ذوالفقار علی بھٹو اور جمعو فقیر کی دوستی کا قصہ

ذوالفقار علی بھٹو

لاڑکانہ کے بزرگوں سے آج بھی ذوالفقار علی بھٹو اور جمعو فقیر کی دوستی کے قصے نہیں بھولے۔ جمعو فقیر وہ واحد آدمی تھا جو نہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا تھا بلکہ وہ فقیرانہ باتوں میں بھٹو کو منہ پر کڑوی باتیں بھی کہہ دیتا تھا۔

جمعو فقیر ذات کا سومرو تھا اور قمبر تعلقہ کے گاؤں کور سلیمان کا رہنے والا تھا۔ کچھ عرصہ گاؤں ڈتل ابڑو میں بھی رہا۔ قمبر کے مرکزی سڑک پر پٹھان والی مسجد کے پاس نائی کا کام بھی کیا۔ ہمارا گھر قمبر شہر میں پٹھان مسجد کے قریب ہوتا تھا۔

میرے والد اکثر پٹھان مسجد کے پاس نائی یوسف منگی کی دکان پر بیٹھتے تھے۔ میں نے بچپن میں جمع فقیر کو پہلی دفعہ وہیں دیکھا تھا۔ اس کے ساتھ میں نے بچپن میں قرآن شریف کا درس بھی پٹھان مسجد کے پیش امام سے حاصل کیا۔

تو ذکر ہو رہا تھا جمعوفقیر کا۔ جمعو فقیر قمبر چھوڑ کر لاڑکانہ منتقل ہو گیا اور فقیرانہ رنگ میں چل پڑا۔ گداگری کر کے گزارہ کرتا تھا۔ اکثر لاڑکانہ کی سڑکوں اور راستوں پر اپنے گدھے پر نظر آتا تھا۔

جمعوفقیر کی زندگی کا یہ معمول بن گیا تھا کہ وہ روزانہ اپنے گدھے پر لاڑکانہ کی گوشت مارکیٹ جاتا، پوری مارکیٹ کے ذبح شدہ جانوروں کے گوشت کے ٹکڑے اکٹھے کرتا اور انہیں اپنے گدھے کی گودڑیوں میں بھرتا، پھر وہ ٹکڑے لاڑکانہ کے آوارہ کتوں کو کھلاتا تھا۔ لاڑکانہ کے آوارہ اور لاوارث کتے بھی اس کے ایسے عادی ہو گئے تھے کہ جدھر جمعو فقیر جاتا ادھر کتوں کا ہجوم اس کے پیچھے چلتا تھا۔ خون اور گوشت کے ٹکڑوں کی وجہ سے فقیر سے گوشت اور خون کی بو آتی رہتی تھی۔ شاذ و نادر ہی کوئی فقیر نہاتا ہوگا۔

ان دنوں ہم کچھ کمیونسٹ قسم کے دوست لاڑکانہ کی مچھلی گوشت مارکیٹ والے مئے خانے پر جا کر بیٹھتے تھے۔ تو ایک دن میں نے جا کر جمعوفقیر کو چائے کا کپ دیا۔ اس نے کہا: ‘بیٹے کس خوشی میں چائے دے رہے ہو؟’

میں نے کہا: ‘فقیر، امام کی سبیل ہے’

تو جمعوفقیر نے چائے کا کپ لیتے ہوئے کہا: ‘ابا اماموں سے پھر کیا حساب کتاب؟’

وہ اپنی دھن میں مگن تھا۔ اس فقیر کی باتیں فقیرانہ رنگ میں رنگی ہوئی ہوتی تھیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اس کا دوستی کا تعلق بھی اتفاقی اور حادثاتی طور پر بنا۔ جمعو فقیر خود بھٹو صاحب کے پاس نہیں گیا تھا بلکہ بھٹو صاحب ابھی وزیر اعظم نہیں بنے تھے کہ کسی نے انہیں بتایا کہ شہر میں گدھے پر گھومنے والا ایک فقیر ہے جس کی باتیں نہ صرف سننے کے قابل ہیں بلکہ سبق آموز بھی ہیں۔

تو بھٹو صاحب نے کہا اسے المرتضیٰ ہاؤس لے آؤ۔ جب لوگوں نے جا کر جمعوفقیر سے کہا کہ تمہیں بھٹو صاحب نے بلایا ہے تو فقیر ناراض ہو گیا اور جواب دیا: ‘میں کیا بھٹو کا نوکر ہوں؟’ اور کہہ دیا کہ میں نہیں آؤں گا۔

