لاہور میں ڈیف ریچ نے اپنے قیام کے چھ سال مکمل ہونے اور سمر کیمپ کے اختتام پر ایک تقریب کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان بھر میں سماعت سے محروم نوجوانوں کے لیے تعلیمی، سماجی اور معاشی مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ڈیف ریچ، فیملی ایجوکیشنل سروسز فاؤنڈیشن کا ایک پروگرام ہے جو سماعت سے محروم بچوں اور نوجوانوں کے لیے تعلیم اور بااختیار بنانے کے منصوبوں پر کام کرتا ہے۔ ادارے کے مطابق اس کی سرگرمیوں کا دائرہ بڑے شہری مراکز سے آگے دیہی علاقوں تک بھی پھیلا ہوا ہے، جہاں معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور مستقبل کے مواقع تک رسائی میں اضافی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔
تقریب میں کارپوریٹ شعبے، تعلیمی اداروں، شراکت دار تنظیموں، رضاکاروں اور سماعت سے محروم افراد کی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکا کی شرکت نے اس امر کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ محروم اور کم سہولیات رکھنے والی برادریوں کے لیے مواقع بڑھانے میں مختلف اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈیف ریچ کے ڈائریکٹر ڈینیئل مارک نے شریک اداروں، مہمانوں اور رضاکاروں کا مسلسل تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جامع معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا، ‘ہم سب کو آگے بڑھ کر سماعت سے محروم افراد کی برادری کے لیے مواقع پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔’
ڈیف ریچ پاکستان میں سماعت سے محروم طلبہ کے لیے کام کرنے والے چند مخصوص تعلیمی نیٹ ورکس میں شامل ہے۔ ادارہ تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے اور انہیں معاشرے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے پر بھی توجہ دیتا ہے۔
اس موقع پر ڈیف ریچ سمر کیمپ بھی اختتام پذیر ہوا، جس میں نوجوان شرکا اور رضاکاروں نے مختلف تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ کیمپ کے دوران طلبہ کو نئی مہارتیں سیکھنے، اپنے ساتھیوں کے ساتھ وقت گزارنے اور ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے گئے جن کا مقصد ان کے اعتماد اور ذاتی صلاحیتوں کو بہتر بنانا تھا۔
تقریب میں پیکیجز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور گروپ ہیڈ آف ایکسٹرنل افیئرز سید اسلم مہدی، طری زمین پر ٹرسٹ ملتان کی چیف ایگزیکٹو افسر فادیہ کاشف، سیفائر فنشنگ ملز لمیٹڈ، سیون اپ، ڈی ڈبلیو پی گروپ کے شعبہ انسانی وسائل کے سربراہ عمران، مارکیٹنگ ایکٹیویشن کی چیف ایگزیکٹو افسر عتیزہ، این ڈی ایل ایچ آر، چیزئیس کی مارکیٹنگ ہیڈ عائشہ اور اسٹائل ٹیکسٹائل کے نمائندگان نے شرکت کی۔
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، ایل جی ایس، یو سی پی، کریسنٹ اسکول اور آرٹ لائن سے وابستہ رضاکاروں اور نمائندگان نے بھی سمر کیمپ اور سالگرہ کی سرگرمیوں میں تعاون کیا۔
کارپوریٹ اداروں، تعلیمی اداروں اور رضاکاروں کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سماعت سے محروم نوجوانوں سمیت ان برادریوں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں شراکت داری اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جو اب بھی تعلیم اور دیگر بنیادی مواقع تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔
ڈیف ریچ اب اپنے 7ویں سال میں داخل ہو رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں سماعت سے محروم نوجوانوں کے لیے تعلیم اور بااختیار بنانے کے مواقع بڑھانے پر توجہ برقرار رکھی جائے گی، بالخصوص ان نوجوانوں کے لیے جو معاشی رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں
پروگرام کا وسیع تر مقصد سماعت سے محروم نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور اعتماد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے میں زیادہ بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور اپنے لیے آزاد اور باوقار مستقبل تشکیل دے سکیں۔
موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا کوئی خدشہ نہیں رہی، بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کے لیے ایک موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔
شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، تباہ کن سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور گلیشیئرز کا پگھلنا جیسے واقعات نہ صرف انسانی زندگیوں اور ماحول کو متاثر کر رہے ہیں، بلکہ معیشت، زراعت، صنعت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر بھی براہِ راست اثرانداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اگرچہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی اور مالیاتی استحکام کا بھی سوال ہے۔ جب سیلاب سے زرعی زمینیں تباہ ہوتی ہیں، کاروبار بند ہوتے ہیں، سڑکیں اور پل متاثر ہوتے ہیں اور صنعتوں کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات بالآخر بینکنگ نظام تک بھی پہنچتے ہیں۔
قرض لینے والے کسان اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں، قرضوں کی واپسی مشکل ہو سکتی ہے اور بینکوں کے مالیاتی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بینک اور مالیاتی ادارے موسمیاتی خطرات کو اپنے مالیاتی فیصلوں کا حصہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی گرین بینکنگ کا تصور اب صرف ماحول دوست منصوبوں کو قرض دینے تک محدود نہیں رہا، بلکہ مالیاتی نظام کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کی جانب بھی بڑھ رہا ہے۔
گرین بینکنگ آخر ہے کیا؟
گرین بینکنگ سے مراد ایسا مالیاتی نظام ہے، جس میں بینک اپنے وسائل ایسے منصوبوں کی جانب منتقل کریں جو ماحول کے تحفظ، کاربن کے اخراج میں کمی، وسائل کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مددگار ہوں۔
قابلِ تجدید توانائی، شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، توانائی کی بچت، ماحول دوست عمارتیں، صاف ستھری ٹرانسپورٹ، پانی کا مؤثر استعمال، کچرے کا بہتر انتظام، دوبارہ استعمال ہونے والی اشیا کی تیاری، پائیدار زراعت اور موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے والے منصوبے ایسے شعبے ہیں، جنہیں ماحول دوست مالیاتی معاونت کے ذریعے فروغ دیا جا سکتا ہے۔
لیکن گرین بینکنگ کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ بینکوں کو یہ دیکھنا ہوگا کہ جن منصوبوں کو وہ قرض دے رہے ہیں، وہ مستقبل میں موسمیاتی خطرات کے باعث مالیاتی نقصان کا سبب تو نہیں بنیں گے۔
یعنی سوال صرف یہ نہیں کہ بینک ماحول دوست منصوبوں کو کتنا قرض دے رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسے منصوبوں میں کتنی سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو مستقبل میں موسمیاتی یا ماحولیاتی خطرات کے باعث مالیاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
2017 سے شروع ہونے والا سفر
پاکستان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 9 اکتوبر 2017 کو گرین بینکنگ گائیڈ لائنز متعارف کرائیں۔ ان ہدایات میں تین بنیادی پہلوؤں پر توجہ دی گئی: ماحولیاتی خطرات کو بینکوں کے مالیاتی خطرات کے انتظام میں شامل کرنا، ماحول دوست کاروبار اور صاف توانائی کے منصوبوں کی مالی معاونت کو فروغ دینا، اور خود بینکوں کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا۔
یہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں ماحول اور موسمیاتی خطرات کو باقاعدہ طور پر شامل کرنے کی ایک اہم پیش رفت تھی۔
اس کے بعد نومبر 2022 میں اسٹیٹ بینک نے ماحولیاتی اور سماجی خطرات کے انتظام کا عملی رہنما کتابچہ جاری کیا، جس کے ذریعے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے ماحولیاتی، سماجی اور موسمیاتی خطرات کی جانچ اور انتظام کے عملی طریقے فراہم کیے گئے۔
لیکن 2025 میں اس حوالے سے پالیسی کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔
2025 گرین بینکنگ کے لیے ایک اہم موڑ
2025 میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے پائیدار مالیات اور موسمیاتی خطرات کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کیے گئے۔ ان اقدامات نے گرین بینکنگ کو صرف ماحول دوست منصوبوں کی مالی معاونت سے آگے بڑھا کر پورے مالیاتی نظام کے موسمیاتی خطرات کے انتظام سے جوڑ دیا۔
دسمبر 2025 میں اسٹیٹ بینک نے پاکستان گرین ٹیکسانومی بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے متعارف کرائی۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کون سی معاشی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری حقیقی معنوں میں ماحول دوست تصور کی جا سکتی ہیں۔
اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اگر گرین منصوبوں کی واضح تعریف موجود نہ ہو تو کسی بھی منصوبے کو ماحول دوست قرار دینا آسان ہو جاتا ہے، جس سے گرین واشنگ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان گرین ٹیکسانومی کا مقصد مالیاتی اداروں کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ ان کا سرمایہ کن سرگرمیوں میں جا رہا ہے اور کیا وہ واقعی پاکستان کے ماحولیاتی اور موسمیاتی اہداف سے مطابقت رکھتے ہیں۔
صرف گرین سرمایہ کاری نہیں، موسمیاتی مالیاتی خطرات بھی
2025 میں ایک اور اہم قدم موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی خطرات کے مؤثر انتظام کا ضابطہ کار جاری کرنا تھا۔
اس ضابطہ کار کے ذریعے بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں اور دیگر مالیاتی اداروں کو موسمیاتی خطرات کو اپنی انتظامی نگرانی، کاروباری حکمت عملی اور مالیاتی خطرات کے انتظام میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالیاتی اداروں کو 30 جون 2029 تک اس ضابطہ کار پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا، جبکہ انہیں ستمبر 2029 تک بورڈ سے منظور شدہ عملدرآمد کا منصوبہ اور اہداف بھی جمع کرانے ہوں گے۔
موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات دو اقسام کے ہو سکتے ہیں۔ ایک براہِ راست موسمیاتی مالیاتی خطرہ، یعنی سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی یا دیگر موسمیاتی واقعات کے باعث براہِ راست ہونے والا نقصان۔ دوسرا موسمیاتی منتقلی کا مالیاتی خطرہ، یعنی دنیا کی کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی کے نتیجے میں بعض روایتی اور زیادہ کاربن والے کاروباروں کی قدر یا منافع میں کمی۔
اگر کسی بینک نے کسی ایسے کاروبار کو بڑا قرض دیا ہو جو مستقبل میں سخت ماحولیاتی قوانین یا صاف توانائی کی جانب منتقلی کے باعث مشکلات کا شکار ہو جائے تو یہ بینک کے لیے بھی مالیاتی خطرہ بن سکتا ہے۔
موسمیاتی دباؤ کی جانچ: بینک مستقبل کا خطرہ کیسے جانچیں گے؟
2025 میں اسٹیٹ بینک نے موسمیاتی دباؤ کی جانچ کی رہنما ہدایات بھی جاری کیں۔ ان ہدایات کے تحت مالیاتی اداروں کو موسمیاتی خطرات کی مختلف ممکنہ صورتِ حال کے ذریعے یہ جانچنے کی ضرورت ہوگی کہ شدید موسمیاتی واقعات یا کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی ان کے قرضوں اور مالیاتی حیثیت کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہے۔
اب بینکوں کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں ہوگا کہ قرض لینے والا آج قرض واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ انہیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی یا ماحولیاتی پالیسی میں تبدیلی آتی ہے تو اس کاروبار یا منصوبے کی مالیاتی حیثیت کیا ہوگی۔
یعنی موسمیاتی تبدیلی اب بینک کے مالیاتی خطرات کے انتظام کا بھی حصہ بن رہی ہے۔
کوئلہ یا قابلِ تجدید توانائی؟
پاکستان کو ایک طرف توانائی کی شدید ضرورت ہے اور دوسری طرف اسے موسمیاتی بحران کا سامنا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بینکوں کے لیے یہ فیصلہ اہم بن جاتا ہے کہ ان کا سرمایہ کس شعبے میں جائے۔
اگر بینک اپنا سرمایہ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں، توانائی کی بچت، برقی ٹرانسپورٹ، ماحول دوست عمارتوں، پانی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں میں منتقل کریں تو اس سے نہ صرف ماحول کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، بلکہ نئی صنعتیں، روزگار اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال موجود ہے: پاکستان کے بینکوں کی مجموعی مالیاتی معاونت میں ماحول دوست منصوبوں کا حقیقی حصہ کتنا ہے؟ اس کے مقابلے میں ایسے شعبوں کو کتنی مالیاتی معاونت دی جا رہی ہے، جن کا کاربن اخراج زیادہ ہے؟
یہ وہ اعداد و شمار ہیں، جنہیں عوام کے سامنے زیادہ شفاف انداز میں لانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان گرین ٹیکسانومی: گرین واشنگ کے خلاف ایک قدم؟
پاکستان گرین ٹیکسانومی اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کون سی معاشی سرگرمی واقعی ماحول دوست ہے اور کون سی نہیں۔
اسٹیٹ بینک نے دسمبر 2025 میں بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان گرین ٹیکسانومی کو اپنی گرین بینکنگ پالیسیوں کی تشکیل اور تجدید کے لیے رہنما کے طور پر استعمال کریں۔
اس سے مستقبل میں ماحول دوست مالیاتی معاونت کی رپورٹنگ زیادہ واضح ہو سکتی ہے، لیکن اصل امتحان اس کے عملی نفاذ کا ہوگا۔
کیونکہ کسی منصوبے پر صرف ’’گرین‘‘ کا لیبل لگانا کافی نہیں۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس منصوبے سے واقعی کاربن کا اخراج کتنا کم ہوا، توانائی کی بچت کتنی ہوئی، پانی کے استعمال میں کیا بہتری آئی اور مقامی آبادی کو کیا فائدہ پہنچا۔
ماہرین کی رائے کیا ہے؟
سینئر صحافی اور ماحولیاتی ماہر امر گرڑو کے مطابق حقیقی اثرات کی پیمائش ضروری ہے، صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ بینک نے گرین منصوبوں کو کتنی رقم دی۔ اصل اثر جانچنے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس سرمایہ کاری سے کاربن کا اخراج کتنا کم ہوا، کتنی توانائی اور پانی محفوظ ہوا اور ماحول پر کیا مثبت اثر پڑا۔
ان کے مطابق پاکستان میں اس حوالے سے نگرانی اور شفاف رپورٹنگ کا نظام ابھی اتنا مضبوط نہیں کہ ہر گرین سرمایہ کاری کے حقیقی ماحولیاتی اثرات واضح طور پر سامنے آ سکیں۔
امر گرڑو کا کہنا ہے کہ بینک قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر سولر فنانسنگ، کی جانب ضرور بڑھ رہے ہیں، لیکن مجموعی بینکنگ سرمایہ کاری میں گرین منصوبوں کا حصہ اب بھی محدود ہے۔ اصل چیلنج پالیسی بنانے سے زیادہ اس پر مؤثر عملدرآمد اور نگرانی کا ہے۔
ان کے مطابق جب تک بینکوں کی سرمایہ کاری کو واضح موسمیاتی اہداف سے نہیں جوڑا جائے گا، گرین بینکنگ اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکے گی۔
اگر بینکوں کی سرمایہ کاری کو گرین بنانے کے لیے سخت ماحولیاتی معیار نافذ کیے جائیں تو اس کا پاکستان کی معیشت، صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری پر کیا اثر پڑے گا؟ اس سوال پر امر گرڑو کا کہنا ہے کہ مختصر مدت میں صنعت اور بینکوں کے لیے کچھ اضافی لاگت آ سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
ان کے مطابق صاف ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور گرین صنعتوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماحولیاتی منتقلی مرحلہ وار ہونی چاہیے تاکہ صنعت اور سرمایہ کار اچانک مالیاتی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
امر گرڑو کے مطابق پاکستان کے موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے بینکوں کو اپنی سرمایہ کاری میں موسمیاتی موافقت اور ماحول دوست منصوبوں کو واضح ترجیح دینی چاہیے۔ تاہم کوئی ایک مقررہ فیصد اسی وقت مؤثر ہوگا، جب منصوبوں کی ضرورت اور ماحولیاتی اثرات کو بھی سامنے رکھا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو واضح پالیسی اور مراعات، اسٹیٹ بینک کو مؤثر ضابطہ اور نگرانی، جبکہ بینکوں کو اپنی ماحولیاتی ذمہ داری خود قبول کرنی ہوگی۔
اگر کسی منصوبے کو ماحول دوست ظاہر کیا جا رہا ہو، لیکن اس کے حقیقی ماحولیاتی اثرات آلودگی یا کاربن کے اخراج میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہوں تو یہ گرین واشنگ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے ہر گرین قرض یا سرمایہ کاری کے قابلِ پیمائش ماحولیاتی اہداف، آزاد آڈٹ، شفاف رپورٹنگ اور سرمایہ کاری کے بعد نگرانی ضروری ہے۔
ان کے مطابق صرف کسی منصوبے کو ’’گرین‘‘ قرار دینا کافی نہیں، اس کا حقیقی ماحولیاتی نتیجہ بھی ثابت ہونا چاہیے۔
ماحولیاتی ماہر شبینہ فراز: گرین بینکنگ کے ساتھ کوئلے سے گریز کی پالیسی ضروری
ماحولیاتی ماہر شبینہ فراز کا کہنا ہے کہ آج کل ماحول کی بہتری اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا ہر شعبے کی ترجیح ہے، یہی وجہ ہے کہ اب صرف ترقی نہیں بلکہ پائیدار ترقی کی بات کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق پائیداری ہر کامیاب کاروبار کا ایک اہم جزو تصور کی جاتی ہے۔ پائیداری سے مراد قدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر کسی معاشرے کی کسی خاص رفتار یا سطح پر برقرار رہنے کی صلاحیت ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ پائیداری کے تین بنیادی عناصر ماحول، سماج اور انتظامی نظم و نسق ہیں اور یہ تینوں عناصر اب ہر کاروبار کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
شبینہ فراز کے مطابق 2017 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گرین بینکنگ گائیڈ لائنز جاری کی تھیں، جن کی بنیاد پر بینکوں نے اپنے نظام کو بہتر بنایا تاکہ اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر بہتر طریقے سے عمل کیا جا سکے۔
ان کے مطابق بینکوں کو فوری طور پر کوئلے سے گریز کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ کوئلے کے کسی بھی کاروبار میں سرمایہ کاری خود بینکوں کے لیے خطرہ قرار دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بینکوں کو کوئلے سے توانائی اور کوئلے کی کانوں کے منصوبوں میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کرنا چاہیے اور اپنا سرمایہ قابلِ تجدید توانائی اور ماحول دوست شعبوں کی جانب منتقل کرنا چاہیے۔
شبینہ فراز کے مطابق اگر بینک کوئلے پر مبنی سرمایہ کاری جاری رکھیں گے تو آلودہ توانائی کا کاروبار جاری رہے گا اور فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
وہ گرین ٹیکسانومی کی اہمیت پر بھی زور دیتی ہیں۔ ان کے مطابق گرین ٹیکسانومی کا مقصد مالیاتی وسائل کو ماحول دوست منصوبوں کی جانب منتقل کرنا ہے۔ دنیا بھر میں گرین ٹیکسانومی کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے مختلف شعبوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق مرکزی بینک اپنے اختیار کے تحت مختلف شعبوں کو مراعات دے سکتا ہے، جس کی مثال قابلِ تجدید توانائی کی اسکیم میں دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں گرین ٹیکسانومی کی تشکیل ماحول دوست سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماحولیاتی ماہر رفیع الحق کا کہنا ہے کہ اگر بینک ماحول دوست ہونے کا دعویٰ کریں، لیکن دوسری جانب ایسے منصوبوں یا کمپنیوں کو قرض دیں جو آلودگی اور کاربن کے اخراج میں اضافہ کریں تو اسے گرین واشنگ کہا جا سکتا ہے۔
اس کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ بینک اپنی سرمایہ کاری کی مکمل معلومات فراہم کریں، ماحول دوست منصوبوں کی آزادانہ جانچ کی جائے اور گرین ٹیکسانومی کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے۔
صرف پالیسیاں اور گائیڈ لائنز کافی نہیں، ان پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک نگرانی اور ضابطہ کار کا کردار ادا کریں، جبکہ بینک عملی طور پر ان اصولوں پر عمل کریں۔
شفافیت، آزادانہ جانچ، سخت نگرانی اور خلاف ورزی پر کارروائی ہی گرین واشنگ کی روک تھام کا مؤثر طریقہ ہے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی دور رس معاشی خطرہ ہے
ماہرینِ معیشت کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ایک دور رس خطرہ ہے۔ قدرتی آفات کی اقتصادی لاگت پہلے ہی پاکستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ آئی ایم ایف نے ان آفات کی مجموعی معاشی لاگت کا تخمینہ 58 ارب ڈالر لگایا ہے۔
مئی 2025 میں آئی ایم ایف نے لچک اور پائیداری کی سہولت کے تحت اضافی 1.4 ارب ڈالر کی منظوری دی تاکہ پاکستان کو موسمیاتی خطرات اور قدرتی آفات کے خلاف اقتصادی لچک بڑھانے میں مدد مل سکے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی لچک دار معیشت کی تعمیر کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ماحولیاتی اور سماجی خطرات کی نمائش کو کم کریں اور موسمیاتی آفات سے خود کو اور اپنے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے گرین طریقوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
2017 کی گرین بینکنگ گائیڈ لائنز نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی آپریشنز اور مالیاتی سرگرمیوں سے متعلق ماحولیاتی اور سماجی خطرات کا انتظام کریں۔
2022 کا ماحولیاتی اور سماجی رسک مینجمنٹ امپلیمینٹیشن مینوئل ماحولیاتی اور سماجی خطرے کی درجہ بندی کے لیے معیاری اوزار متعارف کرا کر، بینکوں کے اپنے ماحولیاتی اثرات کی نگرانی اور گرین شعبوں کو قرض دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے موسمیاتی لچک دار معیشت کی جانب منتقلی کی حمایت کرتا ہے۔
2025 کی گرین ٹیکسانومی معاشی سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے، جو گرین فنانس کے لیے اہل ہو سکتی ہیں۔
گرین فنانس میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے؟
اسٹیٹ بینک کی مانیٹرنگ رپورٹس اور عوامی انکشافات مالیاتی شعبے کو سرسبز بنانے کی جانب پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مقامی طور پر کام کرنے والے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کے پاس اب نامزد گرین بینکنگ افسر موجود ہے۔ 79 فیصد بینکوں نے ماحولیاتی رسک مینجمنٹ، گرین کاروبار کی سہولت اور اپنے کاربن کے اخراج میں کمی سے متعلق گرین بینکنگ پالیسیوں کی منظوری دی ہے، جبکہ 69 فیصد نے اپنے کریڈٹ رسک اسیسمنٹ کے طریقہ کار میں ماحولیاتی خطرے کو ضم کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی قابلِ تجدید توانائی ری فنانس اسکیم، جو 2016 میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی تھی، گرین فنانس کی ایک اہم مثال ہے۔ اس سہولت کے تحت 2024 تک 94.7 ارب روپے تقسیم کیے گئے، 4,500 سے زائد قابلِ تجدید توانائی کی تنصیبات کو سہارا دیا گیا اور 2,061 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کی گئی۔
اسٹیٹ بینک اب گرین بانڈز اور صکوک کو بھی فروغ دے رہا ہے، جبکہ گرین ٹیکسانومی سے منسلک اہلیت کے معیار مالیاتی شعبے کو مزید گرین بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
پاکستان کے پہلے گرین صکوک کا اجرا، جس کی مالیت 30 ارب روپے ہے، گرین فنانس اور پائیدار سرمایہ کاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
مائیکرو فنانس بینکوں نے الیکٹرک بائیکس اور آب و ہوا کے لیے لچک دار زرعی ٹیکنالوجیز کے لیے مائیکرو لون متعارف کرائے ہیں۔ کئی مالیاتی اداروں اور انشورنس کمپنیوں نے فصلوں کی انشورنس کی ایسی مصنوعات بھی متعارف کرائی ہیں، جو قدرتی آفات سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
عام آدمی کو کیا ملا؟
یہاں گرین بینکنگ کا سب سے اہم سوال سامنے آتا ہے۔
اگر کوئی بینک کسی بڑی کمپنی کو شمسی توانائی کے منصوبے کے لیے کروڑوں یا اربوں روپے کا قرض فراہم کرتا ہے تو اسے گرین فنانس کہا جا سکتا ہے، لیکن کیا ایک چھوٹا کسان بھی آسان شرائط پر شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل کے لیے قرض حاصل کر سکتا ہے؟
کیا چھوٹا کاروباری شخص اپنی دکان یا ورکشاپ کو توانائی کے مؤثر نظام پر منتقل کرنے کے لیے آسان مالیاتی معاونت حاصل کر سکتا ہے؟
کیا کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے شمسی نظام، توانائی کی بچت اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں تک بینکنگ سہولت موجود ہے؟
کیا موسمیاتی آفات سے متاثر کسانوں اور کمزور آبادی کے لیے ایسا مالیاتی نظام موجود ہے، جو انہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دے سکے؟
اگر گرین فنانس کا بڑا حصہ صرف بڑے کاروباری منصوبوں تک محدود رہے تو اس کے ماحولیاتی فوائد تو ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا سماجی اثر محدود رہ جائے گا۔
کسان اور موسمیاتی مالیاتی معاونت
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا بوجھ زراعت پر پڑتا ہے۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، پانی کی قلت اور فصلوں کے بدلتے موسموں کے باعث کسانوں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں گرین بینکنگ کو زرعی مالیاتی معاونت سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
کیا بینک ایسے کسانوں کو قرض دے رہے ہیں، جو ڈرپ اریگیشن، شمسی ٹیوب ویل، پانی کی بچت، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والی فصلوں اور توانائی کے مؤثر آلات کی جانب منتقل ہونا چاہتے ہیں؟
اگر بینکوں کی مالیاتی معاونت موسمیاتی موافقت میں مدد کرے تو یہ نہ صرف کسانوں بلکہ بینکوں کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے، کیونکہ زیادہ موسمیاتی لچک رکھنے والا کاروبار مستقبل میں قرض واپس کرنے کی بہتر صلاحیت رکھ سکتا ہے۔
سندھ میں گرین فنانس اور کاربن مارکیٹ کے مواقع
موسمیاتی مالیات کا معاملہ صرف بینکوں تک محدود نہیں، بلکہ صوبائی سطح پر بھی اس کے وسیع معاشی امکانات موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کے ماحولیاتی مشیر دوست محمد راہمون نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی ترقی، غذائی تحفظ، آبی وسائل اور توانائی کے مستقبل سے جڑا ایک بنیادی چیلنج ہے۔
ان کے مطابق سندھ میں ماحول دوست 13 بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں مینگروز، ونڈ پاور، بائیو گیس، صاف ایندھن، محفوظ پانی اور الیکٹرک گاڑیاں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی منصوبوں کے ذریعے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی اور سندھ کے لیے عالمی کاربن مارکیٹ سے سرمایہ کاری اور کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
دوست محمد راہمون کے مطابق سندھ میں ایسے کئی منصوبے موجود ہیں، جنہیں عالمی کاربن مارکیٹ سے جوڑ کر نہ صرف ماحول کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے بلکہ روزگار، صنعتی ترقی اور پائیدار معیشت کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
سندھ حکومت: ماحول محفوظ ہوگا تو معیشت مضبوط ہوگی
سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی فیصل عقیلی نے کہا کہ پاکستان نے پیرس معاہدے کے تحت نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹریبیوشنز، این ڈی سی 3.0، کے اہداف مقرر کیے ہیں اور سندھ حکومت ان اہداف پر مؤثر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ان کے مطابق 2030 تک کاربن کے اخراج میں 50 فیصد کمی کا عالمی وعدہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا مقصد ایسے منصوبوں کی نشاندہی کرنا ہے، جو ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی موسمیاتی اور کاربن فنڈ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
فیصل عقیلی کے مطابق ماحول محفوظ ہوگا تو معیشت مضبوط ہوگی۔ دنیا بھر میں ماحولیاتی منصوبوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جو فضائی آلودگی اور کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی لاتی ہے۔
ان کے مطابق ماحولیاتی منصوبوں کو کاربن کریڈٹ ملتے ہیں، جن کے ذریعے عالمی اداروں اور سرمایہ کاروں سے مالیاتی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔ کاربن مارکیٹ کو ماحول کے تحفظ، معاشی ترقی، روزگار اور نئی سرمایہ کاری کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور عالمی کاربن مارکیٹ میں شمولیت ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ صنعتوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں گرین منتقلی کے عمل میں آگے بڑھایا جائے۔
کاربن فنانس: پاکستان کے لیے نیا معاشی موقع؟
ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلائمیٹ چینج اینڈ کاربن فنانس سید امداد شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں کاربن ٹریڈنگ منظم ایس او پیز کے تحت ہوتی ہے اور نیشنل رجسٹری کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں کاربن کریڈٹس فروخت کیے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق صنعتی ترقی کے ساتھ ماحول کو صاف رکھنے کے لیے ملین ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کاربن کریڈٹس کے ذریعے اس کی تلافی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کاربن فضا میں خارج کرتے ہیں تو ہمیں اسے کم بھی کرنا ہوگا۔ اگر کوئی ملک یا منصوبہ مقررہ مقدار سے زیادہ اخراج میں کمی حاصل کرتا ہے تو دنیا اس اضافی کمی کو خرید سکتی ہے، جس سے معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
یہ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ موسمیاتی اقدامات کو صرف اخراجات کے بجائے مستقبل کی سرمایہ کاری اور آمدنی کے ایک ممکنہ ذریعے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
پانی، توانائی اور خوراک کا باہمی تعلق
اسلامی ترقیاتی بینک کے ماہرین نے بتایا کہ پانی، توانائی اور خوراک کے وسائل کا بہتر اور متوازن استعمال نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے، بلکہ اس سے سندھ میں عالمی سرمایہ کاری، کلائمیٹ فنانس اور کاربن فنانس کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق تمام ادارے باہمی تعاون سے ایسے عملی اور قابلِ عمل منصوبے تیار کریں گے، جن سے سندھ میں ماحول کا تحفظ، روزگار کے نئے مواقع، سرمایہ کاری میں اضافہ اور صوبے کی پائیدار ترقی کو فروغ مل سکے۔
بینکوں کے لیے موسمیاتی خطرہ بھی ایک مالیاتی خطرہ ہے
موسمیاتی تبدیلی بینکوں کے لیے صرف اخلاقی یا ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ براہِ راست مالیاتی خطرہ بھی ہے۔
سیلاب یا خشک سالی کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہو تو کسان کے لیے قرض واپس کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ شدید گرمی یا سیلاب سے فیکٹری متاثر ہو تو کاروباری قرض خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح اگر دنیا تیزی سے کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقل ہوتی ہے تو کوئلے اور زیادہ کاربن خارج کرنے والے بعض شعبوں میں کی گئی سرمایہ کاری مستقبل میں مالیاتی خطرہ بن سکتی ہے۔
2025 کی موسمیاتی دباؤ کی جانچ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی خطرات کے مؤثر انتظام کا ضابطہ کار اسی سوچ کو مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کی کوششیں ہیں۔
پالیسی سے عملی اقدام تک
پاکستان میں اب گرین بینکنگ کے لیے پالیسی کا نظام پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ واضح ہو چکا ہے۔
2017 میں گرین بینکنگ گائیڈ لائنز آئیں، 2022 میں ماحولیاتی اور سماجی خطرات کے انتظام کا عملی رہنما کتابچہ جاری ہوا، جبکہ 2025 میں پاکستان گرین ٹیکسانومی، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی خطرات کے مؤثر انتظام کا ضابطہ کار اور موسمیاتی دباؤ کی جانچ کی رہنما ہدایات سامنے آئیں۔
یعنی پالیسی کا سفر اب صرف ’’گرین منصوبوں کو قرض دینے‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’پورے مالیاتی نظام کو موسمیاتی خطرات کے لیے تیار کرنے‘‘ تک پہنچ چکا ہے۔
لیکن اصل امتحان اب عملدرآمد کا ہے۔
بینکوں کے لیے صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ ان کی پالیسی ماحول دوست ہے۔ ضروری ہے کہ وہ واضح کریں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گرین منصوبوں کو کتنا قرض دیا گیا، کن شعبوں کو دیا گیا، کتنے چھوٹے کاروبار اور کسان اس سے فائدہ اٹھا سکے اور ان سرمایہ کاریوں سے کاربن کے اخراج، توانائی یا پانی کے استعمال میں کیا تبدیلی آئی۔
اصل سوال اب بھی باقی ہے
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ حکومت اکیلے یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ نجی شعبے، بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو اس عمل میں شریک ہونا ہوگا۔
لیکن گرین بینکنگ کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے بینک ماحول دوست پالیسی بنا چکے ہیں یا کتنی رپورٹس جاری ہوئی ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ بینکوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
کیا یہ کوئلے اور زیادہ کاربن والے منصوبوں کو مضبوط کر رہا ہے یا قابلِ تجدید توانائی کو؟
کیا گرین فنانس بڑے سرمایہ کاروں تک محدود ہے یا کسان، چھوٹے کاروبار اور موسمیاتی متاثرہ آبادی بھی اس سے فائدہ اٹھا رہی ہے؟
کیا بینک اپنے قرضوں کے مجموعی حجم میں براہِ راست موسمیاتی مالیاتی خطرے اور موسمیاتی منتقلی کے مالیاتی خطرے کو واقعی شامل کر رہے ہیں؟
کیا گرین ٹیکسانومی کے نفاذ کے بعد گرین واشنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی، آزادانہ جانچ اور شفاف رپورٹنگ موجود ہوگی؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا پاکستان میں گرین بینکنگ واقعی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عملی قدم بن رہی ہے یا اب بھی پالیسی، رپورٹس اور کاغذی وعدوں تک محدود ہے؟
2025 کے پالیسی اقدامات نے پاکستان کے مالیاتی نظام کو ایک واضح سمت ضرور دی ہے، لیکن پالیسی اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ اب بھی باقی ہے۔
پاکستان کے لیے اب سوال یہ نہیں کہ گرین بینکنگ کی ضرورت ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کے بعد بینکوں کی سرمایہ کاری کے رخ میں حقیقتاً کتنی تبدیلی آئی ہے؟
اگر بینکوں کی سرمایہ کاری قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی موافقت، پائیدار زراعت، صاف ٹیکنالوجی، پانی کے مؤثر استعمال اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقل ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک نئے معاشی ماڈل کی بنیاد بن سکتی ہے۔
لیکن اگر گرین فنانس صرف چند بڑے منصوبوں، رپورٹس اور ’’گرین‘‘ کے لیبل تک محدود رہا تو اس کے حقیقی موسمیاتی اور سماجی اثرات محدود رہیں گے۔
موسمیاتی بحران ہر سال زیادہ شدید ہو رہا ہے۔ مالیاتی نظام جتنی جلد ماحول دوست سرمایہ کاری، موسمیاتی موافقت اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقل ہوگا، اتنا ہی پاکستان کے لیے مستقبل کے موسمیاتی اور معاشی نقصانات کو کم کرنا ممکن ہوگا۔
گرین بینکنگ دراصل صرف بینکوں کی پالیسی نہیں، پاکستان کی مستقبل کی معیشت کا سوال ہے۔
بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سیاست کی تاریخ میں اگست 2026 کا یہ مہینہ ایک ایسے تزویراتی موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں جغرافیائی سیاست اور ماحولیاتی آفات نے مل کر دنیا کا نقشہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔
ایک طرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی ‘مکہ جوائنٹ ڈیٹرنس اگریمنٹ’، یعنی مکہ اکارڈ، پر دستخط کر کے مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری تسلط کے خاتمے کا بگل بجا دیا ہے۔
لیکن دوسری طرف، اسی خطے میں ایران نے سخت گیر جرنیلوں کی نئی عسکری صف بندی کر کے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر کے ایک نئی سرد جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سیکیورٹی کے اس ابلتے ہوئے لاوے کے بیچ، بحر الکاہل کے ساحل پر طوفان نوح کا منظر پیش کرتے ہوئے چین کا سب سے بڑا معاشی مرکز، شنگھائی، ‘ٹائیفون ڈولفن’ کی طوفانی بارشوں میں ڈوب گیا ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب انسانوں کے بنائے ہوئے عسکری بلاک قدرت کے ماحولیاتی ہتھیاروں کے سامنے موم کی دیوار ہیں۔
ان تمام متصادم عالمی لہروں کے عین مرکز میں پاکستان کھڑا ہے، جسے بیک وقت اپنی معاشی بقا، ماحولیاتی سفارت کاری اور سفارتی پل کا سب سے بڑا امتحان دینا ہے۔
مکہ اکارڈ اور مشرق وسطیٰ کا نیا سیکیورٹی ڈھانچہ
مکہ اکارڈ مسلم دنیا کی تزویراتی تاریخ کا ایک انقلابی اور کثیر قطبی قدم ہے۔ نیٹو کے آرٹیکل پانچ کی طرز پر بنائے گئے اس ‘اجتماعی دفاعی معاہدے’ کی رو سے اب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ میں سے کسی ایک پر بھی مسلح بیرونی حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ بنیادی طور پر سعودی عرب کی جانب سے واشنگٹن کی سیکیورٹی چھتری پر عشروں پرانے انحصار کو ختم کرنے کا آغاز ہے۔ خلیج فارس کے دفاع کے لیے اب امریکی پینٹاگون کے بجائے ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی جوہری و روایتی عسکری قوت کو ضامن بنایا گیا ہے۔ اگرچہ بانی ممالک نے اسے خالصتاً ‘دفاعی’ قرار دیا ہے، لیکن واشنگٹن اور نئی دہلی میں اس نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ بلاک خلیج میں امریکی بالادستی کو براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔
ایران کی عسکری صف بندی اور مکہ اتحاد سے ٹکراؤ کے خدشات
مکہ اکارڈ کے جواب میں تہران نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ‘کاغذی معاہدہ’ قرار دیا ہے۔ ایران اس اتحاد کو اسرائیل کے خلاف ڈھال کے بجائے اپنے گرد گھیرا تنگ کرنے والا ایک ‘سنی عسکری بلاک’ تصور کر رہا ہے۔
اسی تزویراتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تہران میں ہنگامی عسکری تبدیلیاں کرتے ہوئے محسن رضائی کو نیا سیکیورٹی چیف اور میجر جنرل علی عبداللہی کو پاسداران انقلاب کا کمانڈر مقرر کیا ہے۔ یہ تمام سخت گیر جرنیل جنگی حکمت عملی کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ ایران نے اپنی روایتی اور پاسداران انقلاب کی افواج کو ایک ہی کمانڈ کے تحت لا کر آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کرنے اور وہاں سے گزرنے والے کارگو جہازوں پر فیس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اگرچہ مکہ اتحاد اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ کا امکان کم ہے، لیکن یمن کے حوثی باغیوں کے ذریعے سعودی آرامکو پر حملوں اور بحری راستوں کی بندش کی صورت میں نیابتی جنگ تیز ہونے کا پورا خطرہ موجود ہے۔
شنگھائی کا سیلاب اور عالمی رسدی سلسلے کا بحران
جب مشرق وسطیٰ بارود کی بو سے مہک رہا ہے، تب چین کے معاشی انجن شنگھائی میں آنے والے سیلاب نے دنیا کو ایک اور پٹڑی پر لا کھڑا کیا ہے۔ 151 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ساحل سے ٹکرانے والے ٹائیفون ڈولفن نے شنگھائی کے جدید ترین بنیادی ڈھانچے اور نکاسی آب کے نظام کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کیا۔
شہر کے تجارتی اضلاع زیر آب آ چکے ہیں، ہزاروں پروازیں منسوخ ہیں اور وائی گاو چیاؤ اور یانگ شان جیسی دنیا کی مصروف ترین بندرگاہیں بند ہو چکی ہیں۔ شنگھائی کے اس تعطل نے عالمی رسدی سلسلے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کیونکہ اسمارٹ فونز، مائیکرو چپس اور آٹو پارٹس کا خام مال پھنس جانے سے امریکہ اور یورپ کی مارکیٹیں شدید متاثر ہو رہی ہیں، جو عالمی معیشت میں نئی مہنگائی کا سبب بنے گا۔
شنگھائی کا یہ منظرنامہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی حدت اور ماحولیاتی تبدیلی اب دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور سیکیورٹی حقیقت بن چکے ہیں۔
ماحولیاتی انصاف اور پاکستان کی ماحولیاتی سفارت کاری
اگر چین جیسی عالمی معیشت ماحولیاتی تبدیلیوں کے سامنے بے بس ہو سکتی ہے تو پاکستان کا موسمیاتی بحران زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ پاکستان دنیا میں کاربن کا اخراج کرنے والے ممالک میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے، لیکن گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلابوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
حال ہی میں آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے 1.3 ارب ڈالر کے ماحولیاتی فنڈ کے بعد پاکستان کی ‘ماحولیاتی سفارت کاری’ کو ایک نیا رخ اپنانا ہوگا۔ پاکستان کو عالمی سطح پر ‘ماحولیاتی انصاف’ کا مقدمہ لڑتے ہوئے امیر ممالک سے خیرات کے بجائے کاربن کا ہرجانہ اور معاوضہ مانگنا ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی، پاکستان کو اپنی اندرونی حکمرانی کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک ‘مرکزی ماحولیاتی ڈیٹا بینک’ قائم کرنا ہوگا اور 18ویں ترمیم کے تحت سندھ اور پنجاب جیسی صوبائی حکومتوں کو براہ راست عالمی فنڈز کے حصول کی خودمختاری دینی ہوگی، تاکہ بیوروکریٹک سرخ فیتہ شاہی کا خاتمہ ہو سکے۔
امریکی دباؤ اور پاکستان کا سفارتی پل
اس پورے منظرنامے کا سب سے پرپیچ پہلو پاکستان کا سفارتی کردار ہے۔ چین اور روس اس بات کے حامی ہیں کہ مکہ اتحاد اور ایران کے درمیان اس سرد جنگ کو ختم کرایا جائے، کیونکہ ان کا اصل ہدف خطے سے امریکی اثر و رسوخ کو نکالنا ہے۔
اس ثالثی میں پاکستان، اپنی جغرافیائی حیثیت اور مکہ اکارڈ کا بانی رکن ہونے کی وجہ سے، اگر چاہے تو بیجنگ اور ماسکو کے لیے ایک ‘مرکزی سفارتی پل’ بن سکتا ہے۔ لیکن جیسے ہی پاکستان اس بلاک کا حصہ بن کر ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے کی کوشش کرے گا، واشنگٹن کی طرف سے شدید سفارتی اور معاشی دباؤ آئے گا۔ امریکہ آئی ایم ایف کے فنڈز روک کر، ایف اے ٹی ایف یا بھارتی کارڈ استعمال کر کے پاکستان کو بیک فٹ پر لانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اس امریکی بلیک میلنگ اور معاشی دباؤ سے بچنے کے لیے پاکستان کو چین اور سعودی عرب سے ٹھوس ‘مالیاتی ضمانتیں’ مانگنی ہوں گی۔ ان ضمانتوں میں آئی ایم ایف کا متبادل ہنگامی فنڈ، سعودی عرب کی طرف سے موخر ادائیگیوں پر طویل مدتی تیل کی سپلائی، سی پیک کے قرضوں کی ازسرنو تنظیم، اور ڈالر کے بجائے چینی یوآن میں تجارت کی تحریری یقین دہانیاں شامل ہونی چاہئیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ اگست 2026 کا یہ عالمی منظرنامہ پاکستان کو ایک زبردست لیکن خطرناک موقع فراہم کر رہا ہے۔ شنگھائی کا سیلاب یہ یاد دلاتا ہے کہ سیکیورٹی اب صرف بارود اور ٹینکوں کا نام نہیں، بلکہ ماحول اور بقا کی جنگ بن چکی ہے۔
پاکستان مکہ اکارڈ کے سائے میں اپنے ایٹمی و عسکری قد کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں امن کا سفارتی پل تو بن سکتا ہے، لیکن اسے اپنی کمزور معیشت کو بچانے کے لیے چین اور خلیج کی مالیاتی لائف لائن کو مضبوط کرنا ہوگا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اب تلوار کی دھار پر چلتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ خیرات مانگنے والا کشکول توڑ کر عالمی اسٹیج پر حق، انصاف اور توازن کی ایک بڑی طاقت بن کر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔
کچھ دن پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بزنس کمیونٹی کے ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے نئے صوبے بنانے کا راگ الاپ رہے تھے۔
جس سے گویا جنگل میں آگ کی طرح یہ بات پھیل گئی کہ اب نئے صوبے بن رہے ہیں۔ کچھ ٹی وی چینلز نے تو اس بارے میں فرضی آن لائن ووٹنگ بھی کرائی، جن میں جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے ریفرنڈم کے مطابق 95 فیصد شہری نئے صوبوں کے حامی نکلے۔
کل یعنی 08 اگست 2026 بروز ہفتہ کو خیبرپختونخوا اسمبلی نے بھی ایک قرارداد پاس کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ہزارہ اور دیگر علاقوں کو خیبرپختونخوا سے چھین کر الگ صوبہ بنانے یا وفاق کے حوالے کرنے کے عمل کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے یہاں سندھ میں بھی یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ سندھ اسمبلی بھی اس حوالے سے قرارداد پاس کرے۔ مگر ان دوستوں کے لیے عرض ہے کہ اس حوالے سے سندھ اسمبلی پہلے ہی پانچ دفعہ قراردادیں پاس کر چکی ہے۔ اگر چھٹی دفعہ بھی پاس کرتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ دوستوں کے لیے ان پانچ قراردادوں کی روداد یہاں رکھی جاتی ہے۔
اس حوالے سے پہلی قرارداد 10 فروری 1948 کو اس وقت کی سندھ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی، جب کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاق کے حوالے کرنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔ یہ قرارداد قاضی اکبر کی طرف سے جمع کرائی گئی جبکہ محمد اعظم نے اسے ایوان میں پیش کیا۔ قرارداد اکثریت رائے سے منظور ہوئی، لیکن اس کے باوجود کراچی کو سندھ سے جدا کرکے وفاقی علاقہ قرار دے دیا گیا۔
دوسری قرارداد 06 مارچ 1954 کو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سائیں جی ایم سید نے ایک قرارداد پیش کی، جس کا متن تھا:
’یہ اسمبلی سندھ حکومت کو سفارش کرتی ہے کہ پاکستان کی حکومت کو یہ درخواست بھیجی جائے کہ کراچی شہر اور اس سے متعلق ان علاقوں کو، جو اس وقت کراچی وفاقی علاقہ کے نام سے جانے جاتے ہیں، سندھ میں بحال کیا جائے۔‘
اس قرارداد پیش ہونے کے بعد ہالا سے تعلق رکھنے والے ایک رکن سید محمد زمان شاہ نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی تمہید کے طور پر ذیل کے الفاظ بھی شامل کیے جائیں۔
چونکہ کراچی کو سندھ سے اس مقصد کے تحت الگ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کے بارے میں انتظامی اور انتظام کاری کے اختیارات پاکستان کی وفاقی حکومت کے پاس ہوں؛
چونکہ پاکستان کی حکومت اب وفاقی علاقے میں ایک نیا صوبہ قائم کرنے کی تجویز پیش کر رہی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے اسباب بالکل ناکافی اور ناقابل جواز تھے؛
چونکہ کراچی کو سندھ سے الگ کرتے وقت کیے گئے وعدوں کے برخلاف، پاکستان کی حکومت نے کراچی کی انتظامیہ میں سندھیوں کی ملازمتوں اور کراچی کی مقامی آبادی کے مفادات کا مناسب تحفظ نہیں کیا ہے؛
اور چونکہ پاکستان کی حکومت اب تک کراچی کی علیحدگی کے سبب سندھ حکومت کو ہونے والے دارالحکومت اور آمدنی کے نقصان کا ازالہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘
سندھ اسمبلی کے ایوان نے یہ ترمیم شدہ قرارداد پاس کی۔ اس قرارداد کے حق میں وزیراعلیٰ سندھ عبدالستار پیرزادہ، قائد حزب اختلاف سائیں جی ایم سید، قاضی محمد اکبر، پیر الٰہی بخش، شاہنواز پیرزادہ، عبدالفتاح میمن، جعفر خان جمالی، ریونیو کے وزیر پیر علی محمد شاہ راشدی، سیرو مل کرپل داس، علی گوہر کھوڑو، سید غلام حیدر شاہ، سید مبارک علی شاہ اور علی حسن منگی نے تقاریر کیں۔ یہ قرارداد بھی پاس ہوگئی۔
تیسری مرتبہ 25 ستمبر 2014 کو سندھ اسمبلی نے کراچی کی ممکنہ علیحدگی کے خلاف قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد اس وقت کے قائد حزب اختلاف محمد شہریار خان مہر نے پیش کی، جس پر شفیع محمد جاموٹ، نصرت بانو سحر عباسی، ڈاکٹر محمد رفیق بانبھڻ، سعید خان نظامانی، وریام فقیر، سید محمد راشد شاہ، نند کمار گوکلانی، حاجی خدا بخش راجڑ، ہمایوں محمد خان اور مسرور احمد جتوئی سمیت دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے۔ یہ قرارداد بھی ایوان نے اکثریت رائے سے منظور کی۔
چوتھی قرارداد 16 ستمبر 2019 کو منظور کی گئی، جو مشترکہ طور پر ڈاکٹر سہراب خان سرکی، ریحانہ لغاری، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، فیاض علی بٹ، ہیر سوہو، عبدالکریم سومرو، تنزیلہ ام حبیبہ قمبرانی، شمیم ممتاز، سجیلا لغاری، سیدہ ماروی فصیح، حنا دستگیر، غزالہ سیال، فریال تالپور، شازیہ عمر، سید فرخ احمد شاہ، شاہینہ شیر علی، فرحت سیمیں، شہناز بیگم، محمد قاسم سراج سومرو اور محمد علی ملکانی نے پیش کی۔ اس قرارداد کے ذریعے بھی ایوان نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے بارے میں ہر تجویز کو رد کردیا۔
سندھ اسمبلی نے اس سال 21 فروری 2026 کو پانچویں بار دوبارہ کراچی کو سندھ سے ممکنہ طور پر الگ کرنے کے بارے میں کسی بھی تجویز یا اقدام کے خلاف متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے سندھ اسمبلی نے واضح پیغام دیا کہ کراچی سندھ کا تاریخی، آئینی اور انتظامی حصہ ہے، اور اس کی حیثیت میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو سندھ کے لوگ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی یہ قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی۔
ان پانچ تاریخی قراردادوں کی کاپیاں قارئین کی معلومات کے لیے یہاں پیش کی جا رہی ہیں، تاکہ عوام خود پارلیمانی ریکارڈ کا جائزہ لے سکیں۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے تین اہم مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاہدے پر جمعہ کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے، جہاں تینوں ممالک کی اعلیٰ قیادت موجود تھی۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور مشترکہ دفاع کے اصول کے تحت ردعمل دیا جائے گا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کئی ماہ سے شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران اور اس کے اتحادی مختلف خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ ان حالات نے خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ منصوبہ بندی اور مؤثر بازدار قوت کو فروغ دینا ہے۔ ذرائع کے مطابق مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
اس معاہدے کی ایک اہم علامتی حیثیت بھی ہے کیونکہ اس پر دستخط مکہ مکرمہ میں کیے گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تین بڑے سنی اکثریتی مسلم ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان پہلے ہی مختلف شعبوں میں دفاعی تعاون رکھتے ہیں۔ پاکستان کئی برسوں سے سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کرتا آ رہا ہے اور ماضی میں سعودی عرب کو فوجی دستے اور دفاعی نظام بھی فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی صنعت اور اسلحے کے شعبے میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ترکیہ نیٹو کا دوسرا بڑا فوجی رکن ملک ہے، سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی اہم معاشی اور تیل پیدا کرنے والی طاقت ہے، جبکہ پاکستان دنیا کا واحد ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مسلم ملک ہے۔ ان تینوں ممالک کا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں نئی دفاعی صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں اور سمندری راستوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد کئی ممالک اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے لیے صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مستقبل میں ایک زیادہ خودمختار علاقائی دفاعی ڈھانچے کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔
معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہر ملک کی عملی دفاعی ذمہ داریاں کس حد تک ہوں گی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت دفاعی مشاورت، مشترکہ منصوبہ بندی، فوجی تعاون اور سلامتی سے متعلق مختلف شعبوں میں روابط کو مزید وسعت دی جائے گی۔
اس معاہدے کو خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی اور سیاسی حالات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں مشرق وسطیٰ اور وسیع تر خطے کی سلامتی اور دفاعی تعاون پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں توہین مذہب کے مقدمات اور ان سے جڑے پرتشدد واقعات میں رواں سال نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کی بڑی وجہ فوج کی جانب سے شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جانا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اختیار کی گئی نئی پالیسی کے بعد توہین مذہب کے مقدمات میں تقریباً دو تہائی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ہجوم کے تشدد کے واقعات بھی پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہوئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ کراچی میں ایک مسیحی خاندان پر توہین مذہب کا الزام لگنے کے بعد سینکڑوں افراد جمع ہوگئے تھے۔ ماضی میں ایسے واقعات اکثر پرتشدد ہجوم، املاک کو نقصان پہنچانے اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے رہے ہیں، تاہم اس مرتبہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چار خواتین اور ایک بچے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا اور صورتحال کو قابو میں رکھا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1990 کے بعد سے توہین مذہب کے الزامات سے جڑے تقریباً 90 ہجومی قتل ہو چکے ہیں۔
ماضی میں ایسے واقعات کے دوران مذہبی شدت پسند تنظیمیں متحرک کردار ادا کرتی تھیں، لیکن حالیہ مہینوں میں ان کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد کئی شہروں میں ایسے واقعات کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکنے میں کامیابی ملی ہے۔
رائٹرز کے مطابق فوجی قیادت نے شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف "زیرو ٹالرنس’ کی پالیسی اختیار کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض مذہبی تنظیموں پر پابندی لگائی گئی، ان کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے مالی وسائل کو بھی محدود کیا گیا۔ اس پالیسی کا مقصد نہ صرف داخلی امن کو بہتر بنانا بلکہ پاکستان کا بین الاقوامی تشخص بھی بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق سفارتی اور معاشی حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے، یورپی ممالک اور مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور تجارتی سہولتوں کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اختیار کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام سمجھتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے سے بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی اعتماد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
رائٹرز نے لکھا ہے کہ اگرچہ پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن مذہبی اقلیتوں میں خوف اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
کراچی میں پولیس کی جانب سے بچائی جانے والی ایک مسیحی خاتون نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ جسمانی طور پر تو محفوظ ہیں، مگر ذہنی خوف اب بھی ان کے دل میں موجود ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی نئے الزام کے بعد دوبارہ ایسی ہی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔
رپورٹ میں انسانی حقوق کے ماہرین کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ صرف شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں ہوگی۔
ان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون کے غلط استعمال کو بھی روکا جائے، جھوٹے الزامات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ملزمان کو منصفانہ قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ بے گناہ افراد نشانہ نہ بنیں۔
رائٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کو ایک ہی وقت میں دہشت گردی، معاشی مشکلات اور اندرونی سلامتی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست نے ان مذہبی گروہوں کے خلاف زیادہ سخت رویہ اپنانا شروع کیا ہے جن پر ماضی میں عوام کو مشتعل کرنے اور پرتشدد احتجاج منظم کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ حالیہ اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ شدت پسند نظریات کئی برسوں سے معاشرے میں موجود ہیں اور انہیں مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق پائیدار بہتری کے لیے قانون پر یکساں عملدرآمد، عدالتی نظام کی مضبوطی، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور عوامی شعور میں اضافے کی ضرورت ہوگی تاکہ مستقبل میں توہین مذہب کے الزامات پر تشدد کے واقعات دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پاکستان کی داخلی سلامتی کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر یہ پالیسی مستقل طور پر جاری رہی تو اس سے نہ صرف ملک میں مذہبی تشدد میں مزید کمی آسکتی ہے بلکہ پاکستان کے عالمی تعلقات اور معاشی ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے حالیہ انتخابات کی کوریج کے بعد الجزیرہ کی ویب سائٹ تک رسائی محدود کیے جانے کے چند روز بعد پاکستان نے غیر ملکی میڈیا کے لیے نئی ‘فارن میڈیا فیسیلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026’ جاری کر دی ہیں، جن کے تحت پاکستان میں غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے تمام افراد کو وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ (ای پی ونگ) میں رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔
نئی گائیڈ لائنز کے مطابق رجسٹریشن کی شرط صرف غیر ملکی نامہ نگاروں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کا اطلاق پاکستانی صحافیوں، فری لانسرز، اسٹرنگرز، فکسرز، کیمرہ آپریٹرز، مترجمین، پروڈکشن کمپنیوں اور ان تمام افراد پر بھی ہوگا جو کسی بھی شکل میں بین الاقوامی میڈیا اداروں کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔
حکومت نے ایک نیا ایکریڈیشن نظام بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت صحافیوں کو کیو آر کوڈ سے مزین پریس کارڈ جاری کیے جائیں گے۔ یہ ایکریڈیشن ایک سال کے لیے یا پاکستان آنے والے غیر ملکی صحافیوں کے لیے عارضی بنیادوں پر بھی جاری کی جا سکے گی۔
گائیڈ لائنز میں نمایاں تبدیلی سفری اجازت سے متعلق کی گئی ہے۔ اس کے تحت ای پی ونگ میں رجسٹرڈ ہر صحافی یا میڈیا ورکر کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ ملک کے کسی بھی دوسرے علاقے میں رپورٹنگ، ڈاکیومنٹری بنانے یا کسی بھی قسم کا میڈیا مواد تیار کرنے سے قبل متعلقہ حکام سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنا ہوگا۔
عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو ملک کے بیشتر حصوں میں کسی بھی خبر کی کوریج سے قبل حکومتی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ معمول کی منصوبہ بند رپورٹنگ کے لیے یہ ایک اضافی انتظامی مرحلہ ہوگا، تاہم ہنگامی یا بریکنگ نیوز کی صورت میں، جہاں صحافیوں کو چند گھنٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچنا پڑتا ہے، این او سی حاصل کرنے کا عمل بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ کی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے۔
گائیڈ لائنز کے تحت حکومت کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ اگر کسی صحافی کی رپورٹنگ کو قومی سلامتی، امن عامہ یا ریاستی نظریے کے لیے نقصان دہ قرار دیا جائے تو اس کی ایکریڈیشن معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے۔ تاہم دستاویز میں ان اصطلاحات کی واضح تعریف شامل نہیں، جس کے باعث ان کی تشریح اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے متعلقہ حکام کو وسیع صوابدید حاصل ہوگی۔
یہ نئی گائیڈ لائنز ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب چند روز قبل پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات کی بین الاقوامی میڈیا کوریج پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ انتخابات کے بعد غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو آزاد جموں و کشمیر سے واپس جانے اور دوبارہ رپورٹنگ کے لیے این او سی حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
مجموعی طور پر نئی ‘فارن میڈیا فیسیلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026’ رجسٹریشن کے دائرہ کار کو وسیع کرنے، سفری اجازت کو باقاعدہ ضابطے کا حصہ بنانے اور ایکریڈیشن و فیلڈ رپورٹنگ پر حکومتی اختیارات میں اضافہ کرکے غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے صحافیوں پر حکومتی نگرانی کو مزید بڑھاتی ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تقریباً دو سال بعد پہلی مرتبہ غیر ملکی سرمایہ کار خالص خریدار بن کر سامنے آئے ہیں۔
جولائی 2026 کے دوران انہوں نے پاکستانی کمپنیوں کے حصص میں مجموعی طور پر تین کروڑ 44 لاکھ امریکی ڈالرز کی خالص سرمایہ کاری کی، حالانکہ اسی عرصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
منیر خانانی سیکیورٹیز کے ایکویٹی ڈیلرنے نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جولائی 2026 میں غیر ملکی سرمایہ کار 23 ماہ بعد پہلی بار خالص خریدار بنے۔ ان کے مطابق گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران غیر ملکی سرمایہ کار مسلسل پاکستانی حصص فروخت کرتے رہے تھے، تاہم جولائی میں یہ رجحان تبدیل ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق بینکاری کا شعبہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز رہا، جہاں ایک کروڑ 38 لاکھ امریکی ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی گئی۔ اس کے بعد تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں 67 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں نے توانائی اور مالیاتی شعبوں پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا۔
جبران سرفراز کے مطابق جولائی میں کھاد کے شعبے میں بھی 17 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی گئی، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں 12 لاکھ ڈالر کے حصص خریدے گئے۔ اس کے علاوہ مختلف دیگر شعبوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 77 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی گئی، جو تمام شعبوں میں سب سے زیادہ رہی۔
دوسری جانب بعض شعبوں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سرمایہ نکال لیا۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے 36 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری واپس چلی گئی، جبکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں 27 لاکھ ڈالر کی خالص فروخت کی گئی۔ اسی طرح سیمنٹ اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں بھی دو، دو لاکھ ڈالر مالیت کے حصص فروخت کیے گئے۔
این سی سی پی ایل کے مطابق جولائی 2026 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں، جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں، نے مجموعی طور پر 32 کروڑ 23 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے حصص خریدے، جبکہ 28 کروڑ 79 لاکھ ڈالر کے حصص فروخت کیے۔ اس طرح وہ مجموعی طور پر تین کروڑ 44 لاکھ ڈالر کے خالص خریدار رہے۔ یہ موجودہ مالی سال 2026-27 کے پہلے مہینے کی نمایاں پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے پہلے مسلسل 22 ماہ تک غیر ملکی سرمایہ کار ہر ماہ پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں خالص فروخت کنندہ رہے۔ اس عرصے میں ان کی ماہانہ خالص فروخت ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے لے کر 27 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک رہی، جس کے باعث مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہا۔
اگرچہ جولائی میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں بہتری آئی، تاہم پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا مجموعی رجحان مندی کا شکار رہا۔ اے ایچ ایل ریسرچ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس جولائی کے دوران چار ہزار 208 پوائنٹس، یعنی 2.3 فیصد کمی کے بعد ایک لاکھ 76 ہزار 94 پوائنٹس پر بند ہوا۔
تحقیقی ادارے کے مطابق پورے مہینے کے دوران خطے میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کے باعث مارکیٹ دباؤ میں رہی اور انڈیکس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
شعبہ وار کارکردگی کے جائزے کے مطابق بینکاری، ریفائنری، مصنوعی مصنوعات اور تمباکو کے شعبوں نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو مثبت سمت میں لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان شعبوں میں بہتر کارکردگی کے باعث مارکیٹ کو کچھ سہارا ملا۔
اس کے برعکس تیل و گیس کی تلاش و پیداوار، سیمنٹ، کھاد اور ٹیکنالوجی کے شعبوں نے انڈیکس پر منفی اثرات مرتب کیے۔ ان شعبوں میں حصص کی قیمتوں میں کمی کے باعث مجموعی مارکیٹ کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آٹو اسمبلرز، ٹیکسٹائل اور آٹو پارٹس تیار کرنے والی کمپنیوں کی کارکردگی بھی جولائی کے دوران خاصی محدود رہی اور ان شعبوں میں سرمایہ کاروں کی سرگرمی معمول کے مطابق رہی۔
تجارتی سرگرمیوں کے لحاظ سے جولائی 2026 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں روزانہ اوسطاً 84 کروڑ 51 لاکھ حصص کا کاروبار ہوا، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار رہی اور حصص کی خرید و فروخت میں معمولی اضافہ ہوا۔
تاہم کاروباری مالیت کے اعتبار سے کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جولائی میں روزانہ اوسط کاروباری مالیت 13 کروڑ 49 لاکھ امریکی ڈالر رہی، جو امریکی ڈالر کی بنیاد پر گزشتہ ماہ کے مقابلے میں پانچ فیصد کم تھی۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ 23 ماہ بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کا دوبارہ خالص خریدار بننا پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ ان کے مطابق اگر ملکی معاشی اشاریے بہتر ہوتے ہیں، سیاسی اور جغرافیائی صورتحال میں استحکام آتا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے تو آئندہ مہینوں میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات شدید سیاسی کشیدگی اور پرتشدد واقعات کے سائے میں جاری ہیں۔ مختلف علاقوں میں احتجاج، سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور انتخابی تنازعات کے باعث خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں درجنوں افراد کے مارے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جب کہ حکومت اور احتجاجی قیادت کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں مختلف اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں اسمبلی انتخابات تین مرحلوں میں کرائے جا رہے ہیں۔ پیر کو میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں میں ووٹنگ ہوئی، جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 13 میں سے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ دیگر نشستیں آزاد امیدواروں اور دوسری جماعتوں کے حصے میں آئیں۔
انتخابات سے قبل اور ووٹنگ کے دوران مختلف علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی۔ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ راولاکوٹ کے گرد و نواح میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
سرکاری حکام کے مطابق میرپور میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کم از کم تین مظاہرین جان سے گئے ہیں، تاہم مجموعی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری موقف احتجاجی قیادت کے دعوؤں سے مختلف ہے۔
رائٹرز کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو گزشتہ ماہ کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے خطے میں مسلسل احتجاج جاری ہے۔ احتجاجی رہنما حکومت پر سیاسی حقوق محدود کرنے، مقامی آبادی کی آواز دبانے اور انتخابات میں مداخلت کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
حالیہ احتجاج کے باعث آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں معمولات زندگی بھی متاثر ہوئے۔ بینک بند رہے، ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور بعض علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات بھی متاثر ہوئیں، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل شفاف نہیں اور اس میں دھاندلی کا خدشہ موجود ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں انتخابات میں حصہ لینا مناسب نہیں تھا۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابات آئین اور قانون کے مطابق منعقد کیے جا رہے ہیں اور عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے۔ حکام کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل محفوظ انداز میں مکمل ہو سکے۔
رائٹرز کے مطابق موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستیں بھی ہیں۔ احتجاج کرنے والے گروپوں کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے اسلام آباد کو آزاد کشمیر کی سیاست پر غیر ضروری اثر و رسوخ حاصل ہو جاتا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں قانونی اور آئینی نظام کا حصہ ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مسلم لیگ (ن) پہلے مرحلے میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے اسے متنازع مہاجر نشستوں سمیت مزید حمایت درکار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی بحران اور احتجاجی تحریک کے باعث نئی حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں حالیہ بدامنی صرف انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ یہ کئی برسوں سے جاری سیاسی، انتظامی اور معاشی شکایات کا نتیجہ بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر تمام سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات نہ ہوئے تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق آزاد کشمیر میں انتخابات کے مزید مراحل آئندہ دنوں میں ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی مراحل بھی سخت سکیورٹی میں مکمل کرائے جائیں گے، جبکہ سیاسی جماعتیں اور مبصرین انتخابی عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ ملک کی مجموعی سیاسی فضا پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں، اور آئندہ چند روز اس حوالے سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار جدید ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاؤڈ اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا۔
حکومت نے اس منصوبے کو ملک کی ڈیجیٹل ترقی، محفوظ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
جمع کے روز اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید مرکز کے قیام سے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا، سرکاری اور نجی اداروں کو محفوظ ڈیجیٹل سہولتیں میسر آئیں گی اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اس جدید مرکز کا دورہ کیا اور وہاں موجود سہولتیں دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق پاکستان کے انجینئروں، ماہرین اور متعلقہ اداروں نے انتہائی مختصر مدت میں یہ منصوبہ مکمل کرکے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو قومی ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسی جذبے سے کام جاری رکھا گیا تو پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے اہم سرکاری اداروں کو بتدریج اس نئے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا تاکہ سرکاری خدمات مزید تیز، محفوظ اور مؤثر بنائی جا سکیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی معیشت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی اور پاکستان کو بھی اسی سمت تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔
تقریب میں بتایا گیا کہ اسکائی 47 قراقرم ون ملک کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیار کلاؤڈ پلیٹ فارم ہے۔ اس کی ابتدائی استعداد آٹھ اعشاریہ پانچ میگاواٹ ہے، جبکہ کراچی کے پورٹ قاسم میں مزید پانچ میگاواٹ صلاحیت کا ایک اور ڈیٹا سینٹر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے، جسے رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان میں ڈیٹا محفوظ رکھنے کی صلاحیت بڑھے گی، ملکی اداروں کو بیرون ملک سرورز پر انحصار کم کرنا پڑے گا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی جدید سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ اس سے بینکنگ، ٹیلی کمیونی کیشن، صحت، تعلیم، ای کامرس اور سرکاری اداروں کو جدید ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور منصوبے پر کام کرنے والی تمام ٹیموں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کے باہمی تعاون سے ایسے منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کسی بھی ملک کی ٹیکنالوجی، کاروبار اور سرکاری خدمات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اس نوعیت کی جدید سہولت کے قیام سے مقامی آئی ٹی صنعت، سافٹ ویئر کمپنیوں، فری لانسرز اور اسٹارٹ اپ اداروں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
ڈیٹا سینٹر کیا ہوتا ہے اور مصنوعی ذہانت میں اس کا کیا کردار ہے؟
ڈیٹا سینٹر ایک ایسا جدید اور محفوظ کمپیوٹر مرکز ہوتا ہے جہاں ہزاروں طاقتور سرور، ڈیٹا محفوظ رکھنے والے آلات، نیٹ ورکنگ کا نظام، بجلی کا بیک اپ اور ٹھنڈک فراہم کرنے کا خصوصی انتظام موجود ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی ویب سائٹس، موبائل ایپس، بینک، سرکاری ادارے، اسپتال، جامعات اور کاروباری ادارے اپنا ڈیٹا انہی مراکز میں محفوظ رکھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے انتہائی طاقتور کمپیوٹر، تیز رفتار پروسیسر اور بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ یہ تمام سہولتیں ڈیٹا سینٹر فراہم کرتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ اے آئی ماڈل تیار کرتا ہے یا لاکھوں صارفین کو آن لائن خدمات دیتا ہے تو اس کے لیے مسلسل کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے، جو صرف جدید ڈیٹا سینٹر ہی مہیا کر سکتے ہیں۔
ڈیٹا سینٹرز کی بدولت چیٹ بوٹس، زبان کا ترجمہ، چہرے کی شناخت، طبی تشخیص، موسم کی پیش گوئی، مالیاتی تجزیے، سمارٹ شہروں کے نظام اور خودکار صنعتی مشینوں جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت بہتر انداز میں کام کر سکتی ہے۔
اگر پاکستان میں مزید جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیے جائیں تو مقامی کمپنیوں کو بیرون ملک سرورز پر کم انحصار کرنا پڑے گا، ڈیٹا زیادہ محفوظ رہے گا، آن لائن خدمات کی رفتار بہتر ہوگی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی صنعتوں، روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس طرح ڈیٹا سینٹر مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