پاکستان میں سرکاری طور پر کھلی کچہری سے مراد وہ عوامی اجلاس ہوتا ہے جہاں حکومتی افسران براہ راست عام شہریوں کے مسائل سنتے ہیں اور موقع پر ہی ان کے حل کے احکامات جاری کرتے ہیں۔
کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنا، شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانا اور شفاف حکمرانی کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
تاریخی طور پر برصغیر میں کھلی کچہری کا تصور مغل دور سے ملتا ہے، جب بادشاہ یا حاکم عوام کے درمیان بیٹھ کر ان کے مسائل سنتا تھا۔ پاکستان میں بطور سرکاری نظام کھلی کچہریوں کا باقاعدہ آغاز مختلف ادوار میں ہوا، تاہم دو ہزار کی دہائی کے بعد ضلعی انتظامیہ کے نظام کے تحت انہیں زیادہ منظم شکل دی گئی۔
خصوصاً 2010 کے بعد صوبائی حکومتوں نے کھلی کچہریوں کو عوامی رابطے کا اہم ذریعہ بنایا۔ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں مختلف اوقات میں ضلعی اور تحصیل سطح پر کھلی کچہریوں کے انعقاد کو سرکاری پالیسی کا حصہ بنایا گیا۔
بعض ادوار میں وزرائے اعلیٰ اور وزرا بھی کھلی کچہریوں میں براہ راست شرکت کرتے رہے ہیں۔
کھلی کچہریوں کو عوامی سطح پر اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ یہاں شہریوں کو براہ راست بات کرنے کا موقع ملتا ہے، تاہم ناقدین کے مطابق ان کی کامیابی کا انحصار عمل درآمد پر ہوتا ہے، کیونکہ بعض اوقات مسائل سنے تو جاتے ہیں مگر حل نہیں ہو پاتے۔ اس کے باوجود کھلی کچہری کو پاکستان میں عوامی شکایات سننے کا ایک روایتی اور اہم سرکاری طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس افسران، بلدیاتی نمائندے اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران شریک ہوتے ہیں۔ شہری بغیر کسی رسمی درخواست کے اپنے مسائل پیش کرسکتے ہیں، جن میں زمین کے تنازعات، پولیس شکایات، بجلی، پانی، صحت، تعلیم اور سرکاری دفاتر سے متعلق امور شامل ہوتے ہیں۔
پاکستان میں وزیراعظم کی طرف سے عوام کے ساتھ کھلی کچہریوں کی روایت سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کی تھی۔ وہ اپنی کھلی کچہریوں میں وزیرِاعلیٰ سمیت تمام وزرا اور بیوروکریسی کے ساتھ آ کر بیٹھتے تھے، اور ہر ہاری، مزدور اور طالب علم کو کھل کر بات کرنے کی مکمل آزادی ہوتی تھی۔ نہ صرف بات کرنے کی اجازت ہوتی تھی بلکہ ذوالفقار علی بھٹو وہاں موجود وزیرِاعلیٰ ممتاز علی بھٹو اور غلام مصطفیٰ جتوئی جیسے بڑے وڈیروں اور جاگیرداروں سے کہتے تھے کہ اسٹیج پر آ کر ان فریاد کرنے والوں کو جواب دیں۔
کسی ننگے پاؤں غریب ہاری، مزدور یا طالب علم کی فریاد یا سخت سوال پر وزیرِاعلیٰ یا کوئی وزیر اسے ڈانٹ نہیں سکتا تھا۔ عام لوگ وزیروں کو پسینہ لا دیتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کھلی کچہریاں محض دکھاوا نہیں ہوتیں تھیں؛ وہیں موقع پر احکامات جاری ہوتے تھے اور ان پر عمل بھی ہوتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو خود ان معاملات کی فالو اپ بھی لیتے تھے۔
میرے اس کالم کو پڑھنے والے وہ بزرگ جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی کھلی کچہریاں دیکھی ہیں، اور وہ ہزاروں نوجوان جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے نوکری کی درخواست کی، اس بات کی تصدیق ضرور کریں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو نوجوانوں سے تعلیم کے بارے میں پوچھتے اور کہتے تھے:
‘بیٹا کسٹمز، ایف آئی اے، پورٹ قاسم، بینکوں اور دیگر وفاقی اداروں میں جاؤ۔’
کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان سٹیل مل، پورٹ قاسم، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، ایف آئی اے، نارکوٹکس کنٹرول فورس سمیت کئی نئے وفاقی ادارے قائم کیے۔ ان کی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ سندھ کے نوجوان ان اداروں میں بھرتی ہوں۔
میری یہ باتیں آج کے نوجوانوں کو شاید مذاق لگیں، لیکن جن لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی کھلی کچہریاں دیکھی ہیں وہ اس کی تصدیق کریں گے۔
المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ میں ایک نوجوان نے ذوالفقار علی بھٹو سے نوکری کی درخواست کی۔ بھٹو صاحب نے اس سے پوچھا: ‘کتنی تعلیم ہے؟’
نوجوان نے کہا: ‘سر، انٹر پاس ہوں۔’
بھٹو صاحب نے پوچھا: ‘درخواست لائے ہو؟’
کہا: ‘نہیں سر۔’
ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر وہ اپنے وقت کا ایک منفرد کردار بھی تھے۔ جب نوجوان نے کہا کہ درخواست نہیں لایا، تو وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا: ‘ہاتھ دو۔’
بھٹو صاحب نے نوجوان کے ہاتھ کی ہتھیلی پر قلم سے نیشنل بینک آف پاکستان کے سربراہ کے نام لکھا:
‘Do the needful’
اور دستخط کر دیے۔ کہا: ‘خیال رکھنا، یہ لکھائی ہاتھ سے مٹنی نہیں چاہیے۔ یہ ہاتھ کراچی لے جا کر نیشنل بینک کے سربراہ کو دکھانا۔’
وہ نوجوان اسی رات ٹرین میں بیٹھ کر کراچی پہنچا، نیشنل بینک کے سربراہ سے ملا۔ بینک کے سربراہ نے بھٹو صاحب کے دستخط پہچان لیے اور واقعی وہ نوجوان میرے بڑے بھائی شبیر حسین قادری کے ساتھ 1974 میں نیشنل بینک آف پاکستان میں بطور کلرک بھرتی ہو گیا۔
یہ روایت محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی برقرار رکھی۔
حال ہی میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے سندھ کے صوبائی وزرا کو ہدایت دی کہ مختلف اضلاع میں کھلی کچہریاں منعقد کریں اور عوام کے مسائل سن کر حل کریں۔ مگر اس ڈرامے کے تحت سندھ کے مختلف اضلاع میں کھلی کچہریاں نہیں بلکہ عوام کی کھلی بے عزتیاں کی گئیں۔ پہلے تو صرف مخصوص افراد کو بولنے کی اجازت تھی جو پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی تعریف کریں، اور اگر کسی نے حق، سچ یا تنقید کی کوشش کی تو غنڈوں کے ذریعے لوگوں کو زدوکوب اور بے عزت کیا گیا۔
مجھے آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کی قمبر شہر میں منعقدہ کھلی کچہری یاد ہے۔ 1974 میں میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول قمبر میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ ہمارے ڈرائنگ ماسٹر مرحوم مقبول احمد قادری محنتی مگر سخت استاد تھے۔ انہوں نے اپنے پیریڈ میں تمام طلبہ کے لیے جیومیٹری باکس لازمی قرار دیا۔ میں اور کچھ دوسرے طلبہ یہ نہ لا سکے۔
ایک دن غصے میں آ کر استاد نے ہمیں پورا پیریڈ بینچوں پر کھڑا رکھا اور وارننگ دی کہ آئندہ جس کے پاس جیومیٹری باکس نہ ہوا اسے کلاس میں مرغہ بنایا جائے گا۔
اتفاق سے اگلے دن وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو جناح باغ قمبر میں کھلی کچہری کے لیے آ رہے تھے۔ ہمیں اسکول کی طرف سے پاکستانی جھنڈے دے کر ان کے راستے میں کھڑا کیا گیا۔ بھٹو صاحب آئے، ہم نے تالیاں بجائیں۔
کچہری میں اعلان ہوا کہ جسے بھی کوئی مسئلہ ہو، قطار میں آ کر وزیرِاعظم کے سامنے پیش کرے۔ مجھے استاد کی سزا یاد آئی اور میں بھی قطار میں جا کھڑا ہوا۔
جب میری باری آئی تو اُس وقت کے ایس پی لاڑکانہ محمد پنجل جونیجو نے مجھے قطار سے ہٹا دیا۔ میں نے مزاحمت کی۔ یہ منظر بھٹو صاحب نے دیکھ لیا اور اشارے سے کہا: ‘بچے کو چھوڑ دو۔’
میں اسٹیج پر گیا، بھٹو صاحب نے نام پوچھا۔ میں نے کہا:
‘ذوالفقار علی۔
انہوں نے پیار سے گلے لگایا اور کہا: ‘میرا ہم نام بھائی ہے۔ کیا چاہیے؟’
میں نے کہا: ‘سر، جیومیٹری باکس اور آپ کا آٹوگراف۔’
بھٹو صاحب نے فوراً ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ خالد احمد خان کھرل کو حکم دیا کہ بچے کو اس کی جماعت کی تمام کتابیں، کاپیاں اور جیومیٹری باکس فراہم کیے جائیں۔ پھر وزیر صحت عبدالوحید کٹپر سے کہا کہ اس بچے کو میری ذاتی ذوالفقار علی بھٹو چیریٹیبل ٹرسٹ سے ماہانہ اسکالرشپ دی جائے۔
یہ اسکالرشپ نومبر 1974 سے نومبر 1976 تک مجھے ملتی رہی۔
دسمبر 1976 میں، لاڑکانہ کے رائل سنیما میں فلم لگی ہوئی تھی۔ ہم دوست لاڑکانہ آئے اور المرتضیٰ ہاؤس پہنچ گئے۔ وہاں بھٹو صاحب موجود تھے۔ انہوں نے مجھے فوراً پہچان لیا اور کہا: ‘تم وہی قمبر والے لڑکے ہو نہ؟’
ان کی ایسی غیر معمولی یادداشت نے مجھے حیران کر دیا۔
انہوں نے پوچھا: ‘پڑھتے ہو یا آوارہ پھرتے ہو؟’
میں نے بتایا کہ اچھے نمبروں سے پاس ہوا ہوں۔
پوچھا: ‘اسکالرشپ مل رہی ہے؟’
میں نے کہا: ‘دو سال تک ملی، اب بند ہو گئی ہے۔’
فوراً حکم دیا کہ اسکالرشپ بحال کی جائے۔ یہ جولائی 1977 تک ملتی رہی، پھر مارشل لا کے بعد ٹرسٹ کے اکاؤنٹس سیل ہو گئے۔
میں نے ذوالفقار علی بھٹو جیسی یادداشت والا انسان نہیں دیکھا۔ اتنے بڑے عالمی رہنما ہونے کے باوجود، ہزاروں لوگوں سے ملنے کے بعد بھی انہوں نے مجھے پہچان لیا۔ یہ صلاحیت قدرت کی عطا ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتی۔

