Tag: تھر

  • تھر میں راج اور بھاگ کے دانا اور شناخت کے پارکھو

    تھر میں راج اور بھاگ کے دانا اور شناخت کے پارکھو

    تھر میں اب چار گھروں کی ڈھانی، وانڈھ اور وانڈیئے (چھوٹے گاؤں) کا رواج بڑھ رہا ہے، مگر پہلے بڑا گاؤں بسا کر مختلف خاندان اور قبیلوں کے لوگوں کے مل جل کر رہنے کا رواج عام تھا۔

    سات بڑے راج، یعنی سات گاؤں مل کر ’سات راجی راج بھاگ‘ بناتے تھے۔ کہیں کہیں بارہ کنوے، یعنی 12 گاؤں پر مشتمل مشترکہ راج بھاگ بھی ہوتا تھا۔ مشترکہ راج بھاگ میں بسنے والے لوگوں کا اٹھنا بیٹھنا، رسوم و رواج اور غم و خوشی سب مشترکہ ہوتے تھے۔

     ایک گاؤں میں رہنے والی تمام برادریوں کا مشترکہ پنچایتی نظام یا دیہی راجوڻی نظام ہوتا تھا، جس میں سب مل کر بیٹھتے تھے۔ سب کی رائے کو اہمیت حاصل ہوتی تھی اور کوئی بھی کسی سے چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا تھا۔

    لوک دانش کی ایک کہاوت ہے:

    ’مڱ جو ڪڻ مڱ جي ڪڻ کان موٽو نه آهي‘

    (مونگ کا دانہ، مونگ کے دانے سے بڑا نہیں ہوتا)۔

    لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ایک رہنما کا رواج پڑا۔ گھر کی قیادت سے لے کر محلے، گاؤں، سات راجی اور بارہ گاؤں تک پھیلے اس مشترکہ نظام میں مختلف القاب کے حامل افراد سامنے آئے۔ انگریزوں کے دور میں لفظ ’پٹیل‘ رائج ہوا۔ پٹیل کے معنی زمین کی ملکیت کا حق رکھنے والا یا پٹہ حاصل کرنے والا شخص ہیں۔ جسے زمینوں کے مالکانہ حقوق کے زیادہ پٹے ملے، وہ بڑا پٹیل کہلایا۔

    مکھی اور ٹیلاٹ برادریوں کے رہنما ہوتے ہیں۔ اسی طرح وڈیرو بھی گاؤں میں بڑی حیثیت رکھنے والے شخص کو کہا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ راج بھاگ میں نیک مردوں کی بھی عزت و ناموس رہی ہے۔ گاؤں کے نیک مرد کو آج بھی ’ساکھ پت‘، یعنی ایمانداری والا، کہا جاتا ہے، جس کی بات پر اعتبار کیا جاتا ہے۔

    اس کی بات قسم کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ کسی معاملے میں چار چنگے مرد (معززین) آگے بڑھ کر سفارش کر دیں یا کسی کے سامنے منت سماجت کی جائے تو معاملہ درگزر کر دیا جاتا ہے۔ فیصلے کے دوران یا اس سے پہلے، اگر مجرم فریق کے بڑے یا اس کی طرف سے کسی نیک مرد نے منت کے لیے اپنا پٹکا اتار دیا تو بھی گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ بچیوں اور بیٹیوں کی منت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔

    پٹیلوں اور وڈیروں میں کوئی بھلے ہوتے ہیں تو کوئی ڈھلے (کمزور یا بگڑے ہوئے)۔ کردار کے کچے، کمزور اور مکار پٹیلوں اور وڈیروں کو ’تروٹی پٹیل‘ اور ’تروٹی وڈیرو‘ کہا گیا، یعنی کرنل تروٹ جیسی سوچ رکھنے والے لوگ۔

    انہوں نے انگریزوں کی پالیسی ’لڑاؤ اور راج کرو‘ کو مقامی سطح پر لاگو کرکے اپنے ہی لوگوں پر آزمایا۔ ان کی سوچ کا تسلسل برقرار رکھنے والے آج بھی راج بھاگ کے رسوم و رواج کو روند کر سماجی انتشار کو بڑھا رہے ہیں۔ وہ خاندان اور قبیلوں کو گلیوں، گزرگاہوں، پلاٹوں، باڑوں، واڑوں، زمینوں کی منڈیروں، پانی کی گزرگاہوں اور سالانہ متنازع معاملات پر لڑانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

    راج بھاگ کے سچے رکھوالوں کو اپنے راج بھاگ کی بھلائی کا واضح ادراک ہوتا تھا۔ وہ اپنے تصور سے جذباتی وابستگی کے باوجود تحمل سے کام لیتے تھے۔ اگر کہیں ہار کا سامنا کرنا پڑتا تو بھی خود کو سنبھال کر آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ اگر راج بھاگ میں کوئی معاملہ غلط فہمی کی نذر ہو کر غلط رخ اختیار کر لیتا تو اسے روکنے کے لیے ان کے پاس لوک دانش کی بنیاد پر اقدامات موجود ہوتے تھے۔ وہ اپنے بااثر کردار سے اپنے تصور کے راج بھاگ کا تحفظ کرتے تھے۔

    لوگوں کو سمجھنے اور ان کے ساتھ مل کر راج بھاگ کے معاملات سنبھالنے کے لیے دوسروں کی بات سننا ضروری سمجھتے تھے اور اس کے لیے وقت نکالتے تھے۔ اس طرح انہیں راج بھاگ کے لوگوں کے خیالات، ان کی طاقت اور کمزوریوں کے بارے میں آگاہی ملتی تھی، جس کی بنیاد پر سیاسی اور سماجی معاملات نمٹانے اور نئی حکمت عملی بنانے میں آسانی ہوتی تھی۔

    راج بھاگ کے رہنما کوئی بھی کام اکیلے انجام نہیں دیتے تھے، بلکہ اپنے راج کے اہل لوگوں سے صلاح مشورہ کرکے انہیں بااختیار بناتے تھے۔ وہ انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ایسے راجوڻی رہنماؤں کا مثبت رویہ انہیں مختلف زاویہ ہائے نظر سمجھنے اور مسائل کے حل تلاش کرنے میں مدد دیتا تھا۔

    وہ وقتاً فوقتاً لوگوں کو یقین دلاتے تھے کہ وہ راج بھاگ کی نگہبانی میں مضبوط سہارا ہیں اور وہ تمام مقاصد حاصل کر سکتے ہیں جو انہوں نے طے کر رکھے ہیں۔ اگر کوئی انہیں للکارتا تو وہ اپنے بچاؤ کے راستے تلاش کرنے کے بجائے پورے اعتماد کے ساتھ اس للکار کو قبول کرتے تھے۔

    حالات کیسے بھی ہو جاتے، وہ اپنے بنیادی اصولوں اور اپنے سچے اور کھرے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ تھری سماج میں سخی اور بہادر کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ عام لوگ ڈول اور متزلزل نہ ہونے والے رہنماؤں کے حوصلے کی نہ صرف تحسین کرتے تھے بلکہ خود بھی ان کے ساتھ جان نثار کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ وقت آنے پر میدان جنگ میں پہلوانوں کی طرح سب سے پہلے رہنما اترتا اور پھر باقی راج والے میدان میں آتے تھے۔

    شراکت داری کی بنیاد پر قائم پنچایت اور راج بھاگ کے منظم نظام میں سب برابر ہوتے تھے۔ غیر تحریری سماجی بندھنوں میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا تھا۔ جو بھی سماجی ضابطے کی خلاف ورزی کرتا، اسے راج بھاگ کے فیصلے کے تحت سزا ملتی تھی۔ درختوں کی کٹائی اور شکار پر سماجی پابندی ہوتی تھی۔

    گاؤں کی عزت اور بیٹیوں کے تحفظ کے لیے اردگرد کے ماحول کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہو کر آنے والا شخص گاؤں سے ایک کلومیٹر دور اتر کر پیدل گاؤں میں داخل ہوتا تھا اور گاؤں سے ایک کلومیٹر دور باہر جا کر دوبارہ سواری پر چڑھتا تھا۔ گاؤں میں ننگے سر نہیں چلا جاتا تھا۔ اجرک، پٹکا، انگوشہ وغیرہ سر پر بندھا ہوتا یا ٹوپی پہنی ہوتی تھی۔

    گاؤں میں چلتے ہوئے اگر عورتیں سامنے آ جاتیں تو مرد ایک طرف ہو کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ قبرستان اور جنازہ گاہ، خواہ بڑوں ی ہو یا چھوٹے بچوں کی، کا بہت احترام کیا جاتا تھا۔

    اگر گاؤں کا مکھی، پٹیل یا وڈیرو کسی فیصلے میں جانبداری برتتا، کسی ایک فریق کا ساتھ دیتا یا ’آنکھیں بند کر لیتا‘ تو سات راجی نیک مرد مل کر اسے گنہگار قرار دیتے تھے۔ لوک دانش میں سماجی انصاف کو ایک مضبوط معاشرے کی بنیادی ضرورت سمجھا جاتا تھا۔ انصاف کے ساتھ معاشرے آگے بڑھتے ہیں، جبکہ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو، وہ بربادی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ لوک دانش کے مطابق کسی بھی معاملے میں فیصلہ کرنے والے ثالث (امین) کے لیے برداشت کا مادہ ہونا ضروری ہے:

    سپوتر سخن سهي، جوُن وڍ سهي وڻڪار،

    ڌرتي ڪني ڌپ سهي، جوُن دريا سهي آر۔

    (سپوت لوگ کڑی باتیں بھی برداشت کرتے ہیں۔ درخت کلہاڑی کے وار برداشت کرتا ہے۔ زمین ہر قسم کی گندگی برداشت کرتی ہے، جیسے دریا پانی کا دباؤ سہتا ہے۔)

    بات چیت کے دوران فریقین جذباتی بھی ہو جاتے ہیں۔ امین نہ صرف صبر سے سنتا ہے بلکہ ماحول کو اپنے قابو میں رکھتا ہے تاکہ بات چیت کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ فریقین کے اپنے امین بھی ہوتے ہیں۔ دونوں فریقوں کی باتیں سننے کے بعد وہ گفتگو کا تول مول کرتا ہے، معاملے کو پوری طرح سمجھتا ہے اور بغیر کسی جانبداری کے امانت داری سے فیصلہ سناتا ہے، جس پر دونوں فریق اتفاق کرتے ہیں۔

    فیصلہ قبول کرنے کے بعد دونوں فریق اس پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ مرکزی فیصلہ ساز بات چیت کے دوران نہ صرف ہر بات دھیان سے سنتا ہے بلکہ چہرے کے تاثرات بھی پڑھتا ہے۔ ماہر نفسیات کی طرح بات کے لہجے سے سچائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر معاملہ بات چیت سے نہ سلجھے تو پھر ساک (قسم یا گواہی) لی جاتی ہے۔ لوک دانا کہتے ہیں:

    ڪوڙو ڀلو نه ڪوڪرو، سچي نه ڀلي ساک،

    ڏنو ڀلو روپيو، ليو نه ڀلو لاک۔

    فیصلے پر عمل کرانا بھی اہم ہوتا ہے۔ امین کوشش کرتا ہے کہ فیصلے میں جرمانہ وغیرہ نہ ڈالا جائے اور مجرم فریق یا اس کی طرف سے کسی دوسرے معزز شخص کی منت سماجت یا واسطے سے مسئلہ حل ہو جائے۔ فیصلے میں اکثر فریقین کی انا مجروح ہوتی ہے۔ کبھی کبھی امین فریقین کی انا کا مسئلہ ختم کرنے کے لیے خود منت سماجت کرتا ہے یا خود کسی ایک فریق یا دونوں فریقوں کے پاس چل کر جاتا ہے۔

    جرمانے کی رقم بھی اتنی ہی ہوتی ہے جتنا نام کا دکھاوا ہو۔ جرمانہ اکثر بہت کم رکھا جاتا ہے۔ فیصلہ کرنے والا امین جرمانے کی رقم خود اپنے پاس بطور امانت رکھتا ہے یا کسی تیسرے فریق کے پاس رکھوا دیتا ہے۔ اکثر یہ جرمانہ وصول نہیں کیا جاتا بلکہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ منت سماجت اور معافی کے بعد فریقین ایک دوسرے کو معاف کر دیتے ہیں۔ امین فیصلہ اپنے پاس یا کسی غیر جانبدار جگہ پر رکھتا ہے، فریقین میں سے کسی کے گھر پر نہیں۔

    تھر کے گاؤں میں راجوں بھاگوں کے چتر داناؤں، وسیع القلب اور دور اندیش دانشوروں کا ذکر چھیڑ کر دیکھیے، کتنے نامور لوگوں اور ان کی دانش سے بھرپور راج بھاگ کو جوڑ کر رکھنے والے قصوں کا پتا چلتا ہے۔ ہونٹوں پر بے اختیار الفاظ مچل اٹھتے ہیں کہ کیا لوگ تھے، کیا ان کی دانش تھی! لیکن اب دانش کا قحط پڑتا جا رہا ہے:

    ڏيس سارو ڀوميو ماڻسان بهت سڪاڙ،

    جن ڏٺي جي ٺري، اوئان ماڻسان پڙيو ڏڪاڙ۔

     (میں نے سارا دیش چھان مارا۔ انسان ہی انسان ہیں، لوگوں کی فراوانی ہے، لیکن جن لوگوں کو دیکھ کر دل ٹھنڈا ہو جائے، ایسے لوگوں کا قحط پڑ گیا ہے۔)

    کہتے ہیں کہ ایک بار ایک راجوڻی دانا کے پاس ایک فیصلہ آیا۔ معاملہ یہ تھا کہ ایک لڑکی کے پہلے بچے کی پیدائش پر میکے میں رسم ادا کی جانی تھی۔ انہی دنوں لڑکی کے بھائی کی اہلیہ بھی امید سے تھی۔

    اتفاق سے دونوں کے ہاں بچوں کی پیدائش ایک ہی دن ہوئی۔ لڑکی کی ماں نے دائی سے پوچھا کہ اس کی بیٹی کے ہاں کیا پیدا ہوا ہے اور اس کے بیٹے کے ہاں کیا پیدا ہوا ہے۔ دائی نے بتایا کہ بیٹی کے ہاں بیٹا اور بہو کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ ماں نے دائی کو لالچ دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو بدل دو۔ دائی نے ایسا ہی کیا۔

    مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب لڑکی کے سسرال والوں کو خبر پہنچی کہ ان کی بہو کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کے گھر سے جانے والی بہو کے اٹھنے بیٹھنے اور قدم اٹھانے کے انداز سے محسوس ہوتا تھا کہ بیٹا پیدا ہوگا۔ یوں معاملہ بڑھا اور آخرکار راجوڻی فیصلے تک جا پہنچا۔

    ایک معزز شخص کو فیصلہ کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ دو افراد مل کر ساتھ والے گاؤں سے اس معزز شخص کو بلا کر لائے۔ اس نے سنار کی دکان سے دو ترازو اور ایک ہی وزن کے چھوٹے باٹ منگوائے۔ اس نے وارثوں سے کہا کہ دونوں ماؤں سے الگ الگ برتنوں میں اپنا اپنا دودھ نکال کر دینے کو کہیں۔ پھر دودھ کا وزن کرکے بتایا کہ زیادہ وزن والا دودھ بیٹے والی ماں کا ہے اور کم وزن والا بیٹی والی ماں کا۔ اس کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور بیٹا اس کی اصل ماں کے حوالے کر دیا گیا۔

    ان دانا لوگوں کے پاس ہر قدم اور ہر خیال میں اجتماعی سوچ اور بڑی فہم و فراست کی عکاسی کرنے والی زبان ہوتی تھی۔ انہوں نے کبھی یوں نہیں کہا کہ یہ زمین میری ہے، بلکہ ہمیشہ یہی کہا کہ یہ زمین ہماری ہے۔ وہ انفرادی کے بجائے اجتماعی انداز میں بات کرتے تھے۔ لوک شاعر نے کہا ہے:

    اکر سڀ سکر هي، ڪڇ ڪهڻي ڪا بيڻ،

    اوئي ڪاجل ٺڪري، اوئي ڪاجل نيڻ۔

    (الفاظ سب اچھے ہیں، لیکن کہنے کے انداز میں فرق ہوتا ہے۔ جو کاجل ٹھیکری، یعنی دیے یا مٹی کے برتن، پر سجتا ہے، وہی کاجل خوبصورت آنکھوں کے حسن کا حصہ بھی بنتا ہے۔)

    تھر کے گاؤں میں لوک دانش کی روایت سے وابستہ ایسے پارکھو (شناخت کے ماہر) بھی رہے ہیں جو کسی انسان کی چال ڈھال، چہرے مہرے اور بولی کی بنیاد پر اس کی نسل اور قبیلے کے بارے میں پوچھے بغیر بتا دیتے تھے۔ پہلے ایسے لوگ بہت ہوتے تھے، لیکن اب بھی راجوں بھاگوں میں پوچھنے پر دو چار پارکھو مل جاتے ہیں۔

    کسی انسان کو پہچاننے کے لیے پارکھو پہلے اس کی چال دیکھتا ہے، پھر قدم اٹھانے کا انداز جانچتا ہے۔ اس طرح غور کرتا ہوا چہرے تک پہنچتا ہے کہ کہیں کسی کی جھلک یا کوئی نشان مل جائے۔ پھر ناک، کان، آنکھیں، پیشانی اور بالوں کو غور سے دیکھتا ہے۔ اگر پھر بھی پہچان نہ ہو سکے تو بولی سے پرکھتا ہے۔ اگر بولی سے بھی نہ سمجھ سکے تو اس کے اٹھنے بیٹھنے کے انداز اور مزاج سے ضرور پہچان لیتا ہے۔

    انسان کی طبعی یا ظاہری صفات میں آنکھوں کا رنگ، قد، بالوں کی ساخت اور رنگ و روپ اہم ہوتے ہیں۔ ماں، باپ، بھائی، بہن، ننھیال یا ددھیال کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ لوک دانش کے دانا کہتے ہیں کہ ننھیال کا اثر نو پیڑھیوں تک رہتا ہے۔

    کانوں کی لو جڑی ہوئی ہے یا آزاد، کان چھوٹے ہیں یا بڑے، آنکھیں سیاہ، نیلی، سبز یا بھوری ہیں اور ان کا حجم کیسا ہے، بولی میٹھی، کھاری، دھیمی، کھردری، رعب دار یا واضح ہے، ٹھوڑی ہموار ہے یا کٹی ہوئی؛ یہ تمام خصوصیات والدین سے اولاد میں وراثت کے طور پر منتقل ہوتی ہیں۔ تھر کے لوگوں کی چال اور انداز کو لکھائی کی طرح پہچاننے کے بارے میں شاہ لطیف نے کہا ہے:

    مٿن ٽٻڪ ٽٻڪڻا، چڪندڙا اچن،

    کڙيون کهه ڀڪليون، پگهر سين پيرن،

    اي وڙ ويڙيچن، مون لوڏان ئي لکيا۔

     شاہ جو رسالو

    تھر کے سماجی تانے بانے کے ٹوٹنے کے باعث سیاست کی طرح تھر کے راجوں سے لوک دانش کی یہ پرکھ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن پھر بھی گاؤں میں تلاش کرنے سے ایسے پارکھو مل سکتے ہیں۔ مالنہور کھاوڑیہ کے رہنے والے سانگیڈان اور اکیراج کے سروپ سنگھ میں لوک دانش کی یہ پرکھ موجود ہے۔

    لوک دانش کی دولت رکھنے والے راجوں بھاگوں کے رکھوالوں کو تھر کی لوک زندگی کے حسن پر لگنے والے دھندلے داغ صاف دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ ’تھر کو بدصورت مت کرو‘، صدیوں سے جاری پیار، محبت اور بھائی چارے کے ماحول کو متاثر کرکے رواداری کے سماجی تانے بانے کو مت توڑو۔

    ان کیفیات کو محسوس کرنے کے لیے دل کا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ تھر کی لوک دانش کے جانکار کہتے ہیں کہ ظاہری ترقی کے آثار کہاں اور کیسے شروع ہوئے اور کہاں جا کر ختم ہوں گے، اس کا تو معلوم نہیں، لیکن تھر کے حسن میں کمی کے آثار صاف دیکھے اور پرکھے جا سکتے ہیں۔

  • رانو ملانی: تھر میں تعلیم کا ایک دور

    رانو ملانی: تھر میں تعلیم کا ایک دور

    سائیں رانو مل ملانی تھر میں تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے والے ایک بااصول، سچے اور کھرے استاد تھے، جنہوں نے اپنی پوری عمر تھر کے ریتلے ٹیلوں میں علم کی شمع روشن کرنے کی جستجو میں گزار دی۔ زبان اور آرٹ کے مضامین کے ساتھ ساتھ انہوں نے طلبہ میں سائنس کے مضامین پڑھنے کا بھی زبردست شوق اور جوش پیدا کیا۔

    سائیں رانو مل ملانی ہائی اسکول کے استاد تو تھے ہی، لیکن وہ ہائی اسکول کے طلبہ کے ساتھ ساتھ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی فزکس، کیمسٹری، ریاضی، گرامر اور دیگر مضامین بڑی مہارت اور استعداد کے ساتھ پڑھایا کرتے تھے۔ سائیں رانو مل ملانی مخصوص ڈگری کی تعلیم سے بڑھ کر، صحیح معنوں میں پڑھنے، سمجھنے، پرکھنے اور عقلیت پسندی کی بنیاد پر جاننے کی تعلیم پر زور دیتے تھے۔

    سائنس، شعور اور عقلیت پسندی کا سفر

    سائیں رانو مل ملانی نے نہ صرف سائنس کو گہرائی سے پڑھا، سمجھا اور سمجھانے کے بعد پڑھایا، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی سے جہالت، اندھ وشواس (وہم پرستی)، وہم اور وسوسوں کی گرد ہٹا کر جینے کے ہر پہلو کو صاف شفاف بنایا۔ فزکس کے ماہر اس استاد کی ہر بات اور جینے کے ہر انداز میں جدت، ایمانداری اور سچائی جھلکتی تھی۔

    سائیں رانو مل کے پاس جب کوئی سائنسی سوال آتا تھا تو وہ اپنے سارے کام بھول کر اس کا جواب دیتے تھے۔ اگر وہ کسی سوال کے جواب سے خود مطمئن نہیں ہوتے تھے یا سامنے والا مزید سوال کرتا تھا تو سائنس کی کتابیں اور میگزین کھل جاتے۔ سائیں رانو جب کسی طالب علم کے دل میں سائنس کو سمجھنے کی تڑپ دیکھتے تھے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتے اور مزید تعلیم کے لیے ہر ممکن تعاون کرتے تھے۔ انہیں یہ پختہ یقین تھا کہ انسان کے شعور کا ارتقا سائنس کے بغیر ممکن نہیں۔

    وہ تھر کے ان چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سائنسی سوچ و بچار کو پوری طرح اپنایا اور اس کے فروغ کے لیے روشن راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی اور ایک مقصدی اور بامعنی زندگی گزاری۔

    عملی جدوجہد اور علمی بے باکی

    سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنا تعلیمی مرکز ‘بینظیر بھٹو غریب نواز سینٹر’ قائم کیا اور کتنے ہی غریب طلبہ کو مفت تعلیم دے کر اس قابل بنایا کہ وہ یونیورسٹیوں تک پہنچ سکیں۔ یونیورسٹیوں کے انٹری ٹیسٹ کے نتائج پر ان کی گہری نظر رہتی تھی کہ کہیں تھر کے کسی غریب طالب علم کے ساتھ ناانصافی تو نہیں ہو رہی۔

    سائنس کی درسی کتابوں میں موجود غلطیوں کی مختلف اوقات میں نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ سائیں رانو مل نے آغا وقار کے پانی پر گاڑی چلانے کے مبینہ تجربے کو بھی کھلا چیلنج دیا تھا۔ مختلف اوقات میں انہوں نے میڈیکل کے ٹیسٹ کے نتائج کو دلائل کے ساتھ پریس کانفرنسیں کرکے چیلنج کیا تھا۔ اس وقت اگر رانو مل ملانی زندہ ہوتے تو تھر کے طلبہ کی ذہانت کو جب کراچی سے للکارا جاتا تو طلبہ کے ساتھ سائیں رانو مل ملانی کی پہلی پریس کانفرنس سامنے آتی۔

    شاگردوں کے لیے مشعلِ راہ

    سائیں رانو مل ملانی نے مٹھی ہائی اسکول میں شام کے وقت کچھ دنوں کے لیے مفت ٹیوشن کی کلاسیں شروع کی تھیں۔ اس وقت میں نے سائیں رانو مل کے لیکچر سنے تھے۔ ان لیکچرز کے بعد مختلف اوقات میں دوسرے دوستوں کے ساتھ بھی سائیں رانو مل کو سننے کا موقع ملا۔ سائیں ہم سے سائنسی مضامین کے ساتھ ساتھ ادب اور آرٹ کی باتیں بھی کیا کرتے تھے۔

    رانو مل ملانی کی آنکھوں میں ان کے کمرے میں رکھی کتابوں کے ڈھیر سے بھی کہیں زیادہ بڑے خواب تھے۔ یہ خواب انہوں نے اپنے شاگردوں کی عقاب جیسی تیز آنکھوں میں بونے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کے پاس تھر کے کتنے ہی خاندانوں کی دو سے زیادہ نسلوں نے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کو ایک حقیقی ‘کل گرو’ (خاندان کا استاد) کی حیثیت سے گیان کا آشیرواد (دعا) دیتے ہوئے کہا تھا کہ اپنی پوری ایمانداری کے ساتھ جہالت کے اندھیرے کے خلاف مستقل بنیادوں پر لڑنے کی جستجو کرنا۔

    رانو مل کا اپنے شاگردوں کے لیے حکم تھا کہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہے اور وہ جہاں بھی ہوں، ثابت قدم رہیں۔ سائنس کے راستے پر چلتے ہوئے اگر کسی کے قدم کمزور ہو کر دوبارہ پرانے وہموں، اندھ وشواس اور جہالت کی طرف گئے تو یہ بات سائیں کو قبول نہیں ہوتی تھی۔

    فکری بلندی اور خوددار شخصیت

    سائیں رانو ملانی کی سرپرستی میں ملانی خاندان نے سیاست کے صحرا میں اپنا راستہ خود بنایا۔ امر جگدیش کمار ملانی، امر موتی رام ملانی، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی اور ڈاکٹر منوج ملانی کی کامیابی میں سائیں رانو مل ملانی کی قیمتی رہنمائی کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔

    سائیں رانو مل ایک سیاسی خاندان کے سرپرست ہونے کے باوجود ایک استاد کی حیثیت سے کھلے ذہن کے مالک تھے۔ اگر وہ کسی علمی، ادبی، سیاسی یا سماجی بات پر اعتراض کرتے اور سامنے والا عقلی و منطقی دلائل کی بنیاد پر جواب دیتا تو وہ اتفاق بھی کر لیتے تھے، ورنہ فرماتے تھے کہ یہ آپ کی اپنی رائے ہے اور اسے رکھنا بھی آپ کا بنیادی حق ہے۔ ان کی خوددار طبیعت کی وجہ سے کبھی کبھار اختلافِ رائے کے وقت ان کا لہجہ تھوڑا سخت ہو جاتا تھا۔

    عام و خاص لوگوں میں ان کی مقبولیت ایک نظریاتی و آدرشی شخصیت کے طور پر تھی۔

    2 جولائی 1947 کو مہراج مہادیو کے گھر جنم لینے والے سائیں رانو مل ملانی اپنے پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔

    مہراج مہادیو کی وفات کے بعد وہ ملانی خاندان کے سربراہ تھے۔ خاندان کے ایک بڑے کی حیثیت سے انہوں نے مکمل ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی۔ اپنے چھوٹے بھائی اور سیاسی رہنما جگدیش ملانی کی وفات (ویرگتی) کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کو رہائشی کمرے اور ٹیوشن سینٹر تک محدود کر لیا تھا۔ وہ بہت کم وہاں سے نکلتے تھے۔

    سائیں رانو مل ملانی کی تعلیم بی ایس سی اور ایم اے تھی، لیکن خود مطالعے (سیلف اسٹڈی) کے ذریعے انہوں نے بہت زیادہ پڑھا تھا۔

    رابرٹ لیہرمن (Robert Lehrman) کی فزکس، یانگ اینڈ فریڈمین (Young and Freedman) کی یونیورسٹی فزکس، جان ایرینڈ ٹِم (John Arrend Timm) کی کیمسٹری، نیل اے کیمپبیل (Neil A. Campbell) کی بائیولوجی اور اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) کی ‘اے بریف ہسٹری آف ٹائم’ (A Brief History of Time) کو پسند کرنے والے رانو مل ان کتابوں کے ساتھ قرۃ العین حیدر کی کتاب ‘آگ کا دریا’ کو بھی پسند کرتے تھے اور دوسروں کو بھی یہی کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتے تھے۔

    ان کے قریبی دوستوں میں پروفیسر ریجھومل، پروفیسر ضیاء، پروفیسر خورشید کے کے (KK)، عثمان کھٹھی، پروفیسر روی شنکر (پرنسپل ڈی جے کالج کراچی)، پروفیسر بھوانی شنکر، پروفیسر چینگر گوسوامی، پروفیسر رامچند، یونس ساہڑ، پربھو لال پانچانی، پروفیسر آچارعابد، پروفیسر سائینداد ساند، مہراج جھامن داس اور دیگر شامل تھے۔ لیکن وہ پروفیسر ریجھومل اور پربھو لال کو اپنے خاندان کا فرد سمجھتے تھے۔

    ارجن لال سوٹھڑ اور نصیر کمہار ان کے قریبی نوجوان معاون ساتھی تھے، جنہوں نے سائیں رانو مل کی رہنمائی میں ‘غریب نواز سینٹر’ چلایا۔

    سائیں رانو مل کے سینٹر پر کچھ وقت انجینئر وینجھراج نے بھی پڑھایا، لیکن سائیں ارجن اور سائیں نصیر کمہار آخر تک ان کے ساتھ رہے۔

    رانو مل کی موجودگی میں مٹھی ایک چھوٹی، لیکن غریب نواز ہارورڈ یونیورسٹی لگتی تھی۔ سائیں رانو مل ملانی کی وفات پر مجھے مٹھی میں شاہ لطیف کا یہ بیت یاد آ گیا:

    ‘ڈونگر مون سان روءِ، کڍي پار پنہونءَ جا…’

    (اے پہاڑ! میرے ساتھ رو، پنہون کے پار نکال کر…)

    کارونجھر کا پہاڑ بہت دور تھا، مٹھی کے گڈھی بھٹ نے ٹیگور کی نظم سنانا شروع کر دی۔

    ڈوبتے ہوئے سورج نے پوچھا:

    ‘کوئی ہے جو میرے بعد روشنی کرے؟’

    اس پر جھونپڑی میں موجود ایک دیے نے انکساری سے جواب دیا:

    ‘میں کوشش کروں گا۔’

    مجھے یقین ہے کہ سائیں رانو مل کے ساتھیوں اور شاگردوں میں سے کوئی دیا بن کر سامنے آئے گا اور روشنی کے تسلسل کو قائم رکھنے کی کوشش کرے گا۔

  • ‘شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ’، تھر میں میٹھا پانی پہنچانے والے سندھ حکومت کا منصوبہ

    ‘شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ’، تھر میں میٹھا پانی پہنچانے والے سندھ حکومت کا منصوبہ

    تھر میں پانی کی قلت صدیوں سے مقامی آبادی کی زندگی کا ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ زیر زمین پانی کئی علاقوں میں کھارا ہے، جبکہ دور دراز آبادیوں تک میٹھا پانی پہنچانا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر حکومت سندھ نے ‘شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ فار تھر’ شروع کیا، جس کا مقصد عمرکوٹ سے تھرپارکر کے دور دراز علاقوں تک میٹھا پانی پہنچانا ہے۔

    یہ منصوبہ سندھ کے محکمہ آبپاشی کے تحت عمرکوٹ سے کیتاری، تعلقہ چھاچھرو تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے ذریعے عمرکوٹ اور تھرپارکر کے 70 بڑے دیہات تک پانی پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا، جہاں منصوبے کے وقت تقریباً دو لاکھ 31 ہزار افراد آباد تھے، جبکہ مستقبل میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام ڈیزائن کیا گیا۔

    یہ صرف پانی کی پائپ لائن کا منصوبہ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ پانی ذخیرہ کرنے اور آگے منتقل کرنے کا ایک مکمل نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔

    عمرکوٹ کے زیرو اسٹیشن پر 63 ملین گیلن گنجائش کا بڑا اوپن اسٹوریج ریزروائر قائم کیا گیا، جہاں سے پمپنگ سسٹم کے ذریعے پانی آگے منتقل کیا جاتا ہے۔ منصوبے میں ہنڈاکر کے مقام پر بوسٹر پمپنگ اسٹیشن بھی شامل ہے۔

    پانی کو مختلف آبادیوں کے قریب محفوظ رکھنے کے لیے منصوبے میں مجموعی طور پر 129 زیر زمین آر سی سی ٹینک بھی شامل ہیں، جن کی گنجائش مختلف مقامات کی ضروریات کے مطابق 20 ہزار سے 80 ہزار گیلن تک ہے۔ چھاچھرو شہر میں پانچ لاکھ 50 ہزار گیلن گنجائش کا ایک بڑا آر سی سی ٹینک بھی اس نظام کا حصہ ہے۔

    منصوبے کا ہدف 70 بڑے دیہات تک پانی پہنچانا ہے، جبکہ سندھ حکومت کے 2025-26 کے بجٹ میں بھی شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ فار تھر کے لیے رقم مختص کی گئی۔

    تھر جیسے خشک خطے میں میٹھے پانی کی دستیابی صرف پینے کے پانی کا معاملہ نہیں۔ اس کا تعلق روزمرہ زندگی، صحت اور دور دراز آبادیوں کی بنیادی ضروریات سے بھی ہے۔

    شہید بینظیر بھٹو سویٹ واٹر پروجیکٹ اسی کوشش کا حصہ ہے کہ میٹھا پانی ان آبادیوں کے قریب پہنچایا جائے جہاں پانی تک رسائی ایک مستقل مسئلہ رہی ہے۔

  • کامریڈ دادا روچی رام: تھر کی مٹی سے اٹھنے والی ایک دلفریب آواز

    کامریڈ دادا روچی رام: تھر کی مٹی سے اٹھنے والی ایک دلفریب آواز

    سندھ کی سرزمین نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسان، سماج، جمہوریت، امن اور اپنے دھرتی سے وابستگی کے لیے وقف کردی۔

    کامریڈ دادا روچی رام بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ وکیل، دانشور، سیاسی کارکن اور انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔

    آج 21 اگست کو ان کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ وہ 21 اگست 1928 کو تھرپارکر کے خوبصورت اور تاریخی شہر مٹھی میں ایک سندھی لوہانہ خاندان میں پیدا ہوئے۔

    دادا روچی رام کی زندگی تقریباً ایک صدی پر محیط ہے۔ ان کی زندگی میں سندھ کی سیاسی، سماجی اور فکری تاریخ کے کئی اہم ادوار سمٹ آئے ہیں۔

    انہوں نے آزادی کی تحریک کا زمانہ دیکھا، دوسری عالمی جنگ کے اثرات محسوس کیے، قیام پاکستان کا دور دیکھا اور اس کے بعد سندھ میں آنے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کا حصہ رہے۔

    مٹھی اور تھر کی سخت زندگی نے بچپن ہی سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا سکھایا۔ ان کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں غربت، قحط اور خشک سالی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔

    لیکن دوسری طرف ان کی تعلیم ایسے غیر معمولی دور میں ہوئی جب پورا برصغیر آزادی کی جدوجہد سے گزر رہا تھا۔ سیاسی بحثیں، آزادی کی تحریک اور دنیا میں جاری دوسری عالمی جنگ کے واقعات نوجوان ذہنوں کو متاثر کر رہے تھے۔

    1946 میں روچی رام نے حیدرآباد کے دیارام گدومل نیشنل کالج میں داخلہ لیا۔ یہی زمانہ ان کی فکری زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

    کالج میں ان کی ملاقات کمیونسٹ رہنما آسان اُتم چندانی اور معروف ادیب سندری اُتم چندانی سے ہوئی۔ دونوں شخصیات کے خیالات اور نظریات نے نوجوان روچی رام پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے سماجی نابرابری، غریبوں کے مسائل اور عوام کے حقوق کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا۔

    اسی فکری سفر نے روچی رام کو ایک بائیں بازو کے سیاسی کارکن کے طور پر آگے بڑھایا۔ انہوں نے سیاست کو صرف اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے عام لوگوں کے مسائل کے حل اور معاشرے میں انصاف کے قیام کا وسیلہ سمجھا۔

    قیام پاکستان کے بعد بہت سے لوگ سندھ سے ہجرت کرگئے، لیکن روچی رام نے سندھ میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی زندگی سندھ کی مٹی سے گہری وابستگی کی مثال بن گئی۔

    احمد فراز کا مشہور شعر، ‘ہم شہرِ ملال میں رہے مگر ہجرت نہ کی’ ان کی زندگی کے اس پہلو کی خوب ترجمانی کرتا ہے۔ روچی رام نے اپنی زندگی سندھ میں گزاری اور اپنے لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل اور جدوجہد کا حصہ بنے رہے۔

    تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے وکالت کے شعبے کو اپنا پیشہ بنایا۔

    وہ میرپورخاص میں وکیل کی حیثیت سے عملی زندگی میں داخل ہوئے اور تقریباً پچاس برس تک وکالت کرتے رہے۔ ان کے لیے قانون محض روزگار کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ وہ اسے انصاف کے حصول اور لوگوں کے حقوق کے تحفظ کا اہم وسیلہ سمجھتے تھے۔

    روچی رام کی شخصیت میں موجود سیاسی کارکن بھی زیادہ دیر خاموش نہ رہ سکا۔ وہ عوامی مسائل کے ساتھ جڑتے گئے اور سندھ کی کسان تحریک میں فعال کردار ادا کیا۔

    وہ کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی قیادت میں چلنے والی ہاری تحریک سے وابستہ رہے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد سندھ کے کسانوں اور زرعی مزدوروں کے حقوق کا تحفظ تھا۔ اس دور میں ہاریوں کی زندگی انتہائی مشکل تھی اور زمین سے وابستہ محنت کش طبقہ کئی طرح کے مسائل کا شکار تھا۔

    دادا روچی رام نے کسانوں اور غریب لوگوں کے مسائل کو قریب سے دیکھا۔ ان کی سیاسی سوچ میں عام آدمی ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا رہا۔

    یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی سرگرمیاں صرف پارٹی سیاست تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ مختلف سماجی اور انسانی حقوق کی جدوجہد کا حصہ بنتے رہے۔

    1967 میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی قائم کردہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام 30 نومبر 1967 کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر ہوا تھا۔ روچی رام نے پارٹی کی ابتدائی سیاست میں بھی کردار ادا کیا اور عوامی سیاست کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھی۔

    ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو انسانی حقوق کی جدوجہد بھی ہے۔ وہ تقریباً دو دہائیوں تک انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے کونسل رکن رہے۔ اس دوران انہوں نے انسانی حقوق، جمہوریت، شہری آزادیوں اور محروم طبقات کے مسائل پر آواز بلند کی۔

    انسانی حقوق کی جدوجہد میں ان کی طویل وابستگی انہیں سندھ کی ان شخصیات میں شامل کرتی ہے جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

    دادا روچی رام کی شخصیت کا ایک اور دلچسپ پہلو علم اور فکر سے ان کی گہری وابستگی ہے۔ وہ وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحب مطالعہ شخص بھی ہیں۔ انہوں نے سیاست اور قانون کے ساتھ ساتھ سندھ کے سماجی اور ثقافتی معاملات میں بھی دلچسپی رکھی۔

    ان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے اس بات کی مثال ہے کہ سیاست، علم اور سماجی خدمت ایک دوسرے سے الگ شعبے نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

    وہ کراچی تھیوسوفیکل سوسائٹی پاکستان کے بھی سینئر ترین ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ وابستگی ان کی فکری وسعت اور مختلف خیالات اور نظریات کو سمجھنے میں دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔

    دادا روچی رام کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو شاید یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اصولوں کے ساتھ طویل عرصے تک وابستگی برقرار رکھی۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں سیاسی وابستگیاں اور نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، انہوں نے عوام، سندھ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے بنیادی تصورات سے اپنا تعلق قائم رکھا۔

    مٹھی کی ریت سے شروع ہونے والا یہ سفر حیدرآباد کے تعلیمی اداروں، میرپورخاص کی عدالتوں، سندھ کی کسان تحریک، پیپلز پارٹی کی سیاست اور انسانی حقوق کی جدوجہد سے ہوتا ہوا آج تقریباً ایک صدی تک پہنچ چکا ہے۔

    دادا روچی رام کی سالگرہ دراصل ایک فرد کی سالگرہ نہیں بلکہ سندھ کی ایک ایسی فکری اور سیاسی روایت کی یاد بھی ہے جس میں عام انسان، غریب کسان، مزدور، جمہوریت اور انسانی حقوق کو اہمیت حاصل ہے۔

    ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عمر خواہ کتنی ہی طویل ہوجائے، انسان اگر اپنے اصولوں، اپنے لوگوں اور اپنی دھرتی سے وابستہ رہے تو اس کا کردار نسلوں تک یاد رکھا جاتا ہے۔

    ان کے دوستوں اور کراچی تھیوسوفیکل سوسائٹی کے اراکین نے دادا روچی رام کو سالگرہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ دعا ہے کہ وہ صحت، خوشی اور اطمینان کے ساتھ مزید برسوں تک ہمارے درمیان موجود رہیں اور اپنی فکری روشنی سے نئی نسلوں کو متاثر کرتے رہیں۔

    انہوں نے سندھ کی سماجی اور سیاسی صورتحال کے بارے میں پانچ کتابیں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوستوں کے نام ادبی خطوط اور سری لنکا کے سفرنامے پر بھی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں بدھ مت کے فلسفے اور سری لنکا میں تامل اور سنہالی لوگوں کے درمیان سیاسی تنازع پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

    ان کی ایک اور کتاب میں ایک جرمن خاتون کی ایک یہودی شخص سے محبت کی سچی اور حیرت انگیز کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب میں دوسری عالمی جنگ کے دوران یہودیوں کے سیاسی اور سماجی حالات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

  • تھر میں انسانیت کا خادم: ماما وشن تھری

    تھر میں انسانیت کا خادم: ماما وشن تھری

    ماما وشن تھری پر یہ الفاظ لکھتے وقت میں بھکتی تحریک کے عظیم شاعر نرسی مہتا کا یہ گیت ‘سانورئیے را نام ہزار، کیسے لکھاں کنکوپتری’ لوک گلوکار مہیشارام میگھواڑ کی آواز میں بار بار سن رہا ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے کبھی لکھتے ہوئے ایسی الجھن اور ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، جیسی ماما پر لکھتے وقت کر رہا ہوں۔ ماما وشن کی خدمات کے ہزاروں رنگ ہیں، میں ان پر خاکہ کیسے لکھوں! کہاں سے شروعات کروں!

    ماما سے مل کر روح کو سچے سکون کی خوشبو آتی ہے۔ بے چین روح ازل کی بیداری میں چمک اٹھتی ہے۔ ماما وشن تھری مایا موہ (دنیوی لالچ) کے وس میں آنے سے بچا ہوا، جہالت کے فرق سے آزاد، انسانیت کا ‘سانوریا’ (پیارا) ہے، جس کی ‘راس لیلا’ صرف دکھی انسانیت کی خدمت ہے۔

    نگرپارکر سے لے کر نیوکوٹ کی پٹی یا نارے کی طرف جانے والے قحط کے مارے ہوئے مسافروں کو کھانا کھلانا، مٹھی کے ہسپتالوں میں تڑپتے بے بس مریضوں کی دوا دارو کا بندوبست کرنا، مٹھی کے سینکڑوں ساتھیوں کے بلڈ گروپس یاد رکھ کر وقت پر گھروں سے انہیں لاکر خون کی کمی والے مریضوں کو خون دینا اور دلوانا، دن رات محنت کرکے مٹھی میں ‘تھرپارکر سوشل آرگنائزیشن’ قائم کرکے اپنے جیسے ہم خیال ساتھیوں کے تعاون سے بلڈ بینک قائم کرنا، تھر کے مارو لوگوں (غریب عوام) کو بلڈ ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دینا اور نوجوانوں کو ضرورت مندوں کے لیے عطیہ خون پر ابھارنا، گاؤں گاؤں میں بلڈ ٹیسٹ کیمپ لگانا، مٹھی میں ایمبولینس سروس کا بندوبست کرنا، اور قحط کے دنوں میں مویشیوں کے لیے چارے اور پانی کا مناسب انتظام کرنے تک، ان کے کتنے کام شمار کروائے جائیں؟

    ان کا انسانیت سے عشق لامحدود ہے۔ کسی پیمانے میں اسے تولا نہیں جا سکتا۔ اسی لیے ان کی ان خدمات کے عوض انہیں ‘تھر کا ایدھی’ کہا جاتا ہے۔ حاجی محمد، اسماعیل کنبھر، ذوالفقار عمرانی، نظام دین راجڑ، ہوتچند سوٹھڑ، راجیش سونی، بھیشم کمار پردھنانی سمیت سینکڑوں ساتھی سماجی کاموں میں ماما کے بازو بنے ہوئے ہیں۔

    چیلہار کے سپوت احمد علی چیلہاریو کے فرزند ابوبکر میمن نے بھی سدا ماما وشن کے کام میں تعاون کیا ہے۔ حیدرآباد کے نامور صحافی علی حسن نے بھی ماما کے ہاتھ بٹائے ہیں۔

    21 اگست 1966 کو مٹھی کی لوہانہ برادری کے معزز ہنسراج مل کے گھر جنم لینے والے ماما وشن تھری کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ بچپن ہی سے تھا۔ ماما چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے کہ ان کے والد صاحب کو فالج ہوگیا۔ گھر کی آمدنی رک گئی۔ مالی پریشانیاں بڑھ گئیں۔

    ماما کے بھائی نارائن داس نے پڑھائی ادھوری چھوڑ کر سیٹھوں کے ہاں ملازمت اختیار کرلی۔ انہوں نے گھر کے کھانے پینے کا بندوبست کیا۔ ماما نے اپنے والد کو سدا بستر پر ہی دیکھا۔ لیکن ان کی والدہ نے اپنے بیٹے وشن کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ہر ممکن جتن کیے۔ والدہ نے وشن کو پڑھایا تو وشن کے دوسرے بھائی ڈاکٹر نند لال کو بھی پڑھایا۔ وشن نے خود غربت کی زندگی دیکھی، 1987 میں ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اسی لیے غریبوں اور یتیموں کا انہیں بہت احساس رہتا ہے۔

    پرائمری تعلیم کے دوران ماما نے دیکھا کہ ایک غریب بچے کے پاس کاپیاں نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ آپس میں چندہ کرتے ہیں۔ جمع شدہ رقم میں کچھ ادھار ملا کر کاپیاں خرید لائے، پھر اسکول میں اعلان کیا کہ مارکیٹ سے کاپیاں لینے کے بجائے مجھ سے خریدیں۔ پندرہ دنوں میں اتنی کاپیاں بک گئیں کہ اس غریب طالب علم کی کاپیاں اور کتابیں ان پیسوں سے آ گئیں۔ ماما کی سماجی خدمت کا سفر وہاں سے شروع ہوا۔

    پھر بیراج کی طرف جانے والے قحط زدہ قافلوں کے کھانے کے لیے اپنے ہم عمروں کے ساتھ مل کر مٹھائی کے گھر گھر سے روٹیاں جمع کرکے قافلوں کو دینے کا کام شروع کیا۔ یہ کام کرتے ہوئے انہیں سچی راحت ملنے لگی۔ ماما کو کسی گھر سے روٹی کا انکار نہیں ملا۔ لیکن معاشرے کے کچھ مذاق اڑانے والے لوگوں نے وشن کے چھوٹے قد کی وجہ سے چڑانے کے لیے ‘ماما’ کہنا شروع کردیا۔ لیکن وشن چڑے نہیں، انہوں نے اپنے کردار سے سب کا ‘ماما’ بن کر دکھایا۔ وہ ہر ماں کے بھائی ہیں۔

    اب موبائل فون کا زمانہ ہے، لیکن جب یہ سہولت نہیں تھی تو خون کے ضرورت مند لوگ کبھی آدھی رات تو کبھی صبح سویرے ماما کے گھر پہنچ جاتے تھے اور دروازہ کھٹکھٹاتے رہتے تھے۔

    ماما خوشی سے ان کے لیے نکل آتے تھے، لیکن گھر کے دیگر افراد تنگ آجاتے تھے۔ یہاں تک کہ گھر کے کچھ افراد ناراض بھی ہوئے۔ اس درویش کے لیے اپنا گھر بھی تنگ ہونے لگا۔ لیکن انہوں نے کبھی ایسے حالات کی پروا نہیں کی، ایک پل کے لیے بھی ہمت نہیں ہاری اور اپنا کام جاری رکھا۔

    ان کا پرانا گھر کھتری محلے میں امام بارگاہ کے قریب ہوتا تھا، اب لوہانہ پاڑے میں ہے۔ دونوں جگہوں سے ہسپتال دور ہے۔ کبھی سواری ملے تو کبھی پیدل آنا پڑے، وہ پھر بھی آتے ہیں۔ جبکہ وہ خود بھی اب دو چار بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ کبھی کبھی خون مانگنے والے مریض کے لواحقین ماما پر چڑھ دوڑتے ہیں کہ ‘ماما! تم آنے میں دیر کر رہے ہو، مریض کی حالت خراب ہے!’ مگر ماما نے ان حالات میں بھی کبھی منہ نہیں بگاڑا اور نہ بدتمیزی سے جواب دیا۔

    ہنسی مذاق میں دوست ماما کو ‘خون مانگنے والا’ کہتے ہیں۔ کاش! ماما جیسے خون مانگنے والے معاشرے میں اور زیادہ ہوں۔ مجھ سے ایک دوست نے کہا کہ ‘ماما کے کام کا دائرہ اب تھر کے شہروں اور دیہاتوں سے نکل کر عمرکوٹ، سانگھڑ اور حیدرآباد تک پہنچ گیا ہے۔’ میں نے اس دوست کو بتایا کہ ‘میرا بھائی! ماما کا کام پہلے بھی وسیع تھا اور اب بھی ہے۔ یہاں سے جن مریضوں کو لاعلاج قرار دے کر دوسرے ہسپتالوں میں بھیجا جاتا ہے، ان بیچاروں کا وہاں بھی ماما ہی سہارا بنتا آیا ہے۔’ امر جگدیش ملانی جب لانگ مارچ پر تھے، تو اس وقت مٹھی کے ایک مریض کو حیدرآباد میں 12 بلڈ بوتلیں ماما نے ہی دلوانے میں مدد کی تھی۔

    میں مقامی تنظیم کا ممبر رہا ہوں، لیکن ہم فقیر لوگ، تھر کے دیہاتوں کا اپنا راج بھاگ یا کوئی تعلق دار مریض آ جائے اور خون یا دوا کی ضرورت ہو، تو اول و آخر سہارا ماما وشن ہی سجھائی دیتا ہے۔ ‘ماما! کچھ کرو۔’

    ایک بار کیا ہوا کہ نگرپارکر کے گاؤں آدھیگام کے غریب کولی ڈلیوری کیس کے لیے مٹھی آئے ہوئے تھے۔ رات کو مریض کے لیے خون اور کھانے کا بندوبست کیا۔ دو دن بعد پارکر کے کولی ساتھیوں کا فون آیا کہ ‘سائیں! ڈلیوری کیس میں مٹھی آئے تھے لیکن عورت فوت ہوگئی ہے۔

    ہمارے پاس کرائے کے پیسے نہیں ہیں اور لاش واپس لے کر جانی ہے۔’ میں نے ان مفلسی کے دنوں میں سوچا کہ اب کیا کروں؟ ماما کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔ سیدھا ماما کے پاس پہنچا۔ پوری بات بتائی تو ماما بندوبست میں لگ گئے۔

    سول سرجن ایمبولینس نہیں دے رہا تھا، ماما نے سول سرجن سے کہا: ‘میں اور بھارو دونوں ساتھ جا رہے ہیں، تم صرف ایمبولینس دو۔’ ہم نے پیٹرول کا انتظام کیا اور کولہیوں کے ساتھ نگرپارکر کے لیے نکل پڑے۔ نگر پہنچ کر پریس کلب کے سامنے ماما جھولی پھیلا کر بیٹھ گئے۔ آنے جانے والوں سے چندہ جمع کرکے آٹھ دس ہزار روپے غریبوں کو کفن دفن اور کھانے پینے کے لیے دیے۔ ایسی کہانیاں مٹھی کے ہر دوست کے پاس ماما کے بارے میں موجود ہیں۔

    ماما وشن تھری کی تربیت ایک سیاسی کارکن والی بھی ہے۔ سندھ کی قوم پرست سیاست کی راہ میں چلتے ہوئے انہوں نے جیل کا سفر (ترم یاترا) بھی کیا اور سختیاں برداشت کیں۔ ماما وشن، کامریڈ نند لال مالہی، ڈاکٹر اشوک بختانی اور لچھمن تھری کے ساتھ قوم پرست سیاست کا حصہ بننے کے ساتھ ساتھ امر جگدیش ملانی، فقیر مقیم کنبھار اور حسن پسایو کی معیت میں عوامی سیاست کا سبق عام کرنے کی جدوجہد میں شامل رہے ہیں۔ وہ ونگے کے ارباب خاندان اور جاگیر کے راڻوں کی سیاسی تاریخ کے شاہد بھی ہیں۔ جام ساقی اور سوبھو گیانچندانی کے انتخابات میں انہوں نے ایک متحرک کردار ادا کیا تھا۔

    انہوں نے تھر میں صحافت اور ادب کے قافلوں کے ساتھ ہر لمحہ قدم سے قدم ملا کر ایک سرگرم رکن کے طور پر اپنا فرض نبھایا ہے۔ مٹھی کا کون سا ایسا ادبی پروگرام ہوگا جس میں ماما وشن موجود نہ ہوں؟ 60 سے زائد سماجی تنظیموں کے مشترکہ نیٹ ورک ‘ماروئڑا کوآرڈینیشن کونسل’ کے وہ دو بار جنرل سیکرٹری بھی منتخب ہوئے ہیں۔

    ماما وشن ماروئڑا کے انتخابات میں دوسرے پینل سے تھے، لیکن جیتنے کے بعد اوبھایو جوڻيجو کے ساتھ مل کر انہوں نے ماروئڑا کے لیے دن رات کام کیا۔ این جی اوز کے مخصوص ماحول سے ماروئڑا کو نکال کر ایک عوامی ادارے کے طور پر قائم کیا۔ کبھی قدرتی وسائل کے مالکانہ حقوق کے لیے اوبھایو جوڻيجو اور ماما وشن سڑکوں پر نکلے، تو کبھی رن کندھی کے گاؤں میں پینے کے پانی کا بندوبست کیا۔ کبھی اعلیٰ حکام کو تھر کے مسائل پر خط و کتابت کی، تو کبھی نگر کے وانڈھیے میں مفت طبی کیمپ میں ایک عام کارکن بن کر کام کیا۔

    صادق فقیر ان کا بچپن کا دوست تھا۔ ماما ہائی اسکول مٹھی میں پڑھتے تھے، جبکہ صادق فقیر میرواہ گورچانی میں پڑھتے تھے۔ لیکن جب صادق مٹھی آتے تھے تو ان کے ماما امداد فقیر، حاجی محمد دل کے بیٹے نیاز دل اور ماما وشن کھتری محلے کے چوک پر بیٹھ کر باتوں کی محفل جماتے تھے۔ صادق میٹرک کے بعد کالج کی پڑھائی کے لیے مٹھی آ گئے۔ ماما اور صادق فقیر انٹر میں اکٹھے پڑھے۔ انٹر کے بعد بی اے کرکے صادق فقیر نے ایم اے سندھی کیا، جبکہ ماما وشن نے ایم اے اکنامکس کا فارم بھرا۔

    میں نے ماما وشن تھری، حاجی محمد دل اور صادق فقیر کو ایک دوسرے کے ساتھ بہت ہنسی مذاق کرتے دیکھا اور سنا ہے۔ ان کے اندر کتنی برداشت اور رواداری تھی! حاجی محمد اور تار چند راٹھی کے لکھے ہوئے اسٹیج ڈرامے، استاد حسین فقیر، کریم فقیر اور صادق فقیر کی گلوکاری، تاج جویو، سائینداد ساند اور امولکھ امر کی شاعری، ساتھی بارڑا سنگت اور لطیف سنگت، شیام داس جوشی، پرشوتم واسوانی، ساجن داس چندانی کی تربیت، اور کامریڈ نند مالہی کا سندھی ادبی سنگت میں متحرک رہنا، یہ مٹھی کی ایک ایسی ادبی تاریخ ہے جس نے مٹھی کو سحر انگیز صبح میں تبدیل کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ماما وشن تھری اور صادق فقیر کی یادیں اس دور کا قیمتی اثاثہ ہیں۔

    صادق فقیر ماما وشن کا بہت خیال رکھتے تھے۔ سندھ کا سما اور جیسانے کے بھاٹی کے بھائی ساہمی اور سیر اٹھانے والے لوہانے کا گھر منگنھار فقیر خود کھڑے ہوکر اپنی نگرانی میں بنوا کر دیا تھا۔ صادق فقیر کے بارے میں سوچتے ہوئے ان کی کیفیت آج بھی بنگالی زبان کے شاعر کے ان مصرعوں جیسی ہوجاتی ہے۔ بے اختیاری میں روتے ہوئے کہتے ہیں:

    ‘میں دیس پردیس گھوما ہوں، لیکن کسی کو بھی اپنی پسند کے مطابق پا نہیں سکا۔ اس سنسار میں کوئی بھی دوست تیرے جیسا نہیں ہے، ہائے میرے دوست! میں کیا کروں؟ تجھے کہاں ڈھونڈوں؟’

    دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنے والے ماما وشن کے دل کے درد کو صادق فقیر کے بعد کون محسوس کرسکتا ہے؟

    کیسے تو میرے من کی پیڑا جان سکے گا؟
    دیکھ تو! آنکھوں میں جاگنے کی تھکن چھائی ہے۔

    صادق فقیر کے بعد لطیفوں نے بھی انہیں ہنسانا چھوڑ دیا ہے۔ گھڑی گھڑی چتاؤں کی گھنٹی ان کی روح میں بجتی ہے۔ مٹھی کے دوستوں نے ماما وشن کو صادق فقیر کی جدائی کے غم سے نکالنے اور ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں ایک بڑا پروگرام منعقد کیا، لیکن وہاں بھی ماما صادق فقیر کو یاد کرکے رو پڑے کہ:

    ‘دوست بھی ملتے ہیں، محفل بھی جمی رہتی ہے،
    تو نہیں ہوتا تو ہر چیز میں کمی رہتی ہے۔’

    داغستان کے البیلے شاعر رسول حمزہ توف نے ایک جگہ لکھا ہے: ‘انسان چھ سال کی عمر میں بولنا سیکھ جاتا ہے، لیکن اسی سال کی عمر تک خاموش نہیں ہوتا۔’ سو، خاموش نہ ہونے والا انسان بولتا رہتا ہے، مثبت یا منفی، یہ ایک الگ پہلو ہے۔ منفی رویہ رکھنے والے اور تنقید کرنے والے لوگوں کے پاس ماما وشن کے کام پر بھی کئی باتیں موجود ہیں۔

    ایک بات کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے ہم بھی مانتے ہیں کہ ماما بھی ایک انسان ہیں، اور انسانی حد تک کمیاں اور کوتاہیاں ماما کے وجود میں بھی ہیں۔ لیکن یہ بتائیے کہ بے حسی کی بارش میں ڈوبے ہوئے معاشرے میں اس طرح انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے ‘سادھو’ بننے کو کون تیار ہے! فراریت کی سرد راتوں میں اپنائیت کے دیے کون جلاتا ہے!

