Tag: اسٹیٹ بینک

  • دل دائیں جانب ہونے پر خاتون ڈاکٹر کی برطرفی، سندھ ہائیکورٹ نے اسٹیٹ بینک کا فیصلہ معطل کردیا

    دل دائیں جانب ہونے پر خاتون ڈاکٹر کی برطرفی، سندھ ہائیکورٹ نے اسٹیٹ بینک کا فیصلہ معطل کردیا

    دل دائیں جانب ہونے کی ایک نایاب پیدائشی طبی کیفیت کے باعث ملازمت سے برطرف کی جانے والی ایک نوجوان خاتون نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، جس پر عدالت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے درخواست گزار کو فوری طور پر ٹریننگ پر بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، جبکہ کیس کی مزید سماعت اگست 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔

    درخواست گزار ایمان گلزار، جو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کی گریجویٹ ہیں، نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں میرٹ پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر او جی ٹو (آفیسر گریڈ 2) کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں طبی معائنے کے دوران دل کی غیر معمولی پوزیشن کی بنیاد پر ملازمت سے نکال دیا گیا۔

    درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر ضمیر گھمرو نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایمان گلزار ایک انتہائی ذہین اور قابل طالبہ ہیں اور انہوں نے تمام مراحل میرٹ پر مکمل کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض دل کی پوزیشن کی وجہ سے کسی امیدوار کو ملازمت سے محروم کرنا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    بیرسٹر ضمیر گھمرو نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اسٹیٹ بینک میں خواتین کی نمائندگی پہلے ہی محدود ہے، ایسے میں ایک اہل خاتون امیدوار کو صرف ایک پیدائشی طبی کیفیت کی بنیاد پر ملازمت سے نکالنا امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ طبی بنیادوں پر کسی شخص کو بلاجواز نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ دل کا دائیں جانب ہونا ایک پیدائشی کیفیت ہے اور یہ بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ کئی افراد اس حالت کے ساتھ مکمل طور پر معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔

    طبی ماہرین کے مطابق دل کے دائیں جانب ہونے کی حالت کو ڈیگسٹروکارڈیا (Dextrocardia) کہا جاتا ہے۔ بعض افراد میں صرف دل دائیں جانب ہوتا ہے جبکہ بعض میں جسم کے دیگر اندرونی اعضاء بھی الٹی سمت میں موجود ہوتے ہیں، جسے سائٹس اِنورسس (Situs Inversus) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نایاب پیدائشی حالت ہے جو پیدائش کے وقت ہی موجود ہوتی ہے اور بہت سے افراد میں اس کے باوجود صحت، ذہانت، جسمانی صلاحیت یا روزمرہ زندگی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

    عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے ایمان گلزار کو فوری طور پر ٹریننگ میں شامل کرنے کا حکم دیا اور متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کر لی کہ ایک پیدائشی اور طبی طور پر معمول سمجھی جانے والی کیفیت کو ملازمت سے برطرفی کی بنیاد کیوں بنایا گیا۔

    یہ مقدمہ نہ صرف ملازمت میں مساوی مواقع اور امتیازی سلوک کے سوالات کو اجاگر کر رہا ہے بلکہ اس بات پر بھی توجہ مبذول کرا رہا ہے کہ آیا پیدائشی طبی خصوصیات رکھنے والے افراد کو پیشہ ورانہ مواقع سے محروم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ کیس کی آئندہ سماعت اگست 2026 میں ہوگی، جس میں عدالت فریقین کے تفصیلی مؤقف کا جائزہ لے گی۔

  • پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر مل گئے ہیں: اسٹیٹ بینک

    پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر مل گئے ہیں: اسٹیٹ بینک

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کے تحت 1.3 ارب ڈالر موصول ہوگئے ہیں۔

    بیان کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے آٹھ مئی 2026 کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے لیے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کا تیسرا جائزہ مکمل کیا اور 760 ملین ایس ڈی آر جاری کرنے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ، ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 154 ملین ایس ڈی آر کی دوسری قسط کی بھی منظوری دی گئی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 12 مئی 2026 کو آئی ایم ایف سے مجموعی طور پر 914 ملین ایس ڈی آر موصول ہوئے، جو تقریباً 1.3 ارب امریکی ڈالر بنتے ہیں۔

