Tag: پاکستان

  • پاکستان میں شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد توہین مذہب کے مقدمات میں دو تہائی کمی، رائٹرز

    پاکستان میں شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد توہین مذہب کے مقدمات میں دو تہائی کمی، رائٹرز

    پاکستان میں توہین مذہب کے مقدمات اور ان سے جڑے پرتشدد واقعات میں رواں سال نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کی بڑی وجہ فوج کی جانب سے شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جانا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اختیار کی گئی نئی پالیسی کے بعد توہین مذہب کے مقدمات میں تقریباً دو تہائی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ہجوم کے تشدد کے واقعات بھی پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہوئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ کراچی میں ایک مسیحی خاندان پر توہین مذہب کا الزام لگنے کے بعد سینکڑوں افراد جمع ہوگئے تھے۔ ماضی میں ایسے واقعات اکثر پرتشدد ہجوم، املاک کو نقصان پہنچانے اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے رہے ہیں، تاہم اس مرتبہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چار خواتین اور ایک بچے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا اور صورتحال کو قابو میں رکھا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1990 کے بعد سے توہین مذہب کے الزامات سے جڑے تقریباً 90 ہجومی قتل ہو چکے ہیں۔

    ماضی میں ایسے واقعات کے دوران مذہبی شدت پسند تنظیمیں متحرک کردار ادا کرتی تھیں، لیکن حالیہ مہینوں میں ان کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد کئی شہروں میں ایسے واقعات کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکنے میں کامیابی ملی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق فوجی قیادت نے شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف "زیرو ٹالرنس’ کی پالیسی اختیار کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض مذہبی تنظیموں پر پابندی لگائی گئی، ان کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے مالی وسائل کو بھی محدود کیا گیا۔ اس پالیسی کا مقصد نہ صرف داخلی امن کو بہتر بنانا بلکہ پاکستان کا بین الاقوامی تشخص بھی بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق سفارتی اور معاشی حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے، یورپی ممالک اور مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور تجارتی سہولتوں کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اختیار کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام سمجھتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے سے بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی اعتماد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

    رائٹرز نے لکھا ہے کہ اگرچہ پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن مذہبی اقلیتوں میں خوف اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

    کراچی میں پولیس کی جانب سے بچائی جانے والی ایک مسیحی خاتون نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ جسمانی طور پر تو محفوظ ہیں، مگر ذہنی خوف اب بھی ان کے دل میں موجود ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی نئے الزام کے بعد دوبارہ ایسی ہی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

    رپورٹ میں انسانی حقوق کے ماہرین کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ صرف شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں ہوگی۔

    ان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون کے غلط استعمال کو بھی روکا جائے، جھوٹے الزامات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ملزمان کو منصفانہ قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ بے گناہ افراد نشانہ نہ بنیں۔

    رائٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کو ایک ہی وقت میں دہشت گردی، معاشی مشکلات اور اندرونی سلامتی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست نے ان مذہبی گروہوں کے خلاف زیادہ سخت رویہ اپنانا شروع کیا ہے جن پر ماضی میں عوام کو مشتعل کرنے اور پرتشدد احتجاج منظم کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ حالیہ اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ شدت پسند نظریات کئی برسوں سے معاشرے میں موجود ہیں اور انہیں مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔

    ان کے مطابق پائیدار بہتری کے لیے قانون پر یکساں عملدرآمد، عدالتی نظام کی مضبوطی، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور عوامی شعور میں اضافے کی ضرورت ہوگی تاکہ مستقبل میں توہین مذہب کے الزامات پر تشدد کے واقعات دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔

    رائٹرز کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پاکستان کی داخلی سلامتی کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر یہ پالیسی مستقل طور پر جاری رہی تو اس سے نہ صرف ملک میں مذہبی تشدد میں مزید کمی آسکتی ہے بلکہ پاکستان کے عالمی تعلقات اور معاشی ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی انتخابی کوریج کے بعد غیر ملکی میڈیا کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی انتخابی کوریج کے بعد غیر ملکی میڈیا کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے حالیہ انتخابات کی کوریج کے بعد الجزیرہ کی ویب سائٹ تک رسائی محدود کیے جانے کے چند روز بعد پاکستان نے غیر ملکی میڈیا کے لیے نئی ‘فارن میڈیا فیسیلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026’ جاری کر دی ہیں، جن کے تحت پاکستان میں غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے تمام افراد کو وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ (ای پی ونگ) میں رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔

    نئی گائیڈ لائنز کے مطابق رجسٹریشن کی شرط صرف غیر ملکی نامہ نگاروں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کا اطلاق پاکستانی صحافیوں، فری لانسرز، اسٹرنگرز، فکسرز، کیمرہ آپریٹرز، مترجمین، پروڈکشن کمپنیوں اور ان تمام افراد پر بھی ہوگا جو کسی بھی شکل میں بین الاقوامی میڈیا اداروں کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔

    حکومت نے ایک نیا ایکریڈیشن نظام بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت صحافیوں کو کیو آر کوڈ سے مزین پریس کارڈ جاری کیے جائیں گے۔ یہ ایکریڈیشن ایک سال کے لیے یا پاکستان آنے والے غیر ملکی صحافیوں کے لیے عارضی بنیادوں پر بھی جاری کی جا سکے گی۔

    گائیڈ لائنز میں نمایاں تبدیلی سفری اجازت سے متعلق کی گئی ہے۔ اس کے تحت ای پی ونگ میں رجسٹرڈ ہر صحافی یا میڈیا ورکر کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ ملک کے کسی بھی دوسرے علاقے میں رپورٹنگ، ڈاکیومنٹری بنانے یا کسی بھی قسم کا میڈیا مواد تیار کرنے سے قبل متعلقہ حکام سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنا ہوگا۔

    عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو ملک کے بیشتر حصوں میں کسی بھی خبر کی کوریج سے قبل حکومتی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ معمول کی منصوبہ بند رپورٹنگ کے لیے یہ ایک اضافی انتظامی مرحلہ ہوگا، تاہم ہنگامی یا بریکنگ نیوز کی صورت میں، جہاں صحافیوں کو چند گھنٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچنا پڑتا ہے، این او سی حاصل کرنے کا عمل بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ کی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے۔

    گائیڈ لائنز کے تحت حکومت کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ اگر کسی صحافی کی رپورٹنگ کو قومی سلامتی، امن عامہ یا ریاستی نظریے کے لیے نقصان دہ قرار دیا جائے تو اس کی ایکریڈیشن معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے۔ تاہم دستاویز میں ان اصطلاحات کی واضح تعریف شامل نہیں، جس کے باعث ان کی تشریح اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے متعلقہ حکام کو وسیع صوابدید حاصل ہوگی۔

    یہ نئی گائیڈ لائنز ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب چند روز قبل پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات کی بین الاقوامی میڈیا کوریج پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ انتخابات کے بعد غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو آزاد جموں و کشمیر سے واپس جانے اور دوبارہ رپورٹنگ کے لیے این او سی حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

    مجموعی طور پر نئی ‘فارن میڈیا فیسیلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026’ رجسٹریشن کے دائرہ کار کو وسیع کرنے، سفری اجازت کو باقاعدہ ضابطے کا حصہ بنانے اور ایکریڈیشن و فیلڈ رپورٹنگ پر حکومتی اختیارات میں اضافہ کرکے غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے صحافیوں پر حکومتی نگرانی کو مزید بڑھاتی ہیں۔

  • دو سال بعد پہلی بار غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری

    دو سال بعد پہلی بار غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تقریباً دو سال بعد پہلی مرتبہ غیر ملکی سرمایہ کار خالص خریدار بن کر سامنے آئے ہیں۔

    جولائی 2026 کے دوران انہوں نے پاکستانی کمپنیوں کے حصص میں مجموعی طور پر تین کروڑ 44 لاکھ امریکی ڈالرز کی خالص سرمایہ کاری کی، حالانکہ اسی عرصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

    منیر خانانی سیکیورٹیز کے ایکویٹی ڈیلرنے نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جولائی 2026 میں غیر ملکی سرمایہ کار 23 ماہ بعد پہلی بار خالص خریدار بنے۔ ان کے مطابق گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران غیر ملکی سرمایہ کار مسلسل پاکستانی حصص فروخت کرتے رہے تھے، تاہم جولائی میں یہ رجحان تبدیل ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق بینکاری کا شعبہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز رہا، جہاں ایک کروڑ 38 لاکھ امریکی ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی گئی۔ اس کے بعد تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں 67 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں نے توانائی اور مالیاتی شعبوں پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا۔

    جبران سرفراز کے مطابق جولائی میں کھاد کے شعبے میں بھی 17 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی گئی، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں 12 لاکھ ڈالر کے حصص خریدے گئے۔ اس کے علاوہ مختلف دیگر شعبوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 77 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی گئی، جو تمام شعبوں میں سب سے زیادہ رہی۔

    دوسری جانب بعض شعبوں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سرمایہ نکال لیا۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے 36 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری واپس چلی گئی، جبکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں 27 لاکھ ڈالر کی خالص فروخت کی گئی۔ اسی طرح سیمنٹ اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں بھی دو، دو لاکھ ڈالر مالیت کے حصص فروخت کیے گئے۔

    این سی سی پی ایل کے مطابق جولائی 2026 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں، جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں، نے مجموعی طور پر 32 کروڑ 23 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے حصص خریدے، جبکہ 28 کروڑ 79 لاکھ ڈالر کے حصص فروخت کیے۔ اس طرح وہ مجموعی طور پر تین کروڑ 44 لاکھ ڈالر کے خالص خریدار رہے۔ یہ موجودہ مالی سال 2026-27 کے پہلے مہینے کی نمایاں پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے پہلے مسلسل 22 ماہ تک غیر ملکی سرمایہ کار ہر ماہ پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں خالص فروخت کنندہ رہے۔ اس عرصے میں ان کی ماہانہ خالص فروخت ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے لے کر 27 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک رہی، جس کے باعث مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہا۔

    اگرچہ جولائی میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں بہتری آئی، تاہم پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا مجموعی رجحان مندی کا شکار رہا۔ اے ایچ ایل ریسرچ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس جولائی کے دوران چار ہزار 208 پوائنٹس، یعنی 2.3 فیصد کمی کے بعد ایک لاکھ 76 ہزار 94 پوائنٹس پر بند ہوا۔

    تحقیقی ادارے کے مطابق پورے مہینے کے دوران خطے میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کے باعث مارکیٹ دباؤ میں رہی اور انڈیکس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    شعبہ وار کارکردگی کے جائزے کے مطابق بینکاری، ریفائنری، مصنوعی مصنوعات اور تمباکو کے شعبوں نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو مثبت سمت میں لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان شعبوں میں بہتر کارکردگی کے باعث مارکیٹ کو کچھ سہارا ملا۔

    اس کے برعکس تیل و گیس کی تلاش و پیداوار، سیمنٹ، کھاد اور ٹیکنالوجی کے شعبوں نے انڈیکس پر منفی اثرات مرتب کیے۔ ان شعبوں میں حصص کی قیمتوں میں کمی کے باعث مجموعی مارکیٹ کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ آٹو اسمبلرز، ٹیکسٹائل اور آٹو پارٹس تیار کرنے والی کمپنیوں کی کارکردگی بھی جولائی کے دوران خاصی محدود رہی اور ان شعبوں میں سرمایہ کاروں کی سرگرمی معمول کے مطابق رہی۔

    تجارتی سرگرمیوں کے لحاظ سے جولائی 2026 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں روزانہ اوسطاً 84 کروڑ 51 لاکھ حصص کا کاروبار ہوا، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار رہی اور حصص کی خرید و فروخت میں معمولی اضافہ ہوا۔

    تاہم کاروباری مالیت کے اعتبار سے کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جولائی میں روزانہ اوسط کاروباری مالیت 13 کروڑ 49 لاکھ امریکی ڈالر رہی، جو امریکی ڈالر کی بنیاد پر گزشتہ ماہ کے مقابلے میں پانچ فیصد کم تھی۔

    مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ 23 ماہ بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کا دوبارہ خالص خریدار بننا پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ ان کے مطابق اگر ملکی معاشی اشاریے بہتر ہوتے ہیں، سیاسی اور جغرافیائی صورتحال میں استحکام آتا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے تو آئندہ مہینوں میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

  • آزاد کشمیر کے انتخابات پر خونریز جھڑپیں، متعدد ہلاکتوں کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ

    آزاد کشمیر کے انتخابات پر خونریز جھڑپیں، متعدد ہلاکتوں کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ

    پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات شدید سیاسی کشیدگی اور پرتشدد واقعات کے سائے میں جاری ہیں۔ مختلف علاقوں میں احتجاج، سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور انتخابی تنازعات کے باعث خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں درجنوں افراد کے مارے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جب کہ حکومت اور احتجاجی قیادت کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں مختلف اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں اسمبلی انتخابات تین مرحلوں میں کرائے جا رہے ہیں۔ پیر کو میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں میں ووٹنگ ہوئی، جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 13 میں سے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ دیگر نشستیں آزاد امیدواروں اور دوسری جماعتوں کے حصے میں آئیں۔

    انتخابات سے قبل اور ووٹنگ کے دوران مختلف علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی۔ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ راولاکوٹ کے گرد و نواح میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

    سرکاری حکام کے مطابق میرپور میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کم از کم تین مظاہرین جان سے گئے ہیں، تاہم مجموعی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری موقف احتجاجی قیادت کے دعوؤں سے مختلف ہے۔

    رائٹرز کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو گزشتہ ماہ کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے خطے میں مسلسل احتجاج جاری ہے۔ احتجاجی رہنما حکومت پر سیاسی حقوق محدود کرنے، مقامی آبادی کی آواز دبانے اور انتخابات میں مداخلت کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

    حالیہ احتجاج کے باعث آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں معمولات زندگی بھی متاثر ہوئے۔ بینک بند رہے، ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور بعض علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات بھی متاثر ہوئیں، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل شفاف نہیں اور اس میں دھاندلی کا خدشہ موجود ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں انتخابات میں حصہ لینا مناسب نہیں تھا۔

    دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابات آئین اور قانون کے مطابق منعقد کیے جا رہے ہیں اور عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے۔ حکام کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل محفوظ انداز میں مکمل ہو سکے۔

    رائٹرز کے مطابق موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستیں بھی ہیں۔ احتجاج کرنے والے گروپوں کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے اسلام آباد کو آزاد کشمیر کی سیاست پر غیر ضروری اثر و رسوخ حاصل ہو جاتا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں قانونی اور آئینی نظام کا حصہ ہیں۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مسلم لیگ (ن) پہلے مرحلے میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے اسے متنازع مہاجر نشستوں سمیت مزید حمایت درکار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی بحران اور احتجاجی تحریک کے باعث نئی حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں حالیہ بدامنی صرف انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ یہ کئی برسوں سے جاری سیاسی، انتظامی اور معاشی شکایات کا نتیجہ بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر تمام سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات نہ ہوئے تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق آزاد کشمیر میں انتخابات کے مزید مراحل آئندہ دنوں میں ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی مراحل بھی سخت سکیورٹی میں مکمل کرائے جائیں گے، جبکہ سیاسی جماعتیں اور مبصرین انتخابی عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ ملک کی مجموعی سیاسی فضا پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں، اور آئندہ چند روز اس حوالے سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

  • پاکستان میں پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کا آغاز

    پاکستان میں پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ڈیٹا سینٹر کا افتتاح، ڈیجیٹل معیشت کے نئے دور کا آغاز

    وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے پہلے مصنوعی ذہانت کے لیے تیار جدید ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاؤڈ اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا۔

    حکومت نے اس منصوبے کو ملک کی ڈیجیٹل ترقی، محفوظ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

    جمع کے روز اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید مرکز کے قیام سے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا، سرکاری اور نجی اداروں کو محفوظ ڈیجیٹل سہولتیں میسر آئیں گی اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اس جدید مرکز کا دورہ کیا اور وہاں موجود سہولتیں دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق پاکستان کے انجینئروں، ماہرین اور متعلقہ اداروں نے انتہائی مختصر مدت میں یہ منصوبہ مکمل کرکے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو قومی ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسی جذبے سے کام جاری رکھا گیا تو پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے اہم سرکاری اداروں کو بتدریج اس نئے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا تاکہ سرکاری خدمات مزید تیز، محفوظ اور مؤثر بنائی جا سکیں۔ ان کے مطابق مستقبل کی معیشت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی اور پاکستان کو بھی اسی سمت تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔

    تقریب میں بتایا گیا کہ اسکائی 47 قراقرم ون ملک کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیار کلاؤڈ پلیٹ فارم ہے۔ اس کی ابتدائی استعداد آٹھ اعشاریہ پانچ میگاواٹ ہے، جبکہ کراچی کے پورٹ قاسم میں مزید پانچ میگاواٹ صلاحیت کا ایک اور ڈیٹا سینٹر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے، جسے رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

    حکام کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان میں ڈیٹا محفوظ رکھنے کی صلاحیت بڑھے گی، ملکی اداروں کو بیرون ملک سرورز پر انحصار کم کرنا پڑے گا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی جدید سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ اس سے بینکنگ، ٹیلی کمیونی کیشن، صحت، تعلیم، ای کامرس اور سرکاری اداروں کو جدید ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور منصوبے پر کام کرنے والی تمام ٹیموں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کے باہمی تعاون سے ایسے منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کسی بھی ملک کی ٹیکنالوجی، کاروبار اور سرکاری خدمات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اس نوعیت کی جدید سہولت کے قیام سے مقامی آئی ٹی صنعت، سافٹ ویئر کمپنیوں، فری لانسرز اور اسٹارٹ اپ اداروں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

    ڈیٹا سینٹر کیا ہوتا ہے اور مصنوعی ذہانت میں اس کا کیا کردار ہے؟

    ڈیٹا سینٹر ایک ایسا جدید اور محفوظ کمپیوٹر مرکز ہوتا ہے جہاں ہزاروں طاقتور سرور، ڈیٹا محفوظ رکھنے والے آلات، نیٹ ورکنگ کا نظام، بجلی کا بیک اپ اور ٹھنڈک فراہم کرنے کا خصوصی انتظام موجود ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی ویب سائٹس، موبائل ایپس، بینک، سرکاری ادارے، اسپتال، جامعات اور کاروباری ادارے اپنا ڈیٹا انہی مراکز میں محفوظ رکھتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت یا اے آئی کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے انتہائی طاقتور کمپیوٹر، تیز رفتار پروسیسر اور بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ یہ تمام سہولتیں ڈیٹا سینٹر فراہم کرتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ اے آئی ماڈل تیار کرتا ہے یا لاکھوں صارفین کو آن لائن خدمات دیتا ہے تو اس کے لیے مسلسل کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے، جو صرف جدید ڈیٹا سینٹر ہی مہیا کر سکتے ہیں۔

    ڈیٹا سینٹرز کی بدولت چیٹ بوٹس، زبان کا ترجمہ، چہرے کی شناخت، طبی تشخیص، موسم کی پیش گوئی، مالیاتی تجزیے، سمارٹ شہروں کے نظام اور خودکار صنعتی مشینوں جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت بہتر انداز میں کام کر سکتی ہے۔

    اگر پاکستان میں مزید جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیے جائیں تو مقامی کمپنیوں کو بیرون ملک سرورز پر کم انحصار کرنا پڑے گا، ڈیٹا زیادہ محفوظ رہے گا، آن لائن خدمات کی رفتار بہتر ہوگی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی صنعتوں، روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس طرح ڈیٹا سینٹر مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • امریکہ نے جبری مشقت روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد نئے ٹیرف نافذ کر دیے

    امریکہ نے جبری مشقت روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد نئے ٹیرف نافذ کر دیے

    گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کی شرائط پر مکمل عمل درآمد نہ کرنے پر تنقید کے بعد اب امریکہ نے بھی ’جبری مشقت‘ روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف نافذ کر دیے ہیں، جن کا اطلاق آج سے ہو گیا ہے۔

    متاثرہ ممالک میں بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، برطانیہ، چین، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر نئے امریکی ٹیرف منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

    پاکستان میں ماضی میں بھی مزدوروں کے حقوق، بچوں سے مشقت اور جبری مزدوری کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اب بھی ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔

    پاکستانی تاجروں کے نمائندے اور ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر مجید عزیز نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جبری مشقت ی نئی شق کو ٹیرف عائد کرنے کی وجہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف تجارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، سفارتی تعلقات اور سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    جبری مشقت کے الزامات کی بنیاد پر جاری کیا گیا صدارتی حکم نامہ عدالتوں یا دوطرفہ مذاکرات میں زیادہ دیر برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں یورپی ممالک کو بھی ان ممالک کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے جہاں آمرانہ حکومتیں ہیں یا جمہوری نظام موجود نہیں۔ حالانکہ کئی یورپی ممالک نے قوانین سازی، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے کنونشنز کی توثیق اور سخت نگرانی کے ذریعے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔

    پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے جبری مشقت کے خاتمے یا اس میں نمایاں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کیے ہیں۔

    مثبت پہلو صرف یہ ہے کہ اگر پاکستان، ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں ایک قابل اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے تو ممکن ہے اس پر اضافی ٹیرف عائد نہ کیا جائے، یا پھر صرف علامتی نوعیت کا معمولی ٹیرف لگایا جائے۔

    ای ایف پی کا مؤقف ہے کہ جبری مشقت نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ پائیدار کاروباری ترقی، منصفانہ مسابقت اور معاشی ترقی کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جبری مشقت کا خاتمہ حکومتوں، آجروں، مزدوروں اور آجر تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق نئے ٹیرف ان تمام ممالک پر لاگو ہوں گے جن سے امریکہ بڑی مقدار میں اشیا درآمد کرتا ہے۔ ان 60 ممالک سے ہونے والی درآمدات امریکہ کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 99.4 فیصد بنتی ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔ ان تحقیقات میں الزام لگایا گیا تھا کہ مختلف ممالک میں جبری مشقت کے ذریعے تیار ہونے والی اشیا امریکہ برآمد کی جا رہی ہیں اور متعلقہ حکومتیں اس مسئلے کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوں گے۔ پاکستان 10 فیصد ٹیرف والے ممالک میں شامل ہے، کیونکہ انہوں نے مبینہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ان اقدامات سے مطمئن نہیں اور اس مسئلے پر نظر رکھے گا۔

    یہ نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب اس سال کے آغاز میں صدر ٹرمپ کی جانب سے تقریباً تمام درآمدات پر عائد کیا گیا 10 فیصد عمومی ٹیرف امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ نے ایک مختلف قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے نئے ٹیرف نافذ کیے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنی تجارتی پالیسی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے دستیاب ہر قانونی اختیار استعمال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک قانونی اختیار پر عدالت پابندی عائد کر دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اپنی تجارتی حکمت عملی ترک کر دے گی۔

    امریکی انتظامیہ نے ان ٹیرف کے نفاذ کے لیے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کی شق 301 کا سہارا لیا ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق اس قانون کے تحت لگائے جانے والے ٹیرف عدالتوں میں زیادہ مضبوط قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی ایسے اقدامات عدالتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود برقرار رہے ہیں۔

    امریکہ نے واضح کیا ہے کہ تمام درآمدات پر یہ ٹیرف لاگو نہیں ہوں گے۔ خام تیل، قدرتی گیس اور بعض ایسی مصنوعات جن کی مقامی سطح پر دستیابی ممکن نہیں، انہیں اس اقدام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ امریکی معیشت اور صنعت کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف کو اسی وقت نافذ کیا گیا جب پہلے سے موجود 10 فیصد عمومی ٹیرف کی مدت ختم ہوئی، تاکہ درآمد کنندگان کو ایک ہی وقت میں مختلف اقسام کے ٹیرف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور کاروباری اداروں کے لیے نظام نسبتاً آسان رہے۔

    حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کاروباری حلقے بار بار ٹیرف کی شرحوں میں تبدیلی سے پریشان تھے۔ اس لیے اب حکومت نے نسبتاً واضح اور مستقل نظام متعارف کرانے کی کوشش کی ہے تاکہ درآمد کنندگان کو پہلے سے معلوم ہو کہ انہیں کس شرح سے ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔

    ادھر یورپی یونین نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے ان ٹیرف کو "منفی حیرت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جبری مشقت سے متعلق امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔

    سوئٹزرلینڈ نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی فیصلے کی مخالفت کی ہے، جبکہ ناروے نے کہا ہے کہ وہ جواب میں امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

    برازیل نے بھی اپنے سامان پر 12.5 فیصد ٹیرف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی تعلقات باہمی برابری کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔ دوسری جانب میکسیکو کے وزیر اقتصادیات نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر مؤثر ٹیرف کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    آسٹریلیا، جس پر بھی 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، نے امریکی فیصلے کو مکمل طور پر غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر تجارت ڈان فیرل نے کہا کہ ان کی حکومت امریکہ سے مسلسل رابطے میں رہے گی تاکہ آسٹریلوی مصنوعات پر عائد تمام ٹیرف ختم کرائے جا سکیں۔

    امریکی انتظامیہ اس کے علاوہ بھی مزید تجارتی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان میں ایک تحقیق چین، میکسیکو اور یورپی یونین سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں پر عالمی سطح پر صنعتی پیداوار کی ضرورت سے زیادہ صلاحیت پیدا کرنے کے الزامات سے متعلق ہے۔

    اسی ہفتے وائٹ ہاؤس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ سے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک نیا ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ یہ اقدام ایک ایسے امریکی قانون کے تحت کیا جا رہا ہے جسے اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت تجارتی پالیسی کو مزید سخت بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں دیگر ممالک پر بھی نئے تجارتی اقدامات متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ یہ نئے امریکی ٹیرف ان کی برآمدات اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

  • پاکستان نے زرِ مبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی معاونت طلب کر لی

    پاکستان نے زرِ مبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی معاونت طلب کر لی

    پاکستان نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے پر دباؤ کم کرنے اور عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کرنے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی خصوصی مالی معاونت کی درخواست کی ہے۔

    اس پیش رفت سے آگاہ ایک ذریعے نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کی مشکلات کا شکار معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق پاکستان نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں دونوں ممالک کے درمیان پانچ سال تک کی مدت پر مشتمل دو طرفہ زرِ مبادلہ استحکام معاونتی سہولت قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس کی مالیت 10 ارب ڈالر ہوگی۔ اس سہولت کا مقصد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے کی قدر پر دباؤ میں کمی اور بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے ایران جنگ کے حوالے سے سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کیا، جس کے بعد اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان کو امید ہے کہ وہ امریکا اور دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکے گا۔

    رپورٹ کے مطابق اگر یہ سہولت منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان کو نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر کثیر الجہتی قرض دہندگان پر انحصار بھی کسی حد تک کم ہو سکے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت سخت مالیاتی اور مالی نظم و ضبط کی پالیسیوں پر عمل کر رہا ہے۔

    امریکی وزارت خزانہ نے اس درخواست پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی وزارت خزانہ نے بھی رائٹرز کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    تاہم پاکستان کی وزارت خزانہ نے ایک الگ بیان میں بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی۔ بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے خطے کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کے باعث پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات پر بات کی اور امریکا سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں تک بہتر رسائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور ملک کی مالی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے تعاون کی درخواست کی۔ وزارت خزانہ کے بیان میں 10 ارب ڈالر کی مجوزہ سہولت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    بیان کے مطابق دونوں ممالک نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، امریکی سرمایہ کاری میں اضافے اور مشترکہ معاشی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت اصلاحات پر عمل کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت حکومت کو ٹیکسوں میں اضافہ، سرکاری اخراجات میں کمی اور مختلف معاشی اصلاحات کرنا پڑی ہیں، جنہیں سیاسی طور پر مشکل فیصلے تصور کیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نوعیت کی زرِ مبادلہ استحکام سہولتیں بہت کم ممالک کو دی جاتی ہیں۔ یہ سہولتیں عموماً امریکی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں اور ان کے تحت ڈالر، کرنسی تبادلے یا مالی ضمانتیں دی جاتی ہیں تاکہ کسی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور اس کی کرنسی کو استحکام حاصل ہو۔ یہ امریکی فیڈرل ریزرو کی مستقل کرنسی تبادلہ سہولتوں سے مختلف ہوتی ہیں۔

    رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ پاکستان 2023 میں قرضوں کی ادائیگی میں ممکنہ ڈیفالٹ سے بال بال بچا تھا، جب اسے آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر کا ہنگامی پروگرام ملا۔ بعد ازاں ملک نے سات ارب ڈالر کا توسیعی قرض پروگرام حاصل کیا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت بھی ملی۔ اس کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی سرکاری قرضوں، رول اوور انتظامات اور چین و سعودی عرب جیسے دوست ممالک کی مالی معاونت پر کافی حد تک انحصار کرتے ہیں۔

    مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا پاکستان کی درخواست منظور کرتا ہے تو اس کے دو اہم اثرات ہوں گے۔ ایک طرف پاکستان کو فوری مالی سہارا ملے گا اور دوسری طرف عالمی سرمایہ کاروں کو یہ مثبت اشارہ جائے گا کہ امریکا پاکستان کی معیشت پر اعتماد رکھتا ہے۔

    اس سے روپے پر دباؤ کم ہونے، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے اور قرض لینے کی لاگت میں کمی کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان حالیہ برسوں میں امریکا کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو نئی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کرپٹو کرنسی، معدنیات، جائیداد اور دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی کام جاری ہے، جبکہ ریکوڈک منصوبے سمیت بعض شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

  • پاکستان کے سات شہروں میں 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک مقدار، ماہرین صحت

    پاکستان کے سات شہروں میں 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک مقدار، ماہرین صحت

    پاکستان کے سات شہروں کے زیادہ خطرے والے علاقوں میں 12 سے 36 ماہ عمر کے تقریباً 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے (لیڈ) کی مقدار محفوظ حد سے زیادہ پائی گئی ہے، جبکہ کراچی میں بھی تقریباً 39 فیصد بچے اس خطرناک دھات سے متاثر پائے گئے ہیں۔

    ماہرین صحت نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں میں سیسے کی آلودگی، اس کے ذرائع اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کرے تاکہ والدین میں آگاہی پیدا ہو اور متعلقہ ادارے مؤثر اقدامات کر سکیں۔

    یہ بات لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پروجیکٹ (LEEP) پاکستان، یونیسیف پاکستان اور کامزمین کنسلٹنٹس کے اشتراک سے کراچی پریس کلب میں منعقدہ ایک روزہ صحافتی تربیتی ورکشاپ کے مقررین نے کہی۔ ورکشاپ میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد صحت اور ماحولیات کے صحافیوں نے شرکت کی، جہاں بچوں میں سیسے کی آلودگی سے متعلق تازہ تحقیقی نتائج، اس کے بڑے ذرائع اور اس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    یونیسیف پاکستان کی ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر حمیرا ارشاد نے پاکستان چائلڈ ہُڈ لیڈ ایکسپوژر سروے کے نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سات زیادہ خطرے والے شہروں میں 12 سے 36 ماہ عمر کے دو ہزار 175 بچوں کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔

    سروے کے مطابق تقریباً 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار محفوظ حد سے زیادہ تھی، جبکہ کراچی کے منتخب علاقوں میں یہ شرح تقریباً 39 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ یہ سروے صرف زیادہ خطرے والے شہری علاقوں میں کیا گیا تھا اور اس کے نتائج پورے پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتے، اس لیے ملک میں مسئلے کی اصل شدت جاننے کے لیے قومی سطح پر سروے کرانے کی ضرورت ہے۔

    آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر فاطمی نے کہا کہ سیسے کی آلودگی بچوں کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جس کا اکثر والدین کو اس وقت تک علم نہیں ہوتا، جب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے، کیونکہ اس کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیسے کی معمولی مقدار بھی بچوں کے دماغ، اعصابی نظام، سیکھنے کی صلاحیت اور مجموعی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے اس مسئلے میں علاج سے زیادہ اہمیت بچاؤ کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بچے زیادہ تر سیسہ ملے آرائشی رنگ، ملاوٹ شدہ مصالحہ جات، سرمہ اور غیر قانونی لیڈ ایسڈ بیٹری ری سائیکلنگ کے ذریعے سیسے کی زد میں آتے ہیں اور ان ذرائع پر قابو پا کر بڑی حد تک بچوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

    لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پروجیکٹ پاکستان کے کنٹری ہیڈ عابد حسن نے کہا کہ پاکستان میں خون میں سیسے کی مقدار اور اس کے اصل ذرائع معلوم کرنے کے لیے قومی سطح پر نمائندہ سروے ناگزیر ہے تاکہ اس کی بنیاد پر صحت، ماحولیات، صنعت اور خوراک سے متعلق ادارے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار ایسے سروے کے لیے تعاون پر آمادہ ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ لیپ پاکستان اس وقت بچوں میں سیسے کی آلودگی کے تین بڑے ذرائع، یعنی آرائشی رنگ، سرمہ اور سیسہ ملی ہلدی کے خاتمے پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں آرائشی رنگوں میں سیسے کی زیادہ سے زیادہ حد 90 پارٹس پر

    ملین اور ہلدی میں پانچ پارٹس پر ملین مقرر کی جا چکی ہے، جبکہ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) سرمہ کے لیے بھی قومی معیار متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے۔

    عابد حسن نے کہا کہ حکومتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں سے آرائشی رنگوں میں سیسے کی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ سندھ فوڈ اتھارٹی کی مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں سیسہ ملی ہلدی کی فروخت بھی بڑی حد تک کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا اس مسئلے کو مسلسل اجاگر کرے تو عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ پالیسی سازی میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔

    لیپ پاکستان کے پروگرام منیجر اسد پابانی نے بتایا کہ ان کی تنظیم دنیا کے 40 سے زائد ممالک میں حکومتوں، محققین، صنعت اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر بچوں کو سیسے کی آلودگی سے محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (سیپا) کے ریجنل ڈائریکٹر عمران صابر نے کہا کہ غیر قانونی لیڈ ایسڈ بیٹری ری سائیکلنگ یونٹس اور دیگر آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تاہم کارروائی کے بعد ایسے یونٹس اکثر دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ایسے عناصر کی نشاندہی اور عوام میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر احمد علی شیخ نے بتایا کہ جب ہلدی میں لیڈ کرومیٹ کے خلاف مہم شروع کی گئی تو 90 فیصد سے زائد نمونوں میں یہ مضر مادہ موجود تھا، تاہم مسلسل نگرانی، لیبارٹری تجزیوں، تاجروں سے رابطوں اور آگاہی مہم کے نتیجے میں یہ شرح کم ہو کر تقریباً پانچ فیصد رہ گئی ہے۔

    ورکشاپ کے اختتام پر صحت اور ماحولیات کے سینئر صحافی ایم وقار بھٹی نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی آلودگی، غیر محفوظ صنعتی سرگرمیوں، آلودہ صارف اشیا اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر تحقیقاتی رپورٹنگ کریں۔ انہوں نے کہا کہ درست اور حقائق پر مبنی صحافت ہی عوامی آگاہی، مؤثر قانون سازی اور بچوں کو سیسے کی آلودگی سے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

  • شاہنواز بھٹو کی بیٹی سسی بھٹو کی پاکستان آمد کا راز اور مشن

    شاہنواز بھٹو کی بیٹی سسی بھٹو کی پاکستان آمد کا راز اور مشن

    سسی بھٹو اس وقت پاکستان آئی ہیں جب ان کے والد، شہید شاہنواز بھٹو کی 18 جولائی کو 41ویں برسی منائی گئی۔

    44 سالہ سسی بھٹو مستقل طور پر امریکہ میں اپنی افغان نژاد والدہ ریحانہ کے ساتھ رہتی ہیں۔

    شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو کی والدہ فوزیہ اور سسی بھٹو کی والدہ ریحانہ آپس میں سگی بہنیں ہیں۔ اس رشتے سے فاطمہ بھٹو اور سسی بھٹو نہ صرف چچا زاد بہنیں ہیں بلکہ ماموں زاد بہنیں بھی بنتی ہیں۔

    جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیے جانے کے بعد دونوں بھائی اس وقت کی سوویت نواز افغان حکومت کے مہمان بن گئے۔

    1980 میں انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف ‘پاکستان لبریشن آرمی’ قائم کی۔ بعد میں 2 مارچ 1981 کو پی آئی اے کے طیارے کے اغوا کے بعد جب اغوا کنندگان کابل پہنچے تو اس تنظیم کا نام تبدیل کرکے ‘الذوالفقار’ رکھ دیا گیا۔

    میر مرتضیٰ بھٹو الذوالفقار کے سربراہ تھے جبکہ شاہنواز بھٹو اس تنظیم کے آپریشنل چیف کمانڈر تھے۔

    کابل میں دونوں بھائیوں نے افغان وزارت خارجہ کے ایک افسر فصیح الدین کی دو بیٹیوں، فوزیہ اور ریحانہ، سے شادیاں کیں۔

    کچھ عرصے بعد افغان انٹیلی جنس کے سربراہ حفیظ اللہ امین نے میر مرتضیٰ بھٹو کو خبردار کیا کہ جن بہنوں سے آپ نے شادی کی ہے، ان کے والد فصیح الدین کے پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے دور کی آئی ایس آئی سے رابطے ہیں اور وہ ہماری نگرانی کی فہرست میں شامل ہیں۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ دونوں بھائیوں نے اس انتباہ کو اہمیت نہیں دی۔

    29 مئی 1982 کو میر مرتضیٰ بھٹو اور فوزیہ کے ہاں فاطمہ بھٹو پیدا ہوئیں، جبکہ 24 اگست 1982 کو شاہنواز بھٹو اور ریحانہ کے ہاں سسی بھٹو کی پیدائش ہوئی۔

    جولائی 1985 میں طویل عرصے کے بعد پورا بھٹو خاندان فرانس کے ساحلی شہر کانز میں اکٹھا ہوا۔ بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو اور شاہنواز بھٹو ایک دوسرے سے ملے۔

    لیکن 18 جولائی 1985 کا دن اس خاندان کے لیے ایک المناک دن ثابت ہوا، جب شاہنواز بھٹو اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

    شاہنواز بھٹو کے فلیٹ میں اس وقت صرف ان کی اہلیہ ریحانہ اور کم عمر بیٹی سسی بھٹو موجود تھیں۔

    اطلاع ملنے پر میر مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو وہاں پہنچے تو ریحانہ سخت پریشان تھیں۔ فرانسیسی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے شاہنواز بھٹو کی لاش اپنی تحویل میں لے لی اور ریحانہ کو بھی حراست میں لے لیا۔

    شاہنواز بھٹو کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی موت ایک انتہائی خطرناک زہر سے ہوئی۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ ایسا زہر تھا جسے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ایجنٹ یا مختلف مزاحمتی تنظیموں کے ارکان انتہائی خفیہ حالات میں استعمال کرتے تھے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس زہر سے انسان چند لمحوں میں ہلاک ہو جاتا ہے۔

    واقعے کے بعد فرانسیسی پولیس نے ریحانہ کو گرفتار کر لیا۔

    ادھر میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنی اہلیہ فوزیہ کو طلاق دے دی اور اپنی کم عمر بیٹی فاطمہ بھٹو کو ساتھ لے کر شام کے دارالحکومت دمشق منتقل ہو گئے۔ دوسری جانب بے نظیر بھٹو اپنے بھائی شاہنواز بھٹو کی میت پاکستان لے آئیں، جہاں انہیں آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش بھٹو میں سپرد خاک کیا گیا۔

    فرانسیسی حکومت نے چند سال بعد ریحانہ کو رہا کر دیا، جس کے بعد وہ فرانس سے امریکہ منتقل ہو گئیں۔ سسی بھٹو بھی اپنی والدہ کے ساتھ امریکہ میں رہنے لگیں۔

    دمشق میں قیام کے دوران میر مرتضیٰ بھٹو نے غنویٰ بھٹو سے شادی کی۔ فاطمہ بھٹو کی پرورش میر مرتضیٰ بھٹو اور غنویٰ بھٹو نے مل کر کی۔ بعد میں غنویٰ بھٹو کے ہاں ان کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی پیدائش ہوئی۔

    نومبر 1993 میں میر مرتضیٰ بھٹو لاڑکانہ سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے، جس کے بعد ان کی جلاوطنی ختم ہوئی اور وہ پاکستان واپس آ گئے۔

    تاہم بھٹو خاندان کی مشکلات ختم نہ ہو سکیں۔ 20 ستمبر 1996 کو، جب بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھیں، میر مرتضیٰ بھٹو کراچی میں اپنی رہائش گاہ 70 کلفٹن کے باہر اپنے ساتھیوں سمیت پولیس فائرنگ میں ہلاک ہو گئے۔

    میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے مقدمے میں کسی کو سزا نہ مل سکی۔ بعد میں 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو بھی راولپنڈی میں ایک حملے میں جاں بحق ہو گئیں، جبکہ ان کے قتل کے مقدمے میں بھی کوئی حتمی سزا نہیں ہو سکی۔

    پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کیس میں نامزد بعض پولیس افسران کو ترقیاں دی گئیں۔

    فاطمہ بھٹو اور سسی بھٹو کے درمیان قریبی تعلقات رہے ہیں۔ جب بھی سسی بھٹو پاکستان آتیں تو وہ عموماً غنویٰ بھٹو، فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے ساتھ 70 کلفٹن میں قیام کرتیں اور اکثر ایک ساتھ نظر آتیں۔

    اس بار پاکستان آمد پر پہلی مرتبہ سسی بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے بجائے آصفہ بھٹو زرداری کی مہمان بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایئرپورٹ پر ان کا استقبال فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کے بجائے آصفہ بھٹو زرداری نے کیا۔

    سسی بھٹو کے اس بدلے ہوئے رویے کے بارے میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ سسی بھٹو نے مئی 2024 میں ایک ٹویٹ کیا تھا: ‘میں اس وقت کراچی میں نہیں ہوں، اور میری دلی خواہش ہے کہ میں وہاں ہوتی تاکہ آپ میں سے بہت سے لوگوں سے مل سکتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 71 کلفٹن، جو میرے والد کا گھر تھا، میری زمین سمیت مجھ سے ناانصافی کے ساتھ چھین لیا گیا ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ میں جلد واپس آؤں گی۔’

    71 کلفٹن والے بنگلے کی دیکھ بھال فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کرتے ہیں۔

    بھٹو خاندان کے درمیان جائیدادوں پر تنازع ایک طویل عرصے سے جاری ہے، جس کا تعلق ذوالفقار علی بھٹو کی چھوڑی گئی کوٹھیوں، زرعی زمینوں اور دیگر اثاثوں کی قانونی تقسیم سے ہے۔

    اس تنازع کا آغاز شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی چھوٹی بہن صنم بھٹو کی جانب سے اپنی بھابھی غنویٰ بھٹو کے خلاف اپنے والد کی زمینوں اور اثاثوں کی قانونی تقسیم کے لیے دائر کیے گئے مقدمات سے ہوا، جنہیں بعد میں سرکاری طور پر زمینوں کی حد بندی (ڈیمارکیشن) اور تقسیم کے ذریعے حل کیا گیا۔

    صنم بھٹو کی جانب سے دائر کی گئی قانونی درخواست کے مطابق، سال 2000 میں انہوں نے کراچی کی ایک عدالت میں اپنے والد کے اثاثوں کو تمام قانونی ورثا میں تقسیم کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا، جس میں ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو، بہن بے نظیر بھٹو، اور ان کے شہید بھائیوں میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے بچوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

    متنازع جائیدادوں میں ضلع لاڑکانہ میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین، المرتضیٰ ہاؤس، 70 کلفٹن، 71 کلفٹن، نوڈیرو میں چاول کی ایک فیکٹری، رتوڈیرو میں ایک پیٹرول پمپ اور دیگر جائیدادیں شامل ہیں۔

    صنم بھٹو نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کوئی وصیت چھوڑ کر نہیں گئے تھے، اس لیے جائیداد اور دیگر اثاثے اسلامی قانون کے مطابق تمام قانونی ورثا میں تقسیم کیے جائیں۔

    اپنے مرحوم والد ذوالفقار علی بھٹو کی جائیداد کی تقسیم سے متعلق پیدا ہونے والے تنازع کو حل کرنے کے لیے صنم بھٹو نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کی لبنانی نژاد بیوہ غنویٰ بھٹو نے ان جائیدادوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

    ان جائیدادوں میں ذوالفقار علی بھٹو کے تین گھر، المرتضیٰ ہاؤس، 70 کلفٹن اور 71 کلفٹن، ایک نجی لائبریری، کئی قیمتی نوادرات اور زرعی زمین شامل ہیں۔

    1996 میں میر مرتضیٰ بھٹو کی ہلاکت کے بعد یہ اثاثے ان کی بیوہ غنویٰ بھٹو کے پاس رہے۔

    16 اپریل 2000 کو لاڑکانہ کے ریونیو حکام نے نوڈیرو کے قریب عزت واندھ گاؤں کی دیہہ بھٹا اور دیہہ پنجو میں 2,524 ایکڑ زمین کی حد بندی کرکے اس کی تقسیم کی۔

    یہ کارروائی ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی صنم بھٹو کی درخواست اور ان کی موجودگی میں کی گئی، جس کا مقصد صنم بھٹو اور ان کی بھابھی غنویٰ بھٹو کے درمیان جاری زمین کے تنازع کو حل کرنا تھا۔

    صنم بھٹو سخت سکیورٹی میں بھٹو اسٹیٹ پہنچیں۔ اس موقع پر لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آفیسر (ڈی سی او) محمد جعفر عباسی، خورشید جونیجو اور ڈاکٹر شفقت سومرو بھی ان کے ساتھ تھے۔ ریونیو اور سروے افسران اور اسٹیٹ مینیجر نے انہیں چارٹس اور نقشوں کی مدد سے زمین اور اس کی تقسیم کے بارے میں بریفنگ دی۔

    یہ زمین صنم بھٹو اور ان کی بھابھی غنویٰ بھٹو کے درمیان ایک پرانے تنازع کا سبب تھی۔

    ریونیو حکام نے زمین پر حد بندی والے مقامات پر سرخ جھنڈے نصب کیے۔ بھٹو خاندان کے پانچ ارکان میں زمین کا حصہ اس طرح تقسیم کیا گیا:

    1۔ بیگم نصرت بھٹو: 584 ایکڑ

    2۔ میر مرتضیٰ بھٹو: 720 ایکڑ

    3۔ بے نظیر بھٹو: 425 ایکڑ

    4۔ صنم بھٹو: 425 ایکڑ

    5۔ شاہنواز بھٹو کی بیٹی سسی بھٹو: 370 ایکڑ

    رتوڈیرو کے اسسٹنٹ کمشنر پہلے ہی زمین کی تقسیم کر چکے تھے، اس روز صرف اس کی حد بندی کی گئی۔

    جب زمین کی حد بندی کی جا رہی تھی تو غنویٰ بھٹو کے ملازمین مجنون ناریجو، عنایت بھٹو، اختر میرانی اور نظام کوہڑ نے فاطمہ بھٹو کی جانب سے رتوڈیرو کے مختیارکار کو ایک درخواست پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن افسر نے وہ درخواست وصول نہیں کی۔

    فاطمہ بھٹو کا مؤقف تھا کہ زمین کی حد بندی صرف تمام اسٹیک ہولڈرز (حصہ داروں) کی موجودگی میں ہونی چاہیے۔

    ملازمین نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں کچھ وقت کے لیے حراست میں رکھا اور زمین سے تین ٹریکٹر اور دیگر زرعی سامان بھی لے گئی۔

    زمین کی حد بندی کے بعد صنم بھٹو نے زمین کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور عملے کو ہدایت کی کہ وہ زمین کا قبضہ سنبھالیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اسٹیٹ کے چاروں طرف پولیس کی چار چوکیاں قائم کی گئی تھیں۔

    اس سے پہلے صنم بھٹو نے نوڈیرو ہاؤس میں بے نظیر بھٹو صاحبہ کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری، اسٹیٹ مینیجر اور عملے سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاض پھلپوٹو کو اسٹیٹ مینیجر کے طور پر برقرار رکھا جائے گا۔ وہ نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو اور صنم بھٹو کے حصوں کی دیکھ بھال کریں گے۔

    ریاض پھلپوٹو سے پہلے کراچی کے موجودہ ایڈیشنل آئی جی پولیس آزاد خان کے والد عبدالقیوم پٹھان اور مرحوم نظر محمد لغاری بھٹو خاندان کے اسٹیٹ مینیجر تھے۔ ریاض پھلپوٹو چونکہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے پرانے اور قابل اعتماد اسٹیٹ مینیجر تھے، اس لیے انہیں اندر کے کئی رازوں کا علم تھا۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی شہادت کے بعد صدر آصف علی زرداری نے بھٹو خاندان کے تقریباً تمام پرانے ملازمین کو، سوائے چند اپنے کام کے لوگوں کے، فارغ کر دیا۔ اسی کے ساتھ صدر آصف علی زرداری نے بھٹو خاندان کے پرانے اسٹیٹ مینیجر ریاض پھلپوٹو کو بھی ہٹا کر ان کی جگہ اپنے زرداری افراد تعینات کر دیے۔

    باقی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی اہلیہ شیرین امیر بیگم نے اپنے والد سے وراثت میں ملنے والا نوڈیرو کا بنگلہ اور زمینیں اپنی زندگی ہی میں بے نظیر بھٹو صاحبہ کے نام کر دی تھیں۔

