پاکستان میں لاہور اور پنجاب کے کئی دیگر علاقے ہر سال سموگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں پاکستانی اور بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانا، اینٹوں کے بھٹوں سے خارج ہونے والا دھواں اور دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی شامل ہیں۔ یہ مسئلہ کئی ہفتوں تک برقرار رہتا ہے، جس سے شہریوں کی صحت اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔
دونوں پڑوسی ممالک کی حکومتوں نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، تاہم اس مسئلے کا مستقل حل تاحال ممکن نہیں ہوسکا۔ حالیہ دنوں میں بھی لاہور کی فضائی آلودگی تشویش ناک رہی ہے اور ایئر کوالٹی انڈیکس میں شہر کا شمار آلودہ ترین شہروں میں ہوتا رہا ہے۔
بعض اوقات یہ اشاریہ 300 سے تجاوز کر جاتا ہے، جو صحت کے لیے انتہائی مضر فضائی معیار کی نشاندہی کرتا ہے۔
آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہوگی کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک سنگاپور، انڈونیشیا اور ملائیشیا ان دنوں فضائی آلودگی کے ایک سنگین مسئلے سے دوچار ہیں۔ انڈونیشیا کے جزائر سماٹرا اور بورنیو کے جنگلات اور دلدلی زمینوں میں لگنے والی آگ سے اٹھنے والا دھواں سرحدیں عبور کرکے پڑوسی ممالک تک پہنچ رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں ہوا کا معیار خراب ہوگیا ہے، سانس کی بیماریوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور بعض مقامات پر تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے 15 اکتوبر 2026 کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ انڈونیشیا میں کئی ماہ سے جاری جنگلات اور دلدلی زمینوں کی آگ نے خطے میں دھوئیں کی آلودگی پھیلائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سنگاپور اور ملائیشیا بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا کے بعض علاقوں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔
انڈونیشیا کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، 13 اکتوبر تک سات صوبوں میں سانس کی بیماریوں کے 283,270 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ تعداد 9 ستمبر تک رپورٹ ہونے والے 113,336 واقعات سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔ تاہم، ان اعداد و شمار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام مریضوں کی بیماری صرف جنگلات کی آگ کے دھوئیں کے باعث ہوئی۔
سنگاپور میں آلودگی کی بلند ترین سطح
سنگاپور عام طور پر فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کرتا ہے، لیکن اسے بھی پڑوسی ممالک سے آنے والے دھوئیں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سنگاپور کی قومی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق، صنعتوں اور موٹر گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں مقامی فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، جبکہ خطے میں جنگلات اور زمینوں کی آگ سے اٹھنے والا دھواں بھی ملک کی فضا کو متاثر کرتا ہے۔
رائٹرز کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، سنگاپور کے مغربی حصے میں باریک آلودہ ذرات پی ایم 2.5 کی ایک گھنٹے کی اوسط مقدار 284 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی تھی۔ یہ اس سال کی بلند ترین سطح تھی اور سنگاپور کی ماحولیاتی ایجنسی کے مقرر کردہ انتہائی بلند درجے میں شامل تھی۔
پی ایم 2.5 سے مراد ایسے باریک ذرات ہیں جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوسکتے ہیں۔ یہ ذرات دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افراد، بچوں اور بزرگوں کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔
سنگاپور کی قومی ماحولیاتی ایجنسی نے 16 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہ انڈونیشیا میں سات کمپنیوں کو حفاظتی اقدامات سے متعلق نوٹس جاری کرے گی۔ ایجنسی کے مطابق، شواہد سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کمپنیوں کی زمینوں پر لگنے والی آگ کا دھواں سنگاپور تک پہنچا ہوسکتا ہے۔ کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ آگ بجھانے، مزید آگ لگنے سے روکنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔
ملائیشیا میں بھی متاثرہ علاقے
ملائیشیا بھی انڈونیشیا کے جنگلات سے اٹھنے والے دھوئیں سے متاثر ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سمندر موجود ہونے کے باوجود ہوا کا رخ دھوئیں کو ملائیشیا کے مختلف علاقوں تک پہنچا سکتا ہے۔ اکتوبر میں بعض ریاستوں میں فضائی آلودگی غیر صحت بخش سطح تک پہنچنے کے بعد تعلیمی اداروں کو بند کرنا پڑا۔
ملائیشیا نے انڈونیشیا میں آگ بجھانے کے لیے مدد کی پیش کش کی تھی۔ ملائیشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے سامنے اٹھائیں گے، کیونکہ سرحد پار پھیلنے والے دھوئیں سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون ضروری ہے۔
آگ کیوں لگتی ہے؟
ماہرین کے مطابق، اس بحران کی ایک بڑی وجہ جنگلات کو زرعی زمینوں میں تبدیل کرنے کے لیے آگ لگانے کا طریقہ ہے۔ بعض علاقوں میں زمین صاف کرنے اور پام آئل سمیت دیگر زرعی فصلوں کی کاشت کے لیے درخت اور جھاڑیاں جلائی جاتی ہیں۔ اگر آگ قابو سے باہر ہوجائے تو یہ وسیع جنگلات اور دلدلی علاقوں میں پھیل سکتی ہے۔
اس مسئلے میں پیٹ کی دلدلی زمینوں کا کردار بھی اہم ہے۔ ان زمینوں میں ہزاروں سال کے دوران جمع ہونے والے نامیاتی مادے موجود ہوتے ہیں۔ جب ان زمینوں کو خشک کیا جاتا ہے تو ان میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی آگ زمین کی سطح کے نیچے بھی سلگتی رہ سکتی ہے اور اسے مکمل طور پر بجھانا مشکل ہوتا ہے۔
آسیان کے مطابق، جنوب مشرقی ایشیا میں پیٹ کی دلدلی زمینوں میں لگنے والی آگ سرحد پار دھوئیں کی آلودگی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ خطے میں انڈونیشیا کے پاس ان زمینوں کا بڑا حصہ موجود ہے، اس لیے وہاں لگنے والی آگ کے اثرات دور تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس سال خطے میں خشک اور گرم موسم نے بھی آگ کے خطرات بڑھائے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق، ال نینو سے وابستہ موسمی حالات نے درجہ حرارت میں اضافے اور خشکی کو بڑھایا، جس سے آگ زیادہ تیزی سے پھیلی اور اسے بجھانا مشکل ہوگیا۔
خشک موسم میں بارش کم ہونے سے زمین اور پودے خشک ہوجاتے ہیں۔ تیز ہوائیں آگ کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پھیلا سکتی ہیں، جبکہ یہی ہوائیں دھوئیں کو پڑوسی ممالک تک لے جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے انڈونیشیا میں لگنے والی آگ سنگاپور اور ملائیشیا کے شہری علاقوں میں بھی فضائی آلودگی پیدا کرسکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق، انڈونیشیا نے آگ بجھانے کے لیے 60 ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے اور پانی برسانے سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں۔ تاہم، ماہرین کے نزدیک صرف آگ لگنے کے بعد کارروائی کرنا کافی نہیں۔ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی روکنے، زمین صاف کرنے کے لیے آگ لگانے کے خلاف قوانین نافذ کرنے اور دلدلی زمینوں کو بحال کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
سنگاپور، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ آگ کی نگرانی، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائی کے نظام کو مضبوط بنائیں۔ آسیان کے رکن ممالک کو بھی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
فضائی آلودگی کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی۔ جب جنگلات جلتے ہیں تو انسانی صحت، ماحول، جنگلی حیات اور معیشت متاثر ہوتی ہے۔ اس بحران کا مستقل حل جنگلات کی حفاظت، آگ کی روک تھام، خشک زمینوں کی بحالی اور علاقائی تعاون میں پوشیدہ ہے۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث توانائی اور دیگر اشیا کی بلند قیمتیں درآمدی اخراجات بڑھا سکتی ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی اور ال نینو کے اثرات زرعی پیداوار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
عالمی بینک گروپ کی اکتوبر 2026 کی تازہ ترین پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ، جس کا عنوان ‘Attaining Escape Velocity’ ہے، کے مطابق رواں مالی سال 2026-27 میں مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
گزشتہ برس پاکستان میں فی کس حقیقی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ فی کس حقیقی آمدنی میں اضافے کی شرح تقریباً 1.6 فیصد رہی ہے۔
عالمی بینک نے تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات پر فوری عمل درآمد کرنے پر زور دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پالیسیوں اور اداروں کو بالائی متوسط آمدنی والے ممالک کے اوسط معیار کے قریب لانے سے پاکستان کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں سالانہ اضافے کی شرح 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس راستے پر مسلسل عمل کیا جائے تو پاکستان 2050 تک ویتنام کی موجودہ فی کس آمدنی کی سطح حاصل کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے حالیہ برسوں میں معیشت کو مستحکم کرنے میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن استحکام کو تیز رفتار اور پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ محض مالیاتی اور زرّی پالیسیوں کے ذریعے معیشت میں طلب بڑھانے سے دیرپا ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنانے، سرمایہ کاری بڑھانے، برآمدات کو فروغ دینے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر کرنے سمیت بنیادی اصلاحات درکار ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کی شرح 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کی 3.2 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔ تاہم، اس بہتری کا بڑا حصہ خدمات کے شعبے سے آیا، جبکہ زراعت اور صنعت کی کارکردگی نسبتاً کمزور رہی۔
رپورٹ کے بنیادی تخمینے کے مطابق مالی سال 2026-27 میں شرح نمو 3.8 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ اصلاحات کے بغیر درمیانی مدت میں یہ شرح تقریباً 4.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، لیکن اس رفتار سے پاکستان 2050 تک بالائی متوسط آمدنی والے ملک کا درجہ حاصل نہیں کر سکے گا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کو ہر سال روزگار کی عمر کو پہنچنے والے تقریباً 36 لاکھ افراد کے لیے مناسب ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی۔ موجودہ معاشی ترقی روزگار کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں۔
2018 سے اب تک روزگار کی منڈی میں آنے والے افراد کی تعداد ملازمتوں میں اضافے سے زیادہ رہی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً ہر چھ میں سے ایک نئے فرد کو کام نہیں مل سکا۔ 2024 میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ خواتین اور نوجوانوں کو روزگار کے حصول میں خاص مشکلات کا سامنا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق مسئلہ صرف ملازمتوں کی کمی نہیں بلکہ ان کے معیار کا بھی ہے۔ 2014 سے 2024 کے دوران ملکی معیشت میں فی کارکن پیداوار میں سالانہ اوسط اضافہ صرف 0.4 فیصد رہا۔ 2018 کے بعد پیدا ہونے والی ایک کروڑ 77 لاکھ خالص نئی ملازمتوں میں سے زیادہ تر کم اجرت اور کم پیداوار والے شعبوں میں تھیں۔
مہنگائی کے باعث حقیقی آمدنی میں کمی اور پیداوار میں سست اضافے کے نتیجے میں غربت کی شرح مالی سال 2018-19 کے 22 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 29 فیصد ہو گئی۔
رپورٹ میں تیز رفتار ترقی کے لیے توانائی کے شعبے میں بنیادی تبدیلیوں پر زور دیا گیا ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے، توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے اور بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ تعلیم، صحت، فنی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارتوں پر سرمایہ کاری بھی ضروری ہے تاکہ افرادی قوت کی صلاحیت اور پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔
کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے عالمی بینک نے سرمایہ کاری سے متعلق جدید قانون متعارف کرانے، زرعی اور جائیداد کے شعبوں میں ٹیکس وصولی بہتر بنانے اور ملک بھر میں جنرل سیلز ٹیکس کے نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں قومی مالیاتی کمیشن کے نئے ایوارڈ کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے مالیاتی تعلقات میں اصلاحات، تجارتی رکاوٹوں میں کمی اور برآمدات کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانا، صحت اور تعلیم میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا، برآمدی صنعتوں کو مالی سہولتیں فراہم کرنا اور ملکی بانڈز و سرمایہ جاتی منڈیوں کو ترقی دینا بھی اہم اقدامات ہیں۔ عالمی بینک نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری اور قومی محصولات کی پالیسی کے تحت تجارتی اصلاحات کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں بھارت اور ویتنام کی مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان دونوں ممالک نے 2011 کے بعد 2020 کے سوا سالانہ اوسطاً 6.3 سے 6.9 فیصد حقیقی معاشی ترقی حاصل کی، جبکہ پاکستان کی اوسط شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
عالمی بینک کے تجزیے کے مطابق اگر پاکستان پانچ سال میں بالائی متوسط آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں پالیسیوں اور اداروں کے معیار کا نصف فرق ختم کر لے تو اس کی سالانہ معاشی ترقی کی شرح 4.5 فیصد سے بڑھ کر 6.9 فیصد ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں فی کس حقیقی آمدنی میں سالانہ اضافہ 2.9 فیصد سے بڑھ کر 5.2 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ تخمینے اصلاحات کے ممکنہ اثرات ظاہر کرتے ہیں، ان کی ضمانت نہیں ہیں۔
عالمی بینک کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن صرف استحکام کافی نہیں۔ غربت کم کرنے، مناسب روزگار پیدا کرنے اور عوام کی آمدنی میں حقیقی اضافہ یقینی بنانے کے لیے ایسی اصلاحات کرنا ہوں گی جو سرمایہ کاری، پیداوار، برآمدات اور حکومتی کارکردگی میں مستقل بہتری لائیں۔
رپورٹ کے مطابق یہی راستہ پاکستان کو سست رفتار ترقی کے چکر سے نکال کر پائیدار معاشی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ، ایران کے مابین شدید کشیدگی کے بعد دونوں فرقین کے درمیاں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار کرنے پر پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو جنگ کے بجائے سفارت کاری کی طرف واپس آنا چاہیے۔
منگل کو اسلام آباد میں پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گوتریش نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مکالمے کی راہ ہموار کرنے اور ثالثی کے کردار کی تعریف کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش منگل کو پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ ان کا یہ دورہ آٹھ اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا۔
یہ 2022 کے بعد پاکستان کا ان کا پہلا دورہ ہے۔ 2022 میں انہوں نے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ تاہم، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے ان کا پاکستان کا پہلا دورہ فروری 2020 میں ہوا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران عالمی اور علاقائی امن، فلسطین، کشمیر، افغانستان اور امریکہ ایران تنازع سمیت اہم امور پر پاکستانی قیادت سے بات چیت کی ہے۔ ا
انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو جنگ کے بجائے سفارت کاری کی طرف واپس آنا چاہیے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔
ملاقات میں پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو سب سے مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دورے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی تیاری بھی اہم موضوع ہے۔ وہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے دفتر کا دورہ کریں گے جہاں انہیں آفات سے نمٹنے، ابتدائی اطلاع کے نظام اور موسمیاتی خطرات سے بچاؤ کے اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد آفات سے نمٹنے اور اپنی تیاری بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
گوتریش اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کے دفتر کا بھی دورہ کریں گے۔ یہ دورہ پاکستان اور اقوام متحدہ کے دیرینہ تعاون کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و سلامتی کے معاملات پر بات چیت کا موقع فراہم کرے گا۔
اقوام متحدہاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے طور پر گوتریش کی مدت 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان کا موجودہ دورہ ان کے عہدے کی مدت کے اختتام سے قبل اہم دوروں میں شامل ہے۔
برطانیہ کی عدالت نے 70 سال سے زائد عمر کی ایک انتہائی کمزور اور بستر تک محدود خاتون سے جنسی زیادتی کے جرم میں ایک پاکستانی شہری فضلی قدیر کو 12 سال قید کی سزا سنا دی۔
25 سالہ فضلی قدیر کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ برطانیہ میں طالب علم ویزے پر موجود تھا۔ وہ گزشتہ سال یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنے بھائی کے پاس برسٹل گیا تھا۔ بعد میں تعلیمی اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے اس نے نگہداشت کرنے والے کارکن کے طور پر کام شروع کیا۔
برسٹل کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ فضلی قدیر نے اس وقت خاتون کو نشانہ بنایا جب اسے معلوم ہوا کہ ان کے اہل خانہ گھر سے باہر ہوں گے۔ وہ خاتون کے بستر پر چڑھ گیا اور اسے کہا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
عدالت کے مطابق فضلی قدیر نے خاتون کو ہونٹوں پر بوسہ دیا، ان کے جسم کو نامناسب طور پر چھوا اور انہیں طویل جنسی حملے کا نشانہ بنایا۔ واقعے میں زبانی جنسی زیادتی بھی شامل تھی۔
گرفتاری کے بعد فضلی قدیر نے خاتون سے زیادتی کرنے سے انکار کیا۔ بعد میں عدالت میں اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بستر پر موجود معمر خاتون نے خود اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اسے مجرم قرار دیا اور 12 سال قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے فضلی قدیر کو متاثرہ خاتون سے کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ سزا مکمل ہونے کے بعد برطانوی محکمہ داخلہ اس کی امیگریشن حیثیت کا جائزہ لے گا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کے مطابق فضلی قدیر نے ان کی آزادی چھین لی۔
خاتون نے بتایا کہ واقعے کے بعد سے وہ شدید خوف اور ڈراؤنے خوابوں کا شکار ہیں۔ انہیں نیند نہیں آتی اور معمولی آوازیں بھی انہیں خوفزدہ کر دیتی ہیں۔ انہیں مسلسل یہ خدشہ رہتا ہے کہ حملہ آور دوبارہ واپس آ کر انہیں قتل کر دے گا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ فضلی قدیر نے اس سے پہلے کسی اور شخص کو بھی نشانہ بنایا یا نہیں، تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ اسے سزا ملنے سے وہ دوبارہ ایسا جرم کرنے سے روکا جا سکے گا۔
دفاعی وکیل جمیما لوویٹ نے عدالت کو بتایا کہ فضلی قدیر نے مقدمے کے بعد اپنے معذرتی خط میں لکھا تھا کہ وہ مشکل حالات میں پلا بڑھا جہاں تشدد اور خوف کا ماحول موجود تھا۔
وکیل کے مطابق سزا سنائے جانے کے بعد فضلی قدیر نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ بچپن میں وہ خود بھی جنسی زیادتی کا شکار ہوا تھا۔ تاہم عدالت نے موجودہ مقدمے میں اسے معمر اور انتہائی کمزور خاتون کے خلاف جنسی جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 12 سال قید کی سزا سنائی۔
پاکستان کا قیام کوئی اچانک حادثہ یا کسی جابر حملہ آور کے زورِ بازو کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک طویل قانونی و سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے اور اس قانونی جدوجہد کا ایک ایک باب تاریخ کے صفحوں پر محفوظ ہے۔
سندھ اسمبلی کی 1943 کی قرارداد بھی ایک ایسا ہی سنگ میل ہے، جس نے قیامِ پاکستان کی منزل کو آسان بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس قرارداد میں جہاں اور بہت سے نکات اہم ہیں، وہاں سندھ کی جغرافیائی وحدت کو یقینی بنانے کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔
اس تاریخی قرارداد کے اندر صوبائی خود مختاری، جغرافیائی وجود اور وفاق میں ایک خود مختار اکائی کے طور پر شمولیت کے حوالے سے انتہائی اہم قانونی اور آئینی نکات شامل ہیں، جن کا براہِ راست تعلق سندھ کی جغرافیائی و تاریخی وحدت سے ہے۔
قرارداد میں برطانوی حکومت سے یہ قانونی مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کو جب الگ وطن کی شکل دی جائے، تو سندھ کو ایک مکمل، تاریخی اور جداگانہ جغرافیائی اکائی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس قرارداد کا بنیادی قانونی نکتہ یہ تھا کہ وفاق میں شامل ہوتے وقت سندھ کی اپنی ایک جغرافیائی اور تاریخی شناخت ہوگی، جس کی سرحدوں کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکے گی۔
سندھ کو 1936 میں ایک طویل جدوجہد کے بعد آئینی طور پر بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرکے اس کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت بحال کی گئی تھی۔ 1943 کی قرارداد کا ایک اور اہم قانونی نکتہ یہ تھا کہ سندھ اب ایک آزاد صوبائی اسمبلی کا حامل ہے، اس لیے وہ اپنی جغرافیائی حدود اور سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل قانونی حق رکھتا ہے۔
1940کی قراردادِ لاہور کی طرح 1943 کی سندھ اسمبلی کی قرارداد میں بھی ’اسٹیٹس‘ یعنی ریاستوں کا لفظ استعمال ہوا تھا۔ قانونی طور پر اس کا مطلب یہ تھا کہ جو نیا وفاق یا پاکستان بنے گا، اس میں شامل ہونے والے صوبے اپنی حدود کے اندر مکمل طور پر خود مختار ہوں گے، اور ان کی جغرافیائی وحدت اور اندرونی معاملات میں مرکز یا کسی دوسرے صوبے کی مداخلت کا کوئی قانونی جواز نہیں ہوگا۔
مارچ 1943 کو جی ایم سید کی طرف سے اسمبلی میں جو قرارداد پیش کی گئی، اس کا اصل متن انگریزی زبان میں ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس قرارداد کے وہ اصل جملے اور متن جو سندھ کے تاریخی اور جداگانہ جغرافیائی وجود اور اس کے تحفظ کی بنیاد بنے، درج ذیل ہیں
This House recommends to Government to convey to His Majesty’s Government the sentiments of the Muslims of Sindh, that whereas India is inhabited by peoples of different races and religions, whose culture and civilization are distinct, and whereas Sindh has also a historic and distinct entity as a separate unit Therefore, this House declares that the Muslims of India will not accept any constitution which places them under a single central government dominated by another nation. They must be allowed to form their own independent sovereign states in those zones where they are in a majority.
ترجمہ: یہ ایوان حکومت کو سفارش کرتا ہے کہ وہ شہنشاہِ معظم کی حکومت تک سندھ کے مسلمانوں کے یہ جذبات پہنچائے کہ جہاں ہندوستان میں مختلف نسلوں اور مذہبوں کے لوگ آباد ہیں، جن کی ثقافت اور تہذیب ایک دوسرے سے جدا ہے، اور جہاں سندھ بھی بطور ایک علیحدہ اکائی اپنی ایک تاریخی اور جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے یہ ایوان اعلان کرتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان کسی ایسے آئین کو قبول نہیں کریں گے جو انہیں کسی دوسری قوم کے زیرِ اثر ایک ہی مرکزی حکومت کے ماتحت لائے۔ انہیں ان خطوں میں اپنی آزاد اور خود مختار ریاستیں قائم کرنے کی اجازت دی جائے جہاں وہ اکثریت میں ہیں۔
پاکستان کے حق میں سندھ اسمبلی کی اس قرارداد کا اصل مسودہ سندھ اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ اس کی ایک کاپی وائسرائے ہند کے دفتر کے ذریعے وزیرِ امورِ ہند کو بھی بھیجی گئی تھی۔ یہ تمام خط وکتابت اور برطانوی حکومت کو بھیجی گئی اصل نقول آج بھی لندن کی ‘برٹش لائبریری’ کے ‘انڈیا آفس ریکارڈز’ میں محفوظ ہیں۔
اس کے علاوہ اسلام آباد میں واقع ‘نیشنل آرکائیوز آف پاکستان’ میں بھی اس اہم مسودے کی نقول موجود ہیں۔
اس تمام تر بحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ اگر کوئی گھر یا دکان بھی کرایے پر لی جائے یا خریدی جائے، تو اس کے تمام قانونی پہلو دیکھے، پرکھے اور جانچے جاتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی بھی آئے اور اپنا بوریا بستر جما کر بیٹھ جائے۔
جب سندھ کو پاکستان میں شامل کیا جا رہا تھا، تو قانون سازوں نے سندھ کی اپنی جغرافیائی وحدت کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا تھا۔ جب بھی کوئی قضیہ عدالت کے روبرو جاتا ہے، تو عدالت فریقین کو بنیادی معاہدے اور دستاویزات حاضر کرنے کا حکم دیتی ہے۔
سندھ اسمبلی کی 1943 کی قرارداد بھی ایسی ہی ایک بنیادی اور مقتدر دستاویز ہے، جو سندھ کی وحدانیت کے مقدمے کو ناقابلِ شکست بناتی ہے۔
لاہور میں ڈیف ریچ نے اپنے قیام کے چھ سال مکمل ہونے اور سمر کیمپ کے اختتام پر ایک تقریب کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان بھر میں سماعت سے محروم نوجوانوں کے لیے تعلیمی، سماجی اور معاشی مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ڈیف ریچ، فیملی ایجوکیشنل سروسز فاؤنڈیشن کا ایک پروگرام ہے جو سماعت سے محروم بچوں اور نوجوانوں کے لیے تعلیم اور بااختیار بنانے کے منصوبوں پر کام کرتا ہے۔ ادارے کے مطابق اس کی سرگرمیوں کا دائرہ بڑے شہری مراکز سے آگے دیہی علاقوں تک بھی پھیلا ہوا ہے، جہاں معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور مستقبل کے مواقع تک رسائی میں اضافی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔
تقریب میں کارپوریٹ شعبے، تعلیمی اداروں، شراکت دار تنظیموں، رضاکاروں اور سماعت سے محروم افراد کی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکا کی شرکت نے اس امر کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ محروم اور کم سہولیات رکھنے والی برادریوں کے لیے مواقع بڑھانے میں مختلف اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈیف ریچ کے ڈائریکٹر ڈینیئل مارک نے شریک اداروں، مہمانوں اور رضاکاروں کا مسلسل تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جامع معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا، ‘ہم سب کو آگے بڑھ کر سماعت سے محروم افراد کی برادری کے لیے مواقع پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔’
ڈیف ریچ پاکستان میں سماعت سے محروم طلبہ کے لیے کام کرنے والے چند مخصوص تعلیمی نیٹ ورکس میں شامل ہے۔ ادارہ تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے اور انہیں معاشرے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے پر بھی توجہ دیتا ہے۔
اس موقع پر ڈیف ریچ سمر کیمپ بھی اختتام پذیر ہوا، جس میں نوجوان شرکا اور رضاکاروں نے مختلف تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ کیمپ کے دوران طلبہ کو نئی مہارتیں سیکھنے، اپنے ساتھیوں کے ساتھ وقت گزارنے اور ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے گئے جن کا مقصد ان کے اعتماد اور ذاتی صلاحیتوں کو بہتر بنانا تھا۔
تقریب میں پیکیجز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور گروپ ہیڈ آف ایکسٹرنل افیئرز سید اسلم مہدی، طری زمین پر ٹرسٹ ملتان کی چیف ایگزیکٹو افسر فادیہ کاشف، سیفائر فنشنگ ملز لمیٹڈ، سیون اپ، ڈی ڈبلیو پی گروپ کے شعبہ انسانی وسائل کے سربراہ عمران، مارکیٹنگ ایکٹیویشن کی چیف ایگزیکٹو افسر عتیزہ، این ڈی ایل ایچ آر، چیزئیس کی مارکیٹنگ ہیڈ عائشہ اور اسٹائل ٹیکسٹائل کے نمائندگان نے شرکت کی۔
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، ایل جی ایس، یو سی پی، کریسنٹ اسکول اور آرٹ لائن سے وابستہ رضاکاروں اور نمائندگان نے بھی سمر کیمپ اور سالگرہ کی سرگرمیوں میں تعاون کیا۔
کارپوریٹ اداروں، تعلیمی اداروں اور رضاکاروں کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سماعت سے محروم نوجوانوں سمیت ان برادریوں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں شراکت داری اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جو اب بھی تعلیم اور دیگر بنیادی مواقع تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔
ڈیف ریچ اب اپنے 7ویں سال میں داخل ہو رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں سماعت سے محروم نوجوانوں کے لیے تعلیم اور بااختیار بنانے کے مواقع بڑھانے پر توجہ برقرار رکھی جائے گی، بالخصوص ان نوجوانوں کے لیے جو معاشی رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں
پروگرام کا وسیع تر مقصد سماعت سے محروم نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور اعتماد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے میں زیادہ بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور اپنے لیے آزاد اور باوقار مستقبل تشکیل دے سکیں۔
موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا کوئی خدشہ نہیں رہی، بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کے لیے ایک موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔
شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، تباہ کن سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور گلیشیئرز کا پگھلنا جیسے واقعات نہ صرف انسانی زندگیوں اور ماحول کو متاثر کر رہے ہیں، بلکہ معیشت، زراعت، صنعت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر بھی براہِ راست اثرانداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اگرچہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی اور مالیاتی استحکام کا بھی سوال ہے۔ جب سیلاب سے زرعی زمینیں تباہ ہوتی ہیں، کاروبار بند ہوتے ہیں، سڑکیں اور پل متاثر ہوتے ہیں اور صنعتوں کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات بالآخر بینکنگ نظام تک بھی پہنچتے ہیں۔
قرض لینے والے کسان اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں، قرضوں کی واپسی مشکل ہو سکتی ہے اور بینکوں کے مالیاتی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بینک اور مالیاتی ادارے موسمیاتی خطرات کو اپنے مالیاتی فیصلوں کا حصہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی گرین بینکنگ کا تصور اب صرف ماحول دوست منصوبوں کو قرض دینے تک محدود نہیں رہا، بلکہ مالیاتی نظام کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کی جانب بھی بڑھ رہا ہے۔
گرین بینکنگ آخر ہے کیا؟
گرین بینکنگ سے مراد ایسا مالیاتی نظام ہے، جس میں بینک اپنے وسائل ایسے منصوبوں کی جانب منتقل کریں جو ماحول کے تحفظ، کاربن کے اخراج میں کمی، وسائل کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مددگار ہوں۔
قابلِ تجدید توانائی، شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، توانائی کی بچت، ماحول دوست عمارتیں، صاف ستھری ٹرانسپورٹ، پانی کا مؤثر استعمال، کچرے کا بہتر انتظام، دوبارہ استعمال ہونے والی اشیا کی تیاری، پائیدار زراعت اور موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے والے منصوبے ایسے شعبے ہیں، جنہیں ماحول دوست مالیاتی معاونت کے ذریعے فروغ دیا جا سکتا ہے۔
لیکن گرین بینکنگ کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ بینکوں کو یہ دیکھنا ہوگا کہ جن منصوبوں کو وہ قرض دے رہے ہیں، وہ مستقبل میں موسمیاتی خطرات کے باعث مالیاتی نقصان کا سبب تو نہیں بنیں گے۔
یعنی سوال صرف یہ نہیں کہ بینک ماحول دوست منصوبوں کو کتنا قرض دے رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسے منصوبوں میں کتنی سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو مستقبل میں موسمیاتی یا ماحولیاتی خطرات کے باعث مالیاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
