Tag: تھر

  • کیسریا بالما، محبت، ہجر اور صحرا کی صدیوں پرانی صدا

    کیسریا بالما، محبت، ہجر اور صحرا کی صدیوں پرانی صدا

    صحرائے تھر کا مشہور اور مقبول لوک گیت کیسریا بالما آؤ رے، پدھارو مانرے دیس محض ایک نغمہ نہیں بلکہ محبت، جدائی، انتظار اور وصال کی پوری تہذیبی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ گیت صدیوں سے استاد گویوں، لوک فنکاروں اور عام دیہاتی لوگوں کی زبان پر یکساں طور پر زندہ ہے۔

    تھر کے دیہات میں جب کوئی اپنا عزیز پردیس سے واپس بلانا ہو، یا کسی پردیسی سے محبت کا اظہار کرنا ہو، تو الفاظ خود بخود کیسریا بالما کے سروں میں ڈھل جاتے ہیں۔

    اس گیت کو سنتے ہوئے یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ محبت کا ساتواں سر کیسے گایا جاتا ہے۔ دل کے ساز پر راگ کیسے آگ بن کر دہک اٹھتا ہے۔ صحرا میں نکلے پورے چاند کی روشنی، ریت کے ٹیلوں پر بکھرا سکوت اور دل میں اترتا حسن کیوں عمر بھر یاد رہ جاتا ہے۔ ہجر کے بستر پر دکھوں کی چادر اوڑھ کر سونا، انتظار کی تپش میں جلتی آنکھوں کے خواب اور ان خوابوں کا ٹوٹ جانا، یہ سب کیفیتیں اس لوک گیت کے ہر بول میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔

    کیسریا بالما کا انترا پورے گیت کی جان سمجھا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق اس انترا سے پہلے لوک دوہے، چھند اور مختلف شاعروں کے فراقیہ اشعار گائے جاتے ہیں۔ یہ اشعار صحرا کی رات کی ٹھنڈک اور دن کی تپش، دونوں کو ایک ساتھ اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب صحرا سے دور بیٹھا کوئی شخص اس گیت کی دھن سنتا ہے تو اس کی آنکھوں میں ریت کے ٹیلے، اڑتی دھول اور لمبے سفر تیرنے لگتے ہیں۔

    دل چاہتا ہے کہ وہ دوڑ کر اس دھرتی کی طرف لوٹ جائے جہاں محبت اور قربانی کو زندگی کی سب سے بڑی قدر سمجھا جاتا ہے۔

    اس گیت کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے راجپوت روایتوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ ایک رائے کے مطابق کیسریا بالما کا تعلق راجپوتوں کی رسم ساکا سے ہے۔ تاریخ میں ساکا اس اجتماعی عمل کو کہا جاتا تھا جس میں انتہائی مشکل حالات میں مرد میدانِ جنگ میں آخری دم تک لڑنے کا عہد کرتے تھے، جب کہ عورتیں دشمن کے ہاتھ آنے سے پہلے جوہر کی رسم ادا کرتی تھیں۔

    جوہر عام طور پر رات کے وقت انجام دیا جاتا تھا، خواتین اپنی شادی کا لباس پہن کر اس رسم کو ادا کرتیں اور برہمن پجاری وید کے منتر پڑھتے تھے۔ مرد حضرات جوہر کے بعد راجپوتانیوں کی راکھ اپنے ماتھے پر لگا کر زعفرانی لباس پہنتے اور دشمن کے خلاف نکل پڑتے تھے۔

    اسی زعفرانی رنگ اور قربانی کے تصور کو کیسریا کہا گیا۔ جوہر اور کیسریا کے امتزاج کو ساکا کے نام سے جانا جاتا تھا۔

    بھاٹ، چارن اور منگنہار جیسے لوک فنکاروں نے ان واقعات کو اپنی رزمیہ شاعری میں محفوظ کیا۔ یہی رزمیہ اور فراقیہ روایت آگے چل کر کیسریا بالما جیسے لوک گیتوں میں ڈھل گئی، جہاں محبوب کو بلانا محض ذاتی خواہش نہیں بلکہ وفا، عہد اور قربانی کی علامت بن گیا۔

    کچھ محققین اس لوک گیت کو صحرائے تھر کی مشہور رومانوی داستان ڈھولا مارو سے بھی جوڑتے ہیں۔ ڈھولا مارو تھر کی منظوم داستانوں میں سب سے زیادہ معروف سمجھی جاتی ہے۔

    اس داستان میں محبت، جدوجہد، تلاش اور انسانی وجود کی کشمکش کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ آج کے دور میں بھی اس کی معنویت کم نہیں ہوئی۔ اس روایت میں مارو اپنے محبوب ڈھولا کو پکارتی ہے اور صحرا کی وسعت، روایات اور خوشی و غم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اسے اپنے دیس آنے کی دعوت دیتی ہے۔

    لفظ بالم کا مطلب پیارا یا محبوب ہے، جبکہ کیسریا زرد، زعفرانی پیلے، نارنجی اور بھگوا رنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ زعفران کے اندرونی باریک ریشوں کو کیسر کہا جاتا ہے، جو خوشبو، رنگ اور قدروقیمت کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

    زعفران کا پودا قد میں چھوٹا ہوتا ہے، اس کے پتے چنبیلی سے مشابہ اور جڑ پیاز کی مانند گول ہوتی ہے۔ اس کے پھول کے درمیان تین یا چار باریک ریشے ہوتے ہیں جو پانی میں ڈالنے سے فوراً رنگ چھوڑ دیتے ہیں۔ طب میں بھی زعفران صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔

    کارونجھر کے علاقے میں ایک مقامی بیل کیسوڑو کہلاتی ہے، جس کے خوبصورت پیلے پھولوں کو کیسریا گل بھی کہا جاتا ہے۔ لوک گیت میں آیا ہوا کیسریا پھول زعفران ہو یا کیسوڑو، اس پر محققین کی آرا مختلف ہیں، مگر گیت میں گوری کا بالم کیسریا کہلانا اسے رنگ، خوشبو اور تقدس کی علامت بنا دیتا ہے۔

    یہاں محبوب کا رنگ محبوبہ کے وجود میں سرایت کر جاتا ہے اور کامنی اپنے کیسریا پیا کے رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

    آج بھی صحرائے تھر میں دیہاتی خواتین فطری خوبصورتی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ جب وہ پیروں میں جھانجھر، ہاتھوں میں جھمکے، کانوں میں بالیاں، ناک میں نتھنی، گلے میں ہار اور ماتھے پر بندیا سجا کر یہ گیت گاتی ہیں تو منظر ایسا ہوتا ہے جیسے چودھویں کا چاند بھی اپنی روشنی پر نادم ہو جائے۔

    پتلی کمر والی صحرائی عورتیں اپنی پریت سے عشق اور وفا کی علامت بن کر کیسریا بالما گاتی ہیں اور یہ صدا نسل در نسل سفر کرتی رہتی ہے۔

    کیسریا بالما کا کوئی ایک حتمی پس منظر طے کرنا آسان نہیں، مگر یہی اس کی اصل طاقت ہے۔ یہ گیت تاریخ، دیومالا، محبت اور انسانی جذبوں کے سنگم پر کھڑا ہے۔ شاید اسی لیے یہ نغمہ آج بھی صحرا کی خاموش راتوں میں، دور دیس میں بیٹھے دلوں میں اور ہر اس شخص کے اندر زندہ ہے جو محبت کو فاصلے سے ناپنے کے بجائے انتظار سے پہچانتا ہے۔

    1

    کیسریا بالم آؤ نے، پدھارو مانرے دیس

    پدھارو مانرے دیس،

    کیسریا بالم آؤ نے، پدھارو مانرے دیس

    ساون آون کہے گیو کر گیو قول انیک

    گنتے گنتے گھٹ گئی  مانری انگڑیاں ری ریکھ

    کانگا سب تن کھائیو، چن چن کھایو ماس،

    دو نیناں مت کھائیو، مویے پیا ملن کی آس

    ساجن یہ  مت جانیئے تو بچھڑے موہے چین

    جیسے جل بن مچھلی تڑپت ہے دن رین

     

    ساجن آیا اے سکھی، سو تاں منوہار کراں،

    تھال بھراں گج موتیاں را، اوپر نین دھراں۔

    جو میں ایسا جانتی پریت کیئے دکھ ہو،

    نگر ڈھنڈھورا پیٹتی کہ پریت نا کرئے کو۔

    ساجن ہم تم ایک ہیں،  جوکہن سنن میں دو،

    من کو من سے تولئیے، کبھی دو من نا ہو

    ترجمہ :

    کیسریا بالم آؤ رے، پدھارو  میرے دیس

    پدھارو میرے دیس،

    کیسریا بالم آؤ رے، پدھارو میرے دیس

    ساون میں آ نے کا  کہہ کر  کر گیا وعدے انیک

    گنتے گنتے مٹ گئی رے میری انگلیوں کی ریکھ

    ارے کوا سب تن کھاؤ رے ، چن چن کھاؤ ماس،

    دو آنکھیں نہیں کھانا رے، مجھے پیا ملن کی آس

    ساجن یہ  نہیں سمجھنا، تیری جدائی موہے چین

    جیسے پانی  بن مچھلی،  تڑپتی  ہے دن رین

    ساجن آیا ہےسکھی،  کیسے استقبال کروں،

    تھال  بھرے  ساچے موتی ، اوپر نین دھروں۔

    جو میں ایسا جانتی پریت کیے دکھ ہوئے،

    نگر ڈھنڈورا پیٹتی کہ پریت نا کیجو کوئے ۔

    ساجن ہم تم ایک ہیں، جو کہنے سننے میں دو،

    من کو من سے تولیے ، کبھی  دو من نہ ہو

     

    2

    کیسریا بالم آؤ رے، پدھارو رے مانرے دیس

    مانرے من را ساچا، آؤ رے، پدھارو رے مانرے دیس

    آون جاون کہے گیو کرے گیو قول انیک

    گنتے گنتے گس گئی مانرے انگڑیاں ری ریکھ

    سورج تھانے پوجساں بھر موتیڑاں کو تھال،

    آج موڑا اوگجو   مانرو بالم  رمے شکار

    ترجمہ :

    کیسریا بالم آؤ رے پدھارو رے میرے دیس

    میرے من کے ساچے، آؤ رے پدھارو رے میرے دیس

    آنے جانے کا کہہ کر گیا کیے وعدے انیک

    گنتے گنتے مٹ گئی میرے انگلیوں کی ریکھ

    سورج تیری پوجا کروں گی بھر موتیاں کا تھال،

    آج دیر سے طلوع ہونا میرا بالم  کھیلے شکار

    3

    کیسریا بالما، آئو رے ، پدھارو رے مانرے دیس

    تجھ بن موہے چین نا آوے کیوں بیٹھ رہیو پردیس

    کیسریا بالما، آئو رے ، مانرے دیس

    ساون آیا بھول گیا نا آپ آیا نہ کو سندیس

    کیسریا بالما، آئو رے ، مانرے دیس

    ترجمہ :

     

    کیسریا بالم، آؤ رے، پدھارو رے میرے دیس

    تجھ بن مجھے چین نہیں آئے کیوں بیٹھ گئے ہو پردیس

    کیسریا بالم، آؤ رے، میرے دیس

    ساون آیا بھول گئے نا آئے نا کوئی سندیس

    کیسریا بالم، آؤ رے، میرے دیس

  • تھر میں غیر قانونی شکار، نگرپارکر میں زخمی ہرن پر مقامی افراد کا احتجاج

    تھر میں غیر قانونی شکار، نگرپارکر میں زخمی ہرن پر مقامی افراد کا احتجاج

    تھر کے علاقے نگرپارکر تحصیل کے گاؤں بہرائو میں ایک اور ہرن غیر قانونی شکار کا نشانہ بن گیا۔ مقامی افراد کے مطابق زخمی حالت میں ملنے والے ہرن کی اگلی دونوں ٹانگیں بری طرح ٹوٹی ہوئی تھیں، جس کے باعث وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا۔

    معروف گلوکار سیف سمیجو کو ویڈیو میں محکمہ جنگلی حیات سندھ کے افسر کے ساتھ مقالمہ کرتے دیکھا گیا۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ تھر کے قدرتی ماحول کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ویڈیو میں مقامی باشندے سندھی زبان میں اس واقعے پر افسوس اور غم و غصے کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ تھر میں پائے جانے والے ہرن، جنہیں مقامی طور پر چنکارا کہا جاتا ہے، سخت موسمی حالات میں بھی زندہ رہنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ علاقے کے قدرتی توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ جانور کم پانی میں گزارا کر لیتے ہیں اور تھر کے نایاب پودوں کے بیج پھیلانے میں مدد دیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق غیر قانونی شکار، خصوصاً تھر جیسے نازک ماحولیاتی نظام میں، جنگلی حیات کی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ سندھ وائلڈ لائف قوانین کے تحت ہرن کا شکار ممنوع ہے اور اس پر سزا بھی مقرر ہے، تاہم مقامی سطح پر مؤثر نگرانی کی کمی کے باعث ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

    مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیں، غیر قانونی شکار میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کریں اور تھر کی جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ دہرائے جائیں۔

     

  • صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    صحرائے تھر: نگرپارکر گاؤں جہاں موجود 150 سال قدیم پیلو کا درخت، جس کے سائے میں ‘150 لوگ آسانی’ سے بیٹھ سکتے ہیں

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر کے نواحی گاؤں جام خان جو وانڈھیو میں موجود پیلو کا درخت آج بھی اپنی مضبوط جڑوں اور پھیلی ہوئی شاخوں کے ساتھ قائم ہے۔ یہ درخت مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً 150 سال پرانا ہے اور تھر کے سخت موسموں، قحط اور تیز ہواؤں کا خاموش گواہ رہا ہے۔ ریگستانی خطے میں اس نوعیت کے قدیم درخت اب بہت کم رہ گئے ہیں، اسی لیے یہ پیلو خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    اس درخت کے سائے کی وسعت مقامی روایت میں مثال کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ گاؤں کے بزرگ جام خان کے پوتے ساگر خاصخیلی کے مطابق پیلو اتنا وسیع ہے کہ اس کے نیچے بیک وقت 150 افراد ‘آرام’ سے بیٹھ سکتے ہیں۔ تھر جیسے گرم اور خشک علاقے میں ایسا سایہ کسی نعمت سے کم نہیں سمجھا جاتا۔

    پیلو کا یہ درخت صرف قدرتی حسن تک محدود نہیں بلکہ گاؤں کی سماجی زندگی کا مرکز بھی رہا ہے۔ ماضی میں گاؤں کے فیصلے، مشورے اور اجتماعی بیٹھکیں اسی درخت کے نیچے ہوا کرتی تھیں۔ مسافر، چرواہے اور مقامی لوگ گرمی کی شدت میں یہاں سستا کر دم لیتے تھے۔

    نگرپارکر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پیلو کے درخت کو خاص تقدس حاصل ہے۔ اس کے پھل مقامی خوراک میں استعمال ہوتے رہے ہیں جبکہ اس کی چھال اور پتے روایتی علاج میں بھی کام آتے ہیں۔ ریگستانی ماحول میں پیلو ان چند درختوں میں شامل ہے جو کم پانی میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    پیلو کی جڑیں زمین میں گہرائی تک پھیلی ہوتی ہیں، جو اسے طویل عرصے تک قائم رہنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید خشک سالی کے باوجود یہ درخت سبز رہتا ہے۔ مقامی لوگ اسے صبر، برداشت اور بقا کی علامت سمجھتے ہیں۔

    یہ درخت اب گاؤں کی شناخت اور سیاحتی کشش کا اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ اس پیلو کو دیکھنے کے لیے مختلف علاقوں سے سیاح یہاں آتے ہیں، جن کا مقامی لوگ روایتی انداز میں استقبال کرتے ہیں۔ مہمانوں کو اپنے گھروں میں بٹھایا جاتا ہے، مقامی کھانے پیش کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزار کر تھر کی روایتی مہمان نوازی کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

    جام خان جو وانڈھیو کے رہنے والوں کے لیے یہ محض ایک درخت نہیں بلکہ یادوں اور روایتوں کا مرکز ہے۔ بچوں کی کھیل کود، بزرگوں کی باتیں اور مسافروں کی کہانیاں سب اسی سائے میں پروان چڑھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درخت گاؤں کے اجتماعی تشخص کا حصہ بن چکا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ پیلو کے درخت کو صحرائی ماحول میں قدرتی پانی صاف کرنے والا نظام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی جڑیں زیر زمین نمی کو محفوظ رکھ کر اردگرد کی مٹی میں پانی کی مقدار برقرار رکھتی ہیں۔ یہ خصوصیت آس پاس کی نباتات اور چرند پرند کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

    آج جب تھرپارکر میں ماحولیاتی تبدیلی اور درختوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جام خان جو وانڈھیو کا یہ پیلو درخت قدرتی ورثے کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ درخت یاد دلاتا ہے کہ ریگستان میں زندگی کا دارومدار مضبوط جڑوں، سایے اور انسانوں کے باہمی رشتوں کی قدر پر ہوتا ہے۔

     

  • منفرد ادب، شاعری اور موسیقی والی صحرائے تھر کی مقبول زبان ڈھاٹکی، جس کا رسم الخط بھی ہے

    منفرد ادب، شاعری اور موسیقی والی صحرائے تھر کی مقبول زبان ڈھاٹکی، جس کا رسم الخط بھی ہے

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کے چیلہار شہر کے رہائشی اور ڈھاٹکی زبان کے شاعر اور متعدد کتابوں کے لکھاری،  صحرا  تھر کی  زبان لوک ادب لوک دانائی اور ثقافت پر کام کرنے والے بھارو مل امرانی کے مطابق ڈھاٹکی زبان کو تھر کے ریگستان میں نمایاں حیثیت حاصل ہے اور اس خطے کی اکثریت آبادی ڈھاٹکی زبان بولتی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بھارومل امرانی نے کہا: ‘سندھ کے اس ریگستانی حصے کو مُردھر یا مروستھل بھی کہا جاتا ہے۔ ‘مُردھر’ یا ‘مروستھل’ کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔ مُردھر یا مروستھل کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔

    ‘مروگجر اور مروبھاشا کی طرح ریگستانی زبان کے لئے پنگل اور ڈنگل کا اصطلاح بھی 15ویں اور 16 ٓویں صدی میں مشہور ہوئی۔تھرپارکر درواڑی اور راجپوتی تھذیب کا سنگم ہے، تھرپارکر کی علاقائی تاریخ کی طرح زبان کی تاریخ بھی قدیم ہے۔

    ‘تھر کی زبان پے موھن جو دڑو کی امر مُھر لگی ہوئی ہے، دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے ماحول کا رنگ دے کر اپنے وجود میں شامل کرنے سے اس بولی کی  وسعت بڑتی گئی، تھرپارکر کی علائقائی بولی میں جہاں پانچ ہزار سال پرانے سندھی اور دراوڑی زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں وہاں جدید دور کے سائنسی ایجادات کے سائنسی نام جنم لے رہے ہیں۔’

    بھارومل امرانی کے مطابق  تھرپارکر علاقائی لحاظ سے سات حصوں ڈاٹ، ونگو، کنٹھو، کھاہوڑ،پارکر،سامروٹی اور وٹ پے مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان حصوں میں ہر ایک حصے کا اپنا لہجا ہے۔ مگر مجموعی طور تھرپارکر میں بولی جانے والی زبان کے تیں لہجے ہیں۔ سندھی تھری، پارکری، ڈھاٹکی۔

    ‘ڈھاٹکی تھر کی اہم زبان ہے، جس کو سوڈکی بھی کہتے ہیں۔ ایک غیر سرکاری سروے مطابق ضلع تھر میں 75 فیصد لوگوں کی مادری زبان ڈاٹکی ہے، 98 فیصد تھر کی آبادی ڈھاٹکی سمجھ اور بول سکتی ہے۔

    ‘دنیا کے لوک ادب کی طرح بادشاہوں اور پریوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے مقامی لوک کرداروں کی کہانیوں اور شعر و شاعری کا بڑا ذخیرہ ملتا ہے،

    ‘موروں کے دلربا رقص اور حب الوطنی کے عظیم کردار مارئی کے داستان میں مھکتے ہوئے ڈھاٹکی کے گیتوں کو مقامی گلوکاروں مراد فقیر، مائی بھاگی، مائی ودھائی،موہن بھگت، استاد حسین فقیر، استاد شفیع فقیر، صادق فقیر، فوزیہ سومرو، عارب فقیر، حیدررند، بھگڑو ناچیز، انب فقیر،مصری ڈیپلائی، رجب فقیر، رفیق فقیر اور دیگر گلوکاروں نے دل و روح سے گایا ہے۔’

    بھارومل امرانی کے مطابق عربی رسم الخط میں سندھی الف ب کے تعاون سے ڈھاٹکی کی رسم الخط تیار کی گئی ہے۔ ڈھاٹکی زبان کے حروف تہجی کا تعداد 34 رکھا گیا ہے۔

    ڈھاٹکی پر سندھ میں ڈاکٹر پھلو سندر اور ہند میں ڈاکٹر مرلی بھوانانی نے پی ایچ ڈی کی ہے ۔ ڈھاٹکی سیکھنے کے کچھ کتاب شایع ہوئی ہیں۔ مگر اب تک ڈاٹکی کا کوئی جریدہ نہیں نکلتا۔ ریڈیو پاکستان مٹھی پے دو ڈھاٹکی کے پروگرام ڈھاٹی ماںجھا دھول اور تھر ری سرہان روزانہ نشر ہوتے ہیں۔ پیارو شوانی اور بھارومل امرانی نے شیخ ایاز کی شاعری کو ڈھاٹکی روپ دیا ہے۔ استاد لغاری نے شاھ جو رسالو کا ڈھاٹکی میں ترجمہ کیا ہے ۔