16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان میں پاکستانی مسلح افواج کی ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے بھارتی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
بنگالیوں نے آزاد بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد مشتعل عوام نے غصے میں پاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خان کے پشاور والے گھر کو آگ لگا دی۔
ملک کی فوجی چھاؤنیوں میں نوجوان فوجی افسران اپنے سینئر جرنیلوں کو گالیاں دینے لگے۔ پنجاب کے ہر دوسرے گھر میں اپنے فوجی اہلکاروں کے جنگی قیدی بننے پر کہرام مچا ہوا تھا۔ ایسی صورتِ حال میں بالآخر 20 دسمبر 1971 کو شکست خوردہ جرنیلوں نے یحییٰ خان سے اقتدار چھین کر مجبوری میں ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ہی وقت میں پاکستان کے صدرِ مملکت، فوج کے کمانڈر اِن چیف اور پہلے سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔ اگرچہ انہیں اقتدار سونپ دیا گیا، مگر اعلیٰ فوجی افسران کے دلوں میں بھٹو کے خلاف غصہ باقی رہا۔
اقتدار سنبھالتے ہی ذوالفقار علی بھٹو نے لیفٹیننٹ جنرل عبدالحمید خان، لیفٹیننٹ جنرل ایس جی ایم ایم پیرزادہ، میجر جنرل غلام محمد، میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا، میجر جنرل خداداد خان، میجر جنرل حمید اصغر کیانی سمیت بری، بحری اور فضائی افواج کے کئی اعلیٰ افسران کو برطرف کر دیا۔
اس کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو آرمی چیف اور ایئر مارشل رحیم خان کو فضائیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
ان دنوں شیخ مجیب الرحمن میانوالی جیل میں قید تھے۔ انہیں 25 مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے آغاز پر ڈھاکہ سے گرفتار کر کے پاکستان لایا گیا تھا۔ ایک فوجی ٹربیونل نے انہیں پاکستان سے غداری کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔
جب مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈالے تو بعض جرنیل شیخ مجیب کو میانوالی جیل میں قتل کرنا چاہتے تھے، مگر ذوالفقار علی بھٹو کی مداخلت سے ایسا نہ ہو سکا، کیونکہ بھٹو جانتے تھے کہ اگر شیخ مجیب کے قتل کی خبر بنگالیوں تک پہنچی تو وہ مشرقی پاکستان میں قید پاکستانی فوجیوں کا قتلِ عام کر دیں گے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد دسمبر 1971 اور جنوری 1972 میں بھٹو نے شیخ مجیب سے ملاقاتیں کیں۔ وہ خود میانوالی جیل گئے۔ شیخ مجیب انہیں دیکھ کر حیران ہوئے اور پوچھا: “بھٹو، تم یہاں کیسے آ گئے ہو؟”
بھٹو نے جواب دیا کہ ملک کی سیاسی صورتحال بدل چکی ہے اور وہ پاکستان کے صدر بن چکے ہیں۔ انہوں نے شیخ مجیب کو مشرقی پاکستان کی صورتحال سے آگاہ کیا اور مثبت کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔
تین جنوری 1972 کو کراچی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھٹو نے اعلان کیا کہ وہ شیخ مجیب کو رہا کرنا چاہتے ہیں۔
بالآخر آٹھ جنوری 1972 کو رات تین بجے شیخ مجیب کو میانوالی جیل سے سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کیا گیا، جہاں بھٹو نے ان سے طویل ملاقات کی اور رہائی کی اطلاع دی۔ بعد ازاں انہیں راولپنڈی کے چکلالہ ایئر بیس سے خصوصی طیارے کے ذریعے لندن روانہ کیا گیا۔
لندن پہنچ کر شیخ مجیب نے پریس کانفرنس کی۔ پھر 10 جنوری 1972 کو وہ لندن سے دہلی کے راستے ڈھاکہ پہنچے، جہاں لاکھوں بنگالیوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ آخرکار 16 مارچ 1972 کو انہوں نے باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کر کے اقتدار سنبھالا۔
بھٹو کے اقتدار کو ابھی چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی پولیس نہ صرف ہڑتال پر چلی گئی بلکہ اس نے تھانوں، ہیڈکوارٹرز اور پولیس لائنز پر مسلح قبضہ بھی کر لیا۔ بھٹو حکومت نے فوج سے مدد مانگی، مگر آرمی چیف جنرل گل حسن اور ایئر چیف رحیم خان نے تعاون سے انکار کر دیا۔
بالآخر گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر نے ریڈیو پر آ کر ہڑتالی پولیس کو وارننگ دی کہ اگر 24 گھنٹوں میں ڈیوٹی پر واپس نہ آئے تو سخت کارروائی ہو گی۔ حکمتِ عملی کامیاب ہوئی اور پولیس واپس ڈیوٹی پر آ گئی۔
اس واقعے کے بعد بھٹو نے جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم خان کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا۔
2 مارچ 1972 کو ایک میٹنگ کے بہانے دونوں فوجی سربراہوں کو بلایا گیا اور زبردستی استعفے لیے گئے۔ بعد میں جنرل ٹکا خان کو آرمی چیف مقرر کیا گیا اور گل حسن و رحیم خان کو یورپی ممالک میں سفیر بنا کر ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔
اس وقت بھٹو کے سامنے ایک شکست خوردہ ملک تھا، ہزاروں جنگی قیدی بھارت میں تھے اور ہزاروں مربع میل علاقہ دشمن کے قبضے میں تھا۔
بھٹو نے بھارت سے مذاکرات کا فیصلہ کیا اور جون 1972ء میں شملہ گئے۔ روانگی سے پہلے انہوں نے کہا: “میں کوئی ایسا سودا نہیں کروں گا جس سے پاکستان کی عزت مجروح ہو۔”
شملہ معاہدہ دو جولائی197
ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان بھارت کے شہر شملہ میں دوطرفہ مذاکرات ہوئی اور آخری رات تنہائی میں ملاقات کے بعد ’شملہ معاہدہ‘ طے پایا۔
اہم نکات:
1.تمام تنازعات دوطرفہ بات چیت سے حل ہوں گے
2.لائن آف کنٹرول کا قیام
3.طاقت کے استعمال سے گریز
4.بھارتی قبضے سے پاکستانی علاقے واپس
5.93 ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی
6.تقریباً 5 ہزار مربع میل زمین کی واپسی
بھٹو دور کی کامیابیاں
1971 کی جنگ کے نتیجے میں ملک کافی مشکلات کا شکار تھا، مگر اس کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی تعمیر نے کا آغاز کیا۔ ان کے دور میں پاکستان نے کئی کامیابیاں حاصل کیں:
•جنگی قیدیوں کی رہائی
•ایٹمی پروگرام کا آغاز
•اسلامی سربراہی کانفرنس
•عرب ممالک میں پاکستانیوں کے لیے روزگار
•پاکستان اسٹیل مل، پورٹ قاسم
•سندھ اور دیگر صوبوں کو وفاق میں نمائندگی
•تعلیمی و طبی اداروں کا قیام
•دیہی صحت مراکز اور سستی ادویات
غلط فیصلے
بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں کئی غلط فیصلے بھی کیے، جن کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں کمی بھی ہوئی اور سیاسی طور پر ان کو نقصان بھی ہوا۔ ان فیصلوں میں:
•نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی
•بلوچستان حکومت کی برطرفی اور فوجی آپریشن
•حیدرآباد ٹربیونل
•سندھ کے قوم پرست رہنماؤں کی گرفتاریاں
اختتامیہ
یہ ایک عجیب تاریخ ہے کہ جس بھٹو نے ہزاروں فوجی جنگی قیدی آزاد کرائے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، اسی کو فوجی آمریت نے اقتدار سے محروم کیا اور پھانسی دے دی۔ اور جس شیخ مجیب نے بنگلہ دیش بنایا، وہ بھی اپنے ہی فوجی افسران کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
یہ تاریخ کا وہ المیہ ہے جس نے برصغیر کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

