تھر کی لوک دانش: فطرت کے اشارے اور شگون

فطرت کے قریب رہنے والے لوگ درختوں، پودوں اور بیلوں کی شاخوں، کونپلوں، پتوں، پھولوں، پھلوں اور زمین، آسمان، سورج، چاند، تاروں اور نکشتروں (نکشتوں) کے رنگ و روپ اور ان کے طلوع و غروب کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات اور مویشیوں کی اچانک بدلتی ہوئی بولی، حرکات و سکنات اور جسم کی رنگت و بو کے ذریعے بھانپ لیتے ہیں کہ فطرت میں کیا ہونے والا ہے۔ اسے مقامی زبان میں "سوڻ ساٺ” (شگون) اور آثار کہا جاتا ہے۔

تھر دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا سرسبز ریگستان ہے، جس کی کثیر آبادی فطرت کی گود سے حاصل ہونے والے قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ یہاں کے باسیوں نے صدیوں کے سفر میں بقا کی جنگ لڑتے ہوئے، قدرتی آفات کے رونما ہونے سے پہلے ان کا ادراک کرنے کے آثار اور روزمرہ کے کام کاج کے حوالے سے مختلف شگون اپنی لوک دانش (لوک ڏاهپ) کی جھولی میں ڈالے ہیں۔

عالمی موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کے اثرات اور ماحولیاتی بگاڑ کی وجہ سے ان قدرتی اشاروں میں کتنا بدلاؤ آیا ہے اور ان روایتی شگونوں کی کتنی ساکھ باقی رہی ہے؟ یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے، جس پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سے پہلے، لوک دانش کے عنوان کے تحت تھر میں قدرتی آفات کو بھانپنے کے آثار، شگونوں اور ان کو سمجھنے والے لوک داناؤں کے حالاتِ زندگی (جیون خاکوں) کو محفوظ کر کے نئی نسل تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

رات کا سفر اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری

تھر میں رات کے وقت سمتوں اور اوقات کا تعین تاروں اور نکشتروں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ مویشیوں کو باڑے (وٿاڻ) سے نکالنے یا واپس لانے کے وقت آسمان پر نظر ڈال کر نکشتر دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی کو گاؤں یا ٹھکانے کا پتہ بتانا ہو تو کہا جاتا ہے کہ "وہ فلاں تارے کے نیچے ہے، بس اس تارے کی سمت رخ کر کے چلے جاؤ”۔

صوفی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے اپنی شاعری میں وقت گزرنے کے حوالے سے ‘نکشتوں’ اور سمت کی رہنمائی کے لیے تاروں کا تذکرہ کچھ اس انداز میں کیا ہے:

نکٽ سڀ نئي ويا، آيو نه اوٺي،
سوڍي جي ساءِ پئي گر لايم ڳوٺي،
آءٌ تنهن لڍاڻي لوٺي، پسان جو پرينءُ ري۔
(شاہ جو رسالو)

ترجمہ: تمام ستارے غروب ہو گئے، لیکن وہ شتر سوار نہ آیا۔ سوڈھے (محبوب) کی چاہ میں، میں نے اپنے وجود کو روگ لگا لیا۔ میں اس لڈانو (گھر/میکدے) میں محبوب کے بنا ویران کھڑی ہوں۔

اڀي اڀاريام، نکٽ سڀ نئي ويا،
هڪ مَيو ٻيو مينڌرو، رات سڄي سارئام،
ڳوڙها ڳل ڳاڙئام، سورج شاخون ڪڍيون۔
(شاہ جو رسالو)

ترجمہ: کھڑے کھڑے میں نے صبح کر دی اور تمام ستارے ڈوب گئے۔ ایک اونٹ اور دوسرا میندھرا (محبوب)، ساری رات میں ان کو ہی یاد کرتی رہی۔ رخساروں پر آنسو بہتے رہے، یہاں تک کہ سورج نے اپنی کرنیں بکھیر دیں۔

هُن تاري هُن هيٺ،
هت منهنجا سپرين،
سڄڻ ماکي ميٺ،
ڪَوڙا ٿين نه ڪڏهين۔
(شاہ جو رسالو)

ترجمہ: اس تارے کے نیچے، وہاں دور میرے محبوب بستے ہیں۔ سجن شہد سے بھی میٹھے ہیں، وہ کبھی کڑوے (تلخ) نہیں ہو سکتے۔

نکشتر (تارے) اور ان کے اثرات

کچھ تارے اور نکشتر بہت مشہور ہیں جنہیں فطرت کے قریب رہنے والے عام لوگ بھی پہچانتے ہیں۔ وہ ان کے طلوع و غروب اور دھرتی پر پڑنے والے اثرات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ تارے اور نکشتر ایسے ہیں جن کے بارے میں بڑے نجومی، علمِ جوتش (علمِ نجوم) کے ماہرین اور ماہرینِ فلکیات ہی جانتے ہیں۔

اکثر نکشتوں کا زمین اور موسم پر 14 یا 15 دن تک اثر رہتا ہے، جبکہ کچھ نکشتر دوسرے نکشتوں کے ساتھ مل کر ایک یا دو دن اثر رکھتے ہیں۔ علمِ نجوم میں درج ذیل 28 نکشتر شمار کیے جاتے ہیں:

اشونی، بھرنی، کارتک، روہنی، مرگشر، آردرا، پنروسو، پشیا، آشیلیشا، مگھا، پوروا پھالگنی، اترا پھالگنی، ہست، چترا، سواتی، وشاکھا، انورادھا، جیشٹھا، مول، پورواشاڈھا، ابھجیت، شروان، دھنشٹھا، شتبھشا (شت تارکا)، پوروا بھادرپدا، اترا بھادرپدا اور ریوتی۔

ہندی میں اسے ‘نکشتر’ اور تھری لہجے میں ‘نکتر’ کہا جاتا ہے۔

بارشوں کے شگون اور لوک کچہریاں

برسات (چوماسے) کے ‘بھرنی’ نکشتر میں بجلی کا چمکنا اچھا نہیں مانا جاتا، اور ‘روہنی’ نکشتر کا برسنا بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ روہنی نکشتر عام طور پر مئی کے آخری ہفتے میں شروع ہوتا ہے۔ اگر روہنی نکشتر میں بارش ہو جائے تو پھر 72 دنوں تک بارش کا وقفہ (خشک سالی) پیدا ہو جاتا ہے، جسے تھری زبان میں ‘باہترو’ (ٻاهترو) کہا جاتا ہے۔

تاہم، اگر ‘روہنی’ نکشتر میں شدید گرمی پڑے اور اس کے بعد ‘مرگشر’ نکشتر میں تیز ہوائیں چلیں، تو ‘آردرا’ (آدر) نکشتر میں بارش لازمی ہوتی ہے۔ اسی لیے تھر کی مشہور کہاوت ہے:

"روہن تپے، مرگشر وائے، تو آدر میں اݨ پچھیو مینہ آوے”

(یعنی: اگر روہنی تپے اور مرگشر میں ہوائیں چلیں، تو آردرا میں بن بلائے بارش برسے گی)۔

‘ننڍو وايو’ (چھوٹی ہوا) اور ‘وڏو وايو’ (بڑی ہوا) بھی انہی نکشتوں کے ساتھ آتے ہیں، جو تیز ہواؤں کے دن ہوتے ہیں لیکن ان میں بھی بارش کی امید (آگم جو آسرو) بندھی رہتی ہے۔

نامور اسکالر ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ نے اپنی کتاب ‘رهاڻ هيرن کاڻ’ (محفلیں ہیروں کی کان) میں قطب تارے، ساتیرن (ستاروں کا جھرمٹ/دبِ اکبر)، کتی کے نکشتر (ثریا)، سہنڑو تارے، بچھو نکشتر، ٹیڑو نکشتر، لدھا تاروں، ایتھ تارے، صبح کے تارے، شام کے تارے اور جوگنی تارے کے بارے میں تھر کی بیٹھکوں (لوک کچہریوں) کے دلچسپ احوال بیان کیے ہیں۔

اسی بارے میں: