کراچی کے تاریخی علاقے لیاری میں قائم سندھ حکومت کے زیر انتظام شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج آج سندھ کے اہم سرکاری طبی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کالج کا قیام لیاری اور کم آمدنی والے علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں کو معیاری طبی تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تاکہ معاشی مشکلات کسی طالب علم کے ڈاکٹر بننے کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔
یہ میڈیکل کالج لیاری جنرل اسپتال سے منسلک ہے، جبکہ یہاں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 2012 میں ہوا۔ قیام کے بعد سندھ حکومت نے کالج کے انفراسٹرکچر، تدریسی سہولیات، جدید طبی آلات، لیبارٹریوں، کلاس رومز، فیکلٹی اور لیاری جنرل اسپتال کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا تاکہ طلبہ کو جدید طبی تعلیم اور عملی تربیت ایک ہی مقام پر میسر آ سکے۔ آج یہ ادارہ کراچی کے نمایاں سرکاری میڈیکل کالجوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
لیاری جنرل اسپتال، جو اس کالج کا تدریسی اسپتال ہے، جنوبی کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں شامل ہے۔ یہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں، جس کے باعث میڈیکل طلبہ کو مختلف بیماریوں کی تشخیص، علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی عملی تربیت مستقبل کے ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم کے دوران طلبہ کو ایناٹومی، فزیالوجی، بائیو کیمسٹری، فارماکولوجی، پیتھالوجی، فارنزک میڈیسن، کمیونٹی میڈیسن، میڈیسن، جنرل سرجری، امراض اطفال، امراض نسواں و زچہ بچہ، نفسیات، ناک کان گلا، امراض چشم، آرتھوپیڈکس، اینستھیزیا، ریڈیالوجی اور دیگر کلینیکل مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نرسنگ سے متعلق تعلیمی پروگرام بھی دستیاب ہیں۔
سندھ حکومت نے مختلف ادوار میں کالج اور اسپتال میں جدید طبی مشینری، نئی لیبارٹریاں، تدریسی بلاکس، کلاس رومز، طبی سہولیات اور تدریسی عملے میں اضافہ کیا تاکہ طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ طبی تعلیم فراہم کی جا سکے۔
ادارے میں طالبات کے لیے محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ہراسگی کے خلاف ضابطہ کار، شکایات کے ازالے کا نظام، کیمپس سکیورٹی اور نظم و ضبط کے مؤثر انتظامات طالبات کو بلا خوف و خطر اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
اس میڈیکل کالج سے سب سے زیادہ فائدہ لیاری، کیماڑی، ملیر، کورنگی، لانڈھی، بن قاسم، حب، اندرون سندھ اور بلوچستان کے ان خاندانوں کو پہنچا ہے جو نجی میڈیکل کالجوں کی بھاری فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس ادارے نے ہزاروں نوجوانوں کے لیے ڈاکٹر بننے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی راہ ہموار کی ہے۔
کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر انجم رحمان کے مطابق، ادارے کے قیام سے اب تک 1200 سے زائد طالب علم اپنی تعلیم مکمل کر کے ڈاکٹر بن چکے ہیں۔ یہ فارغ التحصیل ڈاکٹر سندھ اور بلوچستان کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
لیاری جیسے تاریخی مگر طویل عرصے تک پسماندہ رہنے والے علاقے میں ایک جدید سرکاری میڈیکل کالج کا قیام صرف طبی تعلیم کے فروغ تک محدود نہیں بلکہ اس نے صحت کی سہولیات میں بہتری، مقامی نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی خدمت کے نئے راستے کھولنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
ساگا ڈیجیٹل پاکستان کی منفرد، مثبت اور تحقیق پر مبنی کہانیاں آپ تک پہنچاتا ہے تاکہ ترقی، تعلیم، صحت اور عوامی خدمت کے ایسے منصوبوں کو اجاگر کیا جا سکے جن سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں۔
مزید ایسی معلوماتی ویڈیوز کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔





