6 اگست 1990 کا دن پاکستان کی سیاسی، جمہوری اور آئینی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58 (2) (ب) کے تحت اپنے صدارتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو برطرف کر دیا اور قومی اسمبلی کو تحلیل کرکے ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا۔
1977 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت ختم کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور ایک ایسے تاریک دور کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اپنی فاشسٹ اور آمرانہ طرزِ حکومت سے ہلا کر رکھ دیا۔
فوجی ظلم و بربریت کے اس دور میں سیاسی کارکنوں، پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور جمہوریت پسند افراد پر ناقابلِ بیان تشدد کیا گیا۔ مخالفین کی آواز دبانے کے لیے سرِعام کوڑے مارے گئے، قیدیوں کو طویل قید اور تنہائی کی سزائیں دی گئیں۔
ملک میں خوف اور ہراس کا ایسا ماحول پیدا کیا گیا تاکہ کوئی بھی آمر کے خلاف آواز بلند نہ کر سکے۔ جنرل ضیاء کی آمریت کا سب سے بزدلانہ اور سیاہ ترین اقدام ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے پھانسی دینا تھا۔
لیکن تاریخ کی حقیقت یہ ہے کہ بھٹو کی شہادت نے مظلوم عوام کو خوفزدہ کرنے کے بجائے ان کے اندر جمہوریت اور مزاحمت کی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔
سندھ سمیت پورے پاکستان میں عوامی سطح پر ایک تاریخی جدوجہد شروع ہوئی جس نے آمریت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
والد کی شہادت اور اپنی ذات پر ہونے والی بے شمار قید و بند اور نظر بندیوں کے باوجود، کم عمر بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے مشن کو جاری رکھا اور کسانوں، مزدوروں اور عوام کا سہارا بن کر سامنے آئیں۔
ایم آر ڈی، یعنی تحریک بحالی جمہوریت کے تحت ملک میں آمریت کے خلاف جو زبردست تحریک چلی، اس میں ہزاروں نوجوانوں اور خواتین نے گرفتاریاں دیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس پُرعزم جدوجہد نے جنرل ضیاء کے اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں۔
آخرکار 17 اگست 1988 کو ایک طیارہ حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد ملک میں نومبر 1988 میں عام انتخابات ہوئے۔
آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نے انتخابات میں بینظیر بھٹو کا راستہ روکنے کے لیے تمام مخالف جماعتوں کو ملا کر اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) بنایا، لیکن اس کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے 93 نشستیں حاصل کر کے تمام سیاسی جماعتوں پر برتری حاصل کی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹوں کے لیے ملک بھر میں ایسا جوش و خروش تھا کہ تقریباً اٹھارہ ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔
انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مجبوری میں بینظیر بھٹو کو مشروط طور پر اقتدار دینے کا فیصلہ کیا۔
صرف 35 برس کی عمر میں بینظیر بھٹو نے دنیا کی کم عمر ترین اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ طویل آمریت کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کی تعریف کی گئی، اور مغربی دنیا میں مثبت تاثر پیدا ہونے کے باعث پاکستان کو ملنے والی غیر ملکی امداد، جو پہلے 2.6 ارب ڈالر تھی، بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
دسمبر 1988سے اگست 1990 تک بینظیر بھٹو کا 18 ماہ کا دورِ حکومت سمجھوتوں، سازشوں اور سیاسی اتار چڑھاؤ کی ایک المناک داستان ہے۔ انہیں اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں انتخابات سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں۔
بینظیر بھٹو کو اقتدار کی باگ ڈور دینے سے پہلے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ان کے بارے میں کچھ خدشات تھے۔ اسی لیے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے بینظیر بھٹو سے ملاقات کر کے درج ذیل شرائط رکھیں:
1۔ ملک کے صدر غلام اسحاق خان ہی رہیں گے۔
2۔ وزیر خارجہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) صاحبزادہ یعقوب علی خان ہوں گے۔
3۔ بھارت کے ساتھ تعلقات، کشمیر اور افغانستان سے متعلق معاملات فوجی قیادت کے مشورے سے طے کیے جائیں گے۔
4۔ جنرل ضیاء الحق کے خاندان سمیت اُن تمام فوجی افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جن پر مارشل لا کے دور میں ظلم و زیادتی کے الزامات تھے۔
5۔ پاکستان کی ایٹمی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
6۔ فوج میں تقرریوں اور تبادلوں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی ضمانت لی جائے گی۔
بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدے پر موجود صدر غلام اسحاق خان نے پہلے ہی دن سے بینظیر بھٹو کو انتظامی اور قانونی رکاوٹیں کھڑی کرکے مشکلات میں ڈالنا شروع کر دیا۔
بینظیر بھٹو کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد کئی دنوں تک کوئی بھی سرکاری فائل ان کے پاس نہیں بھیجی گئی بلکہ تمام فائلیں براہِ راست ایوانِ صدر بھیجی جاتی رہیں۔
صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کے درمیان پہلا بڑا اختلاف مارشل لا کے دور کے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عام معافی کے معاملے پر ہوا۔
صدر غلام اسحاق خان قانونی جواز کا سہارا لے کر سیاسی قیدیوں کی رہائی روکنا چاہتے تھے، لیکن وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے ایک انتظامی حکم (ایگزیکٹو آرڈر) جاری کرکے مارشل لا کے دور میں قید تمام سیاسی کارکنوں کو جیلوں سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
اس کے بعد وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کو عہدے سے ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل شمس الرحمن کلو کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیا۔
اس کے بعد پاکستان کی مسلح افواج میں ایک اہم تقرری کا معاملہ سامنے آیا۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے قابلِ اعتماد ساتھی جنرل اختر عبدالرحمان کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیا تھا، لیکن وہ 17 اگست 1988 کو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔
آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اس عہدے پر اپنی پسند کے جنرل کو مقرر کرنا چاہتے تھے، لیکن وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج میں سب سے سینئر فوجی افسر، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل افتخار سروہی کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کر دیا۔
اس طرح ملک میں سول اور فوجی قیادت کے تعلقات مسلسل خراب ہوتے گئے۔
دوسری طرف ملک کے مختلف صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم تھیں۔ سندھ اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں تھیں، جبکہ پنجاب میں میاں نواز شریف اور بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی وزیرِ اعلیٰ تھے۔
پنجاب میں میاں نواز شریف کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی حکومت نے وفاقی حکومت کے خلاف سخت محاذ قائم کر لیا۔
ستمبر 1989 میں ایم کیو ایم نے بینظیر حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی۔ کراچی میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے پیشِ نظر فوج نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مکمل اختیارات طلب کیے، لیکن بینظیر بھٹو نے ایسے اختیارات دینے کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں حکومت اور فوج کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔
24 اکتوبر 1989کو اپوزیشن نے 98 ارکان کے دستخطوں کے ساتھ وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی۔ یکم نومبر کو ہونے والی رائے شماری میں حکومت نے 124 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، اور اس طرح بینظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی، لیکن اس سیاسی کشمکش نے ملکی نظام کو اندر سے کمزور کر دیا۔
ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سیاسی راستے الگ ہونے کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں نسلی نفرت اور تصادم کو ہوا دی گئی۔ اس وقت سندھ، خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد، شدید نسلی اور سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں تھے۔ مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش اور شہری علاقوں میں مسلح سرگرمیوں نے صورتِ حال کو انتہائی خراب کر دیا۔
سندھیوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے اور ایک دوسرے پر اعتماد کم ہوتا گیا۔
اپریل 1990 میں کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے گروپوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا، جس میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) کے چند کارکن مارے گئے۔
جوابی کارروائی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کراچی کے صدر نجیب احمد کی قیادت میں پی ایس ایف کے کارکنوں نے عزیز آباد میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی۔ اس کے جواب میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نے نجیب احمد کو قتل کر دیا۔
دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے کئی کارکنوں کو اغوا کرکے یرغمال بنا لیا۔ بعد میں کور 5 کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر کی مداخلت کے بعد فوج کی موجودگی میں دونوں فریقوں نے اپنے اپنے یرغمال کارکن ایک دوسرے کے حوالے کیے۔
اسی طرح کی صورتِ حال حیدرآباد میں بھی پیدا کی گئی۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے کھاہی روڈ، فقیر جو پڑ، واڈھن جو پڑ، گاڑی کھاتہ اور دیگر کئی سندھی آبادیوں پر حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی سندھی خاندان بے گھر ہو گئے اور ان کے گھروں پر قبضے کیے گئے۔ بہت سے لوگ مارے گئے، جبکہ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے چند واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ وارداتوں کے بعد ملزمان حیدرآباد کے پکا قلعہ میں جا کر پناہ لیتے تھے۔
پکا قلعہ آپریشن
مئی 1990 میں حکومت نے پکا قلعہ میں آپریشن کیا۔
حکومت اور انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ پکا قلعہ کے اندر غیر قانونی اسلحے کے ذخیرے موجود ہیں اور وہاں سے دہشت گردی کی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ اس لیے آپریشن کا مقصد اسلحہ برآمد کرنا اور ملزمان کو گرفتار کرنا تھا۔
اس آپریشن کے دوران شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ قلعے کے اندر سخت فائرنگ اور محاصرہ ہوا، جس کے نتیجے میں عام شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، بڑی تعداد میں جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
پکا قلعہ آپریشن نے حیدرآباد کے سماجی ڈھانچے اور پاکستان کی سیاست پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے۔
سیاسی اتحاد کا خاتمہ
یہ آپریشن ایسے وقت میں ہوا جب 1988 کا کراچی معاہدہ اب بھی نافذ تھا، جس کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر حکومت چلا رہی تھیں۔ اس آپریشن کے بعد دونوں جماعتوں کے راستے ہمیشہ کے لیے الگ ہو گئے، اور وفاق میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہو گئی۔
نسلی تعصب اور پولرائزیشن میں اضافہ
اس واقعے نے حیدرآباد کی دو بڑی لسانی برادریوں (اردو بولنے والے اور سندھی بولنے والے) کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے، جس کے باعث شہر میں کئی دہائیوں تک بے اعتمادی کا ماحول قائم رہا۔
وفاقی حکومت کی برطرفی: اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58(2)(ب) کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو کرپشن، بدامنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت برطرف کر دیا۔
اس فیصلے کے جواز میں حیدرآباد کے ان واقعات کو بھی ایک اہم محرک کے طور پر پیش کیا گیا۔
نتیجہ اور تاریخی حیثیت
محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں پکا قلعہ آپریشن ریاست کی رٹ بحال کرنے کی ایک کوشش تھا، لیکن اس کا انجام انتہائی متنازع اور افسوسناک ثابت ہوا۔تاریخی اعتبار سے یہ واقعہ سندھ کی شہری سیاست کا ایک نہایت تلخ اور اہم باب سمجھا جاتا ہے، جس نے ہمیشہ کے لیے حیدرآباد کے امن، ہم آہنگی اور سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑے۔
برطرفی کے اہم اسباب اور آئینی جواز
غلام اسحاق خان منتخب حکومت کو برطرف کرنے کا پختہ ارادہ کر چکے تھے، اور روئیداد خان، شریف الدین پیرزادہ اور دیگر قانونی ماہرین کی مدد سے اس کے لیے ریفرنس تیار کیے گئے۔ 6 اگست 1990 کو جاری کیے گئے حکم نامے میں برطرفی کی درج ذیل اہم وجوہات بیان کی گئیں:
بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات: حکومت کے عہدیداروں اور وزراء پر کرپشن، اقربا پروری، بدانتظامی اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات لگائے گئے۔
آرٹیکل 58(2)(ب) کا استعمال: آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر کو حاصل اختیارات کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
سول ملٹری تعلقات: خارجہ پالیسی، دفاعی معاملات اور اہم عہدوں پر تقرریوں کے معاملے میں فوجی قیادت اور ایوانِ صدر کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی نے بھی اس برطرفی میں اہم کردار ادا کیا۔
نگران حکومت اور عدالتی ردعمل
عبوری حکومت: 6 اگست 1990 کو غلام مصطفیٰ جتوئی کی سربراہی میں نگران حکومت قائم کی گئی، جس میں بینظیر بھٹو کے سیاسی مخالفین بھی شامل تھے۔
احتساب ریفرنس: روئیداد خان کو احتساب کا قلمدان دیا گیا اور بینظیر بھٹو کے خلاف مختلف ریفرنس، جن کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں تھے، خصوصی عدالتوں میں بھیجے گئے، جہاں سے وہ بعد میں مکمل طور پر بری ہو گئیں۔
عدالتی فیصلے: برطرفی کے خلاف سندھ، لاہور اور پشاور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں۔ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے اسمبلی کی برطرفی کو درست قرار دیا، جس سے وفاقی سیاست میں ایک انتہائی خراب روایت قائم ہوئی۔
6 اگست 1990 کا واقعہ پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ منتخب نمائندوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیے بغیر ہی اختیارات کی کشمکش اور آئینی ہتھکنڈوں کے ذریعے حکومت سے ہٹا دیا گیا۔
یہ قدم ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مضبوط گرفت اور طاقت کے توازن کو نقصان پہنچانے کی ایک واضح مثال تھا، جس کے اثرات کے باعث آنے والی کئی دہائیوں تک پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور اقتصادی ترقی شدید متاثر رہی۔