    یہ رقم 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل دکھائی دے گی۔

    پاکستان کو معیشت بہتر بنانے اور مالی مسائل کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے دو اہم پروگراموں کے تحت قرض دیا جا رہا ہے۔ ان میں پہلا پروگرام ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) ہے۔ آئی ایم ایف نے 25 ستمبر 2024 کو اس پروگرام کی منظوری دی تھی۔ یہ پروگرام پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے، مہنگائی کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور حکومتی اصلاحات کے لیے بنایا گیا ہے۔

    اس پروگرام کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر سات ارب ڈالر کی مالی مدد دی جا رہی ہے۔ اس کی مدت 37 ماہ ہے۔ اب تک اس پروگرام کے تحت پاکستان کو تقریباً 4.1 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔

    دوسرا پروگرام ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) 2022 کے سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں کی بحالی اور کلائمیٹ چینج کے اثرات میں کمی سے متعلق ہے۔

    اس پروگرام کی منظوری نو مئی 2025 کو دی گئی تھی اور اس تازہ قسط کے ساتھ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو اب تک تقریباً 660 ملین ڈالر مل چکے ہیں۔

    یہ پروگرام موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ پاکستان صاف توانائی، ماحول کے تحفظ اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے منصوبوں پر کام کر سکے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو تقریباً 1.4 ارب ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس کی مدت 28 ماہ ہے۔

    آئی ایم ایف کے ان پروگراموں کے ساتھ حکومت کو بہت سے سخت معاشی فیصلے اور اصلاحات بھی کرنا پڑتی ہیں۔ دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر اب تک تقریباً 4.8 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔

  • روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں 12 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری: اسٹیٹ بینک

    روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں 12 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری: اسٹیٹ بینک

    بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے پاکستان میں فارن ایکسچینج رکھنے کے لیے قائم روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) میں مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر سے زائد کی رقوم موصول ہو چکی ہیں، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اب تک 9 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم پر ان کے مسلسل اعتماد اور تعاون نے اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ مرکزی بینک کے حکام کے مطابق اوورسیز پاکستانی ملک کی معاشی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی سرمایہ کاری اور ترسیلاتِ زر پاکستان کے مالی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

    ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اس منصوبے پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق آر ڈی اے کے ذریعے آنے والی رقوم نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ مالیاتی استحکام کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کی شمولیت ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو رہی ہے۔

    روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ منصوبہ کے تحت بیرونِ ملک پاکستانی پاکستان آئے بغیر آسانی سے بینک اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں کے تعاون سے ایک ڈیجیٹل نظام تیار کیا، جس کے ذریعے غیر مقیم پاکستانی آن لائن طریقے سے اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت حاصل کرتے ہیں۔

    اس اکاؤنٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے صارفین کو مختلف بینکاری سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جاتی ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہولڈرز بینکنگ لین دین، بلوں کی ادائیگی، فنڈز کی منتقلی اور دیگر مالی معاملات آسانی سے انجام دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مختلف مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں، جن میں حکومتی بانڈز اور دیگر مالیاتی منصوبے شامل ہیں۔

    مزید برآں، یہ پلیٹ فارم بیرونِ ملک پاکستانیوں کو وطن میں آسانی سے رقوم بھیجنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ترسیلاتِ زر کی روانی میں بہتری پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مالیاتی نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس منصوبے کو مزید وسعت دی جائے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع متعارف کرائے جائیں تو بیرونِ ملک پاکستانیوں کی دلچسپی مزید بڑھ سکتی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئی سہولیات متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ اوورسیز پاکستانی اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس اقدام کا مقصد بیرونِ ملک پاکستانیوں کو قومی معیشت کا فعال حصہ بنانا اور ملک میں سرمایہ کاری کے رجحان کو فروغ دینا ہے۔

  • بڑہتی ہوئی درآمدی ادائیگیوں کے باعث زرمبادلہ ذخائر میں کمی: اسٹیٹ بینک

    بڑہتی ہوئی درآمدی ادائیگیوں کے باعث زرمبادلہ ذخائر میں کمی: اسٹیٹ بینک

    ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی ذخائر 73.2 ملین ڈالر یعنی 0.34 فیصد کم ہو کر 21.3 ارب ڈالر رہ گئے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 13 فروری 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران یہ کمی بنیادی طور پر کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں کمی کے باعث ہوئی۔ کمرشل بینکوں کے ذخائر 92.3 ملین ڈالر یعنی 1.78 فیصد کم ہو کر 5.1 ارب ڈالر رہ گئے، جس نے مجموعی ذخائر پر دباؤ ڈالا اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافے کے اثر کو زائل کر دیا۔

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اپنے ذخائر میں 19.1 ملین ڈالر یعنی 0.12 فیصد ہفتہ وار اضافہ ہوا، جس کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 16.197 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

    ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں کمی کی بڑی وجوہات میں بینکنگ نظام سے ڈالر کی ادائیگیاں، درآمدی بل کی ادائیگی، بیرونی واجبات اور مالیاتی ضروریات کے باعث غیر ملکی کرنسی کا اخراج شامل ہوتا ہے۔ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی بھی عموماً نجی شعبے کی درآمدی ادائیگیوں اور بیرونِ ملک رقوم کی منتقلی سے جڑی ہوتی ہے، جس سے مجموعی ذخائر عارضی طور پر کم ہو جاتے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مجموعی طور پر 7.13 ارب ڈالر یعنی 78.68 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ موجودہ کیلنڈر سال میں اب تک ذخائر میں 281.8 ملین ڈالر یعنی 1.77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  • جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، مگر سات ماہ میں خسارہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز: اسٹیٹ بینک

    جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، مگر سات ماہ میں خسارہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز: اسٹیٹ بینک

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بدھ کے روز ملک کے بیرونی کھاتوں سے متعلق جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 121 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے، جو معاشی ماہرین کے نزدیک ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس جنوری 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ 393 ملین ڈالر کے خسارے میں تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سال کے دوران بیرونی شعبے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اہم شرط پوری ہوگئی ہے۔ آئی ایم ایف کا ایک ریویو وفد اس ماہ کے آخر میں پاکستان کو دورہ کرنے کے لیے آرہا ہے، جو اہم اہداف کا جائزہ لے گا۔
    تین سالہ سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام اور 1.1 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کے چھ ماہ بعد ہونے والے جائزے کے دوران پاکستان اور متعلقہ اداروں کو نہ صرف گزشتہ کارکردگی پر اتفاق کرنا ہوگا بلکہ آئندہ مہینوں کے لیے عملی منصوبہ بھی طے کرنا ہوگا۔

    اگر یہ جائزہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان کو اپریل کے آخر تک ای ایف ایف پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور آر ایس ایف کے تحت مزید 200 ملین ڈالر حاصل ہو سکیں گے۔

    کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کیسے مثبت ہوا؟

    ماہرین کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونے کی بڑی وجوہات میں ترسیلات زر میں اضافہ، درآمدات میں نسبتاً کمی اور برآمدات کی بہتر کارکردگی شامل ہیں۔ خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر نے بیرونی کھاتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے درآمدی نظم و ضبط اور زرمبادلہ کے بہتر انتظام کے اقدامات بھی اس بہتری کا سبب بنے ہیں۔

    تاہم مالی سال 2026 کے پہلے سات ماہ کی مجموعی صورتحال مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ جولائی سے جنوری تک کے عرصے میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر 1.074 ارب ڈالر خسارے میں رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 564 ملین ڈالر سرپلس میں تھا۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال کے آغاز میں بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ زیادہ رہا، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر خسارہ سامنے آیا۔

    رپورٹ کے مطابق جولائی تا جنوری کے دوران درآمدات بڑھ کر 36.662 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 33.383 ارب ڈالر تھیں۔ اس کے برعکس برآمدات کم ہو کر 18.26 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ ایک سال قبل اسی مدت میں یہ 19.327 ارب ڈالر تھیں۔ درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے اس فرق نے ایک ارب ڈالر سے زائد کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اہم کردار ادا کیا۔

    برقرار رکھنا کیوں ضروری ہے؟

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنوری کا سرپلس حوصلہ افزا ہے، لیکن پائیدار بہتری کے لیے برآمدات میں مسلسل اضافہ اور درآمدی بل میں مستقل توازن ضروری ہے۔ ان کے مطابق توانائی، ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور زرعی مصنوعات کی برآمدات میں مزید اضافہ کیا جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ کو طویل مدت میں مستحکم رکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح غیر ضروری درآمدات میں کمی اور مقامی پیداوار کے فروغ سے بھی بیرونی دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔

    حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے جاری اصلاحات کے مثبت نتائج بتدریج سامنے آ رہے ہیں اور آنے والے مہینوں میں بیرونی کھاتوں کی صورتحال مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ حکام کے مطابق ترسیلات زر بڑھانے کے لیے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولیات میں اضافہ، برآمد کنندگان کو مراعات اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے جیسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

    ماہرین یہ بھی زور دیتے ہیں کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں، عالمی شرح سود اور تجارتی حالات میں تبدیلیاں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں، اس لیے معاشی پالیسیوں کو عالمی حالات کے مطابق لچکدار رکھنا ضروری ہے۔ مجموعی طور پر جنوری میں سرپلس کا سامنے آنا ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم مستقل استحکام کے لیے مسلسل پالیسی اقدامات اور برآمدی شعبے کی مضبوطی ناگزیر ہے۔

    ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر برآمدی شعبے خصوصاً ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور زرعی مصنوعات کی برآمدات کو مؤثر حکومتی پالیسیوں کے ذریعے بڑھایا جائے اور غیر ضروری درآمدات کو محدود رکھا جائے تو آئندہ مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال مزید بہتر بنائی جا سکتی ہے، جس سے بیرونی شعبے میں پائیدار استحکام حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

  • اسٹیٹ بینک نے مال یاتی نظام کو سائبر خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے ‘سائبر شیلڈ’ متعارف کرا دی

    اسٹیٹ بینک نے مال یاتی نظام کو سائبر خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے ‘سائبر شیلڈ’ متعارف کرا دی

    پاکستان کی مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی بینکاری اور مالیاتی نظام کو بڑھتے ہوئے عالمی اور مقامی سائبر خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے ’سائبر شیلڈ‘ کے نام سے ایک جامع سائبر ریزیلینس حکمت عملی متعارف کرا دی ہے۔ یہ اقدام ایس بی پی کے وژن 2028 پروگرام کا اہم حصہ ہے اور اسے بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق سائبر شیلڈ کا مقصد بینکوں اور مالیاتی اداروں کے سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانا، سائبر حملوں کی روک تھام، خطرات کی صورت میں فوری ردعمل اور مؤثر بحالی کو یقینی بنانا ہے تاکہ عوام اور کاروباری ادارے محفوظ انداز میں مالیاتی خدمات حاصل کرتے رہیں۔

    مرکزی بینک نے بتایا کہ حکمت عملی میں طے کیے گئے اہداف کو مرحلہ وار 2030 تک مکمل کیا جائے گا اور تمام ریگولیٹڈ مالیاتی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے داخلی سائبر سیکیورٹی پروگرامز کو اس حکمت عملی کے مطابق ہم آہنگ کریں تاکہ مکمل عملدرآمد ممکن ہو سکے۔

    حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آن لائن بینکنگ میں تیزی سے اضافے کے باعث سائبر جرائم کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صورتحال تشویشناک نہیں تاہم بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بینکاروں کا کہنا ہے کہ فوری حفاظتی اقدامات سے نہ صرف سائبر جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ بینکاری نظام مزید مضبوط ہوگا۔

    اسٹیٹ بینک نے کہا کہ سائبر شیلڈ پانچ اہم ترجیحات پر مشتمل ہے جن میں بینکوں کی سائبر حملوں کے خلاف مزاحمت بڑھانا، سائبر سیکیورٹی کے نظام میں بہتر نگرانی اور جوابدہی قائم کرنا، مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا، ماہر افرادی قوت تیار کرنا اور سیکیورٹی طریقہ کار کو مسلسل جدید خطرات کے مطابق اپ ڈیٹ رکھنا شامل ہے۔

    مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ وہ عالمی اور مقامی سطح پر سائبر خطرات کی مسلسل نگرانی کرے گا اور ضرورت کے مطابق حکمت عملی میں تبدیلیاں بھی کی جائیں گی تاکہ نئے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ اس اقدام سے صارفین کے مالی مفادات کا تحفظ، محفوظ ڈیجیٹل جدت کا فروغ اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

    دوسری جانب بینکاری شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی اداروں میں سائبر سیکیورٹی ماہرین کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاہم بہتر تنخواہوں کے باعث کئی پاکستانی ماہرین بیرون ملک ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں جس کے باعث مقامی سطح پر ماہرین کی کمی کا سامنا ہے۔

    سائبر خطرات کون کون سے ہیں؟

    پرائس واٹر ہاؤس کوپرز پاکستان کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 90 فیصد بینکار سائبر کرائم کو بینکاری صنعت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہیں، جبکہ 70 فیصد کے نزدیک فراڈ سب سے بڑا مسئلہ اور 60 فیصد کے مطابق دہشت گردی کی مالی معاونت ایک بڑا خطرہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بینک تیزی سے بدلتے ہوئے مالیاتی جرائم کے ماحول میں کام کر رہے ہیں، جس کے پیش نظر مضبوط سائبر سیکیورٹی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    گزشتہ چند برسوں میں سائبر خطرات کی نوعیت تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیکرز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے اور نئے گروہ بھی مالیاتی اداروں اور دیگر حساس اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    بینکاری شعبے میں تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن کے باعث سائبر خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، تاہم سائبر دفاعی صلاحیتیں اسی رفتار سے بہتر نہیں ہو سکیں جس کے نتیجے میں سکیورٹی کمزور ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی اداروں کے بورڈ اور اعلیٰ انتظامیہ کو سائبر خطرات کی بہتر سمجھ پیدا کر

    کے سکیورٹی پر سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی، جبکہ پرانے سسٹمز اور ٹیکنالوجی کی بروقت اپ گریڈیشن بھی ضروری ہے۔

    حالیہ سائبر حملوں کے رجحانات نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اداروں میں حملوں کی بروقت نشاندہی اور فوری ردعمل کی صلاحیت مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ سائبر سکیورٹی کے ماہرین کی کمی، تھرڈ پارٹی سروس فراہم کرنے والوں پر زیادہ انحصار، اور بیرونی کمپنیوں کے استعمال سے وابستہ نگرانی کے مسائل بھی مالیاتی شعبے کے لیے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔

  • مہنگائی میں کمی کے باوجود اسٹیٹ بینک نے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار کیوں رکھی؟

    مہنگائی میں کمی کے باوجود اسٹیٹ بینک نے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار کیوں رکھی؟

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق اگرچہ مہنگائی میں مجموعی سطح پر کمی آئی ہے، تاہم بنیادی مہنگائی کے دباؤ کے باعث محتاط پالیسی ضروری ہے۔

    مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بتایا کہ دسمبر میں مجموعی مہنگائی کم ہو کر 5.6 فیصد رہی، جبکہ بنیادی مہنگائی 7.4 فیصد کی سطح پر برقرار ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رکھنے کے لیے محتاط رویہ اپنانا ناگزیر ہے۔

    اہم معاشی اشاریے

    معاشی نمو: مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی میں 3.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بڑے پیمانے کی صنعت اور زرعی شعبے کی بہتر کارکردگی کے باعث پورے مالی سال کی شرح نمو کا تخمینہ بڑھا کر 3.75 سے 4.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔

    بیرونی شعبہ: تجارتی خسارہ بڑھنے کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابلِ انتظام رہا، جس کا تخمینہ جی ڈی پی کے صفر سے 1 فیصد کے درمیان لگایا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق ترسیلاتِ زر میں استحکام اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 16.1 ارب ڈالر تک پہنچنے سے بیرونی دباؤ محدود رہا۔

    مالی صورتحال: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آمدن میں 9.5 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ حکومتی اہداف سے کم رہا۔ اس کے باوجود سود کی ادائیگیوں میں کمی کے باعث مجموعی مالی خسارہ قابو میں رہا۔

    آئندہ منظرنامہ اور خدشات

    مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ ملکی طلب میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، جس کے شواہد گاڑیوں کی فروخت اور نجی شعبے کو قرضوں میں اضافے سے ملتے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق حقیقی شرح سود اب بھی مناسب حد تک مثبت ہے۔

    تاہم عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ انتظامی ردوبدل کو اہم خطرات قرار دیا گیا ہے۔

    کمیٹی نے زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے مالی نظم و ضبط، ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے ساختی اصلاحات اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری ضروری ہے۔ شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ معاشی سرگرمی اور قیمتوں کے استحکام کے درمیان توازن کے لیے کیا گیا ہے۔