    ان کا قد بھلے ہی چھوٹا ہو، لیکن انسانیت کے لیے ان کی محنت و مشقت بہت بڑی ہے۔ خود نمائی اچھے عمل کی موت ہے۔ ماما وشن نے کبھی خود نمائی نہیں کی۔ انہوں نے سدا عاجزی اور انکساری اختیار کرکے مسکین جہان خان کھوسو اور نندلال نندن کے چھوڑے ہوئے کام کو آگے بڑھایا ہے۔

    ہمارا یہ دور، جس کے بارے میں اروندھتی رائے کے الفاظ میں: ‘کچھ بھی غربت سے زیادہ نہیں بکتا۔’ لیکن انہوں نے کبھی بھی کہیں غربت کو بیچا نہیں ہے۔ غربت کے غم کو اجتماعی طاقت میں تبدیل کرکے نابرابری والے معاشرے کو ہلا دینے کی کوششیں ضرور کی ہیں۔

    ماما وشن کبھی ‘کارتک کے بادل’ نہیں بنے، جس کے لیے لوک شاعر نے کہا ہے:

    کتئی ککر جل نہیں، توں بھوری دیکھے مت بھول
    گن تھوڑو روپ گھنو، جیسا روہیڑے راتا پھول

    ترجمہ:

    اے بھولی عورت! کارتک (خریف کے موسم) کے بادل دیکھ کر دھوکا نہ کھانا، کیونکہ ان میں پانی نہیں ہوتا۔ ان میں خوبصورتی زیادہ اور گن (پانی) کم ہوتا ہے، جیسے روہیڑے کے سرخ پھول، جن میں روپ تو بہت ہوتا ہے مگر خوشبو نہیں ہوتی۔

    ماما وشن اپنے کردار میں ساون کا بھرا ہوا بادل ہیں۔ سدا گھنگھور گھٹا بن کر قحط زدہ تھر پر برسے ہیں۔ ماما وشن کے ساتھ منائی گئی ایک شام میں انجینئر گیان چند نے سچ کہا تھا: ‘ماما وشن موجودہ دور میں تھرپارکر کا بڑا انسان ہے۔’

    لوک ساگر کے شاعر کہتے ہیں:

    مینھاں اور موٹاں گھراں، ہینئاں چھوڈے م آس
    او برسے تو سرور بھرے، او چھوڈے نا نراس

    ترجمہ:

    اے میرے من! بارش اور بڑے گھرانوں سے کبھی امید نہ توڑنا، بارش برسے تو تالاب بھر دیتی ہے، اور بڑے گھر کا خاندانی انسان کبھی مایوس کرکے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔

    آج ماما وشن تھری کو ایوارڈ ملنے پر بہت بڑی خوشی ہوئی ہے۔

  • اچھڑو تھر: سندھ کا سفید صحرا، جہاں ریت کے درمیان جھیلیں زندگی کو جنم دیتی ہیں

    اچھڑو تھر: سندھ کا سفید صحرا، جہاں ریت کے درمیان جھیلیں زندگی کو جنم دیتی ہیں

    سندھ کے ضلع سانگھڑ کے مشرقی حصے میں واقع اچھڑو تھر یا ‘وائٹ ڈیزرٹ’ ایک منفرد صحرائی خطہ ہے۔

    یہ صحرا اپنی سفید مائل ریت، ریتیلے ٹیلوں کے درمیان پھیلے قدرتی آبی ذخائر، چراگاہوں اور مال مویشی پر مشتمل معیشت کی وجہ سے تھرپارکر کے سرخ و سنہری ریت والے صحرا سے بالکل مختلف شناخت رکھتا ہے۔ ماہرین اسے سندھ کے نایاب صحرائی ویٹ لینڈ نظام کا حصہ قرار دیتے ہیں، جہاں صحرا اور پانی ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

    اچھڑو تھر زیادہ تر ضلع سانگھڑ کے شمال مشرقی علاقوں اور ضلع خیرپور کے جنوب مشرقی حصوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی ساخت میں بلند و پست سفید ریتیلے ٹیلے، قدرتی نشیبی میدان، نمکین زمینیں اور بارش یا نہری پانی سے بھرنے والی قدیم جھیلیں شامل ہیں۔ یہی خصوصیات اسے پاکستان کے دیگر صحراؤں سے ممتاز بناتی ہیں۔

    اس صحرا کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ویٹ لینڈ کمپلیکس ہے، جہاں تقریباً سو کے قریب چھوٹی بڑی جھیلیں اور آبی ذخائر موجود ہیں۔ ان میں بوٹار، کلاں کر، ماتھون، اکڑو، گجاری، کلر واری اور سنہری جھیلیں زیادہ معروف ہیں۔ بعض جھیلیں نارا کینال نظام سے آنے والے پانی سے میٹھی رہتی ہیں، جبکہ کئی جھیلیں بارشوں پر انحصار کرتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ نمکین ہو جاتی ہیں۔ یہی آبی ذخائر صحرائی ماحول میں حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

    بارشوں کے بعد اچھڑو تھر کا منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ سفید ریت کے درمیان سبز گھاس اگ آتی ہے، قدرتی چراگاہیں آباد ہو جاتی ہیں اور جھیلیں پانی سے بھر جاتی ہیں۔ یہی موسم مقامی چرواہوں کے لیے سب سے اہم ہوتا ہے کیونکہ مویشیوں کو وافر چارہ میسر آتا ہے اور دودھ کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    اچھڑو تھر کی معیشت کا بنیادی انحصار مال مویشی پر ہے۔ یہاں بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ اور بعض علاقوں میں بھینسیں بھی پالی جاتی ہیں۔ مقامی خاندان نسل در نسل چرواہا طرز زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں اور موسمی حالات کے مطابق اپنے ریوڑوں کے ساتھ چراگاہوں اور جھیلوں کے درمیان نقل مکانی کرتے ہیں۔ اونٹ اس خطے کی روایتی شناخت ہے، جبکہ بھیڑ اور بکریاں مقامی آبادی کی آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔

    یہ صحرا پرندوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سردیوں میں وسطی ایشیا اور سائبیریا سے آنے والے ہزاروں مہاجر پرندے ان جھیلوں پر قیام کرتے ہیں۔ فلیمنگو، پیلیکن، بطخوں کی مختلف اقسام، بگلے، آبی مرغابیاں اور دوسرے آبی پرندے ہر سال یہاں پہنچتے ہیں۔ اسی وجہ سے ماہرین اچھڑو تھر کے ویٹ لینڈز کو بین الاقوامی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہیں۔

    اچھڑو تھر میں جنگلی حیات بھی پائی جاتی ہے۔ صحرائی لومڑی، جنگلی خرگوش، چنکارا ہرن، صحرائی رینگنے والے جانور اور مختلف اقسام کے پرندے اس ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ صحرائی پودے، جھاڑیاں اور قدرتی گھاس نہ صرف جنگلی حیات بلکہ مقامی مویشیوں کی بقا کے لیے بھی ضروری ہیں۔

    ماہرین ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کے غیر متوقع رجحانات، نارا کینال میں پانی کی کمی، زیر زمین پانی کی گرتی سطح اور غیر منصوبہ بند انسانی سرگرمیاں اچھڑو تھر کے قدرتی نظام کے لیے بڑے خطرات بنتی جا رہی ہیں۔ جھیلوں کے سکڑنے سے نہ صرف مہمان پرندوں کی تعداد متاثر ہوتی ہے بلکہ مقامی چرواہوں اور ان کے مال مویشیوں کی زندگی بھی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

    قدرتی حسن، سفید ریت، جھیلوں کے جال، چراگاہوں، مہاجر پرندوں اور صدیوں پرانی چرواہا ثقافت کے امتزاج نے اچھڑو تھر کو سندھ کے منفرد ترین قدرتی خطوں میں شامل کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس علاقے کے ویٹ لینڈز، حیاتیاتی تنوع اور روایتی طرز زندگی کے تحفظ کو مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

  • زاویہ: امر جگدیش کمار ملانی: تھر کی عوامی سیاست کا روشن استعارہ

    زاویہ: امر جگدیش کمار ملانی: تھر کی عوامی سیاست کا روشن استعارہ

    جگدیش ملانی نے تھر میں پارٹی سیاست کو فروغ دیتے ہوئے مٹھی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا پرچم لہرایا تھا۔ جگدیش ملانی ایک ایسی شخصیت تھے جنہیں شہید بے نظیر بھٹو ہر ‘راکھی پونم’ (راکھی کے تہوار) پر راکھی باندھا کرتی تھیں۔

    جگدیش پر نظر پڑتے ہی مادرِ جمہوریت نصرت بھٹو کے دل میں ممتا کی لہر جاگ اٹھتی تھی۔ جگدیش نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر جام صادق کے جبر کے تحت جیلیں کاٹیں۔ انہوں نے مٹھی میں رواداری کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے عید اور دیوالی کے موقع پر محبتوں کے میلے سجائے۔ وہ ہولی کے تہوار پر بازار کے مرکزی چوک میں رنگوں کا ڈرم بھر کر رکھا کرتے تھے۔ وہ افسران کے مقابلے میں عام آدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دیتے تھے۔

    وہ، جو جدید سندھی صحافت کے دلیر نام فقیر محمد لاشاری اور اسماعیل اڈھیجو کے ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو کی کال پر بحالیِ جمہوریت کی خاطر لانگ مارچ میں ‘جیئے بھٹو’ کے نعرے لگاتے ہوئے نکلے تھے اور راہِ وفا میں 31 جولائی 1993 کو اپنا خون بہا کر ابدیت (امرتا) کا مقام پا گئے۔

    جگدیش کمار ملانی 1988 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اقلیتوں کے جداگانہ طرزِ انتخاب کے تحت ایم پی اے (رکن صوبائی اسمبلی) منتخب ہو گئے۔ بعد ازاں، 1990 کے انتخابات میں جگدیش کمار ملانی ایم این اے (رکن قومی اسمبلی) کی نشست پر امیدوار بنے، تاہم وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

    جگدیش ملانی کے پاس پارٹی سیاست کی بڑی طاقت ہوا کرتی تھی۔ وہ تھر کے ٹیلوں میں سیاسی سرگرمیوں سے زلزلہ برپا کر کے کہا کرتے تھے کہ ‘محنت کشوں اور مسکینوں کے خوابوں کو آزاد کرو۔’

    جگدیش سیاسی جدوجہد کے لیے شب بیداریوں کے عادی بہادروں کو اپنے دل کا ہار بنا کر رکھتے تھے۔ ان کی محبت کے شیریں رازوں اور سانس کی ترنم میں سیاسی کارکنوں کے لیے سراپا خلوص ہوتا تھا۔ جگدیش سچے اور مضبوط انسان تو تھے مگر سخت دل نہیں تھے۔ غریب و مارو لوگوں کے لیے ان کا دل اتنا نرم و ملائم تھا جتنا تھر میں سنئی (ایک نرم پودا) کا پھول ہوتا ہے۔

    جگدیش کمار ملانی کو کبھی کسی پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ہر شخص سے خلوص اور محبت سے ملنا ان کا نصب العین تھا۔ امر جگدیش ملانی کی عوامی سیاست کا تھر کی سیاسی تاریخ پر ایک گہرا نقش ہے۔ عوامی سیاست کا یہ انوکھا اور منفرد کردار سندھ کی فکری و شعوری تحریک سے جڑا رہتا تھا، چاہے تھر کے دیہاتی ہوں یا پورا سندھ، جگدیش کا تذکرہ دل کی زبان سے کرتے ہیں۔

    امر جگدیش کمار ملانی کے بعد ان کے بھائی موتی رام ملانی نے اس تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اقلیتوں کے جداگانہ طرزِ انتخاب کے تحت وہ ایم این اے بنے، لیکن زندگی نے موتی رام سے وفا نہ کی۔ موتی رام ملانی کی ناگہانی وفات کے بعد یہ سنگین ذمہ داری ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کے کندھوں پر آ پڑی۔ ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے اپنی سیاسی بصیرت اور تدبر کے ساتھ امر جگدیش کی جلائی ہوئی شمع کو روشن رکھنے کے لیے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔

    نہایت کٹھن سفر میں بھی ڈاکٹر مہیش کمار آزمائش کی گھڑیوں سے گزر کر پارٹی اور عوامی سیاست کے ساتھ مخلص رہے۔ وزیراعظم کے امیدوار شوکت عزیز جب تھر کے حلقے سے الیکشن میں کھڑے ہوئے، تب ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار کے طور پر ان کا مقابلہ کیا۔

    ڈاکٹر مہیش کمار اقلیت کی مخصوص نشست پر رکن بننے سے لے کر مشترکہ ووٹوں پر الیکشن لڑ کر صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ مختلف اوقات میں پارٹی کی ضلعی صدارت سنبھالنے والے ڈاکٹر مہیش اس وقت میرپورخاص ڈویژن کے ڈویژنل صدر ہیں۔

    ملانی خاندان کے اس سیاسی سفر میں امر جگدیش کے بڑے بھائی، استاد رانے مل ملانی نے پس منظر میں رہ کر ایک رہنما کا کردار ادا کیا۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر منوج ملانی دوسری بار میونسپل کمیٹی مٹھی کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔

    جگدیش ملانی کے بیٹے ونود ملانی اور سشیل ملانی بھی وراثت میں ملی سیاست کے اس کٹھن سفر کے مسافر ہیں۔ سیاست کے صحرا میں کوئی چاہے جتنے بھی اختلافات تراش لے، لیکن سماجی زندگی میں سشیل ملانی پیار، اپنائیت، عمدہ اوصاف، شیریں دوستی اور انوکھی روایت والا ایسا نوجوان ہے جس کے ساتھ احساسات، جذبات، تصورات اور تخلیق کے سمندر میں آنسوؤں کی لہریں اور دل پر نقش چاہت کی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔

    باہم جھگڑوں، محفلوں، تنقیدوں اور اختلافات کے باوجود سشیل کا مسکرا کر ملنا اور پیار و اپنائیت کے ساتھ پیش آنا اس کی عالی ظرفی کا ثبوت ہے۔

    سیاست کی کتنی ہی مصروفیات ہوں، لیکن ‘دل وراکو دوست سين’ (دل کا دلاسہ، سکون دوست کے ساتھ) برقرار رکھنے کی سشیل ملانی پوری کوشش کرتا ہے۔ جگدیش ملانی کی طرح تعلق داروں اور دوستوں کے پاس چلا آتا ہے۔

    سشیل ملانی اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی ضلع تھرپارکر کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ اس عہدے پر امر جگدیش کمار ملانی بھی فائز رہ چکے ہیں۔ تاریخ کو دہراتے ہوئے وقت نے انہیں ایک بار پھر موقع دیا ہے، اب عوام کے دلوں میں اپنی جگہ انہیں خود بنانی ہے۔

    نوٹ: اس تحریر میں شامل آرا، تجزیے اور تاثرات مصنف کے ذاتی ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

  • ‘کانگسیو’ جیسا گیت گاکر تھر میں جادو جگانے والے لوک تھری گلوکار حیدر رند

    ‘کانگسیو’ جیسا گیت گاکر تھر میں جادو جگانے والے لوک تھری گلوکار حیدر رند

    حیدر رند اپنے دور کے ایک ایسے لوک گلوکار تھے جن کی آواز کی تانوں پر صحرائی لوگوں کے دل دھڑکتے تھے۔ انہوں نے تھر کے منفرد لوک گیت گا کر یہاں کے سادہ لوح مارو لوگوں، یعنی صحرائی باسیوں، کی امیدوں اور مایوسیوں کی بھرپور ترجمانی کی۔

    1940 میں تحصیل چھاچھرو کے گاؤں کریم داد میں گھنور کے گھر جنم لینے والے حیدر رند کا 23 دسمبر 2021 کی شام جب انتقال ہوا تو نہ صرف تعلقہ چھاچھرو کے گاؤں ‘کریم داد رند’ کے ریتلے ٹیلوں سے سسکیاں ابھریں بلکہ برصغیر کے وسیع صحرا، تھر، میں لاکھوں لوگوں کے دل روئے تھے۔

    حیدر رند معصوم طبیعت کے مالک تھے۔ انہوں نے گائیکی سے پیسوں سے زیادہ سامعین کا پیار کمایا، جس پر انہیں زندگی بھر فخر رہا۔ علیم خان خاصخیلی کے الغوزے کی مدھر دھنوں پر سامعین کے فرمائشی نام لے کر اپنی گائیکی کا آغاز کرنے والے حیدر رند جب محفل میں لوک گیت گا کر سماں باندھ دیتے تھے تو پھر اپنے سامعین سے مخصوص انداز میں مخاطب ہو کر کہتے تھے:

    ‘مجھے عشق کی چوٹ نے کسی رئیس کے مرتبے سے اٹھا کر ایک فقیر گلوکار بنا دیا ہے، اب ہم درد گا کر روح کو تسکین دے رہے ہیں۔ درد کے فقیر فطرت کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ فطرت کا پیار چاند جیسا ہے، کبھی بڑھتا ہے تو کبھی گھٹتا ہے، لیکن پیار کا سفر کبھی چھوڑا نہیں جاتا۔’

    حیدر رند نے گائیکی کا آغاز 1970 کی دہائی میں کیا۔ موسیقی میں ان کے استاد کانجی میگھواڑ تھے، جن کے ساتھ مل کر حیدر رند رواداری کی روایت کے تحت مذہبی و سماجی سنگتوں، ست سنگ، میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے بھگتی رنگ میں بھجن، مذہبی گیت، بھی گائے۔

    انہوں نے میرا بائی کی طرح ویراگ، درویشی، کی راہ پر چلتے ہوئے کانھوڑا بھگتی کے گیت بھی گائے۔ انہوں نے اپنے محبوب تک پہنچنے کے راستے تلاش کیے، لیکن 1971 کی جنگ نے انہیں ان کے محبوب سے دور کر دیا۔ حیدر رند اپنے پیار کے پیچھے جوگی بن کر نکل پڑے، کندھے پر جھولی لٹکائے اور ہاتھ میں مرلی تھامے صدا لگائی کہ:

    ‘میں اپنے پردیسی کے لیے جوگی بن کر جاؤں گا،
    طوطا بن کر پنجرے میں رہوں گا، البیلا جوگی بن کر جاؤں گا،
    ہلکی ہلکی بھبھوت، راکھ، اپنے بدن پر ملوں گا،
    اور در در سے بھیک مانگوں گا،
    جوگی بن کر جاؤں گا۔’

    لیکن طویل سفر کی صعوبتیں جھیلنے کے باوجود حیدر رند کی اپنے محبوب سے ملاقات نہ ہو سکی۔ وہ گاؤں گاؤں کی خاک چھان کر مایوس دل کے ساتھ واپس اپنے آبائی گاؤں لوٹ آئے، جہاں سے انہوں نے محبت کی تپش کے ساتھ ‘کانگسیو’، کنگھی، نامی لوک گیت گا کر اپنے محبوب کے دیس بھیجا۔ ‘کانگسیو’ لوک گیت کے بولوں نے یہ کمال کیا کہ حیدر رند کے درد کی داستان ان کے دلبر تک پہنچ گئی، جو خود بھی ان کی تڑپ میں بے قرار تھا۔

    وقت کے بہاؤ نے حیدر رند کے محبوب کو واپس اپنی مٹی کی طرف لوٹا دیا۔ وہاں حیدر رند کے اپنے پیار کے ساتھ وہی پرانے لاڈ پیار اور مراسم دوبارہ قائم ہو سکے یا نہیں، لیکن موسیقی کے ساتھ ان کا دل ایسا جڑا کہ انہوں نے ہر نئے دن اور نئے سال تھر کے لوک گیت گاتے ہوئے اپنی شناخت ایک لوک گلوکار کے طور پر مستحکم کر لی۔

    برادریوں کی شادیوں اور تقریبوں سے لے کر نجی محفلوں تک گونجنے والی ان کی آواز ‘سانیو ٹیپ ریکارڈر’ میں ریکارڈ ہو کر البیلے نوجوانوں کے محبت کے تحفوں کا حصہ بننے لگی۔

    1984 اور 1985 کے آس پاس کریم داد کے علاقے کے نوجوان حیدر رند کے گائے ہوئے گیت ریکارڈ کر کے عمرکوٹ لے آئے، جہاں سے ان کی آواز میرپورخاص کی ایک نجی کیسٹ کمپنی ‘تھر پروڈکشن’ کے مالک تک پہنچی۔

    انہوں نے حیدر رند کی آواز سنتے ہی تھر پروڈکشن کے ملازم اور گلوکار میو فقیر کو تھر بھیجا کہ اس گلوکار کو ڈھونڈ کر لاؤ، ہم اس کی کیسٹ ریکارڈ کریں گے۔

    میو فقیر تھر آ کر پوچھ گچھ کے بعد حیدر رند کو میرپورخاص لے گیا، جہاں علیم خان خاصخیلی کے الغوزے کی سنگت کے ساتھ حیدر رند کی کیسٹ ریکارڈ ہوئی۔ اس کے بعد ‘سو ساٹھ پہ کانٹا’، تیز رفتار مقبولیت کے استعارے کے طور پر، حیدر رند کی آواز مقامی محفلوں سے نکل کر کیسٹ کے ذریعے سندھ کے کونے کونے اور بستی بستی میں گونجنے لگی اور ہر طرف واہ واہ مچ گئی۔

    کہا جاتا ہے کہ میرپورخاص کی نجی کیسٹ کمپنی کی طرف سے جاری کی گئی ان کی پہلی کیسٹ ایک ماہ کے اندر ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد فروخت ہوئی تھی، جس پر تھر پروڈکشن کے مالک نے اس تھری فنکار کو تحفے میں ایک گاڑی دی۔ اس طرح حیدر رند کیسٹ کی دنیا میں متعارف ہوئے، دیگر کمپنیوں نے بھی رابطے کیے اور حیدر رند کیسٹوں کی دنیا میں تھری لوک موسیقی کے بادشاہ بن گئے۔ ان کی 150 سے زائد کیسٹیں ریلیز ہوئیں۔

    حیدر رند کی شہرت اس حد تک بڑھ گئی کہ عوامی گلوکار سے محبت کرنے والے دیہاتی ان سے محفل کا وقت، تاریخ، طے کرنے کے بعد ہی شادی بیاہ کی دعوت کا اعلان کرتے تھے۔ 80 اور 90 کی دہائیاں عوامی لوک موسیقی کے عروج کا دور تھیں۔ دیگر فنکاروں نے گا کر دولت سمیٹی، لیکن سچے دل کے مالک اس سادہ فنکار نے لوگوں کا پیار سمیٹا۔

    انہوں نے کبھی محفل کا حساب کتاب نہیں کیا، جو مل گیا ٹھیک، نہ ملا تو بھی کوئی گلہ نہیں۔ وہ سروں اور موسیقی کی تال پر خوش رہتے تھے۔ اس دور میں حیدر رند کو ریڈیو اور ٹی وی پروگراموں میں بھی گانے کا موقع ملا، جہاں انہوں نے اپنی عوامی گائیکی سے لوگوں کے دلوں کو گرمایا۔

    حیدر رند نے سندھی، ڈھاٹکی، مارواڑی، سرائیکی اور گجراتی زبانوں میں گایا، لیکن ان کے مارواڑی اور ڈھاٹکی زبان میں گائے گئے گیت سب سے زیادہ مقبول ہوئے۔

    شکور عرف شکوریا نہڑی کی برصغیر کے اس بڑے صحرا میں ایک بااثر باغی اور ڈاکو کے طور پر دھاک بیٹھی ہوئی تھی، لیکن انہوں نے راجپوتوں کے قبیلوں میں شادیاں رچانے اور غریب بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے میں جو سماجی کردار ادا کیا، اس نے انہیں لوک گیتوں کا ایک لازوال کردار بنا دیا۔

    شکور کو جب دھوکے سے مارا گیا تو راجپوت برادری میں کہرام مچ گیا۔ شکور کی یاد میں میراثیوں، منگنہاروں اور لوک گلوکاروں نے ان کی بہادری اور دردناک رخصتی کے نوحوں کو لوک گیتوں میں پرویا۔ شکور کی یاد میں حیدر رند کا گایا ہوا یہ گیت بھی بے حد مقبول ہوا:

    ‘واہ رے شکور نہڑی جوان،
    تیرا دنیا نے مان رکھا، واہ رے،
    مولا نے تیرا مان رکھا، واہ رے شکور نوجوان۔’

    لیکن جب وقت نے پلٹا کھایا اور کیسٹ کمپنیوں کا دور ختم ہوا تو حیدر رند بھی اپنے گاؤں واپس آ کر گوشہ نشین ہو گئے۔ کبھی کبھار کسی مخلص دوست کے بلانے پر محفل سجانے چلے جاتے تھے، لیکن زیادہ تر وقت گاؤں ہی میں گزرتا تھا۔ 12 مارچ

    2017 کو میں اپنے پیارے دوست جان محمد سمو کے ساتھ حیدر رند سے ملنے ان کے گاؤں ‘کریم داد’ گیا، لیکن اتفاق سے اس دن حیدر رند چھاچھرو شہر گئے ہوئے تھے۔

    ان سے بالمشافہ گفتگو تو نہ ہو سکی، لیکن ان کی اوطاق، بیٹھک، پر ان کے صاحبزادے اور دیگر دیہاتیوں سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ گاؤں پر حیدر رند کی گائیکی کا یہ اثر ہے کہ وہاں کے اکثر نوجوان انہی کے انداز میں گاتے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی گاؤں کے ریتلے ٹیلوں میں لوک گیتوں کی گونج ابھرنے لگتی ہے:

    ‘موریا رے موریا، میٹھو تو بولیو۔’

    ‘تلریا رے مگریا رے موراں بائی لارے رہ گئے۔’

    ‘ماں، منے کانگسئے رلائی۔’

    ‘آچ پکی پردیسی، تو کے سینے لگایاں۔’

    ‘اسیں مارو تھر را۔’

    حیدر رند کے گاؤں میں دیہاتیوں کے ساتھ طویل کچہری کے بعد دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ چھاچھرو پہنچنے تک لوک گیتوں کی گونج ہمارے کانوں میں بازگشت بن کر گونجتی رہی۔

    جدید دور کے نئے اسٹوڈیوز تو حیدر رند کو میسر نہ آ سکے، لیکن ان کی لوک گائیکی کے دلدادہ نوجوانوں نے ‘گوگل’ اور ‘یوٹیوب’ کے راستوں پر چلتے ہوئے ان کے گائے ہوئے لوک گیتوں کو آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں محفوظ کر لیا ہے۔

    جہازوں سے اتر کر ‘پراڈو’ اور ڈبل کیبن گاڑیوں میں سفر کرنے والے کارپوریٹ اور بیوروکریٹک طبقے کے بڑے لوگ یا ‘رے بین’ کے امپورٹڈ چشمے لگانے والے شہری ‘بابو’ انٹرنیٹ کے ذریعے ان کے لوک گیت کبھی ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں یا نہیں، لیکن تھر کے دیہاتی لوگ جب شہر سودا سلف خریدنے آتے ہیں تو موبائل کی دکانوں سے اپنے موبائل کے میموری کارڈ میں حیدر رند کے گیت ضرور بھرواتے ہیں اور صحرا میں کنڈی کے درختوں کی چھاؤں تلے بیٹھ کر بڑے شوق سے سنتے ہیں۔

  • تھر کی لوک دانش: فطرت کے اشارے اور شگون

    تھر کی لوک دانش: فطرت کے اشارے اور شگون

    فطرت کے قریب رہنے والے لوگ درختوں، پودوں اور بیلوں کی شاخوں، کونپلوں، پتوں، پھولوں، پھلوں اور زمین، آسمان، سورج، چاند، تاروں اور نکشتروں (نکشتوں) کے رنگ و روپ اور ان کے طلوع و غروب کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات اور مویشیوں کی اچانک بدلتی ہوئی بولی، حرکات و سکنات اور جسم کی رنگت و بو کے ذریعے بھانپ لیتے ہیں کہ فطرت میں کیا ہونے والا ہے۔ اسے مقامی زبان میں "سوڻ ساٺ” (شگون) اور آثار کہا جاتا ہے۔

    تھر دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا سرسبز ریگستان ہے، جس کی کثیر آبادی فطرت کی گود سے حاصل ہونے والے قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ یہاں کے باسیوں نے صدیوں کے سفر میں بقا کی جنگ لڑتے ہوئے، قدرتی آفات کے رونما ہونے سے پہلے ان کا ادراک کرنے کے آثار اور روزمرہ کے کام کاج کے حوالے سے مختلف شگون اپنی لوک دانش (لوک ڏاهپ) کی جھولی میں ڈالے ہیں۔

    عالمی موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کے اثرات اور ماحولیاتی بگاڑ کی وجہ سے ان قدرتی اشاروں میں کتنا بدلاؤ آیا ہے اور ان روایتی شگونوں کی کتنی ساکھ باقی رہی ہے؟ یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے، جس پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سے پہلے، لوک دانش کے عنوان کے تحت تھر میں قدرتی آفات کو بھانپنے کے آثار، شگونوں اور ان کو سمجھنے والے لوک داناؤں کے حالاتِ زندگی (جیون خاکوں) کو محفوظ کر کے نئی نسل تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    رات کا سفر اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری

    تھر میں رات کے وقت سمتوں اور اوقات کا تعین تاروں اور نکشتروں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ مویشیوں کو باڑے (وٿاڻ) سے نکالنے یا واپس لانے کے وقت آسمان پر نظر ڈال کر نکشتر دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی کو گاؤں یا ٹھکانے کا پتہ بتانا ہو تو کہا جاتا ہے کہ "وہ فلاں تارے کے نیچے ہے، بس اس تارے کی سمت رخ کر کے چلے جاؤ”۔

    صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے اپنی شاعری میں وقت گزرنے کے حوالے سے ‘نکشتوں’ اور سمت کی رہنمائی کے لیے تاروں کا تذکرہ کچھ اس انداز میں کیا ہے:

    نکٽ سڀ نئي ويا، آيو نه اوٺي،
    سوڍي جي ساءِ پئي گر لايم ڳوٺي،
    آءٌ تنهن لڍاڻي لوٺي، پسان جو پرينءُ ري۔
    (شاہ جو رسالو)

    ترجمہ: تمام ستارے غروب ہو گئے، لیکن وہ شتر سوار نہ آیا۔ سوڈھے (محبوب) کی چاہ میں، میں نے اپنے وجود کو روگ لگا لیا۔ میں اس لڈانو (گھر/میکدے) میں محبوب کے بنا ویران کھڑی ہوں۔

    اڀي اڀاريام، نکٽ سڀ نئي ويا،
    هڪ مَيو ٻيو مينڌرو، رات سڄي سارئام،
    ڳوڙها ڳل ڳاڙئام، سورج شاخون ڪڍيون۔
    (شاہ جو رسالو)

    ترجمہ: کھڑے کھڑے میں نے صبح کر دی اور تمام ستارے ڈوب گئے۔ ایک اونٹ اور دوسرا میندھرا (محبوب)، ساری رات میں ان کو ہی یاد کرتی رہی۔ رخساروں پر آنسو بہتے رہے، یہاں تک کہ سورج نے اپنی کرنیں بکھیر دیں۔

    هُن تاري هُن هيٺ،
    هت منهنجا سپرين،
    سڄڻ ماکي ميٺ،
    ڪَوڙا ٿين نه ڪڏهين۔
    (شاہ جو رسالو)

    ترجمہ: اس تارے کے نیچے، وہاں دور میرے محبوب بستے ہیں۔ سجن شہد سے بھی میٹھے ہیں، وہ کبھی کڑوے (تلخ) نہیں ہو سکتے۔

    نکشتر (تارے) اور ان کے اثرات

    کچھ تارے اور نکشتر بہت مشہور ہیں جنہیں فطرت کے قریب رہنے والے عام لوگ بھی پہچانتے ہیں۔ وہ ان کے طلوع و غروب اور دھرتی پر پڑنے والے اثرات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ تارے اور نکشتر ایسے ہیں جن کے بارے میں بڑے نجومی، علمِ جوتش (علمِ نجوم) کے ماہرین اور ماہرینِ فلکیات ہی جانتے ہیں۔

    اکثر نکشتوں کا زمین اور موسم پر 14 یا 15 دن تک اثر رہتا ہے، جبکہ کچھ نکشتر دوسرے نکشتوں کے ساتھ مل کر ایک یا دو دن اثر رکھتے ہیں۔ علمِ نجوم میں درج ذیل 28 نکشتر شمار کیے جاتے ہیں:

    اشونی، بھرنی، کارتک، روہنی، مرگشر، آردرا، پنروسو، پشیا، آشیلیشا، مگھا، پوروا پھالگنی، اترا پھالگنی، ہست، چترا، سواتی، وشاکھا، انورادھا، جیشٹھا، مول، پورواشاڈھا، ابھجیت، شروان، دھنشٹھا، شتبھشا (شت تارکا)، پوروا بھادرپدا، اترا بھادرپدا اور ریوتی۔

    ہندی میں اسے ‘نکشتر’ اور تھری لہجے میں ‘نکتر’ کہا جاتا ہے۔

    بارشوں کے شگون اور لوک کچہریاں

    برسات (چوماسے) کے ‘بھرنی’ نکشتر میں بجلی کا چمکنا اچھا نہیں مانا جاتا، اور ‘روہنی’ نکشتر کا برسنا بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ روہنی نکشتر عام طور پر مئی کے آخری ہفتے میں شروع ہوتا ہے۔ اگر روہنی نکشتر میں بارش ہو جائے تو پھر 72 دنوں تک بارش کا وقفہ (خشک سالی) پیدا ہو جاتا ہے، جسے تھری زبان میں ‘باہترو’ (ٻاهترو) کہا جاتا ہے۔

    تاہم، اگر ‘روہنی’ نکشتر میں شدید گرمی پڑے اور اس کے بعد ‘مرگشر’ نکشتر میں تیز ہوائیں چلیں، تو ‘آردرا’ (آدر) نکشتر میں بارش لازمی ہوتی ہے۔ اسی لیے تھر کی مشہور کہاوت ہے:

    "روہن تپے، مرگشر وائے، تو آدر میں اݨ پچھیو مینہ آوے”

    (یعنی: اگر روہنی تپے اور مرگشر میں ہوائیں چلیں، تو آردرا میں بن بلائے بارش برسے گی)۔

    ‘ننڍو وايو’ (چھوٹی ہوا) اور ‘وڏو وايو’ (بڑی ہوا) بھی انہی نکشتوں کے ساتھ آتے ہیں، جو تیز ہواؤں کے دن ہوتے ہیں لیکن ان میں بھی بارش کی امید (آگم جو آسرو) بندھی رہتی ہے۔

    نامور اسکالر ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ نے اپنی کتاب ‘رهاڻ هيرن کاڻ’ (محفلیں ہیروں کی کان) میں قطب تارے، ساتیرن (ستاروں کا جھرمٹ/دبِ اکبر)، کتی کے نکشتر (ثریا)، سہنڑو تارے، بچھو نکشتر، ٹیڑو نکشتر، لدھا تاروں، ایتھ تارے، صبح کے تارے، شام کے تارے اور جوگنی تارے کے بارے میں تھر کی بیٹھکوں (لوک کچہریوں) کے دلچسپ احوال بیان کیے ہیں۔

  • پانچ ٹانگوں والی تھر کی ‘بودلی گائے’، جس کی پوجا کی جاتی ہے

    پانچ ٹانگوں والی تھر کی ‘بودلی گائے’، جس کی پوجا کی جاتی ہے

    تھرپارکر اور عمرکوٹ کے بعض دیہی علاقوں میں ایک ایسی منفرد گائے پائی جاتی ہے جسے مقامی لوگ ‘بودلی گائے’ کے نام سے جانتے ہیں۔

    اس گائے کے جسم پر پیدائش سے ہی ایک اضافی عضو، جیسے چھوٹی ٹانگ، پاؤں یا زبان جیسی ساخت موجود ہوتی ہے، جسے مقامی ہندو برادری ایک مقدس نشانی تصور کرتی ہے۔ اسی عقیدت کے باعث بودلی گائے کو عام مویشیوں کی طرح نہیں رکھا جاتا، بلکہ اس کی خصوصی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

    تھر میں بودلی گائے عموماً جوگی یا سپیرا برادری کے پاس ہوتی ہے، جو نسل در نسل اس کی خدمت اور حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ عمرکوٹ کے قریب ویہرو گاؤں میں ایک بزرگ جوگی کے گھر میں اس وقت دو بودلی گائیں موجود ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سے لوگ آتے ہیں۔ گائے کی پیٹھ پر موجود اضافی عضو کو ہر وقت کپڑے یا چادر سے ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے، تاکہ اسے نقصان نہ پہنچے اور اس کا احترام برقرار رہے۔

    مقامی روایت کے مطابق بودلی گائے کو افزائش نسل کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ جس منفرد شکل میں یہ پیدا ہوتی ہے، اسی حالت میں اس کی حفاظت کرنا ضروری ہے، اس لیے اسے حاملہ نہیں ہونے دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی گائیں اپنی پوری زندگی خصوصی نگہداشت میں گزارتی ہیں۔

    روزانہ بڑی تعداد میں عقیدت مند بودلی گائے کو سبز چارہ، باجرہ، جوار، گندم کا بھوسہ، گڑ، آٹا اور روٹیاں پیش کرتے ہیں۔ بعض افراد منت پوری ہونے پر چارہ، گڑ یا دیگر خوراک بطور نذرانہ لاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ گائے کو ہاتھ لگا کر دعا کرتے اور اسے باعثِ برکت سمجھتے ہیں۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ بودلی گائے کو کسی میلے یا نمائش کی چیز نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے ایک روحانی امانت تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کی دیکھ بھال کرنے والے خاندان اسے فروخت کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں اور اسے اپنے پاس رکھنا باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق بودلی گائے کے انتقال کے بعد بھی اس کی یاد کو احترام سے محفوظ رکھا جاتا ہے اور برسوں تک اس کا تذکرہ عقیدت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

    تھر کے صحرائی معاشرے میں بودلی گائے محض ایک منفرد جانور نہیں، بلکہ مقامی عقیدے، لوک روایات اور ثقافتی شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔ جدید دور کے باوجود یہ روایت آج بھی تھر کے کئی دیہات میں زندہ ہے، جہاں لوگ اسے احترام، عقیدت اور اپنی تہذیبی وراثت کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