Tag: پاکستان

  • پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ، آبنائے ہرمز کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت امریکہ اور ایران کے صدور نے دستخط کر کے منظور کی ہے جبکہ انہوں نے ثالث کی حیثیت سے اس کی توثیق کی ہے۔ ان کے مطابق دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط اس بات کا ثبوت ہیں کہ فریقین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع ورسائی محل میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے مختصر طور پر کہا، ‘یہ معاہدہ ہو چکا ہے، میں نے ابھی ورسائی میں اس پر دستخط کیے ہیں۔’

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں نے باقاعدہ طور پر معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔

    مبصرین کے مطابق اگر معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

    شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکہاپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور معمولات زندگی بحال کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم کے مطابق پاکستان، شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے، 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس معاہدے کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا بھی آغاز کیا جائے گا تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر تعلقات، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی مثبت نتائج پیدا کرے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم نے ایک ایسے بحران کے خاتمے میں مدد دی جو پورے خطے اور دنیا کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی دانشمندانہ قیادت اور امن کے لیے عزم نے اس معاہدے کو ممکن بنایا۔ وزیراعظم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔

    شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت میں قطر کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کو بھی اس عمل میں تعاون اور مثبت کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

    وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل کوششوں، غیر معمولی لگن اور امن کے فروغ کے لیے کردار نے اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے میں نمایاں حصہ ڈالا۔

  • پاکستان میں غربت میں اضافہ، مگر سماجی تحفظ کے اقدامات میں بھی توسیع

    پاکستان میں غربت میں اضافہ، مگر سماجی تحفظ کے اقدامات میں بھی توسیع

    پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں غربت کی شرح ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، تاہم حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ کمزور اور نادار طبقات کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ قومی اقتصادی سروے برائے 2025-26 کے مطابق غربت میں اضافے کے باوجود تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے کئی شعبوں میں بہتری بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں قومی غربت کی شرح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ معاشی مشکلات، مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے گھریلو آمدنی اور عوامی فلاح پر منفی اثر ڈالا۔

    صوبائی سطح پر بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ 47 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ پنجاب میں یہ شرح 23.3 فیصد رہی۔ سندھ میں 32.6 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 35.3 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ سروے کے مطابق آمدنی میں عدم مساوات بھی بڑھی ہے اور قومی جینی کوایفیشنٹ 28.4 سے بڑھ کر 32.7 ہو گیا ہے۔

    حکومت نے غربت کے اثرات کم کرنے کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران غریب دوست اخراجات 4,663 ارب روپے تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9.6 فیصد زیادہ ہیں۔ سماجی تحفظ اور فلاحی پروگراموں پر 822 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ پروگرام رہا۔ مالی سال 2025-26 میں اس کے لیے 722.49 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ مارچ تک 540.27 ارب روپے جاری کیے جا چکے تھے۔ پروگرام کے تحت 1 کروڑ 2 لاکھ خواتین مستفید ہوئیں جبکہ تعلیمی وظائف اور نشوونما پروگراموں سمیت مشروط نقد امداد سے 65 لاکھ 90 ہزار افراد کو فائدہ پہنچا۔

    اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ حکومت بی آئی ایس پی کی ادائیگیوں کو مزید شفاف بنانے کے لیے "سوشل پروٹیکشن والٹس” متعارف کرا رہی ہے۔ اس نظام کے تحت مستحق افراد کو براہ راست ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم فراہم کی جائیں گی، جس سے بدعنوانی اور غیر ضروری کٹوتیوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔

    پاکستان بیت المال نے بھی جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک 32 لاکھ سے زائد مستحق افراد کی مدد کی اور 6.56 ارب روپے تقسیم کیے۔ اسی طرح زکوٰۃ فنڈ کے تحت 11.77 ارب روپے صوبوں اور دیگر علاقوں کو منتقل کیے گئے۔ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) نے پنشن اور دیگر مدات میں 54.29 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کیں۔

    اگرچہ غربت میں حالیہ اضافہ تشویش کا باعث ہے، تاہم اقتصادی سروے کے مطابق تعلیم، انٹرنیٹ تک رسائی، حفاظتی ٹیکہ کاری اور دیگر سماجی اشاریوں میں بہتری اس بات کا اشارہ ہے کہ سماجی تحفظ کے پروگرام عوامی فلاح میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معاشی استحکام اور مؤثر سماجی پالیسیوں کے ذریعے آنے والے برسوں میں غربت میں دوبارہ کمی لائی جا سکتی ہے۔

  • اکنامک سروے 2025-26 رپورٹ: پاکستان کی معیشت کی شرح نمو ٹارگیٹ4.2 فیصد سے کم، 3.7 فیصد رہی

    اکنامک سروے 2025-26 رپورٹ: پاکستان کی معیشت کی شرح نمو ٹارگیٹ4.2 فیصد سے کم، 3.7 فیصد رہی

    مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق ملک کی معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ ہدف 4.2 فیصد تھا۔

    اسلام آباد میں جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معیشت کی کارکردگی کچھ بہتر رہی کہ۔ گزشتہ سال شرحِ نمو 3.18 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق معاشی بہتری کی بڑی وجوہات بہتر معاشی پالیسی، مالیاتی نظم و ضبط، بڑے صنعتی شعبے کی ترقی، 2025 کے سیلاب کے باوجود زرعی شعبے کی مضبوطی، روپے کی قدر میں استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات ہیں۔

    دریں اثنا، بدھ کے روز قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی شرحِ نمو 4 فیصد ہونے کا ٹارگیٹ مقرر کیا ہے جو کہ گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    مالی سال 2023 میں شرحِ نمو منفی 0.2 فیصد، 2024 میں 2.6 فیصد اور 2025 میں 3.2 فیصد رہی تھی۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ابتدا میں امید تھی کہ رواں سال میں شرحِ نمو 4 فیصد سے زیادہ ہوگی، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود پاکستان کی معیشت کا حجم تاریخی سطح پر پہنچ کر 126.9 کھرب روپے ہو گیا ہے، جبکہ فی کس آمدنی بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی ہے جو پہلے 1,751 ڈالر تھی۔

    مہنگائی

    اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی سے اپریل تک صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 4.7 فیصد تھی۔

    سروے میں کہا گیا ہے کہ حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.8 فیصد تھی۔

    رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے تین سہ ماہیوں کے دوران مہنگائی مجموعی طور پر قابو میں رہی۔ تاہم تیسرے سہ ماہی کے اختتام پر عالمی سیاسی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے بیرونی اثرات نے قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اسی لیے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور بروقت حکومتی اقدامات ضروری ہیں۔

    اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انہوں نے کہا، "ہم نے 28 فیصد مہنگائی سے آغاز کیا تھا اور آج صورتحال یہ ہے کہ مرکزی بینک کی پالیسی شرح سود 11.5 فیصد تک آ چکی ہے۔”

    زراعت

    وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 1.53 فیصد تھی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ بہتری 2025 کے سیلاب کے باوجود حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق فصلوں کے شعبے نے بھی مثبت کارکردگی دکھائی اور پہلے کمی کا شکار رہنے کے بعد اب اس میں 1.44 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مویشی پالنے کا شعبہ بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے اور اس کی کارکردگی مزید بہتر ہو رہی ہے۔

    بڑے پیمانے کی صنعتیں

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں 6.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ LSM کے 22 ذیلی شعبوں میں سے 16 شعبوں میں مثبت ترقی دیکھی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ 6.1 فیصد ترقی کسی ایک صنعت کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف شعبوں کی مجموعی بہتر کارکردگی کا نتیجہ ہے۔

    وزیر خزانہ کے مطابق اس شعبے میں نمایاں سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد، کھاد میں 17 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 5 فیصد، گاڑیوں میں 31 فیصد اور موبائل فونز میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔

    خدمات کا شعبہ

    وزیر خزانہ نے کہا کہ خدمات کا شعبہ پاکستان کی مجموعی معیشت (GDP) کا تقریباً 58 فیصد حصہ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں اس شعبے کی شرحِ نمو 4.9 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    انہوں نے خاص طور پر مواصلات اور انفارمیشن سروسز کے شعبے کا ذکر کیا، جس میں 7.52 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ یہ بھی گزشتہ چار سال کی بلند ترین شرحِ نمو ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

    مالی خسارہ

    اقتصادی سروے کے مطابق مالی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔

    مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد (2,970 ارب روپے) سے کم ہو کر 0.7 فیصد (856.4 ارب روپے) رہ گیا۔

    اسی طرح پرائمری سرپلس (بجٹ کا اضافی توازن) بھی 3 فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد ہو گیا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس آمدن میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 23 فیصد کمی آئی، جس سے حکومت کو مالی معاملات میں مزید گنجائش حاصل ہوئی۔

  • 15 مئی 1987: جب پاکستان کے ارب پتی صنعتکار کو اغوا کر لیا گیا

    15 مئی 1987: جب پاکستان کے ارب پتی صنعتکار کو اغوا کر لیا گیا

    سیٹھ سلیمان داؤد کا خاندان اصل میں موجودہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر ‘بانٹوا’ (عبدالستار ایدھی کا آبائی گاؤں) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت کراچی میں بانٹوا میمن برادری کا کاروبار پر بڑا اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے سن 1900 میں اپنی کاروباری زندگی کا آغاز ایک چھوٹی دکان سے کیا۔

    انہوں نے اپنے بیٹوں احمد داؤد، صدیق داؤد اور میر محمد داؤد کی ایسی تربیت کی کہ وہ آگے چل کر ہندوستان کے بڑے تاجروں میں شمار ہونے لگے۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے داؤد خاندان نے ٹیکسٹائل تجارت میں بہت نام کمایا تھا۔

    سیٹھ سلیمان داؤد کے بیٹوں میں سیٹھ احمد داؤد سب سے زیادہ بااثر شخصیت تھے۔ انہیں پاکستان میں ‘صنعتکاری کا باپ’ بھی کہا جاتا تھا۔ 1947 میں قائداعظم محمد علی جناح کی اپیل پر سیٹھ احمد داؤد نے اپنا سارا کاروبار ہندوستان سے ختم کرکے پاکستان (کراچی) منتقل کردیا۔

    داؤد خاندان نے کراچی میں پہلی کپڑے کی مل ‘داؤد کاٹن ملز’ قائم کی، جو اس وقت پاکستان کی بڑی ملوں میں شمار ہوتی تھی۔ داؤد گروپ کا کاروبار تیزی سے ترقی کرتا گیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی:

    1۔ داؤد ہرکیولس (Dawood Hercules):
    امریکی کمپنی ہرکیولس کے ساتھ مل کر پاکستان کی پہلی بڑی کیمیائی کھاد (Fertilizer) کمپنی قائم کی۔

    2۔ کاغذ کی صنعت:
    مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں کرنافلی پیپر ملز قائم کی۔

    3۔ پیٹرولیم:
    پاکستان گم (Pakistan Gum) اور پیٹرولیم کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی۔

    4۔ بینکاری اور انشورنس:
    سینٹرل انشورنس کمپنی اور بینکاری کے شعبے میں بھی ان کا بڑا حصہ تھا۔

    1970 کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لیا گیا تو داؤد گروپ کو شدید مالی نقصان پہنچا۔ ان کی کئی اہم ملیں اور کارخانے حکومت کے قبضے میں چلے گئے۔

    سیٹھ احمد داؤد کچھ عرصہ ملک سے باہر رہے، پھر واپس آکر کاروبار کو دوبارہ منظم کیا۔ اس خاندان نے ‘داؤد فاؤنڈیشن’ کے نام سے سماجی و فلاحی ادارہ قائم کیا۔ داؤد خاندان نے صرف دولت ہی نہیں کمائی بلکہ خیرات اور تعلیمی کاموں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

    داؤد فاؤنڈیشن، جو 1960 میں قائم ہوئی، نے پاکستان میں انجینئرنگ کے شعبے میں کراچی کو ‘داؤد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی’ کا بڑا تحفہ دیا، جو بعد میں ‘داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی’ کے نام سے مشہور ہوا۔

    داؤد گروپ کے نام سے کئی اسکول، اسپتال اور لائبریریاں آج بھی کام کر رہی ہیں۔ بعد میں احمد داؤد کے بیٹے حسین داؤد نے اینگرو (Engro) کے ساتھ الحاق کرکے ‘داؤد گروپ آف کمپنیز’ کو مزید وسعت دی۔

    آج یہ خاندان پاکستان کے طاقتور ترین کاروباری گروپوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے کئی صنعتی ادارے اور کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں چند یہ ہیں:

    1۔ داؤد انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ
    2۔ داؤد تکافل
    3۔ داؤد ہرکولیس کیمیکلز
    4۔ داؤد جوٹ ملز
    5۔ داؤد شپنگ کمپنی
    6۔ داؤد پیٹرولیم لمیٹڈ
    7۔ بورے والا ٹیکسٹائل ملز
    8۔ داؤد سینٹرل انشورنس کمپنی
    9۔ داؤد یاماہا لمیٹڈ
    10۔ اسلام آباد آٹو موٹو کمپنی لمیٹڈ
    11۔ بلوچستان انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ
    12۔ الفا انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ
    13۔ گیئر ہابنگ لمیٹڈ
    14۔ ڈائی کاسٹنگ لمیٹڈ
    15۔ اومیگا فارگنگ لمیٹڈ
    16۔ کریسنٹ پاک انڈسٹریز
    17۔ طٰہٰ گارمنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ
    18۔ طٰہٰ ٹیکسٹائل پرائیویٹ لمیٹڈ
    19۔ اِن باکس بزنس پرائیویٹ لمیٹڈ
    20۔ ڈاولینس پاکستان لمیٹڈ
    21۔ ڈیسکان پاکستان
    22۔ حبکو پاور پلانٹ
    23۔ اینگرو کارپوریشن

    سیٹھ سلیمان داؤد کی محنت اور احمد داؤد کے وژن نے ایک ایسی سلطنت قائم کی جو آج بھی ‘داؤد گروپ’ اور ‘اینگرو’ کی صورت میں پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

    15 مئی 1987 کو سیٹھ احمد داؤد کے چھوٹے بھائی سیٹھ احمد سلیمان داؤد ضلع ٹنڈو محمد خان میں اپنے زرعی فارموں سے مرسڈیز کار میں واپس کراچی آرہے تھے کہ بلڑی شاہ کریم کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کرلیا۔

    پاکستان کی بااثر ارب پتی فیملی کے فرد سیٹھ احمد سلیمان داؤد کے اغوا کی خبر ملتے ہی جنرل ضیا الحق کی پوری انتظامی مشینری حرکت میں آگئی۔ داؤد فیملی کے تعلقات نہ صرف جنرل ضیا سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام سے تھے بلکہ عرب حکمرانوں سے بھی ان کی جان پہچان تھی، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومت ان کی بازیابی کے لیے سرگرم ہوگئی۔

    بڑی کوششوں کے بعد کراچی سے آنکھوں کے معروف ڈاکٹر رضوی کو حکومتی اداروں نے اپنی تحویل میں لیا۔ اسی ڈاکٹر کے ذریعے ضلع جامشورو کے کوہستان کے بااثر ملک خاندان کے چند افراد کو بھی ریاستی اداروں نے حراست میں لیا، جن کے ذریعے سیٹھ احمد سلیمان داؤد کو اغوا کرنے والے ڈاکوؤں سے رابطہ قائم ہوا۔

    داؤد فیملی اپنے فرد کی زندہ بازیابی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار تھی۔ آخرکار جامشورو کوہستان کے ملک سرداروں اور کراچی سے گرفتار کیے گئے مشہور ماہرِ چشم ڈاکٹر رضوی کے ذریعے ڈاکوؤں کو تاوان دے کر سیٹھ احمد سلیمان داؤد کو 20 دن بعد بازیاب کرا لیا گیا۔

    سیٹھ احمد سلیمان داؤد کی بازیابی کے بعد پولیس نے اس اغوا میں ڈاکٹر رضوی، کوہستان کے ملکوں کے علاوہ جن ڈاکوؤں کو ملوث ظاہر کیا ان میں سندھ کے بدنام مجرم مٹھو قصائی، غلام نبی سہاگ، لالا علی مراد اور دیگر شامل تھے۔

  • ہرمز بحران: پاکستان سمیت ایشیا میں ایندھن کی قلت، اسکول بند، دکانوں کے اوقات محدود، عالمی ادارے کی نئی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی

    ہرمز بحران: پاکستان سمیت ایشیا میں ایندھن کی قلت، اسکول بند، دکانوں کے اوقات محدود، عالمی ادارے کی نئی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی

    ’دنیا کو 2026 میں تاریخ کے سب سے بڑے توانائی جھٹکوں میں سے ایک کا سامنا ہے، جس نے عالمی معیشت، خوراک، ٹرانسپورٹ اور توانائی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

    یہ دعویٰ انرجی ٹرانزیشن کمیشن (Energy Transitions Commission یا ETC) کی نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز بحران کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے ثابت کردیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار عالمی معیشت کی ایک بڑی کمزوری بن چکا ہے۔

    ’Lessons on Energy Security after the Hormuz Crisis‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث روزانہ تقریباً 18.4 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جو عالمی تیل سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر ہے، جبکہ عالمی ایل این جی تجارت کا تقریباً 20 فیصد بھی متاثر ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اس بحران نے 1973 کے عرب آئل ایمبارگو سے بھی بڑا سپلائی جھٹکا پیدا کیا ہے۔

    انرجی ٹرانزیشن کمیشن ایک عالمی اتحاد ہے جس میں توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی، مالیاتی اداروں اور ماحولیاتی تنظیموں سے وابستہ رہنما شامل ہیں۔ یہ ادارہ دنیا کو 2050 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کی طرف منتقل کرنے سے متعلق پالیسی اور تحقیقاتی سفارشات تیار کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کمیشن کے شریک چیئرمین لارڈ ایڈیر ٹرنر اور جولس کورٹن ہورسٹ ہیں جبکہ یہ ادارہ SYSTEMIQ کے تحت کام کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے خام تیل کا تقریباً 84 فیصد اور ایل این جی کا 80 فیصد ایشیائی ممالک کو جاتا ہے، اسی لیے بحران کا سب سے زیادہ اثر ایشیا پر پڑ رہا ہے۔

    رپورٹ میں پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، بھارت اور فلپائن کو ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں ایندھن کی حقیقی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں ایل پی جی اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے گھریلو اخراجات، ٹرانسپورٹ اور زراعت کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں ریستورانوں اور کینٹینز نے اوقات کار محدود یا بندش اختیار کرلی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ صنعتی ادارے مخصوص ایندھن کی دستیابی کے مطابق اپنی پیداوار محدود کر رہے ہیں جبکہ کھاد کی سپلائی متاثر ہونے سے زرعی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بعض کسان کھاد کے بغیر کاشتکاری پر مجبور ہو رہے ہیں جس سے خوراک کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ ماضی کے توانائی بحرانوں کی طرح ایک بار پھر دکانوں اور ریستورانوں کے اوقات کار محدود کیے جا رہے ہیں جبکہ توانائی بچانے کے لیے ریموٹ ورک اور کم اوقات کار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول دو ہفتوں کے لیے بند کیے گئے جبکہ بنگلہ دیش میں جامعات بند کی گئیں اور گھروں و کاروباری مراکز کو غیر ضروری روشنیاں کم کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ تیل کی قیمتیں تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 90 سے 120 ڈالر تک جا پہنچی ہیں جبکہ ایشیائی ایل این جی قیمتیں 10 سے 12 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 25 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس بحران سے 2026 کے دوران عالمی معیشت پر اضافی ایک سے دو ٹریلین ڈالر تک کے ایندھن اخراجات کا بوجھ پڑ سکتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ یورپ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور یورپی یونین کو روزانہ تقریباً 500 ملین یورو کا نقصان ہورہا ہے، جبکہ قطر کے راس لفان ایل این جی پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان کے باعث عالمی ایل این جی مارکیٹ کئی برس متاثر رہ سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق موجودہ بحران نے یہ واضح کردیا ہے کہ فوسل فیول نظام مسلسل درآمد، ترسیل اور عالمی تجارتی راستوں پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے جنگ، جغرافیائی تنازعات یا سپلائی میں رکاوٹ فوری طور پر پوری دنیا میں قیمتوں کے بحران میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

