاری دستاویزات اور لین دین کے لیے بنیاد بنا۔ CNIC میں جدید سکیورٹی فیچرز شامل تھے تاکہ اس کی نقل یا جعل سازی ممکن نہ رہے۔
    وقت کے ساتھ CNIC کو ووٹنگ، بینک اکاؤنٹ کھلوانے، موبائل سم رجسٹریشن، جائیداد کی خرید و فروخت، حتیٰ کہ بیرونِ ملک سفر کے لیے بھی لازمی قرار دیا گیا۔

    نادرا نے شناختی نظام کو صرف محفوظ ہی نہیں بلکہ تیز اور مؤثر بھی بنایا۔ شناختی کارڈ کے اجرا کے لیے ملک بھر میں نادرا کے دفاتر قائم ہوئے، جب کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے قونصل خانوں میں نادرا کے کاؤنٹرز کھولے گئے۔
    اس دوران شہریوں کے ڈیٹا کو بایومیٹرک سسٹم سے منسلک کیا گیا جس سے فنگر پرنٹس اور چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق ممکن ہوئی۔

    2012 میں نادرا نے ایک اور سنگ میل عبور کیا جب اس نے اسمارٹ نیشنل آئی ڈی کارڈ (SNIC) متعارف کرایا۔ یہ نیا کارڈ جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی تھا جس میں ایک مائیکرو چِپ نصب کی گئی۔ اس چپ میں شہری کی بنیادی معلومات کے ساتھ ساتھ بایومیٹرک اور سکیورٹی کوڈز بھی محفوظ ہوتے ہیں۔

    اسمارٹ کارڈ میں پبلک کی انکرپشن کا نظام موجود ہے جو کسی بھی غیر مجاز رسائی یا ڈیٹا چوری سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

    اسمارٹ شناختی کارڈ صرف شناخت کے لیے نہیں بلکہ ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کا ذریعہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ نادرا نے اعلان کیا تھا کہ مستقبل میں اسمارٹ کارڈ کے ذریعے ای ووٹنگ، ای بینکنگ، صحت، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر خدمات ایک ہی کارڈ سے حاصل کی جا سکیں گی۔

    آج کئی نجی اور سرکاری ادارے CNIC یا SNIC کے نمبر سے براہ راست نادرا کے ڈیٹا بیس سے شہری کی شناخت کی تصدیق کر سکتے ہیں، جس سے جعلی شناختی کارڈ یا فراڈ کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔

    شناختی نظام کی ترقی صرف ٹیکنالوجی کا قصہ نہیں بلکہ یہ پاکستان میں شہری شعور اور ریاستی نظم و نسق کی علامت بھی ہے۔ نادرا کے مطابق آج پاکستان میں 12 کروڑ سے زائد شناختی کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں لاکھوں بیرونِ ملک پاکستانی بھی شامل ہیں۔ نادرا کا مرکزی ڈیٹا بیس اب ملک کے سب سے بڑے اور محفوظ ترین ڈیجیٹل ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ شناختی نظام کے قیام نے پاکستان میں کئی سماجی و اقتصادی تبدیلیاں ممکن بنائیں۔ بینکنگ، ووٹنگ، تعلیم، صحت، اور فلاحی منصوبے اب قومی شناختی ڈیٹا سے منسلک ہیں۔ یہ نظام نہ صرف سکیورٹی کے لیے اہم ہے بلکہ سماجی شمولیت، مالی شفافیت اور ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی بنیاد بھی ہے۔

    پاکستانی شناختی کارڈ کی یہ کہانی دراصل ایک ایسے ملک کی کہانی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی شناخت، حقوق اور ذمہ داریوں کو جدید دنیا کے مطابق مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آج کا اسمارٹ کارڈ محض ایک پلاسٹک کی چِپ نہیں، بلکہ شہری حیثیت، اعتماد اور جدید ریاستی نظم کا مظہر ہے۔