Tag: پیپلز پارٹی

  • پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن سید قائم علی شاہ کون ہیں؟

    پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن سید قائم علی شاہ کون ہیں؟

    سیاست ایک انتہائی مشکل کھیل ہے۔ لیکن جسے اس کھیل کے گرُ آتے ہوں، ان کے لیے اعلیٰ عہدوں پر رہنا دائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ یہی کچھ سندھ جیسے اہم صوبے کے تین مرتبہ وزیراعلیٰ رہنے والے قائم علی شاہ کے ساتھ بھی رہا۔

    17 اگست 1988 کو ایک فضائی حادثے میں سابق فوجی آمر ضیاالحق کی ہلاکت کے بعد جب محترمہ بے نظیر بھٹو خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے واپس آئیں اور عام انتخابات میں حصہ لیا، تو ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی، جس کے بعد سید قائم علی شاہ نے بطور وزیراعلیٰ سندھ پہلی بار دو دسمبر 1988 کو حلف لیا۔

    مگر ان کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکی۔ اس وقت صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کی وفاقی حکومت برطرف کردی تھی، جس کے بعد سندھ حکومت بھی ختم ہوگئی۔

    وہ اس عہدے پر تقریباً ایک سال، دو ماہ اور 23 دن تک رہے اور 25 فروری 1990 کو ان کی حکومت ختم کردی گئی۔

    بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008 میں ہونے والے انتخابات میں ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اکثریت سے جیت گئی، جس کے بعد سید قائم علی شاہ نے دوسری بار بطور وزیراعلیٰ سندھ چھ اپریل 2008 کو حلف اٹھایا۔ ان کی حکومت تقریباً چار سال، 11 ماہ اور 15 دن تک جاری رہی اور ان کی آئینی مدت 21 مارچ 2013 تک رہی۔

    تیسری بار وہ 30 مئی 2013 سے 25 جولائی 2016 تک وزیراعلیٰ سندھ رہے۔

    کراچی میں بدامنی، تھر میں شیرخوار بچوں کی تواتر سے ہلاکتیں اور 2010 کے تباہ کن سیلاب سمیت اپنی جماعت کے اندر اور باہر انہیں کئی مواقعوں پر ہٹائے جانے کا خطرہ پیدا ہوا، لیکن وہ اپنی وفاداری کی وجہ سے کامیاب رہے۔ انہیں آصف علی زرداری کا آشیرباد حاصل رہا۔

    مگر ان کی تیسری حکومت اپنی مکمل آئینی مدت پوری نہ کرسکی۔ جولائی 2016 میں پیپلز پارٹی نے اندرونی سیاسی فیصلے کے تحت انہیں ہٹا کر مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ بنادیا گیا۔

    اس طرح تین بار وزیراعلیٰ سندھ رہنے والے سید قائم علی شاہ تینوں ادوار میں مجموعی طور پر تقریباً نو سال، چار ماہ اور چند دن تک وزیراعلیٰ سندھ رہے۔

    سید قائم علی شاہ کی ابتدائی زندگی اور سیاست میں شمولیت

    سندھ کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے سربراہ سید قائم علی شاہ، سندھ اسمبلی کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق 13 ستمبر 1933 کو سید رمضان علی شاہ جیلانی کے گھر خیرپور میرس میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا شمار خیرپور میرس کے بااثر اور تعلیم یافتہ خاندانوں میں ہوتا ہے۔

    انہوں نے خیرپور کے تاریخی ناز ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد ان کے والدین نے نوجوان قائم علی شاہ کی شادی ایک رشتہ دار لڑکی سے کرا دی۔ شادی کے بعد سید قائم علی شاہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری اور بعد میں سندھ مسلم گورنمنٹ لا کالج، کراچی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

    سید قائم علی شاہ کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ سابق فوجی آمر ایوب خان کے دور حکومت میں انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل خیرپور کے چیئرمین منتخب ہوکر باضابطہ سیاست کا آغاز کیا۔

    ان کے چیئرمین منتخب ہونے کے کچھ عرصے بعد، 30 نومبر 1967 کو جب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بنانے کا اعلان کیا، تو سید قائم علی شاہ نے اس میں بانی رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کرلی۔

    سیاست میں باضابطہ سرگرمیاں

    1970 کے انتخابات میں سید قائم علی شاہ نے خیرپور میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اپنے مخالفین، بشمول سید غوث علی شاہ اور عوامی نیشنل پارٹی ولی خان گروپ کے صوبائی صدر کامریڈ سید باقر علی شاہ کو قومی اسمبلی کی نشست پر شکست دے کر کامیابی حاصل کی، اور ان کی کامیابی بھٹو کو اتنی پسند آئی کہ بھٹو نے انہیں اپنی کابینہ میں شامل کرکے صنعت اور کشمیر امور کا وفاقی وزیر بنادیا۔

    وہ تین بار طویل عرصے تک پیپلز پارٹی سندھ کے صدر بھی رہے۔ پہلی بار 1973 سے 1977 تک، دوسری بار 1987 سے 1997 تک، جبکہ تیسری بار 2004 میں پیپلز پارٹی سندھ کے صدر رہے۔

    جنرل ضیا کی آمریت

    1977 میں سابق فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا، تو بھٹو کے کئی قریبی ساتھیوں کے ساتھ سید قائم علی شاہ کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    ضیاالحق کی جانب سے پیپلز پارٹی کارکنان پر ظلم و ستم کے بعد پیپلز پارٹی کے کئی اہم رہنما، بشمول غلام مصطفیٰ کھر، مخدوم خلیق الزماں، غلام مصطفیٰ جتوئی اور دیگر نے یا تو پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی یا سیاسی سرگرمیوں کو محدود کردیا، مگر سید قائم علی شاہ پارٹی سے وفادار رہے۔

    جنرل ضیاالحق کے 11 سالہ فوجی دور حکومت میں سید قائم علی شاہ اور ان کے رشتہ داروں کو قید و بند اور تشدد برداشت کرنا پڑا۔ سید قائم علی شاہ کو جنرل ضیاالحق حکومت کی جانب سے مراعات دینے کی کئی پیشکشیں ہوئیں، مگر انہوں نے بھٹو اور پیپلز پارٹی سے اپنی وفاداریاں نہیں بدلیں۔

    فوجی حکومت کی جانب سے ان پر کئی مقدمات قائم کیے گئے، تاہم ان کے سالے اے کے (اللہ بخش کریم بروہی) کے ضیاالحق سے قریبی تعلقات کے باعث انہیں نظربندی کے نام پر اپنی رہائش گاہ میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان کے بینک اکاؤنٹس بند کیے گئے، زمینیں ضبط کی گئیں اور انہیں سرگرم سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔

    سید قائم علی شاہ کے سیاسی طور پر انتہائی سرگرم بھانجے سید پرویز علی شاہ کو جہاز ہائی جیکنگ کیس میں گرفتار کیا گیا۔ 1981 میں کراچی سے پشاور جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 326 کو شدت پسند تنظیم الذوالفقار نے ہائی جیک کرکے پہلے کابل اور بعد میں شام کے دارالحکومت دمشق لے جایا تھا، جہاں تمام مسافروں کو 13 دن تک یرغمال رکھا گیا۔

    پرویز علی شاہ کو گرفتار کرکے کراچی کے لانڈھی میں قائم ٹارچر سیل اور بعد میں سی آئی اے سینٹر کے عقوبت خانوں میں رکھا گیا۔ بعد ازاں انہیں پانچ سال کراچی اور خیرپور جیل میں قید رکھا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی 1985 کی رپورٹ میں سید پرویز علی شاہ کو ’ضمیر کا قیدی‘ قرار دیا، کیونکہ وہ پانچ سال تک جنرل ضیاالحق حکومت کے ٹارچر سیلوں میں رہے۔

    پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اپنی سوانح عمری ‘ڈاٹر آف دی ایسٹ’ میں سید پرویز علی شاہ کی جدوجہد کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ سید قائم علی شاہ کو 1990 کی دہائی میں جام صادق علی کی حکومت کی جانب سے بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ دو ماہ جیل میں رہے، بعد میں ضمانت پر رہا ہوئے اور کچھ عرصے کے لیے مفرور بھی رہے۔