2017 سے شروع ہونے والا سفر
پاکستان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 9 اکتوبر 2017 کو گرین بینکنگ گائیڈ لائنز متعارف کرائیں۔ ان ہدایات میں تین بنیادی پہلوؤں پر توجہ دی گئی: ماحولیاتی خطرات کو بینکوں کے مالیاتی خطرات کے انتظام میں شامل کرنا، ماحول دوست کاروبار اور صاف توانائی کے منصوبوں کی مالی معاونت کو فروغ دینا، اور خود بینکوں کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا۔
یہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں ماحول اور موسمیاتی خطرات کو باقاعدہ طور پر شامل کرنے کی ایک اہم پیش رفت تھی۔
اس کے بعد نومبر 2022 میں اسٹیٹ بینک نے ماحولیاتی اور سماجی خطرات کے انتظام کا عملی رہنما کتابچہ جاری کیا، جس کے ذریعے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے ماحولیاتی، سماجی اور موسمیاتی خطرات کی جانچ اور انتظام کے عملی طریقے فراہم کیے گئے۔
لیکن 2025 میں اس حوالے سے پالیسی کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔
2025 گرین بینکنگ کے لیے ایک اہم موڑ
2025 میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے پائیدار مالیات اور موسمیاتی خطرات کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کیے گئے۔ ان اقدامات نے گرین بینکنگ کو صرف ماحول دوست منصوبوں کی مالی معاونت سے آگے بڑھا کر پورے مالیاتی نظام کے موسمیاتی خطرات کے انتظام سے جوڑ دیا۔
دسمبر 2025 میں اسٹیٹ بینک نے پاکستان گرین ٹیکسانومی بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے متعارف کرائی۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کون سی معاشی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری حقیقی معنوں میں ماحول دوست تصور کی جا سکتی ہیں۔
اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اگر گرین منصوبوں کی واضح تعریف موجود نہ ہو تو کسی بھی منصوبے کو ماحول دوست قرار دینا آسان ہو جاتا ہے، جس سے گرین واشنگ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان گرین ٹیکسانومی کا مقصد مالیاتی اداروں کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ ان کا سرمایہ کن سرگرمیوں میں جا رہا ہے اور کیا وہ واقعی پاکستان کے ماحولیاتی اور موسمیاتی اہداف سے مطابقت رکھتے ہیں۔
صرف گرین سرمایہ کاری نہیں، موسمیاتی مالیاتی خطرات بھی
2025 میں ایک اور اہم قدم موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی خطرات کے مؤثر انتظام کا ضابطہ کار جاری کرنا تھا۔
اس ضابطہ کار کے ذریعے بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں اور دیگر مالیاتی اداروں کو موسمیاتی خطرات کو اپنی انتظامی نگرانی، کاروباری حکمت عملی اور مالیاتی خطرات کے انتظام میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالیاتی اداروں کو 30 جون 2029 تک اس ضابطہ کار پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا، جبکہ انہیں ستمبر 2029 تک بورڈ سے منظور شدہ عملدرآمد کا منصوبہ اور اہداف بھی جمع کرانے ہوں گے۔
موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات دو اقسام کے ہو سکتے ہیں۔ ایک براہِ راست موسمیاتی مالیاتی خطرہ، یعنی سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی یا دیگر موسمیاتی واقعات کے باعث براہِ راست ہونے والا نقصان۔ دوسرا موسمیاتی منتقلی کا مالیاتی خطرہ، یعنی دنیا کی کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی کے نتیجے میں بعض روایتی اور زیادہ کاربن والے کاروباروں کی قدر یا منافع میں کمی۔
اگر کسی بینک نے کسی ایسے کاروبار کو بڑا قرض دیا ہو جو مستقبل میں سخت ماحولیاتی قوانین یا صاف توانائی کی جانب منتقلی کے باعث مشکلات کا شکار ہو جائے تو یہ بینک کے لیے بھی مالیاتی خطرہ بن سکتا ہے۔
موسمیاتی دباؤ کی جانچ: بینک مستقبل کا خطرہ کیسے جانچیں گے؟
2025 میں اسٹیٹ بینک نے موسمیاتی دباؤ کی جانچ کی رہنما ہدایات بھی جاری کیں۔ ان ہدایات کے تحت مالیاتی اداروں کو موسمیاتی خطرات کی مختلف ممکنہ صورتِ حال کے ذریعے یہ جانچنے کی ضرورت ہوگی کہ شدید موسمیاتی واقعات یا کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی ان کے قرضوں اور مالیاتی حیثیت کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہے۔
اب بینکوں کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں ہوگا کہ قرض لینے والا آج قرض واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ انہیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی یا ماحولیاتی پالیسی میں تبدیلی آتی ہے تو اس کاروبار یا منصوبے کی مالیاتی حیثیت کیا ہوگی۔
یعنی موسمیاتی تبدیلی اب بینک کے مالیاتی خطرات کے انتظام کا بھی حصہ بن رہی ہے۔
کوئلہ یا قابلِ تجدید توانائی؟
پاکستان کو ایک طرف توانائی کی شدید ضرورت ہے اور دوسری طرف اسے موسمیاتی بحران کا سامنا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بینکوں کے لیے یہ فیصلہ اہم بن جاتا ہے کہ ان کا سرمایہ کس شعبے میں جائے۔
اگر بینک اپنا سرمایہ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں، توانائی کی بچت، برقی ٹرانسپورٹ، ماحول دوست عمارتوں، پانی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں میں منتقل کریں تو اس سے نہ صرف ماحول کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، بلکہ نئی صنعتیں، روزگار اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال موجود ہے: پاکستان کے بینکوں کی مجموعی مالیاتی معاونت میں ماحول دوست منصوبوں کا حقیقی حصہ کتنا ہے؟ اس کے مقابلے میں ایسے شعبوں کو کتنی مالیاتی معاونت دی جا رہی ہے، جن کا کاربن اخراج زیادہ ہے؟
یہ وہ اعداد و شمار ہیں، جنہیں عوام کے سامنے زیادہ شفاف انداز میں لانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان گرین ٹیکسانومی: گرین واشنگ کے خلاف ایک قدم؟
پاکستان گرین ٹیکسانومی اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کون سی معاشی سرگرمی واقعی ماحول دوست ہے اور کون سی نہیں۔
اسٹیٹ بینک نے دسمبر 2025 میں بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان گرین ٹیکسانومی کو اپنی گرین بینکنگ پالیسیوں کی تشکیل اور تجدید کے لیے رہنما کے طور پر استعمال کریں۔
اس سے مستقبل میں ماحول دوست مالیاتی معاونت کی رپورٹنگ زیادہ واضح ہو سکتی ہے، لیکن اصل امتحان اس کے عملی نفاذ کا ہوگا۔
کیونکہ کسی منصوبے پر صرف ’’گرین‘‘ کا لیبل لگانا کافی نہیں۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس منصوبے سے واقعی کاربن کا اخراج کتنا کم ہوا، توانائی کی بچت کتنی ہوئی، پانی کے استعمال میں کیا بہتری آئی اور مقامی آبادی کو کیا فائدہ پہنچا۔
ماہرین کی رائے کیا ہے؟
سینئر صحافی اور ماحولیاتی ماہر امر گرڑو کے مطابق حقیقی اثرات کی پیمائش ضروری ہے، صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ بینک نے گرین منصوبوں کو کتنی رقم دی۔ اصل اثر جانچنے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس سرمایہ کاری سے کاربن کا اخراج کتنا کم ہوا، کتنی توانائی اور پانی محفوظ ہوا اور ماحول پر کیا مثبت اثر پڑا۔
ان کے مطابق پاکستان میں اس حوالے سے نگرانی اور شفاف رپورٹنگ کا نظام ابھی اتنا مضبوط نہیں کہ ہر گرین سرمایہ کاری کے حقیقی ماحولیاتی اثرات واضح طور پر سامنے آ سکیں۔
امر گرڑو کا کہنا ہے کہ بینک قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر سولر فنانسنگ، کی جانب ضرور بڑھ رہے ہیں، لیکن مجموعی بینکنگ سرمایہ کاری میں گرین منصوبوں کا حصہ اب بھی محدود ہے۔ اصل چیلنج پالیسی بنانے سے زیادہ اس پر مؤثر عملدرآمد اور نگرانی کا ہے۔
ان کے مطابق جب تک بینکوں کی سرمایہ کاری کو واضح موسمیاتی اہداف سے نہیں جوڑا جائے گا، گرین بینکنگ اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکے گی۔
اگر بینکوں کی سرمایہ کاری کو گرین بنانے کے لیے سخت ماحولیاتی معیار نافذ کیے جائیں تو اس کا پاکستان کی معیشت، صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری پر کیا اثر پڑے گا؟ اس سوال پر امر گرڑو کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں صنعت اور بینکوں کے لیے کچھ اضافی لاگت آ سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
ان کے مطابق صاف ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور گرین صنعتوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماحولیاتی منتقلی مرحلہ وار ہونی چاہیے تاکہ صنعت اور سرمایہ کار اچانک مالیاتی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
امر گرڑو کے مطابق پاکستان کے موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے بینکوں کو اپنی سرمایہ کاری میں موسمیاتی موافقت اور ماحول دوست منصوبوں کو واضح ترجیح دینی چاہیے۔ تاہم کوئی ایک مقررہ فیصد اسی وقت مؤثر ہوگا، جب منصوبوں کی ضرورت اور ماحولیاتی اثرات کو بھی سامنے رکھا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو واضح پالیسی اور مراعات، اسٹیٹ بینک کو مؤثر ضابطہ اور نگرانی، جبکہ بینکوں کو اپنی ماحولیاتی ذمہ داری خود قبول کرنی ہوگی۔
