Tag: ذوالفقار علی بھٹو

  • وہ جُھوٹا مقدمہ جس کو بنیاد بناکر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی

    وہ جُھوٹا مقدمہ جس کو بنیاد بناکر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی

    یہ قصہ 10 اور 11 نومبر 1974 کی رات ملتان سے شروع ہوتا ہے، جب وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو عوامی مصروفیات سے فارغ ہو کر ملتان میں گورنر پنجاب نواب صادق حسین قریشی کے محل نما بنگلے میں کیوبا کے سگار کے کش لے رہے تھے کہ اسی لمحے اُن کے ملٹری سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل امتیاز نے رازداری سے اُن کے کان میں بتایا کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب راؤ رشید ٹیلی فون پر فوری بات کرنا چاہتے ہیں۔

    ذوالفقار علی بھٹو کی اجازت کے بعد لائن پر موجود آئی جی پنجاب راؤ رشید نے بتایا کہ لاہور میں رکنِ قومی اسمبلی احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے، جس میں اُن کے والد نواب محمد احمد خان قصوری جاں بحق ہو گئے ہیں، اور احمد رضا قصوری اس قتل کا مقدمہ خود وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف درج کروانا چاہتے ہیں۔

    یہ سنتے ہی بھٹو نے سگار ایش ٹرے میں بجھاتے ہوئے کہا: ‘Oh! No, very sad’

    اور پھر آئی جی پنجاب کو ہدایت دی کہ احمد رضا قصوری جو چاہتے ہیں، ویسا ہی کیا جائے۔

    اس معاملے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ احمد رضا قصوری، جو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قصور سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، بعد ازاں قومی اسمبلی میں اپنی ہی جماعت کے سربراہ اور وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرنے لگے۔

    اسی دوران ایک رات احمد رضا قصوری اپنے والد نواب محمد احمد خان قصوری، والدہ اور خالہ کے ہمراہ اپنی ٹویوٹا کرولا مارک ٹو گاڑی میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں تحریکِ استقلال گجرات کے صدر بشیر حسین شاہ کے گھر ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، جہاں انہوں نے قربان حسین قوال اور اُن کے ساتھیوں کی قوالیاں سنی تھیں۔

    گاڑی احمد رضا قصوری چلا رہے تھے، اگلی نشست پر اُن کے والد بیٹھے تھے جبکہ پچھلی نشست پر اُن کی والدہ اور خالہ موجود تھیں۔ جب گاڑی شاہ جمال چوک لاہور کے قریب پہنچی تو اچانک تین مسلح افراد نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں نواب محمد احمد خان قصوری شدید زخمی ہو گئے۔

    احمد رضا قصوری اپنے والد کو گلبرگ لاہور کے یونائیٹڈ کرسچن اسپتال لے گئے، مگر وہ رات تین بجے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

    اس کے بعد احمد رضا قصوری اچھرہ تھانے پہنچے اور ایس ایچ او عبدالحئی نیازی سے کہا کہ اُن کے والد کے قتل کی ایف آئی آر وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف درج کی جائے۔

    اتنے میں ڈی آئی جی لاہور سردار عبدالوکیل اور ایس ایس پی لاہور اصغر خان بھی تھانے پہنچ گئے۔ جب پولیس افسران کو معلوم ہوا کہ احمد رضا قصوری وزیرِاعظم کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں تو وہ سخت پریشان ہو گئے۔

    انہوں نے فوراً آئی جی پنجاب راؤ رشید کو صورتحال سے آگاہ کیا، جنہوں نے وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں محمد حنیف رامے کو اطلاع دی۔ حنیف رامے کی ہدایت پر راؤ رشید نے ملتان میں وزیرِاعظم کے ملٹری سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل امتیاز سے رابطہ کیا، جنہوں نے بھٹو کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔

    بھٹو نے فوراً حکم دیا کہ مدعی احمد رضا قصوری کی خواہش کے مطابق ایف آئی آر درج کی جائے۔

    یوں 11 نومبر 1974 کو اچھرہ تھانہ لاہور میں ایف آئی آر نمبر 402 ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف درج ہوئی۔ بھٹو کو اُس وقت شاید اندازہ بھی نہ تھا کہ جس مقدمے کے اندراج کا حکم وہ خود دے رہے ہیں، وہی مقدمہ بعد میں اُن کی پھانسی کا سبب بنے گا۔

    حکومت نے اس قتل کی تحقیقات کے لیے پولیس ٹیم کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں ایک کمیشن بھی قائم کیا، مگر اکتوبر 1975 میں یہ کیس ‘بلائنڈ مرڈر’ قرار دے کر بند کر دیا گیا۔

    پھر پانچ جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کر دیا، اور یہ بند مقدمہ دوبارہ کھول دیا گیا۔

    تحقیقات ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالخالق کے سپرد کی گئیں۔ 25 جولائی 1977 کو ایف ایس ایف (فیڈرل سکیورٹی فورس) کے انسپکٹر ارشد اقبال اور سب انسپکٹر رانا افتخار کو گرفتار کیا گیا۔ اگلے روز دونوں افسران نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ انہوں نے ایف ایس ایف کے ڈائریکٹر آپریشنز میاں غلام عباس کے حکم پر احمد رضا قصوری پر حملہ کیا تھا۔

    بعد ازاں ایف ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل مسعود محمود، میاں عباس، انسپکٹر غلام حسین، انسپکٹر ارشد اقبال، اے ایس آئی رانا افتخار اور صوفی غلام مصطفیٰ کو بھی اس کیس میں گرفتار کیا گیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو تین ستمبر 1977 کو 70 کلفٹن کراچی سے گرفتار کیا گیا، تاہم 13 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس کے ایم صمدانی نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔

    لیکن 17 ستمبر 1977 کو عید کی رات بھٹو کو المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور بعد ازاں کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کر دیا گیا۔

    ضیاء حکومت نے آئینی اور قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں چلانے کے بجائے براہِ راست لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق کے سپرد کر دیا، جنہوں نے بھٹو کی ضمانت مسترد کر دی۔

    مولوی مشتاق کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ تشکیل دی گئی، جس میں جسٹس آفتاب حسین، جسٹس ذکی الدین، جسٹس گل باز خان اور جسٹس ایم ایچ قریشی شامل تھے۔

    بھٹو نے اس پورے مقدمے کو اپنے خلاف سازش اور ڈرامہ قرار دیا، مگر مبینہ طور پر مولوی مشتاق پہلے ہی جنرل ضیاء کے دباؤ میں بھٹو کو سزا دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔

    آخرکار 18 مارچ 1978 کو لاہور ہائی کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو، میاں عباس، ارشد اقبال، صوفی غلام مصطفیٰ اور رانا افتخار کو سزائے موت سنا دی، جبکہ وعدہ معاف گواہ بننے والے ایف ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل مسعود محمود اور انسپکٹر غلام حسین کو بری کر دیا گیا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ جنرل ضیاء نے اپیل کی سماعت سے قبل چیف جسٹس یعقوب علی خان کو ہٹا کر جسٹس انوار الحق کو چیف جسٹس مقرر کر دیا۔

    نو رکنی بینچ تشکیل دی گئی، مگر دورانِ سماعت جسٹس قیصر خان ریٹائر ہو گئے اور جسٹس وحید الدین احمد بیماری کے باعث الگ ہو گئے۔

    چھ فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے چار کے مقابلے میں تین ججوں کی اکثریت سے بھٹو کی سزائے موت برقرار رکھی۔ چیف جسٹس انوار الحق، جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس اکرم اور جسٹس کرم الٰہی چوہان نے سزا برقرار رکھی، جبکہ جسٹس صفدر شاہ، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس دراب پٹیل نے اختلاف کرتے ہوئے بھٹو کو بے گناہ قرار دیا۔

    آخرکار جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے چار اپریل 1979 کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی۔

    قانونی ماہرین کے مطابق اگر جسٹس قیصر خان اور جسٹس وحید الدین احمد بینچ میں شامل رہتے تو شاید فیصلہ مختلف ہوتا۔ دنیا بھر کے قانون دانوں نے اس فیصلے کو متنازع اور جانبدار قرار دیا۔

    بھٹو کو سیشن کورٹ میں دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا، جبکہ چیف جسٹس مولوی مشتاق پر ذاتی تعصب کے الزامات بھی لگتے رہے۔

    مزید یہ کہ خود سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ بعد میں اعتراف کر چکے ہیں کہ بھٹو کی پھانسی جنرل ضیاء الحق کے دباؤ کا نتیجہ تھی اور یہ عدلیہ کا غلط فیصلہ تھا۔