    اس کے مقابلے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ صاف توانائی کے نظام زیادہ محفوظ، زیادہ منتشر اور طویل المدتی انفراسٹرکچر پر مبنی ہوتے ہیں، جیسے سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز، بیٹریاں اور بجلی کے گرڈ۔

    رپورٹ کے مطابق صاف توانائی کے منصوبوں میں 70 سے 90 فیصد لاگت ابتدائی سرمایہ کاری پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے عالمی قیمتوں کے اچانک جھٹکوں کا اثر نسبتاً کم پڑتا ہے۔

    پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں سولر توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پاکستان کو فوسل فیول قیمتوں کے بدترین اثرات سے جزوی تحفظ فراہم کیا، خاص طور پر 2022 کے بحران کے بعد۔

    رپورٹ میں حکومتوں کو پانچ بڑے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن میں قابل تجدید بجلی کی تیز رفتار توسیع، الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ، بجلی پر مبنی ہیٹنگ اور کوکنگ، گرین فیول اور گرین فرٹیلائزر کی تیاری، اور توانائی بچت شامل ہیں۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر حکومتیں بحران کے ردعمل میں نئی فوسل فیول انفراسٹرکچر، نئی کوئلہ صلاحیت یا طویل المدتی ایل این جی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں تو اس سے مستقبل میں مزید معاشی اور توانائی بحران پیدا ہو سکتے ہیں۔

    انرجی ٹرانزیشن کمیشن کے شریک چیئرمین ایڈیر ٹرنر کے مطابق موجودہ بحران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار صرف ماحولیاتی خطرہ نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی کمزوری بھی ہے، جبکہ صاف توانائی کے نظام زیادہ محفوظ، زیادہ مؤثر اور عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے کم متاثر ہوتے ہیں۔

  • ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ 2026: پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

    ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ 2026: پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی اپریل 2026 کی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں، حراست میں ڈالی جانے والی اذیتیں، اور جبری لاپتہ کرنے کے واقعات اب بھی پیش آ رہے ہیں۔

    عدلیہ کا استحصال اور خاموشی ایک مہنگے دام

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں انسانی حقوق کے وکلا کے خلاف عدلیہ کو استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ان کے سوشل میڈیا پیغامات کی وجہ سے دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ سزا انہیں محض اس لیے دی گئی کہ انہوں نے بلوچ اور پشتون کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا اور پاکستان کی عسکری پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ ایمنسٹی نے اسے اختلاف رائے کو خاموش کرانے کے لیے ایک ‘منظم ہراساں کرنے کی مہم’ قرار دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق قانون سازی میں ہونے والی تبدیلیوں میں 27ویں آئینی ترمیم خاص طور پر اہم تھی، جس نے اعلیٰ عدلیہ کی آزادی کو کمزور کیا اور مسلح افواج کے سربراہان اور صدر کو وسیع سطح پر قانونی تحفظ فراہم کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ حکام نے اظہارِ رائے کو دبانے کے لیے گرفتاریوں، سائبر کرائم اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا استعمال جاری رکھا۔ آن لائن مواد پر سنسرشپ بھی کی گئی، جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات شامل تھے۔

    مزید یہ کہ پاکستان نے چین کی مدد سے اپنا ویب مانیٹرنگ سسٹم بھی اپ ڈیٹ کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض اوقات حکومت نے تنقیدی خبریں شائع کرنے والے اخبارات سے اشتہارات واپس لے لیے، جسے دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ قرار دیا گیا۔

    جبری گمشدگی کا بڑھتا ہوا رجحان

    جبری گمشدگیاں 2025 میں ایک بڑا مسئلہ بنی رہیں۔ بلوچستان اور سندھ میں بلوچ کارکنوں کے احتجاج کو روکا گیا، اور 21 مارچ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام جبری طور پر لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے ہونے والے مظاہرے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی میں تین مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

    رپورٹ میں خاص طور پر بلوچستان میں جبری لاپتہ ہونے والوں کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں بہت سے لوگوں کی لاشیں ملیں اور پرانے مقدمات بھی حل طلب رہ گئے۔ بلوچستان میں ہی کم از کم پانچ کارکنان قتل کیے گئے، جن میں سینیٹر حبیب جالب بلوچ، محمد خان زہیب، عبدالمجید، فقیر محمد بلوچ اور زمان مری شامل ہیں۔ اگرچہ ان ماورائے قتل کے واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملوث ہونے کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں، لیکن کچھ بالواسطہ حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔

    صحافت: ایک جان لیوا پیشہ

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کو ریاستی ایجنٹوں اور مسلح گروپوں کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے اور قتل کیا جاتا ہے۔ 2010 میں پاکستان میں 19 میڈیا ورکرز قتل ہوئے، جس کے بعد پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے مہلک ملک قرار پایا۔

    مذہبی منافرت: جب قانون ہی بوجھ بن جائے

    رپورٹ نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس کے مطابق احمدی، شیعہ اور عیسائیوں کو فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ طالبان سے منسلک گروہ شیعہ، احمدی اور صوفیوں پر حملے کر رہے ہیں اور انہیں سزا سے بچنے میں آسانی ہو رہی ہے۔ احمدیوں، عیسائیوں، شیعہ اور سنی مسلمانوں کے خلاف توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

    خواتین کے خلاف تشدد: ایک خاموش وبا

    ایمنسٹی کی رپورٹ میں خواتین کے خلاف تشدد کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے مطابق ریپ، جبری شادیاں، ناموسی قتل، تیزاب سے حملے اور دیگر گھریلو تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن پولیس مقدمات درج کرنے اور ان کی چھان بین کرنے سے گریزاں ہے۔ رپورٹ میں خواتین کی ہیلپ لائن مہمان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نومبر 2010 تک 1195 خواتین کو قتل کیا گیا، جن میں سے 98 کو قتل سے پہلے ریپ کیا گیا تھا۔

    افغان پناہ گزین: ایک بے گھر قوم

    رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ ایمنسٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان فوری طور پر افغان پناہ گزینوں کی گرفتاریاں اور جبری وطن واپسی روکے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں ایمنسٹی کے سیکرٹری جنرل ایگنیس کالمارڈ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر افغان پناہ گزینوں کے ساتھ بدسلوکی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    یہ رپورٹ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک خطرناک انتباہ ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے، اقلیتوں کے تحفظ اور خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    انسانی حقوق کی عالمی صورتحال

    برطانوی دارالحکومت لندن ایمنیسٹی انٹرنیشنل جاری ہونے والی اس سالانہ رپورٹ میں خاص طور پر تین عالمی رہنماؤں ڈونلڈ ٹرمپ، ولادیمیر پوتن اور بینجامن نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں ’شکاری‘ قرار دیا گیا ہے۔تنظیم نے خاص طور پر غزہ، یوکرین، ایران اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری ان پالیسیوں کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی جگہوں پر جنگی جرائم، جبری نقل مکانی اور شہری انفراسٹرکچر کی تباہی جیسے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

    ایمنسٹی نے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جبکہ روس کے حوالے سے یوکرین جنگ کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اسی طرح امریکا کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی بعض پالیسیاں عالمی انسانی حقوق کے نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2025 انسانی حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی مشکل سال رہا، جس میں دنیا بھر میں آمریت میں اضافہ ہوا اور جمہوری اقدار کمزور ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب کئی ممالک میں اختلاف رائے کو دبایا جا رہا ہے، احتجاج کو جرم بنایا جا رہا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے۔

    ایگنس کیلامارڈ نے خبردار کیا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو گزشتہ 80 سال میں انسانی حقوق کے لیے کی گئی پیش رفت ضائع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو فوری طور پر متحد ہو کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہوگا، ورنہ ایک ایسا عالمی نظام بن سکتا ہے جہاں انصاف اور قانون کی کوئی اہمیت نہ رہے۔

  • یو اے ای نے پاکستان سے ساڑھے 3 ارب ڈالرز واپس مانگ لئے، پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا

    یو اے ای نے پاکستان سے ساڑھے 3 ارب ڈالرز واپس مانگ لئے، پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔

    ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے ملک کا تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ خطے میں جنگی صورتحال کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مجموعی معاشی استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس نازک صورتحال میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ممکنہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ خطے میں استحکام بحال ہو اور اس کے معاشی اثرات کو محدود کیا جا سکے۔

    دوسری جانب پاکستان کو اپریل کے مہینے میں بھاری مالی ادائیگیوں کا سامنا ہے۔ حکومت نے متحدہ عرب امارات سے لیے گئے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر یو اے ای کے مطالبے پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں یو اے ای اس رقم کو پاکستان کی درخواست پر طویل مدت کے لیے رول اوور کرنے کے بجائے ہر ماہ کی بنیاد پر توسیع دے رہا تھا، جس کے باعث معاشی غیر یقینی میں اضافہ ہو رہا تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے تھے۔

    حکومت نے یو اے ای کے مطالبے پر فیصلہ کیا ہے کہ یہ رقم اسی ماہ واپس کر دی جائے گی۔

    پاکستان کی حکومت کی جانب سے ترتیب دئیے گئے ادائیگیوں کے شیڈول کے تحت 450 ملین ڈالر 11 اپریل کو، 2 ارب ڈالر 17 اپریل کو جبکہ باقی 1 ارب ڈالر 23 اپریل کو ادا کیے جائیں گے۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے 1996 میں بھی 450 ملین ڈالر ایک سال کے لیے حاصل کیے تھے، جن کی واپسی بھی اب مکمل کی جا رہی ہے۔سنگین معاشی چیلنجز میں پاکستان کو اسی ماہ تقریباً 1.3 ارب ڈالر کے یوروبانڈز کی میچورٹی کا بھی سامنا ہے۔

    اگر مجموعی طور پر اپریل میں 4.8 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی جاتی ہیں تو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر تقریباً ساڑھے گیارہ ارب ڈالر رہ جانے کا امکان ہے۔

    اور یہ حالات پاکستان کو مزید معاشی مشکلات کا شکار کرسکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت متحدہ عرب امارات، سعودی عبر اور چین نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مجموعی طور پر ساڑھے بارہ ارب ڈالر پاکستان کے مرکزی بینک میں پروگرام کے اختتام، یعنی آئندہ سال ستمبر تک برقرار رکھیں گے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حالات میں پاکستان کے لیے معاشی نظم و ضبط برقرار رکھنا، سفارتی محاذ پر متوازن پالیسی اپنانا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی اور علاقائی غیر یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • پاکستان کے دیگر تمام خطوں کے مقابلے میں سندھ میں پرندوں کی غیر معمولی تعداد کے پیچھے کیا راز چھپا ہے؟

    پاکستان کے دیگر تمام خطوں کے مقابلے میں سندھ میں پرندوں کی غیر معمولی تعداد کے پیچھے کیا راز چھپا ہے؟

    سندھ ایک ایسا خطہ ہے جہاں زمین، پانی اور موسم مل کر پرندوں کے لیے ایک مکمل دنیا تشکیل دیتے ہیں۔ اگر پاکستان کو پرندوں کی سرزمین کہا جائے تو سندھ اس کا سب سے بھرپور اور متنوع حصہ ہے۔

    مستند سائنسی ریکارڈ کے مطابق سندھ میں تقریباً 450 سے 500 کے درمیان پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جو پورے پاکستان میں ریکارڈ ہونے والی تقریباً 790 سے 800 اقسام کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی عکاسی ہے، جہاں ہر خطہ اپنے اندر مختلف پرندوں کو جگہ دیتا ہے۔

    سندھ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کے مختلف ماحولیاتی خطوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر خطہ مخصوص پرندوں کا گھر ہے۔

    سب سے پہلے انڈس ڈیلٹا کی بات کی جائے تو یہ دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی اور سمندری اثرات ایک منفرد ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اس علاقے میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔

    اس کے علاوہ سمندری بگلوں کی مختلف اقسام، ٹرن، سینڈ پائپر، پلور اور اویسٹر کیچر جیسے ساحلی پرندے یہاں عام ہیں۔ یہ وہ پرندے ہیں جو ساحل، کیچڑ اور اتھلے پانی میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا نہ صرف مقامی بلکہ بیرونی پرندوں کے لیے بھی ایک محفوظ ٹھکانہ ہے۔

    دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں سے ایک انڈس ڈیلٹا میں موجود مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔ ساگا ڈیجیٹل

    ساحلی سندھ، جس میں کراچی سے لے کر ٹھٹھہ اور بدین تک کا علاقہ شامل ہے، پرندوں کے لیے ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔ یہاں سمندر کے کنارے، کھارے پانی کی جھیلیں اور مینگرووز مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں سی گل، ٹرن، کارمورینٹ اور دیگر سمندری پرندے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے زیادہ تر مچھلیوں اور سمندری حیات پر انحصار کرتے ہیں۔