اگر کسی منصوبے کو ماحول دوست ظاہر کیا جا رہا ہو، لیکن اس کے حقیقی ماحولیاتی اثرات آلودگی یا کاربن کے اخراج میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہوں تو یہ گرین واشنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے ہر گرین قرض یا سرمایہ کاری کے قابلِ پیمائش ماحولیاتی اہداف، آزاد آڈٹ، شفاف رپورٹنگ اور سرمایہ کاری کے بعد نگرانی ضروری ہے۔
ان کے مطابق صرف کسی منصوبے کو ’’گرین‘‘ قرار دینا کافی نہیں، اس کا حقیقی ماحولیاتی نتیجہ بھی ثابت ہونا چاہیے۔
ماحولیاتی ماہر شبینہ فراز: گرین بینکنگ کے ساتھ کوئلے سے گریز کی پالیسی ضروری
ماحولیاتی ماہر شبینہ فراز کا کہنا ہے کہ آج کل ماحول کی بہتری اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا ہر شعبے کی ترجیح ہے، یہی وجہ ہے کہ اب صرف ترقی نہیں بلکہ پائیدار ترقی کی بات کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق پائیداری ہر کامیاب کاروبار کا ایک اہم جزو تصور کی جاتی ہے۔ پائیداری سے مراد قدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر کسی معاشرے کی کسی خاص رفتار یا سطح پر برقرار رہنے کی صلاحیت ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ پائیداری کے تین بنیادی عناصر ماحول، سماج اور انتظامی نظم و نسق ہیں اور یہ تینوں عناصر اب ہر کاروبار کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
شبینہ فراز کے مطابق 2017 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گرین بینکنگ گائیڈ لائنز جاری کی تھیں، جن کی بنیاد پر بینکوں نے اپنے نظام کو بہتر بنایا تاکہ اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر بہتر طریقے سے عمل کیا جا سکے۔
ان کے مطابق بینکوں کو فوری طور پر کوئلے سے گریز کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ کوئلے کے کسی بھی کاروبار میں سرمایہ کاری خود بینکوں کے لیے خطرہ قرار دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بینکوں کو کوئلے سے توانائی اور کوئلے کی کانوں کے منصوبوں میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کرنا چاہیے اور اپنا سرمایہ قابلِ تجدید توانائی اور ماحول دوست شعبوں کی جانب منتقل کرنا چاہیے۔
شبینہ فراز کے مطابق اگر بینک کوئلے پر مبنی سرمایہ کاری جاری رکھیں گے تو آلودہ توانائی کا کاروبار جاری رہے گا اور فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
وہ گرین ٹیکسانومی کی اہمیت پر بھی زور دیتی ہیں۔ ان کے مطابق گرین ٹیکسانومی کا مقصد مالیاتی وسائل کو ماحول دوست منصوبوں کی جانب منتقل کرنا ہے۔ دنیا بھر میں گرین ٹیکسانومی کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے مختلف شعبوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق مرکزی بینک اپنے اختیار کے تحت مختلف شعبوں کو مراعات دے سکتا ہے، جس کی مثال قابلِ تجدید توانائی کی اسکیم میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں گرین ٹیکسانومی کی تشکیل ماحول دوست سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماحولیاتی ماہر رفیع الحق کا کہنا ہے کہ اگر بینک ماحول دوست ہونے کا دعویٰ کریں، لیکن دوسری جانب ایسے منصوبوں یا کمپنیوں کو قرض دیں جو آلودگی اور کاربن کے اخراج میں اضافہ کریں تو اسے گرین واشنگ کہا جا سکتا ہے۔
اس کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ بینک اپنی سرمایہ کاری کی مکمل معلومات فراہم کریں، ماحول دوست منصوبوں کی آزادانہ جانچ کی جائے اور گرین ٹیکسانومی کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے۔
صرف پالیسیاں اور گائیڈ لائنز کافی نہیں، ان پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک نگرانی اور ضابطہ کار کا کردار ادا کریں، جبکہ بینک عملی طور پر ان اصولوں پر عمل کریں۔
شفافیت، آزادانہ جانچ، سخت نگرانی اور خلاف ورزی پر کارروائی ہی گرین واشنگ کی روک تھام کا مؤثر طریقہ ہے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی دور رس معاشی خطرہ ہے
ماہرینِ معیشت کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ایک دور رس خطرہ ہے۔ قدرتی آفات کی اقتصادی لاگت پہلے ہی پاکستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ آئی ایم ایف نے ان آفات کی مجموعی معاشی لاگت کا تخمینہ 58 ارب ڈالر لگایا ہے۔
مئی 2025 میں آئی ایم ایف نے لچک اور پائیداری کی سہولت کے تحت اضافی 1.4 ارب ڈالر کی منظوری دی تاکہ پاکستان کو موسمیاتی خطرات اور قدرتی آفات کے خلاف اقتصادی لچک بڑھانے میں مدد مل سکے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی لچک دار معیشت کی تعمیر کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ماحولیاتی اور سماجی خطرات کی نمائش کو کم کریں اور موسمیاتی آفات سے خود کو اور اپنے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے گرین طریقوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
2017 کی گرین بینکنگ گائیڈ لائنز نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی آپریشنز اور مالیاتی سرگرمیوں سے متعلق ماحولیاتی اور سماجی خطرات کا انتظام کریں۔
2022 کا ماحولیاتی اور سماجی رسک مینجمنٹ امپلیمینٹیشن مینوئل ماحولیاتی اور سماجی خطرے کی درجہ بندی کے لیے معیاری اوزار متعارف کرا کر، بینکوں کے اپنے ماحولیاتی اثرات کی نگرانی اور گرین شعبوں کو قرض دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے موسمیاتی لچک دار معیشت کی جانب منتقلی کی حمایت کرتا ہے۔
2025 کی گرین ٹیکسانومی معاشی سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے، جو گرین فنانس کے لیے اہل ہو سکتی ہیں۔
گرین فنانس میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے؟
اسٹیٹ بینک کی مانیٹرنگ رپورٹس اور عوامی انکشافات مالیاتی شعبے کو سرسبز بنانے کی جانب پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مقامی طور پر کام کرنے والے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کے پاس اب نامزد گرین بینکنگ افسر موجود ہے۔ 79 فیصد بینکوں نے ماحولیاتی رسک مینجمنٹ، گرین کاروبار کی سہولت اور اپنے کاربن کے اخراج میں کمی سے متعلق گرین بینکنگ پالیسیوں کی منظوری دی ہے، جبکہ 69 فیصد نے اپنے کریڈٹ رسک اسیسمنٹ کے طریقہ کار میں ماحولیاتی خطرے کو ضم کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی قابلِ تجدید توانائی ری فنانس اسکیم، جو 2016 میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی تھی، گرین فنانس کی ایک اہم مثال ہے۔ اس سہولت کے تحت 2024 تک 94.7 ارب روپے تقسیم کیے گئے، 4,500 سے زائد قابلِ تجدید توانائی کی تنصیبات کو سہارا دیا گیا اور 2,061 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کی گئی۔
اسٹیٹ بینک اب گرین بانڈز اور صکوک کو بھی فروغ دے رہا ہے، جبکہ گرین ٹیکسانومی سے منسلک اہلیت کے معیار مالیاتی شعبے کو مزید گرین بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
پاکستان کے پہلے گرین صکوک کا اجرا، جس کی مالیت 30 ارب روپے ہے، گرین فنانس اور پائیدار سرمایہ کاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
مائیکرو فنانس بینکوں نے الیکٹرک بائیکس اور آب و ہوا کے لیے لچک دار زرعی ٹیکنالوجیز کے لیے مائیکرو لون متعارف کرائے ہیں۔ کئی مالیاتی اداروں اور انشورنس کمپنیوں نے فصلوں کی انشورنس کی ایسی مصنوعات بھی متعارف کرائی ہیں، جو قدرتی آفات سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
عام آدمی کو کیا ملا؟
یہاں گرین بینکنگ کا سب سے اہم سوال سامنے آتا ہے۔
اگر کوئی بینک کسی بڑی کمپنی کو شمسی توانائی کے منصوبے کے لیے کروڑوں یا اربوں روپے کا قرض فراہم کرتا ہے تو اسے گرین فنانس کہا جا سکتا ہے، لیکن کیا ایک چھوٹا کسان بھی آسان شرائط پر شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل کے لیے قرض حاصل کر سکتا ہے؟
کیا چھوٹا کاروباری شخص اپنی دکان یا ورکشاپ کو توانائی کے مؤثر نظام پر منتقل کرنے کے لیے آسان مالیاتی معاونت حاصل کر سکتا ہے؟
کیا کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے شمسی نظام، توانائی کی بچت اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں تک بینکنگ سہولت موجود ہے؟
کیا موسمیاتی آفات سے متاثر کسانوں اور کمزور آبادی کے لیے ایسا مالیاتی نظام موجود ہے، جو انہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دے سکے؟
اگر گرین فنانس کا بڑا حصہ صرف بڑے کاروباری منصوبوں تک محدود رہے تو اس کے ماحولیاتی فوائد تو ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا سماجی اثر محدود رہ جائے گا۔
کسان اور موسمیاتی مالیاتی معاونت
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا بوجھ زراعت پر پڑتا ہے۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، پانی کی قلت اور فصلوں کے بدلتے موسموں کے باعث کسانوں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں گرین بینکنگ کو زرعی مالیاتی معاونت سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
