تھرپارکر اور عمرکوٹ کے بعض دیہی علاقوں میں ایک ایسی منفرد گائے پائی جاتی ہے جسے مقامی لوگ ‘بودلی گائے’ کے نام سے جانتے ہیں۔
اس گائے کے جسم پر پیدائش سے ہی ایک اضافی عضو، جیسے چھوٹی ٹانگ، پاؤں یا زبان جیسی ساخت موجود ہوتی ہے، جسے مقامی ہندو برادری ایک مقدس نشانی تصور کرتی ہے۔ اسی عقیدت کے باعث بودلی گائے کو عام مویشیوں کی طرح نہیں رکھا جاتا، بلکہ اس کی خصوصی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
تھر میں بودلی گائے عموماً جوگی یا سپیرا برادری کے پاس ہوتی ہے، جو نسل در نسل اس کی خدمت اور حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ عمرکوٹ کے قریب ویہرو گاؤں میں ایک بزرگ جوگی کے گھر میں اس وقت دو بودلی گائیں موجود ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سے لوگ آتے ہیں۔ گائے کی پیٹھ پر موجود اضافی عضو کو ہر وقت کپڑے یا چادر سے ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے، تاکہ اسے نقصان نہ پہنچے اور اس کا احترام برقرار رہے۔
مقامی روایت کے مطابق بودلی گائے کو افزائش نسل کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ جس منفرد شکل میں یہ پیدا ہوتی ہے، اسی حالت میں اس کی حفاظت کرنا ضروری ہے، اس لیے اسے حاملہ نہیں ہونے دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی گائیں اپنی پوری زندگی خصوصی نگہداشت میں گزارتی ہیں۔
روزانہ بڑی تعداد میں عقیدت مند بودلی گائے کو سبز چارہ، باجرہ، جوار، گندم کا بھوسہ، گڑ، آٹا اور روٹیاں پیش کرتے ہیں۔ بعض افراد منت پوری ہونے پر چارہ، گڑ یا دیگر خوراک بطور نذرانہ لاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ گائے کو ہاتھ لگا کر دعا کرتے اور اسے باعثِ برکت سمجھتے ہیں۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ بودلی گائے کو کسی میلے یا نمائش کی چیز نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے ایک روحانی امانت تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کی دیکھ بھال کرنے والے خاندان اسے فروخت کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں اور اسے اپنے پاس رکھنا باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق بودلی گائے کے انتقال کے بعد بھی اس کی یاد کو احترام سے محفوظ رکھا جاتا ہے اور برسوں تک اس کا تذکرہ عقیدت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
تھر کے صحرائی معاشرے میں بودلی گائے محض ایک منفرد جانور نہیں، بلکہ مقامی عقیدے، لوک روایات اور ثقافتی شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔ جدید دور کے باوجود یہ روایت آج بھی تھر کے کئی دیہات میں زندہ ہے، جہاں لوگ اسے احترام، عقیدت اور اپنی تہذیبی وراثت کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
