ہرمز بحران: پاکستان سمیت ایشیا میں ایندھن کی قلت، اسکول بند، دکانوں کے اوقات محدود، عالمی ادارے کی نئی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی

’دنیا کو 2026 میں تاریخ کے سب سے بڑے توانائی جھٹکوں میں سے ایک کا سامنا ہے، جس نے عالمی معیشت، خوراک، ٹرانسپورٹ اور توانائی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

یہ دعویٰ انرجی ٹرانزیشن کمیشن (Energy Transitions Commission یا ETC) کی نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز بحران کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے ثابت کردیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار عالمی معیشت کی ایک بڑی کمزوری بن چکا ہے۔

’Lessons on Energy Security after the Hormuz Crisis‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث روزانہ تقریباً 18.4 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جو عالمی تیل سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر ہے، جبکہ عالمی ایل این جی تجارت کا تقریباً 20 فیصد بھی متاثر ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اس بحران نے 1973 کے عرب آئل ایمبارگو سے بھی بڑا سپلائی جھٹکا پیدا کیا ہے۔

انرجی ٹرانزیشن کمیشن ایک عالمی اتحاد ہے جس میں توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی، مالیاتی اداروں اور ماحولیاتی تنظیموں سے وابستہ رہنما شامل ہیں۔ یہ ادارہ دنیا کو 2050 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کی طرف منتقل کرنے سے متعلق پالیسی اور تحقیقاتی سفارشات تیار کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کمیشن کے شریک چیئرمین لارڈ ایڈیر ٹرنر اور جولس کورٹن ہورسٹ ہیں جبکہ یہ ادارہ SYSTEMIQ کے تحت کام کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے خام تیل کا تقریباً 84 فیصد اور ایل این جی کا 80 فیصد ایشیائی ممالک کو جاتا ہے، اسی لیے بحران کا سب سے زیادہ اثر ایشیا پر پڑ رہا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، بھارت اور فلپائن کو ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں ایندھن کی حقیقی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں ایل پی جی اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے گھریلو اخراجات، ٹرانسپورٹ اور زراعت کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں ریستورانوں اور کینٹینز نے اوقات کار محدود یا بندش اختیار کرلی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ صنعتی ادارے مخصوص ایندھن کی دستیابی کے مطابق اپنی پیداوار محدود کر رہے ہیں جبکہ کھاد کی سپلائی متاثر ہونے سے زرعی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض کسان کھاد کے بغیر کاشتکاری پر مجبور ہو رہے ہیں جس سے خوراک کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ ماضی کے توانائی بحرانوں کی طرح ایک بار پھر دکانوں اور ریستورانوں کے اوقات کار محدود کیے جا رہے ہیں جبکہ توانائی بچانے کے لیے ریموٹ ورک اور کم اوقات کار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول دو ہفتوں کے لیے بند کیے گئے جبکہ بنگلہ دیش میں جامعات بند کی گئیں اور گھروں و کاروباری مراکز کو غیر ضروری روشنیاں کم کرنے کی ہدایت دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تیل کی قیمتیں تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 90 سے 120 ڈالر تک جا پہنچی ہیں جبکہ ایشیائی ایل این جی قیمتیں 10 سے 12 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 25 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس بحران سے 2026 کے دوران عالمی معیشت پر اضافی ایک سے دو ٹریلین ڈالر تک کے ایندھن اخراجات کا بوجھ پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یورپ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور یورپی یونین کو روزانہ تقریباً 500 ملین یورو کا نقصان ہورہا ہے، جبکہ قطر کے راس لفان ایل این جی پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان کے باعث عالمی ایل این جی مارکیٹ کئی برس متاثر رہ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ بحران نے یہ واضح کردیا ہے کہ فوسل فیول نظام مسلسل درآمد، ترسیل اور عالمی تجارتی راستوں پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے جنگ، جغرافیائی تنازعات یا سپلائی میں رکاوٹ فوری طور پر پوری دنیا میں قیمتوں کے بحران میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

اس کے مقابلے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ صاف توانائی کے نظام زیادہ محفوظ، زیادہ منتشر اور طویل المدتی انفراسٹرکچر پر مبنی ہوتے ہیں، جیسے سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز، بیٹریاں اور بجلی کے گرڈ۔

رپورٹ کے مطابق صاف توانائی کے منصوبوں میں 70 سے 90 فیصد لاگت ابتدائی سرمایہ کاری پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے عالمی قیمتوں کے اچانک جھٹکوں کا اثر نسبتاً کم پڑتا ہے۔

پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں سولر توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پاکستان کو فوسل فیول قیمتوں کے بدترین اثرات سے جزوی تحفظ فراہم کیا، خاص طور پر 2022 کے بحران کے بعد۔

رپورٹ میں حکومتوں کو پانچ بڑے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن میں قابل تجدید بجلی کی تیز رفتار توسیع، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ، بجلی پر مبنی ہیٹنگ اور کوکنگ، گرین فیول اور گرین فرٹیلائزر کی تیاری، اور توانائی بچت شامل ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر حکومتیں بحران کے ردعمل میں نئی فوسل فیول انفراسٹرکچر، نئی کوئلہ صلاحیت یا طویل المدتی ایل این جی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں تو اس سے مستقبل میں مزید معاشی اور توانائی بحران پیدا ہو سکتے ہیں۔

انرجی ٹرانزیشن کمیشن کے شریک چیئرمین ایڈیر ٹرنر کے مطابق موجودہ بحران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار صرف ماحولیاتی خطرہ نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی کمزوری بھی ہے، جبکہ صاف توانائی کے نظام زیادہ محفوظ، زیادہ مؤثر اور عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے کم متاثر ہوتے ہیں۔