    اس کے بعد سندھ کے ویٹ لینڈز یعنی جھیلوں اور دلدلی علاقوں کی بات آتی ہے، جو اس صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سندھ صوبہ صحرا، پہاڑ، سمندر، دریا کے ساتھ آب گاہوں کی بہتات کے باعث ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت جنگلی حیات کے حیاتی تنوع کے لحاظ سے ایک امیر خطہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رامسر کنونشن کے تحت پاکستان میں عالمی اہمیت رکھنے والی 19 آب گاہوں کو ’رامسر سائٹ‘ قرار دیا گیا ہے، جن میں نو صرف سندھ صوبے میں ہیں۔

    ان میں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، انڈس ڈیلٹا، انڈس ڈولفن ریزرو، دیہہ اکڑو، ڈرگ جھیل، جبو لگون، نرڑی لگون اور رن آف کچھ شامل ہیں جبکہ رامسر سائیٹ حب ڈیم کا آدھا حصہ سندھ اور آدھا بلوچستان میں ہے۔

    یہ وہ مقامات ہیں جہاں سردیوں کے موسم میں ہزاروں میل دور سے آنے والے پرندے قیام کرتے ہیں۔ یہاں بطخیں، ہنس، کونج، مختلف اقسام کے بگلے، ایگریٹ، ہیرون، پیلیکن اور واڈر پرندے بڑی تعداد میں دیکھے جاتے ہیں۔ سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون بھی انہی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

    سندھ کے آب گاہوں میں سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون سمیت مختلف پرندے بری تداد میں ملتے ہیں۔ تصویر: ساگا ڈیجیٹل

    پنجاب میں صرف تین، بلوچستان میں پانچ اور خیبر پختونخوا میں دو آب گاہوں کو رامسر سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے شہر رامسر میں ’کنونشن آن ویٹ لینڈ‘ یعنیٰ آب گاہوں کے تحفظ کا یہ عالمی معاہدہ دو فروری، 1971 کو طے پانے کے بعد 1975 میں نافذ ہوا۔

    اس معاہدے کے تحت ایسی آب گاہیں جہاں کثیر تعداد میں پودوں، پرندوں اور مچھلیوں کی درجنوں اقسام پرورش پاتی ہیں اور یہ آب گاہیں ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے روزگار کا بھی ذریعہ ہوں تو انہیں رامسر سائٹ قرار دیا جاتا ہے۔

    انڈس فلائے وے زون، جاڑوں میں وسطی ایشیا کی جانب نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے راستے میں واقع ہے اور سرد ممالک سے پرندے دو درجن سے زائد ممالک سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جاڑوں میں پاکستان میں موجود کُل پرندوں کا 30 فیصد ان مہمان پرندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

    سندھ کا ریگستانی خطہ، خاص طور پر تھر، بظاہر خاموش اور خشک نظر آتا ہے، مگر یہاں زندگی ایک مختلف انداز میں موجود ہے۔تھر میں موروں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔

    پاکستان میں مور سب سے زیادہ سندھ کے تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں۔ مستند معلومات کے مطابق تھرپارکر، خصوصاً مٹھی، نگرپارکر اور اسلام کوٹ کے علاقوں کو پاکستان میں موروں کا سب سے بڑا مسکن مانا جاتا ہے۔ بعض سرکاری اور تحقیقی اندازوں کے مطابق صرف اسی خطے میں دسیوں ہزار مور موجود ہیں۔

    نگرپارکر کے قریب واقع کارونجھر کے پہاڑی سلسلے اور اس کے آس پاس کے علاقے بھی موروں کے لیے نہایت موزوں ہیں، جہاں قدرتی ماحول، جھاڑی دار زمین، کھلے میدان اور بارش کے بعد بننے والے پانی کے ذخائر انہیں رہنے اور افزائش کے لیے بہترین حالات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی مور کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اسے ایک خوبصورت اور قابل احترام پرندہ سمجھتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی تعداد یہاں برقرار رہی ہے۔

    پاکستان کے دیگر حصوں جیسے جنوبی پنجاب یا بلوچستان میں بھی مور پائے جاتے ہیں، لیکن وہاں ان کی تعداد کم ہے اور وہ اس طرح بڑی آبادی میں موجود نہیں جیسے سندھ کے تھرپارکر میں دیکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھرپارکر کو پاکستان میں موروں کا سب سے اہم اور قدرتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ حیاتاتی تنوع کے شاہوکار اس خطے میں نہایت اہم پرندہ تلور یا ہوبارا بسٹرڈ بھی بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چکور، لوا، ریگستانی چڑیاں، سینڈگروز اور دیگر صحرائی پرندے یہاں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے سخت گرمی، کم پانی اور کھلے میدانوں کے ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    رن آف کچھ، جو سندھ اور بھارت کے درمیان واقع ایک نمکین میدان ہے، ایک منفرد ماحولیاتی خطہ ہے۔ بارشوں کے بعد یہ علاقہ پانی سے بھر جاتا ہے اور پرندوں کے لیے جنت بن جاتا ہے۔ یہاں فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، پلور، ایوو سیٹ اور دیگر واڈر پرندے بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ خاص طور پر ان پرندوں کے لیے اہم ہے جو نمکین پانی اور کیچڑ والے میدانوں میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔

    سندھ کے میدانی اور زرعی علاقے بھی پرندوں سے خالی نہیں ہیں۔ یہاں عام طور پر نظر آنے والے پرندوں میں چڑیا، کوا، مینا، بلبل، فاختہ، کبوتر اور مختلف شکاری پرندے شامل ہیں۔ چیل، باز اور عقاب جیسے پرندے کھلے میدانوں میں شکار کرتے ہیں۔ سبز طوطا، جسے طوطا یا توتا کہا جاتا ہے، باغات اور درختوں والے علاقوں میں عام ہے۔ ڈرونگو، جسے بعض علاقوں میں بھجنگا کہا جاتا ہے، اپنی جرات اور چالاکی کے لیے مشہور ہے۔

    سندھ سے تعلق رکھنے والا منفرد پرندہ جس کا نام ہی سندھ ہُد ہُد یا Sind woodpecker ہے۔ یہ دریائے سندھ سے متصل میدانوں اور جنگلات، کھیر تھر نیشنل پارک میں پایا جاتا ہے۔ تصویر: یاسر پیچوہو
    سندھ سے تعلق رکھنے والا منفرد پرندہ جس کا نام ہی سندھ ہُد ہُد یا Sind woodpecker ہے۔ یہ دریائے سندھ سے متصل میدانوں اور جنگلات، کھیر تھر نیشنل پارک میں پایا جاتا ہے۔ تصویر: یاسر پیچوہو

    سندھ کے پہاڑی سلسلے، خاص طور پر کیرتھر رینج، ایک اور اہم ماحولیاتی خطہ ہیں۔ یہاں پہاڑی پرندے جیسے چکور، عقاب، باز اور دیگر شکاری پرندے پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقے ان پرندوں کے لیے موزوں ہیں جو بلند جگہوں اور چٹانی ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

