گمشدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تلاش

پیپلز پارٹی

30 نومبر 1967 کو ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی کے قیام کو تقریبا 58 برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر یہ پیپلز پارٹی اب ماضی والی پارٹی باقی نہیں رہی جس میں عوام اور کارکنوں کی آواز سنی جاتی تھی۔

اگست 1988 میں جنرل ضیا الحق کی حادثاتی موت کے بعد، جب پاکستان کی ملٹری سول اسٹیبلشمنٹ نے عام انتخابات کا اعلان کیا، تو یہ انتخابات ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پہلے عام انتخابات تھے۔

ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں میدان میں اتری۔ پارٹی ٹکٹوں کے فیصلے خود محترمہ بینظیر بھٹو کر رہی تھیں۔ان دنوں چانڈیا قبیلے کے سردار، نواب احمد سلطان چانڈیو، نگران وزیراعلیٰ قاضی اختر کی کابینہ میں نگران صوبائی وزیر خوراک تھے اور قومی اسمبلی کے حلقہ قمبر۔وارہ سے انتخاب بھی لڑ رہے تھے۔ ان کے صاحبزادے سردار شبیر احمد چانڈیو، پیپلز پارٹی ضلع لاڑکانہ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ سردار شبیر احمد چانڈیو نے قمبر کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے لیے پارٹی ٹکٹ کی درخواست دی تھی۔

محترمہ بینظیر بھٹو کی کوشش تھی کہ نواب احمد سلطان چانڈیو نگران وزارت سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں، تاکہ قومی اسمبلی کی نشست نواب احمد سلطان چانڈیو اور صوبائی اسمبلی کی نشست ان کے صاحبزادے سردار شبیر احمد چانڈیو کو دی جا سکے۔ مگر نواب احمد سلطان چانڈیو نے نگران کابینہ سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے بجائے، اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔
اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 165 (قمبر۔وارہ) سے پیپلز پارٹی کا امیدوار کون ہوگا؟ اس وقت قمبر شہدادکوٹ ضلع نہیں بنا تھا اور پورا علاقہ ضلع لاڑکانہ میں شامل تھا۔ ضلع لاڑکانہ میں قومی اسمبلی کی تین نشستیں تھیں:
این اے 164 لاڑکانہ-ون (لاڑکانہ، باقرانی، ڈوکری، باڈہ)
این اے 165 لاڑکانہ- ٹو (قمبر اور وارہ تعلقہ)
این اے 166 لاڑکانہ- تھری (شہدادکوٹ، قبو سعید خان، سجاول، میروخان، رتوڈیرو، نئون دیرو)
این اے 164 سے بیگم نصرت بھٹو نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، جبکہ ان کے مقابلے میں ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو تھیں۔
این اے 166 سے محترمہ بینظیر بھٹو امیدوار تھیں اور ان کے مقابلے میں مولانا علی محمد حقانی (شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے والد) میدان میں تھے۔
این اے 165 کے لیے نواب احمد سلطان چانڈیو کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کی جانب سے بیگم اشرف عباسی کو امیدوار نامزد کیا گیا۔ بیگم اشرف عباسی نے کہا کہ یہ حلقہ نوابوں کے مقابلے کی وجہ سے مشکل ضرور ہے، مگر وہ مقابلہ کریں گی، بشرطیکہ ان کے بیٹے حاجی منور علی عباسی کو بھی پارٹی ٹکٹ دیا جائے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے یہ شرط قبول کر لی۔

یوں این اے 165 سے پیپلز پارٹی کی امیدوار بیگم اشرف عباسی، صوبائی نشست قمبر سے غلام مجتبیٰ اسران، اور وارہ سے نثار احمد کھوڑو کو ٹکٹ دیا گیا۔
یہ الیکشن پاکستان بھر میں مشہور ہوا، جہاں ایک طرف روایتی قبائلی نواب احمد سلطان چانڈیو تھے اور دوسری طرف ایک تعلیم یافتہ خاتون ڈاکٹر بیگم اشرف عباسی۔ ہم کارکنوں کو اس انتخابی مہم کے دوران دباؤ، دھمکیوں اور جھگڑوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
نتائج کے مطابق:
بیگم اشرف عباسی: 63,011 ووٹ
نواب احمد سلطان چانڈیو: 15,941 ووٹ

نواب احمد سلطان چانڈیو کی شکست کے بعد سردار شبیر احمد چانڈیو نے دستبرداری کا اعلان کیا، مگر پولنگ شیڈول کے مطابق جاری رہی۔

صوبائی نشست کے نتائج:
غلام مجتبیٰ اسران: 36,128 ووٹ
مولوی محمد صدیق (جے یو آئی): 1,128 ووٹ
سردار شبیر احمد چانڈیو: صرف 341 ووٹ

دیگر حلقوں کے نتائج:
این اے 164:
بیگم نصرت بھٹو 83,449 ووٹ لے کر کامیاب
ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو 4,524 ووٹ لے کر ناکام
این اے 166:
محترمہ بینظیر بھٹو 82,229 ووٹ لے کر کامیاب
مولانا علی محمد حقانی 1,979 ووٹ
اٹھارہ ماہ بعد، اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی اور دوبارہ انتخابات کا اعلان ہوا۔ اس موقع پر سردار شبیر احمد چانڈیو نے دوبارہ پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دی۔ ہم کارکنوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے سامنے واضح کیا کہ 1988 میں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس لیے دل آمادہ نہیں، مگر فیصلہ آپ کا ہے۔

محترمہ بینظیر بھٹو نے کارکنوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے سردار شبیر احمد چانڈیو کو ہدایت کی کہ پہلے ناراض کارکنوں کو منائیں۔ بعد ازاں قمبر میں ایک غریب کارکن کی جھونپڑی میں ملاقات ہوئی، جہاں سردار شبیر احمد چانڈیو نے ماضی کی تلخیوں پر معذرت کی اور کارکنوں کو منایا۔
کارکنوں کی رضامندی کے بعد 1990 کے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ دیا گیا، جس میں انہوں نے ممتاز علی بھٹو کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی:
سردار شبیر احمد چانڈیو: 59,464 ووٹ
ممتاز علی بھٹو: 16,198 ووٹ

1993 میں ایک بار پھر انتخابات ہوئے، اس بار باپ اور بیٹے آمنے سامنے تھے۔ نتیجہ یہ رہا:
سردار شبیر احمد چانڈیو: 48,669 ووٹ
نواب احمد سلطان چانڈیو: 24,727 ووٹ

یہ واضح کرتا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نہ صرف پارٹی کارکنوں کو عزت دیتی تھیں بلکہ جاگیرداروں اور بااثر طبقات کے سامنے ان کی اہمیت بھی منواتی تھیں۔
آج کا کارکن بس یہی دعا کرتا ہے کہ حلقے کا بااثر فرد اس سے راضی ہو جائے، ورنہ اس کی حالت بالکل اس کہاوت جیسی ہے: ‘نہ میکے کی رہی، نہ سسرال کی۔