Tag: تھر

  • تھر کی دیواروں پر صدیوں پرانی نقش و نگار، جو صدیوں بعد بھی مقامی خواتین کو یاد ہیں۔

    تھر کی دیواروں پر صدیوں پرانی نقش و نگار، جو صدیوں بعد بھی مقامی خواتین کو یاد ہیں۔

    صحرائے تھر کی شامیں جب ریت پر اترتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زمین اپنی قدیم یادوں کو دوبارہ سانس دینے لگتی ہو۔ یہاں کے گھروں کی دیواریں صرف اینٹ، مٹی یا چونے سے نہیں بنتیں بلکہ ان پر بنی لکیریں، اشکال اور نقش صدیوں پرانی تہذیب کی خاموش زبان معلوم ہوتے ہیں۔ تھر کی عورتیں آج بھی اپنے گھروں کی دیواروں، صحن اور داخلی راستوں پر ایسے ڈیزائن بناتی ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ فن وقت سے بھی زیادہ قدیم ہے۔

    یہ نقش کسی آرٹ اسکول میں نہیں سکھائے جاتے، نہ ہی ان کے لیے کوئی کتاب موجود ہے۔ تھر کی عورتیں بچپن سے اپنی ماؤں اور دادیوں کو یہ ڈیزائن بناتے دیکھتی ہیں، پھر ایک دن انہی ہاتھوں میں وہی مہارت اتر آتی ہے۔ جیسے یہ فن نسلوں سے ان کے خون میں سفر کرتا آیا ہو۔ تھر کے کئی دیہات میں عورتیں آج بھی مقامی چونا، مٹی، قدرتی رنگ، کوئلے کی راکھ، سرخ مٹی اور بعض اوقات پتھروں سے حاصل کیے گئے رنگ استعمال کرتی ہیں۔ ان کے لیے یہ صرف سجاوٹ نہیں بلکہ شناخت، روایت اور یادداشت کا حصہ ہے۔

    اگر ان ڈیزائنز کو غور سے دیکھا جائے تو ان میں انسانی شکلیں، رقص کرتے کردار، جانور، مور، اونٹ، روزمرہ زندگی کے مناظر، مذہبی علامتیں اور فطرت کے اشارے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق برصغیر میں اس طرز کی علامتی تصویری روایت ہزاروں سال پرانی مانی جاتی ہے۔ بعض محققین اسے سندھ کی قدیم تہذیبوں، لوک علامتوں اور ابتدائی انسانی اظہار سے جوڑتے ہیں، جہاں دیواریں صرف رہائش کا حصہ نہیں بلکہ سماجی کہانیوں کی جگہ ہوا کرتی تھیں۔

    تھر میں گھر کی دیوار عورت کی شخصیت سمجھی جاتی ہے۔ جس گھر کی دیواروں پر جتنی نفاست اور تخلیقی نقش نگاری ہو، اسے اتنا ہی زندہ اور خوشحال تصور کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان عورتوں میں سے اکثریت نے کبھی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، مگر ان کے ہاتھ جیومیٹری، توازن اور علامتی آرٹ کی ایسی سمجھ رکھتے ہیں جو جدید ڈیزائنرز کو بھی حیران کر سکتی ہے۔

    یہ فن صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بنایا جاتا۔ تھر کی کئی خواتین کے مطابق ہر نقش کا ایک مطلب ہوتا ہے۔ کہیں یہ خوشحالی کی دعا ہے، کہیں بارش کی امید، کہیں خاندان کے اتحاد کی علامت، اور کہیں عورت کی داخلی طاقت کا اظہار۔ بعض دیواروں پر بنے رقص کرتے کردار خوشی اور تہوار کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ جانوروں کی شکلیں صحرائی زندگی سے تعلق اور فطرت کے احترام کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔

    تھر میں جب بارشیں کم ہوتی ہیں، قحط آتا ہے یا زندگی مشکل ہو جاتی ہے تب بھی یہ دیواریں رنگوں سے خالی نہیں ہوتیں۔ شاید اسی لیے تھر کی عورتیں اپنے گھروں کو صحرا کے درمیان امید کی طرح سجائے رکھتی ہیں۔ ان کے لیے خوبصورتی آسائش نہیں بلکہ مزاحمت ہے۔

    ماہرین ثقافت کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں صنعتی طرز زندگی نے مقامی آرٹ کو تیزی سے ختم کیا، مگر تھر میں یہ روایت آج بھی زندہ ہے کیونکہ یہاں عورتیں اسے محض فن نہیں بلکہ زندگی کا حصہ سمجھتی ہیں۔ وہ ڈیزائن بناتے وقت پیمائش نہیں کرتیں، خاکہ نہیں بناتیں، لیکن ان کے ہاتھوں کی حرکت میں ایک صدیوں پرانی یادداشت موجود ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ تھر کی دیواروں پر بنے یہ سادہ مگر پراسرار نقش دیکھنے والوں کو صرف خوبصورت نہیں لگتے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحرائے سندھ کی قدیم روح ابھی تک ان عورتوں کے ہاتھوں میں زندہ ہے۔

  • ’کھڑی نیم کے نیچے‘: تھر کے صحرا سے اٹھنے والا وہ لوک گیت جو انتظار کی علامت بن گیا

    ’کھڑی نیم کے نیچے‘: تھر کے صحرا سے اٹھنے والا وہ لوک گیت جو انتظار کی علامت بن گیا

    صحرائے تھر کی شامیں ایک خاص کیفیت رکھتی ہیں۔ ریت کے ٹیلوں پر دھیمی ہوا چلتی ہے، کہیں دور مور کی آواز سنائی دیتی ہے اور کبھی کسی تنہا درخت کے نیچے خاموشی کا ایک ایسا منظر بنتا ہے جس میں وقت جیسے ٹھہر جاتا ہے۔ تھر میں نیم کا درخت صرف سایہ دینے والا درخت نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ اکثر ملاقاتوں، انتظار اور کہانیوں کا گواہ بھی ہوتا ہے۔ اسی ماحول سے ایک ایسا لوک گیت پیدا ہوا جو وقت کے ساتھ سندھ کی ثقافتی شناخت بن گیا۔ اس گیت کا نام ہے ’کھڑی نیم کے نیچے‘۔

    یہ گیت سندھ کے ریگستانی خطے کی لوک روایت سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی زبان ڈھاٹکی اور مارواڑی کے امتزاج سے بنی ہوئی ہے۔ یہ زبان تھرپارکر، عمرکوٹ اور سرحد کے اُس پار بھارت کے راجستھان کے کچھ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اسی لیے اس گیت کی فضا میں صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پورے تھر اور راجستھان کے صحرائی کلچر کی جھلک ملتی ہے۔

    اس گیت کے لفظی معنی ہیں ‘میں نیم کے درخت کے نیچے تنہا کھڑی ہوں‘، مگر اس سادہ جملے کے پیچھے ایک پوری جذباتی دنیا پوشیدہ ہے۔

    لوک روایت کے مطابق اس گیت کی کہانی ایک لڑکی کے انتظار کے گرد گھومتی ہے۔ وہ نیم کے درخت کے نیچے کھڑی ہے اور اپنے محبوب کا انتظار کر رہی ہے۔ اس انتظار کے دوران موسم بدلتے ہیں، ہوائیں چلتی ہیں، بارش ہوتی ہے اور پرندے آواز دیتے ہیں، مگر اس کی امید ختم نہیں ہوتی۔ یہی انتظار اس گیت کو ایک عام محبت کے گیت سے بڑھا کر ایک علامتی داستان بنا دیتا ہے۔

    تھر کی کوئل مائی بھاگی اور اس گیت کی شہرت

    اگرچہ یہ گیت صدیوں پرانی لوک روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے، مگر اسے وسیع شہرت دلانے والی آواز مائی بھاگی کی تھی۔ مائی بھاگی کو سندھ میں ‘تھر کی کوئل’ کہا جاتا ہے۔ ان کا تعلق تھرپارکر کے ایک لوک موسیقار خاندان سے تھا۔ ان کی پیدائش تقریباً 1920 کے آس پاس تھر کے ایک گاؤں میں ہوئی۔ ان کے والدین بھی لوک گلوکار تھے اور موسیقی ان کے گھر کی روایت تھی۔ بچپن ہی سے انہوں نے صحرا کے گیت، صوفی کلام اور لوک داستانیں سننا اور گانا شروع کر دیا تھا۔

    مائی بھاگی نے ابتدا میں مقامی میلوں اور ثقافتی تقریبات میں گانا شروع کیا۔ اس دور میں لوک فنکاروں کے پاس زیادہ وسائل نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی موسیقی کو معاشی لحاظ سے مضبوط پیشہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کے باوجود وہ تھر کے روایتی گیتوں کو زندہ رکھنے کے لیے گاتی رہیں۔

    1960 کی دہائی میں ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ آیا جب انہوں نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں پہلی بار ‘کھڑی نیم کے نیچے’ گایا۔ اس وقت انہیں اس گیت کے عوض صرف بیس روپے معاوضہ ملا۔ لیکن یہ ریڈیو نشریات اس گیت کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوئی کیونکہ اس کے بعد یہ گیت سندھ کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے لگا۔

    اصل قومی شہرت اس گیت کو 1974 میں ملی، جب مائی بھاگی نے اسے پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش کیا۔ اس دور میں ٹیلی ویژن کی نشریات محدود تھیں مگر ان کی رسائی پورے ملک تک تھی۔ جب مائی بھاگی کی آواز میں یہ گیت نشر ہوا تو اس نے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی۔ یوں ایک صحرا کا سادہ سا گیت قومی ثقافتی شناخت کا حصہ بن گیا۔

    لوک گیت میں علامتوں کی دنیا

    تھر کے لوک گیتوں میں درخت، پرندے، بارش اور موسم اکثر علامتی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ عناصر صرف قدرتی منظر پیش نہیں کرتے بلکہ انسانی جذبات اور احساسات کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ ‘کھڑی نیم کے نیچے’ میں نیم کا درخت بھی ایک علامت ہے۔

    نیم کا درخت برصغیر میں اپنی خاص خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کے پتے کڑوے ہوتے ہیں مگر اس کا سایہ ٹھنڈا اور آرام دہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے لوک شاعری میں اسے اکثر محبت اور صبر کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس گیت میں نیم کا درخت اس انتظار کا استعارہ بن جاتا ہے جس میں درد بھی ہے اور امید بھی۔

    اسی طرح بارش، ہوا اور پرندوں کی آوازیں بھی لوک شاعری میں پیغام رساں سمجھی جاتی ہیں۔ تھر کے گیتوں میں مور کی آواز اکثر خوشی یا موسم کی تبدیلی کی علامت ہوتی ہے جبکہ کوئل کی آواز محبت اور یاد کا استعارہ سمجھی جاتی ہے۔

    تھر کی ثقافت اور لوک موسیقی

    تھرپارکر کا خطہ اپنی منفرد ثقافت، زبان اور موسیقی کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی موسیقی میں صحرائی زندگی کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ تھر کے گیتوں میں اکثر محبت، جدائی، انتظار اور موسموں کی تبدیلی کے موضوعات ملتے ہیں۔ یہ گیت صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اس خطے کی سماجی اور ثقافتی تاریخ کا حصہ بھی ہیں۔

    ڈھاٹکی اور مارواڑی زبانوں میں گائے جانے والے گیتوں میں صوفی روایت کا بھی اثر پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تھر کے لوک گیتوں میں محبت کو صرف رومانوی جذبہ نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔

    ایک گیت جو سرحدوں سے آگے گیا

    ‘کھڑی نیم کے نیچے’ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ گیت صرف سندھ تک محدود نہیں رہا۔ چونکہ تھر اور راجستھان کی ثقافت اور زبان میں گہرا تعلق ہے، اس لیے اس گیت کی روایت سرحد کے دونوں طرف سنی جاتی ہے۔ اس گیت کی دھن اور بول مختلف انداز میں گائے گئے مگر اس کا بنیادی خیال ہمیشہ ایک ہی رہا، یعنی انتظار اور محبت۔

    وقت کے ساتھ اس گیت کو مختلف گلوکاروں نے بھی گایا، مگر مائی بھاگی کی آواز میں اس کی جو سادگی اور صحرا کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، وہ اسے منفرد بنا دیتی ہے۔

    ایک درخت، ایک انتظار اور ایک داستان

    آج بھی اگر تھر کے کسی گاؤں میں شام کے وقت نیم کا درخت نظر آئے تو مقامی لوگ اس گیت کو یاد کرتے ہیں۔ یہ گیت صرف ایک لوک دھن نہیں بلکہ اس خطے کی زندگی، محبت اور صبر کی علامت بن چکا ہے۔

    ‘کھڑی نیم کے نیچے’ دراصل ایک ایسے احساس کی کہانی ہے جو وقت اور جگہ کی حدوں سے آزاد ہے۔ ایک لڑکی کا انتظار، ایک درخت کا سایہ اور ایک آواز جو صحرا کی خاموشی میں گونجتی ہے۔

    شاید اسی لیے یہ گیت صرف موسیقی نہیں بلکہ تھر کے صحرا کی ایک زندہ روایت ہے، جو نسل در نسل سنائی جاتی رہی ہے اور آج بھی لوگوں کے دلوں میں اسی طرح زندہ ہے جیسے صحرائے تھر کی شامیں۔

  •  مصری گدھ: صحرائے تھر کے آسمان کا خاموش محافظ

     مصری گدھ: صحرائے تھر کے آسمان کا خاموش محافظ

    تھر کا صحرا بظاہر خاموش دکھائی دیتا ہے۔ ریت کے ٹیلے، دور تک پھیلے میدان، اور نگرپارکر کے قریب کارونجھر کے قدیم گرینائٹ پہاڑ اس خطے کی پہچان ہیں۔ مگر اس خاموش منظر کے اوپر آسمان میں ایک ایسا پرندہ صدیوں سے گردش کرتا رہا ہے جو اس صحرا کے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہے۔ یہ ہے ‘مصری گدھ’، جسے انگریزی میں *Egyptian Vulture کہا جاتا ہے۔

    یہ پرندہ تھر کے آسمان میں صرف ایک شکاری پرندہ نہیں بلکہ فطرت کے توازن کو برقرار رکھنے والا ایک خاموش محافظ بھی ہے۔ مردہ جانوروں کو کھا کر یہ ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے ماہرین اسے قدرتی صفائی کرنے والا پرندہ بھی کہتے ہیں۔

     ایک قدیم اور وسیع پھیلاؤ رکھنے والا پرندہ

    مصری گدھ کا سائنسی نام ‘Neophron percnopterus’ ہے۔ یہ دنیا کی قدیم ترین گدھ اقسام میں شمار ہوتا ہے اور اس کی موجودگی شمالی افریقہ، جنوبی یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا تک پائی جاتی ہے۔ تاریخی طور پر یہ پرندہ مصر کی تہذیب میں بھی اہم مقام رکھتا تھا۔ قدیم مصری فن اور تحریروں میں گدھ کو حفاظت اور پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، اسی نسبت سے اس پرندے کو مصری گدھ کہا جانے لگا۔

    پاکستان میں اس پرندے کی موجودگی خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں دیکھی جاتی ہے، مگر تھرپارکر اس کا ایک اہم مسکن سمجھا جاتا ہے۔ نگرپارکر، اسلام کوٹ اور کارونجھر کے اردگرد کے پہاڑی علاقے اسے گھونسلے بنانے اور آرام کرنے کے لیے موزوں جگہ فراہم کرتے ہیں۔

     شکل و صورت اور جسمانی خصوصیات

    مصری گدھ عام گدھوں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹا ہوتا ہے، مگر اس کی پہچان بہت واضح ہے۔ اس کا جسم زیادہ تر سفید رنگ کا ہوتا ہے جبکہ پروں کے کنارے سیاہ ہوتے ہیں۔ اس کا چہرہ پیلا اور چونچ لمبی اور قدرے خمیدہ ہوتی ہے۔ بالغ پرندے کا وزن عموماً دو سے ڈھائی کلوگرام کے درمیان ہوتا ہے جبکہ اس کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً ڈیڑھ سے ایک اعشاریہ سات میٹر تک ہو سکتا ہے۔

    یہ پرندہ اپنی ذہانت کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ ماہرین پرندہ کہتے ہیں کہ مصری گدھ ان چند پرندوں میں شامل ہے جو خوراک حاصل کرنے کے لیے اوزار استعمال کر سکتے ہیں۔ افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں اس پرندے کو شترمرغ کے انڈے توڑنے کے لیے پتھر استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جو پرندوں میں نسبتاً نایاب رویہ سمجھا جاتا ہے۔

     خوراک اور ماحولیاتی کردار

    مصری گدھ بنیادی طور پر مردہ جانوروں کی لاشیں کھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ماحولیاتی نظام کا اہم صفائی کرنے والا پرندہ سمجھا جاتا ہے۔ جب کسی علاقے میں جانور مر جاتے ہیں تو ان کی لاشیں اگر زیادہ دیر تک پڑی رہیں تو بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ گدھ ان لاشوں کو جلد کھا کر ماحول کو صاف رکھتے ہیں اور ممکنہ بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں۔

    تھر جیسے خشک علاقوں میں یہ کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں درجہ حرارت زیادہ ہونے کے باعث مردہ جانور تیزی سے گلنے لگتے ہیں۔ گدھ ان لاشوں کو ختم کر کے ماحول کو آلودگی اور جراثیم سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

     تھر میں گِدھوں کی تاریخ

    چند دہائیوں پہلے تک تھر کے آسمان میں گدھوں کی کئی اقسام نظر آتی تھیں۔ ان میں ‘سفید پشت گدھ، لمبی چونچ والا گدھ اور سرخ سر والا گدھ’ بھی شامل تھے۔ یہ پرندے تھر کے کھلے میدانوں اور پہاڑی علاقوں میں بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔

    مگر 1990 کی دہائی کے بعد جنوبی ایشیا میں گدھوں کی آبادی میں اچانک اور شدید کمی آنے لگی۔ ماہرین کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ ایک ویٹرنری دوا ‘ڈائکلوفیناک’ تھی۔ یہ دوا مویشیوں کو درد کم کرنے کے لیے دی جاتی تھی۔ جب وہ جانور مر جاتے اور ان کی لاشیں کھلے میدان میں چھوڑ دی جاتیں تو گدھ انہیں کھا لیتے۔ اس دوا کے اثر سے گدھوں کے گردے فیل ہو جاتے اور وہ مر جاتے۔

    چند ہی برسوں میں جنوبی ایشیا میں گدھوں کی آبادی کا تقریباً ‘90 سے 95 فیصد حصہ ختم ہو گیا’۔ یہ دنیا میں کسی پرندے کی آبادی میں آنے والی سب سے تیز کمیوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

     تھر میں باقی رہ جانے والا آخری محافظ

    اس تباہ کن کمی کے بعد بھی تھرپارکر کے علاقے میں گدھوں کی کچھ آبادی باقی رہی۔ آج بھی پاکستان میں گدھوں کے اہم مسکنوں میں تھرپارکر کا نام لیا جاتا ہے۔ یہاں خاص طور پر نگرپارکر کے اردگرد کے پہاڑی علاقے ان پرندوں کے لیے محفوظ جگہ فراہم کرتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ پرندے اکثر چٹانوں یا اونچے درختوں پر گھونسلے بناتے ہیں۔ ان کی افزائش کی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔ عموماً ایک جوڑا سال میں صرف ‘ایک انڈا’ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کی آبادی کم ہو جائے تو اسے دوبارہ بڑھنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

     تحفظ کی کوششیں

    گدھوں کی آبادی کو بچانے کے لیے پاکستان میں مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے نگرپارکر کے علاقے میں ایک ‘ولچر سیف زون’ قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد خطرناک ویٹرنری ادویات کے استعمال کو محدود کرنا اور گدھوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

    پاکستان میں اب ڈائکلوفیناک کے ویٹرنری استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے اور اس کے متبادل کے طور پر نسبتاً محفوظ دوا ‘میلوکسیکام’ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

     صحرا کے آسمان کا سوال

    مصری گدھ تھر کے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ صرف ایک پرندہ نہیں بلکہ صحرا کے قدرتی توازن کا محافظ بھی ہے۔ اس کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ ماحول ابھی زندہ ہے اور فطرت اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

    مگر گدھوں کی عالمی سطح پر کم ہوتی ہوئی تعداد ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے۔ اگر یہ پرندے ختم ہو جائیں تو مردہ جانوروں کی لاشیں زیادہ دیر تک پڑی رہیں گی، جس سے بیماریوں اور ماحولیاتی مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    تھر کے آسمان میں آج بھی کبھی کبھار مصری گدھ اپنے سفید پروں کے ساتھ گردش کرتا نظر آ جاتا ہے۔ یہ منظر اس خطے کی فطری تاریخ کا حصہ ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا آنے والی نسلیں بھی اس پرندے کو اسی آسمان میں اڑتے دیکھ سکیں گی، یا یہ صرف کتابوں اور دستاویزی فلموں تک محدود ہو جائے گا۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے ہی موضوعات کو سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ لوگ اپنے ماحول، ثقافت اور قدرتی ورثے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ کیونکہ کبھی کبھی کسی صحرا کے آسمان میں اڑتا ہوا ایک پرندہ بھی پوری کہانی بیان کر دیتا ہے۔

  • کراچی سے انڈیا کی سرحد تک لے جانے والی ‘تھر ڈیزرٹ ٹرین سفاری’ کا چھٹا راؤنڈ مکمل

    کراچی سے انڈیا کی سرحد تک لے جانے والی ‘تھر ڈیزرٹ ٹرین سفاری’ کا چھٹا راؤنڈ مکمل

    محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے سندھ کے ضلع عمرکوٹ کے صحرا کے لیے ‘تھر ڈیزرٹ ٹرین سفاری’  کا چھٹے راؤنڈ کا آغاز کراچی کینٹ اسٹیشن سے انڈیا کے بارڈر پر واقع آخری ریلوے سٹیشن تک لے جایا گیا۔

    ٹرین میں سیاحوں کے لیے کھانے پینے اور رات کو ٹرین میں ہی قیام کی سہولیات فراہم کی گئیں تھی۔ کراچی کینٹ سٹیشن سے نکلنے والی ’تھر ڈزرٹ ٹرین سفاری‘ میں دو ایئرکنڈیشنڈ بوگیاں اور ایک ڈائننگ کار شامل تھی۔

    چھٹے راؤنڈ کی اس ٹرین میں کراچی سمیت مختلف شہروں سے آئے 150 سیاحوں نے سفر کیا۔ کراچی کینٹ سیٹیشن سے صبح نو بجے سفر کا آغاز ہوا جس کا پہلا سٹاپ حیدرآباد ریلوے سٹیشن پر ہوا۔ اس کے بعد ٹرین ٹنڈوجام اور ٹنڈوالہیار سے ہوتی ہوئی میرپورخاص ریولے اسٹیشن پہنچی، جہاں کچھ دیر قیام کے بعد سفر کا دوبارہ آغاز ہوا۔

    میرپورخاص سے شادی پلی، پتھورو اور ڈھورونارو سٹیشنز سے ہوتی ہوئے پانچ بجے عمرکوٹ ضلع کے چھور کینٹ ریلوے سٹیشن پر پہنچی جہاں مقامی فنکاروں نے موسیقی سے سیاحوں کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر سٹیشن کو سیاحوں کے آمد پر سجایا گیا تھا۔

    چھور کینٹ سٹیشن پر کچھ دیر رکنے کے بعد ٹرین سے سیاحوں کو کوچز میں قریبی قصبے پرچی جی ویری فوجی ریزورٹ لے جایا گیا۔

    یہ ریزورٹ ریت کے کے اونچے ٹیلے پر بنایا گیا ہے، جہاں سے صحرا کے دلفریب مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    ریزورٹ پر ثقافتی اشیا اور کھانے پینے کے سٹال لگائے گئے تھے اور اوپن ایئر تھیئٹر میں جوگیوں نے بین پر سانپ کا کھیل دکھایا اور مقامی فنکاروں نے راگ سنایا۔

    ایک خاتون سیاح نے ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ ٹرین سفاری انتہائی منفرد تجربہ اور عام طور پر کوئی فوجی ریزورٹ نہیں آسکتا، اس لیے سب کو اس ٹرین سفاری میں آنا چاہیے۔

    محکمہ ثقافت کی جانب سے ٹرین میں سفر کے ساتھ رات کو قیام کا بندوبدست اور دو دنوں کے کھانے سمیت یہ سفر مہنگا ہے، مگر سندھ حکومت نے اس سفر پر سبسڈی دے کر ابتدائی طور پر 30 ہزار روپے ٹکٹ مقرر کیا ہے۔

    پرچی جی ویری ریزورٹ پر محفل موسیقی اور رات کے کھانے کے بعد سیاحوں کو کوچز میں دوبارہ چھور کینٹ سٹیشن لایا گیا جہاں رات کے قیام کا بندوبست ٹرین کے اندر کیا گیا تھا۔

    دوسرے روز صبح ساڑھے سات بجے ٹرین چھور کینٹ سٹیشن سے روانہ ہوئی اور کھوکھرا پار ہوتی ہوئی انڈیا کی سرحد پر واقع آخری ریلوے سٹیشن زیرو پوائنٹ پہنچی۔

    ریلوے سٹیشن پر سندھ رینجرز نے سیاحوں کا استقبال کیا اور انہیں پاکستان اور انڈیا کے درمیان بارڈر لائن کے متعلق بریفنگ دی۔

    زیروپوائنٹ ریلوے سٹیشن پر کچھ وقت گزارنے کے بعد ٹرین کا واپس کراچی کی طرف سفر شروع ہوا اور رات نو بجے کراچی کینٹ سٹیشن پر سفر کا اختتام ہوا۔

  • آرٹ سے سائنس پڑھانے والا استاد: ‘ بلیک بورڈ پر چاک سے بنی تصاویر کو بچے ‘فلم’  کی طرح دیکھ کر سیکھتے ہیں’

    آرٹ سے سائنس پڑھانے والا استاد: ‘ بلیک بورڈ پر چاک سے بنی تصاویر کو بچے ‘فلم’  کی طرح دیکھ کر سیکھتے ہیں’

    تھر کے کنارے واقع قصبہ ڈھورنارو۔ ریت، ہوا اور سادہ زندگی۔ اسی ماحول میں ایک ایسا استاد پروان چڑھا جس نے چاک کو اپنا کیمرہ اور بلیک بورڈ کو اپنا کینوس بنا لیا۔

    کشور کمار کھتری بچپن سے تصویریں بناتے تھے۔ جو چیز پسند آتی، اسے کاغذ پر اتار دیتے۔ گھر میں تعلیم کا ماحول تھا۔ والد ڈاکٹر تھے۔ والدہ گھریلو ذمہ داریاں سنبھالتی تھیں۔ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کا فائدہ انہیں یہ ملا کہ گھر والوں نے ان کی فنکارانہ دلچسپی کو روکا نہیں۔

    چھٹی جماعت میں ایک استاد نے ان کی صلاحیت پہچانی۔ ہوم ورک میں سیب بنانے کو کہا جاتا تو وہ پوری ٹوکری بنا دیتے۔ وہی لمحہ تھا جب انہیں احساس ہوا کہ یہ شوق محض مشغلہ نہیں۔

    مگر وسائل محدود تھے۔ اسکول اور کالج میں باقاعدہ آرٹ کلاسز نہیں تھیں۔ پینٹ اور پیسٹل مہنگے تھے۔ یوں ان کا فن بلیک بورڈ تک محدود ہو گیا۔ چاک ان کا ذریعہ بنا۔

    انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری لینے کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں بیچلرز کیا۔ اس دوران بڑے بھائی کے فوٹو اسٹوڈیو میں بھی کام کیا۔ تصویر اور روشنی سے رشتہ برقرار رہا۔

    ایک نجی اسکول میں آرٹ ٹیچر کی نوکری ملی۔ تنخواہ معمولی تھی۔ مگر وائٹ بورڈ پر مارکر سے بنائے گئے خاکے بچوں کو پسند آنے لگے۔ وہ پہلے تصویر بناتے، پھر سبق سمجھاتے، پھر بچوں سے مشق کرواتے۔ انہیں شاید معلوم بھی نہیں تھا کہ وہ جدید تدریسی ماڈل پر کام کر رہے ہیں جسے دنیا میں ویژول لرننگ کہا جاتا ہے۔

    جلد ہی انہوں نے سائنس پڑھانا شروع کیا۔ انسانی جسم، نظام ہاضمہ، پودوں کی ساخت۔ سب کچھ چاک سے بننے لگا۔ بچے دیکھتے، سمجھتے، سوال کرتے۔ کلاس روم خاموش نہیں رہتا تھا۔

    2022 میں وہ ایک سرکاری پرائمری اسکول، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول مانو ملہی، میں تعینات ہوئے۔ اب بھی وہ چاک سے بڑی بڑی تصویریں بناتے ہیں۔ انگریزی کے تصورات بھی خاکوں کے ذریعے سمجھاتے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں چاک سے کام کرنا آسان دکھائی دیتا ہے مگر ہوتا نہیں۔ پاؤڈر اڑتا ہے۔ الرجی ہو سکتی ہے۔ جگہ کم پڑ جاتی ہے۔ پھر بھی وہ روز 15 سے 20 منٹ پیدل چل کر اسکول پہنچتے ہیں۔ ان کے پاس ذاتی سواری نہیں۔

    ان کی خواہش ہے کہ اسکول کی وہ دیواریں دوبارہ تعمیر ہوں جو سیلاب میں متاثر ہوئیں۔ دیواریں کمزور اور نم ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بچوں کے فن پارے دیواروں پر لگیں تاکہ ہر آنے والا دیکھ سکے کہ یہاں صرف نصاب نہیں، تخلیق بھی ہے۔

    چند ماہ پہلے ان کی کلاس کے خاکوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ صوبائی وزیر تعلیم کی نظر میں آئیں۔ بعد میں پنجاب کے وزیر تعلیم نے بھی انہیں مدعو کیا۔ مختلف افسران سے ملاقات ہوئی۔ تدریسی طریقوں پر گفتگو ہوئی۔

    کشور کمار کہتے ہیں طلبہ کو کتاب اور پینسل کے ساتھ اچھے استاد بھی چاہیے۔ بصری تعلیم بچوں کی تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ بڑھاتی ہے۔ سائنسی تحقیق بھی یہی کہتی ہے۔

    عمرکوٹ کے ایک چھوٹے سے اسکول میں کھڑا یہ استاد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم صرف عمارت یا نصاب کا نام نہیں۔ یہ طریقہ ہے۔ جذبہ ہے۔ اور وہ ہاتھ ہے جو چاک سے ایک لکیر کھینچ کر بچے کے ذہن میں روشنی جلا دے۔

     

  • تھر کے نوجوانوں کا رن آف کچھ میں بسنت کا جشن، روائتی لباس میں رقص کے پتنگ بازی

    تھر کے نوجوانوں کا رن آف کچھ میں بسنت کا جشن، روائتی لباس میں رقص کے پتنگ بازی

    یوں تو بسنت کو روایتی طور پر پنجاب کا تہوار سمجھا جاتا ہے، مگر اس سے ملتے جلتے رنگا رنگ تہوار سندھ میں بھی منائے جاتے ہیں۔ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں واقع نمک کے صحرا رن آف کچھ میں مقامی نوجوانوں نے پہلی بار بسنت کا جشن منایا۔

    نوجوان کٹھن راستے طے کرتے ہوئے رن آف کچھ پہنچے اور بھرپور جوش و خروش سے اس تہوار میں شریک ہوئے۔ اس قافلے کی رہنمائی مقامی ٹریول وی لاگر سروپ کھتری نے کی۔

    اس موقع پر نوجوانوں نے ٹھاکر برادری کے روایتی لباس زیب تن کیے اور رنگ برنگی پگڑیاں باندھیں۔ ان پگڑیوں کو مقامی زبان میں پھینٹا کہا جاتا ہے۔ تھر میں منائی گئی اس بسنت نے مقامی ثقافت اور خوشی کے رنگوں کو نمایاں کیا۔

    بسنت کیا ہے

    جب سردیوں کی شدت کم ہوتی ہے، زمین پر ہریالی لوٹ آتی ہے اور آسمان رنگوں سے بھر جاتا ہے، تب بسنت کا موسم آتا ہے۔ بسنت موسم بہار کی آمد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

    بسنت کی تاریخ

    بسنت ایک قدیم تہوار ہے جو برصغیر میں صدیوں سے منایا جاتا رہا ہے۔ یہ تہوار نئی زندگی، خوشی اور تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر بسنت ہندو، سکھ اور مسلمان ثقافتوں میں مختلف انداز میں منائی جاتی رہی ہے، خاص طور پر پنجاب، دہلی، لاہور اور بنگال کے علاقوں میں۔ مغل دور میں بھی بسنت کو شوق سے منایا جاتا تھا، جہاں پیلے لباس اور پتنگ بازی اس تہوار کا حصہ تھے۔

    بسنت اور پتنگ بازی

    پتنگ بسنت کی سب سے نمایاں پہچان سمجھی جاتی ہے۔ پتنگ بازی خوشی، آزادی اور نئے موسم کے آغاز کی علامت ہے۔ آسمان میں اڑتی پتنگیں اس احساس کی نمائندگی کرتی ہیں کہ لوگ سرد موسم کی سختی کو پیچھے چھوڑ کر نئی شروعات کر رہے ہیں۔

    بسنت کے رنگ اور تقریبات

    بسنت کے دن پیلا رنگ نمایاں ہوتا ہے، جو خوشی، روشنی اور بہار کی علامت ہے۔ گھروں کی چھتیں آباد ہو جاتی ہیں، گلیاں پتنگوں سے بھر جاتی ہیں اور ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے۔ ڈھول کی تھاپ، لوک گیت اور روایتی کھانے اس تہوار کو یادگار بنا دیتے ہیں۔

    آج کی بسنت

    موجودہ دور میں کئی علاقوں میں حفاظتی وجوہات کی بنا پر بسنت کی تقریبات محدود ہو چکی ہیں، تاہم اس تہوار کا جذبہ اب بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ آج بھی بہار کا استقبال پھولوں، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

    بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک احساس ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہر سردی کے بعد بہار ضرور آتی ہے۔

  • تھر کی خواتین کا روایتی لباس گج، جس کے ہر رنگ کا منفرد مطلب

    تھر کی خواتین کا روایتی لباس گج، جس کے ہر رنگ کا منفرد مطلب

    تھر کی خواتین کا روایتی لباس گج صرف پہناوا نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی اظہار ہے۔ یہ لباس زیادہ تر خواتین خود بناتی ہیں۔ خاص طور پر مائیں، دادی اور بزرگ عورتیں لڑکیوں کے لیے گج تیار کرتی ہیں، اور اس عمل میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ گج بنانا صرف ہنر نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی روایت ہے۔

    گج عموماً لمبی فراک یا گھیر دار قمیض کی صورت میں پہنی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ چوڑی گھاگھرا نما شلوار یا لہنگا ہوتا ہے، جبکہ سر پر اوڑھنی یا چُنری لی جاتی ہے۔ گج کی سب سے نمایاں پہچان اس پر کی گئی باریک کڑھائی کے ڈیزائن اکثر فطرت، مور، پھولوں اور قدیم علامتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔گج پر کیے جانے والے اور آئینے کے کام کو مقامی زبان میں شیشہ کاری بھی کہا جاتا ہے۔

    یہ لباس زیادہ تر سوتی کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے، تاکہ تھر کی شدید گرمی میں پہننا آسان رہے۔ گج میں استعمال ہونے والے شوخ اور گہرے رنگ محض خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ان کے اپنے معنی ہوتے ہیں۔
    سرخ رنگ خوشی، محبت اور شادی شدہ زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پیلا رنگ خوشحالی، سورج اور زندگی کی توانائی کی نشانی ہے۔ سبز رنگ بارش، امید اور زرخیزی سے جڑا ہوا ہے، جو تھر جیسے خشک خطے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ نیلا رنگ آسمان، وسعت اور صبر کی علامت مانا جاتا ہے۔

    یہ رنگ صحرا کی یکسانیت میں زندگی اور خوشی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

    پر مائیں، دادی اور بزرگ عورتیں لڑکیوں کے لیے گج تیار کرتی ہیں، اور اس عمل میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔

     

     

    گج کی کڑھائی صرف زیبائش کے لیے نہیں ہوتی۔ آئینے کا استعمال روایتی طور پر سورج کی تیز روشنی کو منعکس کرنے کے لیے بھی کیا جاتا تھا، تاکہ گرمی کی شدت کم محسوس ہو۔ 

    گج کی کڑھائی میں بننے والے ڈیزائن بھی خاص پیغام رکھتے ہیں۔ مور کے نقش زرخیزی اور خوبصورتی کی علامت ہیں۔ پھول اور بیلیں زندگی کے تسلسل اور خاندان کے پھیلاؤ کی نشانی سمجھی جاتی ہیں۔ بعض گجوں میں بنے جیومیٹریائی نقش اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پہننے والی عورت شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ۔

    ایک کم معلوم مگر اہم بات یہ ہے کہ گج کے ڈیزائن سے عورت کی ازدواجی زندگی کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شادی کے بعد خواتین زیادہ بھاری کڑھائی اور شوخ رنگوں والی گج پہنتی ہیں، جبکہ کم عمر یا غیر شادی شدہ لڑکیوں کی گج نسبتاً سادہ ہوتی ہے۔ بعض علاقوں میں مخصوص رنگ یا ڈیزائن بیوہ یا عمر رسیدہ خواتین کی شناخت بھی بن جاتے ہیں۔

    تھر کی لڑکیاں گج کی تیاری میں خود بھی حصہ لیتی ہیں۔ شادی یا خاص تہواروں کے لیے گج مہینوں پہلے تیار کیا جاتا ہے، اور یہ ایک طرح سے خواتین کی مہارت اور شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    گج عموماً روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ شادیوں، میلوں، تھر کے تہواروں اور خاص تقریبات میں پہنی جاتی ہے۔ آج بھی تھرپارکر کے کئی دیہات میں گج خواتین کی شناخت، مہارت اور ثقافتی وقار کی علامت ہے۔

    یوں گج صرف ایک لباس نہیں بلکہ تھر کی عورت کی زندگی، اس کے خواب، اس کی محنت اور اس کے سماجی مقام کی خاموش کہانی سناتی ہے۔

    آج بھی تھرپارکر کے دیہات میں گج روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، جبکہ شہروں میں یہ زیادہ تر ثقافتی تقریبات، میلوں اور خاص مواقع پر پہنی جاتی ہے۔ گج تھر کی خواتین کی سادگی، محنت اور ثقافتی خود اعتمادی کی زندہ علامت ہے۔

  • کیسریا بالما، محبت، ہجر اور صحرا کی صدیوں پرانی صدا

    کیسریا بالما، محبت، ہجر اور صحرا کی صدیوں پرانی صدا

    صحرائے تھر کا مشہور اور مقبول لوک گیت کیسریا بالما آؤ رے، پدھارو مانرے دیس محض ایک نغمہ نہیں بلکہ محبت، جدائی، انتظار اور وصال کی پوری تہذیبی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ گیت صدیوں سے استاد گویوں، لوک فنکاروں اور عام دیہاتی لوگوں کی زبان پر یکساں طور پر زندہ ہے۔

    تھر کے دیہات میں جب کوئی اپنا عزیز پردیس سے واپس بلانا ہو، یا کسی پردیسی سے محبت کا اظہار کرنا ہو، تو الفاظ خود بخود کیسریا بالما کے سروں میں ڈھل جاتے ہیں۔

    اس گیت کو سنتے ہوئے یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ محبت کا ساتواں سر کیسے گایا جاتا ہے۔ دل کے ساز پر راگ کیسے آگ بن کر دہک اٹھتا ہے۔ صحرا میں نکلے پورے چاند کی روشنی، ریت کے ٹیلوں پر بکھرا سکوت اور دل میں اترتا حسن کیوں عمر بھر یاد رہ جاتا ہے۔ ہجر کے بستر پر دکھوں کی چادر اوڑھ کر سونا، انتظار کی تپش میں جلتی آنکھوں کے خواب اور ان خوابوں کا ٹوٹ جانا، یہ سب کیفیتیں اس لوک گیت کے ہر بول میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔

    کیسریا بالما کا انترا پورے گیت کی جان سمجھا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق اس انترا سے پہلے لوک دوہے، چھند اور مختلف شاعروں کے فراقیہ اشعار گائے جاتے ہیں۔ یہ اشعار صحرا کی رات کی ٹھنڈک اور دن کی تپش، دونوں کو ایک ساتھ اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب صحرا سے دور بیٹھا کوئی شخص اس گیت کی دھن سنتا ہے تو اس کی آنکھوں میں ریت کے ٹیلے، اڑتی دھول اور لمبے سفر تیرنے لگتے ہیں۔

    دل چاہتا ہے کہ وہ دوڑ کر اس دھرتی کی طرف لوٹ جائے جہاں محبت اور قربانی کو زندگی کی سب سے بڑی قدر سمجھا جاتا ہے۔

    اس گیت کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے راجپوت روایتوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ ایک رائے کے مطابق کیسریا بالما کا تعلق راجپوتوں کی رسم ساکا سے ہے۔ تاریخ میں ساکا اس اجتماعی عمل کو کہا جاتا تھا جس میں انتہائی مشکل حالات میں مرد میدانِ جنگ میں آخری دم تک لڑنے کا عہد کرتے تھے، جب کہ عورتیں دشمن کے ہاتھ آنے سے پہلے جوہر کی رسم ادا کرتی تھیں۔

    جوہر عام طور پر رات کے وقت انجام دیا جاتا تھا، خواتین اپنی شادی کا لباس پہن کر اس رسم کو ادا کرتیں اور برہمن پجاری وید کے منتر پڑھتے تھے۔ مرد حضرات جوہر کے بعد راجپوتانیوں کی راکھ اپنے ماتھے پر لگا کر زعفرانی لباس پہنتے اور دشمن کے خلاف نکل پڑتے تھے۔

    اسی زعفرانی رنگ اور قربانی کے تصور کو کیسریا کہا گیا۔ جوہر اور کیسریا کے امتزاج کو ساکا کے نام سے جانا جاتا تھا۔

    بھاٹ، چارن اور منگنہار جیسے لوک فنکاروں نے ان واقعات کو اپنی رزمیہ شاعری میں محفوظ کیا۔ یہی رزمیہ اور فراقیہ روایت آگے چل کر کیسریا بالما جیسے لوک گیتوں میں ڈھل گئی، جہاں محبوب کو بلانا محض ذاتی خواہش نہیں بلکہ وفا، عہد اور قربانی کی علامت بن گیا۔

    کچھ محققین اس لوک گیت کو صحرائے تھر کی مشہور رومانوی داستان ڈھولا مارو سے بھی جوڑتے ہیں۔ ڈھولا مارو تھر کی منظوم داستانوں میں سب سے زیادہ معروف سمجھی جاتی ہے۔

    اس داستان میں محبت، جدوجہد، تلاش اور انسانی وجود کی کشمکش کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ آج کے دور میں بھی اس کی معنویت کم نہیں ہوئی۔ اس روایت میں مارو اپنے محبوب ڈھولا کو پکارتی ہے اور صحرا کی وسعت، روایات اور خوشی و غم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اسے اپنے دیس آنے کی دعوت دیتی ہے۔

    لفظ بالم کا مطلب پیارا یا محبوب ہے، جبکہ کیسریا زرد، زعفرانی پیلے، نارنجی اور بھگوا رنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ زعفران کے اندرونی باریک ریشوں کو کیسر کہا جاتا ہے، جو خوشبو، رنگ اور قدروقیمت کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

    زعفران کا پودا قد میں چھوٹا ہوتا ہے، اس کے پتے چنبیلی سے مشابہ اور جڑ پیاز کی مانند گول ہوتی ہے۔ اس کے پھول کے درمیان تین یا چار باریک ریشے ہوتے ہیں جو پانی میں ڈالنے سے فوراً رنگ چھوڑ دیتے ہیں۔ طب میں بھی زعفران صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔

    کارونجھر کے علاقے میں ایک مقامی بیل کیسوڑو کہلاتی ہے، جس کے خوبصورت پیلے پھولوں کو کیسریا گل بھی کہا جاتا ہے۔ لوک گیت میں آیا ہوا کیسریا پھول زعفران ہو یا کیسوڑو، اس پر محققین کی آرا مختلف ہیں، مگر گیت میں گوری کا بالم کیسریا کہلانا اسے رنگ، خوشبو اور تقدس کی علامت بنا دیتا ہے۔

    یہاں محبوب کا رنگ محبوبہ کے وجود میں سرایت کر جاتا ہے اور کامنی اپنے کیسریا پیا کے رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

    آج بھی صحرائے تھر میں دیہاتی خواتین فطری خوبصورتی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ جب وہ پیروں میں جھانجھر، ہاتھوں میں جھمکے، کانوں میں بالیاں، ناک میں نتھنی، گلے میں ہار اور ماتھے پر بندیا سجا کر یہ گیت گاتی ہیں تو منظر ایسا ہوتا ہے جیسے چودھویں کا چاند بھی اپنی روشنی پر نادم ہو جائے۔

    پتلی کمر والی صحرائی عورتیں اپنی پریت سے عشق اور وفا کی علامت بن کر کیسریا بالما گاتی ہیں اور یہ صدا نسل در نسل سفر کرتی رہتی ہے۔

    کیسریا بالما کا کوئی ایک حتمی پس منظر طے کرنا آسان نہیں، مگر یہی اس کی اصل طاقت ہے۔ یہ گیت تاریخ، دیومالا، محبت اور انسانی جذبوں کے سنگم پر کھڑا ہے۔ شاید اسی لیے یہ نغمہ آج بھی صحرا کی خاموش راتوں میں، دور دیس میں بیٹھے دلوں میں اور ہر اس شخص کے اندر زندہ ہے جو محبت کو فاصلے سے ناپنے کے بجائے انتظار سے پہچانتا ہے۔

    1

    کیسریا بالم آؤ نے، پدھارو مانرے دیس

    پدھارو مانرے دیس،

    کیسریا بالم آؤ نے، پدھارو مانرے دیس

    ساون آون کہے گیو کر گیو قول انیک

    گنتے گنتے گھٹ گئی  مانری انگڑیاں ری ریکھ

    کانگا سب تن کھائیو، چن چن کھایو ماس،

    دو نیناں مت کھائیو، مویے پیا ملن کی آس

    ساجن یہ  مت جانیئے تو بچھڑے موہے چین

    جیسے جل بن مچھلی تڑپت ہے دن رین

     

    ساجن آیا اے سکھی، سو تاں منوہار کراں،

    تھال بھراں گج موتیاں را، اوپر نین دھراں۔

    جو میں ایسا جانتی پریت کیئے دکھ ہو،

    نگر ڈھنڈھورا پیٹتی کہ پریت نا کرئے کو۔

    ساجن ہم تم ایک ہیں،  جوکہن سنن میں دو،

    من کو من سے تولئیے، کبھی دو من نا ہو

    ترجمہ :

    کیسریا بالم آؤ رے، پدھارو  میرے دیس

    پدھارو میرے دیس،

    کیسریا بالم آؤ رے، پدھارو میرے دیس

    ساون میں آ نے کا  کہہ کر  کر گیا وعدے انیک

    گنتے گنتے مٹ گئی رے میری انگلیوں کی ریکھ

    ارے کوا سب تن کھاؤ رے ، چن چن کھاؤ ماس،

    دو آنکھیں نہیں کھانا رے، مجھے پیا ملن کی آس

    ساجن یہ  نہیں سمجھنا، تیری جدائی موہے چین

    جیسے پانی  بن مچھلی،  تڑپتی  ہے دن رین

    ساجن آیا ہےسکھی،  کیسے استقبال کروں،

    تھال  بھرے  ساچے موتی ، اوپر نین دھروں۔

    جو میں ایسا جانتی پریت کیے دکھ ہوئے،

    نگر ڈھنڈورا پیٹتی کہ پریت نا کیجو کوئے ۔

    ساجن ہم تم ایک ہیں، جو کہنے سننے میں دو،

    من کو من سے تولیے ، کبھی  دو من نہ ہو

     

    2

    کیسریا بالم آؤ رے، پدھارو رے مانرے دیس

    مانرے من را ساچا، آؤ رے، پدھارو رے مانرے دیس

    آون جاون کہے گیو کرے گیو قول انیک

    گنتے گنتے گس گئی مانرے انگڑیاں ری ریکھ

    سورج تھانے پوجساں بھر موتیڑاں کو تھال،

    آج موڑا اوگجو   مانرو بالم  رمے شکار

    ترجمہ :

    کیسریا بالم آؤ رے پدھارو رے میرے دیس

    میرے من کے ساچے، آؤ رے پدھارو رے میرے دیس

    آنے جانے کا کہہ کر گیا کیے وعدے انیک

    گنتے گنتے مٹ گئی میرے انگلیوں کی ریکھ

    سورج تیری پوجا کروں گی بھر موتیاں کا تھال،

    آج دیر سے طلوع ہونا میرا بالم  کھیلے شکار

    3

    کیسریا بالما، آئو رے ، پدھارو رے مانرے دیس

    تجھ بن موہے چین نا آوے کیوں بیٹھ رہیو پردیس

    کیسریا بالما، آئو رے ، مانرے دیس

    ساون آیا بھول گیا نا آپ آیا نہ کو سندیس

    کیسریا بالما، آئو رے ، مانرے دیس

    ترجمہ :

     

    کیسریا بالم، آؤ رے، پدھارو رے میرے دیس

    تجھ بن مجھے چین نہیں آئے کیوں بیٹھ گئے ہو پردیس

    کیسریا بالم، آؤ رے، میرے دیس

    ساون آیا بھول گئے نا آئے نا کوئی سندیس

    کیسریا بالم، آؤ رے، میرے دیس

  • تھر میں غیر قانونی شکار، نگرپارکر میں زخمی ہرن پر مقامی افراد کا احتجاج

    تھر میں غیر قانونی شکار، نگرپارکر میں زخمی ہرن پر مقامی افراد کا احتجاج

    تھر کے علاقے نگرپارکر تحصیل کے گاؤں بہرائو میں ایک اور ہرن غیر قانونی شکار کا نشانہ بن گیا۔ مقامی افراد کے مطابق زخمی حالت میں ملنے والے ہرن کی اگلی دونوں ٹانگیں بری طرح ٹوٹی ہوئی تھیں، جس کے باعث وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا۔

    معروف گلوکار سیف سمیجو کو ویڈیو میں محکمہ جنگلی حیات سندھ کے افسر کے ساتھ مقالمہ کرتے دیکھا گیا۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ تھر کے قدرتی ماحول کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ویڈیو میں مقامی باشندے سندھی زبان میں اس واقعے پر افسوس اور غم و غصے کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ تھر میں پائے جانے والے ہرن، جنہیں مقامی طور پر چنکارا کہا جاتا ہے، سخت موسمی حالات میں بھی زندہ رہنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ علاقے کے قدرتی توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ جانور کم پانی میں گزارا کر لیتے ہیں اور تھر کے نایاب پودوں کے بیج پھیلانے میں مدد دیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق غیر قانونی شکار، خصوصاً تھر جیسے نازک ماحولیاتی نظام میں، جنگلی حیات کی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ سندھ وائلڈ لائف قوانین کے تحت ہرن کا شکار ممنوع ہے اور اس پر سزا بھی مقرر ہے، تاہم مقامی سطح پر مؤثر نگرانی کی کمی کے باعث ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

    مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیں، غیر قانونی شکار میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کریں اور تھر کی جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ دہرائے جائیں۔

     

  • صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے نواحی گاؤں جام خان جو وانڈھیو میں موجود پیلو کا درخت آج بھی اپنی مضبوط جڑوں اور پھیلی ہوئی شاخوں کے ساتھ قائم ہے۔ یہ درخت مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً 150 سال پرانا ہے اور تھر کے سخت موسموں، قحط اور تیز ہواؤں کا خاموش گواہ رہا ہے۔ ریگستانی خطے میں اس نوعیت کے قدیم درخت اب بہت کم رہ گئے ہیں، اسی لیے یہ پیلو خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    اس درخت کے سائے کی وسعت مقامی روایت میں مثال کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ گاؤں کے بزرگ جام خان کے پوتے ساگر خاصخیلی کے مطابق پیلو اتنا وسیع ہے کہ اس کے نیچے بیک وقت 150 افراد ‘آرام’ سے بیٹھ سکتے ہیں۔ تھر جیسے گرم اور خشک علاقے میں ایسا سایہ کسی نعمت سے کم نہیں سمجھا جاتا۔

    پیلو کا یہ درخت صرف قدرتی حسن تک محدود نہیں بلکہ گاؤں کی سماجی زندگی کا مرکز بھی رہا ہے۔ ماضی میں گاؤں کے فیصلے، مشورے اور اجتماعی بیٹھکیں اسی درخت کے نیچے ہوا کرتی تھیں۔ مسافر، چرواہے اور مقامی لوگ گرمی کی شدت میں یہاں سستا کر دم لیتے تھے۔

    نگرپارکر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پیلو کے درخت کو خاص تقدس حاصل ہے۔ اس کے پھل مقامی خوراک میں استعمال ہوتے رہے ہیں جبکہ اس کی چھال اور پتے روایتی علاج میں بھی کام آتے ہیں۔ ریگستانی ماحول میں پیلو ان چند درختوں میں شامل ہے جو کم پانی میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پیلو کی جڑیں زمین میں گہرائی تک پھیلی ہوتی ہیں، جو اسے طویل عرصے تک قائم رہنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید خشک سالی کے باوجود یہ درخت سبز رہتا ہے۔ مقامی لوگ اسے صبر، برداشت اور بقا کی علامت سمجھتے ہیں۔

    یہ درخت اب گاؤں کی شناخت اور سیاحتی کشش کا اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ اس پیلو کو دیکھنے کے لیے مختلف علاقوں سے سیاح یہاں آتے ہیں، جن کا مقامی لوگ روایتی انداز میں استقبال کرتے ہیں۔ مہمانوں کو اپنے گھروں میں بٹھایا جاتا ہے، مقامی کھانے پیش کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزار کر تھر کی روایتی مہمان نوازی کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

    جام خان جو وانڈھیو کے رہنے والوں کے لیے یہ محض ایک درخت نہیں بلکہ یادوں اور روایتوں کا مرکز ہے۔ بچوں کی کھیل کود، بزرگوں کی باتیں اور مسافروں کی کہانیاں سب اسی سائے میں پروان چڑھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درخت گاؤں کے اجتماعی تشخص کا حصہ بن چکا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ پیلو کے درخت کو صحرائی ماحول میں قدرتی پانی صاف کرنے والا نظام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی جڑیں زیر زمین نمی کو محفوظ رکھ کر اردگرد کی مٹی میں پانی کی مقدار برقرار رکھتی ہیں۔ یہ خصوصیت آس پاس کی نباتات اور چرند پرند کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

    آج جب تھرپارکر میں ماحولیاتی تبدیلی اور درختوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جام خان جو وانڈھیو کا یہ پیلو درخت قدرتی ورثے کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ درخت یاد دلاتا ہے کہ ریگستان میں زندگی کا دارومدار مضبوط جڑوں، سایے اور انسانوں کے باہمی رشتوں کی قدر پر ہوتا ہے۔