Tag: سندھ

  • ملیے اپنی پالتو بکریوں کے بچوں پر سندھ کی مشہور لوک داستانوں کے کرداروں کے نام رکھنے والے ٹنڈوالہیار کے فدا حسین چوہان سے

    ملیے اپنی پالتو بکریوں کے بچوں پر سندھ کی مشہور لوک داستانوں کے کرداروں کے نام رکھنے والے ٹنڈوالہیار کے فدا حسین چوہان سے

    سندھ کے ضلع ٹنڈو الہیار میں گھریلو سطح پر بڑے عرسے سے بکریاں پالنے والے فدا حسین چوہان نے 40 سے زائد ایرانی نسل کی بکریاں پال رکھی ہیں۔

    پیدائش کے بعد ہر بکری کے بچے کا باقاعدہ نام رکھا جاتا ہے۔ نام رکھنے کے وہ اپنے دوستوں دعوت کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں شرکت کرنے والے ان کے دوست انہیں باضبطہ مبارک باد دیتے ہیں۔

    فدا حسین چوہان اپنی پالتو زیادہ تر بکریوں کے نام سندھ کی مشہور لوک داستانوں کے کرداروں کے ہیں۔ جو مقامی ثقافت سے گہری وابستگی کا اظہار ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے فدا حسین چوہان  نے کہا ایک بار کینیڈا سے سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (سانا) کے دوست ان سے ملنے آئے تو انہوں نے پوچھا وہ فلاں بکری کیس، فلان بکری خوبصورت ہے۔ ‘تب مجھے کیال آیا کہ کیوں نہ تمام بکریوں کے نام رکھے جائیں۔’

    جس کے بعد انہوں نے بکری کے بچوں کے نام رکنا شروع کیے۔ وہ اپنی پالتو بکریوں کے نام مشہور لوک داستانوں کے کرداروں بشمول مومل سومل رکھتے ہیں۔ ‘اگر میں اپنے بچے کو بولوں کی مومل کو لے لاؤ تو مومل کو ہی لاتے ہیں۔’

    ان بکریوں سے گھر کے افراد جیسا پیار اور لگاؤ رکھا جاتا ہے، اور انہیں خاندان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ فدا حسین چوہان کے خاندان والے اور دوست بکریوں کو دیے گئے نام سے یاد رکھتے ہیں۔

  • سانحہ گل پلازہ: زمین کی خریداری عبدالستار افغانی کے دور میں، لیز پر فاروق ستار کے دستخط، اضافی فلور کی اجازت نعمت اللہ خان کے دور میں، وزیر اعلی سندھ کو رپورٹ پیش

    سانحہ گل پلازہ: زمین کی خریداری عبدالستار افغانی کے دور میں، لیز پر فاروق ستار کے دستخط، اضافی فلور کی اجازت نعمت اللہ خان کے دور میں، وزیر اعلی سندھ کو رپورٹ پیش

    گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد وزیر اعلی سندھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں شاپنگ پلازہ کی تعمیر سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی ملکیت، لیز اور بعد ازاں اضافی تعمیرات مختلف ادوار میں منظور کی گئیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ کی زمین بلدیہ عظمی کراچی کی ملکیت تھی، جسے 1883 میں ٹرام سروس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سال کے لیے لیز پر دیا گیا تھا۔ لیز کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل جنیکا گروپ نے زمین خرید لی، جبکہ لیز کے خاتمے کے باوجود تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔

    اس وقت میئر کراچی جماعت اسلامی کے رہنما عبدالستار افغانی تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے دور میں لیز ختم ہونے سے قبل شروع ہونے والی تعمیرات کو
    روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ عبدالستار افغانی بطور میئر نومبر 1979 سے فروری 1987 تک عہدے پر فائز رہے، جبکہ نومبر 1983 سے فروری 1987 تک دوبارہ منتخب ہوئے۔ ان ہی کے دور میں ٹرام سروس کے لیے دی گئی لیز 1983 میں ختم ہوئی۔

    رپورٹ کے مطابق لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل جنیکا گروپ نے زمین پر تعمیرات شروع کیں، جو 1990 تک جاری رہیں۔ بعد ازاں جب فاروق ستار میئر کراچی منتخب ہوئے تو ان کے دور میں گل پلازہ کی زمین جنیکا کمپنی کو 99 سال کے لیے لیز پر دی گئی۔

    ساگا ڈیجیٹل کو موصول رپورٹ میں شامل دستاویز کے مطابق تین نومبر 1991 کو اس وقت کے میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار نے بلدیہ عظمی کی زمین گل پلازہ کے لیے لیز پر دینے کے کاغذات پر دستخط کیے۔ تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ زمین گل پلازہ شاپنگ مال کو تین روپے فی گز کے حساب سے کرائے پر دی گئی۔


    فاروق ستار 1988 سے 1992 تک بطور میئر کراچی خدمات انجام دیتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق زمین کی لیز ان ہی کے دور میں ان کے دستخط سے جاری کی گئی۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ کے متنازعہ اضافی فلور کو 2003 میں ریگولرائز کیا گیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان میئر کراچی تھے، جن کے دور میں اضافی تعمیرات کی اجازت دی گئی۔

  • سانحہ گل پلازہ: وزیراعلیٰ سندھ کا لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ، دکانداروں کو ایک کروڑ روپے کا بلاسود قرضہ، مارکیٹ کو دوبارہ ‘اسی حالت’ تعمیر کرانے کا اعلان

    سانحہ گل پلازہ: وزیراعلیٰ سندھ کا لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ، دکانداروں کو ایک کروڑ روپے کا بلاسود قرضہ، مارکیٹ کو دوبارہ ‘اسی حالت’ تعمیر کرانے کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گل پلازہ واقعے میں جان سے جانے والوں کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا اور یہ رقم ریلیز ہو چکی ہے۔ کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ لواحقین کی شناخت مکمل کر کے فوری طور پر رقم حوالے کی جائے، اگرچہ جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہر دکاندار کو فوری گذر بسر کے لیے پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے، جبکہ کے سی سی آئی کے ذریعے دکانداروں کے سامان کے نقصان کا بھی معاوضہ دیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق دو ماہ کے اندر تمام متاثرہ دکانداروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے دو عمارتیں دیکھی گئی ہیں، ایک میں پانچ سو اور دوسری میں تین سو پچاس دکانیں موجود ہیں۔

    سندھ اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا عمارتوں کے مالکان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک سال تک کوئی کرایہ نہیں لیا جائے گا اور کوشش ہو گی کہ دو سال تک یہ دکانیں مفت فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس پارکنگ پلازہ سمیت مزید عمارتیں بھی موجود ہیں جہاں اگلے دو ماہ میں دکانیں دی جا سکیں گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ ہر دکاندار کو ایک کروڑ روپے کا بلاسود قرضہ دیا جائے گا، اس قرضے کی ضمانت حکومت سندھ دے گی اور سود بھی حکومت ادا کرے گی۔ اس حوالے سے سندھ انٹرپرائز لیمیٹڈ سے بات کی جا چکی ہے۔ سانحے کے نقصانات کے ازالے کے لیے تاجروں کی ایک کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے اور اس واقعے پر مزید اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ کو اسی حالت میں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا اور دو سال میں تعمیر مکمل کی جائے گی۔ نئی تعمیر میں اتنی ہی دکانیں بنیں گی جتنی پہلے تھیں، ایک بھی دکان زائد نہیں ہو گی۔ انہوں نے گل پلازہ کو گرانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ کیا گیا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں تمام عمارتوں کا آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے اور اب تک تین سو سے زائد عمارتوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ جن عمارتوں میں حفاظتی انتظامات نہیں ہوں گے، انہیں مختصر وقت دیا جائے گا اور حفاظتی اقدامات نہ کرنے والی عمارتوں کو سیل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ تمام عمارتوں کے لیے لازمی انشورنس کا قانون بھی بنایا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ آگ لگنے کے واقعے پر امدادی ادارے الگ الگ انتظامات کے تحت کام کر رہے تھے، تاہم اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام امدادی اداروں کو ایک کمان کے تحت چلایا جائے گا تاکہ ردعمل مزید مؤثر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلوں پر تنقید ضرور کریں لیکن اس سانحے کو خفیہ ایجنڈے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

    سانحے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ابتدا میں اٹھاسی افراد لاپتہ تھے، جن میں ایک زندہ نکل آیا اور پانچ نام دہرائے گئے تھے، یوں کل بیاسی تصدیق شدہ لاپتہ افراد تھے۔ اب تک اکسٹھ لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ پندرہ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اکسٹھ لاشوں میں سے نو کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہو چکی ہے اور مجموعی طور پر پندرہ افراد کی شناخت مکمل ہو گئی ہے۔ پینتالیس لاشوں کے ڈی این اے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ نو کی شناخت باقی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کے حوالے سے کے بی سی اے کو سنہ 1979 میں اس جگہ پر عمارت بنانے کی درخواست ملی تھی۔ سیل ڈیڈ سنہ 1983 میں منظور ہوئی اور اسی دہائی میں عمارت مکمل ہوئی۔ یہ جگہ سنہ 1884 میں ننانوے سالہ لیز پر دی گئی تھی جو سنہ 1983 میں مکمل ہو گئی، بعد ازاں آٹھ سال بعد سنہ 1991 میں لیز کی تجدید کی گئی اور یہ منظوری اس وقت کے میئر نے دی۔ اصل منصوبے میں بیسمنٹ اور دو فلور شامل تھے، سنہ 1998 میں تیسرا فلور ڈالنے کی درخواست دی گئی، سنہ 2001 میں ایک آرڈیننس کے تحت بے ضابطگیوں کو ریگولرائز کیا گیا اور سنہ 2003 میں گل پلازہ کی تمام بے ضابطگیوں کو ریگولرائز کر دیا گیا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ تمام بے ضابطگیاں اٹھارھویں ترمیم سے پہلے کی ہیں۔ اس وقت اگر کوئی شخص اس سانحے کو اٹھارھویں ترمیم سے جوڑتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس ترمیم سے پہلے یہ سب منظوری کون دے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جرم ہے اور لوگوں کی لاشوں پر خفیہ ایجنڈا مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پورے ملک کو غمگین کر دیا ہے، کئی معصوم جانیں ضائع ہوئیں اور ہر طرف سوگ کی کیفیت ہے۔ انہوں نے شہدا کے بلند درجات، لواحقین کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ غفلتوں اور کوتاہیوں کا سدباب کیا جائے گا اور تمام ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے سزا یقینی بنائی جائے گی۔

  • ‘دریائے سندھ بہتا ہے تو سندھ کی ثقافت زندہ رہتی ہے’: کندھ کوٹ ضلع میں دریائے سندھ کا کچہ کیسا نظر آتا ہے؟

    ‘دریائے سندھ بہتا ہے تو سندھ کی ثقافت زندہ رہتی ہے’: کندھ کوٹ ضلع میں دریائے سندھ کا کچہ کیسا نظر آتا ہے؟

    شمالی سندھ کے ضلع کندھ کوت کے کچے کے رہائشی فیاض احمد کے مطابق کچے کے رہائشیوں کے لیے دریائے سندھ زندگی کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں مقیم لاکھوں لوگ نہ صرف کھیتی باڑی کرتے ہیں، بلکہ مویشی بھی پالتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض احمد نے کہا: ‘دریا ہمارا روح ہے، اگر دریا ہوگا تو ہم زندہ رہیں گے۔’

    دریائے سندھ کے کچے کا علاقہ فطری ماحولیاتی توازن کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ یہ خطہ صدیوں سے قدرتی جنگلات، جھیلوں اور دریا سے جڑے حیاتیاتی نظام کا حامل رہا ہے، جو انسانی زندگی اور فطرت کے درمیان قدرتی ربط کو ظاہر کرتا ہے۔

    کچہ علاقہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے لیے اناج کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جس پر لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

    دریائے سندھ کے دونوں اطراف بچاؤ بند کے درمیانی حصے کو کچہ کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ کا کچہ پنجاب اور سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں موجود قدرتی جنگلات، نشیبی زمینیں اور آبی نظام ایک متوازن ماحولیاتی ڈھانچے کی عکاسی کرتے ہیں۔

    سنہ 2013 کے ایک سروے کے مطابق سندھ کے کچہ علاقوں میں تقریباً 40 لاکھ افراد آباد تھے۔ ان لوگوں کا انحصار زراعت، مال مویشی پالنے اور ماہی گیری پر رہا ہے، جو نسل در نسل ان کی معیشت کا حصہ بنی رہی ہے۔

    ساون کے موسم میں کچہ کے مناظر نمایاں طور پر سرسبز ہو جاتے ہیں۔ اس دوران ببڑ، باہڑ اور بھٹن جیسے بڑے درخت اپنی پوری بہار دکھاتے ہیں۔ یہ درخت کچہ کے صدیوں پرانے فطری ورثے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

    تاہم سرکاری غفلت، بااثر عناصر کی مداخلت اور انتظامی کمزوریوں کے باعث کچہ کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ناجائز قبضے، زمینوں کو لیز پر دینا، جنگلات کے شعبے کی عدم توجہی اور شجرکاری نہ ہونے کے باعث یہ علاقہ تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کچہ علاقہ اپنی ماحولیاتی شناخت کھو سکتا ہے۔ وہ خطہ جو کبھی زندگی، سرسبزی اور خوشحالی کی علامت تھا، مستقبل میں صرف ایک یاد بن کر رہ جانے کا خدشہ ہے۔

    کچہ علاقہ صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی پھیلا ہوا ہے۔ یہ خطہ دریا کے قدرتی نظام کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے اور صدیوں سے انسانی زندگی اور فطرت کے درمیان توازن قائم کیے ہوئے ہے۔

    دریائے سندھ کے دونوں اطراف بچاؤ بند موجود ہیں۔ ان بندوں کے درمیان فاصلہ ہر مقام پر یکساں نہیں۔ کہیں یہ فاصلہ تقریباً 20 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ صرف دو کلومیٹر تک محدود رہ جاتا ہے۔

    عام حالات میں دریائے سندھ کچہ کے درمیان بہتا ہے۔ دریا کے ساتھ جڑی یہ زمینیں قدرتی طور پر زرخیز ہوتی ہیں اور سیلابی نظام کا حصہ رہتی ہیں۔ اسی لیے مقامی لوگ کچہ کو دریا کی سانس بھی کہتے ہیں۔

    گرمیوں میں صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔ جب شمالی پہاڑوں پر برف پگھلتی ہے اور مون سون کی بارشیں شروع ہوتی ہیں تو دریائے سندھ میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس دوران کچہ کا بیشتر علاقہ زیر آب آ جاتا ہے۔

    سیلابی پانی کچھ عرصے بعد اتر جاتا ہے۔ پانی کے اترنے کے بعد کچہ کی زمین غیر معمولی طور پر زرخیز ہو جاتی ہے۔ اسی سیرابی کے بعد مقامی آبادی مختلف فصلوں کے بیج بوتی ہے۔ کم خرچ میں اور کم وقت میں تیار ہونے والی کئی فصلیں یہاں کامیابی سے اگائی جاتی ہیں۔

    کچہ کے علاقوں میں قدرتی جنگلات وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔ یہ جنگلات نہ صرف ماحولیاتی توازن قائم رکھتے ہیں بلکہ مقامی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہی جنگلات کی وجہ سے کچہ میں قدرتی شہد وافر مقدار میں ملتا ہے، جو مقامی آبادی کے لیے روزگار اور آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

    یوں کچہ علاقہ محض دریا کے کنارے کی زمین نہیں بلکہ ایک مکمل زندہ نظام ہے۔ یہ نظام پانی، زراعت، جنگلات اور انسانی زندگی کو آپس میں جوڑتا ہے اور دریائے سندھ کے ساتھ جڑے علاقوں کی بقا کی ضمانت بنتا ہے۔

     

  • کراچی: شاہ حسن جزیرہ، مطالعاتی دورے کے بعد تنازع مزید گہرا

    کراچی: شاہ حسن جزیرہ، مطالعاتی دورے کے بعد تنازع مزید گہرا

    کراچی کے ساحلی علاقے میں واقع تاریخی شاہ حسن جزیرے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں، صحافیوں اور گرد و نواح کے دیہات کے مکینوں نے مطالعاتی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد وفاقی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ سیاحتی منصوبے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا تھا۔

    مطالعاتی دورے کے دوران جزیرے کی موجودہ صورتحال، درگاہ کے تقدس، ماہی گیروں کے روزگار اور ماحولیاتی نظام پر پڑنے والے خدشات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے منصوبے کو متنازع قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    دورے میں سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے صدر سید خداڈنو شاہ، جنرل سیکریٹری حفیظ بلوچ، ملیر کے سماجی رہنما سلیم سالار، معروف ماہی گیر رہنما یونس خاصخیلی، صحافیوں اور مقامی آبادی کی بڑی تعداد شریک تھی۔

    شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ شاہ حسن جزیرہ محض ایک غیر آباد علاقہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخ، مذہبی عقیدت اور مقامی شناخت کا مرکز ہے۔ ان کے مطابق جزیرے کو صرف تفریحی منصوبے کے طور پر دیکھنا زمینی حقائق سے لاعلمی کے مترادف ہے۔

    مطالعاتی دورے کے اختتام پر شرکا نے جزیرے پر ریلی بھی نکالی۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ اگر مجوزہ منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔

    یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پورٹ قاسم کے قریب واقع شاہ حسن جزیرے کو ماحولیاتی سیاحت، کھیلوں کی سرگرمیوں اور لائف اسٹائل ریٹریٹس کے لیے ایک جدید سیاحتی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔

    وفاقی مؤقف کے مطابق اس منصوبے پر ایک ارب سے ڈیڑھ ارب روپے لاگت آئے گی اور اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے سیاحت کو فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

    تاہم مقامی سطح پر اس اعلان کے بعد تشویش اور بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ ساحلی علاقوں میں آباد ماہی گیر برادری اس منصوبے کو اپنے روزگار کے لیے براہ راست خطرہ قرار دے رہی ہے۔

    سید خداڈنو شاہ نے بتایا کہ شاہ حسن جزیرے کا کل رقبہ تقریباً 530 ایکڑ ہے اور یہاں واقع حضرت سید شاہ حسن کی درگاہ تقریباً 800 سال قدیم ہے۔ ان کے مطابق درگاہ پر ہر سال عرس کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں جہاں دور دراز علاقوں سے زائرین آتے ہیں، جبکہ اطراف میں مقامی خاندانوں اور ماہی گیروں کے قبرستان بھی موجود ہیں۔

    شرکا کو بتایا گیا کہ مختلف ادوار میں زائرین کی سہولت کے لیے مسافر خانے، مسجد اور پانی کی ٹینکیاں تعمیر کی گئیں، جو تقریباً 50 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔

    مطالعاتی دورے کے دوران ماحولیاتی خدشات بھی سامنے آئے۔ حفیظ بلوچ اور یونس خاصخیلی نے کہا کہ جزیرے اور اس کے اطراف کا سمندر صدیوں سے ماہی گیروں کا ذریعہ معاش رہا ہے اور یہاں کا ماحولیاتی نظام نہایت نازک ہے۔

    ماہی گیر رہنماؤں کے مطابق بڑے پیمانے پر تعمیرات کی صورت میں سمندری حیات اور ماہی گیروں کے روزگار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

    مقامی رہنماؤں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دور میں بُنڈل اور بڈو جزیروں کو ترقی دینے کا منصوبہ بھی سامنے آیا تھا، جسے سندھ حکومت اور مقامی آبادی کی مخالفت کے بعد واپس لینا پڑا تھا۔

    اس وقت سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ جزیرے صوبے کی ملکیت ہیں اور وفاق کو یکطرفہ فیصلوں کا اختیار نہیں۔ اسی پس منظر کے باعث شاہ حسن جزیرے سے متعلق حالیہ اعلان پر بھی عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔

    سید خداڈنو شاہ نے پورٹ قاسم اتھارٹی کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شاہ حسن جزیرے کی زمین قانونی طور پر پورٹ قاسم کی ملکیت نہیں بلکہ سندھ حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں پورٹ قاسم نے سندھ حکومت سے 1500 ایکڑ زمین حاصل کی جہاں سینکڑوں کھاتے دار اور درجنوں قدیم دیہات آباد تھے، مگر متاثرین کو نہ مکمل معاوضہ ملا اور نہ متبادل روزگار فراہم کیا گیا۔

    مطالعاتی دورے میں شریک صحافیوں اور دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ حکومت کو کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد سے قبل مقامی لوگوں کو اعتماد میں لینا ہوگا، شفاف مشاورت کرنی ہوگی اور شاہ حسن درگاہ کے تقدس، تاریخی حیثیت اور ماحولیاتی نظام کو ہر صورت محفوظ بنانا ہوگا۔

    مقامی آبادی کا مؤقف ہے کہ وہ ترقی کے خلاف نہیں، مگر ایسی ترقی جو ان کی تاریخ، شناخت اور روزگار کو خطرے میں ڈال دے، اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

  • محکمہ تعلیم سندھ کے اساتذہ کے تبادلے کے لیے آن لائین درخواست کے نظام ای ٹرانسفر سسٹم کا آغاز

    محکمہ تعلیم سندھ کے اساتذہ کے تبادلے کے لیے آن لائین درخواست کے نظام ای ٹرانسفر سسٹم کا آغاز

    محکمہ تعلیم سندھ میں تبادلوں کے لیے پریشان اساتذہ کے لیے ایک بڑی خوش خبری، محکمہ تعلیم سندھ نے اساتذہ کے لیے گھر بیٹھ کر تبادلے کی درخواست دینے کے لیے ای ٹرانسفر سسٹم متعارف کرادیا ہے۔

    اس کا مقصد تبادلوں کے عمل کو ڈیجیٹل، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنانا ہے۔ تبادلوں اور تقرریوں کا پرانا طریقہ وقت طلب بھی تھا اور پیچیدہ بھی۔ اساتذہ کو دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے۔درخواستوں میں تاخیر، سفارش اور شفافیت پر سوالات بھی سامنے آتے تھے۔

    اس وقت محکمہ تعلیم سندھ میں تقریباً ایک لاکھ پانچ ہزار پرائمری اسکول ٹیچرز اور تقریباً 28 ہزار جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچرز سمیت کُل تقریباً ایک لاکھ ساڑھے 33 ہزار اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اساتذہ کی اتنی بڑی تعداد میں ہزاروں اساتذہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے تبادلے کے لیے پریشان رہتے ہیں۔

    اس نئے نظام کو استعمال کرنے کے لیے مغکمہ تعلیم نے ویب سائٹ eportal.sindheducation.gov.pk جاری کردی ہے۔

    نظام ای ٹرانسفر سسٹم کو اساتذہ کیسے استعمال کریں؟ تمام تفصیلات ساگا ڈیجیتل کی اس ویڈیو میں

  • سندھی زبان کے مقبول اور عوامی شاعر استاد بخاری کی سالگرہ پر ان کو خراج تحسین

    سندھی زبان کے مقبول اور عوامی شاعر استاد بخاری کی سالگرہ پر ان کو خراج تحسین

    سندھی زبان کے مشہور اور عوامی شاعر استاد بخاری 16 جنوری 1930 کو سندھ کے شہر دادو میں پیدا ہوئے۔

    سندھی شاعری میں شاہ لطیف اور شیخ ایاز کے بعد اگر کسی شاعر کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی تو وہ استاد بخاری ہی ہیں۔

    استاد بخاری کی مقبولیت کی وجوہات ویسے تو کافی ہیں، لیکن وہ دو وجوہات کی بنا پر زیادہ مشہور ہوئے۔ ایک تو ان کا اندازِ بیان سادہ اور حسین ہے۔ ان کی شاعری میں مشکل الفاظ نہیں ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے لغت کا سہارا لینا پڑے۔ ان کی شاعری سیدھی دل میں اتر جاتی ہے، جس طرح سچی محبت۔

    استاد بخاری کی شاعری میں سچی اور خالص محبت کا عنصر نمایاں ہے۔ ایسی محبت جیسی صرف گاؤں کی لڑکیاں ہی کرتی ہیں۔

    اس کے علاوہ ان کی شاعری بہت سے گلوکاروں نے گائی، جس کی وجہ سے ان کا کلام زیادہ لوگوں تک پہنچ سکا۔ کیونکہ کتاب ہر کوئی نہیں پڑھتا، لیکن گانے ہر کوئی سنتا ہے۔

     

    استاد بخاری کی شاعری نوجوان نسل اور معمر لوگوں میں یکساں مقبول ہے۔

    لیکن ان کی شاعری کا دیگر زبانوں میں زیادہ ترجمہ نہیں ہوا، جو کہ ہونا چاہیے۔

     

    میں نے استاد بخاری کے کچھ اشعار کا اردو میں ترجمہ کرنے کی جسارت کی ہے۔ پیشِ خدمت ہے:

     

    محبت سے جو ڈرتے ہیں بھلا وہ لوگ کیسے ہیں

    حقیقت سے جو ہٹتے ہیں بھلا وہ لوگ کیسے ہیں

    نہیں جو وصل میں جھومیں، جدائی میں نہ جو روئیں

    جو جیون خاک جیتے ہیں بھلا وہ لوگ کیسے ہیں

     

    مزا کیا چاند جب بدلی میں چھپ جائے مرے دلبر

    حجابوں میں جو چھپتے ہیں بھلا وہ لوگ کیسے ہیں

     

    یہ شاعر جو بخاری ہے، ہاں اس کی ریت نیاری ہے

    جو پاگل اس کو کہتے ہیں بھلا وہ لوگ کیسے ہیں

     

    ادبی خدمات پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2009ء میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی دیا گیا۔

    استاد بخاری 9 اکتوبر 1992 کو انتقال کر گئے۔

  • سندھ حکومت نے سستے آٹے کے لیے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی، مگر آٹا سستا کیوں نہیں؟

    سندھ حکومت نے سستے آٹے کے لیے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی، مگر آٹا سستا کیوں نہیں؟

    وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان کے مطابق آٹے کے بحران سے بچنے اور صوبے کی عوام کو سستا آٹے دینے کے لیے سندھ حکومت نے 85 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔

    یہ رقم عوام کے ٹیکس سے جمع ہوئی۔ مقصد یہ بتایا گیا کہ بازار میں آٹا سستا رہے اور قلت پیدا نہ ہو۔

    حکومتی دعووں کے باوجود عام شہری یہ سوال کر رہا ہے کہ سستا آٹا کہاں ہے۔ کراچی سمیت کئی شہروں میں آٹا مہنگا رہا۔ دستیابی بھی اکثر مشکل رہی۔ عوام کا تاثر ہے کہ سبسڈی کا فائدہ انہیں براہ راست نہیں ملا۔