    پاکستان کے دیگر خطوں کی نسبت سندھ میں پرندوں کی زیادہ تعداد کیو؟

    سب سے پہلی وجہ ماحولیاتی تنوع ہے۔ سندھ میں سمندر، دریا، جھیلیں، صحرا، پہاڑ، رن آف کچھ اور زرعی زمین سب ایک ہی خطے میں موجود ہیں۔ یہ تنوع مختلف اقسام کے پرندوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

    دوسری وجہ پانی کی فراوانی ہے۔ سندھ میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مستقل ویٹ لینڈز موجود ہیں، جو پرندوں کے لیے خوراک اور آرام کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔

    تیسری وجہ پاکستان میں رام سر سائٹس کی اکثریت کا سندھ میں ہونا ہے۔ یہ وہ بین الاقوامی اہمیت کے حامل علاقے ہیں جہاں پرندوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔

    چوتھی وجہ موسم ہے۔ سندھ کا موسم سردیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے، جو سرد علاقوں سے آنے والے پرندوں کے لیے موزوں ہے۔

    پانچویں وجہ پرندوں کی نقل مکانی کرنے والے راستوں پر سندھ کی موجودگی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے پرندے ان راستوں کے ذریعے سندھ پہنچتے ہیں اور یہاں قیام کرتے ہیں۔

    اب اگر پورے پاکستان کی بات کی جائے تو یہ ملک بھی اپنے جغرافیے کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ شمال میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے بلند پہاڑ ہیں جہاں برفانی اور پہاڑی پرندے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سنو کاک، مونال، لامرجیئر گدھ اور مختلف اقسام کے عقاب شامل ہیں۔

    پنجاب کے میدانی علاقوں میں زرعی زمین اور دریا پرندوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں چڑیا، مینا، بلبل، فاختہ، بطخیں اور دیگر عام پرندے پائے جاتے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں جنگلات اور پہاڑی علاقے پرندوں کی ایک الگ دنیا رکھتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے وسیع مگر خشک علاقے مخصوص صحرائی اور نیم صحرائی پرندوں کا گھر ہیں۔

    پاکستان میں پائے جانے والے چند نمایاں پرندوں میں مور، چکور، تلور، مصری گدھ، شاہین، عقاب، فلیمنگو، کونج، بطخیں اور مختلف اقسام کے بگلے شامل ہیں۔ سندھ اسپیرو اور سندھ وُڈپیکر جیسے پرندے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ خطہ عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت رکھتا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے کئی علاقوں میں ایسے پرندے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جو پاکستان کے دیگر حصوں میں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، خاص طور پر ساحلی اور ویٹ لینڈ پرندے۔ اسی

    طرح کچھ پرندے صرف مختصر وقت کے لیے یہاں قیام کرتے ہیں، مگر ان کی موجودگی بھی مجموعی تنوع میں شامل ہوتی ہے۔

    فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، جو بعض اوقات ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں، سندھ کے ساحلی علاقوں میں ایک حیرت انگیز منظر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح جھیلوں پر اترنے والے ہزاروں بطخوں اور ہنسوں کے غول اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ خطہ پرندوں کے لیے کتنا اہم ہے۔

    اگر ایک جملے میں کہا جائے تو سندھ صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ پرندوں کی ایک مکمل دنیا ہے، جہاں ہر موسم، ہر خطہ اور ہر منظر ایک نئی کہانی سناتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں آسمان صرف خالی نہیں ہوتا بلکہ پرندوں کی پرواز سے بھرا ہوتا ہے، اور یہی اسے پاکستان کا سب سے امیر خطہ بناتا ہے۔

  • پانی کا عالمی دن:  گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے

    پانی کا عالمی دن: گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے

    پانی کا عالمی دن، 22 مارچ 2026، ہمارے لیے محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کا آئینہ ہے۔ اس بار موضوع ‘پانی اور جنسی مساوات’ ہے، مگر پاکستان کے تناظر میں یہ سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ کیا پانی واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا یہ بھی طاقت، پیسے اور اثر و رسوخ کے تابع ہو چکا ہے؟

    ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں زیادہ تر گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے۔ اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس قسمت کو بھی اب خریدا اور بیچا جا رہا ہے۔

    پانی کی منڈی محض شرمندگی نہیں، ایک اجتماعی ناکامی کی علامت بن چکی ہے۔ شاید ہم دنیا کے ان چند معاشروں میں شامل ہیں جہاں سرکاری ناکامی کو اس جملے سے جائز ٹھہرایا جاتا ہے کہ ‘ہم تو خود بھی ٹینکر کا پانی استعمال کرتے ہیں’۔ گویا پیغام واضح ہے، واٹر ٹینکر اب مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نیا معمول ہیں۔

    جب پانی خریدنا روزمرہ کا حصہ بن جائے، جب مفت ٹینکر کے لیے سفارش ڈھونڈی جائے، جب گھروں کے باہر کھڑے ٹینکر حیثیت کی علامت بن جائیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف قلت کا نہیں، اجتماعی بے حسی کا بھی ہے۔ ہم نے پانی کو حق نہیں، سہولت بنا دیا ہے، اور وہ سہولت بھی صرف اسی کے لیے ہے جس کے پاس پیسہ یا رسائی ہو۔

    اعداد و شمار خاموش ہیں مگر خطرناک۔ چند دہائیوں پہلے پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی پانچ ہزار مکعب میٹر کے قریب تھی، آج یہ کم ہو کر ایک ہزار کے آس پاس رہ گئی ہے۔ یہ محض کمی نہیں، ایک واضح انتباہ ہے جسے ہم مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔

    دریائے سندھ، جو ہماری زراعت اور معیشت کی شہ رگ ہے، اس کے بہاؤ میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ دوسری طرف ہم زیر زمین پانی کو اس رفتار سے نکال رہے ہیں جیسے ہر دن آخری ہو۔ دنیا بھر میں اربوں لوگ ایسے ممالک میں رہ رہے ہیں جہاں پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس عالمی بحران سے کچھ سیکھا، یا ہم بھی خاموشی سے اسی تباہی کو معمول بنا چکے ہیں؟

    جب پانی کی قلت کی بات ہوتی ہے تو اکثر ڈیم، نہریں اور بارشیں زیر بحث آتی ہیں، مگر ایک حقیقت مسلسل نظر انداز ہوتی ہے۔ دیہی پاکستان میں آج بھی پانی لانا زیادہ تر خواتین اور بچیوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ میلوں پیدل چلتی ہیں، صرف اس لیے کہ گھر میں پانی ہو۔

    لیکن جب پانی کی پالیسیاں بنتی ہیں تو وہ کمرے ان کے بغیر بھرے ہوتے ہیں۔ فیصلے وہ کرتے ہیں جو مسئلے کو بھگتتے نہیں، صرف اس پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں انصاف ختم ہو جاتا ہے۔

    پاکستان ایک عجیب تضاد کی تصویر ہے۔ ایک طرف سیلاب اربوں گیلن پانی سمندر میں بہا دیتے ہیں، دوسری طرف شہر پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں۔

    کراچی جیسے شہر میں پانی کی لائنیں صرف پانی نہیں، طاقت کی تقسیم بھی ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ کہیں پانی چوری ہوتا ہے، کہیں بیچا جاتا ہے، کہیں روکا جاتا ہے، اور کہیں لوگ قطاروں میں کھڑے رہ کر صرف اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست کی رٹ کمزور پڑتی ہے اور غیر رسمی نظام مضبوط ہو جاتا ہے۔

    ہم اکثر پانی کے مسئلے کو سرحدی تنازعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے دریا پہلے خود کمزور کیے ہیں۔ جب ملک کے اندر ہی پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن نہ ہو، جب صوبوں کے درمیان اعتماد کمزور ہو، جب ڈیٹا بھی متنازع ہو جائے، تو بیرونی خطرات پر شور مچانا آسان ہو جاتا ہے، حل تلاش کرنا نہیں۔

    پانی پر سیاست کرنا آسان ہے، پانی کو سنبھالنا مشکل۔

    وجوہات سب کے سامنے ہیں مگر سنجیدگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ آبادی بڑھ رہی ہے مگر ذخائر نہیں، موسمیاتی تبدیلی بارشوں کے نظام کو بدل رہی ہے مگر ہماری منصوبہ بندی وہی پرانی ہے۔ آبی نظم و نسق بکھرا ہوا ہے، ادارے مختلف سمتوں میں چل رہے ہیں، اور ہم سب مل کر پانی کو ایسے استعمال کر رہے ہیں جیسے یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔

    یہ سوال حکومت سے بھی ہے اور ہم سب سے بھی۔ اگر ایک قوم پانی کے مسئلے کا حل ٹینکر خریدنے میں دیکھے، اگر شہری اپنی بقا کو نجی انتظامات سے جوڑ لیں، اگر ریاست کی ذمہ داری کو ذاتی سہولت سے بدل دیا جائے، تو پھر کسی پالیسی، کسی ڈیم یا کسی منصوبے سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ یہ صرف ناکامی نہیں، ایک خطرناک معمول بن چکا ہے۔

    اب بھی وقت ہے، مگر زیادہ نہیں۔ حل موجود ہیں مگر ارادہ کمزور ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے، زراعت کو جدید بنایا جا سکتا ہے، شہری نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

    مگر سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پانی کوئی لگژری نہیں بلکہ بنیادی حق ہے، اور حق کو بازار کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

    ہم کب تک پانی کو قسمت پر چھوڑے رکھیں گے؟ کب تک ٹینکر ہمارے نظام کا متبادل رہیں گے؟ کب تک ایک بچی پانی کے لیے اسکول چھوڑتی رہے گی؟ اور کب تک ہم یہ سمجھتے رہیں گے کہ یہ مسئلہ کسی اور کا ہے؟

    اگر پانی ختم ہو گیا تو باقی سب بحثیں بے معنی ہو جائیں گی۔

    یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سچ بولیں۔ پانی کا بحران صرف وسائل کا نہیں، ضمیر کا بھی ہے۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، نئی تاریخی بلند ترین سطح قائم

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، نئی تاریخی بلند ترین سطح قائم

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے یہ ہفتہ نہایت تیزی رہی۔ ہفتے کے دوران مارکیٹ میں مجموعی طور پر تقریباً 4 ہزار 066 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس زبردست تیزی کے باعث مارکیٹ نے تاریخ کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 90 ہزار 566 پوائنٹس کو بھی چھو لیا، جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ سطح ہے۔

    اگر جمع کے روز، رواں ہفتے کے اختتام پر کلوزنگ کی بات کی جائے تو مارکیٹ 1 لاکھ 90 ہزار 166 پوائنٹس پر بند ہوئی، یعنی مارکیٹ نے 1 لاکھ 90 ہزار پوائنٹس سے اوپر مضبوط کلوزنگ دی، جسے ماہرین ایک شاندار پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

    اس ہفتے مختلف شعبوں نے مارکیٹ کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا۔مارکیٹ انالسسٹ اور ریسرچر جبران سرفراز کے مطابق فرٹیلائزر، بینکنگ اور آئل اینڈ گیس سیکٹرز نے خاص طور پر اچھی کارکردگی دکھائی، جس سے مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا۔

    ان کے مطابق پیر 26 جنوری کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان متوقع ہے، جس کی وجہ سے بھی مارکیٹ میں مزید تیزی متوقع ہے۔21 جنوری کو ہونے والی ٹریژری بلز کی نیلامی میں حکومت نے بیشتر مدتوں پر کٹ آف ییلڈز کو چار سال بعد پہلی بار سنگل ڈیجٹ تک کم کر دیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ممکن ہے۔

    حالیہ مہنگائی کے اعداد و شمار میں بہتری کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ شرح سود میں یقیناً کمی ہوگی۔ اس وقت شرح سود 10.5 فیصد ہے، جو کہ 10 یا 9.5 فیصد متوقع ہے۔ کاروباری حضرات کی جانب مسلسل شرح سود میں کمی کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔

    آنے والے دنوں میں رول اوور ویک بھی متوقع ہے، تاہم عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل صورتحال ابھی مکمل طور پر بہتر نہیں ہو سکی۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کی قیمت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور تقریباً پانچ لاکھ چھ ہزار روپے فی تولہ پر کاروبار ہو رہا ہے، جبکہ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    کاروباری سرگرمی کے لحاظ سے حصص کی مجموعی تعداد کم ہو کر 875.49 ملین رہی، جو ایک ارب سے کم ہے، تاہم کاروباری مالیت بڑھ کر 58.5 ارب روپے ہو گئی۔ حجم کے اعتبار سے کے الیکٹرک سرفہرست رہی، جس کے 141.4 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے آغاز میں کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا تھا، کیونکہ دسمبر 2025 میں 244 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ اور نومبر میں سرپلس رہا تھا۔ اس کے باوجود ہفتے کے اختتام پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور مارکیٹ نئی بلندیوں تک پہنچ گئی۔

    مجموعی طور پر اسٹاک مارکیٹ اس وقت آل ٹائم ہائی پر موجود ہے اور سرمایہ کار محتاط مگر پُرامید نظر آ رہے ہیں۔ جبران سرفراز کے مطابق فروری یا مارچ تک کے ایس ای – 100 انڈیکس دولاکھ پوائنٹس کی حد عبور کرلے گا۔