جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، مگر سات ماہ میں خسارہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز: اسٹیٹ بینک

کرنٹ اکاؤنٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بدھ کے روز ملک کے بیرونی کھاتوں سے متعلق جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 121 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے، جو معاشی ماہرین کے نزدیک ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس جنوری 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ 393 ملین ڈالر کے خسارے میں تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سال کے دوران بیرونی شعبے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اہم شرط پوری ہوگئی ہے۔ آئی ایم ایف کا ایک ریویو وفد اس ماہ کے آخر میں پاکستان کو دورہ کرنے کے لیے آرہا ہے، جو اہم اہداف کا جائزہ لے گا۔
تین سالہ سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام اور 1.1 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کے چھ ماہ بعد ہونے والے جائزے کے دوران پاکستان اور متعلقہ اداروں کو نہ صرف گزشتہ کارکردگی پر اتفاق کرنا ہوگا بلکہ آئندہ مہینوں کے لیے عملی منصوبہ بھی طے کرنا ہوگا۔

اگر یہ جائزہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان کو اپریل کے آخر تک ای ایف ایف پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور آر ایس ایف کے تحت مزید 200 ملین ڈالر حاصل ہو سکیں گے۔

کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کیسے مثبت ہوا؟

ماہرین کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونے کی بڑی وجوہات میں ترسیلات زر میں اضافہ، درآمدات میں نسبتاً کمی اور برآمدات کی بہتر کارکردگی شامل ہیں۔ خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر نے بیرونی کھاتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے درآمدی نظم و ضبط اور زرمبادلہ کے بہتر انتظام کے اقدامات بھی اس بہتری کا سبب بنے ہیں۔

تاہم مالی سال 2026 کے پہلے سات ماہ کی مجموعی صورتحال مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ جولائی سے جنوری تک کے عرصے میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر 1.074 ارب ڈالر خسارے میں رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 564 ملین ڈالر سرپلس میں تھا۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال کے آغاز میں بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ زیادہ رہا، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر خسارہ سامنے آیا۔

رپورٹ کے مطابق جولائی تا جنوری کے دوران درآمدات بڑھ کر 36.662 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 33.383 ارب ڈالر تھیں۔ اس کے برعکس برآمدات کم ہو کر 18.26 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ ایک سال قبل اسی مدت میں یہ 19.327 ارب ڈالر تھیں۔ درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے اس فرق نے ایک ارب ڈالر سے زائد کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اہم کردار ادا کیا۔

برقرار رکھنا کیوں ضروری ہے؟

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنوری کا سرپلس حوصلہ افزا ہے، لیکن پائیدار بہتری کے لیے برآمدات میں مسلسل اضافہ اور درآمدی بل میں مستقل توازن ضروری ہے۔ ان کے مطابق توانائی، ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور زرعی مصنوعات کی برآمدات میں مزید اضافہ کیا جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ کو طویل مدت میں مستحکم رکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح غیر ضروری درآمدات میں کمی اور مقامی پیداوار کے فروغ سے بھی بیرونی دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے جاری اصلاحات کے مثبت نتائج بتدریج سامنے آ رہے ہیں اور آنے والے مہینوں میں بیرونی کھاتوں کی صورتحال مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ حکام کے مطابق ترسیلات زر بڑھانے کے لیے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولیات میں اضافہ، برآمد کنندگان کو مراعات اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے جیسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

ماہرین یہ بھی زور دیتے ہیں کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں، عالمی شرح سود اور تجارتی حالات میں تبدیلیاں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں، اس لیے معاشی پالیسیوں کو عالمی حالات کے مطابق لچکدار رکھنا ضروری ہے۔ مجموعی طور پر جنوری میں سرپلس کا سامنے آنا ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم مستقل استحکام کے لیے مسلسل پالیسی اقدامات اور برآمدی شعبے کی مضبوطی ناگزیر ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر برآمدی شعبے خصوصاً ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور زرعی مصنوعات کی برآمدات کو مؤثر حکومتی پالیسیوں کے ذریعے بڑھایا جائے اور غیر ضروری درآمدات کو محدود رکھا جائے تو آئندہ مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال مزید بہتر بنائی جا سکتی ہے، جس سے بیرونی شعبے میں پائیدار استحکام حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں: