Tag: پاکستان

  • پاکستان میں تعلیم کا بحران برقرار، ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے: رپورٹ

    پاکستان میں تعلیم کا بحران برقرار، ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے: رپورٹ

    پاکستان میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ملک میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔

    ایک نئی پالیسی جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تعلیم کے شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ نئی پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمزور طرز حکمرانی، ناکافی مالی وسائل، ناقص انتظامی ڈھانچہ، درست اعداد و شمار کی عدم دستیابی اور صوبوں کے درمیان نمایاں تفاوت نے لاکھوں بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا ہوا ہے۔

    یہ جامع تقابلی جائزہ رپورٹ سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) نے تیار کی ہے، جس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے تعلیمی نظام کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت پانچ سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق حاصل ہے، جبکہ وفاق اور تمام صوبوں نے نیشنل ایجوکیشن ایکشن پلان 2026 کے تحت مختلف منصوبے بھی تیار کیے ہیں۔

    اس کے باوجود عملی نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ اگر حکمرانی، احتساب اور مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو قومی تعلیمی ایمرجنسی صرف ایک علامتی اعلان بن کر رہ جائے گی۔

    رپورٹ میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بحران کئی دہائیوں سے جاری غفلت کا نتیجہ ہے۔

    تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غربت، کمزور سرکاری ادارے اور تعلیم پر مسلسل کم سرمایہ کاری نے ہر گزرتے سال کے ساتھ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ریاستی تعلیمی نظام آبادی میں اضافے کے مطابق ترقی نہیں کر سکا، جس کے نتیجے میں نجی اسکولوں کا دائرہ تو وسیع ہوا، مگر غریب اور پسماندہ طبقات کے بچوں کی تعلیمی محرومی برقرار رہی۔

    رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صوبے میں ایسے بچوں کی تعداد 96 لاکھ سے ایک کروڑ چار لاکھ کے درمیان ہے۔

    پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026 کی بنیادی رپورٹ کے مطابق 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول میں داخلہ ہی نہیں لیا، جبکہ 31 لاکھ 60 ہزار بچے داخلہ لینے کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف داخلہ دلانا کافی نہیں بلکہ بچوں کو اسکول میں برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

    پنجاب میں اگرچہ ڈیجیٹل نگرانی کے نظام، انتظامی اصلاحات اور سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، لیکن شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق اب بھی نمایاں ہے۔

    دیہی پنجاب میں 24 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 14 فیصد ہے۔

    جنوبی پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ خطہ قرار دیا گیا ہے، جہاں راجن پور میں 48 فیصد، ڈیرہ غازی خان میں 46 فیصد اور مظفر گڑھ میں 45 فیصد بچے اسکول نہیں جا رہے۔

    رپورٹ کے مطابق صوبے کو مڈل اور سیکنڈری سطح پر کم از کم 35 ہزار نئے کلاس رومز کی ضرورت ہے، جبکہ غربت، گھریلو مالی مشکلات اور چائلڈ لیبر بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔

    رپورٹ میں سندھ کی صورتحال کو دیگر صوبوں سے مختلف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق سندھ میں بنیادی مسئلہ بچوں کا ابتدائی داخلہ نہیں بلکہ پرائمری تعلیم کے بعد ان کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔

    صوبے میں تقریباً 74 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں 41 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد سندھ کی اسکول جانے کی عمر کی آبادی کا تقریباً 44 فیصد بنتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سندھ میں 36 ہزار سے زائد پرائمری اسکول موجود ہیں، لیکن مڈل اسکولوں کی تعداد صرف 2 ہزار 634 اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد ایک ہزار 674 ہے۔ اسی وجہ سے پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد تقریباً 54 فیصد بچے مزید تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 اور 2024 کے سیلاب نے بھی ہزاروں سرکاری اسکولوں کو نقصان پہنچایا، جس سے پہلے سے موجود تعلیمی مسائل مزید سنگین ہو گئے۔ اس کے علاوہ غربت، چائلڈ لیبر، جاگیردارانہ نظام اور صنفی امتیاز بھی خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو ملک بھر کے ایسے بچوں کا تقریباً 19 فیصد بنتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق دشوار گزار پہاڑی علاقے، سکیورٹی مسائل، انتظامی پیچیدگیاں اور بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں خواتین اساتذہ کی شدید کمی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بالائی کوہستان، تورغر اور باجوڑ جیسے اضلاع میں لڑکیوں کے اسکولوں اور خواتین اساتذہ کی کمی کے باعث والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں سماجی روایات بھی لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

    بلوچستان کو رپورٹ میں تعلیمی لحاظ سے سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ 2023 میں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 69 فیصد تھی جو 2025 میں کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی، تاہم صوبے میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی اب بھی برقرار ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے کئی علاقوں میں بچوں کو پرائمری اسکول تک پہنچنے کے لیے اوسطاً 30 کلومیٹر جبکہ سیکنڈری اسکول تک جانے کے لیے 360 کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے 15 ہزار 270 اسکولوں میں سے 3 ہزار 617 غیر فعال یا گھوسٹ اسکول ہیں۔ فعال اسکولوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔

    تقریباً 79 فیصد اسکولوں میں بجلی نہیں، 56 فیصد میں بیت الخلا موجود نہیں اور 49 فیصد میں چار دیواری تک نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں اسکول سے باہر بچوں میں 78 فیصد لڑکیاں ہیں، جو صنفی عدم مساوات کی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔

    رپورٹ میں اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں شہری علاقوں میں داخلے کی شرح 85 فیصد ہے، لیکن دیہی علاقوں میں یہ کم ہو کر 62 فیصد رہ جاتی ہے، جبکہ دارالحکومت کی 60 سے زیادہ غیر رسمی آبادیوں کو سرکاری تعلیمی منصوبہ بندی میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں 42 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں تقریباً نصف بچے پرائمری تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں ماؤں کی ناخواندگی اور دور افتادہ جغرافیائی حالات اہم رکاوٹیں ہیں۔

    رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تمام صوبوں میں ایک مشترکہ مسئلہ تعلیم پر کم سرکاری سرمایہ کاری ہے۔ سندھ اپنے تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ کرتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 81 فیصد ہے۔

    دوسری جانب پنجاب نے اسکولوں کی بہتری کے لیے 100 ارب روپے کے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے اور شراکت داری پر مبنی تعلیمی منصوبوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

    تاہم مجموعی طور پر پاکستان میں تعلیم پر ہونے والے اخراجات عالمی معیار سے کہیں کم ہیں، جس کی وجہ سے آبادی میں اضافے اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق تعلیمی سہولیات فراہم نہیں ہو پا رہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اب مسئلہ تشخیص کا نہیں بلکہ ان حل پر عمل درآمد کا ہے جن کی نشاندہی برسوں پہلے ہو چکی ہے۔

    اس مقصد کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ نادرا کے ب فارم سے منسلک ایک متحدہ قومی طلبہ رجسٹری قائم کی جائے تاکہ ملک بھر میں داخلوں، حاضری اور تعلیم چھوڑنے والے بچوں کا حقیقی وقت میں ریکارڈ رکھا جا سکے۔

    رپورٹ کے مطابق قابل اعتماد قومی ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں بچے سرکاری نظام کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور صوبے پرانے مردم شماری کے اعداد و شمار یا نامکمل ریکارڈ پر انحصار کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے نظام کو آپس میں مربوط کیا جائے، تیز رفتار تعلیمی پروگراموں کو قانونی حیثیت دی جائے تاکہ تعلیم سے محروم بچے دوبارہ اسکولوں میں داخل ہو سکیں، جبکہ گنجان آباد علاقوں میں دو شفٹوں میں اسکول چلانے کا نظام بھی متعارف کرایا جائے۔

    اس کے علاوہ ملک بھر میں اسکول سے باہر بچوں کا نیا سروے کرانے، خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو عام تعلیمی نظام میں شامل کرنے اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو کم از کم پانچ بچوں کو دوبارہ اسکول لانے کی قومی مہم میں شریک کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اگر ان سفارشات پر مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو لاکھوں بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رہنے سے بچایا جا سکتا ہے۔

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہفتے میں 5,800 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہفتے میں 5,800 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے نمایاں تیزی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں واضح اضافہ ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہفتے کے دوران 5 ہزار 800 سے زائد پوائنٹس بڑھ کر ایک لاکھ 85 ہزار 372 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 3.2 فیصد اضافہ ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس بہتری کی بڑی وجوہات عالمی سیاسی کشیدگی میں کمی، خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ، توقعات سے کم مہنگائی اور شرح سود میں مزید کمی کی امیدیں ہیں۔

    آبا علی حبیب سیکیورٹیز کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں نیچے آئیں، جس کے مثبت اثرات پاکستان کی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ پر بھی پڑے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں جون کے دوران مہنگائی کی شرح مارکیٹ کی توقعات سے کم رہی، جس سے سرمایہ کاروں میں اعتماد بڑھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ہفتے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی میں منافع کی شرح بھی کم ہوئی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ آئندہ مہینوں میں شرح سود مزید کم ہو سکتی ہے۔ اسی امید نے بینکنگ، ٹیکنالوجی، پاور اور دیگر شعبوں کے حصص میں خریداری کو فروغ دیا۔

    اعداد و شمار کے مطابق حجم کے لحاظ سے ٹیکنالوجی کا شعبہ سب سے زیادہ سرگرم رہا، جبکہ بینکنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، سرمایہ کاری کمپنیوں اور بجلی کے شعبے میں بھی نمایاں کاروبار ہوا۔ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باعث مجموعی مارکیٹ مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے اس ہفتے کئی بڑی عالمی منڈیوں سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ پاکستان میں 3.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 3 فیصد، امریکی ڈاؤ جونز 2 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس تقریباً 1.7 فیصد بڑھا۔

    اقتصادی اشاریوں کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں تقریباً 611 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ اس بہتری کی وجہ کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے حاصل ہونے والی رقوم کو قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ تاہم دوسری جانب مالی سال کے دوران تجارتی خسارہ 21.57 فیصد بڑھ کر 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، کیونکہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔

    توانائی کے شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سالانہ بنیاد پر 20 فیصد کم رہی۔ اس کی وجہ ایندھن کی بلند قیمتیں، طلب میں کمی اور سرحدی اسمگلنگ کو قرار دیا گیا۔ اسی طرح جولائی سے مئی کے دوران پاکستان نے 1 کروڑ 60 لاکھ ٹن سے زائد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔

    رپورٹ کے مطابق گردشی قرضے میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق بجلی کے شعبے کا گردشی قرض ایک سال میں تقریباً 780 ارب روپے کم ہو کر 1.614 کھرب روپے رہ گیا، جو توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

    اجناس کی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 71.8 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل تقریباً 68.7 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ مقامی سطح پر بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مہنگائی پر دباؤ کم ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے سرمایہ کاروں کی توجہ کمپنیوں کے دوسری سہ ماہی مالی نتائج، ٹی بلز کی آئندہ نیلامی اور عالمی سیاسی صورتحال پر مرکوز رہے گی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں نرمی کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

  • ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ: پاکستان میں ترقیاتی منصوبے بدعنوانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے خطرات سے دوچار

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ: پاکستان میں ترقیاتی منصوبے بدعنوانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے خطرات سے دوچار

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے پروجیکٹس کی منصوبہ بندی، منظوری، ٹھیکوں کی تقسیم اور عمل درآمد کے مراحل مختلف انتظامی کمزوریوں اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث بدعنوانی کے خطرات سے دوچار ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ملک میں قوانین اور ضابطے تو موجود ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے عوامی سرمایہ کاری کے نتائج متاثر ہو رہے ہیں۔

    ’انفراسٹرکچر کرپشن رسک اسیسمنٹ‘کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں کے نظام کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں پاکستان کو انفراسٹرکچر گورننس کے حوالے سے 10 میں سے 6.34 کا رسک اسکور دیا گیا ہے، جسے ’زیادہ خطرے‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس درجہ بندی کا مطلب ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی، منظوری، خریداری اور ٹھیکوں کے مراحل میں انتظامی کمزوریاں موجود ہیں جو بدعنوانی یا غیر ضروری اثر و رسوخ کے امکانات کو بڑھا سکتی ہیں۔

    مطالعے کے مطابق پاکستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ کمزور مالی گنجائش ہے۔ بار بار پیش آنے والے مالیاتی بحران، قرضوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ نے ترقیاتی اخراجات کے لیے دستیاب وسائل کو محدود کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) جو ماضی میں حکومتی سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ تھا، اب مالی دباؤ کی وجہ سے سکڑ چکا ہے۔

    مجموعی عوامی سرمایہ کاری جو مالی سال 2018-17 میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 4.9 فیصد کے برابر تھی، حالیہ برسوں میں کم ہو کر تقریباً 2.6 فیصد رہ گئی ہے۔ دوسری جانب قرضوں کی ادائیگی وفاقی اخراجات کا تقریباً نصف حصہ کھا جاتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عوامی مالیاتی انتظام کے لیے آئینی اور قانونی ڈھانچہ موجود ہے، تاہم عملی صورت حال مختلف ہے۔ مالی ذمہ داری اور قرضوں کی حد سے متعلق قانون کے تحت عوامی قرضوں کی ایک حد مقرر کی گئی تھی، لیکن ملک کا قرضہ کئی برسوں سے اس قانونی حد سے تجاوز کر رہا ہے۔

    اسی طرح آڈٹ ادارے بے ضابطگیوں کی نشاندہی تو کرتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کارروائی میں تاخیر اور کمزور احتساب کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور جانچ پڑتال کے نظام میں بھی خامیاں موجود ہیں۔ اصولی طور پر ہر منصوبے کو ابتدائی تصوراتی نوٹ، فنی و مالیاتی جانچ اور مختلف منظوری کے مراحل سے گزرنا چاہیے، مگر عملی طور پر کئی وزارتیں اور محکمے ابتدائی مراحل کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست منصوبے منظوری کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔

    اس عمل سے منصوبوں کی معروضی جانچ کمزور پڑ جاتی ہے اور غیر ضروری یا کم ترجیحی منصوبوں کے شامل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

    مطالعے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں خریداری اور ٹھیکوں کی تقسیم کے قوانین بین الاقوامی معیار کے مطابق شفافیت اور مسابقت کے اصولوں پر مبنی ہیں، تاہم وقت کے ساتھ بعض قانونی تبدیلیوں نے ان اصولوں کو کمزور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض حالات میں سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کی گنجائش موجود ہے، جس سے کھلے مقابلے کے اصول متاثر ہوتے ہیں۔

    رپورٹ میں الیکٹرانک پروکیورمنٹ سسٹم (ای پی اے ڈی ایس) کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد سرکاری خریداری کے عمل کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس نظام کا نفاذ تمام اداروں میں یکساں نہیں ہے اور بعض سرکاری ادارے اب بھی اپنے الگ نظام استعمال کر رہے ہیں، جس سے معلومات کے یکجا ہونے اور مؤثر نگرانی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق انفراسٹرکچر گورننس کا بنیادی مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد میں موجود خلا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبوں کی ترجیحات کے تعین، وسائل کی تقسیم، نگرانی اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے): ایک کیس اسٹڈی

    رپورٹ میں خاص طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو بطور نمونہ ادارہ منتخب کرکے ہائی ویز پروجیکٹس کی منصوبہ بندی اور انتظامی نظام کا تجزیہ کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چند دہائیوں میں سڑکوں، توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اس کے باوجود یہ سرمایہ کاری عوام کی زندگیوں میں مطلوبہ معاشی اور سماجی بہتری لانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس صورت حال نے ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، کارکردگی اور مؤثریت کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔

    ادارہ جاتی سطح پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں 2024 کے دوران متعارف کرائی گئی اصلاحات بہتر طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہیں۔

    ایک خودمختار نیشنل ہائی وے کونسل کے قیام، پیشہ ور بورڈ کو جوابدہ چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کی تقرری اور اصلاحاتی عمل کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹرانسفارمیشن یونٹ کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارے میں اصلاحات لانے کی کوشش ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ان اصلاحات پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے تو انفراسٹرکچر کے شعبے میں حکمرانی کے معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

    تاہم جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان اصلاحات پر عمل درآمد ابھی مکمل نہیں ہو سکا اور یہ عمل سیاسی مداخلت اور اختلافات سے بھی متاثر ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے کونسل میں ابتدائی تقرریاں سرکاری اداروں کے قانون (ایس او ای ایکٹ) میں مقرر کردہ اہلیت کے معیار کے مطابق نہیں تھیں۔ اسی طرح بورڈ آف ڈائریکٹرز اب بھی زیادہ تر رسمی منظوری دینے والے ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ منصوبوں کی لاگت میں مسلسل اضافے کے حوالے سے جوابدہی کا نظام بھی واضح نہیں ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر این ایچ اے میں فیصلے اب بھی قواعد و ضوابط اور کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت اور اثر و رسوخ کے تحت کیے جاتے ہیں۔ جائزے میں مزید کہا گیا ہے کہ مختلف مفاداتی گروہوں کا اثر بہت زیادہ ہے، عوامی مشاورت زیادہ تر رسمی کارروائی تک محدود ہے، جبکہ منصوبوں کی ترجیحات کے تعین اور ٹھیکوں کی تقسیم کے عمل پر بیرونی سیاسی اثر و رسوخ بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس جائزے کا مقصد کسی مخصوص منصوبے میں بدعنوانی ثابت کرنا نہیں بلکہ ایسے انتظامی اور پالیسی عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جو بدعنوانی یا ناقص حکمرانی کے خطرات کو جنم دے سکتے ہیں۔ مطالعے کے لیے دستاویزی تحقیق کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر گورننس سے وابستہ 14 ماہرین اور متعلقہ افراد کے انٹرویوز بھی کیے گئے۔

    سرکاری اداروں کے لیے تجاویز

    رپورٹ کے اختتام پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پارلیمانی اداروں اور متعلقہ محکموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب، جانچ، خریداری اور نگرانی کے مراحل میں شفافیت، مسابقت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ عوامی سرمایہ ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور ترقیاتی منصوبے واقعی عوامی فلاح اور معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکیں۔

    رپورٹ کے مطابق سب سے پہلے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل پانچ سالہ سرمایہ کاری حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں ترجیحات، مالی وسائل اور متوقع نتائج واضح طور پر بیان کیے جائیں۔ جاری منصوبوں کے لیے کئی سالہ مالی وعدوں کو تحفظ دیا جائے تاکہ فنڈز کی کمی کے باعث تاخیر اور لاگت میں اضافے سے بچا جا سکے۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ہر منصوبہ مرحلہ وار جانچ کے عمل سے گزرے۔ منصوبے کے ابتدائی تصور، فنی و مالیاتی جانچ اور حتمی منظوری کے تمام مراحل پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ بڑے منصوبوں کی آزادانہ جانچ پڑتال کی جائے اور ان کی فزیبلٹی رپورٹس عوام کے لیے دستیاب ہوں۔ منصوبوں کی تکمیل کے بعد مکمل رپورٹ شائع کرنا بھی لازمی قرار دیا جائے۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب کے لیے واضح اور عوامی معیار مقرر کیے جائیں تاکہ سیاسی اثر و رسوخ کے بجائے قومی ضرورت، معاشی فائدے اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جا سکے۔ اسی طرح سرکاری خریداری کے نظام میں مسابقت اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کے عمل کو محدود کیا جائے اور تمام اداروں کو یکساں خریداری قوانین کا پابند بنایا جائے۔

    رپورٹ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت دیگر سرکاری اداروں کی مالی اور انتظامی معلومات عوام کے سامنے لانے، منصوبوں کے اخراجات اور معاہدوں کی تفصیلات شائع کرنے اور پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے افراد کے تحفظ کے لیے وسل بلوئر قانون نافذ کرنے اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق قواعد کو سخت بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تیاری کے مرحلے میں مقامی آبادی، خواتین اور کمزور طبقات کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبے عوامی ضروریات کے مطابق ہوں اور ان پر اعتماد میں اضافہ ہو۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے انفراسٹرکچر منصوبوں میں بدعنوانی کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

  • ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی: کیا پاکستان، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہو سکے گا؟

    ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی: کیا پاکستان، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہو سکے گا؟

    ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ آج پاکستان پہنچ رہے ہیں اور ان کے اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور علاقائی روابط سمیت متعدد اہم موضوعات پر بات چیت متوقع ہے، لیکن ان تمام معاملات میں ایک سوال سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے: کیا تقریباً تین دہائیوں سے تعطل کا شکار پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اب دوبارہ زندگی پا سکے گا؟

    یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان اس وقت شدید توانائی بحران، گیس کی قلت اور مہنگی درآمدی ایل این جی پر انحصار کے دور سے گزر رہا ہے۔ دوسری جانب حالیہ ایران۔امریکہ سفارتی پیش رفت نے بھی خطے میں توانائی کے نئے امکانات کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے۔

    پاکستان میں قدرتی گیس کئی دہائیوں تک توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ رہی۔ گھریلو صارفین، صنعتیں، بجلی گھر، کھاد ساز کارخانے اور سی این جی سیکٹر بڑی حد تک مقامی گیس پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ تاہم سوئی، ماری، قادری اور دیگر بڑے گیس ذخائر سے پیداوار میں مسلسل کمی کے باعث ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    سردیوں میں کئی شہروں خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں گیس کا دباؤ کم ہو جاتا ہے جبکہ صنعتوں کو بھی گیس کی فراہمی محدود کر دی جاتی ہے۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لیے پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے مہنگی ایل این جی درآمد کر رہا ہے، جس پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

    توانائی ماہرین کے مطابق اگر ایران سے پائپ لائن کے ذریعے گیس پاکستان پہنچتی ہے تو یہ ایل این جی کے مقابلے میں نسبتاً کم لاگت والا اور زیادہ مستحکم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    تیس برس کا خواب

    ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی کہانی 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی۔ اس وقت خیال یہ تھا کہ ایران کے وسیع گیس ذخائر سے گیس پاکستان اور پھر بھارت تک پہنچائی جائے۔

    اسی وجہ سے ابتدائی طور پر اس منصوبے کو ایران۔پاکستان۔بھارت یا آئی پی آئی پائپ لائن کہا جاتا تھا۔ منصوبہ خطے میں اقتصادی تعاون کی ایک بڑی مثال سمجھا جاتا تھا اور اسے بعض مبصرین نے "امن کی پائپ لائن” کا نام بھی دیا تھا۔

    تاہم بھارت نے قیمتوں، سکیورٹی خدشات اور سیاسی عوامل کا حوالہ دیتے ہوئے منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یوں یہ منصوبہ صرف ایران اور پاکستان کے درمیان محدود ہو گیا اور بعد میں اسے آئی پی گیس پائپ لائن کہا جانے لگا۔

    پاکستان اور ایران کے درمیان گیس خریداری کا معاہدہ 2010 میں طے پایا۔ اس کے بعد مارچ 2013 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے سرحدی علاقے میں منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔

    اس موقع پر دونوں ممالک نے اسے توانائی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ توقع تھی کہ چند برسوں میں ایرانی گیس پاکستان کے قومی نظام کا حصہ بن جائے گی اور ملک کے توانائی مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔

    لیکن یہ امیدیں جلد ہی مشکلات کی نذر ہو گئیں، کیوں کہ ایران پر امریکہ کی پابندیوں کے باعث پاکستان اپنے علاقے میں پائیپ لائین تعمیر کرنے سے ہچکچاہت کا شکار رہا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ایران نے اپنے حصے کا پائیپ بچھا دیا تھا۔ پاکستان کو خدشہ تھا کہ اگر اس نے منصوبے پر مکمل عملدرآمد کیا تو اسے امریکی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    دوسری طرف عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں نے بھی پابندیوں کے ماحول میں اس منصوبے کی مالی معاونت سے گریز کیا۔ اس وجہ سے پاکستان کو سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے مسائل کا سامنا رہا۔

    اس دوران پاکستان نے قطر سے ایل این جی درآمد کرنے کا راستہ اختیار کیا جبکہ توانائی کی پالیسیوں میں بھی تبدیلیاں آتی رہیں۔ نتیجتاً پائپ لائن منصوبہ پس منظر میں چلا گیا۔

    اس منصوبے کی بنیاد جنوبی پارس گیس فیلڈ پر ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس میں واقع یہ میدان قطر کے ساتھ مشترکہ ذخائر کا حصہ بھی ہے۔

    ایران نے اپنی سرزمین پر تقریباً 1100 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جو صوبہ بوشہر کے علاقے عسلویہ سے شروع ہو کر مختلف صوبوں سے گزرتی ہوئی پاکستان کی سرحد تک پہنچتی ہے۔

    پاکستان میں پائپ لائن کو بلوچستان کے سرحدی مقام گبد سے داخل ہونا تھا۔ وہاں سے یہ گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے گزرتی ہوئی سندھ کے شہر نواب شاہ تک پہنچنی تھی، جہاں پاکستان کا مرکزی گیس ٹرانسمیشن نیٹ ورک موجود ہے۔

    منصوبے کے مطابق پاکستان کے حصے کی لمبائی تقریباً 781 کلومیٹر رکھی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت ایران روزانہ تقریباً 750 ملین کیوبک فٹ گیس پاکستان کو فراہم کرتا۔

    ماہرین کے مطابق یہ مقدار پاکستان کی مجموعی ضروریات کا قابل ذکر حصہ پوری کر سکتی تھی۔ اس گیس کو گھریلو استعمال، صنعتوں، کھاد سازی، سی این جی اسٹیشنوں اور بجلی گھروں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

    کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو جاتا تو آج پاکستان کو گیس لوڈشیڈنگ اور مہنگی ایل

    ایران کا مؤقف اور جرمانے کا خطرہ

    ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ اس نے اپنے حصے کا کام مکمل کر دیا ہے اور اب پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

    معاہدے کے تحت پاکستان کو مخصوص مدت کے اندر اپنا حصہ تعمیر کرنا تھا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے جرمانے اور قانونی کارروائی کی ممکنہ باتیں بھی سامنے آئیں۔

    دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں مذاکرات کیے اور کوئی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جس سے معاہدہ بھی برقرار رہے اور پاکستان بین الاقوامی پابندیوں کے خطرات سے بھی محفوظ رہ سکے۔

    2024 میں نئی پیش رفت

    منصوبے میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مارچ 2024 میں پاکستان نے ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت اپنی سرزمین پر ابتدائی 80 کلومیٹر حصے کی تعمیر کی منظوری دی تو اس معاملے پر امریکہ نے کھل کر مخالفت کا اظہار کیا۔ اس دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا کہ اگر پاکستان ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے پر آگے بڑھتا ہے تو امریکہ کا ردعمل کیا ہوگا۔

    جواب میں میتھیو ملر نے کہا کہ امریکہ اس منصوبے کی حمایت نہیں کرتا اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جو بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرتا ہے، اسے ہماری پابندیوں کے خطرات کو بہت سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔” یہ وہ بیان تھا جسے بعض بین الاقوامی اور پاکستانی میڈیا اداروں نے عام فہم انداز میں "face the music” یعنی "نتائج بھگتنا پڑیں گے” کے مفہوم سے بیان کیا۔

    اس سے چند روز قبل امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو بھی کانگریس کی ایک سماعت میں کہہ چکے تھے کہ ایران سے گیس درآمد کرنے کی صورت میں پاکستان امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب پاکستان ایران کی جانب سے ممکنہ اربوں ڈالر جرمانے سے بچنے کے لیے پائپ لائن کے سرحدی حصے پر تعمیراتی کام شروع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی مخالفت کے باعث یہ منصوبہ ایک بار پھر بین الاقوامی سیاست، توانائی کی ضرورت اور اقتصادی مفادات کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن گیا۔ تاہم منصوبے کا بڑا حصہ اب بھی تعمیر کا منتظر ہے۔

    کیا موجودہ حالات میں منصوبہ ممکن ہے؟

    ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

    پاکستان کو توانائی کی شدید ضرورت ہے۔ مقامی گیس ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جبکہ درآمدی ایل این جی ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ ایسے میں ایران سے زمینی راستے کے ذریعے گیس کی فراہمی ایک پرکشش آپشن سمجھی جاتی ہے۔

    دوسری جانب ایران بھی اپنی توانائی برآمدات بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر پابندیوں کے ماحول میں نرمی آتی ہے یا دونوں ممالک کوئی ایسا طریقہ کار تلاش کر لیتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتا ہو، تو منصوبے کے دوبارہ فعال ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

    تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف سیاسی خواہش کافی نہیں ہوگی۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، بین الاقوامی مالیاتی تعاون، تکنیکی انتظامات اور مضبوط سفارتی حکمت عملی درکار ہوگی۔

    ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن محض ایک توانائی منصوبہ نہیں بلکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اقتصادی، جغرافیائی اور تزویراتی تعاون کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔

    ایرانی صدر کے موجودہ دورے کے دوران اگرچہ کسی بڑی پیش رفت کی توقعات قبل از وقت ہوں گی، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات نے اس منصوبے کو ایک بار پھر قومی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آنے والے برسوں میں بلوچستان کے سرحدی علاقے گبد سے گزرنے والی یہی پائپ لائن پاکستان کے توانائی نقشے کو بدلنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا یہ منصوبہ ماضی کی طرح ایک بار پھر سیاسی اور سفارتی رکاوٹوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔

  • پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت امریکہ اور ایران کے صدور نے دستخط کر کے منظور کی ہے جبکہ انہوں نے ثالث کی حیثیت سے اس کی توثیق کی ہے۔ ان کے مطابق دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط اس بات کا ثبوت ہیں کہ فریقین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع ورسائی محل میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے مختصر طور پر کہا، ‘یہ معاہدہ ہو چکا ہے، میں نے ابھی ورسائی میں اس پر دستخط کیے ہیں۔’

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں نے باقاعدہ طور پر معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔

    مبصرین کے مطابق اگر معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

    شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکہاپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم کے مطابق پاکستان، شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے، 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس معاہدے کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا بھی آغاز کیا جائے گا تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر تعلقات، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی مثبت نتائج پیدا کرے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم نے ایک ایسے بحران کے خاتمے میں مدد دی جو پورے خطے اور دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی دانشمندانہ قیادت اور امن کے لیے عزم نے اس معاہدے کو ممکن بنایا۔ وزیراعظم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔

    شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت میں قطر کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کو بھی اس عمل میں تعاون اور مثبت کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

    وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل کوششوں، غیر معمولی لگن اور امن کے فروغ کے لیے کردار نے اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے میں نمایاں حصہ ڈالا۔

  • پاکستان میں غربت میں اضافہ، مگر سماجی تحفظ کے اقدامات میں بھی توسیع

    پاکستان میں غربت میں اضافہ، مگر سماجی تحفظ کے اقدامات میں بھی توسیع

    پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں غربت کی شرح ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، تاہم حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ کمزور اور نادار طبقات کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ قومی اقتصادی سروے برائے 2025-26 کے مطابق غربت میں اضافے کے باوجود تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے کئی شعبوں میں بہتری بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں قومی غربت کی شرح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ معاشی مشکلات، مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے گھریلو آمدنی اور عوامی فلاح پر منفی اثر ڈالا۔

    صوبائی سطح پر بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ 47 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ پنجاب میں یہ شرح 23.3 فیصد رہی۔ سندھ میں 32.6 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 35.3 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ سروے کے مطابق آمدنی میں عدم مساوات بھی بڑھی ہے اور قومی جینی کوایفیشنٹ 28.4 سے بڑھ کر 32.7 ہو گیا ہے۔

    حکومت نے غربت کے اثرات کم کرنے کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران غریب دوست اخراجات 4,663 ارب روپے تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9.6 فیصد زیادہ ہیں۔ سماجی تحفظ اور فلاحی پروگراموں پر 822 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ پروگرام رہا۔ مالی سال 2025-26 میں اس کے لیے 722.49 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ مارچ تک 540.27 ارب روپے جاری کیے جا چکے تھے۔ پروگرام کے تحت 1 کروڑ 2 لاکھ خواتین مستفید ہوئیں جبکہ تعلیمی وظائف اور نشوونما پروگراموں سمیت مشروط نقد امداد سے 65 لاکھ 90 ہزار افراد کو فائدہ پہنچا۔

    اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ حکومت بی آئی ایس پی کی ادائیگیوں کو مزید شفاف بنانے کے لیے "سوشل پروٹیکشن والٹس” متعارف کرا رہی ہے۔ اس نظام کے تحت مستحق افراد کو براہ راست ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم فراہم کی جائیں گی، جس سے بدعنوانی اور غیر ضروری کٹوتیوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔

    پاکستان بیت المال نے بھی جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک 32 لاکھ سے زائد مستحق افراد کی مدد کی اور 6.56 ارب روپے تقسیم کیے۔ اسی طرح زکوٰۃ فنڈ کے تحت 11.77 ارب روپے صوبوں اور دیگر علاقوں کو منتقل کیے گئے۔ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) نے پنشن اور دیگر مدات میں 54.29 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کیں۔

    اگرچہ غربت میں حالیہ اضافہ تشویش کا باعث ہے، تاہم اقتصادی سروے کے مطابق تعلیم، انٹرنیٹ تک رسائی، حفاظتی ٹیکہ کاری اور دیگر سماجی اشاریوں میں بہتری اس بات کا اشارہ ہے کہ سماجی تحفظ کے پروگرام عوامی فلاح میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معاشی استحکام اور مؤثر سماجی پالیسیوں کے ذریعے آنے والے برسوں میں غربت میں دوبارہ کمی لائی جا سکتی ہے۔

  • اکنامک سروے 2025-26 رپورٹ: پاکستان کی معیشت کی شرح نمو ٹارگیٹ4.2 فیصد سے کم، 3.7 فیصد رہی

    اکنامک سروے 2025-26 رپورٹ: پاکستان کی معیشت کی شرح نمو ٹارگیٹ4.2 فیصد سے کم، 3.7 فیصد رہی

    مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق ملک کی معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ ہدف 4.2 فیصد تھا۔

    اسلام آباد میں جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معیشت کی کارکردگی کچھ بہتر رہی کہ۔ گزشتہ سال شرحِ نمو 3.18 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق معاشی بہتری کی بڑی وجوہات بہتر معاشی پالیسی، مالیاتی نظم و ضبط، بڑے صنعتی شعبے کی ترقی، 2025 کے سیلاب کے باوجود زرعی شعبے کی مضبوطی، روپے کی قدر میں استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات ہیں۔

    دریں اثنا، بدھ کے روز قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی شرحِ نمو 4 فیصد ہونے کا ٹارگیٹ مقرر کیا ہے جو کہ گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    مالی سال 2023 میں شرحِ نمو منفی 0.2 فیصد، 2024 میں 2.6 فیصد اور 2025 میں 3.2 فیصد رہی تھی۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ابتدا میں امید تھی کہ رواں سال میں شرحِ نمو 4 فیصد سے زیادہ ہوگی، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود پاکستان کی معیشت کا حجم تاریخی سطح پر پہنچ کر 126.9 کھرب روپے ہو گیا ہے، جبکہ فی کس آمدنی بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی ہے جو پہلے 1,751 ڈالر تھی۔

    مہنگائی

    اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی سے اپریل تک صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 4.7 فیصد تھی۔

    سروے میں کہا گیا ہے کہ حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.8 فیصد تھی۔

    رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے تین سہ ماہیوں کے دوران مہنگائی مجموعی طور پر قابو میں رہی۔ تاہم تیسرے سہ ماہی کے اختتام پر عالمی سیاسی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے بیرونی اثرات نے قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اسی لیے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور بروقت حکومتی اقدامات ضروری ہیں۔

    اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انہوں نے کہا، "ہم نے 28 فیصد مہنگائی سے آغاز کیا تھا اور آج صورتحال یہ ہے کہ مرکزی بینک کی پالیسی شرح سود 11.5 فیصد تک آ چکی ہے۔”

    زراعت

    وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 1.53 فیصد تھی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ بہتری 2025 کے سیلاب کے باوجود حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق فصلوں کے شعبے نے بھی مثبت کارکردگی دکھائی اور پہلے کمی کا شکار رہنے کے بعد اب اس میں 1.44 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مویشی پالنے کا شعبہ بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے اور اس کی کارکردگی مزید بہتر ہو رہی ہے۔

    بڑے پیمانے کی صنعتیں

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں 6.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ LSM کے 22 ذیلی شعبوں میں سے 16 شعبوں میں مثبت ترقی دیکھی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ 6.1 فیصد ترقی کسی ایک صنعت کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف شعبوں کی مجموعی بہتر کارکردگی کا نتیجہ ہے۔

    وزیر خزانہ کے مطابق اس شعبے میں نمایاں سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد، کھاد میں 17 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 5 فیصد، گاڑیوں میں 31 فیصد اور موبائل فونز میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔

    خدمات کا شعبہ

    وزیر خزانہ نے کہا کہ خدمات کا شعبہ پاکستان کی مجموعی معیشت (GDP) کا تقریباً 58 فیصد حصہ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں اس شعبے کی شرحِ نمو 4.9 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    انہوں نے خاص طور پر مواصلات اور انفارمیشن سروسز کے شعبے کا ذکر کیا، جس میں 7.52 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ یہ بھی گزشتہ چار سال کی بلند ترین شرحِ نمو ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

    مالی خسارہ

    اقتصادی سروے کے مطابق مالی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔

    مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد (2,970 ارب روپے) سے کم ہو کر 0.7 فیصد (856.4 ارب روپے) رہ گیا۔

    اسی طرح پرائمری سرپلس (بجٹ کا اضافی توازن) بھی 3 فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد ہو گیا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس آمدن میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 23 فیصد کمی آئی، جس سے حکومت کو مالی معاملات میں مزید گنجائش حاصل ہوئی۔

  • 15 مئی 1987: جب پاکستان کے ارب پتی صنعتکار کو اغوا کر لیا گیا

    15 مئی 1987: جب پاکستان کے ارب پتی صنعتکار کو اغوا کر لیا گیا

    سیٹھ سلیمان داؤد کا خاندان اصل میں موجودہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر ‘بانٹوا’ (عبدالستار ایدھی کا آبائی گاؤں) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت کراچی میں بانٹوا میمن برادری کا کاروبار پر بڑا اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے سن 1900 میں اپنی کاروباری زندگی کا آغاز ایک چھوٹی دکان سے کیا۔

    انہوں نے اپنے بیٹوں احمد داؤد، صدیق داؤد اور میر محمد داؤد کی ایسی تربیت کی کہ وہ آگے چل کر ہندوستان کے بڑے تاجروں میں شمار ہونے لگے۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے داؤد خاندان نے ٹیکسٹائل تجارت میں بہت نام کمایا تھا۔

    سیٹھ سلیمان داؤد کے بیٹوں میں سیٹھ احمد داؤد سب سے زیادہ بااثر شخصیت تھے۔ انہیں پاکستان میں ‘صنعتکاری کا باپ’ بھی کہا جاتا تھا۔ 1947 میں قائداعظم محمد علی جناح کی اپیل پر سیٹھ احمد داؤد نے اپنا سارا کاروبار ہندوستان سے ختم کرکے پاکستان (کراچی) منتقل کردیا۔

    داؤد خاندان نے کراچی میں پہلی کپڑے کی مل ‘داؤد کاٹن ملز’ قائم کی، جو اس وقت پاکستان کی بڑی ملوں میں شمار ہوتی تھی۔ داؤد گروپ کا کاروبار تیزی سے ترقی کرتا گیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی:

    1۔ داؤد ہرکیولس (Dawood Hercules):
    امریکی کمپنی ہرکیولس کے ساتھ مل کر پاکستان کی پہلی بڑی کیمیائی کھاد (Fertilizer) کمپنی قائم کی۔

    2۔ کاغذ کی صنعت:
    مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں کرنافلی پیپر ملز قائم کی۔

    3۔ پیٹرولیم:
    پاکستان گم (Pakistan Gum) اور پیٹرولیم کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی۔

    4۔ بینکاری اور انشورنس:
    سینٹرل انشورنس کمپنی اور بینکاری کے شعبے میں بھی ان کا بڑا حصہ تھا۔

    1970 کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لیا گیا تو داؤد گروپ کو شدید مالی نقصان پہنچا۔ ان کی کئی اہم ملیں اور کارخانے حکومت کے قبضے میں چلے گئے۔

    سیٹھ احمد داؤد کچھ عرصہ ملک سے باہر رہے، پھر واپس آکر کاروبار کو دوبارہ منظم کیا۔ اس خاندان نے ‘داؤد فاؤنڈیشن’ کے نام سے سماجی و فلاحی ادارہ قائم کیا۔ داؤد خاندان نے صرف دولت ہی نہیں کمائی بلکہ خیرات اور تعلیمی کاموں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

    داؤد فاؤنڈیشن، جو 1960 میں قائم ہوئی، نے پاکستان میں انجینئرنگ کے شعبے میں کراچی کو ‘داؤد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی’ کا بڑا تحفہ دیا، جو بعد میں ‘داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی’ کے نام سے مشہور ہوا۔

    داؤد گروپ کے نام سے کئی اسکول، اسپتال اور لائبریریاں آج بھی کام کر رہی ہیں۔ بعد میں احمد داؤد کے بیٹے حسین داؤد نے اینگرو (Engro) کے ساتھ الحاق کرکے ‘داؤد گروپ آف کمپنیز’ کو مزید وسعت دی۔

    آج یہ خاندان پاکستان کے طاقتور ترین کاروباری گروپوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے کئی صنعتی ادارے اور کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں چند یہ ہیں:

    1۔ داؤد انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ
    2۔ داؤد تکافل
    3۔ داؤد ہرکولیس کیمیکلز
    4۔ داؤد جوٹ ملز
    5۔ داؤد شپنگ کمپنی
    6۔ داؤد پیٹرولیم لمیٹڈ
    7۔ بورے والا ٹیکسٹائل ملز
    8۔ داؤد سینٹرل انشورنس کمپنی
    9۔ داؤد یاماہا لمیٹڈ
    10۔ اسلام آباد آٹو موٹو کمپنی لمیٹڈ
    11۔ بلوچستان انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ
    12۔ الفا انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ
    13۔ گیئر ہابنگ لمیٹڈ
    14۔ ڈائی کاسٹنگ لمیٹڈ
    15۔ اومیگا فارگنگ لمیٹڈ
    16۔ کریسنٹ پاک انڈسٹریز
    17۔ طٰہٰ گارمنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ
    18۔ طٰہٰ ٹیکسٹائل پرائیویٹ لمیٹڈ
    19۔ اِن باکس بزنس پرائیویٹ لمیٹڈ
    20۔ ڈاولینس پاکستان لمیٹڈ
    21۔ ڈیسکان پاکستان
    22۔ حبکو پاور پلانٹ
    23۔ اینگرو کارپوریشن

    سیٹھ سلیمان داؤد کی محنت اور احمد داؤد کے وژن نے ایک ایسی سلطنت قائم کی جو آج بھی ‘داؤد گروپ’ اور ‘اینگرو’ کی صورت میں پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

    15 مئی 1987 کو سیٹھ احمد داؤد کے چھوٹے بھائی سیٹھ احمد سلیمان داؤد ضلع ٹنڈو محمد خان میں اپنے زرعی فارموں سے مرسڈیز کار میں واپس کراچی آرہے تھے کہ بلڑی شاہ کریم کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کرلیا۔

    پاکستان کی بااثر ارب پتی فیملی کے فرد سیٹھ احمد سلیمان داؤد کے اغوا کی خبر ملتے ہی جنرل ضیا الحق کی پوری انتظامی مشینری حرکت میں آگئی۔ داؤد فیملی کے تعلقات نہ صرف جنرل ضیا سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام سے تھے بلکہ عرب حکمرانوں سے بھی ان کی جان پہچان تھی، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومت ان کی بازیابی کے لیے سرگرم ہوگئی۔

    بڑی کوششوں کے بعد کراچی سے آنکھوں کے معروف ڈاکٹر رضوی کو حکومتی اداروں نے اپنی تحویل میں لیا۔ اسی ڈاکٹر کے ذریعے ضلع جامشورو کے کوہستان کے بااثر ملک خاندان کے چند افراد کو بھی ریاستی اداروں نے حراست میں لیا، جن کے ذریعے سیٹھ احمد سلیمان داؤد کو اغوا کرنے والے ڈاکوؤں سے رابطہ قائم ہوا۔

    داؤد فیملی اپنے فرد کی زندہ بازیابی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار تھی۔ آخرکار جامشورو کوہستان کے ملک سرداروں اور کراچی سے گرفتار کیے گئے مشہور ماہرِ چشم ڈاکٹر رضوی کے ذریعے ڈاکوؤں کو تاوان دے کر سیٹھ احمد سلیمان داؤد کو 20 دن بعد بازیاب کرا لیا گیا۔

    سیٹھ احمد سلیمان داؤد کی بازیابی کے بعد پولیس نے اس اغوا میں ڈاکٹر رضوی، کوہستان کے ملکوں کے علاوہ جن ڈاکوؤں کو ملوث ظاہر کیا ان میں سندھ کے بدنام مجرم مٹھو قصائی، غلام نبی سہاگ، لالا علی مراد اور دیگر شامل تھے۔

  • ہرمز بحران: پاکستان سمیت ایشیا میں ایندھن کی قلت، اسکول بند، دکانوں کے اوقات محدود، عالمی ادارے کی نئی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی

    ہرمز بحران: پاکستان سمیت ایشیا میں ایندھن کی قلت، اسکول بند، دکانوں کے اوقات محدود، عالمی ادارے کی نئی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی

    ’دنیا کو 2026 میں تاریخ کے سب سے بڑے توانائی جھٹکوں میں سے ایک کا سامنا ہے، جس نے عالمی معیشت، خوراک، ٹرانسپورٹ اور توانائی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

    یہ دعویٰ انرجی ٹرانزیشن کمیشن (Energy Transitions Commission یا ETC) کی نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز بحران کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے ثابت کردیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار عالمی معیشت کی ایک بڑی کمزوری بن چکا ہے۔

    ’Lessons on Energy Security after the Hormuz Crisis‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث روزانہ تقریباً 18.4 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جو عالمی تیل سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر ہے، جبکہ عالمی ایل این جی تجارت کا تقریباً 20 فیصد بھی متاثر ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اس بحران نے 1973 کے عرب آئل ایمبارگو سے بھی بڑا سپلائی جھٹکا پیدا کیا ہے۔

    انرجی ٹرانزیشن کمیشن ایک عالمی اتحاد ہے جس میں توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی، مالیاتی اداروں اور ماحولیاتی تنظیموں سے وابستہ رہنما شامل ہیں۔ یہ ادارہ دنیا کو 2050 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کی طرف منتقل کرنے سے متعلق پالیسی اور تحقیقاتی سفارشات تیار کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کمیشن کے شریک چیئرمین لارڈ ایڈیر ٹرنر اور جولس کورٹن ہورسٹ ہیں جبکہ یہ ادارہ SYSTEMIQ کے تحت کام کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے خام تیل کا تقریباً 84 فیصد اور ایل این جی کا 80 فیصد ایشیائی ممالک کو جاتا ہے، اسی لیے بحران کا سب سے زیادہ اثر ایشیا پر پڑ رہا ہے۔

    رپورٹ میں پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، بھارت اور فلپائن کو ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں ایندھن کی حقیقی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں ایل پی جی اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے گھریلو اخراجات، ٹرانسپورٹ اور زراعت کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں ریستورانوں اور کینٹینز نے اوقات کار محدود یا بندش اختیار کرلی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ صنعتی ادارے مخصوص ایندھن کی دستیابی کے مطابق اپنی پیداوار محدود کر رہے ہیں جبکہ کھاد کی سپلائی متاثر ہونے سے زرعی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بعض کسان کھاد کے بغیر کاشتکاری پر مجبور ہو رہے ہیں جس سے خوراک کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ ماضی کے توانائی بحرانوں کی طرح ایک بار پھر دکانوں اور ریستورانوں کے اوقات کار محدود کیے جا رہے ہیں جبکہ توانائی بچانے کے لیے ریموٹ ورک اور کم اوقات کار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول دو ہفتوں کے لیے بند کیے گئے جبکہ بنگلہ دیش میں جامعات بند کی گئیں اور گھروں و کاروباری مراکز کو غیر ضروری روشنیاں کم کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ تیل کی قیمتیں تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 90 سے 120 ڈالر تک جا پہنچی ہیں جبکہ ایشیائی ایل این جی قیمتیں 10 سے 12 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 25 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس بحران سے 2026 کے دوران عالمی معیشت پر اضافی ایک سے دو ٹریلین ڈالر تک کے ایندھن اخراجات کا بوجھ پڑ سکتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ یورپ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور یورپی یونین کو روزانہ تقریباً 500 ملین یورو کا نقصان ہورہا ہے، جبکہ قطر کے راس لفان ایل این جی پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان کے باعث عالمی ایل این جی مارکیٹ کئی برس متاثر رہ سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق موجودہ بحران نے یہ واضح کردیا ہے کہ فوسل فیول نظام مسلسل درآمد، ترسیل اور عالمی تجارتی راستوں پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے جنگ، جغرافیائی تنازعات یا سپلائی میں رکاوٹ فوری طور پر پوری دنیا میں قیمتوں کے بحران میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

    اس کے مقابلے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ صاف توانائی کے نظام زیادہ محفوظ، زیادہ منتشر اور طویل المدتی انفراسٹرکچر پر مبنی ہوتے ہیں، جیسے سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز، بیٹریاں اور بجلی کے گرڈ۔

    رپورٹ کے مطابق صاف توانائی کے منصوبوں میں 70 سے 90 فیصد لاگت ابتدائی سرمایہ کاری پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے عالمی قیمتوں کے اچانک جھٹکوں کا اثر نسبتاً کم پڑتا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں سولر توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پاکستان کو فوسل فیول قیمتوں کے بدترین اثرات سے جزوی تحفظ فراہم کیا، خاص طور پر 2022 کے بحران کے بعد۔

    رپورٹ میں حکومتوں کو پانچ بڑے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن میں قابل تجدید بجلی کی تیز رفتار توسیع، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ، بجلی پر مبنی ہیٹنگ اور کوکنگ، گرین فیول اور گرین فرٹیلائزر کی تیاری، اور توانائی بچت شامل ہیں۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر حکومتیں بحران کے ردعمل میں نئی فوسل فیول انفراسٹرکچر، نئی کوئلہ صلاحیت یا طویل المدتی ایل این جی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں تو اس سے مستقبل میں مزید معاشی اور توانائی بحران پیدا ہو سکتے ہیں۔

    انرجی ٹرانزیشن کمیشن کے شریک چیئرمین ایڈیر ٹرنر کے مطابق موجودہ بحران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار صرف ماحولیاتی خطرہ نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی کمزوری بھی ہے، جبکہ صاف توانائی کے نظام زیادہ محفوظ، زیادہ مؤثر اور عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے کم متاثر ہوتے ہیں۔

  • ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ 2026: پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

    ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ 2026: پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی اپریل 2026 کی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں، حراست میں ڈالی جانے والی اذیتیں، اور جبری لاپتہ کرنے کے واقعات اب بھی پیش آ رہے ہیں۔

    عدلیہ کا استحصال اور خاموشی ایک مہنگے دام

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انسانی حقوق کے وکلا کے خلاف عدلیہ کو استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ان کے سوشل میڈیا پیغامات کی وجہ سے دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ سزا انہیں محض اس لیے دی گئی کہ انہوں نے بلوچ اور پشتون کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا اور پاکستان کی عسکری پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ ایمنسٹی نے اسے اختلاف رائے کو خاموش کرانے کے لیے ایک ‘منظم ہراساں کرنے کی مہم’ قرار دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق قانون سازی میں ہونے والی تبدیلیوں میں 27ویں آئینی ترمیم خاص طور پر اہم تھی، جس نے اعلیٰ عدلیہ کی آزادی کو کمزور کیا اور مسلح افواج کے سربراہان اور صدر کو وسیع سطح پر قانونی تحفظ فراہم کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ حکام نے اظہارِ رائے کو دبانے کے لیے گرفتاریوں، سائبر کرائم اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا استعمال جاری رکھا۔ آن لائن مواد پر سنسرشپ بھی کی گئی، جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات شامل تھے۔

    مزید یہ کہ پاکستان نے چین کی مدد سے اپنا ویب مانیٹرنگ سسٹم بھی اپ ڈیٹ کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض اوقات حکومت نے تنقیدی خبریں شائع کرنے والے اخبارات سے اشتہارات واپس لے لیے، جسے دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ قرار دیا گیا۔

    جبری گمشدگی کا بڑھتا ہوا رجحان

    جبری گمشدگیاں 2025 میں ایک بڑا مسئلہ بنی رہیں۔ بلوچستان اور سندھ میں بلوچ کارکنوں کے احتجاج کو روکا گیا، اور 21 مارچ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام جبری طور پر لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے ہونے والے مظاہرے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی میں تین مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

    رپورٹ میں خاص طور پر بلوچستان میں جبری لاپتہ ہونے والوں کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں بہت سے لوگوں کی لاشیں ملیں اور پرانے مقدمات بھی حل طلب رہ گئے۔ بلوچستان میں ہی کم از کم پانچ کارکنان قتل کیے گئے، جن میں سینیٹر حبیب جالب بلوچ، محمد خان زہیب، عبدالمجید، فقیر محمد بلوچ اور زمان مری شامل ہیں۔ اگرچہ ان ماورائے قتل کے واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملوث ہونے کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں، لیکن کچھ بالواسطہ حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔

    صحافت: ایک جان لیوا پیشہ

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کو ریاستی ایجنٹوں اور مسلح گروپوں کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے اور قتل کیا جاتا ہے۔ 2010 میں پاکستان میں 19 میڈیا ورکرز قتل ہوئے، جس کے بعد پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے مہلک ملک قرار پایا۔

    مذہبی منافرت: جب قانون ہی بوجھ بن جائے

    رپورٹ نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس کے مطابق احمدی، شیعہ اور عیسائیوں کو فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ طالبان سے منسلک گروہ شیعہ، احمدی اور صوفیوں پر حملے کر رہے ہیں اور انہیں سزا سے بچنے میں آسانی ہو رہی ہے۔ احمدیوں، عیسائیوں، شیعہ اور سنی مسلمانوں کے خلاف توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

    خواتین کے خلاف تشدد: ایک خاموش وبا

    ایمنسٹی کی رپورٹ میں خواتین کے خلاف تشدد کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے مطابق ریپ، جبری شادیاں، ناموسی قتل، تیزاب سے حملے اور دیگر گھریلو تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن پولیس مقدمات درج کرنے اور ان کی چھان بین کرنے سے گریزاں ہے۔ رپورٹ میں خواتین کی ہیلپ لائن مہمان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نومبر 2010 تک 1195 خواتین کو قتل کیا گیا، جن میں سے 98 کو قتل سے پہلے ریپ کیا گیا تھا۔

    افغان پناہ گزین: ایک بے گھر قوم

    رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ ایمنسٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان فوری طور پر افغان پناہ گزینوں کی گرفتاریاں اور جبری وطن واپسی روکے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں ایمنسٹی کے سیکرٹری جنرل ایگنیس کالمارڈ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر افغان پناہ گزینوں کے ساتھ بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    یہ رپورٹ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک خطرناک انتباہ ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے، اقلیتوں کے تحفظ اور خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    انسانی حقوق کی عالمی صورتحال

    برطانوی دارالحکومت لندن ایمنیسٹی انٹرنیشنل جاری ہونے والی اس سالانہ رپورٹ میں خاص طور پر تین عالمی رہنماؤں ڈونلڈ ٹرمپ، ولادیمیر پوتن اور بینجامن نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں ’شکاری‘ قرار دیا گیا ہے۔تنظیم نے خاص طور پر غزہ، یوکرین، ایران اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری ان پالیسیوں کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی جگہوں پر جنگی جرائم، جبری نقل مکانی اور شہری انفراسٹرکچر کی تباہی جیسے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

    ایمنسٹی نے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جبکہ روس کے حوالے سے یوکرین جنگ کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اسی طرح امریکا کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی بعض پالیسیاں عالمی انسانی حقوق کے نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2025 انسانی حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی مشکل سال رہا، جس میں دنیا بھر میں آمریت میں اضافہ ہوا اور جمہوری اقدار کمزور ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب کئی ممالک میں اختلاف رائے کو دبایا جا رہا ہے، احتجاج کو جرم بنایا جا رہا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے۔

    ایگنس کیلامارڈ نے خبردار کیا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو گزشتہ 80 سال میں انسانی حقوق کے لیے کی گئی پیش رفت ضائع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو فوری طور پر متحد ہو کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہوگا، ورنہ ایک ایسا عالمی نظام بن سکتا ہے جہاں انصاف اور قانون کی کوئی اہمیت نہ رہے۔