کیا بینک ایسے کسانوں کو قرض دے رہے ہیں، جو ڈرپ اریگیشن، شمسی ٹیوب ویل، پانی کی بچت، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والی فصلوں اور توانائی کے مؤثر آلات کی جانب منتقل ہونا چاہتے ہیں؟
اگر بینکوں کی مالیاتی معاونت موسمیاتی موافقت میں مدد کرے تو یہ نہ صرف کسانوں بلکہ بینکوں کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے، کیونکہ زیادہ موسمیاتی لچک رکھنے والا کاروبار مستقبل میں قرض واپس کرنے کی بہتر صلاحیت رکھ سکتا ہے۔
سندھ میں گرین فنانس اور کاربن مارکیٹ کے مواقع
موسمیاتی مالیات کا معاملہ صرف بینکوں تک محدود نہیں، بلکہ صوبائی سطح پر بھی اس کے وسیع معاشی امکانات موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کے ماحولیاتی مشیر دوست محمد راہمون نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی ترقی، غذائی تحفظ، آبی وسائل اور توانائی کے مستقبل سے جڑا ایک بنیادی چیلنج ہے۔
ان کے مطابق سندھ میں ماحول دوست 13 بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں مینگروز، ونڈ پاور، بائیو گیس، صاف ایندھن، محفوظ پانی اور الیکٹرک گاڑیاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی منصوبوں کے ذریعے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی اور سندھ کے لیے عالمی کاربن مارکیٹ سے سرمایہ کاری اور کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
دوست محمد راہمون کے مطابق سندھ میں ایسے کئی منصوبے موجود ہیں، جنہیں عالمی کاربن مارکیٹ سے جوڑ کر نہ صرف ماحول کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے بلکہ روزگار، صنعتی ترقی اور پائیدار معیشت کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
سندھ حکومت: ماحول محفوظ ہوگا تو معیشت مضبوط ہوگی
سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی فیصل عقیلی نے کہا کہ پاکستان نے پیرس معاہدے کے تحت نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹریبیوشنز، این ڈی سی 3.0، کے اہداف مقرر کیے ہیں اور سندھ حکومت ان اہداف پر مؤثر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ان کے مطابق 2030 تک کاربن کے اخراج میں 50 فیصد کمی کا عالمی وعدہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا مقصد ایسے منصوبوں کی نشاندہی کرنا ہے، جو ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی موسمیاتی اور کاربن فنڈ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
فیصل عقیلی کے مطابق ماحول محفوظ ہوگا تو معیشت مضبوط ہوگی۔ دنیا بھر میں ماحولیاتی منصوبوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جو فضائی آلودگی اور کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی لاتی ہے۔
ان کے مطابق ماحولیاتی منصوبوں کو کاربن کریڈٹ ملتے ہیں، جن کے ذریعے عالمی اداروں اور سرمایہ کاروں سے مالیاتی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔ کاربن مارکیٹ کو ماحول کے تحفظ، معاشی ترقی، روزگار اور نئی سرمایہ کاری کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور عالمی کاربن مارکیٹ میں شمولیت ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ صنعتوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں گرین منتقلی کے عمل میں آگے بڑھایا جائے۔
کاربن فنانس: پاکستان کے لیے نیا معاشی موقع؟
ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلائمیٹ چینج اینڈ کاربن فنانس سید امداد شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں کاربن ٹریڈنگ منظم ایس او پیز کے تحت ہوتی ہے اور نیشنل رجسٹری کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں کاربن کریڈٹس فروخت کیے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق صنعتی ترقی کے ساتھ ماحول کو صاف رکھنے کے لیے ملین ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کاربن کریڈٹس کے ذریعے اس کی تلافی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کاربن فضا میں خارج کرتے ہیں تو ہمیں اسے کم بھی کرنا ہوگا۔ اگر کوئی ملک یا منصوبہ مقررہ مقدار سے زیادہ اخراج میں کمی حاصل کرتا ہے تو دنیا اس اضافی کمی کو خرید سکتی ہے، جس سے معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
یہ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ موسمیاتی اقدامات کو صرف اخراجات کے بجائے مستقبل کی سرمایہ کاری اور آمدنی کے ایک ممکنہ ذریعے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
پانی، توانائی اور خوراک کا باہمی تعلق
اسلامی ترقیاتی بینک کے ماہرین نے بتایا کہ پانی، توانائی اور خوراک کے وسائل کا بہتر اور متوازن استعمال نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے، بلکہ اس سے سندھ میں عالمی سرمایہ کاری، کلائمیٹ فنانس اور کاربن فنانس کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق تمام ادارے باہمی تعاون سے ایسے عملی اور قابلِ عمل منصوبے تیار کریں گے، جن سے سندھ میں ماحول کا تحفظ، روزگار کے نئے مواقع، سرمایہ کاری میں اضافہ اور صوبے کی پائیدار ترقی کو فروغ مل سکے۔
بینکوں کے لیے موسمیاتی خطرہ بھی ایک مالیاتی خطرہ ہے
موسمیاتی تبدیلی بینکوں کے لیے صرف اخلاقی یا ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ براہِ راست مالیاتی خطرہ بھی ہے۔
سیلاب یا خشک سالی کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہو تو کسان کے لیے قرض واپس کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ شدید گرمی یا سیلاب سے فیکٹری متاثر ہو تو کاروباری قرض خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح اگر دنیا تیزی سے کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقل ہوتی ہے تو کوئلے اور زیادہ کاربن خارج کرنے والے بعض شعبوں میں کی گئی سرمایہ کاری مستقبل میں مالیاتی خطرہ بن سکتی ہے۔
2025 کی موسمیاتی دباؤ کی جانچ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی خطرات کے مؤثر انتظام کا ضابطہ کار اسی سوچ کو مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کی کوششیں ہیں۔
پالیسی سے عملی اقدام تک
پاکستان میں اب گرین بینکنگ کے لیے پالیسی کا نظام پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ واضح ہو چکا ہے۔
2017 میں گرین بینکنگ گائیڈ لائنز آئیں، 2022 میں ماحولیاتی اور سماجی خطرات کے انتظام کا عملی رہنما کتابچہ جاری ہوا، جبکہ 2025 میں پاکستان گرین ٹیکسانومی، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی خطرات کے مؤثر انتظام کا ضابطہ کار اور موسمیاتی دباؤ کی جانچ کی رہنما ہدایات سامنے آئیں۔
یعنی پالیسی کا سفر اب صرف ’’گرین منصوبوں کو قرض دینے‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’پورے مالیاتی نظام کو موسمیاتی خطرات کے لیے تیار کرنے‘‘ تک پہنچ چکا ہے۔
لیکن اصل امتحان اب عملدرآمد کا ہے۔
بینکوں کے لیے صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ ان کی پالیسی ماحول دوست ہے۔ ضروری ہے کہ وہ واضح کریں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گرین منصوبوں کو کتنا قرض دیا گیا، کن شعبوں کو دیا گیا، کتنے چھوٹے کاروبار اور کسان اس سے فائدہ اٹھا سکے اور ان سرمایہ کاریوں سے کاربن کے اخراج، توانائی یا پانی کے استعمال میں کیا تبدیلی آئی۔
اصل سوال اب بھی باقی ہے
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ حکومت اکیلے یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ نجی شعبے، بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو اس عمل میں شریک ہونا ہوگا۔
لیکن گرین بینکنگ کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے بینک ماحول دوست پالیسی بنا چکے ہیں یا کتنی رپورٹس جاری ہوئی ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ بینکوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
کیا یہ کوئلے اور زیادہ کاربن والے منصوبوں کو مضبوط کر رہا ہے یا قابلِ تجدید توانائی کو؟
کیا گرین فنانس بڑے سرمایہ کاروں تک محدود ہے یا کسان، چھوٹے کاروبار اور موسمیاتی متاثرہ آبادی بھی اس سے فائدہ اٹھا رہی ہے؟
کیا بینک اپنے قرضوں کے مجموعی حجم میں براہِ راست موسمیاتی مالیاتی خطرے اور موسمیاتی منتقلی کے مالیاتی خطرے کو واقعی شامل کر رہے ہیں؟
کیا گرین ٹیکسانومی کے نفاذ کے بعد گرین واشنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی، آزادانہ جانچ اور شفاف رپورٹنگ موجود ہوگی؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا پاکستان میں گرین بینکنگ واقعی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عملی قدم بن رہی ہے یا اب بھی پالیسی، رپورٹس اور کاغذی وعدوں تک محدود ہے؟
2025 کے پالیسی اقدامات نے پاکستان کے مالیاتی نظام کو ایک واضح سمت ضرور دی ہے، لیکن پالیسی اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ اب بھی باقی ہے۔
پاکستان کے لیے اب سوال یہ نہیں کہ گرین بینکنگ کی ضرورت ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کے بعد بینکوں کی سرمایہ کاری کے رخ میں حقیقتاً کتنی تبدیلی آئی ہے؟
اگر بینکوں کی سرمایہ کاری قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی موافقت، پائیدار زراعت، صاف ٹیکنالوجی، پانی کے مؤثر استعمال اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقل ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک نئے معاشی ماڈل کی بنیاد بن سکتی ہے۔
لیکن اگر گرین فنانس صرف چند بڑے منصوبوں، رپورٹس اور ’’گرین‘‘ کے لیبل تک محدود رہا تو اس کے حقیقی موسمیاتی اور سماجی اثرات محدود رہیں گے۔
موسمیاتی بحران ہر سال زیادہ شدید ہو رہا ہے۔ مالیاتی نظام جتنی جلد ماحول دوست سرمایہ کاری، موسمیاتی موافقت اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقل ہوگا، اتنا ہی پاکستان کے لیے مستقبل کے موسمیاتی اور معاشی نقصانات کو کم کرنا ممکن ہوگا۔
گرین بینکنگ دراصل صرف بینکوں کی پالیسی نہیں، پاکستان کی مستقبل کی معیشت کا سوال ہے۔
بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سیاست کی تاریخ میں اگست 2026 کا یہ مہینہ ایک ایسے تزویراتی موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں جغرافیائی سیاست اور ماحولیاتی آفات نے مل کر دنیا کا نقشہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔
ایک طرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی ‘مکہ جوائنٹ ڈیٹرنس اگریمنٹ’، یعنی مکہ اکارڈ، پر دستخط کر کے مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری تسلط کے خاتمے کا بگل بجا دیا ہے۔
لیکن دوسری طرف، اسی خطے میں ایران نے سخت گیر جرنیلوں کی نئی عسکری صف بندی کر کے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر کے ایک نئی سرد جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سیکیورٹی کے اس ابلتے ہوئے لاوے کے بیچ، بحر الکاہل کے ساحل پر طوفان نوح کا منظر پیش کرتے ہوئے چین کا سب سے بڑا معاشی مرکز، شنگھائی، ‘ٹائیفون ڈولفن’ کی طوفانی بارشوں میں ڈوب گیا ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب انسانوں کے بنائے ہوئے عسکری بلاک قدرت کے ماحولیاتی ہتھیاروں کے سامنے موم کی دیوار ہیں۔
ان تمام متصادم عالمی لہروں کے عین مرکز میں پاکستان کھڑا ہے، جسے بیک وقت اپنی معاشی بقا، ماحولیاتی سفارت کاری اور سفارتی پل کا سب سے بڑا امتحان دینا ہے۔
مکہ اکارڈ اور مشرق وسطیٰ کا نیا سیکیورٹی ڈھانچہ
مکہ اکارڈ مسلم دنیا کی تزویراتی تاریخ کا ایک انقلابی اور کثیر قطبی قدم ہے۔ نیٹو کے آرٹیکل پانچ کی طرز پر بنائے گئے اس ‘اجتماعی دفاعی معاہدے’ کی رو سے اب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ میں سے کسی ایک پر بھی مسلح بیرونی حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ بنیادی طور پر سعودی عرب کی جانب سے واشنگٹن کی سیکیورٹی چھتری پر عشروں پرانے انحصار کو ختم کرنے کا آغاز ہے۔ خلیج فارس کے دفاع کے لیے اب امریکی پینٹاگون کے بجائے ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی جوہری و روایتی عسکری قوت کو ضامن بنایا گیا ہے۔ اگرچہ بانی ممالک نے اسے خالصتاً ‘دفاعی’ قرار دیا ہے، لیکن واشنگٹن اور نئی دہلی میں اس نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ بلاک خلیج میں امریکی بالادستی کو براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔
ایران کی عسکری صف بندی اور مکہ اتحاد سے ٹکراؤ کے خدشات
مکہ اکارڈ کے جواب میں تہران نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ‘کاغذی معاہدہ’ قرار دیا ہے۔ ایران اس اتحاد کو اسرائیل کے خلاف ڈھال کے بجائے اپنے گرد گھیرا تنگ کرنے والا ایک ‘سنی عسکری بلاک’ تصور کر رہا ہے۔
اسی تزویراتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تہران میں ہنگامی عسکری تبدیلیاں کرتے ہوئے محسن رضائی کو نیا سیکیورٹی چیف اور میجر جنرل علی عبداللہی کو پاسداران انقلاب کا کمانڈر مقرر کیا ہے۔ یہ تمام سخت گیر جرنیل جنگی حکمت عملی کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ ایران نے اپنی روایتی اور پاسداران انقلاب کی افواج کو ایک ہی کمانڈ کے تحت لا کر آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کرنے اور وہاں سے گزرنے والے کارگو جہازوں پر فیس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اگرچہ مکہ اتحاد اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ کا امکان کم ہے، لیکن یمن کے حوثی باغیوں کے ذریعے سعودی آرامکو پر حملوں اور بحری راستوں کی بندش کی صورت میں نیابتی جنگ تیز ہونے کا پورا خطرہ موجود ہے۔
شنگھائی کا سیلاب اور عالمی رسدی سلسلے کا بحران
جب مشرق وسطیٰ بارود کی بو سے مہک رہا ہے، تب چین کے معاشی انجن شنگھائی میں آنے والے سیلاب نے دنیا کو ایک اور پٹڑی پر لا کھڑا کیا ہے۔ 151 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ساحل سے ٹکرانے والے ٹائیفون ڈولفن نے شنگھائی کے جدید ترین بنیادی ڈھانچے اور نکاسی آب کے نظام کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کیا۔
شہر کے تجارتی اضلاع زیر آب آ چکے ہیں، ہزاروں پروازیں منسوخ ہیں اور وائی گاو چیاؤ اور یانگ شان جیسی دنیا کی مصروف ترین بندرگاہیں بند ہو چکی ہیں۔ شنگھائی کے اس تعطل نے عالمی رسدی سلسلے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کیونکہ اسمارٹ فونز، مائیکرو چپس اور آٹو پارٹس کا خام مال پھنس جانے سے امریکہ اور یورپ کی مارکیٹیں شدید متاثر ہو رہی ہیں، جو عالمی معیشت میں نئی مہنگائی کا سبب بنے گا۔
شنگھائی کا یہ منظرنامہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی حدت اور ماحولیاتی تبدیلی اب دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور سیکیورٹی حقیقت بن چکے ہیں۔
ماحولیاتی انصاف اور پاکستان کی ماحولیاتی سفارت کاری
اگر چین جیسی عالمی معیشت ماحولیاتی تبدیلیوں کے سامنے بے بس ہو سکتی ہے تو پاکستان کا موسمیاتی بحران زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ پاکستان دنیا میں کاربن کا اخراج کرنے والے ممالک میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے، لیکن گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلابوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
حال ہی میں آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے 1.3 ارب ڈالر کے ماحولیاتی فنڈ کے بعد پاکستان کی ‘ماحولیاتی سفارت کاری’ کو ایک نیا رخ اپنانا ہوگا۔ پاکستان کو عالمی سطح پر ‘ماحولیاتی انصاف’ کا مقدمہ لڑتے ہوئے امیر ممالک سے خیرات کے بجائے کاربن کا ہرجانہ اور معاوضہ مانگنا ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی، پاکستان کو اپنی اندرونی حکمرانی کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک ‘مرکزی ماحولیاتی ڈیٹا بینک’ قائم کرنا ہوگا اور 18ویں ترمیم کے تحت سندھ اور پنجاب جیسی صوبائی حکومتوں کو براہ راست عالمی فنڈز کے حصول کی خودمختاری دینی ہوگی، تاکہ بیوروکریٹک سرخ فیتہ شاہی کا خاتمہ ہو سکے۔
امریکی دباؤ اور پاکستان کا سفارتی پل
اس پورے منظرنامے کا سب سے پرپیچ پہلو پاکستان کا سفارتی کردار ہے۔ چین اور روس اس بات کے حامی ہیں کہ مکہ اتحاد اور ایران کے درمیان اس سرد جنگ کو ختم کرایا جائے، کیونکہ ان کا اصل ہدف خطے سے امریکی اثر و رسوخ کو نکالنا ہے۔
اس ثالثی میں پاکستان، اپنی جغرافیائی حیثیت اور مکہ اکارڈ کا بانی رکن ہونے کی وجہ سے، اگر چاہے تو بیجنگ اور ماسکو کے لیے ایک ‘مرکزی سفارتی پل’ بن سکتا ہے۔ لیکن جیسے ہی پاکستان اس بلاک کا حصہ بن کر ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے کی کوشش کرے گا، واشنگٹن کی طرف سے شدید سفارتی اور معاشی دباؤ آئے گا۔ امریکہ آئی ایم ایف کے فنڈز روک کر، ایف اے ٹی ایف یا بھارتی کارڈ استعمال کر کے پاکستان کو بیک فٹ پر لانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اس امریکی بلیک میلنگ اور معاشی دباؤ سے بچنے کے لیے پاکستان کو چین اور سعودی عرب سے ٹھوس ‘مالیاتی ضمانتیں’ مانگنی ہوں گی۔ ان ضمانتوں میں آئی ایم ایف کا متبادل ہنگامی فنڈ، سعودی عرب کی طرف سے موخر ادائیگیوں پر طویل مدتی تیل کی سپلائی، سی پیک کے قرضوں کی ازسرنو تنظیم، اور ڈالر کے بجائے چینی یوآن میں تجارت کی تحریری یقین دہانیاں شامل ہونی چاہئیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ اگست 2026 کا یہ عالمی منظرنامہ پاکستان کو ایک زبردست لیکن خطرناک موقع فراہم کر رہا ہے۔ شنگھائی کا سیلاب یہ یاد دلاتا ہے کہ سیکیورٹی اب صرف بارود اور ٹینکوں کا نام نہیں، بلکہ ماحول اور بقا کی جنگ بن چکی ہے۔
