Tag: بینظیر بھٹو

  • 6 اگست 1990:جب صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت برطرف کی

    6 اگست 1990:جب صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت برطرف کی

    6 اگست 1990 کا دن پاکستان کی سیاسی، جمہوری اور آئینی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58 (2) (ب) کے تحت اپنے صدارتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو برطرف کر دیا اور قومی اسمبلی کو تحلیل کرکے ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا۔

    1977 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت ختم کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور ایک ایسے تاریک دور کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اپنی فاشسٹ اور آمرانہ طرزِ حکومت سے ہلا کر رکھ دیا۔

    فوجی ظلم و بربریت کے اس دور میں سیاسی کارکنوں، پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور جمہوریت پسند افراد پر ناقابلِ بیان تشدد کیا گیا۔ مخالفین کی آواز دبانے کے لیے سرِعام کوڑے مارے گئے، قیدیوں کو طویل قید اور تنہائی کی سزائیں دی گئیں۔

    ملک میں خوف اور ہراس کا ایسا ماحول پیدا کیا گیا تاکہ کوئی بھی آمر کے خلاف آواز بلند نہ کر سکے۔ جنرل ضیاء کی آمریت کا سب سے بزدلانہ اور سیاہ ترین اقدام ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے پھانسی دینا تھا۔

    لیکن تاریخ کی حقیقت یہ ہے کہ بھٹو کی شہادت نے مظلوم عوام کو خوفزدہ کرنے کے بجائے ان کے اندر جمہوریت اور مزاحمت کی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔

    سندھ سمیت پورے پاکستان میں عوامی سطح پر ایک تاریخی جدوجہد شروع ہوئی جس نے آمریت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

    والد کی شہادت اور اپنی ذات پر ہونے والی بے شمار قید و بند اور نظر بندیوں کے باوجود، کم عمر بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے مشن کو جاری رکھا اور کسانوں، مزدوروں اور عوام کا سہارا بن کر سامنے آئیں۔

    ایم آر ڈی، یعنی تحریک بحالی جمہوریت کے تحت ملک میں آمریت کے خلاف جو زبردست تحریک چلی، اس میں ہزاروں نوجوانوں اور خواتین نے گرفتاریاں دیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس پُرعزم جدوجہد نے جنرل ضیاء کے اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں۔

    آخرکار 17 اگست 1988 کو ایک طیارہ حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد ملک میں نومبر 1988 میں عام انتخابات ہوئے۔

    آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نے انتخابات میں بینظیر بھٹو کا راستہ روکنے کے لیے تمام مخالف جماعتوں کو ملا کر اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) بنایا، لیکن اس کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے 93 نشستیں حاصل کر کے تمام سیاسی جماعتوں پر برتری حاصل کی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹوں کے لیے ملک بھر میں ایسا جوش و خروش تھا کہ تقریباً اٹھارہ ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مجبوری میں بینظیر بھٹو کو مشروط طور پر اقتدار دینے کا فیصلہ کیا۔

    صرف 35 برس کی عمر میں بینظیر بھٹو نے دنیا کی کم عمر ترین اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ طویل آمریت کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کی تعریف کی گئی، اور مغربی دنیا میں مثبت تاثر پیدا ہونے کے باعث پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی امداد، جو پہلے 2.6 ارب ڈالر تھی، بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

    دسمبر 1988سے اگست 1990 تک بینظیر بھٹو کا 18 ماہ کا دورِ حکومت سمجھوتوں، سازشوں اور سیاسی اتار چڑھاؤ کی ایک المناک داستان ہے۔ انہیں اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں انتخابات سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں۔

    بینظیر بھٹو کو اقتدار کی باگ ڈور دینے سے پہلے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ان کے بارے میں کچھ خدشات تھے۔ اسی لیے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے بینظیر بھٹو سے ملاقات کر کے درج ذیل شرائط رکھیں:

    1۔ ملک کے صدر غلام اسحاق خان ہی رہیں گے۔

    2۔ وزیر خارجہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) صاحبزادہ یعقوب علی خان ہوں گے۔

    3۔ بھارت کے ساتھ تعلقات، کشمیر اور افغانستان سے متعلق معاملات فوجی قیادت کے مشورے سے طے کیے جائیں گے۔

    4۔ جنرل ضیاء الحق کے خاندان سمیت اُن تمام فوجی افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جن پر مارشل لا کے دور میں ظلم و زیادتی کے الزامات تھے۔

    5۔ پاکستان کی ایٹمی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

    6۔ فوج میں تقرریوں اور تبادلوں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی ضمانت لی جائے گی۔

    بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدے پر موجود صدر غلام اسحاق خان نے پہلے ہی دن سے بینظیر بھٹو کو انتظامی اور قانونی رکاوٹیں کھڑی کرکے مشکلات میں ڈالنا شروع کر دیا۔

    بینظیر بھٹو کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد کئی دنوں تک کوئی بھی سرکاری فائل ان کے پاس نہیں بھیجی گئی بلکہ تمام فائلیں براہِ راست ایوانِ صدر بھیجی جاتی رہیں۔

    صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کے درمیان پہلا بڑا اختلاف مارشل لا کے دور کے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عام معافی کے معاملے پر ہوا۔

    صدر غلام اسحاق خان قانونی جواز کا سہارا لے کر سیاسی قیدیوں کی رہائی روکنا چاہتے تھے، لیکن وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے ایک انتظامی حکم (ایگزیکٹو آرڈر) جاری کرکے مارشل لا کے دور میں قید تمام سیاسی کارکنوں کو جیلوں سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    اس کے بعد وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کو عہدے سے ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل شمس الرحمن کلو کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیا۔

    اس کے بعد پاکستان کی مسلح افواج میں ایک اہم تقرری کا معاملہ سامنے آیا۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے قابلِ اعتماد ساتھی جنرل اختر عبدالرحمان کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیا تھا، لیکن وہ 17 اگست 1988 کو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔

    آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اس عہدے پر اپنی پسند کے جنرل کو مقرر کرنا چاہتے تھے، لیکن وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج میں سب سے سینئر فوجی افسر، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل افتخار سروہی کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کر دیا۔

    اس طرح ملک میں سول اور فوجی قیادت کے تعلقات مسلسل خراب ہوتے گئے۔

    دوسری طرف ملک کے مختلف صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم تھیں۔ سندھ اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں تھیں، جبکہ پنجاب میں میاں نواز شریف اور بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی وزیرِ اعلیٰ تھے۔

    پنجاب میں میاں نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی حکومت نے وفاقی حکومت کے خلاف سخت محاذ قائم کر لیا۔

    ستمبر 1989 میں ایم کیو ایم نے بینظیر حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی۔ کراچی میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے پیشِ نظر فوج نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مکمل اختیارات طلب کیے، لیکن بینظیر بھٹو نے ایسے اختیارات دینے کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں حکومت اور فوج کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔

    24 اکتوبر 1989کو اپوزیشن نے 98 ارکان کے دستخطوں کے ساتھ وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی۔ یکم نومبر کو ہونے والی رائے شماری میں حکومت نے 124 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، اور اس طرح بینظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی، لیکن اس سیاسی کشمکش نے ملکی نظام کو اندر سے کمزور کر دیا۔

    ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سیاسی راستے الگ ہونے کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں نسلی نفرت اور تصادم کو ہوا دی گئی۔ اس وقت سندھ، خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد، شدید نسلی اور سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں تھے۔ مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش اور شہری علاقوں میں مسلح سرگرمیوں نے صورتِ حال کو انتہائی خراب کر دیا۔

    سندھیوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے اور ایک دوسرے پر اعتماد کم ہوتا گیا۔

    اپریل 1990 میں کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے گروپوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا، جس میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) کے چند کارکن مارے گئے۔

    جوابی کارروائی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کراچی کے صدر نجیب احمد کی قیادت میں پی ایس ایف کے کارکنوں نے عزیز آباد میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی۔ اس کے جواب میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نے نجیب احمد کو قتل کر دیا۔

    دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے کئی کارکنوں کو اغوا کرکے یرغمال بنا لیا۔ بعد میں کور 5 کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر کی مداخلت کے بعد فوج کی موجودگی میں دونوں فریقوں نے اپنے اپنے یرغمال کارکن ایک دوسرے کے حوالے کیے۔

    اسی طرح کی صورتِ حال حیدرآباد میں بھی پیدا کی گئی۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے کھاہی روڈ، فقیر جو پڑ، واڈھن جو پڑ، گاڑی کھاتہ اور دیگر کئی سندھی آبادیوں پر حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی سندھی خاندان بے گھر ہو گئے اور ان کے گھروں پر قبضے کیے گئے۔ بہت سے لوگ مارے گئے، جبکہ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے چند واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ وارداتوں کے بعد ملزمان حیدرآباد کے پکا قلعہ میں جا کر پناہ لیتے تھے۔

    پکا قلعہ آپریشن

    مئی 1990 میں حکومت نے پکا قلعہ میں آپریشن کیا۔

    حکومت اور انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ پکا قلعہ کے اندر غیر قانونی اسلحے کے ذخیرے موجود ہیں اور وہاں سے دہشت گردی کی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ اس لیے آپریشن کا مقصد اسلحہ برآمد کرنا اور ملزمان کو گرفتار کرنا تھا۔

    اس آپریشن کے دوران شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ قلعے کے اندر سخت فائرنگ اور محاصرہ ہوا، جس کے نتیجے میں عام شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، بڑی تعداد میں جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

    پکا قلعہ آپریشن نے حیدرآباد کے سماجی ڈھانچے اور پاکستان کی سیاست پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔

    سیاسی اتحاد کا خاتمہ

    یہ آپریشن ایسے وقت میں ہوا جب 1988 کا کراچی معاہدہ اب بھی نافذ تھا، جس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر حکومت چلا رہی تھیں۔ اس آپریشن کے بعد دونوں جماعتوں کے راستے ہمیشہ کے لیے الگ ہو گئے، اور وفاق میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہو گئی۔

    نسلی تعصب اور پولرائزیشن میں اضافہ

    اس واقعے نے حیدرآباد کی دو بڑی لسانی برادریوں (اردو بولنے والے اور سندھی بولنے والے) کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے، جس کے باعث شہر میں کئی دہائیوں تک بے اعتمادی کا ماحول قائم رہا۔

    وفاقی حکومت کی برطرفی: اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58(2)(ب) کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو کرپشن، بدامنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا۔

    اس فیصلے کے جواز میں حیدرآباد کے ان واقعات کو بھی ایک اہم محرک کے طور پر پیش کیا گیا۔

    نتیجہ اور تاریخی حیثیت

    محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں پکا قلعہ آپریشن ریاست کی رٹ بحال کرنے کی ایک کوشش تھا، لیکن اس کا انجام انتہائی متنازع اور افسوسناک ثابت ہوا۔تاریخی اعتبار سے یہ واقعہ سندھ کی شہری سیاست کا ایک نہایت تلخ اور اہم باب سمجھا جاتا ہے، جس نے ہمیشہ کے لیے حیدرآباد کے امن، ہم آہنگی اور سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑے۔

    برطرفی کے اہم اسباب اور آئینی جواز

    غلام اسحاق خان منتخب حکومت کو برطرف کرنے کا پختہ ارادہ کر چکے تھے، اور روئیداد خان، شریف الدین پیرزادہ اور دیگر قانونی ماہرین کی مدد سے اس کے لیے ریفرنس تیار کیے گئے۔ 6 اگست 1990 کو جاری کیے گئے حکم نامے میں برطرفی کی درج ذیل اہم وجوہات بیان کی گئیں:

    بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات: حکومت کے عہدیداروں اور وزراء پر کرپشن، اقربا پروری، بدانتظامی اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات لگائے گئے۔

    آرٹیکل 58(2)(ب) کا استعمال: آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کو حاصل اختیارات کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

    سول ملٹری تعلقات: خارجہ پالیسی، دفاعی معاملات اور اہم عہدوں پر تقرریوں کے معاملے میں فوجی قیادت اور ایوانِ صدر کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی نے بھی اس برطرفی میں اہم کردار ادا کیا۔

    نگران حکومت اور عدالتی ردعمل

    عبوری حکومت: 6 اگست 1990 کو غلام مصطفیٰ جتوئی کی سربراہی میں نگران حکومت قائم کی گئی، جس میں بینظیر بھٹو کے سیاسی مخالفین بھی شامل تھے۔

