انسان کے وقت سے پہلے کیے گئے فیصلے اس کے لیے مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 20 دسمبر 1971 کو اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی۔ ان کا پانچ سالہ دور 20 دسمبر 1977 تک تھا، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے سات جنوری 1977 کو پاکستان ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے وقت سے پہلے ملک میں عام انتخابات کا اعلان کر کے کئی سیاسی مبصرین کو حیران کر دیا۔
انٹیلی جنس اداروں نے اپنی رپورٹوں میں ذوالفقار علی بھٹو کو یقین دلایا کہ وہ پاکستان کے انتہائی مقبول رہنما ہیں، ملک میں ان کے مقابلے کا کوئی سیاسی رہنما نہیں۔ اس کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو مخالف جماعت کو حیران کرنا چاہتے تھے تاکہ مخالف جماعت کو اکٹھے ہونے اور انتخابی مہم چلانے کا موقع نہ مل سکے۔
1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد وہ خود کو عالم اسلام کا رہنما ثابت کرنے کے لیے نیا مینڈیٹ لینا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سات مارچ 1977 کو قومی اسمبلی کے انتخابات اور 10 مارچ 1977 کو چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا اعلان کر دیا۔
انتخابات کے اعلان سے پہلے مخالف جماعت الگ الگ بٹی ہوئی تھی۔ صرف تین دن میں، 10 جنوری 1977 کو تمام جماعتیں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف متحد ہو کر پاکستان نیشنل الائنس (PNA) قائم کر لی۔ اور بھٹو صاحب کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔ اس اتحاد میں شامل اہم جماعتیں یہ تھیں:
جمعیت علمائے اسلام (مولانا مفتی محمود)
جماعت اسلامی (میان طفیل محمد / مولانا مودودی)
تحریک استقلال (ایئر مارشل اصغر خان)
جمعیت علمائے پاکستان (مولانا شاہ احمد نورانی)
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (سردار شیر باز مزاری / بیگم نسیم ولی خان)
مسلم لیگ پیر پگارا گروپ (سید شاہ مردان شاہ)
سردار عبدالقیوم خان
پاکستان جمہوری پارٹی (نوابزادہ نصراللہ خان)
خاکسار تحریک (محمد اشرف خان)
نو جماعتوں پر مشتمل اس اتحاد کا نام پاکستان قومی اتحاد رکھا گیا۔ اس اتحاد کا صدر مولانا مفتی محمود کو اور جنرل سیکریٹری رفیق باجوہ کو چنا گیا۔ عوام میں یہ اتحاد ’نو ستاروں‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
اگرچہ ان جماعتوں کا منشور الگ تھا، لیکن وہ صرف بھٹو دشمنی میں اور بظاہر ملک میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ والے ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد تھیں۔
انتخابی مہم کے دوران دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ پیپلز پارٹی ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ اور اپنی خارجہ پالیسی پر بھروسہ کیا، جبکہ پی این اے نے ’نظام مصطفیٰ‘ کا نعرہ لگا کر عوامی جذبات کو متحرک کیا۔ پی این اے نے ذوالفقار علی بھٹو پر ذاتی الزام بھی لگائے، جس کے جواب میں لاہور کے ایک جلسے میں بھٹو صاحب نے مشہور جملہ کہا تھا: ’ہاں، میں شراب پیتا ہوں، لیکن عوام کا خون نہیں پیتا!‘
سات مارچ 1977 کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ بیوروکریسی نے اپنا فائدہ دیکھتے ہوئے انتخابات میں زبردست دھاندلی کرائی جس کے نتائج ذوالفقار علی بھٹو کے حق میں نہیں نکلے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر 200 قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے 155 نشستیں حاصل کیں جبکہ پاکستان قومی اتحاد نے 36 نشستیں حاصل کیں۔ مارچ 1977 کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کے کئی رہنماؤں پر مخالف جماعت
(PNA) نے یہ الزام لگایا کہ انہوں نے سرکاری مشینری استعمال کر کے مخالف امیدواروں کو اغوا کروایا یا انہیں کاغذات داخل کرنے سے روکا، جس کے نتیجے میں کافی امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار پائے۔
قومی اسمبلی کے جن امیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا، ان میں سے چند نام یہ ہیں:
ذوالفقار علی بھٹو
ممتاز علی بھٹو
نواب احمد سلطان چانڈیو
مخدوم محمد زمان طالب المولٰی
غلام مصطفیٰ جتوئی
سید قائم علی شاہ
عبدالستار گبول
میر افضل خان
ذوالفقار علی بھٹو (لاڑکانہ) وزیر اعظم خود لاڑکانہ کی نشست پر بلامقابلہ کامیاب ہوئے۔ ان کے مقابلے میں پی این اے (جماعت اسلامی) کے امیدوار مولانا جان محمد عباسی تھے، جنہیں اغوا کر کے باقرانی تھانے میں رکھا گیا۔ اگر مولانا جان محمد عباسی کو تھانے میں بند نہ کیا جاتا تو بھی وہ لاڑکانہ سے ذوالفقار علی بھٹو سے الیکشن نہ جیت سکتے۔
اسی طرح پنجاب سے بھی کئی قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران بلامقابلہ کامیاب کروائے گئے۔
سات مارچ کے قومی اسمبلی کے نتائج کو مخالف جماعت پاکستان قومی اتحاد نے ماننے سے انکار کر دیا اور انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر 10 مارچ کو ہونے والے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا اور سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر دیا۔ مخالف جماعت نے نظام مصطفیٰ کے نفاذ کا نعرہ لگا کر تحریک شروع کر دی۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت کے خلاف یہ تحریک تیزی سے ملک میں پھیلتی گئی۔
ان ’بلامقابلہ‘ کامیابیوں نے ہی پی این اے (PNA) کی تحریک کو بنیاد فراہم کی۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم اور بڑے وزیر انتخابات سے پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر باقی ملک میں شفاف انتخابات کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ یہی سبب تھا کہ پی این اے نے سات مارچ کے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا اور ملک گیر احتجاج شروع کر دیا۔
پی این اے کی تحریک نے ’نظام مصطفیٰ‘ کا روپ اختیار کر لیا، جس میں مساجد اور مذہبی طبقہ پیش پیش تھا۔ کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے شہروں میں زندگی کا نظام مفلوج ہو گیا۔ حکومت نے تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس میں کئی افراد مارے گئے اور ہزاروں گرفتار ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت کو کراچی، حیدرآباد، ملتان، لاہور اور راولپنڈی میں جزوی مارشل لا لگانا پڑا۔
لاہور میں پرتشدد مظاہروں کو روکنے کے لیے تعینات فوجی دستوں کی کمانڈ کرنے والے تین بریگیڈیئروں نے ڈیوٹی سے انکار کرتے ہوئے اپنے فوجی بیج اتار کر استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ ایسی صورت حال میں 16 اپریل 1977 کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلی مودودی کے لاہور والے گھر جا کر ان سے ملاقات کی۔ مولانا مودودی نے ذوالفقار علی بھٹو کو عہدے سے استعفیٰ دے کر عام انتخابات دوبارہ کرانے کی صلاح دی۔
ذوالفقار علی بھٹو نے مولانا مودودی سے ملاقات کے بعد اپنی وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ تو نہیں دیا، لیکن وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت بچانے اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد (پاکستان قومی اتحاد – PNA) کی تحریک کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کچھ اہم اسلامی اصلاحات کا اعلان کیا:
جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی کا اعلان
پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک ملک میں برطانوی دور کی روایت کے مطابق اتوار (Sunday) کو ہفتہ وار چھٹی ہوتی تھی۔ لیکن مذہبی تحریک کے دباؤ کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو نے باقاعدہ اعلان کیا کہ اب اتوار کی بجائے جمعہ ہفتہ وار چھٹی کا دن ہوگا۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد مذہبی طبقوں کو راضی کرنا تھا۔
شراب خانوں، نائٹ کلبوں، بارز، ڈسکو کلبوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے باوجود احتجاجی تحریک ختم نہ ہوئی تو ذوالفقار علی بھٹو 28 اپریل 1977 کو اچانک راولپنڈی کے مشہور بازار راجا بازار میں پہنچے۔ انہوں نے وہاں ایک گاڑی پر چڑھ کر عوام سے خطاب کیا اور اپنی جیب سے ایک خط نکال کر عوام کو دکھاتے ہوئے کہا:
’یہ خط گواہی ہے کہ میرے خلاف امریکہ نے سازش کی ہے اور اس سازش کے ذریعے وہ میری حکومت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ میری زندگی کے بھی دشمن بن گئے ہیں، کیونکہ میں اسلامی ممالک کو متحد کر رہا تھا اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا چاہتا ہوں۔‘
وقت پی این اے (PNA) کی تحریک کا عروج تھا اور بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ امریکہ اس تحریک کی مالی مدد کر رہا ہے۔ ملکی صورت حال خراب ہونے اور فوجی مداخلت کا خطرہ بڑھنے پر دونوں جماعتوں نے مذاکرات کی میز پر آنے کا فیصلہ کیا۔
تین جون 1977 کو وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہوا۔ حکومت کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ اور مولانا کوثر نیازی شامل تھے جبکہ مخالف جماعت پی این اے کی طرف سے مولانا مفتی محمود (قومی اتحاد کے سربراہ)، نوابزادہ نصراللہ خان اور پروفیسر غفور احمد شامل تھے۔
مذاکرات کے دوران پی این اے کی طرف سے پیش کردہ اہم شرائط یہ تھیں:
سات مارچ والے انتخابات کو کالعدم قرار دے کر نئے شفاف انتخابات کرائے جائیں۔
ایک آزاد اور بااختیار الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔
تحریک کے دوران گرفتار ہونے والے سیاسی کارکنوں کو آزاد کیا جائے۔
ملک کے بعض شہروں میامید ئے گئے جزوی مارشل لا اور دفاعی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔
مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔ ابتدائی طور پر بھٹو صاحب صرف صوبائی انتخابات دوبارہ کرانے پر راضی تھے، لیکن اپوزیشن کے سخت موقف کے بعد وہ قومی اسمبلی کے دوبارہ انتخابات پر بھی راضی ہو گئے۔ جون مہینے کے آخر تک دونوں جماعتیں تقریباً ایک معاہدے پر متفق ہو چکی تھیں۔
ایک ’سپر سپروائزری کونسل‘ کے قیام کا منصوبہ تھا جو نئے انتخابات کرائے اور اقتدار نئی منتخب حکومت کو سونپے۔ دو جولائی 1977 تک معاہدے کا مسودہ تیار ہو چکا تھا، لیکن پی این اے کے بعض رہنماؤں کی طرف سے مزید ضمانتیں مانگنے اور بھٹو صاحب کی طرف سے غور کرنے کے بعد جب دونوں جماعتوں کے درمیان آخری دستخطوں کی اpمید تھی، تو پانچ جولائی 1977 کی رات جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لا لگا کر حکومت کا تختہ الٹ دیا اور سب کچھ ختم ہو گیا۔

