صحرائے تھر کی شامیں جب ریت پر اترتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زمین اپنی قدیم یادوں کو دوبارہ سانس دینے لگتی ہو۔ یہاں کے گھروں کی دیواریں صرف اینٹ، مٹی یا چونے سے نہیں بنتیں بلکہ ان پر بنی لکیریں، اشکال اور نقش صدیوں پرانی تہذیب کی خاموش زبان معلوم ہوتے ہیں۔ تھر کی عورتیں آج بھی اپنے گھروں کی دیواروں، صحن اور داخلی راستوں پر ایسے ڈیزائن بناتی ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ فن وقت سے بھی زیادہ قدیم ہے۔
یہ نقش کسی آرٹ اسکول میں نہیں سکھائے جاتے، نہ ہی ان کے لیے کوئی کتاب موجود ہے۔ تھر کی عورتیں بچپن سے اپنی ماؤں اور دادیوں کو یہ ڈیزائن بناتے دیکھتی ہیں، پھر ایک دن انہی ہاتھوں میں وہی مہارت اتر آتی ہے۔ جیسے یہ فن نسلوں سے ان کے خون میں سفر کرتا آیا ہو۔ تھر کے کئی دیہات میں عورتیں آج بھی مقامی چونا، مٹی، قدرتی رنگ، کوئلے کی راکھ، سرخ مٹی اور بعض اوقات پتھروں سے حاصل کیے گئے رنگ استعمال کرتی ہیں۔ ان کے لیے یہ صرف سجاوٹ نہیں بلکہ شناخت، روایت اور یادداشت کا حصہ ہے۔
اگر ان ڈیزائنز کو غور سے دیکھا جائے تو ان میں انسانی شکلیں، رقص کرتے کردار، جانور، مور، اونٹ، روزمرہ زندگی کے مناظر، مذہبی علامتیں اور فطرت کے اشارے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق برصغیر میں اس طرز کی علامتی تصویری روایت ہزاروں سال پرانی مانی جاتی ہے۔ بعض محققین اسے سندھ کی قدیم تہذیبوں، لوک علامتوں اور ابتدائی انسانی اظہار سے جوڑتے ہیں، جہاں دیواریں صرف رہائش کا حصہ نہیں بلکہ سماجی کہانیوں کی جگہ ہوا کرتی تھیں۔
تھر میں گھر کی دیوار عورت کی شخصیت سمجھی جاتی ہے۔ جس گھر کی دیواروں پر جتنی نفاست اور تخلیقی نقش نگاری ہو، اسے اتنا ہی زندہ اور خوشحال تصور کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان عورتوں میں سے اکثریت نے کبھی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، مگر ان کے ہاتھ جیومیٹری، توازن اور علامتی آرٹ کی ایسی سمجھ رکھتے ہیں جو جدید ڈیزائنرز کو بھی حیران کر سکتی ہے۔
یہ فن صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بنایا جاتا۔ تھر کی کئی خواتین کے مطابق ہر نقش کا ایک مطلب ہوتا ہے۔ کہیں یہ خوشحالی کی دعا ہے، کہیں بارش کی امید، کہیں خاندان کے اتحاد کی علامت، اور کہیں عورت کی داخلی طاقت کا اظہار۔ بعض دیواروں پر بنے رقص کرتے کردار خوشی اور تہوار کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ جانوروں کی شکلیں صحرائی زندگی سے تعلق اور فطرت کے احترام کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
تھر میں جب بارشیں کم ہوتی ہیں، قحط آتا ہے یا زندگی مشکل ہو جاتی ہے تب بھی یہ دیواریں رنگوں سے خالی نہیں ہوتیں۔ شاید اسی لیے تھر کی عورتیں اپنے گھروں کو صحرا کے درمیان امید کی طرح سجائے رکھتی ہیں۔ ان کے لیے خوبصورتی آسائش نہیں بلکہ مزاحمت ہے۔
ماہرین ثقافت کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں صنعتی طرز زندگی نے مقامی آرٹ کو تیزی سے ختم کیا، مگر تھر میں یہ روایت آج بھی زندہ ہے کیونکہ یہاں عورتیں اسے محض فن نہیں بلکہ زندگی کا حصہ سمجھتی ہیں۔ وہ ڈیزائن بناتے وقت پیمائش نہیں کرتیں، خاکہ نہیں بناتیں، لیکن ان کے ہاتھوں کی حرکت میں ایک صدیوں پرانی یادداشت موجود ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تھر کی دیواروں پر بنے یہ سادہ مگر پراسرار نقش دیکھنے والوں کو صرف خوبصورت نہیں لگتے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحرائے سندھ کی قدیم روح ابھی تک ان عورتوں کے ہاتھوں میں زندہ ہے۔