لوگوں نے جا کر بھٹو صاحب کو بتایا کہ جمعوفقیر نے آنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ سن کر بھٹو صاحب خود گاڑی میں بیٹھ کر جمعوفقیر سے ملنے نکلے۔ اس وقت جمعو فقیر لاڑکانہ کی کینیڈی مارکیٹ کے پاس پیپل کے درخت کے نیچے اپنے گدھے کو گھاس کھلا رہا تھا۔

بھٹو صاحب کو دیکھ کر جمعوفقیر نے کہا: ‘بھٹو صاحب کیسے بھٹک کر آ گئے ہو؟’

بھٹو صاحب نے جواب دیا: ‘فقیر حاضری بھرنے آیا ہوں’

فقیر نے کہا: ‘ابا میں کون سا ماسٹر ہوں جو حاضری بھرنے آئے ہو؟’

بھٹو صاحب نے کہا: ‘چلو دوستی کرتے ہیں’

فقیر نے کہا: ‘دوستی کرنا آسان ہے، نبھانا مشکل ہے’

بھٹو نے کہا: ‘کر کے دیکھ لو، پھر تم مالک ہو’

تو درخت کے نیچے گدھے سمیت بیٹھے جمعوفقیر نے کہا: ‘بھٹو صاحب تم میرے ڈیرے پر آ گئے ہو، تمہیں واپس نہیں کرتا’

اس طرح لاڑکانہ کی سڑکوں پر گداگری کرنے والے جمعوفقیر اور بھٹو صاحب کے درمیان دوستی قائم ہو گئی۔

جمعوفقیر کی باتوں میں ہنسی مذاق کے ساتھ سبق آموز باتیں بھی ہوتی تھیں۔ ایک دفعہ اس نے ایک بلوچ سے خیرات مانگی، اس نے پانچ روپے دیے۔ تو فقیر نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: ‘اللہ سائیں، بلوچ بھی تم سے ڈرتے ہیں’

ایک دفعہ ڈگری کالج کے طلبہ نے اس سے کہا: ‘جمعہ اپنی بیوی کا نام بتاؤ’

فقیر نے کہا: ‘ابا وضو نہیں ہے’

طلبہ نے کہا: ‘بیوی کے نام کا وضو سے کیا تعلق؟’

فقیر نے جواب دیا: ‘ابا بیویاں پاک ہوتی ہیں، پاک لوگوں کے نام بغیر وضو نہیں لیتے’

جب بھٹو صاحب وزیر اعظم بن گئے تو ایک بار جمعوفقیر سے ملے اور کہا: ‘دعا کرو’

فقیر نے کہا: ‘لگتا ہے تم وزیر اعظم بن کر خوش نہیں ہو، آؤ ایک کام کرتے ہیں، تم میرا گدھا سنبھالو اور جمعو بن جاؤ، میں بھٹو بن جاتا ہوں’

بھٹو صاحب نے کہا: ‘منظور ہے، مجھے اپنا گدھا دو’

فقیر نے کہا: ‘نہیں ابا، میں اپنا گدھا نہیں دوں گا، تمہارے پاس پہلے ہی بہت گدھے ہیں، پہلے انہیں سنبھالو’

یہ سن کر بھٹو صاحب ہنس پڑے اور وزیروں کے چہرے اتر گئے۔

بھٹو صاحب وزیر اعظم بننے کے بعد جب بھی لاڑکانہ آتے، کوشش کرتے کہ جمعوفقیر سے کچھ وقت ضرور بیٹھیں۔

جمعوفقیر کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا۔ کبھی لاہوری محلہ، کبھی کہیں اور۔ آخری دنوں میں اس کا ٹھکانہ قبرستان کی ایک جھونپڑی تھی۔

ایک بار بھٹو صاحب نے کہا: ‘میں تمہیں گھر بنا دیتا ہوں’

فقیر ناراض ہو گیا اور کہا: ‘دوبارہ کہا تو دوستی ختم’

ایک بار بھٹو صاحب موئن جو دڑو ایئرپورٹ پر اترے اور کہا کہ جمع فقیر سے ملنا ہے۔ آخرکار وہ باقرانی روڈ پر مل گیا۔ بھٹو نے اسے رات کے کھانے کی دعوت دی۔

فقیر نے شرط رکھی:

‘ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا’

پھر کہا: ‘میرا گدھا بھی ساتھ آئے گا’

بھٹو صاحب نے دونوں شرطیں مان لیں۔

آخرکار جمعوفقیر اپنے گدھے سمیت المرتضیٰ ہاؤس پہنچا۔ اس نے خود بھی کھانا کھایا اور اپنے گدھے کو بھی خوب چارہ کھلایا۔

لاڑکانہ کے اس اللہ والے فقیر کا انتقال 1990 میں ہوا

اسی بارے میں: