Tag: تھر

  • ‘کانگسیو’ جیسا گیت گاکر تھر میں جادو جگانے والے لوک تھری گلوکار حیدر رند

    ‘کانگسیو’ جیسا گیت گاکر تھر میں جادو جگانے والے لوک تھری گلوکار حیدر رند

    حیدر رند اپنے دور کے ایک ایسے لوک گلوکار تھے جن کی آواز کی تانوں پر صحرائی لوگوں کے دل دھڑکتے تھے۔ انہوں نے تھر کے منفرد لوک گیت گا کر یہاں کے سادہ لوح مارو لوگوں، یعنی صحرائی باسیوں، کی امیدوں اور مایوسیوں کی بھرپور ترجمانی کی۔

    1940 میں تحصیل چھاچھرو کے گاؤں کریم داد میں گھنور کے گھر جنم لینے والے حیدر رند کا 23 دسمبر 2021 کی شام جب انتقال ہوا تو نہ صرف تعلقہ چھاچھرو کے گاؤں ‘کریم داد رند’ کے ریتلے ٹیلوں سے سسکیاں ابھریں بلکہ برصغیر کے وسیع صحرا، تھر، میں لاکھوں لوگوں کے دل روئے تھے۔

    حیدر رند معصوم طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے گائیکی سے پیسوں سے زیادہ سامعین کا پیار کمایا، جس پر انہیں زندگی بھر فخر رہا۔ علیم خان خاصخیلی کے الغوزے کی مدھر دھنوں پر سامعین کے فرمائشی نام لے کر اپنی گائیکی کا آغاز کرنے والے حیدر رند جب محفل میں لوک گیت گا کر سماں باندھ دیتے تھے تو پھر اپنے سامعین سے مخصوص انداز میں مخاطب ہو کر کہتے تھے:

    ‘مجھے عشق کی چوٹ نے کسی رئیس کے مرتبے سے اٹھا کر ایک فقیر گلوکار بنا دیا ہے، اب ہم درد گا کر روح کو تسکین دے رہے ہیں۔ درد کے فقیر فطرت کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ فطرت کا پیار چاند جیسا ہے، کبھی بڑھتا ہے تو کبھی گھٹتا ہے، لیکن پیار کا سفر کبھی چھوڑا نہیں جاتا۔’

    حیدر رند نے گائیکی کا آغاز 1970 کی دہائی میں کیا۔ موسیقی میں ان کے استاد کانجی میگھواڑ تھے، جن کے ساتھ مل کر حیدر رند رواداری کی روایت کے تحت مذہبی و سماجی سنگتوں، ست سنگ، میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے بھگتی رنگ میں بھجن، مذہبی گیت، بھی گائے۔

    انہوں نے میرا بائی کی طرح ویراگ، درویشی، کی راہ پر چلتے ہوئے کانھوڑا بھگتی کے گیت بھی گائے۔ انہوں نے اپنے محبوب تک پہنچنے کے راستے تلاش کیے، لیکن 1971 کی جنگ نے انہیں ان کے محبوب سے دور کر دیا۔ حیدر رند اپنے پیار کے پیچھے جوگی بن کر نکل پڑے، کندھے پر جھولی لٹکائے اور ہاتھ میں مرلی تھامے صدا لگائی کہ:

    ‘میں اپنے پردیسی کے لیے جوگی بن کر جاؤں گا،
    طوطا بن کر پنجرے میں رہوں گا، البیلا جوگی بن کر جاؤں گا،
    ہلکی ہلکی بھبھوت، راکھ، اپنے بدن پر ملوں گا،
    اور در در سے بھیک مانگوں گا،
    جوگی بن کر جاؤں گا۔’

    لیکن طویل سفر کی صعوبتیں جھیلنے کے باوجود حیدر رند کی اپنے محبوب سے ملاقات نہ ہو سکی۔ وہ گاؤں گاؤں کی خاک چھان کر مایوس دل کے ساتھ واپس اپنے آبائی گاؤں لوٹ آئے، جہاں سے انہوں نے محبت کی تپش کے ساتھ ‘کانگسیو’، کنگھی، نامی لوک گیت گا کر اپنے محبوب کے دیس بھیجا۔ ‘کانگسیو’ لوک گیت کے بولوں نے یہ کمال کیا کہ حیدر رند کے درد کی داستان ان کے دلبر تک پہنچ گئی، جو خود بھی ان کی تڑپ میں بے قرار تھا۔

    وقت کے بہاؤ نے حیدر رند کے محبوب کو واپس اپنی مٹی کی طرف لوٹا دیا۔ وہاں حیدر رند کے اپنے پیار کے ساتھ وہی پرانے لاڈ پیار اور مراسم دوبارہ قائم ہو سکے یا نہیں، لیکن موسیقی کے ساتھ ان کا دل ایسا جڑا کہ انہوں نے ہر نئے دن اور نئے سال تھر کے لوک گیت گاتے ہوئے اپنی شناخت ایک لوک گلوکار کے طور پر مستحکم کر لی۔

    برادریوں کی شادیوں اور تقریبوں سے لے کر نجی محفلوں تک گونجنے والی ان کی آواز ‘سانیو ٹیپ ریکارڈر’ میں ریکارڈ ہو کر البیلے نوجوانوں کے محبت کے تحفوں کا حصہ بننے لگی۔

    1984 اور 1985 کے آس پاس کریم داد کے علاقے کے نوجوان حیدر رند کے گائے ہوئے گیت ریکارڈ کر کے عمرکوٹ لے آئے، جہاں سے ان کی آواز میرپورخاص کی ایک نجی کیسٹ کمپنی ‘تھر پروڈکشن’ کے مالک تک پہنچی۔

    انہوں نے حیدر رند کی آواز سنتے ہی تھر پروڈکشن کے ملازم اور گلوکار میو فقیر کو تھر بھیجا کہ اس گلوکار کو ڈھونڈ کر لاؤ، ہم اس کی کیسٹ ریکارڈ کریں گے۔

    میو فقیر تھر آ کر پوچھ گچھ کے بعد حیدر رند کو میرپورخاص لے گیا، جہاں علیم خان خاصخیلی کے الغوزے کی سنگت کے ساتھ حیدر رند کی کیسٹ ریکارڈ ہوئی۔ اس کے بعد ‘سو ساٹھ پہ کانٹا’، تیز رفتار مقبولیت کے استعارے کے طور پر، حیدر رند کی آواز مقامی محفلوں سے نکل کر کیسٹ کے ذریعے سندھ کے کونے کونے اور بستی بستی میں گونجنے لگی اور ہر طرف واہ واہ مچ گئی۔

    کہا جاتا ہے کہ میرپورخاص کی نجی کیسٹ کمپنی کی طرف سے جاری کی گئی ان کی پہلی کیسٹ ایک ماہ کے اندر ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد فروخت ہوئی تھی، جس پر تھر پروڈکشن کے مالک نے اس تھری فنکار کو تحفے میں ایک گاڑی دی۔ اس طرح حیدر رند کیسٹ کی دنیا میں متعارف ہوئے، دیگر کمپنیوں نے بھی رابطے کیے اور حیدر رند کیسٹوں کی دنیا میں تھری لوک موسیقی کے بادشاہ بن گئے۔ ان کی 150 سے زائد کیسٹیں ریلیز ہوئیں۔

    حیدر رند کی شہرت اس حد تک بڑھ گئی کہ عوامی گلوکار سے محبت کرنے والے دیہاتی ان سے محفل کا وقت، تاریخ، طے کرنے کے بعد ہی شادی بیاہ کی دعوت کا اعلان کرتے تھے۔ 80 اور 90 کی دہائیاں عوامی لوک موسیقی کے عروج کا دور تھیں۔ دیگر فنکاروں نے گا کر دولت سمیٹی، لیکن سچے دل کے مالک اس سادہ فنکار نے لوگوں کا پیار سمیٹا۔

    انہوں نے کبھی محفل کا حساب کتاب نہیں کیا، جو مل گیا ٹھیک، نہ ملا تو بھی کوئی گلہ نہیں۔ وہ سروں اور موسیقی کی تال پر خوش رہتے تھے۔ اس دور میں حیدر رند کو ریڈیو اور ٹی وی پروگراموں میں بھی گانے کا موقع ملا، جہاں انہوں نے اپنی عوامی گائیکی سے لوگوں کے دلوں کو گرمایا۔

    حیدر رند نے سندھی، ڈھاٹکی، مارواڑی، سرائیکی اور گجراتی زبانوں میں گایا، لیکن ان کے مارواڑی اور ڈھاٹکی زبان میں گائے گئے گیت سب سے زیادہ مقبول ہوئے۔

    شکور عرف شکوریا نہڑی کی برصغیر کے اس بڑے صحرا میں ایک بااثر باغی اور ڈاکو کے طور پر دھاک بیٹھی ہوئی تھی، لیکن انہوں نے راجپوتوں کے قبیلوں میں شادیاں رچانے اور غریب بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے میں جو سماجی کردار ادا کیا، اس نے انہیں لوک گیتوں کا ایک لازوال کردار بنا دیا۔

    شکور کو جب دھوکے سے مارا گیا تو راجپوت برادری میں کہرام مچ گیا۔ شکور کی یاد میں میراثیوں، منگنہاروں اور لوک گلوکاروں نے ان کی بہادری اور دردناک رخصتی کے نوحوں کو لوک گیتوں میں پرویا۔ شکور کی یاد میں حیدر رند کا گایا ہوا یہ گیت بھی بے حد مقبول ہوا:

    ‘واہ رے شکور نہڑی جوان،
    تیرا دنیا نے مان رکھا، واہ رے،
    مولا نے تیرا مان رکھا، واہ رے شکور نوجوان۔’

    لیکن جب وقت نے پلٹا کھایا اور کیسٹ کمپنیوں کا دور ختم ہوا تو حیدر رند بھی اپنے گاؤں واپس آ کر گوشہ نشین ہو گئے۔ کبھی کبھار کسی مخلص دوست کے بلانے پر محفل سجانے چلے جاتے تھے، لیکن زیادہ تر وقت گاؤں ہی میں گزرتا تھا۔ 12 مارچ

    2017 کو میں اپنے پیارے دوست جان محمد سمو کے ساتھ حیدر رند سے ملنے ان کے گاؤں ‘کریم داد’ گیا، لیکن اتفاق سے اس دن حیدر رند چھاچھرو شہر گئے ہوئے تھے۔

    ان سے بالمشافہ گفتگو تو نہ ہو سکی، لیکن ان کی اوطاق، بیٹھک، پر ان کے صاحبزادے اور دیگر دیہاتیوں سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ گاؤں پر حیدر رند کی گائیکی کا یہ اثر ہے کہ وہاں کے اکثر نوجوان انہی کے انداز میں گاتے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی گاؤں کے ریتلے ٹیلوں میں لوک گیتوں کی گونج ابھرنے لگتی ہے:

    ‘موریا رے موریا، میٹھو تو بولیو۔’

    ‘تلریا رے مگریا رے موراں بائی لارے رہ گئے۔’

    ‘ماں، منے کانگسئے رلائی۔’

    ‘آچ پکی پردیسی، تو کے سینے لگایاں۔’

    ‘اسیں مارو تھر را۔’

    حیدر رند کے گاؤں میں دیہاتیوں کے ساتھ طویل کچہری کے بعد دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ چھاچھرو پہنچنے تک لوک گیتوں کی گونج ہمارے کانوں میں بازگشت بن کر گونجتی رہی۔

    جدید دور کے نئے اسٹوڈیوز تو حیدر رند کو میسر نہ آ سکے، لیکن ان کی لوک گائیکی کے دلدادہ نوجوانوں نے ‘گوگل’ اور ‘یوٹیوب’ کے راستوں پر چلتے ہوئے ان کے گائے ہوئے لوک گیتوں کو آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں محفوظ کر لیا ہے۔

    جہازوں سے اتر کر ‘پراڈو’ اور ڈبل کیبن گاڑیوں میں سفر کرنے والے کارپوریٹ اور بیوروکریٹک طبقے کے بڑے لوگ یا ‘رے بین’ کے امپورٹڈ چشمے لگانے والے شہری ‘بابو’ انٹرنیٹ کے ذریعے ان کے لوک گیت کبھی ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں یا نہیں، لیکن تھر کے دیہاتی لوگ جب شہر سودا سلف خریدنے آتے ہیں تو موبائل کی دکانوں سے اپنے موبائل کے میموری کارڈ میں حیدر رند کے گیت ضرور بھرواتے ہیں اور صحرا میں کنڈی کے درختوں کی چھاؤں تلے بیٹھ کر بڑے شوق سے سنتے ہیں۔

  • تھر کی لوک دانش: فطرت کے اشارے اور شگون

    تھر کی لوک دانش: فطرت کے اشارے اور شگون

    فطرت کے قریب رہنے والے لوگ درختوں، پودوں اور بیلوں کی شاخوں، کونپلوں، پتوں، پھولوں، پھلوں اور زمین، آسمان، سورج، چاند، تاروں اور نکشتروں (نکشتوں) کے رنگ و روپ اور ان کے طلوع و غروب کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات اور مویشیوں کی اچانک بدلتی ہوئی بولی، حرکات و سکنات اور جسم کی رنگت و بو کے ذریعے بھانپ لیتے ہیں کہ فطرت میں کیا ہونے والا ہے۔ اسے مقامی زبان میں "سوڻ ساٺ” (شگون) اور آثار کہا جاتا ہے۔

    تھر دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا سرسبز ریگستان ہے، جس کی کثیر آبادی فطرت کی گود سے حاصل ہونے والے قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ یہاں کے باسیوں نے صدیوں کے سفر میں بقا کی جنگ لڑتے ہوئے، قدرتی آفات کے رونما ہونے سے پہلے ان کا ادراک کرنے کے آثار اور روزمرہ کے کام کاج کے حوالے سے مختلف شگون اپنی لوک دانش (لوک ڏاهپ) کی جھولی میں ڈالے ہیں۔

    عالمی موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کے اثرات اور ماحولیاتی بگاڑ کی وجہ سے ان قدرتی اشاروں میں کتنا بدلاؤ آیا ہے اور ان روایتی شگونوں کی کتنی ساکھ باقی رہی ہے؟ یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے، جس پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سے پہلے، لوک دانش کے عنوان کے تحت تھر میں قدرتی آفات کو بھانپنے کے آثار، شگونوں اور ان کو سمجھنے والے لوک داناؤں کے حالاتِ زندگی (جیون خاکوں) کو محفوظ کر کے نئی نسل تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    رات کا سفر اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری

    تھر میں رات کے وقت سمتوں اور اوقات کا تعین تاروں اور نکشتروں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ مویشیوں کو باڑے (وٿاڻ) سے نکالنے یا واپس لانے کے وقت آسمان پر نظر ڈال کر نکشتر دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی کو گاؤں یا ٹھکانے کا پتہ بتانا ہو تو کہا جاتا ہے کہ "وہ فلاں تارے کے نیچے ہے، بس اس تارے کی سمت رخ کر کے چلے جاؤ”۔

    صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے اپنی شاعری میں وقت گزرنے کے حوالے سے ‘نکشتوں’ اور سمت کی رہنمائی کے لیے تاروں کا تذکرہ کچھ اس انداز میں کیا ہے:

    نکٽ سڀ نئي ويا، آيو نه اوٺي،
    سوڍي جي ساءِ پئي گر لايم ڳوٺي،
    آءٌ تنهن لڍاڻي لوٺي، پسان جو پرينءُ ري۔
    (شاہ جو رسالو)

    ترجمہ: تمام ستارے غروب ہو گئے، لیکن وہ شتر سوار نہ آیا۔ سوڈھے (محبوب) کی چاہ میں، میں نے اپنے وجود کو روگ لگا لیا۔ میں اس لڈانو (گھر/میکدے) میں محبوب کے بنا ویران کھڑی ہوں۔

    اڀي اڀاريام، نکٽ سڀ نئي ويا،
    هڪ مَيو ٻيو مينڌرو، رات سڄي سارئام،
    ڳوڙها ڳل ڳاڙئام، سورج شاخون ڪڍيون۔
    (شاہ جو رسالو)

    ترجمہ: کھڑے کھڑے میں نے صبح کر دی اور تمام ستارے ڈوب گئے۔ ایک اونٹ اور دوسرا میندھرا (محبوب)، ساری رات میں ان کو ہی یاد کرتی رہی۔ رخساروں پر آنسو بہتے رہے، یہاں تک کہ سورج نے اپنی کرنیں بکھیر دیں۔

    هُن تاري هُن هيٺ،
    هت منهنجا سپرين،
    سڄڻ ماکي ميٺ،
    ڪَوڙا ٿين نه ڪڏهين۔
    (شاہ جو رسالو)

    ترجمہ: اس تارے کے نیچے، وہاں دور میرے محبوب بستے ہیں۔ سجن شہد سے بھی میٹھے ہیں، وہ کبھی کڑوے (تلخ) نہیں ہو سکتے۔

    نکشتر (تارے) اور ان کے اثرات

    کچھ تارے اور نکشتر بہت مشہور ہیں جنہیں فطرت کے قریب رہنے والے عام لوگ بھی پہچانتے ہیں۔ وہ ان کے طلوع و غروب اور دھرتی پر پڑنے والے اثرات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ تارے اور نکشتر ایسے ہیں جن کے بارے میں بڑے نجومی، علمِ جوتش (علمِ نجوم) کے ماہرین اور ماہرینِ فلکیات ہی جانتے ہیں۔

    اکثر نکشتوں کا زمین اور موسم پر 14 یا 15 دن تک اثر رہتا ہے، جبکہ کچھ نکشتر دوسرے نکشتوں کے ساتھ مل کر ایک یا دو دن اثر رکھتے ہیں۔ علمِ نجوم میں درج ذیل 28 نکشتر شمار کیے جاتے ہیں:

    اشونی، بھرنی، کارتک، روہنی، مرگشر، آردرا، پنروسو، پشیا، آشیلیشا، مگھا، پوروا پھالگنی، اترا پھالگنی، ہست، چترا، سواتی، وشاکھا، انورادھا، جیشٹھا، مول، پورواشاڈھا، ابھجیت، شروان، دھنشٹھا، شتبھشا (شت تارکا)، پوروا بھادرپدا، اترا بھادرپدا اور ریوتی۔

    ہندی میں اسے ‘نکشتر’ اور تھری لہجے میں ‘نکتر’ کہا جاتا ہے۔

    بارشوں کے شگون اور لوک کچہریاں

    برسات (چوماسے) کے ‘بھرنی’ نکشتر میں بجلی کا چمکنا اچھا نہیں مانا جاتا، اور ‘روہنی’ نکشتر کا برسنا بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ روہنی نکشتر عام طور پر مئی کے آخری ہفتے میں شروع ہوتا ہے۔ اگر روہنی نکشتر میں بارش ہو جائے تو پھر 72 دنوں تک بارش کا وقفہ (خشک سالی) پیدا ہو جاتا ہے، جسے تھری زبان میں ‘باہترو’ (ٻاهترو) کہا جاتا ہے۔

    تاہم، اگر ‘روہنی’ نکشتر میں شدید گرمی پڑے اور اس کے بعد ‘مرگشر’ نکشتر میں تیز ہوائیں چلیں، تو ‘آردرا’ (آدر) نکشتر میں بارش لازمی ہوتی ہے۔ اسی لیے تھر کی مشہور کہاوت ہے:

    "روہن تپے، مرگشر وائے، تو آدر میں اݨ پچھیو مینہ آوے”

    (یعنی: اگر روہنی تپے اور مرگشر میں ہوائیں چلیں، تو آردرا میں بن بلائے بارش برسے گی)۔

    ‘ننڍو وايو’ (چھوٹی ہوا) اور ‘وڏو وايو’ (بڑی ہوا) بھی انہی نکشتوں کے ساتھ آتے ہیں، جو تیز ہواؤں کے دن ہوتے ہیں لیکن ان میں بھی بارش کی امید (آگم جو آسرو) بندھی رہتی ہے۔

    نامور اسکالر ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ نے اپنی کتاب ‘رهاڻ هيرن کاڻ’ (محفلیں ہیروں کی کان) میں قطب تارے، ساتیرن (ستاروں کا جھرمٹ/دبِ اکبر)، کتی کے نکشتر (ثریا)، سہنڑو تارے، بچھو نکشتر، ٹیڑو نکشتر، لدھا تاروں، ایتھ تارے، صبح کے تارے، شام کے تارے اور جوگنی تارے کے بارے میں تھر کی بیٹھکوں (لوک کچہریوں) کے دلچسپ احوال بیان کیے ہیں۔

  • پانچ ٹانگوں والی تھر کی ‘بودلی گائے’، جس کی پوجا کی جاتی ہے

    پانچ ٹانگوں والی تھر کی ‘بودلی گائے’، جس کی پوجا کی جاتی ہے

    تھرپارکر اور عمرکوٹ کے بعض دیہی علاقوں میں ایک ایسی منفرد گائے پائی جاتی ہے جسے مقامی لوگ ‘بودلی گائے’ کے نام سے جانتے ہیں۔

    اس گائے کے جسم پر پیدائش سے ہی ایک اضافی عضو، جیسے چھوٹی ٹانگ، پاؤں یا زبان جیسی ساخت موجود ہوتی ہے، جسے مقامی ہندو برادری ایک مقدس نشانی تصور کرتی ہے۔ اسی عقیدت کے باعث بودلی گائے کو عام مویشیوں کی طرح نہیں رکھا جاتا، بلکہ اس کی خصوصی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

    تھر میں بودلی گائے عموماً جوگی یا سپیرا برادری کے پاس ہوتی ہے، جو نسل در نسل اس کی خدمت اور حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ عمرکوٹ کے قریب ویہرو گاؤں میں ایک بزرگ جوگی کے گھر میں اس وقت دو بودلی گائیں موجود ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سے لوگ آتے ہیں۔ گائے کی پیٹھ پر موجود اضافی عضو کو ہر وقت کپڑے یا چادر سے ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے، تاکہ اسے نقصان نہ پہنچے اور اس کا احترام برقرار رہے۔

    مقامی روایت کے مطابق بودلی گائے کو افزائش نسل کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ جس منفرد شکل میں یہ پیدا ہوتی ہے، اسی حالت میں اس کی حفاظت کرنا ضروری ہے، اس لیے اسے حاملہ نہیں ہونے دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی گائیں اپنی پوری زندگی خصوصی نگہداشت میں گزارتی ہیں۔

    روزانہ بڑی تعداد میں عقیدت مند بودلی گائے کو سبز چارہ، باجرہ، جوار، گندم کا بھوسہ، گڑ، آٹا اور روٹیاں پیش کرتے ہیں۔ بعض افراد منت پوری ہونے پر چارہ، گڑ یا دیگر خوراک بطور نذرانہ لاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ گائے کو ہاتھ لگا کر دعا کرتے اور اسے باعثِ برکت سمجھتے ہیں۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ بودلی گائے کو کسی میلے یا نمائش کی چیز نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے ایک روحانی امانت تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کی دیکھ بھال کرنے والے خاندان اسے فروخت کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں اور اسے اپنے پاس رکھنا باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق بودلی گائے کے انتقال کے بعد بھی اس کی یاد کو احترام سے محفوظ رکھا جاتا ہے اور برسوں تک اس کا تذکرہ عقیدت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

    تھر کے صحرائی معاشرے میں بودلی گائے محض ایک منفرد جانور نہیں، بلکہ مقامی عقیدے، لوک روایات اور ثقافتی شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔ جدید دور کے باوجود یہ روایت آج بھی تھر کے کئی دیہات میں زندہ ہے، جہاں لوگ اسے احترام، عقیدت اور اپنی تہذیبی وراثت کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

  • تھر کی دیواروں پر صدیوں پرانی نقش و نگار، جو صدیوں بعد بھی مقامی خواتین کو یاد ہیں۔

    تھر کی دیواروں پر صدیوں پرانی نقش و نگار، جو صدیوں بعد بھی مقامی خواتین کو یاد ہیں۔

    صحرائے تھر کی شامیں جب ریت پر اترتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زمین اپنی قدیم یادوں کو دوبارہ سانس دینے لگتی ہو۔ یہاں کے گھروں کی دیواریں صرف اینٹ، مٹی یا چونے سے نہیں بنتیں بلکہ ان پر بنی لکیریں، اشکال اور نقش صدیوں پرانی تہذیب کی خاموش زبان معلوم ہوتے ہیں۔ تھر کی عورتیں آج بھی اپنے گھروں کی دیواروں، صحن اور داخلی راستوں پر ایسے ڈیزائن بناتی ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ فن وقت سے بھی زیادہ قدیم ہے۔

    یہ نقش کسی آرٹ اسکول میں نہیں سکھائے جاتے، نہ ہی ان کے لیے کوئی کتاب موجود ہے۔ تھر کی عورتیں بچپن سے اپنی ماؤں اور دادیوں کو یہ ڈیزائن بناتے دیکھتی ہیں، پھر ایک دن انہی ہاتھوں میں وہی مہارت اتر آتی ہے۔ جیسے یہ فن نسلوں سے ان کے خون میں سفر کرتا آیا ہو۔ تھر کے کئی دیہات میں عورتیں آج بھی مقامی چونا، مٹی، قدرتی رنگ، کوئلے کی راکھ، سرخ مٹی اور بعض اوقات پتھروں سے حاصل کیے گئے رنگ استعمال کرتی ہیں۔ ان کے لیے یہ صرف سجاوٹ نہیں بلکہ شناخت، روایت اور یادداشت کا حصہ ہے۔

    اگر ان ڈیزائنز کو غور سے دیکھا جائے تو ان میں انسانی شکلیں، رقص کرتے کردار، جانور، مور، اونٹ، روزمرہ زندگی کے مناظر، مذہبی علامتیں اور فطرت کے اشارے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق برصغیر میں اس طرز کی علامتی تصویری روایت ہزاروں سال پرانی مانی جاتی ہے۔ بعض محققین اسے سندھ کی قدیم تہذیبوں، لوک علامتوں اور ابتدائی انسانی اظہار سے جوڑتے ہیں، جہاں دیواریں صرف رہائش کا حصہ نہیں بلکہ سماجی کہانیوں کی جگہ ہوا کرتی تھیں۔

    تھر میں گھر کی دیوار عورت کی شخصیت سمجھی جاتی ہے۔ جس گھر کی دیواروں پر جتنی نفاست اور تخلیقی نقش نگاری ہو، اسے اتنا ہی زندہ اور خوشحال تصور کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان عورتوں میں سے اکثریت نے کبھی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، مگر ان کے ہاتھ جیومیٹری، توازن اور علامتی آرٹ کی ایسی سمجھ رکھتے ہیں جو جدید ڈیزائنرز کو بھی حیران کر سکتی ہے۔

    یہ فن صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بنایا جاتا۔ تھر کی کئی خواتین کے مطابق ہر نقش کا ایک مطلب ہوتا ہے۔ کہیں یہ خوشحالی کی دعا ہے، کہیں بارش کی امید، کہیں خاندان کے اتحاد کی علامت، اور کہیں عورت کی داخلی طاقت کا اظہار۔ بعض دیواروں پر بنے رقص کرتے کردار خوشی اور تہوار کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ جانوروں کی شکلیں صحرائی زندگی سے تعلق اور فطرت کے احترام کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔

    تھر میں جب بارشیں کم ہوتی ہیں، قحط آتا ہے یا زندگی مشکل ہو جاتی ہے تب بھی یہ دیواریں رنگوں سے خالی نہیں ہوتیں۔ شاید اسی لیے تھر کی عورتیں اپنے گھروں کو صحرا کے درمیان امید کی طرح سجائے رکھتی ہیں۔ ان کے لیے خوبصورتی آسائش نہیں بلکہ مزاحمت ہے۔

    ماہرین ثقافت کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں صنعتی طرز زندگی نے مقامی آرٹ کو تیزی سے ختم کیا، مگر تھر میں یہ روایت آج بھی زندہ ہے کیونکہ یہاں عورتیں اسے محض فن نہیں بلکہ زندگی کا حصہ سمجھتی ہیں۔ وہ ڈیزائن بناتے وقت پیمائش نہیں کرتیں، خاکہ نہیں بناتیں، لیکن ان کے ہاتھوں کی حرکت میں ایک صدیوں پرانی یادداشت موجود ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ تھر کی دیواروں پر بنے یہ سادہ مگر پراسرار نقش دیکھنے والوں کو صرف خوبصورت نہیں لگتے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحرائے سندھ کی قدیم روح ابھی تک ان عورتوں کے ہاتھوں میں زندہ ہے۔

  • ’کھڑی نیم کے نیچے‘: تھر کے صحرا سے اٹھنے والا وہ لوک گیت جو انتظار کی علامت بن گیا

    ’کھڑی نیم کے نیچے‘: تھر کے صحرا سے اٹھنے والا وہ لوک گیت جو انتظار کی علامت بن گیا

    صحرائے تھر کی شامیں ایک خاص کیفیت رکھتی ہیں۔ ریت کے ٹیلوں پر دھیمی ہوا چلتی ہے، کہیں دور مور کی آواز سنائی دیتی ہے اور کبھی کسی تنہا درخت کے نیچے خاموشی کا ایک ایسا منظر بنتا ہے جس میں وقت جیسے ٹھہر جاتا ہے۔ تھر میں نیم کا درخت صرف سایہ دینے والا درخت نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ اکثر ملاقاتوں، انتظار اور کہانیوں کا گواہ بھی ہوتا ہے۔ اسی ماحول سے ایک ایسا لوک گیت پیدا ہوا جو وقت کے ساتھ سندھ کی ثقافتی شناخت بن گیا۔ اس گیت کا نام ہے ’کھڑی نیم کے نیچے‘۔

    یہ گیت سندھ کے ریگستانی خطے کی لوک روایت سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی زبان ڈھاٹکی اور مارواڑی کے امتزاج سے بنی ہوئی ہے۔ یہ زبان تھرپارکر، عمرکوٹ اور سرحد کے اُس پار بھارت کے راجستھان کے کچھ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اسی لیے اس گیت کی فضا میں صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پورے تھر اور راجستھان کے صحرائی کلچر کی جھلک ملتی ہے۔

    اس گیت کے لفظی معنی ہیں ‘میں نیم کے درخت کے نیچے تنہا کھڑی ہوں‘، مگر اس سادہ جملے کے پیچھے ایک پوری جذباتی دنیا پوشیدہ ہے۔

    لوک روایت کے مطابق اس گیت کی کہانی ایک لڑکی کے انتظار کے گرد گھومتی ہے۔ وہ نیم کے درخت کے نیچے کھڑی ہے اور اپنے محبوب کا انتظار کر رہی ہے۔ اس انتظار کے دوران موسم بدلتے ہیں، ہوائیں چلتی ہیں، بارش ہوتی ہے اور پرندے آواز دیتے ہیں، مگر اس کی امید ختم نہیں ہوتی۔ یہی انتظار اس گیت کو ایک عام محبت کے گیت سے بڑھا کر ایک علامتی داستان بنا دیتا ہے۔

    تھر کی کوئل مائی بھاگی اور اس گیت کی شہرت

    اگرچہ یہ گیت صدیوں پرانی لوک روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے، مگر اسے وسیع شہرت دلانے والی آواز مائی بھاگی کی تھی۔ مائی بھاگی کو سندھ میں ‘تھر کی کوئل’ کہا جاتا ہے۔ ان کا تعلق تھرپارکر کے ایک لوک موسیقار خاندان سے تھا۔ ان کی پیدائش تقریباً 1920 کے آس پاس تھر کے ایک گاؤں میں ہوئی۔ ان کے والدین بھی لوک گلوکار تھے اور موسیقی ان کے گھر کی روایت تھی۔ بچپن ہی سے انہوں نے صحرا کے گیت، صوفی کلام اور لوک داستانیں سننا اور گانا شروع کر دیا تھا۔

    مائی بھاگی نے ابتدا میں مقامی میلوں اور ثقافتی تقریبات میں گانا شروع کیا۔ اس دور میں لوک فنکاروں کے پاس زیادہ وسائل نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی موسیقی کو معاشی لحاظ سے مضبوط پیشہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کے باوجود وہ تھر کے روایتی گیتوں کو زندہ رکھنے کے لیے گاتی رہیں۔

    1960 کی دہائی میں ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ آیا جب انہوں نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں پہلی بار ‘کھڑی نیم کے نیچے’ گایا۔ اس وقت انہیں اس گیت کے عوض صرف بیس روپے معاوضہ ملا۔ لیکن یہ ریڈیو نشریات اس گیت کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوئی کیونکہ اس کے بعد یہ گیت سندھ کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے لگا۔

    اصل قومی شہرت اس گیت کو 1974 میں ملی، جب مائی بھاگی نے اسے پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش کیا۔ اس دور میں ٹیلی ویژن کی نشریات محدود تھیں مگر ان کی رسائی پورے ملک تک تھی۔ جب مائی بھاگی کی آواز میں یہ گیت نشر ہوا تو اس نے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی۔ یوں ایک صحرا کا سادہ سا گیت قومی ثقافتی شناخت کا حصہ بن گیا۔

    لوک گیت میں علامتوں کی دنیا

    تھر کے لوک گیتوں میں درخت، پرندے، بارش اور موسم اکثر علامتی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ عناصر صرف قدرتی منظر پیش نہیں کرتے بلکہ انسانی جذبات اور احساسات کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ ‘کھڑی نیم کے نیچے’ میں نیم کا درخت بھی ایک علامت ہے۔

    نیم کا درخت برصغیر میں اپنی خاص خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کے پتے کڑوے ہوتے ہیں مگر اس کا سایہ ٹھنڈا اور آرام دہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے لوک شاعری میں اسے اکثر محبت اور صبر کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس گیت میں نیم کا درخت اس انتظار کا استعارہ بن جاتا ہے جس میں درد بھی ہے اور امید بھی۔

    اسی طرح بارش، ہوا اور پرندوں کی آوازیں بھی لوک شاعری میں پیغام رساں سمجھی جاتی ہیں۔ تھر کے گیتوں میں مور کی آواز اکثر خوشی یا موسم کی تبدیلی کی علامت ہوتی ہے جبکہ کوئل کی آواز محبت اور یاد کا استعارہ سمجھی جاتی ہے۔

    تھر کی ثقافت اور لوک موسیقی

    تھرپارکر کا خطہ اپنی منفرد ثقافت، زبان اور موسیقی کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی موسیقی میں صحرائی زندگی کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ تھر کے گیتوں میں اکثر محبت، جدائی، انتظار اور موسموں کی تبدیلی کے موضوعات ملتے ہیں۔ یہ گیت صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اس خطے کی سماجی اور ثقافتی تاریخ کا حصہ بھی ہیں۔

    ڈھاٹکی اور مارواڑی زبانوں میں گائے جانے والے گیتوں میں صوفی روایت کا بھی اثر پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تھر کے لوک گیتوں میں محبت کو صرف رومانوی جذبہ نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔

    ایک گیت جو سرحدوں سے آگے گیا

    ‘کھڑی نیم کے نیچے’ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ گیت صرف سندھ تک محدود نہیں رہا۔ چونکہ تھر اور راجستھان کی ثقافت اور زبان میں گہرا تعلق ہے، اس لیے اس گیت کی روایت سرحد کے دونوں طرف سنی جاتی ہے۔ اس گیت کی دھن اور بول مختلف انداز میں گائے گئے مگر اس کا بنیادی خیال ہمیشہ ایک ہی رہا، یعنی انتظار اور محبت۔

    وقت کے ساتھ اس گیت کو مختلف گلوکاروں نے بھی گایا، مگر مائی بھاگی کی آواز میں اس کی جو سادگی اور صحرا کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، وہ اسے منفرد بنا دیتی ہے۔

    ایک درخت، ایک انتظار اور ایک داستان

    آج بھی اگر تھر کے کسی گاؤں میں شام کے وقت نیم کا درخت نظر آئے تو مقامی لوگ اس گیت کو یاد کرتے ہیں۔ یہ گیت صرف ایک لوک دھن نہیں بلکہ اس خطے کی زندگی، محبت اور صبر کی علامت بن چکا ہے۔

    ‘کھڑی نیم کے نیچے’ دراصل ایک ایسے احساس کی کہانی ہے جو وقت اور جگہ کی حدوں سے آزاد ہے۔ ایک لڑکی کا انتظار، ایک درخت کا سایہ اور ایک آواز جو صحرا کی خاموشی میں گونجتی ہے۔

    شاید اسی لیے یہ گیت صرف موسیقی نہیں بلکہ تھر کے صحرا کی ایک زندہ روایت ہے، جو نسل در نسل سنائی جاتی رہی ہے اور آج بھی لوگوں کے دلوں میں اسی طرح زندہ ہے جیسے صحرائے تھر کی شامیں۔

  •  مصری گدھ: صحرائے تھر کے آسمان کا خاموش محافظ

     مصری گدھ: صحرائے تھر کے آسمان کا خاموش محافظ

    تھر کا صحرا بظاہر خاموش دکھائی دیتا ہے۔ ریت کے ٹیلے، دور تک پھیلے میدان، اور نگرپارکر کے قریب کارونجھر کے قدیم گرینائٹ پہاڑ اس خطے کی پہچان ہیں۔ مگر اس خاموش منظر کے اوپر آسمان میں ایک ایسا پرندہ صدیوں سے گردش کرتا رہا ہے جو اس صحرا کے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہے۔ یہ ہے ‘مصری گدھ’، جسے انگریزی میں *Egyptian Vulture کہا جاتا ہے۔

    یہ پرندہ تھر کے آسمان میں صرف ایک شکاری پرندہ نہیں بلکہ فطرت کے توازن کو برقرار رکھنے والا ایک خاموش محافظ بھی ہے۔ مردہ جانوروں کو کھا کر یہ ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے ماہرین اسے قدرتی صفائی کرنے والا پرندہ بھی کہتے ہیں۔

     ایک قدیم اور وسیع پھیلاؤ رکھنے والا پرندہ

    مصری گدھ کا سائنسی نام ‘Neophron percnopterus’ ہے۔ یہ دنیا کی قدیم ترین گدھ اقسام میں شمار ہوتا ہے اور اس کی موجودگی شمالی افریقہ، جنوبی یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا تک پائی جاتی ہے۔ تاریخی طور پر یہ پرندہ مصر کی تہذیب میں بھی اہم مقام رکھتا تھا۔ قدیم مصری فن اور تحریروں میں گدھ کو حفاظت اور پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، اسی نسبت سے اس پرندے کو مصری گدھ کہا جانے لگا۔

    پاکستان میں اس پرندے کی موجودگی خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں دیکھی جاتی ہے، مگر تھرپارکر اس کا ایک اہم مسکن سمجھا جاتا ہے۔ نگرپارکر، اسلام کوٹ اور کارونجھر کے اردگرد کے پہاڑی علاقے اسے گھونسلے بنانے اور آرام کرنے کے لیے موزوں جگہ فراہم کرتے ہیں۔

     شکل و صورت اور جسمانی خصوصیات

    مصری گدھ عام گدھوں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹا ہوتا ہے، مگر اس کی پہچان بہت واضح ہے۔ اس کا جسم زیادہ تر سفید رنگ کا ہوتا ہے جبکہ پروں کے کنارے سیاہ ہوتے ہیں۔ اس کا چہرہ پیلا اور چونچ لمبی اور قدرے خمیدہ ہوتی ہے۔ بالغ پرندے کا وزن عموماً دو سے ڈھائی کلوگرام کے درمیان ہوتا ہے جبکہ اس کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً ڈیڑھ سے ایک اعشاریہ سات میٹر تک ہو سکتا ہے۔

    یہ پرندہ اپنی ذہانت کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ ماہرین پرندہ کہتے ہیں کہ مصری گدھ ان چند پرندوں میں شامل ہے جو خوراک حاصل کرنے کے لیے اوزار استعمال کر سکتے ہیں۔ افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں اس پرندے کو شترمرغ کے انڈے توڑنے کے لیے پتھر استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جو پرندوں میں نسبتاً نایاب رویہ سمجھا جاتا ہے۔

     خوراک اور ماحولیاتی کردار

    مصری گدھ بنیادی طور پر مردہ جانوروں کی لاشیں کھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ماحولیاتی نظام کا اہم صفائی کرنے والا پرندہ سمجھا جاتا ہے۔ جب کسی علاقے میں جانور مر جاتے ہیں تو ان کی لاشیں اگر زیادہ دیر تک پڑی رہیں تو بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ گدھ ان لاشوں کو جلد کھا کر ماحول کو صاف رکھتے ہیں اور ممکنہ بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں۔

    تھر جیسے خشک علاقوں میں یہ کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں درجہ حرارت زیادہ ہونے کے باعث مردہ جانور تیزی سے گلنے لگتے ہیں۔ گدھ ان لاشوں کو ختم کر کے ماحول کو آلودگی اور جراثیم سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

     تھر میں گِدھوں کی تاریخ

    چند دہائیوں پہلے تک تھر کے آسمان میں گدھوں کی کئی اقسام نظر آتی تھیں۔ ان میں ‘سفید پشت گدھ، لمبی چونچ والا گدھ اور سرخ سر والا گدھ’ بھی شامل تھے۔ یہ پرندے تھر کے کھلے میدانوں اور پہاڑی علاقوں میں بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔

    مگر 1990 کی دہائی کے بعد جنوبی ایشیا میں گدھوں کی آبادی میں اچانک اور شدید کمی آنے لگی۔ ماہرین کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ ایک ویٹرنری دوا ‘ڈائکلوفیناک’ تھی۔ یہ دوا مویشیوں کو درد کم کرنے کے لیے دی جاتی تھی۔ جب وہ جانور مر جاتے اور ان کی لاشیں کھلے میدان میں چھوڑ دی جاتیں تو گدھ انہیں کھا لیتے۔ اس دوا کے اثر سے گدھوں کے گردے فیل ہو جاتے اور وہ مر جاتے۔

    چند ہی برسوں میں جنوبی ایشیا میں گدھوں کی آبادی کا تقریباً ‘90 سے 95 فیصد حصہ ختم ہو گیا’۔ یہ دنیا میں کسی پرندے کی آبادی میں آنے والی سب سے تیز کمیوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

     تھر میں باقی رہ جانے والا آخری محافظ

    اس تباہ کن کمی کے بعد بھی تھرپارکر کے علاقے میں گدھوں کی کچھ آبادی باقی رہی۔ آج بھی پاکستان میں گدھوں کے اہم مسکنوں میں تھرپارکر کا نام لیا جاتا ہے۔ یہاں خاص طور پر نگرپارکر کے اردگرد کے پہاڑی علاقے ان پرندوں کے لیے محفوظ جگہ فراہم کرتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ پرندے اکثر چٹانوں یا اونچے درختوں پر گھونسلے بناتے ہیں۔ ان کی افزائش کی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔ عموماً ایک جوڑا سال میں صرف ‘ایک انڈا’ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کی آبادی کم ہو جائے تو اسے دوبارہ بڑھنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

     تحفظ کی کوششیں

    گدھوں کی آبادی کو بچانے کے لیے پاکستان میں مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے نگرپارکر کے علاقے میں ایک ‘ولچر سیف زون’ قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد خطرناک ویٹرنری ادویات کے استعمال کو محدود کرنا اور گدھوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

    پاکستان میں اب ڈائکلوفیناک کے ویٹرنری استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے اور اس کے متبادل کے طور پر نسبتاً محفوظ دوا ‘میلوکسیکام’ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

     صحرا کے آسمان کا سوال

    مصری گدھ تھر کے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ صرف ایک پرندہ نہیں بلکہ صحرا کے قدرتی توازن کا محافظ بھی ہے۔ اس کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ ماحول ابھی زندہ ہے اور فطرت اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

    مگر گدھوں کی عالمی سطح پر کم ہوتی ہوئی تعداد ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے۔ اگر یہ پرندے ختم ہو جائیں تو مردہ جانوروں کی لاشیں زیادہ دیر تک پڑی رہیں گی، جس سے بیماریوں اور ماحولیاتی مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    تھر کے آسمان میں آج بھی کبھی کبھار مصری گدھ اپنے سفید پروں کے ساتھ گردش کرتا نظر آ جاتا ہے۔ یہ منظر اس خطے کی فطری تاریخ کا حصہ ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا آنے والی نسلیں بھی اس پرندے کو اسی آسمان میں اڑتے دیکھ سکیں گی، یا یہ صرف کتابوں اور دستاویزی فلموں تک محدود ہو جائے گا۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے ہی موضوعات کو سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ لوگ اپنے ماحول، ثقافت اور قدرتی ورثے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ کیونکہ کبھی کبھی کسی صحرا کے آسمان میں اڑتا ہوا ایک پرندہ بھی پوری کہانی بیان کر دیتا ہے۔

  • کراچی سے انڈیا کی سرحد تک لے جانے والی ‘تھر ڈیزرٹ ٹرین سفاری’ کا چھٹا راؤنڈ مکمل

    کراچی سے انڈیا کی سرحد تک لے جانے والی ‘تھر ڈیزرٹ ٹرین سفاری’ کا چھٹا راؤنڈ مکمل

    محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے سندھ کے ضلع عمرکوٹ کے صحرا کے لیے ‘تھر ڈیزرٹ ٹرین سفاری’  کا چھٹے راؤنڈ کا آغاز کراچی کینٹ اسٹیشن سے انڈیا کے بارڈر پر واقع آخری ریلوے سٹیشن تک لے جایا گیا۔

    ٹرین میں سیاحوں کے لیے کھانے پینے اور رات کو ٹرین میں ہی قیام کی سہولیات فراہم کی گئیں تھی۔ کراچی کینٹ سٹیشن سے نکلنے والی ’تھر ڈزرٹ ٹرین سفاری‘ میں دو ایئرکنڈیشنڈ بوگیاں اور ایک ڈائننگ کار شامل تھی۔

    چھٹے راؤنڈ کی اس ٹرین میں کراچی سمیت مختلف شہروں سے آئے 150 سیاحوں نے سفر کیا۔ کراچی کینٹ سیٹیشن سے صبح نو بجے سفر کا آغاز ہوا جس کا پہلا سٹاپ حیدرآباد ریلوے سٹیشن پر ہوا۔ اس کے بعد ٹرین ٹنڈوجام اور ٹنڈوالہیار سے ہوتی ہوئی میرپورخاص ریولے اسٹیشن پہنچی، جہاں کچھ دیر قیام کے بعد سفر کا دوبارہ آغاز ہوا۔

    میرپورخاص سے شادی پلی، پتھورو اور ڈھورونارو سٹیشنز سے ہوتی ہوئے پانچ بجے عمرکوٹ ضلع کے چھور کینٹ ریلوے سٹیشن پر پہنچی جہاں مقامی فنکاروں نے موسیقی سے سیاحوں کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر سٹیشن کو سیاحوں کے آمد پر سجایا گیا تھا۔

    چھور کینٹ سٹیشن پر کچھ دیر رکنے کے بعد ٹرین سے سیاحوں کو کوچز میں قریبی قصبے پرچی جی ویری فوجی ریزورٹ لے جایا گیا۔

    یہ ریزورٹ ریت کے کے اونچے ٹیلے پر بنایا گیا ہے، جہاں سے صحرا کے دلفریب مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    ریزورٹ پر ثقافتی اشیا اور کھانے پینے کے سٹال لگائے گئے تھے اور اوپن ایئر تھیئٹر میں جوگیوں نے بین پر سانپ کا کھیل دکھایا اور مقامی فنکاروں نے راگ سنایا۔

    ایک خاتون سیاح نے ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ ٹرین سفاری انتہائی منفرد تجربہ اور عام طور پر کوئی فوجی ریزورٹ نہیں آسکتا، اس لیے سب کو اس ٹرین سفاری میں آنا چاہیے۔

    محکمہ ثقافت کی جانب سے ٹرین میں سفر کے ساتھ رات کو قیام کا بندوبدست اور دو دنوں کے کھانے سمیت یہ سفر مہنگا ہے، مگر سندھ حکومت نے اس سفر پر سبسڈی دے کر ابتدائی طور پر 30 ہزار روپے ٹکٹ مقرر کیا ہے۔

    پرچی جی ویری ریزورٹ پر محفل موسیقی اور رات کے کھانے کے بعد سیاحوں کو کوچز میں دوبارہ چھور کینٹ سٹیشن لایا گیا جہاں رات کے قیام کا بندوبست ٹرین کے اندر کیا گیا تھا۔

    دوسرے روز صبح ساڑھے سات بجے ٹرین چھور کینٹ سٹیشن سے روانہ ہوئی اور کھوکھرا پار ہوتی ہوئی انڈیا کی سرحد پر واقع آخری ریلوے سٹیشن زیرو پوائنٹ پہنچی۔

    ریلوے سٹیشن پر سندھ رینجرز نے سیاحوں کا استقبال کیا اور انہیں پاکستان اور انڈیا کے درمیان بارڈر لائن کے متعلق بریفنگ دی۔

    زیروپوائنٹ ریلوے سٹیشن پر کچھ وقت گزارنے کے بعد ٹرین کا واپس کراچی کی طرف سفر شروع ہوا اور رات نو بجے کراچی کینٹ سٹیشن پر سفر کا اختتام ہوا۔

  • آرٹ سے سائنس پڑھانے والا استاد: ‘ بلیک بورڈ پر چاک سے بنی تصاویر کو بچے ‘فلم’  کی طرح دیکھ کر سیکھتے ہیں’

    آرٹ سے سائنس پڑھانے والا استاد: ‘ بلیک بورڈ پر چاک سے بنی تصاویر کو بچے ‘فلم’  کی طرح دیکھ کر سیکھتے ہیں’

    تھر کے کنارے واقع قصبہ ڈھورنارو۔ ریت، ہوا اور سادہ زندگی۔ اسی ماحول میں ایک ایسا استاد پروان چڑھا جس نے چاک کو اپنا کیمرہ اور بلیک بورڈ کو اپنا کینوس بنا لیا۔

    کشور کمار کھتری بچپن سے تصویریں بناتے تھے۔ جو چیز پسند آتی، اسے کاغذ پر اتار دیتے۔ گھر میں تعلیم کا ماحول تھا۔ والد ڈاکٹر تھے۔ والدہ گھریلو ذمہ داریاں سنبھالتی تھیں۔ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کا فائدہ انہیں یہ ملا کہ گھر والوں نے ان کی فنکارانہ دلچسپی کو روکا نہیں۔

    چھٹی جماعت میں ایک استاد نے ان کی صلاحیت پہچانی۔ ہوم ورک میں سیب بنانے کو کہا جاتا تو وہ پوری ٹوکری بنا دیتے۔ وہی لمحہ تھا جب انہیں احساس ہوا کہ یہ شوق محض مشغلہ نہیں۔

    مگر وسائل محدود تھے۔ اسکول اور کالج میں باقاعدہ آرٹ کلاسز نہیں تھیں۔ پینٹ اور پیسٹل مہنگے تھے۔ یوں ان کا فن بلیک بورڈ تک محدود ہو گیا۔ چاک ان کا ذریعہ بنا۔

    انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری لینے کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں بیچلرز کیا۔ اس دوران بڑے بھائی کے فوٹو اسٹوڈیو میں بھی کام کیا۔ تصویر اور روشنی سے رشتہ برقرار رہا۔

    ایک نجی اسکول میں آرٹ ٹیچر کی نوکری ملی۔ تنخواہ معمولی تھی۔ مگر وائٹ بورڈ پر مارکر سے بنائے گئے خاکے بچوں کو پسند آنے لگے۔ وہ پہلے تصویر بناتے، پھر سبق سمجھاتے، پھر بچوں سے مشق کرواتے۔ انہیں شاید معلوم بھی نہیں تھا کہ وہ جدید تدریسی ماڈل پر کام کر رہے ہیں جسے دنیا میں ویژول لرننگ کہا جاتا ہے۔

    جلد ہی انہوں نے سائنس پڑھانا شروع کیا۔ انسانی جسم، نظام ہاضمہ، پودوں کی ساخت۔ سب کچھ چاک سے بننے لگا۔ بچے دیکھتے، سمجھتے، سوال کرتے۔ کلاس روم خاموش نہیں رہتا تھا۔

    2022 میں وہ ایک سرکاری پرائمری اسکول، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول مانو ملہی، میں تعینات ہوئے۔ اب بھی وہ چاک سے بڑی بڑی تصویریں بناتے ہیں۔ انگریزی کے تصورات بھی خاکوں کے ذریعے سمجھاتے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں چاک سے کام کرنا آسان دکھائی دیتا ہے مگر ہوتا نہیں۔ پاؤڈر اڑتا ہے۔ الرجی ہو سکتی ہے۔ جگہ کم پڑ جاتی ہے۔ پھر بھی وہ روز 15 سے 20 منٹ پیدل چل کر اسکول پہنچتے ہیں۔ ان کے پاس ذاتی سواری نہیں۔

    ان کی خواہش ہے کہ اسکول کی وہ دیواریں دوبارہ تعمیر ہوں جو سیلاب میں متاثر ہوئیں۔ دیواریں کمزور اور نم ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بچوں کے فن پارے دیواروں پر لگیں تاکہ ہر آنے والا دیکھ سکے کہ یہاں صرف نصاب نہیں، تخلیق بھی ہے۔

    چند ماہ پہلے ان کی کلاس کے خاکوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ صوبائی وزیر تعلیم کی نظر میں آئیں۔ بعد میں پنجاب کے وزیر تعلیم نے بھی انہیں مدعو کیا۔ مختلف افسران سے ملاقات ہوئی۔ تدریسی طریقوں پر گفتگو ہوئی۔

    کشور کمار کہتے ہیں طلبہ کو کتاب اور پینسل کے ساتھ اچھے استاد بھی چاہیے۔ بصری تعلیم بچوں کی تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ بڑھاتی ہے۔ سائنسی تحقیق بھی یہی کہتی ہے۔

    عمرکوٹ کے ایک چھوٹے سے اسکول میں کھڑا یہ استاد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم صرف عمارت یا نصاب کا نام نہیں۔ یہ طریقہ ہے۔ جذبہ ہے۔ اور وہ ہاتھ ہے جو چاک سے ایک لکیر کھینچ کر بچے کے ذہن میں روشنی جلا دے۔

     

  • تھر کے نوجوانوں کا رن آف کچھ میں بسنت کا جشن، روائتی لباس میں رقص کے پتنگ بازی

    تھر کے نوجوانوں کا رن آف کچھ میں بسنت کا جشن، روائتی لباس میں رقص کے پتنگ بازی

    یوں تو بسنت کو روایتی طور پر پنجاب کا تہوار سمجھا جاتا ہے، مگر اس سے ملتے جلتے رنگا رنگ تہوار سندھ میں بھی منائے جاتے ہیں۔ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں واقع نمک کے صحرا رن آف کچھ میں مقامی نوجوانوں نے پہلی بار بسنت کا جشن منایا۔

    نوجوان کٹھن راستے طے کرتے ہوئے رن آف کچھ پہنچے اور بھرپور جوش و خروش سے اس تہوار میں شریک ہوئے۔ اس قافلے کی رہنمائی مقامی ٹریول وی لاگر سروپ کھتری نے کی۔

    اس موقع پر نوجوانوں نے ٹھاکر برادری کے روایتی لباس زیب تن کیے اور رنگ برنگی پگڑیاں باندھیں۔ ان پگڑیوں کو مقامی زبان میں پھینٹا کہا جاتا ہے۔ تھر میں منائی گئی اس بسنت نے مقامی ثقافت اور خوشی کے رنگوں کو نمایاں کیا۔

    بسنت کیا ہے

    جب سردیوں کی شدت کم ہوتی ہے، زمین پر ہریالی لوٹ آتی ہے اور آسمان رنگوں سے بھر جاتا ہے، تب بسنت کا موسم آتا ہے۔ بسنت موسم بہار کی آمد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

    بسنت کی تاریخ

    بسنت ایک قدیم تہوار ہے جو برصغیر میں صدیوں سے منایا جاتا رہا ہے۔ یہ تہوار نئی زندگی، خوشی اور تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر بسنت ہندو، سکھ اور مسلمان ثقافتوں میں مختلف انداز میں منائی جاتی رہی ہے، خاص طور پر پنجاب، دہلی، لاہور اور بنگال کے علاقوں میں۔ مغل دور میں بھی بسنت کو شوق سے منایا جاتا تھا، جہاں پیلے لباس اور پتنگ بازی اس تہوار کا حصہ تھے۔

    بسنت اور پتنگ بازی

    پتنگ بسنت کی سب سے نمایاں پہچان سمجھی جاتی ہے۔ پتنگ بازی خوشی، آزادی اور نئے موسم کے آغاز کی علامت ہے۔ آسمان میں اڑتی پتنگیں اس احساس کی نمائندگی کرتی ہیں کہ لوگ سرد موسم کی سختی کو پیچھے چھوڑ کر نئی شروعات کر رہے ہیں۔

    بسنت کے رنگ اور تقریبات

    بسنت کے دن پیلا رنگ نمایاں ہوتا ہے، جو خوشی، روشنی اور بہار کی علامت ہے۔ گھروں کی چھتیں آباد ہو جاتی ہیں، گلیاں پتنگوں سے بھر جاتی ہیں اور ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے۔ ڈھول کی تھاپ، لوک گیت اور روایتی کھانے اس تہوار کو یادگار بنا دیتے ہیں۔

    آج کی بسنت

    موجودہ دور میں کئی علاقوں میں حفاظتی وجوہات کی بنا پر بسنت کی تقریبات محدود ہو چکی ہیں، تاہم اس تہوار کا جذبہ اب بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ آج بھی بہار کا استقبال پھولوں، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

    بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک احساس ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہر سردی کے بعد بہار ضرور آتی ہے۔

  • تھر کی خواتین کا روایتی لباس گج، جس کے ہر رنگ کا منفرد مطلب

    تھر کی خواتین کا روایتی لباس گج، جس کے ہر رنگ کا منفرد مطلب

    تھر کی خواتین کا روایتی لباس گج صرف پہناوا نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی اظہار ہے۔ یہ لباس زیادہ تر خواتین خود بناتی ہیں۔ خاص طور پر مائیں، دادی اور بزرگ عورتیں لڑکیوں کے لیے گج تیار کرتی ہیں، اور اس عمل میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ گج بنانا صرف ہنر نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی روایت ہے۔

    گج عموماً لمبی فراک یا گھیر دار قمیض کی صورت میں پہنی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ چوڑی گھاگھرا نما شلوار یا لہنگا ہوتا ہے، جبکہ سر پر اوڑھنی یا چُنری لی جاتی ہے۔ گج کی سب سے نمایاں پہچان اس پر کی گئی باریک کڑھائی کے ڈیزائن اکثر فطرت، مور، پھولوں اور قدیم علامتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔گج پر کیے جانے والے اور آئینے کے کام کو مقامی زبان میں شیشہ کاری بھی کہا جاتا ہے۔

    یہ لباس زیادہ تر سوتی کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے، تاکہ تھر کی شدید گرمی میں پہننا آسان رہے۔ گج میں استعمال ہونے والے شوخ اور گہرے رنگ محض خوبصورتی کے لیے نہیں ہوتے بلکہ ان کے اپنے معنی ہوتے ہیں۔
    سرخ رنگ خوشی، محبت اور شادی شدہ زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پیلا رنگ خوشحالی، سورج اور زندگی کی توانائی کی نشانی ہے۔ سبز رنگ بارش، امید اور زرخیزی سے جڑا ہوا ہے، جو تھر جیسے خشک خطے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ نیلا رنگ آسمان، وسعت اور صبر کی علامت مانا جاتا ہے۔

    یہ رنگ صحرا کی یکسانیت میں زندگی اور خوشی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

    پر مائیں، دادی اور بزرگ عورتیں لڑکیوں کے لیے گج تیار کرتی ہیں، اور اس عمل میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔

     

     

    گج کی کڑھائی صرف زیبائش کے لیے نہیں ہوتی۔ آئینے کا استعمال روایتی طور پر سورج کی تیز روشنی کو منعکس کرنے کے لیے بھی کیا جاتا تھا، تاکہ گرمی کی شدت کم محسوس ہو۔ 

    گج کی کڑھائی میں بننے والے ڈیزائن بھی خاص پیغام رکھتے ہیں۔ مور کے نقش زرخیزی اور خوبصورتی کی علامت ہیں۔ پھول اور بیلیں زندگی کے تسلسل اور خاندان کے پھیلاؤ کی نشانی سمجھی جاتی ہیں۔ بعض گجوں میں بنے جیومیٹریائی نقش اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پہننے والی عورت شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ۔

    ایک کم معلوم مگر اہم بات یہ ہے کہ گج کے ڈیزائن سے عورت کی ازدواجی زندگی کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شادی کے بعد خواتین زیادہ بھاری کڑھائی اور شوخ رنگوں والی گج پہنتی ہیں، جبکہ کم عمر یا غیر شادی شدہ لڑکیوں کی گج نسبتاً سادہ ہوتی ہے۔ بعض علاقوں میں مخصوص رنگ یا ڈیزائن بیوہ یا عمر رسیدہ خواتین کی شناخت بھی بن جاتے ہیں۔

    تھر کی لڑکیاں گج کی تیاری میں خود بھی حصہ لیتی ہیں۔ شادی یا خاص تہواروں کے لیے گج مہینوں پہلے تیار کیا جاتا ہے، اور یہ ایک طرح سے خواتین کی مہارت اور شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    گج عموماً روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ شادیوں، میلوں، تھر کے تہواروں اور خاص تقریبات میں پہنی جاتی ہے۔ آج بھی تھرپارکر کے کئی دیہات میں گج خواتین کی شناخت، مہارت اور ثقافتی وقار کی علامت ہے۔

    یوں گج صرف ایک لباس نہیں بلکہ تھر کی عورت کی زندگی، اس کے خواب، اس کی محنت اور اس کے سماجی مقام کی خاموش کہانی سناتی ہے۔

    آج بھی تھرپارکر کے دیہات میں گج روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، جبکہ شہروں میں یہ زیادہ تر ثقافتی تقریبات، میلوں اور خاص مواقع پر پہنی جاتی ہے۔ گج تھر کی خواتین کی سادگی، محنت اور ثقافتی خود اعتمادی کی زندہ علامت ہے۔