Tag: بینظیر بھٹو

  • 18 اکتوبر، کارساز دھماکہ: کچھ منظر، کچھ یادیں

    18 اکتوبر، کارساز دھماکہ: کچھ منظر، کچھ یادیں

    بے نظیر بھٹو کا قافلہ چیونٹی کی رفتار سے کراچی ایئرپورٹ کے حج ٹرمینل سے اسٹار گیٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میں بھی صحافی ساتھیوں کے ساتھ ایک گاڑی پر سوار، بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے پیچھے پیچھے تھا۔

    بے نظیر بھٹو جس کنٹینر ٹرک میں سوار تھیں، وہ اسٹار گیٹ سے مڑتے ہوئے شارع فیصل کی طرف رخ کر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ کنٹینر کی چھت پر بنے ایک پلیٹ فارم پر کوئی صاحب نماز پڑھ رہے ہیں۔ غالباً مغرب کی نماز تھی۔ غور کرنے پر اندازہ ہوا کہ وہ اس وقت کے پیپلز پارٹی کے رہنما میاں مٹھو ہیں۔

    قافلہ شارع فیصل پر آگے بڑھ رہا تھا۔ رفتار شاید چیونٹی سے بھی سست ہو کر کچھوے یا گھونگھے تک پہنچ گئی تھی۔ اردگرد پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کا اژدھام تھا۔ بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کو جن جیالوں نے گھیر رکھا تھا، ان کے سروں پر پٹیاں تھیں۔ ان پٹیوں پر لکھا تھا ’جانثاران بے نظیر‘۔

    اب میں بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے عین پیچھے موجود ایک ٹرک کی ڈرائیور سائیڈ والی چھت پر کھڑا تھا۔ میرے ساتھ اس وقت خیبر ٹی وی پشتو کے بیورو چیف رحمان بونیری اور آج ٹی وی کے کیمرہ مین شہادت بلوچ بھی تھے۔

    میں نے دائیں طرف دیکھا تو ایک کھلے کنٹینر ٹرک پر نوائے وقت کے چیف رپورٹر یوسف خان اور ایک اور سینئر صحافی جاوید چوہدری بھی نظر آئے۔ یوسف بھائی کو دیکھ کر خیال آیا کہ ماشاء اللہ، اس عمر میں بھی کیسے تروتازہ ہیں، چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہیں۔ 

    انہیں دیکھ کر اپنی تھکن بھی کچھ کم ہوئی یا کم از کم شرمندگی ہوگئی کہ یوسف بھائی ڈٹے ہوئے ہیں تو ہم تو جوان جہان ہیں۔

    کام کی سختی یا تھکن کی شکایت بڑی بدنصیبی کی بات ہوتی، کیونکہ یہ کتنا بڑا موقع تھا۔ ملک میں پھر جمہوریت آ رہی تھی۔ ایک اتنی بڑی رہنما کا ایسا تاریخی استقبال ہو رہا تھا اور ہم اس تاریخی استقبال کے گواہ تھے۔ ہم اپنے سامنے تاریخ بنتے دیکھ رہے تھے۔

    ہمارا ٹرک بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے بالکل پیچھے پیچھے تھا۔ اچانک میری نظر پڑی کہ کنٹینر دائیں جانب جھک رہا ہے۔ پتا نہیں یہ نظر کا دھوکا تھا یا واقعی ایسا ہو رہا تھا۔ میری انگلیاں مسلسل اپنے موبائل فون پر تھیں اور میں کھٹ کھٹ ٹکر ٹائپ کرکے اپنے چینل کو بھیج رہا تھا۔

    لیکن یہ ٹکر نہیں بھیجا۔ کچھ دیر بعد مجھے لگا کہ کنٹینر سیدھا ہوگیا ہے۔ میری جان میں جان آئی۔

    اب تاریکی کافی بڑھ چکی تھی۔ میں حیران تھا کہ آج شارع فیصل کی تمام اسٹریٹ لائٹس کیوں بند ہیں۔ عام طور پر تو یہ سڑک بقعہ نور بنی ہوئی ہوتی ہے۔ ہمارے ٹرک کے ساتھ ساتھ لیاری کے جیالوں کا بھی ایک ٹرک تھا، جس پر بلوچی گانے بلند آواز میں چل رہے تھے۔

    رحمان بونیری کو اپنے چینل کے لیے بیپر دینا تھا۔ گانوں کی وجہ سے اس کی آواز ٹھیک سے نہیں جا پا رہی تھی۔ چینل سے بار بار فون آ رہا تھا کہ کسی مناسب جگہ سے بیپر دو، لیکن اس وقت یہ ممکن نہیں تھا۔

    رحمان نے ذرا چیخ کر لیاری کے جیالوں سے کہا کہ آواز کم کر لیں۔ اس کے جواب میں دوسری طرف سے کوئی سخت جملہ آیا، شاید کسی نے گالی بھی دی۔ اس پر تو رحمان کا بھی میٹر آؤٹ ہوگیا۔ دونوں طرف سے چیخ پکار اور گالم گلوچ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

    ہم نے بڑی مشکل سے رحمان کو خاموش کرایا۔ تب تک اس کا موڈ بالکل آف ہو چکا تھا۔ ہم بھی کھڑے کھڑے کافی تھک گئے تھے۔ جلوس کی سست روی سے اندازہ ہوگیا تھا کہ صبح سے پہلے مزار قائد پر نہیں پہنچیں گے۔ تب ہی کوئی خبر بنے گی اور شاید تب ہی مزید کوئی بیپر ہو سکے گا۔ ہم تینوں نے فیصلہ کیا کہ ٹرک سے اتر کر کسی بس میں بیٹھ جاتے ہیں، کچھ دیر آرام کرکے تازہ دم ہو جائیں گے۔

    میں، رحمان اور شہادت اپنے ٹرک کے پیچھے قافلے میں شامل بسوں میں جھانک رہے تھے۔ ایک بس کچھ خالی نظر آئی۔ اندر لیاری کی کچھ بزرگ جیالیاں تھیں۔ ہم نے تعارف کروا کر اجازت مانگی کہ ’کیا ہم کچھ دیر بس میں بیٹھ سکتے ہیں؟‘ خالہ نے بخوشی اجازت دی، ’ہاں ہاں بیٹا، آ جاؤ، بیٹ  (بیٹھ) جاؤ۔‘

    ہم تینوں بس کی بالکل آخری نشستوں پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر تو باتیں کرتے رہے، لیکن جانے کب آنکھ لگ گئی۔

    اچانک دھماکے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ بس کے دروازے سے آواز آئی، ’تابان، رحمان کو جگاؤ، جلدی! دھماکہ ہوگیا ہے۔‘ میں اور رحمان گولی کی رفتار سے بس کے دروازے کی طرف بڑھے تو خواتین رو اور چلا رہی تھیں۔ اچانک بلوچی لہجے میں ایک مرد نے انہیں تسلی دی، ’کچھ نئیں ہوا، فکر نئیں کرو، پی ایم ٹی پھٹا ہے۔‘

    میں نے بھی باہر نکل کر دیکھا تو واقعی بے نظیر کے کنٹینر کے قریب ایک پی ایم ٹی جل رہا تھا۔ ہم صحافی کنٹینر کی طرف بڑھنے لگے تو اے آر وائی نیوز کے کیمرہ مین عارف نے کہا، ’یار، میں ذرا پولیس موبائل سے فوٹیج بناتا ہوں۔‘

    وہ موبائل بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے بالکل ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ اس وقت بے نظیر کا کنٹینر اور وہ موبائل، دونوں رکے ہوئے تھے۔ عارف بھاگتا ہوا پولیس موبائل کی طرف گیا۔

    شاید وہ موبائل پر سوار ہوگیا تھا یا اس کے انتہائی قریب تھا کہ ایک اور زور دار دھماکہ ہوا۔ عارف اور بہت سے دوسرے لوگوں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ میرا موبائل بھی ہاتھ سے چھوٹ کر کہیں دور جا گرا۔ میں سناٹے میں آگیا۔

     کچھ دیر کے لیے میرے حواس گم ہوگئے۔ جب کچھ حواس بحال ہوئے تو میں نے اپنے اردگرد کٹے ہوئے بازو، ٹانگیں اور گردنیں دیکھیں۔

    ذہنی طور پر میں تقریباً سن ہو چکا تھا۔ بے بسی اور خالی الدماغی کے عالم میں تڑپتے ہوئے زخمیوں اور کٹی پھٹی لاشوں کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ مجھے پتا بھی نہیں تھا کہ میں آگے کیوں جا رہا ہوں، مجھے کرنا کیا ہے۔ 

    اسی وقت مجھے ایک اور ساتھی رپورٹر سبین آغا نظر آئیں، جو شاید ہم مرد رپورٹروں کے مقابلے میں زیادہ مضبوطی سے کھڑی ہوئی تھیں اور ہماری خیریت دریافت کر رہی تھیں۔

    میرا موبائل کہیں گر کر ٹوٹ چکا تھا۔ میں دفتر یا گھر، کسی کو خبر نہیں کر سکتا تھا۔ اچانک مجھے کیمرہ مین دانش شکیل نظر آیا۔ وہ تیزی سے میری طرف بڑھا۔ اس نے کہا، ’مجھے ابھی چینل سے فون آیا ہے کہ تمہیں ڈھونڈوں۔ تمہاری کوئی خیر خبر نہیں مل رہی تھی۔ تمہارا فون کہاں ہے؟‘ میں نے بس ہوں ہاں میں اسے جواب دیا۔

    دانش نے کہا، ’وہاں دفتر کی گاڑی کھڑی ہے، تم فوراً نکل جاؤ۔‘ پتا نہیں رات کے کتنے بجے تھے۔ میں دفتر کی گاڑی میں بیٹھ کر گھر پہنچ گیا۔

    میرے پہنچنے پر گھر والوں کی جان میں جان آئی، لیکن میں انہیں کچھ بھی نہ بتا سکا۔ کچھ بھی نہیں۔ اب یاد نہیں کہ میں سو گیا تھا یا یونہی خالی الدماغی کے عالم میں صبح تک جاگتا رہا۔ دماغ بالکل ماؤف تھا۔ صبح اٹھ کر کچھ کچھ حواس بحال ہوئے تو گھر والوں کو ساری روداد سنائی۔

    مجھے شاید اگلے دن ہی پوری طرح سمجھ میں آیا کہ وہ خودکش حملے تھے۔ بے نظیر بھٹو کی جان تو بچ گئی، لیکن کتنے ہی جانثاروں نے ان پر اپنی جان نثار کر دی۔

    میرے دل میں اس دن بے نظیر کی عزت اور بڑھ گئی، جب مجھے معلوم ہوا کہ قاتلانہ حملے کے اگلے روز ہی وہ لیاری پہنچ گئی تھیں۔ انہوں نے جاں بحق کارکنوں کے روتے تڑپتے لواحقین کو گلے لگا کر دلاسہ دیا۔ بے نظیر بہت بہادر تھیں، بہت حساس تھیں، لیکن قاتلوں نے ان کی جان لینے کا فیصلہ کر رکھا تھا، جس پر عمل کرکے ہی دم لیا۔

  • شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کراچی: شدید زخمی مریضوں کے لیے جدید طبی مرکز

    شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کراچی: شدید زخمی مریضوں کے لیے جدید طبی مرکز

    شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کراچی میں شدید زخمی اور ہنگامی نوعیت کے مریضوں کے فوری علاج کے لیے ایک اہم طبی مرکز ہے۔ یہ ادارہ سندھ حکومت کے تحت کام کرتا ہے اور چوبیس گھنٹے ٹراما اور ایمرجنسی کیئر کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ کراچی کا یہ مرکز چند بی بی روڈ پر واقع ہے۔

    یہ ادارہ بنیادی طور پر ایسے مریضوں کے لیے قائم کیا گیا ہے جنہیں حادثات، شدید چوٹوں یا دیگر ہنگامی طبی حالات میں فوری اور خصوصی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں ایمرجنسی، سرجری، انتہائی نگہداشت، تشخیصی خدمات اور بحالی سمیت مختلف طبی سہولیات ایک ہی نظام کے تحت فراہم کی جاتی ہیں۔

    شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں 116 بستروں کی گنجائش ہے۔ ٹراما مریضوں کے لیے 10 وینٹی لیٹرز مختص ہیں، جبکہ ایمرجنسی میں تین مرکزی ٹراما رومز، 16 بستروں کا کریٹیکل کیئر بے اور 18 بستروں کا اسٹیبل مریض بے موجود ہے۔ اس کے علاوہ سرجیکل اسیسمنٹ یونٹ اور معمولی زخموں کے علاج کے لیے کمرہ بھی موجود ہے۔

    فوری تشخیص کے لیے ایمرجنسی میں الٹراساؤنڈ، ایکو، سی ٹی اسکین اور ایکسرے سمیت مختلف سہولیات موجود ہیں۔ ریڈیالوجی، لیبارٹری اور فارمیسی کی خدمات بھی چوبیس گھنٹے فراہم کی جاتی ہیں۔

    ادارے کا آپریشن تھیٹر کمپلیکس بھی اہم سہولت ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق یہاں 15 فعال آپریشن تھیٹرز، آٹھ بستروں پر مشتمل ہولڈنگ اور ریکوری ایریا اور چار بستروں کا کارڈیک آئی سی یو موجود ہے۔

    یہاں جنرل سرجری کے ساتھ نیورو سرجری، آرتھوپیڈک ٹراما، ویسکیولر سرجری، پلاسٹک سرجری، میکسیلوفیشل سرجری اور کارڈیو تھوریسک سرجری سمیت مختلف خصوصی شعبے کام کر رہے ہیں۔

    ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں سی ٹی اسکین، ٹیسلا ایم آر آئی، ڈیجیٹل پورٹیبل ایکسرے، سی آرم اور ڈیجیٹل الٹراساؤنڈ سمیت جدید تشخیصی سہولیات موجود ہیں، جبکہ انٹرونشنل ریڈیالوجی کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ ادارے کے مطابق ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں سالانہ ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ طبی طریقۂ کار انجام دیے جاتے ہیں۔

    شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما میں کارڈیک سرجری کی سہولت بھی موجود ہے۔ کارڈیک آپریشن تھیٹر میں کارڈیو پلمونری بائی پاس، ایکمو اور دیگر جدید طبی آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔

    ادارے کے بنیادی مقاصد میں شدید زخمی مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ ٹراما کے مریضوں کے لیے تشخیص، سرجری اور دیگر ضروری طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

    یہ مرکز صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ طبی تعلیم اور تربیت بھی اس کے کام کا حصہ ہے۔ ڈاکٹرز، میڈیکل طلبہ، رہائشی ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے لیے تربیتی سرگرمیاں بھی کی جاتی ہیں۔

    کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی ٹراما کیئر کا نیٹ ورک بڑھایا جا رہا ہے۔ لاڑکانہ کا ٹراما اینڈ ایمرجنسی رسپانس سینٹر 2023 میں فعال ہوا، جبکہ سکھر کا ٹراما سینٹر جولائی 2026 میں فعال کیا گیا۔

    یوں شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کراچی میں شدید زخمی اور ہنگامی مریضوں کے لیے فوری تشخیص، ایمرجنسی علاج، سرجری، انتہائی نگہداشت اور دیگر طبی سہولیات فراہم کرنے والا مخصوص مرکز ہے، جبکہ سندھ میں ٹراما کیئر کے نیٹ ورک کو بھی مرحلہ وار وسعت دی جا رہی ہے۔

  • ‘شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ’، تھر میں میٹھا پانی پہنچانے والے سندھ حکومت کا منصوبہ

    ‘شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ’، تھر میں میٹھا پانی پہنچانے والے سندھ حکومت کا منصوبہ

    تھر میں پانی کی قلت صدیوں سے مقامی آبادی کی زندگی کا ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ زیر زمین پانی کئی علاقوں میں کھارا ہے، جبکہ دور دراز آبادیوں تک میٹھا پانی پہنچانا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر حکومت سندھ نے ‘شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ فار تھر’ شروع کیا، جس کا مقصد عمرکوٹ سے تھرپارکر کے دور دراز علاقوں تک میٹھا پانی پہنچانا ہے۔

    یہ منصوبہ سندھ کے محکمہ آبپاشی کے تحت عمرکوٹ سے کیتاری، تعلقہ چھاچھرو تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے ذریعے عمرکوٹ اور تھرپارکر کے 70 بڑے دیہات تک پانی پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا، جہاں منصوبے کے وقت تقریباً دو لاکھ 31 ہزار افراد آباد تھے، جبکہ مستقبل میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام ڈیزائن کیا گیا۔

    یہ صرف پانی کی پائپ لائن کا منصوبہ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ پانی ذخیرہ کرنے اور آگے منتقل کرنے کا ایک مکمل نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔

    عمرکوٹ کے زیرو اسٹیشن پر 63 ملین گیلن گنجائش کا بڑا اوپن اسٹوریج ریزروائر قائم کیا گیا، جہاں سے پمپنگ سسٹم کے ذریعے پانی آگے منتقل کیا جاتا ہے۔ منصوبے میں ہنڈاکر کے مقام پر بوسٹر پمپنگ اسٹیشن بھی شامل ہے۔

    پانی کو مختلف آبادیوں کے قریب محفوظ رکھنے کے لیے منصوبے میں مجموعی طور پر 129 زیر زمین آر سی سی ٹینک بھی شامل ہیں، جن کی گنجائش مختلف مقامات کی ضروریات کے مطابق 20 ہزار سے 80 ہزار گیلن تک ہے۔ چھاچھرو شہر میں پانچ لاکھ 50 ہزار گیلن گنجائش کا ایک بڑا آر سی سی ٹینک بھی اس نظام کا حصہ ہے۔

    منصوبے کا ہدف 70 بڑے دیہات تک پانی پہنچانا ہے، جبکہ سندھ حکومت کے 2025-26 کے بجٹ میں بھی شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ فار تھر کے لیے رقم مختص کی گئی۔

    تھر جیسے خشک خطے میں میٹھے پانی کی دستیابی صرف پینے کے پانی کا معاملہ نہیں۔ اس کا تعلق روزمرہ زندگی، صحت اور دور دراز آبادیوں کی بنیادی ضروریات سے بھی ہے۔

    شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ اسی کوشش کا حصہ ہے کہ میٹھا پانی ان آبادیوں کے قریب پہنچایا جائے جہاں پانی تک رسائی ایک مستقل مسئلہ رہی ہے۔

  • 6 اگست 1990:جب صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت برطرف کی

    6 اگست 1990:جب صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت برطرف کی

    6 اگست 1990 کا دن پاکستان کی سیاسی، جمہوری اور آئینی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58 (2) (ب) کے تحت اپنے صدارتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو برطرف کر دیا اور قومی اسمبلی کو تحلیل کرکے ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا۔

    1977 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت ختم کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور ایک ایسے تاریک دور کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اپنی فاشسٹ اور آمرانہ طرزِ حکومت سے ہلا کر رکھ دیا۔

    فوجی ظلم و بربریت کے اس دور میں سیاسی کارکنوں، پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور جمہوریت پسند افراد پر ناقابلِ بیان تشدد کیا گیا۔ مخالفین کی آواز دبانے کے لیے سرِعام کوڑے مارے گئے، قیدیوں کو طویل قید اور تنہائی کی سزائیں دی گئیں۔

    ملک میں خوف اور ہراس کا ایسا ماحول پیدا کیا گیا تاکہ کوئی بھی آمر کے خلاف آواز بلند نہ کر سکے۔ جنرل ضیاء کی آمریت کا سب سے بزدلانہ اور سیاہ ترین اقدام ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے پھانسی دینا تھا۔

    لیکن تاریخ کی حقیقت یہ ہے کہ بھٹو کی شہادت نے مظلوم عوام کو خوفزدہ کرنے کے بجائے ان کے اندر جمہوریت اور مزاحمت کی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔

    سندھ سمیت پورے پاکستان میں عوامی سطح پر ایک تاریخی جدوجہد شروع ہوئی جس نے آمریت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

    والد کی شہادت اور اپنی ذات پر ہونے والی بے شمار قید و بند اور نظر بندیوں کے باوجود، کم عمر بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے مشن کو جاری رکھا اور کسانوں، مزدوروں اور عوام کا سہارا بن کر سامنے آئیں۔

    ایم آر ڈی، یعنی تحریک بحالی جمہوریت کے تحت ملک میں آمریت کے خلاف جو زبردست تحریک چلی، اس میں ہزاروں نوجوانوں اور خواتین نے گرفتاریاں دیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس پُرعزم جدوجہد نے جنرل ضیاء کے اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں۔

    آخرکار 17 اگست 1988 کو ایک طیارہ حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد ملک میں نومبر 1988 میں عام انتخابات ہوئے۔

    آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نے انتخابات میں بینظیر بھٹو کا راستہ روکنے کے لیے تمام مخالف جماعتوں کو ملا کر اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) بنایا، لیکن اس کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے 93 نشستیں حاصل کر کے تمام سیاسی جماعتوں پر برتری حاصل کی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹوں کے لیے ملک بھر میں ایسا جوش و خروش تھا کہ تقریباً اٹھارہ ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مجبوری میں بینظیر بھٹو کو مشروط طور پر اقتدار دینے کا فیصلہ کیا۔

    صرف 35 برس کی عمر میں بینظیر بھٹو نے دنیا کی کم عمر ترین اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ طویل آمریت کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کی تعریف کی گئی، اور مغربی دنیا میں مثبت تاثر پیدا ہونے کے باعث پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی امداد، جو پہلے 2.6 ارب ڈالر تھی، بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

    دسمبر 1988سے اگست 1990 تک بینظیر بھٹو کا 18 ماہ کا دورِ حکومت سمجھوتوں، سازشوں اور سیاسی اتار چڑھاؤ کی ایک المناک داستان ہے۔ انہیں اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں انتخابات سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں۔

    بینظیر بھٹو کو اقتدار کی باگ ڈور دینے سے پہلے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ان کے بارے میں کچھ خدشات تھے۔ اسی لیے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے بینظیر بھٹو سے ملاقات کر کے درج ذیل شرائط رکھیں:

    1۔ ملک کے صدر غلام اسحاق خان ہی رہیں گے۔

    2۔ وزیر خارجہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) صاحبزادہ یعقوب علی خان ہوں گے۔

    3۔ بھارت کے ساتھ تعلقات، کشمیر اور افغانستان سے متعلق معاملات فوجی قیادت کے مشورے سے طے کیے جائیں گے۔

    4۔ جنرل ضیاء الحق کے خاندان سمیت اُن تمام فوجی افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جن پر مارشل لا کے دور میں ظلم و زیادتی کے الزامات تھے۔

    5۔ پاکستان کی ایٹمی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

    6۔ فوج میں تقرریوں اور تبادلوں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی ضمانت لی جائے گی۔

    بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدے پر موجود صدر غلام اسحاق خان نے پہلے ہی دن سے بینظیر بھٹو کو انتظامی اور قانونی رکاوٹیں کھڑی کرکے مشکلات میں ڈالنا شروع کر دیا۔

    بینظیر بھٹو کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد کئی دنوں تک کوئی بھی سرکاری فائل ان کے پاس نہیں بھیجی گئی بلکہ تمام فائلیں براہِ راست ایوانِ صدر بھیجی جاتی رہیں۔

    صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کے درمیان پہلا بڑا اختلاف مارشل لا کے دور کے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عام معافی کے معاملے پر ہوا۔

    صدر غلام اسحاق خان قانونی جواز کا سہارا لے کر سیاسی قیدیوں کی رہائی روکنا چاہتے تھے، لیکن وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے ایک انتظامی حکم (ایگزیکٹو آرڈر) جاری کرکے مارشل لا کے دور میں قید تمام سیاسی کارکنوں کو جیلوں سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    اس کے بعد وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کو عہدے سے ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل شمس الرحمن کلو کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیا۔

    اس کے بعد پاکستان کی مسلح افواج میں ایک اہم تقرری کا معاملہ سامنے آیا۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے قابلِ اعتماد ساتھی جنرل اختر عبدالرحمان کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیا تھا، لیکن وہ 17 اگست 1988 کو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔

    آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اس عہدے پر اپنی پسند کے جنرل کو مقرر کرنا چاہتے تھے، لیکن وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج میں سب سے سینئر فوجی افسر، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل افتخار سروہی کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کر دیا۔

    اس طرح ملک میں سول اور فوجی قیادت کے تعلقات مسلسل خراب ہوتے گئے۔

    دوسری طرف ملک کے مختلف صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم تھیں۔ سندھ اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں تھیں، جبکہ پنجاب میں میاں نواز شریف اور بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی وزیرِ اعلیٰ تھے۔

    پنجاب میں میاں نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی حکومت نے وفاقی حکومت کے خلاف سخت محاذ قائم کر لیا۔

    ستمبر 1989 میں ایم کیو ایم نے بینظیر حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی۔ کراچی میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے پیشِ نظر فوج نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مکمل اختیارات طلب کیے، لیکن بینظیر بھٹو نے ایسے اختیارات دینے کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں حکومت اور فوج کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔

    24 اکتوبر 1989کو اپوزیشن نے 98 ارکان کے دستخطوں کے ساتھ وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی۔ یکم نومبر کو ہونے والی رائے شماری میں حکومت نے 124 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، اور اس طرح بینظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی، لیکن اس سیاسی کشمکش نے ملکی نظام کو اندر سے کمزور کر دیا۔

    ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سیاسی راستے الگ ہونے کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں نسلی نفرت اور تصادم کو ہوا دی گئی۔ اس وقت سندھ، خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد، شدید نسلی اور سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں تھے۔ مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش اور شہری علاقوں میں مسلح سرگرمیوں نے صورتِ حال کو انتہائی خراب کر دیا۔

    سندھیوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے اور ایک دوسرے پر اعتماد کم ہوتا گیا۔

    اپریل 1990 میں کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے گروپوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا، جس میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) کے چند کارکن مارے گئے۔

    جوابی کارروائی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کراچی کے صدر نجیب احمد کی قیادت میں پی ایس ایف کے کارکنوں نے عزیز آباد میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی۔ اس کے جواب میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نے نجیب احمد کو قتل کر دیا۔

    دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے کئی کارکنوں کو اغوا کرکے یرغمال بنا لیا۔ بعد میں کور 5 کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر کی مداخلت کے بعد فوج کی موجودگی میں دونوں فریقوں نے اپنے اپنے یرغمال کارکن ایک دوسرے کے حوالے کیے۔

    اسی طرح کی صورتِ حال حیدرآباد میں بھی پیدا کی گئی۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے کھاہی روڈ، فقیر جو پڑ، واڈھن جو پڑ، گاڑی کھاتہ اور دیگر کئی سندھی آبادیوں پر حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی سندھی خاندان بے گھر ہو گئے اور ان کے گھروں پر قبضے کیے گئے۔ بہت سے لوگ مارے گئے، جبکہ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے چند واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ وارداتوں کے بعد ملزمان حیدرآباد کے پکا قلعہ میں جا کر پناہ لیتے تھے۔

    پکا قلعہ آپریشن

    مئی 1990 میں حکومت نے پکا قلعہ میں آپریشن کیا۔

    حکومت اور انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ پکا قلعہ کے اندر غیر قانونی اسلحے کے ذخیرے موجود ہیں اور وہاں سے دہشت گردی کی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ اس لیے آپریشن کا مقصد اسلحہ برآمد کرنا اور ملزمان کو گرفتار کرنا تھا۔

    اس آپریشن کے دوران شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ قلعے کے اندر سخت فائرنگ اور محاصرہ ہوا، جس کے نتیجے میں عام شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، بڑی تعداد میں جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

    پکا قلعہ آپریشن نے حیدرآباد کے سماجی ڈھانچے اور پاکستان کی سیاست پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔

    سیاسی اتحاد کا خاتمہ

    یہ آپریشن ایسے وقت میں ہوا جب 1988 کا کراچی معاہدہ اب بھی نافذ تھا، جس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر حکومت چلا رہی تھیں۔ اس آپریشن کے بعد دونوں جماعتوں کے راستے ہمیشہ کے لیے الگ ہو گئے، اور وفاق میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہو گئی۔

    نسلی تعصب اور پولرائزیشن میں اضافہ

    اس واقعے نے حیدرآباد کی دو بڑی لسانی برادریوں (اردو بولنے والے اور سندھی بولنے والے) کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے، جس کے باعث شہر میں کئی دہائیوں تک بے اعتمادی کا ماحول قائم رہا۔

    وفاقی حکومت کی برطرفی: اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58(2)(ب) کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو کرپشن، بدامنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا۔

    اس فیصلے کے جواز میں حیدرآباد کے ان واقعات کو بھی ایک اہم محرک کے طور پر پیش کیا گیا۔

    نتیجہ اور تاریخی حیثیت

    محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں پکا قلعہ آپریشن ریاست کی رٹ بحال کرنے کی ایک کوشش تھا، لیکن اس کا انجام انتہائی متنازع اور افسوسناک ثابت ہوا۔تاریخی اعتبار سے یہ واقعہ سندھ کی شہری سیاست کا ایک نہایت تلخ اور اہم باب سمجھا جاتا ہے، جس نے ہمیشہ کے لیے حیدرآباد کے امن، ہم آہنگی اور سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑے۔

    برطرفی کے اہم اسباب اور آئینی جواز

    غلام اسحاق خان منتخب حکومت کو برطرف کرنے کا پختہ ارادہ کر چکے تھے، اور روئیداد خان، شریف الدین پیرزادہ اور دیگر قانونی ماہرین کی مدد سے اس کے لیے ریفرنس تیار کیے گئے۔ 6 اگست 1990 کو جاری کیے گئے حکم نامے میں برطرفی کی درج ذیل اہم وجوہات بیان کی گئیں:

    بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات: حکومت کے عہدیداروں اور وزراء پر کرپشن، اقربا پروری، بدانتظامی اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات لگائے گئے۔

    آرٹیکل 58(2)(ب) کا استعمال: آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کو حاصل اختیارات کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

    سول ملٹری تعلقات: خارجہ پالیسی، دفاعی معاملات اور اہم عہدوں پر تقرریوں کے معاملے میں فوجی قیادت اور ایوانِ صدر کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی نے بھی اس برطرفی میں اہم کردار ادا کیا۔

    نگران حکومت اور عدالتی ردعمل

    عبوری حکومت: 6 اگست 1990 کو غلام مصطفیٰ جتوئی کی سربراہی میں نگران حکومت قائم کی گئی، جس میں بینظیر بھٹو کے سیاسی مخالفین بھی شامل تھے۔

    احتساب ریفرنس: روئیداد خان کو احتساب کا قلمدان دیا گیا اور بینظیر بھٹو کے خلاف مختلف ریفرنس، جن کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں تھے، خصوصی عدالتوں میں بھیجے گئے، جہاں سے وہ بعد میں مکمل طور پر بری ہو گئیں۔

    عدالتی فیصلے: برطرفی کے خلاف سندھ، لاہور اور پشاور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں۔ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے اسمبلی کی برطرفی کو درست قرار دیا، جس سے وفاقی سیاست میں ایک انتہائی خراب روایت قائم ہوئی۔

    6 اگست 1990 کا واقعہ پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ منتخب نمائندوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیے بغیر ہی اختیارات کی کشمکش اور آئینی ہتھکنڈوں کے ذریعے حکومت سے ہٹا دیا گیا۔

    یہ قدم ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مضبوط گرفت اور طاقت کے توازن کو نقصان پہنچانے کی ایک واضح مثال تھا، جس کے اثرات کے باعث آنے والی کئی دہائیوں تک پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور اقتصادی ترقی شدید متاثر رہی۔

  • لیاری سے ڈاکٹر بننے تک، شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج نے ہزاروں خوابوں کو حقیقت میں بدلا

    لیاری سے ڈاکٹر بننے تک، شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج نے ہزاروں خوابوں کو حقیقت میں بدلا

    کراچی کے تاریخی علاقے لیاری میں قائم سندھ حکومت کے زیر انتظام شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج آج سندھ کے اہم سرکاری طبی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کالج کا قیام لیاری اور کم آمدنی والے علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں کو معیاری طبی تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تاکہ معاشی مشکلات کسی طالب علم کے ڈاکٹر بننے کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

    یہ میڈیکل کالج لیاری جنرل اسپتال سے منسلک ہے، جبکہ یہاں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 2012 میں ہوا۔ قیام کے بعد سندھ حکومت نے کالج کے انفراسٹرکچر، تدریسی سہولیات، جدید طبی آلات، لیبارٹریوں، کلاس رومز، فیکلٹی اور لیاری جنرل اسپتال کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا تاکہ طلبہ کو جدید طبی تعلیم اور عملی تربیت ایک ہی مقام پر میسر آ سکے۔ آج یہ ادارہ کراچی کے نمایاں سرکاری میڈیکل کالجوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    لیاری جنرل اسپتال، جو اس کالج کا تدریسی اسپتال ہے، جنوبی کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں شامل ہے۔ یہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں، جس کے باعث میڈیکل طلبہ کو مختلف بیماریوں کی تشخیص، علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی عملی تربیت مستقبل کے ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم کے دوران طلبہ کو ایناٹومی، فزیالوجی، بائیو کیمسٹری، فارماکولوجی، پیتھالوجی، فارنزک میڈیسن، کمیونٹی میڈیسن، میڈیسن، جنرل سرجری، امراض اطفال، امراض نسواں و زچہ بچہ، نفسیات، ناک کان گلا، امراض چشم، آرتھوپیڈکس، اینستھیزیا، ریڈیالوجی اور دیگر کلینیکل مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نرسنگ سے متعلق تعلیمی پروگرام بھی دستیاب ہیں۔

    سندھ حکومت نے مختلف ادوار میں کالج اور اسپتال میں جدید طبی مشینری، نئی لیبارٹریاں، تدریسی بلاکس، کلاس رومز، طبی سہولیات اور تدریسی عملے میں اضافہ کیا تاکہ طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ طبی تعلیم فراہم کی جا سکے۔

    ادارے میں طالبات کے لیے محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ہراسگی کے خلاف ضابطہ کار، شکایات کے ازالے کا نظام، کیمپس سکیورٹی اور نظم و ضبط کے مؤثر انتظامات طالبات کو بلا خوف و خطر اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

    اس میڈیکل کالج سے سب سے زیادہ فائدہ لیاری، کیماڑی، ملیر، کورنگی، لانڈھی، بن قاسم، حب، اندرون سندھ اور بلوچستان کے ان خاندانوں کو پہنچا ہے جو نجی میڈیکل کالجوں کی بھاری فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس ادارے نے ہزاروں نوجوانوں کے لیے ڈاکٹر بننے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی راہ ہموار کی ہے۔

    کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر انجم رحمان کے مطابق، ادارے کے قیام سے اب تک 1200 سے زائد طالب علم اپنی تعلیم مکمل کر کے ڈاکٹر بن چکے ہیں۔ یہ فارغ التحصیل ڈاکٹر سندھ اور بلوچستان کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    لیاری جیسے تاریخی مگر طویل عرصے تک پسماندہ رہنے والے علاقے میں ایک جدید سرکاری میڈیکل کالج کا قیام صرف طبی تعلیم کے فروغ تک محدود نہیں بلکہ اس نے صحت کی سہولیات میں بہتری، مقامی نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی خدمت کے نئے راستے کھولنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل پاکستان کی منفرد، مثبت اور تحقیق پر مبنی کہانیاں آپ تک پہنچاتا ہے تاکہ ترقی، تعلیم، صحت اور عوامی خدمت کے ایسے منصوبوں کو اجاگر کیا جا سکے جن سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں۔

    مزید ایسی معلوماتی ویڈیوز کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

  • گمشدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تلاش

    گمشدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تلاش

    30 نومبر 1967 کو ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی کے قیام کو تقریبا 58 برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر یہ پیپلز پارٹی اب ماضی والی پارٹی باقی نہیں رہی جس میں عوام اور کارکنوں کی آواز سنی جاتی تھی۔

    اگست 1988 میں جنرل ضیا الحق کی حادثاتی موت کے بعد، جب پاکستان کی ملٹری سول اسٹیبلشمنٹ نے عام انتخابات کا اعلان کیا، تو یہ انتخابات ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پہلے عام انتخابات تھے۔

    ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں میدان میں اتری۔ پارٹی ٹکٹوں کے فیصلے خود محترمہ بینظیر بھٹو کر رہی تھیں۔ان دنوں چانڈیا قبیلے کے سردار، نواب احمد سلطان چانڈیو، نگران وزیراعلیٰ قاضی اختر کی کابینہ میں نگران صوبائی وزیر خوراک تھے اور قومی اسمبلی کے حلقہ قمبر۔وارہ سے انتخاب بھی لڑ رہے تھے۔ ان کے صاحبزادے سردار شبیر احمد چانڈیو، پیپلز پارٹی ضلع لاڑکانہ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ سردار شبیر احمد چانڈیو نے قمبر کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے لیے پارٹی ٹکٹ کی درخواست دی تھی۔

    محترمہ بینظیر بھٹو کی کوشش تھی کہ نواب احمد سلطان چانڈیو نگران وزارت سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں، تاکہ قومی اسمبلی کی نشست نواب احمد سلطان چانڈیو اور صوبائی اسمبلی کی نشست ان کے صاحبزادے سردار شبیر احمد چانڈیو کو دی جا سکے۔ مگر نواب احمد سلطان چانڈیو نے نگران کابینہ سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے بجائے، اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔
    اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 165 (قمبر۔وارہ) سے پیپلز پارٹی کا امیدوار کون ہوگا؟ اس وقت قمبر شہدادکوٹ ضلع نہیں بنا تھا اور پورا علاقہ ضلع لاڑکانہ میں شامل تھا۔ ضلع لاڑکانہ میں قومی اسمبلی کی تین نشستیں تھیں:
    این اے 164 لاڑکانہ-ون (لاڑکانہ، باقرانی، ڈوکری، باڈہ)
    این اے 165 لاڑکانہ- ٹو (قمبر اور وارہ تعلقہ)
    این اے 166 لاڑکانہ- تھری (شہدادکوٹ، قبو سعید خان، سجاول، میروخان، رتوڈیرو، نئون دیرو)
    این اے 164 سے بیگم نصرت بھٹو نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، جبکہ ان کے مقابلے میں ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو تھیں۔
    این اے 166 سے محترمہ بینظیر بھٹو امیدوار تھیں اور ان کے مقابلے میں مولانا علی محمد حقانی (شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے والد) میدان میں تھے۔
    این اے 165 کے لیے نواب احمد سلطان چانڈیو کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کی جانب سے بیگم اشرف عباسی کو امیدوار نامزد کیا گیا۔ بیگم اشرف عباسی نے کہا کہ یہ حلقہ نوابوں کے مقابلے کی وجہ سے مشکل ضرور ہے، مگر وہ مقابلہ کریں گی، بشرطیکہ ان کے بیٹے حاجی منور علی عباسی کو بھی پارٹی ٹکٹ دیا جائے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے یہ شرط قبول کر لی۔

    یوں این اے 165 سے پیپلز پارٹی کی امیدوار بیگم اشرف عباسی، صوبائی نشست قمبر سے غلام مجتبیٰ اسران، اور وارہ سے نثار احمد کھوڑو کو ٹکٹ دیا گیا۔
    یہ الیکشن پاکستان بھر میں مشہور ہوا، جہاں ایک طرف روایتی قبائلی نواب احمد سلطان چانڈیو تھے اور دوسری طرف ایک تعلیم یافتہ خاتون ڈاکٹر بیگم اشرف عباسی۔ ہم کارکنوں کو اس انتخابی مہم کے دوران دباؤ، دھمکیوں اور جھگڑوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
    نتائج کے مطابق:
    بیگم اشرف عباسی: 63,011 ووٹ
    نواب احمد سلطان چانڈیو: 15,941 ووٹ

    نواب احمد سلطان چانڈیو کی شکست کے بعد سردار شبیر احمد چانڈیو نے دستبرداری کا اعلان کیا، مگر پولنگ شیڈول کے مطابق جاری رہی۔

    صوبائی نشست کے نتائج:
    غلام مجتبیٰ اسران: 36,128 ووٹ
    مولوی محمد صدیق (جے یو آئی): 1,128 ووٹ
    سردار شبیر احمد چانڈیو: صرف 341 ووٹ

    دیگر حلقوں کے نتائج:
    این اے 164:
    بیگم نصرت بھٹو 83,449 ووٹ لے کر کامیاب
    ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو 4,524 ووٹ لے کر ناکام
    این اے 166:
    محترمہ بینظیر بھٹو 82,229 ووٹ لے کر کامیاب
    مولانا علی محمد حقانی 1,979 ووٹ
    اٹھارہ ماہ بعد، اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی اور دوبارہ انتخابات کا اعلان ہوا۔ اس موقع پر سردار شبیر احمد چانڈیو نے دوبارہ پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دی۔ ہم کارکنوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے سامنے واضح کیا کہ 1988 میں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس لیے دل آمادہ نہیں، مگر فیصلہ آپ کا ہے۔

    محترمہ بینظیر بھٹو نے کارکنوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے سردار شبیر احمد چانڈیو کو ہدایت کی کہ پہلے ناراض کارکنوں کو منائیں۔ بعد ازاں قمبر میں ایک غریب کارکن کی جھونپڑی میں ملاقات ہوئی، جہاں سردار شبیر احمد چانڈیو نے ماضی کی تلخیوں پر معذرت کی اور کارکنوں کو منایا۔
    کارکنوں کی رضامندی کے بعد 1990 کے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ دیا گیا، جس میں انہوں نے ممتاز علی بھٹو کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی:
    سردار شبیر احمد چانڈیو: 59,464 ووٹ
    ممتاز علی بھٹو: 16,198 ووٹ

    1993 میں ایک بار پھر انتخابات ہوئے، اس بار باپ اور بیٹے آمنے سامنے تھے۔ نتیجہ یہ رہا:
    سردار شبیر احمد چانڈیو: 48,669 ووٹ
    نواب احمد سلطان چانڈیو: 24,727 ووٹ

    یہ واضح کرتا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نہ صرف پارٹی کارکنوں کو عزت دیتی تھیں بلکہ جاگیرداروں اور بااثر طبقات کے سامنے ان کی اہمیت بھی منواتی تھیں۔
    آج کا کارکن بس یہی دعا کرتا ہے کہ حلقے کا بااثر فرد اس سے راضی ہو جائے، ورنہ اس کی حالت بالکل اس کہاوت جیسی ہے: ‘نہ میکے کی رہی، نہ سسرال کی۔