سندھ کی سرزمین نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسان، سماج، جمہوریت، امن اور اپنے دھرتی سے وابستگی کے لیے وقف کردی۔
کامریڈ دادا روچی رام بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ وکیل، دانشور، سیاسی کارکن اور انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔
آج 21 اگست کو ان کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ وہ 21 اگست 1928 کو تھرپارکر کے خوبصورت اور تاریخی شہر مٹھی میں ایک سندھی لوہانہ خاندان میں پیدا ہوئے۔
دادا روچی رام کی زندگی تقریباً ایک صدی پر محیط ہے۔ ان کی زندگی میں سندھ کی سیاسی، سماجی اور فکری تاریخ کے کئی اہم ادوار سمٹ آئے ہیں۔
انہوں نے آزادی کی تحریک کا زمانہ دیکھا، دوسری عالمی جنگ کے اثرات محسوس کیے، قیام پاکستان کا دور دیکھا اور اس کے بعد سندھ میں آنے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کا حصہ رہے۔
مٹھی اور تھر کی سخت زندگی نے بچپن ہی سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا سکھایا۔ ان کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں غربت، قحط اور خشک سالی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔
لیکن دوسری طرف ان کی تعلیم ایسے غیر معمولی دور میں ہوئی جب پورا برصغیر آزادی کی جدوجہد سے گزر رہا تھا۔ سیاسی بحثیں، آزادی کی تحریک اور دنیا میں جاری دوسری عالمی جنگ کے واقعات نوجوان ذہنوں کو متاثر کر رہے تھے۔
1946 میں روچی رام نے حیدرآباد کے دیارام گدومل نیشنل کالج میں داخلہ لیا۔ یہی زمانہ ان کی فکری زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
کالج میں ان کی ملاقات کمیونسٹ رہنما آسان اُتم چندانی اور معروف ادیب سندری اُتم چندانی سے ہوئی۔ دونوں شخصیات کے خیالات اور نظریات نے نوجوان روچی رام پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے سماجی نابرابری، غریبوں کے مسائل اور عوام کے حقوق کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا۔
اسی فکری سفر نے روچی رام کو ایک بائیں بازو کے سیاسی کارکن کے طور پر آگے بڑھایا۔ انہوں نے سیاست کو صرف اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے عام لوگوں کے مسائل کے حل اور معاشرے میں انصاف کے قیام کا وسیلہ سمجھا۔
قیام پاکستان کے بعد بہت سے لوگ سندھ سے ہجرت کرگئے، لیکن روچی رام نے سندھ میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی زندگی سندھ کی مٹی سے گہری وابستگی کی مثال بن گئی۔
احمد فراز کا مشہور شعر، ‘ہم شہرِ ملال میں رہے مگر ہجرت نہ کی’ ان کی زندگی کے اس پہلو کی خوب ترجمانی کرتا ہے۔ روچی رام نے اپنی زندگی سندھ میں گزاری اور اپنے لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل اور جدوجہد کا حصہ بنے رہے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے وکالت کے شعبے کو اپنا پیشہ بنایا۔
وہ میرپورخاص میں وکیل کی حیثیت سے عملی زندگی میں داخل ہوئے اور تقریباً پچاس برس تک وکالت کرتے رہے۔ ان کے لیے قانون محض روزگار کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ وہ اسے انصاف کے حصول اور لوگوں کے حقوق کے تحفظ کا اہم وسیلہ سمجھتے تھے۔
روچی رام کی شخصیت میں موجود سیاسی کارکن بھی زیادہ دیر خاموش نہ رہ سکا۔ وہ عوامی مسائل کے ساتھ جڑتے گئے اور سندھ کی کسان تحریک میں فعال کردار ادا کیا۔
وہ کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی قیادت میں چلنے والی ہاری تحریک سے وابستہ رہے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد سندھ کے کسانوں اور زرعی مزدوروں کے حقوق کا تحفظ تھا۔ اس دور میں ہاریوں کی زندگی انتہائی مشکل تھی اور زمین سے وابستہ محنت کش طبقہ کئی طرح کے مسائل کا شکار تھا۔
دادا روچی رام نے کسانوں اور غریب لوگوں کے مسائل کو قریب سے دیکھا۔ ان کی سیاسی سوچ میں عام آدمی ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا رہا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی سرگرمیاں صرف پارٹی سیاست تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ مختلف سماجی اور انسانی حقوق کی جدوجہد کا حصہ بنتے رہے۔
1967 میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی قائم کردہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام 30 نومبر 1967 کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر ہوا تھا۔ روچی رام نے پارٹی کی ابتدائی سیاست میں بھی کردار ادا کیا اور عوامی سیاست کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھی۔
ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو انسانی حقوق کی جدوجہد بھی ہے۔ وہ تقریباً دو دہائیوں تک انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے کونسل رکن رہے۔ اس دوران انہوں نے انسانی حقوق، جمہوریت، شہری آزادیوں اور محروم طبقات کے مسائل پر آواز بلند کی۔
انسانی حقوق کی جدوجہد میں ان کی طویل وابستگی انہیں سندھ کی ان شخصیات میں شامل کرتی ہے جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
دادا روچی رام کی شخصیت کا ایک اور دلچسپ پہلو علم اور فکر سے ان کی گہری وابستگی ہے۔ وہ وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحب مطالعہ شخص بھی ہیں۔ انہوں نے سیاست اور قانون کے ساتھ ساتھ سندھ کے سماجی اور ثقافتی معاملات میں بھی دلچسپی رکھی۔
ان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے اس بات کی مثال ہے کہ سیاست، علم اور سماجی خدمت ایک دوسرے سے الگ شعبے نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
وہ کراچی تھیوسوفیکل سوسائٹی پاکستان کے بھی سینئر ترین ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ وابستگی ان کی فکری وسعت اور مختلف خیالات اور نظریات کو سمجھنے میں دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔
دادا روچی رام کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو شاید یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اصولوں کے ساتھ طویل عرصے تک وابستگی برقرار رکھی۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں سیاسی وابستگیاں اور نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، انہوں نے عوام، سندھ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے بنیادی تصورات سے اپنا تعلق قائم رکھا۔
مٹھی کی ریت سے شروع ہونے والا یہ سفر حیدرآباد کے تعلیمی اداروں، میرپورخاص کی عدالتوں، سندھ کی کسان تحریک، پیپلز پارٹی کی سیاست اور انسانی حقوق کی جدوجہد سے ہوتا ہوا آج تقریباً ایک صدی تک پہنچ چکا ہے۔
دادا روچی رام کی سالگرہ دراصل ایک فرد کی سالگرہ نہیں بلکہ سندھ کی ایک ایسی فکری اور سیاسی روایت کی یاد بھی ہے جس میں عام انسان، غریب کسان، مزدور، جمہوریت اور انسانی حقوق کو اہمیت حاصل ہے۔
ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عمر خواہ کتنی ہی طویل ہوجائے، انسان اگر اپنے اصولوں، اپنے لوگوں اور اپنی دھرتی سے وابستہ رہے تو اس کا کردار نسلوں تک یاد رکھا جاتا ہے۔
ان کے دوستوں اور کراچی تھیوسوفیکل سوسائٹی کے اراکین نے دادا روچی رام کو سالگرہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ دعا ہے کہ وہ صحت، خوشی اور اطمینان کے ساتھ مزید برسوں تک ہمارے درمیان موجود رہیں اور اپنی فکری روشنی سے نئی نسلوں کو متاثر کرتے رہیں۔
انہوں نے سندھ کی سماجی اور سیاسی صورتحال کے بارے میں پانچ کتابیں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوستوں کے نام ادبی خطوط اور سری لنکا کے سفرنامے پر بھی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں بدھ مت کے فلسفے اور سری لنکا میں تامل اور سنہالی لوگوں کے درمیان سیاسی تنازع پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
ان کی ایک اور کتاب میں ایک جرمن خاتون کی ایک یہودی شخص سے محبت کی سچی اور حیرت انگیز کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب میں دوسری عالمی جنگ کے دوران یہودیوں کے سیاسی اور سماجی حالات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔




