پاکستان مکہ اکارڈ کے سائے میں اپنے ایٹمی و عسکری قد کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں امن کا سفارتی پل تو بن سکتا ہے، لیکن اسے اپنی کمزور معیشت کو بچانے کے لیے چین اور خلیج کی مالیاتی لائف لائن کو مضبوط کرنا ہوگا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اب تلوار کی دھار پر چلتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ خیرات مانگنے والا کشکول توڑ کر عالمی اسٹیج پر حق، انصاف اور توازن کی ایک بڑی طاقت بن کر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔
کچھ دن پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بزنس کمیونٹی کے ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے نئے صوبے بنانے کا راگ الاپ رہے تھے۔
جس سے گویا جنگل میں آگ کی طرح یہ بات پھیل گئی کہ اب نئے صوبے بن رہے ہیں۔ کچھ ٹی وی چینلز نے تو اس بارے میں فرضی آن لائن ووٹنگ بھی کرائی، جن میں جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے ریفرنڈم کے مطابق 95 فیصد شہری نئے صوبوں کے حامی نکلے۔
کل یعنی 08 اگست 2026 بروز ہفتہ کو خیبرپختونخوا اسمبلی نے بھی ایک قرارداد پاس کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ہزارہ اور دیگر علاقوں کو خیبرپختونخوا سے چھین کر الگ صوبہ بنانے یا وفاق کے حوالے کرنے کے عمل کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے یہاں سندھ میں بھی یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ سندھ اسمبلی بھی اس حوالے سے قرارداد پاس کرے۔ مگر ان دوستوں کے لیے عرض ہے کہ اس حوالے سے سندھ اسمبلی پہلے ہی پانچ دفعہ قراردادیں پاس کر چکی ہے۔ اگر چھٹی دفعہ بھی پاس کرتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ دوستوں کے لیے ان پانچ قراردادوں کی روداد یہاں رکھی جاتی ہے۔
اس حوالے سے پہلی قرارداد 10 فروری 1948 کو اس وقت کی سندھ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی، جب کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاق کے حوالے کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔ یہ قرارداد قاضی اکبر کی طرف سے جمع کرائی گئی جبکہ محمد اعظم نے اسے ایوان میں پیش کیا۔ قرارداد اکثریت رائے سے منظور ہوئی، لیکن اس کے باوجود کراچی کو سندھ سے جدا کرکے وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا۔
دوسری قرارداد 06 مارچ 1954 کو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سائیں جی ایم سید نے ایک قرارداد پیش کی، جس کا متن تھا:
’یہ اسمبلی سندھ حکومت کو سفارش کرتی ہے کہ پاکستان کی حکومت کو یہ درخواست بھیجی جائے کہ کراچی شہر اور اس سے متعلق ان علاقوں کو، جو اس وقت کراچی وفاقی علاقہ کے نام سے جانے جاتے ہیں، سندھ میں بحال کیا جائے۔‘
اس قرارداد پیش ہونے کے بعد ہالا سے تعلق رکھنے والے ایک رکن سید محمد زمان شاہ نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی تمہید کے طور پر ذیل کے الفاظ بھی شامل کیے جائیں۔
چونکہ کراچی کو سندھ سے اس مقصد کے تحت الگ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کے بارے میں انتظامی اور انتظام کاری کے اختیارات پاکستان کی وفاقی حکومت کے پاس ہوں؛
چونکہ پاکستان کی حکومت اب وفاقی علاقے میں ایک نیا صوبہ قائم کرنے کی تجویز پیش کر رہی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے اسباب بالکل ناکافی اور ناقابل جواز تھے؛
چونکہ کراچی کو سندھ سے الگ کرتے وقت کیے گئے وعدوں کے برخلاف، پاکستان کی حکومت نے کراچی کی انتظامیہ میں سندھیوں کی ملازمتوں اور کراچی کی مقامی آبادی کے مفادات کا مناسب تحفظ نہیں کیا ہے؛
اور چونکہ پاکستان کی حکومت اب تک کراچی کی علیحدگی کے سبب سندھ حکومت کو ہونے والے دارالحکومت اور آمدنی کے نقصان کا ازالہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘
سندھ اسمبلی کے ایوان نے یہ ترمیم شدہ قرارداد پاس کی۔ اس قرارداد کے حق میں وزیراعلیٰ سندھ عبدالستار پیرزادہ، قائد حزب اختلاف سائیں جی ایم سید، قاضی محمد اکبر، پیر الٰہی بخش، شاہنواز پیرزادہ، عبدالفتاح میمن، جعفر خان جمالی، ریونیو کے وزیر پیر علی محمد شاہ راشدی، سیرو مل کرپل داس، علی گوہر کھوڑو، سید غلام حیدر شاہ، سید مبارک علی شاہ اور علی حسن منگی نے تقاریر کیں۔ یہ قرارداد بھی پاس ہوگئی۔
تیسری مرتبہ 25 ستمبر 2014 کو سندھ اسمبلی نے کراچی کی ممکنہ علیحدگی کے خلاف قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد اس وقت کے قائد حزب اختلاف محمد شہریار خان مہر نے پیش کی، جس پر شفیع محمد جاموٹ، نصرت بانو سحر عباسی، ڈاکٹر محمد رفیق بانبھڻ، سعید خان نظامانی، وریام فقیر، سید محمد راشد شاہ، نند کمار گوکلانی، حاجی خدا بخش راجڑ، ہمایوں محمد خان اور مسرور احمد جتوئی سمیت دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے۔ یہ قرارداد بھی ایوان نے اکثریت رائے سے منظور کی۔
چوتھی قرارداد 16 ستمبر 2019 کو منظور کی گئی، جو مشترکہ طور پر ڈاکٹر سہراب خان سرکی، ریحانہ لغاری، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، فیاض علی بٹ، ہیر سوہو، عبدالکریم سومرو، تنزیلہ ام حبیبہ قمبرانی، شمیم ممتاز، سجیلا لغاری، سیدہ ماروی فصیح، حنا دستگیر، غزالہ سیال، فریال تالپور، شازیہ عمر، سید فرخ احمد شاہ، شاہینہ شیر علی، فرحت سیمیں، شہناز بیگم، محمد قاسم سراج سومرو اور محمد علی ملکانی نے پیش کی۔ اس قرارداد کے ذریعے بھی ایوان نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے بارے میں ہر تجویز کو رد کردیا۔
سندھ اسمبلی نے اس سال 21 فروری 2026 کو پانچویں بار دوبارہ کراچی کو سندھ سے ممکنہ طور پر الگ کرنے کے بارے میں کسی بھی تجویز یا اقدام کے خلاف متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے سندھ اسمبلی نے واضح پیغام دیا کہ کراچی سندھ کا تاریخی، آئینی اور انتظامی حصہ ہے، اور اس کی حیثیت میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو سندھ کے لوگ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی یہ قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی۔
ان پانچ تاریخی قراردادوں کی کاپیاں قارئین کی معلومات کے لیے یہاں پیش کی جا رہی ہیں، تاکہ عوام خود پارلیمانی ریکارڈ کا جائزہ لے سکیں۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے تین اہم مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاہدے پر جمعہ کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے، جہاں تینوں ممالک کی اعلیٰ قیادت موجود تھی۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور مشترکہ دفاع کے اصول کے تحت ردعمل دیا جائے گا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کئی ماہ سے شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران اور اس کے اتحادی مختلف خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ ان حالات نے خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ منصوبہ بندی اور مؤثر بازدار قوت کو فروغ دینا ہے۔ ذرائع کے مطابق مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
اس معاہدے کی ایک اہم علامتی حیثیت بھی ہے کیونکہ اس پر دستخط مکہ مکرمہ میں کیے گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تین بڑے سنی اکثریتی مسلم ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان پہلے ہی مختلف شعبوں میں دفاعی تعاون رکھتے ہیں۔ پاکستان کئی برسوں سے سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کرتا آ رہا ہے اور ماضی میں سعودی عرب کو فوجی دستے اور دفاعی نظام بھی فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی صنعت اور اسلحے کے شعبے میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ترکیہ نیٹو کا دوسرا بڑا فوجی رکن ملک ہے، سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی اہم معاشی اور تیل پیدا کرنے والی طاقت ہے، جبکہ پاکستان دنیا کا واحد ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مسلم ملک ہے۔ ان تینوں ممالک کا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں نئی دفاعی صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں اور سمندری راستوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد کئی ممالک اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے لیے صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مستقبل میں ایک زیادہ خودمختار علاقائی دفاعی ڈھانچے کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔
معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہر ملک کی عملی دفاعی ذمہ داریاں کس حد تک ہوں گی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت دفاعی مشاورت، مشترکہ منصوبہ بندی، فوجی تعاون اور سلامتی سے متعلق مختلف شعبوں میں روابط کو مزید وسعت دی جائے گی۔
اس معاہدے کو خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی اور سیاسی حالات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں مشرق وسطیٰ اور وسیع تر خطے کی سلامتی اور دفاعی تعاون پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