    اب سسی بھٹو کی دوبارہ پاکستان آمد اور آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے ان کے استقبال اور میزبانی سے لگتا ہے کہ سسی بھٹو اپنی جائیداد کے حصول کے لیے صدر آصف علی زرداری کی مدد حاصل کریں گی، اور ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار جونیئر کے لیے جائیداد کے معاملے پر مسائل پیدا ہوں۔

    جبکہ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اپنے والد شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی قائم کردہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کو سیاسی طور پر آگے بڑھانے کے بجائے ایک نئی تنظیم کے قیام پر غور کر رہے ہیں۔ اس نکتے پر بھی شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھیوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ نئی تنظیم قائم کرنے کے بجائے شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے چھوڑے ہوئے سیاسی ورثے، یعنی پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو، کو منظم کیا جائے۔

    جبکہ شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو کافی عرصے سے سرگرم نہیں ہیں اور وہ لبنان میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ سسی بھٹو کے پاکستان آنے کا نیا مشن کیا ہے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

  • پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 20 سے تجاوز کر گئی، بے روزگار افراد 59 لاک: اکنامک سروے

    پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 20 سے تجاوز کر گئی، بے روزگار افراد 59 لاک: اکنامک سروے

    پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک کی آبادی بڑھ کر 25 کروڑ 20 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ آبادی میں سالانہ اضافہ 2.07 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    سروے کے مطابق ایک طرف آبادی میں تیز رفتار اضافہ حکومت کے لیے تعلیم، صحت، رہائش، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا بڑا چیلنج بن رہا ہے، تو دوسری جانب نوجوانوں کی بڑی تعداد پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے ایک نادر موقع بھی فراہم کر رہی ہے، بشرطیکہ انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔

    سالانہ بجٹ سے ایک دن پہلے، 11 جون کو جاری کیے گئے قومی اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی میں 12 کروڑ 96 لاکھ مرد جبکہ 12 کروڑ 24 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ ملک کی 66 فیصد سے زیادہ آبادی کی عمر 30 برس سے کم ہے، جبکہ تقریباً 26.6 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

    اسی طرح 56 اعشاریہ نو فیصد آبادی کام کرنے کی عمر یعنی 15 سے 64 سال کے درمیان ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہی نوجوان آبادی پاکستان کے لیے ‘ڈیموگرافک ڈویڈنڈ’ حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔

    سروے میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 15 لاکھ تھی جو 2025 میں بڑھ کر 25 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ پنجاب بدستور سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے جہاں آبادی 13 کروڑ 33 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی۔ سندھ کی آبادی 5 کروڑ 82 لاکھ 70 ہزار، خیبر پختونخوا کی 4 کروڑ 26 لاکھ 80 ہزار جبکہ بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ 52 لاکھ 10 ہزار ہو گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 14 سال کی عمر کے بچوں کا تناسب تقریباً 39.5 فیصد ہے، جبکہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد صرف 3.65 فیصد ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی نوجوان تعلیم یافتہ، ہنرمند اور روزگار یافتہ بن جائیں تو ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے، لیکن اگر انہیں مواقع نہ ملے تو یہی آبادی معاشی اور سماجی دباؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

    اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو کاروبار اور ہنر کی تربیت دینے کے لیے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم اور وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام جیسے منصوبوں پر عمل کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو خود روزگار اور جدید مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی لیبر مارکیٹ میں بھی نمایاں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق کام کرنے کی عمر کی آبادی بڑھ کر 17 کروڑ 96 لاکھ ہو گئی ہے، جو چند برس قبل 15 کروڑ 98 لاکھ تھی۔ اسی دوران لیبر فورس کی تعداد بھی بڑھ کر 8 کروڑ 31 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ملازمت کرنے والے افراد کی تعداد 6 کروڑ 72 لاکھ 50 ہزار سے بڑھ کر 7 کروڑ 72 لاکھ ہو گئی ہے۔

    اگرچہ ملازمتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، تاہم بے روزگاری میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سروے کے مطابق بے روزگار افراد کی تعداد 45 لاکھ 10 ہزار سے بڑھ کر 59 لاکھ ہو گئی جبکہ بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، مگر بڑھتی ہوئی آبادی اور لیبر فورس کے مقابلے میں ان کی رفتار اب بھی ناکافی ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق لیبر فورس میں شمولیت کی شرح بھی بہتر ہوئی ہے، جو 44.9 فیصد سے بڑھ کر 46.3 فیصد ہو گئی۔ اس میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں مختلف شعبوں میں روزگار کی صورتحال کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ زراعت اب بھی سب سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے، تاہم اس میں ملازمتوں کا حصہ 37.4 فیصد سے کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس تھوک اور پرچون تجارت، تعمیرات، ٹرانسپورٹ، مواصلات اور سماجی خدمات کے شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھے ہیں، جو معیشت میں بتدریج تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    تعمیرات کے شعبے میں روزگار کا حصہ 9.5 فیصد سے بڑھ کر 9.9 فیصد جبکہ ہولسیل اور رٹیل تجارت میں 14.5 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد ہو گیا۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ اور مواصلات میں روزگار کا حصہ 6.2 فیصد سے بڑھ کر 6.6 فیصد جبکہ سماجی اور ذاتی خدمات کے شعبے میں 16 فیصد سے بڑھ کر 17.9 فیصد ہو گیا۔

    اس کے برعکس مینوفیکچرنگ کا حصہ تقریباً جمود کا شکار رہا اور معمولی کمی کے ساتھ 14.8 فیصد پر آ گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعتی شعبہ اب بھی مطلوبہ رفتار سے نئی ملازمتیں پیدا نہیں کر پا رہا۔

    اقتصادی سروے کے مطابق حکومت نے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کو ترجیح دی ہے۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعتی شعبوں، جدید ٹیکنالوجی، تعمیرات، خدمات اور دیگر شعبوں میں تربیت دی جا رہی ہے۔

    وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں میں 77 ہزار سے زائد نوجوانوں کی تربیت جاری ہے جبکہ آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، بیرون ملک روزگار، مدرسہ طلبہ، ضم شدہ اضلاع اور دیگر شعبوں کے لیے بھی خصوصی پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق فنی تعلیم کے اداروں میں اصلاحات بھی جاری ہیں۔ ملک بھر میں 1,503 تربیتی اداروں کی رجسٹریشن کی گئی جبکہ 1,600 قومی سطح کے اسیسرز کو لائسنس جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ 70 نئے تعلیمی نصاب اور مہارتوں کے معیار تیار کیے گئے ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ڈیٹا انجینئرنگ جیسے شعبوں میں نئے ڈپلومہ پروگرام بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق مہارت حاصل کر سکیں۔

    اقتصادی سروے میں آبادی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومتوں کی خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مانع حمل سہولتوں کی فراہمی، طبی عملے کی تربیت، ڈیجیٹل نظام، آگاہی مہمات اور دور دراز علاقوں تک خدمات کی فراہمی کے اقدامات جاری ہیں تاکہ آبادی میں اضافے کی رفتار کو متوازن رکھا جا سکے۔

    حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ اس آبادی کو تعلیم، صحت، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر نوجوانوں کی بڑی تعداد کو پیداواری صلاحیتوں سے آراستہ کر دیا جائے تو یہی آبادی پاکستان کی معیشت کے لیے سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اگر روزگار کے مواقع میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سماجی دباؤ مستقبل میں مزید سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