    احتساب ریفرنس: روئیداد خان کو احتساب کا قلمدان دیا گیا اور بینظیر بھٹو کے خلاف مختلف ریفرنس، جن کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں تھے، خصوصی عدالتوں میں بھیجے گئے، جہاں سے وہ بعد میں مکمل طور پر بری ہو گئیں۔

    عدالتی فیصلے: برطرفی کے خلاف سندھ، لاہور اور پشاور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں۔ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے اسمبلی کی برطرفی کو درست قرار دیا، جس سے وفاقی سیاست میں ایک انتہائی خراب روایت قائم ہوئی۔

    6 اگست 1990 کا واقعہ پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ منتخب نمائندوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیے بغیر ہی اختیارات کی کشمکش اور آئینی ہتھکنڈوں کے ذریعے حکومت سے ہٹا دیا گیا۔

    یہ قدم ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مضبوط گرفت اور طاقت کے توازن کو نقصان پہنچانے کی ایک واضح مثال تھا، جس کے اثرات کے باعث آنے والی کئی دہائیوں تک پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور اقتصادی ترقی شدید متاثر رہی۔

  • لیاری سے ڈاکٹر بننے تک، شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج نے ہزاروں خوابوں کو حقیقت میں بدلا

    لیاری سے ڈاکٹر بننے تک، شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج نے ہزاروں خوابوں کو حقیقت میں بدلا

    کراچی کے تاریخی علاقے لیاری میں قائم سندھ حکومت کے زیر انتظام شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج آج سندھ کے اہم سرکاری طبی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کالج کا قیام لیاری اور کم آمدنی والے علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں کو معیاری طبی تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تاکہ معاشی مشکلات کسی طالب علم کے ڈاکٹر بننے کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

    یہ میڈیکل کالج لیاری جنرل اسپتال سے منسلک ہے، جبکہ یہاں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 2012 میں ہوا۔ قیام کے بعد سندھ حکومت نے کالج کے انفراسٹرکچر، تدریسی سہولیات، جدید طبی آلات، لیبارٹریوں، کلاس رومز، فیکلٹی اور لیاری جنرل اسپتال کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا تاکہ طلبہ کو جدید طبی تعلیم اور عملی تربیت ایک ہی مقام پر میسر آ سکے۔ آج یہ ادارہ کراچی کے نمایاں سرکاری میڈیکل کالجوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    لیاری جنرل اسپتال، جو اس کالج کا تدریسی اسپتال ہے، جنوبی کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں شامل ہے۔ یہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں، جس کے باعث میڈیکل طلبہ کو مختلف بیماریوں کی تشخیص، علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی عملی تربیت مستقبل کے ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم کے دوران طلبہ کو ایناٹومی، فزیالوجی، بائیو کیمسٹری، فارماکولوجی، پیتھالوجی، فارنزک میڈیسن، کمیونٹی میڈیسن، میڈیسن، جنرل سرجری، امراض اطفال، امراض نسواں و زچہ بچہ، نفسیات، ناک کان گلا، امراض چشم، آرتھوپیڈکس، اینستھیزیا، ریڈیالوجی اور دیگر کلینیکل مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نرسنگ سے متعلق تعلیمی پروگرام بھی دستیاب ہیں۔

    سندھ حکومت نے مختلف ادوار میں کالج اور اسپتال میں جدید طبی مشینری، نئی لیبارٹریاں، تدریسی بلاکس، کلاس رومز، طبی سہولیات اور تدریسی عملے میں اضافہ کیا تاکہ طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ طبی تعلیم فراہم کی جا سکے۔

    ادارے میں طالبات کے لیے محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ہراسگی کے خلاف ضابطہ کار، شکایات کے ازالے کا نظام، کیمپس سکیورٹی اور نظم و ضبط کے مؤثر انتظامات طالبات کو بلا خوف و خطر اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

    اس میڈیکل کالج سے سب سے زیادہ فائدہ لیاری، کیماڑی، ملیر، کورنگی، لانڈھی، بن قاسم، حب، اندرون سندھ اور بلوچستان کے ان خاندانوں کو پہنچا ہے جو نجی میڈیکل کالجوں کی بھاری فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس ادارے نے ہزاروں نوجوانوں کے لیے ڈاکٹر بننے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی راہ ہموار کی ہے۔

    کالج کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر انجم رحمان کے مطابق، ادارے کے قیام سے اب تک 1200 سے زائد طالب علم اپنی تعلیم مکمل کر کے ڈاکٹر بن چکے ہیں۔ یہ فارغ التحصیل ڈاکٹر سندھ اور بلوچستان کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    لیاری جیسے تاریخی مگر طویل عرصے تک پسماندہ رہنے والے علاقے میں ایک جدید سرکاری میڈیکل کالج کا قیام صرف طبی تعلیم کے فروغ تک محدود نہیں بلکہ اس نے صحت کی سہولیات میں بہتری، مقامی نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی خدمت کے نئے راستے کھولنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل پاکستان کی منفرد، مثبت اور تحقیق پر مبنی کہانیاں آپ تک پہنچاتا ہے تاکہ ترقی، تعلیم، صحت اور عوامی خدمت کے ایسے منصوبوں کو اجاگر کیا جا سکے جن سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں۔

    مزید ایسی معلوماتی ویڈیوز کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

  • گمشدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تلاش

    گمشدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تلاش

    30 نومبر 1967 کو ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی کے قیام کو تقریبا 58 برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر یہ پیپلز پارٹی اب ماضی والی پارٹی باقی نہیں رہی جس میں عوام اور کارکنوں کی آواز سنی جاتی تھی۔

    اگست 1988 میں جنرل ضیا الحق کی حادثاتی موت کے بعد، جب پاکستان کی ملٹری سول اسٹیبلشمنٹ نے عام انتخابات کا اعلان کیا، تو یہ انتخابات ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پہلے عام انتخابات تھے۔

    ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں میدان میں اتری۔ پارٹی ٹکٹوں کے فیصلے خود محترمہ بینظیر بھٹو کر رہی تھیں۔ان دنوں چانڈیا قبیلے کے سردار، نواب احمد سلطان چانڈیو، نگران وزیراعلیٰ قاضی اختر کی کابینہ میں نگران صوبائی وزیر خوراک تھے اور قومی اسمبلی کے حلقہ قمبر۔وارہ سے انتخاب بھی لڑ رہے تھے۔ ان کے صاحبزادے سردار شبیر احمد چانڈیو، پیپلز پارٹی ضلع لاڑکانہ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ سردار شبیر احمد چانڈیو نے قمبر کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے لیے پارٹی ٹکٹ کی درخواست دی تھی۔

    محترمہ بینظیر بھٹو کی کوشش تھی کہ نواب احمد سلطان چانڈیو نگران وزارت سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں، تاکہ قومی اسمبلی کی نشست نواب احمد سلطان چانڈیو اور صوبائی اسمبلی کی نشست ان کے صاحبزادے سردار شبیر احمد چانڈیو کو دی جا سکے۔ مگر نواب احمد سلطان چانڈیو نے نگران کابینہ سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے بجائے، اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔
    اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 165 (قمبر۔وارہ) سے پیپلز پارٹی کا امیدوار کون ہوگا؟ اس وقت قمبر شہدادکوٹ ضلع نہیں بنا تھا اور پورا علاقہ ضلع لاڑکانہ میں شامل تھا۔ ضلع لاڑکانہ میں قومی اسمبلی کی تین نشستیں تھیں:
    این اے 164 لاڑکانہ-ون (لاڑکانہ، باقرانی، ڈوکری، باڈہ)
    این اے 165 لاڑکانہ- ٹو (قمبر اور وارہ تعلقہ)
    این اے 166 لاڑکانہ- تھری (شہدادکوٹ، قبو سعید خان، سجاول، میروخان، رتوڈیرو، نئون دیرو)
    این اے 164 سے بیگم نصرت بھٹو نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، جبکہ ان کے مقابلے میں ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو تھیں۔
    این اے 166 سے محترمہ بینظیر بھٹو امیدوار تھیں اور ان کے مقابلے میں مولانا علی محمد حقانی (شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے والد) میدان میں تھے۔
    این اے 165 کے لیے نواب احمد سلطان چانڈیو کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کی جانب سے بیگم اشرف عباسی کو امیدوار نامزد کیا گیا۔ بیگم اشرف عباسی نے کہا کہ یہ حلقہ نوابوں کے مقابلے کی وجہ سے مشکل ضرور ہے، مگر وہ مقابلہ کریں گی، بشرطیکہ ان کے بیٹے حاجی منور علی عباسی کو بھی پارٹی ٹکٹ دیا جائے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے یہ شرط قبول کر لی۔

    یوں این اے 165 سے پیپلز پارٹی کی امیدوار بیگم اشرف عباسی، صوبائی نشست قمبر سے غلام مجتبیٰ اسران، اور وارہ سے نثار احمد کھوڑو کو ٹکٹ دیا گیا۔
    یہ الیکشن پاکستان بھر میں مشہور ہوا، جہاں ایک طرف روایتی قبائلی نواب احمد سلطان چانڈیو تھے اور دوسری طرف ایک تعلیم یافتہ خاتون ڈاکٹر بیگم اشرف عباسی۔ ہم کارکنوں کو اس انتخابی مہم کے دوران دباؤ، دھمکیوں اور جھگڑوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
    نتائج کے مطابق:
    بیگم اشرف عباسی: 63,011 ووٹ
    نواب احمد سلطان چانڈیو: 15,941 ووٹ

    نواب احمد سلطان چانڈیو کی شکست کے بعد سردار شبیر احمد چانڈیو نے دستبرداری کا اعلان کیا، مگر پولنگ شیڈول کے مطابق جاری رہی۔

    صوبائی نشست کے نتائج:
    غلام مجتبیٰ اسران: 36,128 ووٹ
    مولوی محمد صدیق (جے یو آئی): 1,128 ووٹ
    سردار شبیر احمد چانڈیو: صرف 341 ووٹ

    دیگر حلقوں کے نتائج:
    این اے 164:
    بیگم نصرت بھٹو 83,449 ووٹ لے کر کامیاب
    ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو 4,524 ووٹ لے کر ناکام
    این اے 166:
    محترمہ بینظیر بھٹو 82,229 ووٹ لے کر کامیاب
    مولانا علی محمد حقانی 1,979 ووٹ
    اٹھارہ ماہ بعد، اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی اور دوبارہ انتخابات کا اعلان ہوا۔ اس موقع پر سردار شبیر احمد چانڈیو نے دوبارہ پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دی۔ ہم کارکنوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے سامنے واضح کیا کہ 1988 میں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس لیے دل آمادہ نہیں، مگر فیصلہ آپ کا ہے۔

    محترمہ بینظیر بھٹو نے کارکنوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے سردار شبیر احمد چانڈیو کو ہدایت کی کہ پہلے ناراض کارکنوں کو منائیں۔ بعد ازاں قمبر میں ایک غریب کارکن کی جھونپڑی میں ملاقات ہوئی، جہاں سردار شبیر احمد چانڈیو نے ماضی کی تلخیوں پر معذرت کی اور کارکنوں کو منایا۔
    کارکنوں کی رضامندی کے بعد 1990 کے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ دیا گیا، جس میں انہوں نے ممتاز علی بھٹو کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی:
    سردار شبیر احمد چانڈیو: 59,464 ووٹ
    ممتاز علی بھٹو: 16,198 ووٹ

    1993 میں ایک بار پھر انتخابات ہوئے، اس بار باپ اور بیٹے آمنے سامنے تھے۔ نتیجہ یہ رہا:
    سردار شبیر احمد چانڈیو: 48,669 ووٹ
    نواب احمد سلطان چانڈیو: 24,727 ووٹ

    یہ واضح کرتا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نہ صرف پارٹی کارکنوں کو عزت دیتی تھیں بلکہ جاگیرداروں اور بااثر طبقات کے سامنے ان کی اہمیت بھی منواتی تھیں۔
    آج کا کارکن بس یہی دعا کرتا ہے کہ حلقے کا بااثر فرد اس سے راضی ہو جائے، ورنہ اس کی حالت بالکل اس کہاوت جیسی ہے: ‘نہ میکے کی رہی، نہ سسرال کی۔