پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے یہ ہفتہ نہایت تیزی رہی۔ ہفتے کے دوران مارکیٹ میں مجموعی طور پر تقریباً 4 ہزار 066 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس زبردست تیزی کے باعث مارکیٹ نے تاریخ کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 90 ہزار 566 پوائنٹس کو بھی چھو لیا، جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ سطح ہے۔
اگر جمع کے روز، رواں ہفتے کے اختتام پر کلوزنگ کی بات کی جائے تو مارکیٹ 1 لاکھ 90 ہزار 166 پوائنٹس پر بند ہوئی، یعنی مارکیٹ نے 1 لاکھ 90 ہزار پوائنٹس سے اوپر مضبوط کلوزنگ دی، جسے ماہرین ایک شاندار پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اس ہفتے مختلف شعبوں نے مارکیٹ کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا۔مارکیٹ انالسسٹ اور ریسرچر جبران سرفراز کے مطابق فرٹیلائزر، بینکنگ اور آئل اینڈ گیس سیکٹرز نے خاص طور پر اچھی کارکردگی دکھائی، جس سے مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا۔
ان کے مطابق پیر 26 جنوری کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان متوقع ہے، جس کی وجہ سے بھی مارکیٹ میں مزید تیزی متوقع ہے۔21 جنوری کو ہونے والی ٹریژری بلز کی نیلامی میں حکومت نے بیشتر مدتوں پر کٹ آف ییلڈز کو چار سال بعد پہلی بار سنگل ڈیجٹ تک کم کر دیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ممکن ہے۔
حالیہ مہنگائی کے اعداد و شمار میں بہتری کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ شرح سود میں یقیناً کمی ہوگی۔ اس وقت شرح سود 10.5 فیصد ہے، جو کہ 10 یا 9.5 فیصد متوقع ہے۔ کاروباری حضرات کی جانب مسلسل شرح سود میں کمی کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔
آنے والے دنوں میں رول اوور ویک بھی متوقع ہے، تاہم عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل صورتحال ابھی مکمل طور پر بہتر نہیں ہو سکی۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کی قیمت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور تقریباً پانچ لاکھ چھ ہزار روپے فی تولہ پر کاروبار ہو رہا ہے، جبکہ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کاروباری سرگرمی کے لحاظ سے حصص کی مجموعی تعداد کم ہو کر 875.49 ملین رہی، جو ایک ارب سے کم ہے، تاہم کاروباری مالیت بڑھ کر 58.5 ارب روپے ہو گئی۔ حجم کے اعتبار سے کے الیکٹرک سرفہرست رہی، جس کے 141.4 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
واضح رہے کہ ہفتے کے آغاز میں کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا تھا، کیونکہ دسمبر 2025 میں 244 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ اور نومبر میں سرپلس رہا تھا۔ اس کے باوجود ہفتے کے اختتام پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور مارکیٹ نئی بلندیوں تک پہنچ گئی۔
مجموعی طور پر اسٹاک مارکیٹ اس وقت آل ٹائم ہائی پر موجود ہے اور سرمایہ کار محتاط مگر پُرامید نظر آ رہے ہیں۔ جبران سرفراز کے مطابق فروری یا مارچ تک کے ایس ای – 100 انڈیکس دولاکھ پوائنٹس کی حد عبور کرلے گا۔