    آج بھٹو کے سیاسی مخالفین بھی اس مقدمے کو ‘عدالتی قتل’ قرار دیتے ہیں، مگر پاکستان کی عدالتوں اور بار کونسلوں کی قانونی کتب میں ذوالفقار علی بھٹو آج بھی دفعہ 302 کے تحت سزا یافتہ مجرم کے طور پر درج ہیں، اگرچہ اس مقدمے کو عدالتی نظیر کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔

  • 21 اپریل 1972: جب تین سال، 26 دن چلنے والی مارشل لا ختم، بھٹو نے بطور صدر حلف لیا

    21 اپریل 1972: جب تین سال، 26 دن چلنے والی مارشل لا ختم، بھٹو نے بطور صدر حلف لیا

    21 اپریل 1972 کو پاکستان میں تین سال، 26 دن چلنے والی مارشل لا ختم کرکے ذوالفقار علی بھٹو نے ایک عبوری آئین کے تحت صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا جس کی منظوری قومی اسمبلی نے چار روز قبل دی تھی۔

    بھٹو 20 دسمبر 1971 سے صدر کا عہدہ سنبھالے ہوئے تھے نے راولپنڈی ریس کورس گراؤنڈ میں تقریباً تین لاکھ افراد کے مجمع کے سامنے صدارتی حلف اٹھایا۔

    انہوں نے پرجوش اور بے چین ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین اور عوام کی خواہشات کی پاسداری کریں گے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ تعاون کریں گے جنہوں نے شہری حکومت کی بحالی پر زور دیا تھا۔

    قیدی رہا کرنے کا اعلان

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے 1971 کی پاکستان، بھارت جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے قید کیے گئے بھارتی قیدی رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ‘اگر بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی مجوزہ مذاکرات میں ان سے بھارتی جنگی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں تو وہ انہیں رہا کر دیں گے چاہے بھارت پاکستانی قیدیوں کی رہائی پر راضی ہو یا نہ ہو۔’

    بھارتی وزارت خارجہ کی پالیسی پلاننگ کمیٹی کے چیئرمین درگا پرشاد دھر کی قیادت میں ایک بھارتی وفد کو اسلام آباد پہنچنے والا تھا تاکہ پاکستانی نمائندے عزیز احمد جو وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل ہیں کے ساتھ بات چیت کر سکے۔

    توقع کی جارہی تھی کہ یہ مذاکرات اندراں گاندھی اور بھٹو کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات کی تیاریوں سے متعلق ہوں گے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات اگلے ماہ کے اوائل میں ہو سکتی ہے۔

    بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم مسئلہ 93 ہزار پاکستانی فوجیوں اور سرکاری اہلکاروں کا ہے جو بھارتی قیدی کیمپوں میں قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان قیدیوں کو روک کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    ‘ہم سودے بازی نہیں کریں گے’

    بھٹو نے کہا کہ ‘ہم اس معاملے پر سودے بازی نہیں کریں گے۔ ہم قانون کا احترام کریں گے۔’
    بھٹو کے مطابق اگر بھارت قانون کا احترام نہیں کرتا تو وہ تمام بھارتی قیدیوں کو رہا کر دیں گے۔ پاکستان کے پاس دسمبر کی جنگ میں پکڑے گئے صرف 600 کے قریب بھارتی فوجی موجود ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ انہیں قومی اسمبلی سے قیدیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کی منظوری مل چکی ہے اور پھر انہوں نے مجمع سے اس کی منظوری طلب کی۔ اس پر نعرے تو بلند ہوئے لیکن چند ایک نے ‘نہیں’ کے نعرے بھی لگائے۔

    مارشل لا جو آدھی رات کو اس وقت ختم ہوا جناب بھٹو نے رات ہی کو عبوری آئین کی منظوری پر دستخط کیے جو پہلی بار اکتوبر 1958 میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے نافذ کیا تھا۔ اسے 1962 میں اٹھا لیا گیا اور پھر 25 مارچ 1969 کو صدر آغا محمد یحییٰ خان نے دوبارہ نافذ کر دیا۔

    بھٹو نے دسمبر 1971 میں اقتدار سنبھالتے وقت اصلاحات کے نفاذ کے واحد ذریعے کے طور پر عارضی طور پر مارشل لا کو برقرار رکھنے کی دلیل دی تھی۔

    بھٹو پر تنقید جسے مارشل لا کے معاملے نے مزید ہوا دیا اگلے مہینوں میں بڑھتی گئی اور یہی وجہ سمجھی جاتی ہے کہ انہوں نے 14 اگست کے طے شدہ منصوبے کے بجائے اب مارشل لا ختم کر دیا۔

    20 اپریل 1972 کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ جنرل یحییٰ خان کی مارشل لا حکومت غیر قانونی تھی اور اس کے بنائے گئے تمام قواعد و احکام ‘قانونی جواز کی بنیاد پر برقرار نہیں رکھے جا سکتے’ لیکن قومی بہبود کے لیے اٹھائے گئے کچھ اقدامات ‘درست تصور کیے جا سکتے ہیں۔’

    اس فیصلے نے جناب بھٹو کی مارشل لا انتظامیہ اور ان کے اصلاحاتی اقدامات کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا اور قانونی پیچیدگیوں کی توقع کی جا رہی تھی۔

    تمام وزرا اور سرکاری اہلکار بشمول فوجی کمانڈروں نے مارشل لا ختم ہونے پر مستعفی ہو گئے تاکہ عبوری آئین کے تحت انہیں دوبارہ تعینات کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا تھا کہ کچھ تبدیلیاں متوقع کی گئیں۔

    بھٹو کو بطور صدر پاکستان کے عہدے کا حلف چیف جسٹس حمود الرحمان عدالت نے دلایا جنہوں خود اسی دن بھٹو کے ہاتھوں عبوری آئین کے تحت چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

  • اپریل 1977: جب ذوالفقار علی بھٹو اور مولانا مودودی کی ملاقات اور اتوار کے بجائے جمعہ کی چھٹی کا اعلان ہوا

    اپریل 1977: جب ذوالفقار علی بھٹو اور مولانا مودودی کی ملاقات اور اتوار کے بجائے جمعہ کی چھٹی کا اعلان ہوا

    انسان کے وقت سے پہلے کیے گئے فیصلے اس کے لیے مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 20 دسمبر 1971 کو اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی۔ ان کا پانچ سالہ دور 20 دسمبر 1977 تک تھا، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے سات جنوری 1977 کو پاکستان ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے وقت سے پہلے ملک میں عام انتخابات کا اعلان کر کے کئی سیاسی مبصرین کو حیران کر دیا۔

    انٹیلی جنس اداروں نے اپنی رپورٹوں میں ذوالفقار علی بھٹو کو یقین دلایا کہ وہ پاکستان کے انتہائی مقبول رہنما ہیں، ملک میں ان کے مقابلے کا کوئی سیاسی رہنما نہیں۔ اس کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو مخالف جماعت کو حیران کرنا چاہتے تھے تاکہ مخالف جماعت کو اکٹھے ہونے اور انتخابی مہم چلانے کا موقع نہ مل سکے۔

    1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد وہ خود کو عالم اسلام کا رہنما ثابت کرنے کے لیے نیا مینڈیٹ لینا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سات مارچ 1977 کو قومی اسمبلی کے انتخابات اور 10 مارچ 1977 کو چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا اعلان کر دیا۔

    انتخابات کے اعلان سے پہلے مخالف جماعت الگ الگ بٹی ہوئی تھی۔ صرف تین دن میں، 10 جنوری 1977 کو تمام جماعتیں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف متحد ہو کر پاکستان نیشنل الائنس (PNA) قائم کر لی۔ اور بھٹو صاحب کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔ اس اتحاد میں شامل اہم جماعتیں یہ تھیں:

    جمعیت علمائے اسلام (مولانا مفتی محمود)

    جماعت اسلامی (میان طفیل محمد / مولانا مودودی)

    تحریک استقلال (ایئر مارشل اصغر خان)

    جمعیت علمائے پاکستان (مولانا شاہ احمد نورانی)

    نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (سردار شیر باز مزاری / بیگم نسیم ولی خان)

    مسلم لیگ پیر پگارا گروپ (سید شاہ مردان شاہ)

    سردار عبدالقیوم خان

    پاکستان جمہوری پارٹی (نوابزادہ نصراللہ خان)

    خاکسار تحریک (محمد اشرف خان)

    نو جماعتوں پر مشتمل اس اتحاد کا نام پاکستان قومی اتحاد رکھا گیا۔ اس اتحاد کا صدر مولانا مفتی محمود کو اور جنرل سیکریٹری رفیق باجوہ کو چنا گیا۔ عوام میں یہ اتحاد ’نو ستاروں‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

    اگرچہ ان جماعتوں کا منشور الگ تھا، لیکن وہ صرف بھٹو دشمنی میں اور بظاہر ملک میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ والے ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد تھیں۔

    انتخابی مہم کے دوران دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ پیپلز پارٹی ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ اور اپنی خارجہ پالیسی پر بھروسہ کیا، جبکہ پی این اے نے ’نظام مصطفیٰ‘ کا نعرہ لگا کر عوامی جذبات کو متحرک کیا۔ پی این اے نے ذوالفقار علی بھٹو پر ذاتی الزام بھی لگائے، جس کے جواب میں لاہور کے ایک جلسے میں بھٹو صاحب نے مشہور جملہ کہا تھا: ’ہاں، میں شراب پیتا ہوں، لیکن عوام کا خون نہیں پیتا!‘

    سات مارچ 1977 کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ بیوروکریسی نے اپنا فائدہ دیکھتے ہوئے انتخابات میں زبردست دھاندلی کرائی جس کے نتائج ذوالفقار علی بھٹو کے حق میں نہیں نکلے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر 200 قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے 155 نشستیں حاصل کیں جبکہ پاکستان قومی اتحاد نے 36 نشستیں حاصل کیں۔ مارچ 1977 کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کے کئی رہنماؤں پر مخالف جماعت

    (PNA) نے یہ الزام لگایا کہ انہوں نے سرکاری مشینری استعمال کر کے مخالف امیدواروں کو اغوا کروایا یا انہیں کاغذات داخل کرنے سے روکا، جس کے نتیجے میں کافی امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار پائے۔

    قومی اسمبلی کے جن امیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا، ان میں سے چند نام یہ ہیں:

    ذوالفقار علی بھٹو

    ممتاز علی بھٹو

    نواب احمد سلطان چانڈیو

    مخدوم محمد زمان طالب المولٰی

    غلام مصطفیٰ جتوئی

    سید قائم علی شاہ

    عبدالستار گبول

    میر افضل خان

    ذوالفقار علی بھٹو (لاڑکانہ) وزیر اعظم خود لاڑکانہ کی نشست پر بلامقابلہ کامیاب ہوئے۔ ان کے مقابلے میں پی این اے (جماعت اسلامی) کے امیدوار مولانا جان محمد عباسی تھے، جنہیں اغوا کر کے باقرانی تھانے میں رکھا گیا۔ اگر مولانا جان محمد عباسی کو تھانے میں بند نہ کیا جاتا تو بھی وہ لاڑکانہ سے ذوالفقار علی بھٹو سے الیکشن نہ جیت سکتے۔

    اسی طرح پنجاب سے بھی کئی قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران بلامقابلہ کامیاب کروائے گئے۔

    سات مارچ کے قومی اسمبلی کے نتائج کو مخالف جماعت پاکستان قومی اتحاد نے ماننے سے انکار کر دیا اور انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر 10 مارچ کو ہونے والے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا اور سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر دیا۔ مخالف جماعت نے نظام مصطفیٰ کے نفاذ کا نعرہ لگا کر تحریک شروع کر دی۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت کے خلاف یہ تحریک تیزی سے ملک میں پھیلتی گئی۔

    ان ’بلامقابلہ‘ کامیابیوں نے ہی پی این اے (PNA) کی تحریک کو بنیاد فراہم کی۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم اور بڑے وزیر انتخابات سے پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر باقی ملک میں شفاف انتخابات کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ یہی سبب تھا کہ پی این اے نے سات مارچ کے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا اور ملک گیر احتجاج شروع کر دیا۔

    پی این اے کی تحریک نے ’نظام مصطفیٰ‘ کا روپ اختیار کر لیا، جس میں مساجد اور مذہبی طبقہ پیش پیش تھا۔ کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے شہروں میں زندگی کا نظام مفلوج ہو گیا۔ حکومت نے تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس میں کئی افراد مارے گئے اور ہزاروں گرفتار ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت کو کراچی، حیدرآباد، ملتان، لاہور اور راولپنڈی میں جزوی مارشل لا لگانا پڑا۔

    لاہور میں پرتشدد مظاہروں کو روکنے کے لیے تعینات فوجی دستوں کی کمانڈ کرنے والے تین بریگیڈیئروں نے ڈیوٹی سے انکار کرتے ہوئے اپنے فوجی بیج اتار کر استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ ایسی صورت حال میں 16 اپریل 1977 کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلی مودودی کے لاہور والے گھر جا کر ان سے ملاقات کی۔ مولانا مودودی نے ذوالفقار علی بھٹو کو عہدے سے استعفیٰ دے کر عام انتخابات دوبارہ کرانے کی صلاح دی۔

    ذوالفقار علی بھٹو نے مولانا مودودی سے ملاقات کے بعد اپنی وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ تو نہیں دیا، لیکن وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت بچانے اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد (پاکستان قومی اتحاد – PNA) کی تحریک کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کچھ اہم اسلامی اصلاحات کا اعلان کیا:

    جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی کا اعلان

    پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک ملک میں برطانوی دور کی روایت کے مطابق اتوار (Sunday) کو ہفتہ وار چھٹی ہوتی تھی۔ لیکن مذہبی تحریک کے دباؤ کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو نے باقاعدہ اعلان کیا کہ اب اتوار کی بجائے جمعہ ہفتہ وار چھٹی کا دن ہوگا۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد مذہبی طبقوں کو راضی کرنا تھا۔

    شراب خانوں، نائٹ کلبوں، بارز، ڈسکو کلبوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے باوجود احتجاجی تحریک ختم نہ ہوئی تو ذوالفقار علی بھٹو 28 اپریل 1977 کو اچانک راولپنڈی کے مشہور بازار راجا بازار میں پہنچے۔ انہوں نے وہاں ایک گاڑی پر چڑھ کر عوام سے خطاب کیا اور اپنی جیب سے ایک خط نکال کر عوام کو دکھاتے ہوئے کہا:

    ’یہ خط گواہی ہے کہ میرے خلاف امریکہ نے سازش کی ہے اور اس سازش کے ذریعے وہ میری حکومت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ میری زندگی کے بھی دشمن بن گئے ہیں، کیونکہ میں اسلامی ممالک کو متحد کر رہا تھا اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا چاہتا ہوں۔‘

    وقت پی این اے (PNA) کی تحریک کا عروج تھا اور بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ امریکہ اس تحریک کی مالی مدد کر رہا ہے۔ ملکی صورت حال خراب ہونے اور فوجی مداخلت کا خطرہ بڑھنے پر دونوں جماعتوں نے مذاکرات کی میز پر آنے کا فیصلہ کیا۔

    تین جون 1977 کو وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہوا۔ حکومت کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ اور مولانا کوثر نیازی شامل تھے جبکہ مخالف جماعت پی این اے کی طرف سے مولانا مفتی محمود (قومی اتحاد کے سربراہ)، نوابزادہ نصراللہ خان اور پروفیسر غفور احمد شامل تھے۔

    مذاکرات کے دوران پی این اے کی طرف سے پیش کردہ اہم شرائط یہ تھیں:

    سات مارچ والے انتخابات کو کالعدم قرار دے کر نئے شفاف انتخابات کرائے جائیں۔

    ایک آزاد اور بااختیار الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    تحریک کے دوران گرفتار ہونے والے سیاسی کارکنوں کو آزاد کیا جائے۔

    ملک کے بعض شہروں میامید ئے گئے جزوی مارشل لا اور دفاعی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔

    مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔ ابتدائی طور پر بھٹو صاحب صرف صوبائی انتخابات دوبارہ کرانے پر راضی تھے، لیکن اپوزیشن کے سخت موقف کے بعد وہ قومی اسمبلی کے دوبارہ انتخابات پر بھی راضی ہو گئے۔ جون مہینے کے آخر تک دونوں جماعتیں تقریباً ایک معاہدے پر متفق ہو چکی تھیں۔

    ایک ’سپر سپروائزری کونسل‘ کے قیام کا منصوبہ تھا جو نئے انتخابات کرائے اور اقتدار نئی منتخب حکومت کو سونپے۔ دو جولائی 1977 تک معاہدے کا مسودہ تیار ہو چکا تھا، لیکن پی این اے کے بعض رہنماؤں کی طرف سے مزید ضمانتیں مانگنے اور بھٹو صاحب کی طرف سے غور کرنے کے بعد جب دونوں جماعتوں کے درمیان آخری دستخطوں کی اpمید تھی، تو پانچ جولائی 1977 کی رات جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لا لگا کر حکومت کا تختہ الٹ دیا اور سب کچھ ختم ہو گیا۔

  • ذوالفقار علی بھٹو اور جمعو فقیر کی دوستی کا قصہ

    ذوالفقار علی بھٹو اور جمعو فقیر کی دوستی کا قصہ

    لاڑکانہ کے بزرگوں سے آج بھی ذوالفقار علی بھٹو اور جمعو فقیر کی دوستی کے قصے نہیں بھولے۔ جمعو فقیر وہ واحد آدمی تھا جو نہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا تھا بلکہ وہ فقیرانہ باتوں میں بھٹو کو منہ پر کڑوی باتیں بھی کہہ دیتا تھا۔

    جمعو فقیر ذات کا سومرو تھا اور قمبر تعلقہ کے گاؤں کور سلیمان کا رہنے والا تھا۔ کچھ عرصہ گاؤں ڈتل ابڑو میں بھی رہا۔ قمبر کے مرکزی سڑک پر پٹھان والی مسجد کے پاس نائی کا کام بھی کیا۔ ہمارا گھر قمبر شہر میں پٹھان مسجد کے قریب ہوتا تھا۔

    میرے والد اکثر پٹھان مسجد کے پاس نائی یوسف منگی کی دکان پر بیٹھتے تھے۔ میں نے بچپن میں جمع فقیر کو پہلی دفعہ وہیں دیکھا تھا۔ اس کے ساتھ میں نے بچپن میں قرآن شریف کا درس بھی پٹھان مسجد کے پیش امام سے حاصل کیا۔

    تو ذکر ہو رہا تھا جمعوفقیر کا۔ جمعو فقیر قمبر چھوڑ کر لاڑکانہ منتقل ہو گیا اور فقیرانہ رنگ میں چل پڑا۔ گداگری کر کے گزارہ کرتا تھا۔ اکثر لاڑکانہ کی سڑکوں اور راستوں پر اپنے گدھے پر نظر آتا تھا۔

    جمعوفقیر کی زندگی کا یہ معمول بن گیا تھا کہ وہ روزانہ اپنے گدھے پر لاڑکانہ کی گوشت مارکیٹ جاتا، پوری مارکیٹ کے ذبح شدہ جانوروں کے گوشت کے ٹکڑے اکٹھے کرتا اور انہیں اپنے گدھے کی گودڑیوں میں بھرتا، پھر وہ ٹکڑے لاڑکانہ کے آوارہ کتوں کو کھلاتا تھا۔ لاڑکانہ کے آوارہ اور لاوارث کتے بھی اس کے ایسے عادی ہو گئے تھے کہ جدھر جمعو فقیر جاتا ادھر کتوں کا ہجوم اس کے پیچھے چلتا تھا۔ خون اور گوشت کے ٹکڑوں کی وجہ سے فقیر سے گوشت اور خون کی بو آتی رہتی تھی۔ شاذ و نادر ہی کوئی فقیر نہاتا ہوگا۔

    ان دنوں ہم کچھ کمیونسٹ قسم کے دوست لاڑکانہ کی مچھلی گوشت مارکیٹ والے مئے خانے پر جا کر بیٹھتے تھے۔ تو ایک دن میں نے جا کر جمعوفقیر کو چائے کا کپ دیا۔ اس نے کہا: ‘بیٹے کس خوشی میں چائے دے رہے ہو؟’

    میں نے کہا: ‘فقیر، امام کی سبیل ہے’

    تو جمعوفقیر نے چائے کا کپ لیتے ہوئے کہا: ‘ابا اماموں سے پھر کیا حساب کتاب؟’

    وہ اپنی دھن میں مگن تھا۔ اس فقیر کی باتیں فقیرانہ رنگ میں رنگی ہوئی ہوتی تھیں۔

    ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اس کا دوستی کا تعلق بھی اتفاقی اور حادثاتی طور پر بنا۔ جمعو فقیر خود بھٹو صاحب کے پاس نہیں گیا تھا بلکہ بھٹو صاحب ابھی وزیر اعظم نہیں بنے تھے کہ کسی نے انہیں بتایا کہ شہر میں گدھے پر گھومنے والا ایک فقیر ہے جس کی باتیں نہ صرف سننے کے قابل ہیں بلکہ سبق آموز بھی ہیں۔

    تو بھٹو صاحب نے کہا اسے المرتضیٰ ہاؤس لے آؤ۔ جب لوگوں نے جا کر جمعوفقیر سے کہا کہ تمہیں بھٹو صاحب نے بلایا ہے تو فقیر ناراض ہو گیا اور جواب دیا: ‘میں کیا بھٹو کا نوکر ہوں؟’ اور کہہ دیا کہ میں نہیں آؤں گا۔

    لوگوں نے جا کر بھٹو صاحب کو بتایا کہ جمعوفقیر نے آنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ سن کر بھٹو صاحب خود گاڑی میں بیٹھ کر جمعوفقیر سے ملنے نکلے۔ اس وقت جمعو فقیر لاڑکانہ کی کینیڈی مارکیٹ کے پاس پیپل کے درخت کے نیچے اپنے گدھے کو گھاس کھلا رہا تھا۔

    بھٹو صاحب کو دیکھ کر جمعوفقیر نے کہا: ‘بھٹو صاحب کیسے بھٹک کر آ گئے ہو؟’

    بھٹو صاحب نے جواب دیا: ‘فقیر حاضری بھرنے آیا ہوں’

    فقیر نے کہا: ‘ابا میں کون سا ماسٹر ہوں جو حاضری بھرنے آئے ہو؟’

    بھٹو صاحب نے کہا: ‘چلو دوستی کرتے ہیں’

    فقیر نے کہا: ‘دوستی کرنا آسان ہے، نبھانا مشکل ہے’

    بھٹو نے کہا: ‘کر کے دیکھ لو، پھر تم مالک ہو’

    تو درخت کے نیچے گدھے سمیت بیٹھے جمعوفقیر نے کہا: ‘بھٹو صاحب تم میرے ڈیرے پر آ گئے ہو، تمہیں واپس نہیں کرتا’

    اس طرح لاڑکانہ کی سڑکوں پر گداگری کرنے والے جمعوفقیر اور بھٹو صاحب کے درمیان دوستی قائم ہو گئی۔

    جمعوفقیر کی باتوں میں ہنسی مذاق کے ساتھ سبق آموز باتیں بھی ہوتی تھیں۔ ایک دفعہ اس نے ایک بلوچ سے خیرات مانگی، اس نے پانچ روپے دیے۔ تو فقیر نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: ‘اللہ سائیں، بلوچ بھی تم سے ڈرتے ہیں’

    ایک دفعہ ڈگری کالج کے طلبہ نے اس سے کہا: ‘جمعہ اپنی بیوی کا نام بتاؤ’

    فقیر نے کہا: ‘ابا وضو نہیں ہے’

    طلبہ نے کہا: ‘بیوی کے نام کا وضو سے کیا تعلق؟’

    فقیر نے جواب دیا: ‘ابا بیویاں پاک ہوتی ہیں، پاک لوگوں کے نام بغیر وضو نہیں لیتے’

    جب بھٹو صاحب وزیر اعظم بن گئے تو ایک بار جمعوفقیر سے ملے اور کہا: ‘دعا کرو’

    فقیر نے کہا: ‘لگتا ہے تم وزیر اعظم بن کر خوش نہیں ہو، آؤ ایک کام کرتے ہیں، تم میرا گدھا سنبھالو اور جمعو بن جاؤ، میں بھٹو بن جاتا ہوں’

    بھٹو صاحب نے کہا: ‘منظور ہے، مجھے اپنا گدھا دو’

    فقیر نے کہا: ‘نہیں ابا، میں اپنا گدھا نہیں دوں گا، تمہارے پاس پہلے ہی بہت گدھے ہیں، پہلے انہیں سنبھالو’

    یہ سن کر بھٹو صاحب ہنس پڑے اور وزیروں کے چہرے اتر گئے۔

    بھٹو صاحب وزیر اعظم بننے کے بعد جب بھی لاڑکانہ آتے، کوشش کرتے کہ جمعوفقیر سے کچھ وقت ضرور بیٹھیں۔

    جمعوفقیر کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا۔ کبھی لاہوری محلہ، کبھی کہیں اور۔ آخری دنوں میں اس کا ٹھکانہ قبرستان کی ایک جھونپڑی تھی۔

    ایک بار بھٹو صاحب نے کہا: ‘میں تمہیں گھر بنا دیتا ہوں’

    فقیر ناراض ہو گیا اور کہا: ‘دوبارہ کہا تو دوستی ختم’

    ایک بار بھٹو صاحب موئن جو دڑو ایئرپورٹ پر اترے اور کہا کہ جمع فقیر سے ملنا ہے۔ آخرکار وہ باقرانی روڈ پر مل گیا۔ بھٹو نے اسے رات کے کھانے کی دعوت دی۔

    فقیر نے شرط رکھی:

    ‘ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا’

    پھر کہا: ‘میرا گدھا بھی ساتھ آئے گا’

    بھٹو صاحب نے دونوں شرطیں مان لیں۔

    آخرکار جمعوفقیر اپنے گدھے سمیت المرتضیٰ ہاؤس پہنچا۔ اس نے خود بھی کھانا کھایا اور اپنے گدھے کو بھی خوب چارہ کھلایا۔

    لاڑکانہ کے اس اللہ والے فقیر کا انتقال 1990 میں ہوا

  • ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی: بھٹو سے محترمہ بے نظیر بھٹو، نصرت بھٹو آخری 30 منٹ کی ملاقات میں کیا ہوا؟

    ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی: بھٹو سے محترمہ بے نظیر بھٹو، نصرت بھٹو آخری 30 منٹ کی ملاقات میں کیا ہوا؟

    جیل سپرنٹنڈنٹ نے ملاقات کا وقت ختم ہونے کا اعلان کیا تو بے نظیر بھٹو نے جیل کی سلاخوں کو پکڑ لیا، برائے مہربانی دروازہ کھول دیں، میں اپنے پاپا کو الوداع کہنا چاہتی ہوں۔

    بی بی مسلسل التجا کرتی رہیں مگر سپرنٹنڈنٹ نے انکار کردیا۔

    یہ پھانسی کے تختے پر لٹکنے سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی اپنی اہلیہ اور بیٹی سے آخری ملاقات تھی۔۔

    اپنی پیاری بیٹی اور اہلیہ سے جدائی کے وقت بھٹو صاحب نے کہا: ‘آج شب علائم دنیا سے آزاد ہوجاؤں گا، میں اپنی والدہ اور اپنے والد کے پاس چلا جاؤں گا، میں لاڑکانہ میں اپنے اجداد کی زمینوں کی طرف جارہا ہوں تاکہ اس سرزمین کا، اس کی خوشبو اور اس کی فضا کا حصہ بن جاؤں۔’

    بھٹو صاحب نے اپنے جملے مکمل کرتے ہوئے آخر میں مسکراتے ہوئے کہا ۔’ آج کل لاڑکانہ میں بہت گرمی ہے۔’

    ‘میں وہاں ایک سائبان تعمیر کردوں گی’ بے نظیر بھٹو بمشکل یہ جملہ مکمل کر پاتی ہیں اور جیل حکام نے آگے بڑھ کر انہیں الگ کردیا،

    بی بی نے آخری جملہ ادا کیا، ‘الوداع پاپا’

    بے نظیر بھٹو نے اپنی خود نوشت Daughter of East میں لکھا: ‘راولپنڈی سینٹرل جیل میں 4 اپریل 1979 کو صبح صادق سے بھی بہت پہلے انہوں نے میرے والد کو قتل کردیا۔ چند کلومیٹر دور سہالہ کے ویران پولیس ٹریننگ کیمپ میں اپنی والدہ کے ساتھ مقید، میں نے اپنے والد کی موت کے اس لمحے کو محسوس کیا، وہ رات ہم دونوں پر بہت بھاری اور کرب آمیز گزری، ہم ایک دوسرے سے سمٹی رہیں۔’

    ‘ہم وزیر اعظم کی تدفین کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہیں،’ بی بی یہ اپنی بات مکمل نہ کر پائی تھی کہ چھوٹے جیلر نے بتایا ‘وہ انہیں دفنانے کے لیے پہلے ہی لے جاچکے ہیں’

    یہ سن کر بی بی کا لہجہ سخت ہوگیا، ‘ان کے گھر والوں کے بغیر میت لے گئے؟،

    فوجی حکومت کے جرائم پیشہ افراد بھی جانتے ہیں میت کے ساتھ جانا، تدفین میں شامل ہونا، چہرہ دیکھنا ہمارا مذہبی فریضہ ہے’۔ بے نظیر بھٹو نے جذباتی لہجے میں جیلر پر غصہ کیا۔

    جیلر نے یہ بھی نہیں بتایا کہ سابق وزیر اعظم کی میت کو پھانسی کے بعد کہاں لے گئے ہیں؟ بس جیل کی سیل کوٹھری میں ذوالفقار علی بھٹو کا بچا کچھا سامان بی بی کے حوالے کردیا۔

    لمبی قمیض اور ڈھیلا پاجامہ جو انہوں نے آخری دنوں میں پہنا تھا، کیونکہ بطور سیاسی قیدی انہوں نے مجرم کی وردی پہننے سے انکار کردیا تھا۔کھانے کا ٹفن، گوکہ کچھ دنوں سے انہوں نے کھانے پینے سے انکار کردیا تھا، بستر کے کپڑے جن کی اجازت اس وقت ملی تھی جب چارپائی کے ٹوٹے ہوئے تاروں سے ان کی کمر چھلنی ہوچکی تھی، ان کا پینے کا پیالہ۔

    ان کی انگوٹھی کہاں ہے؟ بی بی کے پوچھنے پر جیلر نے جیب ٹٹولی اور انگوٹھی نکال کر دی۔

    بی بی لکھتی ہیں ہم ماں اور بیٹی کو پھانسی سے ایک روز قبل ملاقات کے لیے جایا گیا تو میرے والد نے جیل کی سیل کوٹھری سے آواز دی، ‘آج تم دونوں اکٹھے کیوں آئی ہو؟ کیا یہ آخری ملاقات ہے’ نصرت بھٹو خاموش رہیں مگر بی بی نے جواب دیا۔’ میرا خیال ہے ایسا ہی ہے۔’

    ذوالفقار علی بھٹو نے قریب ہی کھڑے جیلر سے پوچھا، ‘کیا یہ آخری ملاقات ہے؟’

    جیلر نے اثبات میں سر ہلایا، ‘کیا تاریخ کا تعین ہوگیا’ ذوالفقار علی بھٹو نے فوری سوال کیا۔ جیلر نے بتایا کہ کل کا دن طے ہوا ہے، قواعد کے مطابق صبح پانچ بجے۔ بیوی اور بیٹی سے آخری ملاقات طے شدہ وقت ایک گھنٹہ کے بجائے 30 منٹ کروائی گئی۔

    ‘غسل اور شیو کرنے کے لیے انتظامات کرو، دنیا خوبصورت ہے اسے میں اسی حالت میں الوداع کہنا چاہتا ہوں’ ذوالفقار علی بھٹو نے جیلر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

    انہوں نے اپنی کتابیں بی بی کے حوالے کرتے ہوئے کہا انہیں لے جاؤ، میں چاہتا ہوں میری کسی چیز کو یہ لوگ ہاتھ نہ لگائیں۔

    وہ چند سگار جو وکلا چھوڑ گئے تھے بی بی کے حوالے کرتے ہوئے کہا صرف آج رات کے لیے ایک رکھ لیتا ہوں، شالیمار کولون کی شیشی بھی رکھ لی، اپنی انگوٹھی اتار کر دینے لگے تو نصرت بھٹو نے اصرار کیا ‘اسے پہنے رکھیں’۔ جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا ٹھیک ہے پہن لیتا ہوں مگر بعد میں اسے بے نظیر کے حوالے کر دینا۔

    ‘دوسرے بچوں کو میرا پیار دینا،’ نصرت بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

    انہوں نے کہا میں تمہاری مرضی پر چھوڑتا ہوں اگر چاہو تو پاکستان سے اس وقت تک باہر چلی جاؤ جب تک آئین معطل ہے اور مارشل لاء نافذ ہے۔

    ‘ہم باہر نہیں جا سکتے، ہم جرنیلوں کو یہ تاثر نہیں دیں گے کہ وہ جیت چکے ہیں۔’ نصرت بھٹو نے جواب دیا۔ ‘اور تم پنکی؟’ بھٹو صاحب نے بی بی کو مخاطب کیا تو انہوں نے بھی کہا ‘میں بھی کبھی نہیں جا سکتی۔’

  • گمشدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تلاش

    گمشدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تلاش

    30 نومبر 1967 کو ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی کے قیام کو تقریبا 58 برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر یہ پیپلز پارٹی اب ماضی والی پارٹی باقی نہیں رہی جس میں عوام اور کارکنوں کی آواز سنی جاتی تھی۔

    اگست 1988 میں جنرل ضیا الحق کی حادثاتی موت کے بعد، جب پاکستان کی ملٹری سول اسٹیبلشمنٹ نے عام انتخابات کا اعلان کیا، تو یہ انتخابات ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پہلے عام انتخابات تھے۔

    ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں میدان میں اتری۔ پارٹی ٹکٹوں کے فیصلے خود محترمہ بینظیر بھٹو کر رہی تھیں۔ان دنوں چانڈیا قبیلے کے سردار، نواب احمد سلطان چانڈیو، نگران وزیراعلیٰ قاضی اختر کی کابینہ میں نگران صوبائی وزیر خوراک تھے اور قومی اسمبلی کے حلقہ قمبر۔وارہ سے انتخاب بھی لڑ رہے تھے۔ ان کے صاحبزادے سردار شبیر احمد چانڈیو، پیپلز پارٹی ضلع لاڑکانہ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ سردار شبیر احمد چانڈیو نے قمبر کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے لیے پارٹی ٹکٹ کی درخواست دی تھی۔

    محترمہ بینظیر بھٹو کی کوشش تھی کہ نواب احمد سلطان چانڈیو نگران وزارت سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں، تاکہ قومی اسمبلی کی نشست نواب احمد سلطان چانڈیو اور صوبائی اسمبلی کی نشست ان کے صاحبزادے سردار شبیر احمد چانڈیو کو دی جا سکے۔ مگر نواب احمد سلطان چانڈیو نے نگران کابینہ سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے بجائے، اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔
    اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 165 (قمبر۔وارہ) سے پیپلز پارٹی کا امیدوار کون ہوگا؟ اس وقت قمبر شہدادکوٹ ضلع نہیں بنا تھا اور پورا علاقہ ضلع لاڑکانہ میں شامل تھا۔ ضلع لاڑکانہ میں قومی اسمبلی کی تین نشستیں تھیں:
    این اے 164 لاڑکانہ-ون (لاڑکانہ، باقرانی، ڈوکری، باڈہ)
    این اے 165 لاڑکانہ- ٹو (قمبر اور وارہ تعلقہ)
    این اے 166 لاڑکانہ- تھری (شہدادکوٹ، قبو سعید خان، سجاول، میروخان، رتوڈیرو، نئون دیرو)
    این اے 164 سے بیگم نصرت بھٹو نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، جبکہ ان کے مقابلے میں ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو تھیں۔
    این اے 166 سے محترمہ بینظیر بھٹو امیدوار تھیں اور ان کے مقابلے میں مولانا علی محمد حقانی (شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے والد) میدان میں تھے۔
    این اے 165 کے لیے نواب احمد سلطان چانڈیو کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کی جانب سے بیگم اشرف عباسی کو امیدوار نامزد کیا گیا۔ بیگم اشرف عباسی نے کہا کہ یہ حلقہ نوابوں کے مقابلے کی وجہ سے مشکل ضرور ہے، مگر وہ مقابلہ کریں گی، بشرطیکہ ان کے بیٹے حاجی منور علی عباسی کو بھی پارٹی ٹکٹ دیا جائے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے یہ شرط قبول کر لی۔

    یوں این اے 165 سے پیپلز پارٹی کی امیدوار بیگم اشرف عباسی، صوبائی نشست قمبر سے غلام مجتبیٰ اسران، اور وارہ سے نثار احمد کھوڑو کو ٹکٹ دیا گیا۔
    یہ الیکشن پاکستان بھر میں مشہور ہوا، جہاں ایک طرف روایتی قبائلی نواب احمد سلطان چانڈیو تھے اور دوسری طرف ایک تعلیم یافتہ خاتون ڈاکٹر بیگم اشرف عباسی۔ ہم کارکنوں کو اس انتخابی مہم کے دوران دباؤ، دھمکیوں اور جھگڑوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
    نتائج کے مطابق:
    بیگم اشرف عباسی: 63,011 ووٹ
    نواب احمد سلطان چانڈیو: 15,941 ووٹ

    نواب احمد سلطان چانڈیو کی شکست کے بعد سردار شبیر احمد چانڈیو نے دستبرداری کا اعلان کیا، مگر پولنگ شیڈول کے مطابق جاری رہی۔

    صوبائی نشست کے نتائج:
    غلام مجتبیٰ اسران: 36,128 ووٹ
    مولوی محمد صدیق (جے یو آئی): 1,128 ووٹ
    سردار شبیر احمد چانڈیو: صرف 341 ووٹ

    دیگر حلقوں کے نتائج:
    این اے 164:
    بیگم نصرت بھٹو 83,449 ووٹ لے کر کامیاب
    ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو 4,524 ووٹ لے کر ناکام
    این اے 166:
    محترمہ بینظیر بھٹو 82,229 ووٹ لے کر کامیاب
    مولانا علی محمد حقانی 1,979 ووٹ
    اٹھارہ ماہ بعد، اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی اور دوبارہ انتخابات کا اعلان ہوا۔ اس موقع پر سردار شبیر احمد چانڈیو نے دوبارہ پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دی۔ ہم کارکنوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے سامنے واضح کیا کہ 1988 میں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس لیے دل آمادہ نہیں، مگر فیصلہ آپ کا ہے۔

    محترمہ بینظیر بھٹو نے کارکنوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے سردار شبیر احمد چانڈیو کو ہدایت کی کہ پہلے ناراض کارکنوں کو منائیں۔ بعد ازاں قمبر میں ایک غریب کارکن کی جھونپڑی میں ملاقات ہوئی، جہاں سردار شبیر احمد چانڈیو نے ماضی کی تلخیوں پر معذرت کی اور کارکنوں کو منایا۔
    کارکنوں کی رضامندی کے بعد 1990 کے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ دیا گیا، جس میں انہوں نے ممتاز علی بھٹو کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی:
    سردار شبیر احمد چانڈیو: 59,464 ووٹ
    ممتاز علی بھٹو: 16,198 ووٹ

    1993 میں ایک بار پھر انتخابات ہوئے، اس بار باپ اور بیٹے آمنے سامنے تھے۔ نتیجہ یہ رہا:
    سردار شبیر احمد چانڈیو: 48,669 ووٹ
    نواب احمد سلطان چانڈیو: 24,727 ووٹ

    یہ واضح کرتا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نہ صرف پارٹی کارکنوں کو عزت دیتی تھیں بلکہ جاگیرداروں اور بااثر طبقات کے سامنے ان کی اہمیت بھی منواتی تھیں۔
    آج کا کارکن بس یہی دعا کرتا ہے کہ حلقے کا بااثر فرد اس سے راضی ہو جائے، ورنہ اس کی حالت بالکل اس کہاوت جیسی ہے: ‘نہ میکے کی رہی، نہ سسرال کی۔

  • 20 دسمبر 1971: ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے کا دن

    20 دسمبر 1971: ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے کا دن

    16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان میں پاکستانی مسلح افواج کی ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے بھارتی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ 
    بنگالیوں نے آزاد بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد مشتعل عوام نے غصے میں پاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خان کے پشاور والے گھر کو آگ لگا دی۔
    ملک کی فوجی چھاؤنیوں میں نوجوان فوجی افسران اپنے سینئر جرنیلوں کو گالیاں دینے لگے۔ پنجاب کے ہر دوسرے گھر میں اپنے فوجی اہلکاروں کے جنگی قیدی بننے پر کہرام مچا ہوا تھا۔ ایسی صورتِ حال میں بالآخر 20 دسمبر 1971 کو شکست خوردہ جرنیلوں نے یحییٰ خان سے اقتدار چھین کر مجبوری میں ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا۔
    ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ہی وقت میں پاکستان کے صدرِ مملکت، فوج کے کمانڈر اِن چیف اور پہلے سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔ اگرچہ انہیں اقتدار سونپ دیا گیا، مگر اعلیٰ فوجی افسران کے دلوں میں بھٹو کے خلاف غصہ باقی رہا۔
    اقتدار سنبھالتے ہی ذوالفقار علی بھٹو نے لیفٹیننٹ جنرل عبدالحمید خان، لیفٹیننٹ جنرل ایس جی ایم ایم پیرزادہ، میجر جنرل غلام محمد، میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا، میجر جنرل خداداد خان، میجر جنرل حمید اصغر کیانی سمیت بری، بحری اور فضائی افواج کے کئی اعلیٰ افسران کو برطرف کر دیا۔
    اس کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو آرمی چیف اور ایئر مارشل رحیم خان کو فضائیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
    ان دنوں شیخ مجیب الرحمن میانوالی جیل میں قید تھے۔ انہیں 25 مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے آغاز پر ڈھاکہ سے گرفتار کر کے پاکستان لایا گیا تھا۔ ایک فوجی ٹربیونل نے انہیں پاکستان سے غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔
    جب مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈالے تو بعض جرنیل شیخ مجیب کو میانوالی جیل میں قتل کرنا چاہتے تھے، مگر ذوالفقار علی بھٹو کی مداخلت سے ایسا نہ ہو سکا، کیونکہ بھٹو جانتے تھے کہ اگر شیخ مجیب کے قتل کی خبر بنگالیوں تک پہنچی تو وہ مشرقی پاکستان میں قید پاکستانی فوجیوں کا قتلِ عام کر دیں گے۔
    اقتدار سنبھالنے کے بعد دسمبر 1971 اور جنوری 1972 میں بھٹو نے شیخ مجیب سے ملاقاتیں کیں۔ وہ خود میانوالی جیل گئے۔ شیخ مجیب انہیں دیکھ کر حیران ہوئے اور پوچھا: “بھٹو، تم یہاں کیسے آ گئے ہو؟”
    بھٹو نے جواب دیا کہ ملک کی سیاسی صورتحال بدل چکی ہے اور وہ پاکستان کے صدر بن چکے ہیں۔ انہوں نے شیخ مجیب کو مشرقی پاکستان کی صورتحال سے آگاہ کیا اور مثبت کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔
    تین جنوری 1972 کو کراچی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھٹو نے اعلان کیا کہ وہ شیخ مجیب کو رہا کرنا چاہتے ہیں۔
    بالآخر آٹھ جنوری 1972 کو رات تین بجے شیخ مجیب کو میانوالی جیل سے سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کیا گیا، جہاں بھٹو نے ان سے طویل ملاقات کی اور رہائی کی اطلاع دی۔ بعد ازاں انہیں راولپنڈی کے چکلالہ ایئر بیس سے خصوصی طیارے کے ذریعے لندن روانہ کیا گیا۔
    لندن پہنچ کر شیخ مجیب نے پریس کانفرنس کی۔ پھر 10 جنوری 1972 کو وہ لندن سے دہلی کے راستے ڈھاکہ پہنچے، جہاں لاکھوں بنگالیوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ آخرکار 16 مارچ 1972 کو انہوں نے باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کر کے اقتدار سنبھالا۔
    بھٹو کے اقتدار کو ابھی چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی پولیس نہ صرف ہڑتال پر چلی گئی بلکہ اس نے تھانوں، ہیڈکوارٹرز اور پولیس لائنز پر مسلح قبضہ بھی کر لیا۔ بھٹو حکومت نے فوج سے مدد مانگی، مگر آرمی چیف جنرل گل حسن اور ایئر چیف رحیم خان نے تعاون سے انکار کر دیا۔
    بالآخر گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر نے ریڈیو پر آ کر ہڑتالی پولیس کو وارننگ دی کہ اگر 24 گھنٹوں میں ڈیوٹی پر واپس نہ آئے تو سخت کارروائی ہو گی۔ حکمتِ عملی کامیاب ہوئی اور پولیس واپس ڈیوٹی پر آ گئی۔
    اس واقعے کے بعد بھٹو نے جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم خان کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا۔
    2 مارچ 1972 کو ایک میٹنگ کے بہانے دونوں فوجی سربراہوں کو بلایا گیا اور زبردستی استعفے لیے گئے۔ بعد میں جنرل ٹکا خان کو آرمی چیف مقرر کیا گیا اور گل حسن و رحیم خان کو یورپی ممالک میں سفیر بنا کر ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔
    اس وقت بھٹو کے سامنے ایک شکست خوردہ ملک تھا، ہزاروں جنگی قیدی بھارت میں تھے اور ہزاروں مربع میل علاقہ دشمن کے قبضے میں تھا۔
    بھٹو نے بھارت سے مذاکرات کا فیصلہ کیا اور جون 1972ء میں شملہ گئے۔ روانگی سے پہلے انہوں نے کہا: “میں کوئی ایسا سودا نہیں کروں گا جس سے پاکستان کی عزت مجروح ہو۔”
    شملہ معاہدہ دو جولائی197
    ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان بھارت کے شہر شملہ میں دوطرفہ مذاکرات ہوئی اور آخری رات تنہائی میں ملاقات کے بعد ’شملہ معاہدہ‘ طے پایا۔
    اہم نکات:
    1.تمام تنازعات دوطرفہ بات چیت سے حل ہوں گے
    2.لائن آف کنٹرول کا قیام
    3.طاقت کے استعمال سے گریز
    4.بھارتی قبضے سے پاکستانی علاقے واپس
    5.93 ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی
    6.تقریباً 5 ہزار مربع میل زمین کی واپسی
    بھٹو دور کی کامیابیاں
    1971 کی جنگ کے نتیجے میں ملک کافی مشکلات کا شکار تھا، مگر اس کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی تعمیر نے کا آغاز کیا۔ ان کے دور میں پاکستان نے کئی کامیابیاں حاصل کیں:
    •جنگی قیدیوں کی رہائی
    •ایٹمی پروگرام کا آغاز
    •اسلامی سربراہی کانفرنس
    •عرب ممالک میں پاکستانیوں کے لیے روزگار
    •پاکستان اسٹیل مل، پورٹ قاسم
    •سندھ اور دیگر صوبوں کو وفاق میں نمائندگی
    •تعلیمی و طبی اداروں کا قیام
    •دیہی صحت مراکز اور سستی ادویات
    غلط فیصلے
    بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں کئی غلط فیصلے بھی کیے، جن کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں کمی بھی ہوئی اور سیاسی طور پر ان کو نقصان بھی ہوا۔ ان فیصلوں میں:
    •نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی
    •بلوچستان حکومت کی برطرفی اور فوجی آپریشن
    •حیدرآباد ٹربیونل
    •سندھ کے قوم پرست رہنماؤں کی گرفتاریاں
    اختتامیہ
    یہ ایک عجیب تاریخ ہے کہ جس بھٹو نے ہزاروں فوجی جنگی قیدی آزاد کرائے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، اسی کو فوجی آمریت نے اقتدار سے محروم کیا اور پھانسی دے دی۔ اور جس شیخ مجیب نے بنگلہ دیش بنایا، وہ بھی اپنے ہی فوجی افسران کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
    یہ تاریخ کا وہ المیہ ہے جس نے برصغیر کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
  • ذوالفقار علی بھٹو کی کھلی کچہریوں میں وزرا  کی جوابدہی سے ان کی جماعت کے حالیہ وزرا کی عوام کی تذلیل کی کہانی

    ذوالفقار علی بھٹو کی کھلی کچہریوں میں وزرا کی جوابدہی سے ان کی جماعت کے حالیہ وزرا کی عوام کی تذلیل کی کہانی

    پاکستان میں سرکاری طور پر کھلی کچہری سے مراد وہ عوامی اجلاس ہوتا ہے جہاں حکومتی افسران براہ راست عام شہریوں کے مسائل سنتے ہیں اور موقع پر ہی ان کے حل کے احکامات جاری کرتے ہیں۔

    کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنا، شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانا اور شفاف حکمرانی کو فروغ دینا ہوتا ہے۔

    تاریخی طور پر برصغیر میں کھلی کچہری کا تصور مغل دور سے ملتا ہے، جب بادشاہ یا حاکم عوام کے درمیان بیٹھ کر ان کے مسائل سنتا تھا۔ پاکستان میں بطور سرکاری نظام کھلی کچہریوں کا باقاعدہ آغاز مختلف ادوار میں ہوا، تاہم دو ہزار کی دہائی کے بعد ضلعی انتظامیہ کے نظام کے تحت انہیں زیادہ منظم شکل دی گئی۔

    خصوصاً 2010 کے بعد صوبائی حکومتوں نے کھلی کچہریوں کو عوامی رابطے کا اہم ذریعہ بنایا۔ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں مختلف اوقات میں ضلعی اور تحصیل سطح پر کھلی کچہریوں کے انعقاد کو سرکاری پالیسی کا حصہ بنایا گیا۔

    بعض ادوار میں وزرائے اعلیٰ اور وزرا بھی کھلی کچہریوں میں براہ راست شرکت کرتے رہے ہیں۔

    کھلی کچہریوں کو عوامی سطح پر اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ یہاں شہریوں کو براہ راست بات کرنے کا موقع ملتا ہے، تاہم ناقدین کے مطابق ان کی کامیابی کا انحصار عمل درآمد پر ہوتا ہے، کیونکہ بعض اوقات مسائل سنے تو جاتے ہیں مگر حل نہیں ہو پاتے۔ اس کے باوجود کھلی کچہری کو پاکستان میں عوامی شکایات سننے کا ایک روایتی اور اہم سرکاری طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

    کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس افسران، بلدیاتی نمائندے اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران شریک ہوتے ہیں۔ شہری بغیر کسی رسمی درخواست کے اپنے مسائل پیش کرسکتے ہیں، جن میں زمین کے تنازعات، پولیس شکایات، بجلی، پانی، صحت، تعلیم اور سرکاری دفاتر سے متعلق امور شامل ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں وزیراعظم کی طرف سے عوام کے ساتھ کھلی کچہریوں کی روایت سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کی تھی۔ وہ اپنی کھلی کچہریوں میں وزیرِاعلیٰ سمیت تمام وزرا اور بیوروکریسی کے ساتھ آ کر بیٹھتے تھے، اور ہر ہاری، مزدور اور طالب علم کو کھل کر بات کرنے کی مکمل آزادی ہوتی تھی۔ نہ صرف بات کرنے کی اجازت ہوتی تھی بلکہ ذوالفقار علی بھٹو وہاں موجود وزیرِاعلیٰ ممتاز علی بھٹو اور غلام مصطفیٰ جتوئی جیسے بڑے وڈیروں اور جاگیرداروں سے کہتے تھے کہ اسٹیج پر آ کر ان فریاد کرنے والوں کو جواب دیں۔

    کسی ننگے پاؤں غریب ہاری، مزدور یا طالب علم کی فریاد یا سخت سوال پر وزیرِاعلیٰ یا کوئی وزیر اسے ڈانٹ نہیں سکتا تھا۔ عام لوگ وزیروں کو پسینہ لا دیتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کھلی کچہریاں محض دکھاوا نہیں ہوتیں تھیں؛ وہیں موقع پر احکامات جاری ہوتے تھے اور ان پر عمل بھی ہوتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو خود ان معاملات کی فالو اپ بھی لیتے تھے۔
    میرے اس کالم کو پڑھنے والے وہ بزرگ جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی کھلی کچہریاں دیکھی ہیں، اور وہ ہزاروں نوجوان جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے نوکری کی درخواست کی، اس بات کی تصدیق ضرور کریں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو نوجوانوں سے تعلیم کے بارے میں پوچھتے اور کہتے تھے:

    ‘بیٹا کسٹمز، ایف آئی اے، پورٹ قاسم، بینکوں اور دیگر وفاقی اداروں میں جاؤ۔’
    کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان سٹیل مل، پورٹ قاسم، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، ایف آئی اے، نارکوٹکس کنٹرول فورس سمیت کئی نئے وفاقی ادارے قائم کیے۔ ان کی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ سندھ کے نوجوان ان اداروں میں بھرتی ہوں۔
    میری یہ باتیں آج کے نوجوانوں کو شاید مذاق لگیں، لیکن جن لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی کھلی کچہریاں دیکھی ہیں وہ اس کی تصدیق کریں گے۔
    المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ میں ایک نوجوان نے ذوالفقار علی بھٹو سے نوکری کی درخواست کی۔ بھٹو صاحب نے اس سے پوچھا: ‘کتنی تعلیم ہے؟’
    نوجوان نے کہا: ‘سر، انٹر پاس ہوں۔’
    بھٹو صاحب نے پوچھا: ‘درخواست لائے ہو؟’
    کہا: ‘نہیں سر۔’
    ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر وہ اپنے وقت کا ایک منفرد کردار بھی تھے۔ جب نوجوان نے کہا کہ درخواست نہیں لایا، تو وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا: ‘ہاتھ دو۔’
    بھٹو صاحب نے نوجوان کے ہاتھ کی ہتھیلی پر قلم سے نیشنل بینک آف پاکستان کے سربراہ کے نام لکھا:
    ‘Do the needful’
    اور دستخط کر دیے۔ کہا: ‘خیال رکھنا، یہ لکھائی ہاتھ سے مٹنی نہیں چاہیے۔ یہ ہاتھ کراچی لے جا کر نیشنل بینک کے سربراہ کو دکھانا۔’
    وہ نوجوان اسی رات ٹرین میں بیٹھ کر کراچی پہنچا، نیشنل بینک کے سربراہ سے ملا۔ بینک کے سربراہ نے بھٹو صاحب کے دستخط پہچان لیے اور واقعی وہ نوجوان میرے بڑے بھائی شبیر حسین قادری کے ساتھ 1974 میں نیشنل بینک آف پاکستان میں بطور کلرک بھرتی ہو گیا۔
    یہ روایت محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی برقرار رکھی۔

    حال ہی میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے سندھ کے صوبائی وزرا کو ہدایت دی کہ مختلف اضلاع میں کھلی کچہریاں منعقد کریں اور عوام کے مسائل سن کر حل کریں۔ مگر اس ڈرامے کے تحت سندھ کے مختلف اضلاع میں کھلی کچہریاں نہیں بلکہ عوام کی کھلی بے عزتیاں کی گئیں۔ پہلے تو صرف مخصوص افراد کو بولنے کی اجازت تھی جو پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی تعریف کریں، اور اگر کسی نے حق، سچ یا تنقید کی کوشش کی تو غنڈوں کے ذریعے لوگوں کو زدوکوب اور بے عزت کیا گیا۔

    مجھے آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کی قمبر شہر میں منعقدہ کھلی کچہری یاد ہے۔ 1974 میں میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول قمبر میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ ہمارے ڈرائنگ ماسٹر مرحوم مقبول احمد قادری محنتی مگر سخت استاد تھے۔ انہوں نے اپنے پیریڈ میں تمام طلبہ کے لیے جیومیٹری باکس لازمی قرار دیا۔ میں اور کچھ دوسرے طلبہ یہ نہ لا سکے۔
    ایک دن غصے میں آ کر استاد نے ہمیں پورا پیریڈ بینچوں پر کھڑا رکھا اور وارننگ دی کہ آئندہ جس کے پاس جیومیٹری باکس نہ ہوا اسے کلاس میں مرغہ بنایا جائے گا۔
    اتفاق سے اگلے دن وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو جناح باغ قمبر میں کھلی کچہری کے لیے آ رہے تھے۔ ہمیں اسکول کی طرف سے پاکستانی جھنڈے دے کر ان کے راستے میں کھڑا کیا گیا۔ بھٹو صاحب آئے، ہم نے تالیاں بجائیں۔

    کچہری میں اعلان ہوا کہ جسے بھی کوئی مسئلہ ہو، قطار میں آ کر وزیرِاعظم کے سامنے پیش کرے۔ مجھے استاد کی سزا یاد آئی اور میں بھی قطار میں جا کھڑا ہوا۔
    جب میری باری آئی تو اُس وقت کے ایس پی لاڑکانہ محمد پنجل جونیجو نے مجھے قطار سے ہٹا دیا۔ میں نے مزاحمت کی۔ یہ منظر بھٹو صاحب نے دیکھ لیا اور اشارے سے کہا: ‘بچے کو چھوڑ دو۔’
    میں اسٹیج پر گیا، بھٹو صاحب نے نام پوچھا۔ میں نے کہا:
    ‘ذوالفقار علی۔
    انہوں نے پیار سے گلے لگایا اور کہا: ‘میرا ہم نام بھائی ہے۔ کیا چاہیے؟’
    میں نے کہا: ‘سر، جیومیٹری باکس اور آپ کا آٹوگراف۔’
    بھٹو صاحب نے فوراً ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ خالد احمد خان کھرل کو حکم دیا کہ بچے کو اس کی جماعت کی تمام کتابیں، کاپیاں اور جیومیٹری باکس فراہم کیے جائیں۔ پھر وزیر صحت عبدالوحید کٹپر سے کہا کہ اس بچے کو میری ذاتی ذوالفقار علی بھٹو چیریٹیبل ٹرسٹ سے ماہانہ اسکالرشپ دی جائے۔
    یہ اسکالرشپ نومبر 1974 سے نومبر 1976 تک مجھے ملتی رہی۔
    دسمبر 1976 میں، لاڑکانہ کے رائل سنیما میں فلم لگی ہوئی تھی۔ ہم دوست لاڑکانہ آئے اور المرتضیٰ ہاؤس پہنچ گئے۔ وہاں بھٹو صاحب موجود تھے۔ انہوں نے مجھے فوراً پہچان لیا اور کہا: ‘تم وہی قمبر والے لڑکے ہو نہ؟’
    ان کی ایسی غیر معمولی یادداشت نے مجھے حیران کر دیا۔
    انہوں نے پوچھا: ‘پڑھتے ہو یا آوارہ پھرتے ہو؟’
    میں نے بتایا کہ اچھے نمبروں سے پاس ہوا ہوں۔
    پوچھا: ‘اسکالرشپ مل رہی ہے؟’
    میں نے کہا: ‘دو سال تک ملی، اب بند ہو گئی ہے۔’
    فوراً حکم دیا کہ اسکالرشپ بحال کی جائے۔ یہ جولائی 1977 تک ملتی رہی، پھر مارشل لا کے بعد ٹرسٹ کے اکاؤنٹس سیل ہو گئے۔

    میں نے ذوالفقار علی بھٹو جیسی یادداشت والا انسان نہیں دیکھا۔ اتنے بڑے عالمی رہنما ہونے کے باوجود، ہزاروں لوگوں سے ملنے کے بعد بھی انہوں نے مجھے پہچان لیا۔ یہ صلاحیت قدرت کی عطا ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتی۔