    خیرپور کے جیلانی خاندان میں سب سے پہلے سید قائم علی شاہ اور ان کے بھانجے سید پرویز علی شاہ پیپلز پارٹی سے وابستہ ہوئے۔ پہلے ذوالفقار علی بھٹو اور بعد میں بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھی رہے، جبکہ جیلانی خاندان کے دیگر افراد سن 2000 کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔

    قائم علی شاہ کو تحریک بحالی جمہوریت میں کی گئی جدوجہد کا صلہ ملا

    سات  فروری 1981 کو بیگم نصرت بھٹو نے شیر باز مزاری، محمود علی قصوری، معراج محمد خان، نوابزادہ نصراللہ خان اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ 70 کلفٹن کراچی میں جنرل ضیاالحق کی فوجی آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریک بحالی جمہوریت، ایم آر ڈی، کا اعلان کیا۔ سید قائم علی شاہ نے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔

    سید قائم علی شاہ 1990 میں سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہے۔ وہ 1997 میں سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

    2008 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد جب پیپلز پارٹی کی قیادت نے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نامزد کیا تو لوگوں کو حیرت ہوئی۔ اسی طرح 74 سالہ سید قائم علی شاہ کو دوبارہ وزیراعلیٰ سندھ نامزد کیے جانے پر بھی پارٹی کے بعض رہنما خوش نہیں تھے، مگر پارٹی قیادت نے سید قائم علی شاہ کی وفاداریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں نہ صرف 2008 بلکہ 2013 میں بھی وزیراعلیٰ سندھ مقرر کیا۔

    اس وقت ان کی عمر 80 برس کے قریب تھی اور بہت سے لوگوں کے خیال میں انہیں اتنا اہم عہدہ مزید نہیں دیا جانا چاہیے تھا، لیکن ایک انٹرویو میں قائم علی شاہ نے کہا تھا کہ وہ اب بھی ’جوان اور توانا‘ ہیں۔

    بعد میں پارٹی کے اندر شدید اختلافات کے بعد پارٹی قیادت نے جولائی 2016 میں انہیں وزیراعلیٰ سندھ کے عہدے سے ہٹا کر سید مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ مقرر کردیا، مگر سید قائم علی شاہ وزارتِ اعلیٰ سے ہٹنے کے باوجود پیپلز پارٹی سندھ کی قیادت کرتے رہے۔

    قائم علی شاہ کی وزارتِ اعلیٰ کی کارکردگی پر سوالات

    سید قائم علی شاہ کے دور حکومت میں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت دیگر صوبوں کی طرح سندھ کے بجٹ میں اضافہ ہوا، مگر اس کے باوجود ان کی حکومت پر صحت، تعلیم، امن و امان، قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی امداد اور طرز حکمرانی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھے۔ ان کی حکومت پر کرپشن کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے، تاہم سید قائم علی شاہ یا ان کے خاندان سے متعلق کوئی بڑا اسکینڈل ثابت نہیں ہوا۔

    سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں کمسن بچوں اور حاملہ خواتین کی بڑے پیمانے پر اموات کے بعد امدادی اقدامات میں ناکامی پر ان کی حکومت شدید تنقید کی زد میں رہی۔

    قائم علی شاہ دریائے سندھ پر ڈیموں کی تعمیر کے بڑے مخالف

    سید قائم علی شاہ وفاق کی جانب سے سندھ کو وسائل میں جائز حصہ نہ دینے اور پنجاب کی جانب سے مبینہ طور پر سندھ کا پانی چوری کرنے کے شدید مخالف رہے۔ وہ سندھ میں پانی کے مسئلے پر پنجاب مخالف احتجاجوں میں صف اول میں کھڑے رہے۔

    جنوبی پنجاب کے خوشاب، بھکر، لیہ اور جھنگ اضلاع کی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے محکمہ آبپاشی پنجاب کے متنازع جہلم چشما لنک کینال سے ایک اور متنازع گریٹر تھل کینال منصوبے کا جب اگست 2001 میں اس وقت کے فوجی آمر پرویز مشرف نے 30 ارب روپے کی لاگت سے افتتاح کیا، تو سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔

    اس منصوبے کے خلاف جون 2003 میں سندھ کی قوم پرست جماعتوں، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سماجی رہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے حیدرآباد سے متصل کوٹری کے قریب دریائے سندھ کے خشک حصے میں بیٹھ کر علامتی بھوک ہڑتال کی۔ اس دوران ’اینٹی گریٹر تھل کینال ایکشن کمیٹی‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔

    اس بھوک ہڑتال میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ قائم علی شاہ بھی موجود تھے۔ بعد میں انہوں نے کمیٹی کے اجلاسوں اور احتجاجوں میں بھی شرکت کی۔

    قائم علی شاہ کی ’زبان پھسلنے‘ کی شہرت

    سید قائم علی شاہ اپنے مزاج میں خوش مزاج اور ہنس مکھ شخصیت کے مالک ہیں۔ انہیں بھولنے کی عادت اور زبان پھسلنے کے کئی واقعات کی وجہ سے بھی شہرت ملی۔ وہ اکثر اسمبلی میں اپنی نشست بھول کر کسی اور رکن کی نشست پر بیٹھ جاتے تھے اور بعد میں متعلقہ رکن کے آنے پر اپنی نشست پر واپس چلے جاتے تھے۔

    ان کی زبان پھسلنے کے کئی واقعات مشہور ہوئے۔ 2018 میں سندھ کے شہر ٹنڈو الہ یار میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کے قصیدے پڑھتے ہوئے ان کی زبان پھسلی اور جوشِ خطابت میں زرداری کو ’درباری‘ کہہ دیا۔

    وہ اکثر آصف علی زرداری کو صدر کی بجائے وزیراعظم کہہ جاتے تھے۔ جون 2016 میں سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے طویل خطاب میں انہوں نے امجد صابری کی جگہ غلطی سے جنید جمشید کا نام لے لیا۔ بعد میں اسپیکر سے ’بور تو نہیں ہورہے؟‘ پوچھنے کے بعد انہوں نے ساحر لدھیانوی کا مشہور شعر ‘خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا’ کی جگہ ‘خون پھر خون ہے، گرتا ہے تو تھم جاتا ہے’ پڑھ دیا۔

    انٹرنیٹ پر سید قائم علی شاہ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان سے متعلق ہزاروں میمز موجود ہیں۔

    ذاتی زندگی

    جیلانی خاندان کے ذرائع کے مطابق سید قائم علی شاہ نے تین شادیاں کیں۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد کم عمری میں ہی ان کی پہلی شادی خاندان میں کردی گئی تھی۔ کراچی میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد خاندانی روایت کے تحت ان کی دوسری شادی حُسن افروز بروہی سے کی گئی۔

    حُسن افروز بروہی معروف قانون دان، ادیب اور سیاست دان اے کے بروہی کی بہن تھیں۔ اے کے بروہی 1960 میں ایک سال تک بھارت میں پاکستان کے سفیر بھی رہے۔ وہ سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان تھے اور جنرل ضیاالحق کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ انہیں ’دی انٹلیکچوئل بی ہائنڈ جنرل‘ بھی کہا جاتا تھا۔ وہ جنرل ضیاالحق کی کابینہ میں وفاقی وزیر قانون بھی رہے۔

    حُسن افروز بروہی 1970 کی دہائی کے آخر میں چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کرگئیں، جبکہ ان کی پہلی اہلیہ بھی کچھ عرصے بعد وفات پا گئیں۔ وہ کئی سال تک اکیلے رہے، مگر بعد میں اہل خانہ اور دوستوں کے اصرار پر تیسری شادی کرلی۔

    سید قائم علی شاہ کے چار بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں۔

    ان کے بڑے بیٹے سید مظفر علی شاہ وفاقی حکومت میں ملازم تھے اور پورٹ قاسم میں بڑے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ سید مظفر علی شاہ اگست 2020 میں انتقال کرگئے۔

    ان کے دوسرے بیٹے سید لیاقت علی شاہ ماہر امراض چشم ہیں اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، خیرپور، رہ چکے ہیں۔

    سید اسد علی شاہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں، جبکہ سید افضل علی شاہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور امریکہ میں مقیم ہیں۔

    سید قائم علی شاہ کی بیٹی ناہید شاہ دُرانی جنرل ضیاالحق دور میں سی ایس ایس افسر بنیں اور وفاقی حکومت میں خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ نگہت شاہ ڈاکٹر ہیں۔

    ان کی ایک بیٹی نجمہ شاہ کینسر کے باعث فروری 2021 میں انتقال کرگئیں۔ سید قائم علی شاہ کی ایک اور بیٹی نصرت شاہ بھی ڈاکٹر ہیں۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی سے کلچرل اینتھروپولوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والی، سابق صحافی اور سیاست دان نفیسہ شاہ خیرپور میرس کی ضلعی ناظمہ رہ چکی ہیں۔ وہ 2008، 2013 اور 2018 میں قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔

    سید قائم علی شاہ کی ایک بیٹی نزہت شاہ جسمانی معذوری کا شکار ہیں، جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی مونا شاہ نے کچھ عرصہ قبل کینیڈا سے بی ڈی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے۔

  • گمشدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تلاش

    گمشدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تلاش

    30 نومبر 1967 کو ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی کے قیام کو تقریبا 58 برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر یہ پیپلز پارٹی اب ماضی والی پارٹی باقی نہیں رہی جس میں عوام اور کارکنوں کی آواز سنی جاتی تھی۔

    اگست 1988 میں جنرل ضیا الحق کی حادثاتی موت کے بعد، جب پاکستان کی ملٹری سول اسٹیبلشمنٹ نے عام انتخابات کا اعلان کیا، تو یہ انتخابات ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پہلے عام انتخابات تھے۔

    ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں میدان میں اتری۔ پارٹی ٹکٹوں کے فیصلے خود محترمہ بینظیر بھٹو کر رہی تھیں۔ان دنوں چانڈیا قبیلے کے سردار، نواب احمد سلطان چانڈیو، نگران وزیراعلیٰ قاضی اختر کی کابینہ میں نگران صوبائی وزیر خوراک تھے اور قومی اسمبلی کے حلقہ قمبر۔وارہ سے انتخاب بھی لڑ رہے تھے۔ ان کے صاحبزادے سردار شبیر احمد چانڈیو، پیپلز پارٹی ضلع لاڑکانہ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ سردار شبیر احمد چانڈیو نے قمبر کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے لیے پارٹی ٹکٹ کی درخواست دی تھی۔

    محترمہ بینظیر بھٹو کی کوشش تھی کہ نواب احمد سلطان چانڈیو نگران وزارت سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں، تاکہ قومی اسمبلی کی نشست نواب احمد سلطان چانڈیو اور صوبائی اسمبلی کی نشست ان کے صاحبزادے سردار شبیر احمد چانڈیو کو دی جا سکے۔ مگر نواب احمد سلطان چانڈیو نے نگران کابینہ سے استعفیٰ دے کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے بجائے، اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔
    اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 165 (قمبر۔وارہ) سے پیپلز پارٹی کا امیدوار کون ہوگا؟ اس وقت قمبر شہدادکوٹ ضلع نہیں بنا تھا اور پورا علاقہ ضلع لاڑکانہ میں شامل تھا۔ ضلع لاڑکانہ میں قومی اسمبلی کی تین نشستیں تھیں:
    این اے 164 لاڑکانہ-ون (لاڑکانہ، باقرانی، ڈوکری، باڈہ)
    این اے 165 لاڑکانہ- ٹو (قمبر اور وارہ تعلقہ)
    این اے 166 لاڑکانہ- تھری (شہدادکوٹ، قبو سعید خان، سجاول، میروخان، رتوڈیرو، نئون دیرو)
    این اے 164 سے بیگم نصرت بھٹو نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، جبکہ ان کے مقابلے میں ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو تھیں۔
    این اے 166 سے محترمہ بینظیر بھٹو امیدوار تھیں اور ان کے مقابلے میں مولانا علی محمد حقانی (شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے والد) میدان میں تھے۔
    این اے 165 کے لیے نواب احمد سلطان چانڈیو کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کی جانب سے بیگم اشرف عباسی کو امیدوار نامزد کیا گیا۔ بیگم اشرف عباسی نے کہا کہ یہ حلقہ نوابوں کے مقابلے کی وجہ سے مشکل ضرور ہے، مگر وہ مقابلہ کریں گی، بشرطیکہ ان کے بیٹے حاجی منور علی عباسی کو بھی پارٹی ٹکٹ دیا جائے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے یہ شرط قبول کر لی۔

    یوں این اے 165 سے پیپلز پارٹی کی امیدوار بیگم اشرف عباسی، صوبائی نشست قمبر سے غلام مجتبیٰ اسران، اور وارہ سے نثار احمد کھوڑو کو ٹکٹ دیا گیا۔
    یہ الیکشن پاکستان بھر میں مشہور ہوا، جہاں ایک طرف روایتی قبائلی نواب احمد سلطان چانڈیو تھے اور دوسری طرف ایک تعلیم یافتہ خاتون ڈاکٹر بیگم اشرف عباسی۔ ہم کارکنوں کو اس انتخابی مہم کے دوران دباؤ، دھمکیوں اور جھگڑوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
    نتائج کے مطابق:
    بیگم اشرف عباسی: 63,011 ووٹ
    نواب احمد سلطان چانڈیو: 15,941 ووٹ

    نواب احمد سلطان چانڈیو کی شکست کے بعد سردار شبیر احمد چانڈیو نے دستبرداری کا اعلان کیا، مگر پولنگ شیڈول کے مطابق جاری رہی۔

    صوبائی نشست کے نتائج:
    غلام مجتبیٰ اسران: 36,128 ووٹ
    مولوی محمد صدیق (جے یو آئی): 1,128 ووٹ
    سردار شبیر احمد چانڈیو: صرف 341 ووٹ

    دیگر حلقوں کے نتائج:
    این اے 164:
    بیگم نصرت بھٹو 83,449 ووٹ لے کر کامیاب
    ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو 4,524 ووٹ لے کر ناکام
    این اے 166:
    محترمہ بینظیر بھٹو 82,229 ووٹ لے کر کامیاب
    مولانا علی محمد حقانی 1,979 ووٹ
    اٹھارہ ماہ بعد، اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی اور دوبارہ انتخابات کا اعلان ہوا۔ اس موقع پر سردار شبیر احمد چانڈیو نے دوبارہ پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دی۔ ہم کارکنوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے سامنے واضح کیا کہ 1988 میں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس لیے دل آمادہ نہیں، مگر فیصلہ آپ کا ہے۔

    محترمہ بینظیر بھٹو نے کارکنوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے سردار شبیر احمد چانڈیو کو ہدایت کی کہ پہلے ناراض کارکنوں کو منائیں۔ بعد ازاں قمبر میں ایک غریب کارکن کی جھونپڑی میں ملاقات ہوئی، جہاں سردار شبیر احمد چانڈیو نے ماضی کی تلخیوں پر معذرت کی اور کارکنوں کو منایا۔
    کارکنوں کی رضامندی کے بعد 1990 کے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ دیا گیا، جس میں انہوں نے ممتاز علی بھٹو کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی:
    سردار شبیر احمد چانڈیو: 59,464 ووٹ
    ممتاز علی بھٹو: 16,198 ووٹ

    1993 میں ایک بار پھر انتخابات ہوئے، اس بار باپ اور بیٹے آمنے سامنے تھے۔ نتیجہ یہ رہا:
    سردار شبیر احمد چانڈیو: 48,669 ووٹ
    نواب احمد سلطان چانڈیو: 24,727 ووٹ

    یہ واضح کرتا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نہ صرف پارٹی کارکنوں کو عزت دیتی تھیں بلکہ جاگیرداروں اور بااثر طبقات کے سامنے ان کی اہمیت بھی منواتی تھیں۔
    آج کا کارکن بس یہی دعا کرتا ہے کہ حلقے کا بااثر فرد اس سے راضی ہو جائے، ورنہ اس کی حالت بالکل اس کہاوت جیسی ہے: ‘نہ میکے کی رہی، نہ سسرال کی۔