    سرکاری ریکارڈ کے مطابق سبسڈی کا بڑا حصہ فلور ملز کو دیا گیا۔ چونکہ بڑی فلور ملز زیادہ تر کراچی میں ہیں، اس لیے سبسڈی بھی زیادہ تر یہیں گئی۔ اس کے باوجود یہی شہر آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ شکایات کرتا رہا۔

    محکمہ خوراک کا مؤقف ہے کہ گندم کی خریداری اور آٹے کی پیداوار ان کی ذمہ داری ہے۔ سستا آٹا عوام تک پہنچانا کسی اور محکمے کا کام ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ محکمہ کون سا ہے اور اس کی نگرانی کون کرتا ہے۔

    اسی دوران حکومت نے بڑی مقدار میں گندم ذخیرہ کی۔ سرکاری سطح پر اعتراف کیا گیا کہ گندم کی 3 لاکھ 65 ہزار بوریاں خراب ہو گئیں۔ یہ نقصان بارش، کھلے آسمان تلے ذخیرہ اور انتظامی کمزوریوں سے جوڑا گیا۔

    ایک گندم کی بوری 100 کلو وزن کی ہوتی ہے۔ ایک بوری کی قیمت تقریباً 9 ہزار 500 روپے بتائی گئی۔ اگر خراب، چوری یا ضائع ہونے والی بوریاں 3 لاکھ 65 ہزار مانی جائیں تو مجموعی طور پر ضائع ہونے والی گندم کی مالیت 3 ارب 46 کروڑ 75 لاکھ روپے بنتی ہے۔

    وزیر خوراک کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے ذخیرے میں کچھ نقصان ہونا معمول کی بات ہے۔ مگر عوام کے لیے یہ نقصان معمولی نہیں۔ یہ وہی پیسہ ہے جو صحت، تعلیم اور روزگار پر خرچ ہو سکتا تھا۔

    سندھ میں آج بھی لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو روزانہ خوراک کی فکر میں رہتے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو پورا مہینہ گندم خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایسے میں سرکاری گندم کا ضائع ہونا محض اعداد کا معاملہ نہیں رہتا۔

    اس کے ساتھ باردانہ نہ ملنے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ گندم ذخیرہ کرنے پر کروڑوں روپے کرایہ ادا کیا گیا۔ یہ رقم بھی عوام کے ٹیکس سے دی گئی۔

    حکومتی بیانات میں چوہوں کا ذکر بھی آیا۔ کہا گیا کہ گھروں میں رکھی گندم بھی خراب ہو جاتی ہے۔ مگر عوام یہ سوال ضرور کرتی ہے کہ اگر نقصان معمول کا حصہ ہے تو پھر جواب دہی کس کی ہے۔

    گندم صرف اناج نہیں۔ یہ غریب کی زندگی سے جڑی ہوئی چیز ہے۔ اس کا ہر دانہ ریاستی فیصلوں کا حساب مانگتا ہے۔

  • خاموشی، نمک، پانی اور مہمان پرندے: سندھ کا منفرد صحرا رَن آف کَچھ جو کم لوگ دیکھ پاتے ہیں

    خاموشی، نمک، پانی اور مہمان پرندے: سندھ کا منفرد صحرا رَن آف کَچھ جو کم لوگ دیکھ پاتے ہیں

    نگرپارکر کے قریب واقع رَن آف کچھ میں ان دنوں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی بڑی تعداد دیکھی جا رہی ہے۔ پرندے پانی میں نہاتے، پروں کو صاف کرتے اور جھنڈ کی صورت میں حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ اردگرد پھیلا نمکین میدان اور ہلکا پانی اس علاقے کی شناخت ہے۔

    رَن آف کچھ ایک وسیع نمکین میدان ہے جو مون سون کے بعد موسم سرما میں جزوی طور پر پانی سے بھر جاتا ہے۔ اسی عرصے میں یہ علاقہ نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے عارضی مسکن بن جاتا ہے۔ پرندے یہاں خوراک حاصل کرتے ہیں اور چند ہفتوں کے قیام کے بعد اپنے اگلے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔

    دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ رَن آف کچھ کا منظر ہر موسم میں بدل جاتا ہے۔ گرمیوں میں یہ سفید نمکین میدان دکھائی دیتا ہے، جبکہ مون سون کے بعد یہی علاقہ کم گہرے پانی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی تبدیلی کی وجہ سے یہاں پرندوں اور دیگر آبی حیات کو سازگار ماحول ملتا ہے۔

    یہ علاقہ وائلڈ لائف سینکچوری قرار دیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی رَن آف کچھ رامسر کنونشن کے تحت عالمی اہمیت کے حامل ویٹ لینڈز میں شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ویٹ لینڈ پرندوں، نمکین پودوں اور مقامی حیات کے لیے ایک اہم قدرتی نظام فراہم کرتا ہے۔

    مقامی فوٹو جرنلسٹ دلیپ پرمار، جو کارونجھر فوٹوگرافی کے نام سے فیس بک پیج چلاتے ہیں، برسوں سے رَن اور کارونجھر کے مناظر کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

    دلیپ پرمار کے مطابق رَن آف کچھ پاکستان کے ان مقامات میں شامل ہے جو اپنی وسعت اور خاموش حسن کی وجہ سے منفرد ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے دلیپ پرمار نے کہا: ‘رَن صرف سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک حساس قدرتی علاقہ ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یہاں آنے والے لوگ صفائی، جنگلی حیات اور مقامی ماحول کا خاص خیال رکھیں۔’

    رَن آف کچھ کے یہ مناظر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ سندھ میں صرف صحرا نہیں بلکہ ایسے قدرتی خطے بھی موجود ہیں جہاں پانی، پرندے اور زمین ایک ساتھ زندہ دکھائی دیتے ہیں۔

  • کیا ساڑھے سولہ ارب روپے کے باوجود پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) سندھ میں بنیادی علاج واقعی موجود ہے؟

    کیا ساڑھے سولہ ارب روپے کے باوجود پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) سندھ میں بنیادی علاج واقعی موجود ہے؟

    کیا آپ کو معلوم ہے کہ سندھ حکومت ہر سال عوام کے ٹیکس سے تقریباً ساڑھے سولہ ارب روپے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو سندھ کو دیتی ہے۔ یہ ادارہ صوبے میں بنیادی صحت کے نظام کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے اور اسے عام طور پر پی پی ایچ آئی کہا جاتا ہے۔

    پی پی ایچ آئی سندھ سنہ 2012 کے بعد صوبے کے بیشتر دیہی بنیادی صحت مراکز کے انتظامات سنبھال چکا ہے۔ کاغذوں میں اس کا مقصد سادہ ہے، دیہات تک علاج پہنچانا، ماں اور بچے کی صحت بہتر بنانا اور ایسے مریضوں کو سہولت دینا جو شہروں تک نہیں پہنچ سکتے۔

    اس خطیر رقم کے بدلے پی پی ایچ آئی پر لازم ہے کہ وہ بنیادی صحت مراکز چلائے۔ دیہی علاقوں میں روزمرہ علاج کی سہولت فراہم کرے۔ حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت یقینی بنائے۔ مراکز میں ڈاکٹر، طبی عملہ اور ضروری ادویات دستیاب رکھے۔

    ادارے کا دعویٰ ہے کہ سندھ بھر میں سینکڑوں بنیادی صحت مراکز فعال ہیں اور دیہی آبادی کو علاج کی سہولت میسر ہے۔ رپورٹس میں اعداد و شمار موجود ہیں، عمارتیں موجود ہیں اور نظام کاغذ پر مکمل دکھائی دیتا ہے۔

    لیکن زمینی حقیقت پر سوالات اب بھی اپنی جگہ ہیں۔ کیا آپ کے گاؤں کا بنیادی صحت مرکز روزانہ کھلتا ہے۔ کیا ڈاکٹر مقررہ وقت پر موجود ہوتا ہے۔ کیا مریض کو دوا ملتی ہے یا صرف پرچی پکڑا دی جاتی ہے۔ کیا ایمرجنسی کی صورت میں فوری علاج ممکن ہوتا ہے۔

    اگر مراکز واقعی فعال ہیں تو پھر مریض شہروں کا رخ کیوں کرتے ہیں۔ غریب خاندان نجی اسپتالوں پر قرض کیوں اٹھاتے ہیں۔ بنیادی سہولت ہونے کے باوجود عوام دربدر کیوں نظر آتے ہیں۔

    یہ بھی ایک کم معلوم حقیقت ہے کہ کئی دیہی مراکز میں عمارت تو موجود ہے مگر عملہ عارضی ہے یا بار بار تبدیل ہوتا رہتا ہے، جس سے علاج کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور مریض کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔

    اصل سوال یہی ہے کہ جب سندھ حکومت ہر سال ساڑھے سولہ ارب روپے پی پی ایچ آئی کو دیتی ہے تو عوام کا حق ہے کہ وہ پوچھیں۔ یہ پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ سہولت صرف فائلوں میں ہے یا زمین پر بھی۔ اور اگر علاج میسر نہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