یوں تو بسنت کو روایتی طور پر پنجاب کا تہوار سمجھا جاتا ہے، مگر اس سے ملتے جلتے رنگا رنگ تہوار سندھ میں بھی منائے جاتے ہیں۔ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں واقع نمک کے صحرا رن آف کچھ میں مقامی نوجوانوں نے پہلی بار بسنت کا جشن منایا۔
نوجوان کٹھن راستے طے کرتے ہوئے رن آف کچھ پہنچے اور بھرپور جوش و خروش سے اس تہوار میں شریک ہوئے۔ اس قافلے کی رہنمائی مقامی ٹریول وی لاگر سروپ کھتری نے کی۔
اس موقع پر نوجوانوں نے ٹھاکر برادری کے روایتی لباس زیب تن کیے اور رنگ برنگی پگڑیاں باندھیں۔ ان پگڑیوں کو مقامی زبان میں پھینٹا کہا جاتا ہے۔ تھر میں منائی گئی اس بسنت نے مقامی ثقافت اور خوشی کے رنگوں کو نمایاں کیا۔
بسنت کیا ہے
جب سردیوں کی شدت کم ہوتی ہے، زمین پر ہریالی لوٹ آتی ہے اور آسمان رنگوں سے بھر جاتا ہے، تب بسنت کا موسم آتا ہے۔ بسنت موسم بہار کی آمد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
بسنت کی تاریخ
بسنت ایک قدیم تہوار ہے جو برصغیر میں صدیوں سے منایا جاتا رہا ہے۔ یہ تہوار نئی زندگی، خوشی اور تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر بسنت ہندو، سکھ اور مسلمان ثقافتوں میں مختلف انداز میں منائی جاتی رہی ہے، خاص طور پر پنجاب، دہلی، لاہور اور بنگال کے علاقوں میں۔ مغل دور میں بھی بسنت کو شوق سے منایا جاتا تھا، جہاں پیلے لباس اور پتنگ بازی اس تہوار کا حصہ تھے۔
بسنت اور پتنگ بازی
پتنگ بسنت کی سب سے نمایاں پہچان سمجھی جاتی ہے۔ پتنگ بازی خوشی، آزادی اور نئے موسم کے آغاز کی علامت ہے۔ آسمان میں اڑتی پتنگیں اس احساس کی نمائندگی کرتی ہیں کہ لوگ سرد موسم کی سختی کو پیچھے چھوڑ کر نئی شروعات کر رہے ہیں۔
بسنت کے رنگ اور تقریبات
بسنت کے دن پیلا رنگ نمایاں ہوتا ہے، جو خوشی، روشنی اور بہار کی علامت ہے۔ گھروں کی چھتیں آباد ہو جاتی ہیں، گلیاں پتنگوں سے بھر جاتی ہیں اور ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے۔ ڈھول کی تھاپ، لوک گیت اور روایتی کھانے اس تہوار کو یادگار بنا دیتے ہیں۔
آج کی بسنت
موجودہ دور میں کئی علاقوں میں حفاظتی وجوہات کی بنا پر بسنت کی تقریبات محدود ہو چکی ہیں، تاہم اس تہوار کا جذبہ اب بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ آج بھی بہار کا استقبال پھولوں، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک احساس ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہر سردی کے بعد بہار ضرور آتی ہے۔
