پاکستان کی مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی بینکاری اور مالیاتی نظام کو بڑھتے ہوئے عالمی اور مقامی سائبر خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے ’سائبر شیلڈ‘ کے نام سے ایک جامع سائبر ریزیلینس حکمت عملی متعارف کرا دی ہے۔ یہ اقدام ایس بی پی کے وژن 2028 پروگرام کا اہم حصہ ہے اور اسے بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق سائبر شیلڈ کا مقصد بینکوں اور مالیاتی اداروں کے سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانا، سائبر حملوں کی روک تھام، خطرات کی صورت میں فوری ردعمل اور مؤثر بحالی کو یقینی بنانا ہے تاکہ عوام اور کاروباری ادارے محفوظ انداز میں مالیاتی خدمات حاصل کرتے رہیں۔
مرکزی بینک نے بتایا کہ حکمت عملی میں طے کیے گئے اہداف کو مرحلہ وار 2030 تک مکمل کیا جائے گا اور تمام ریگولیٹڈ مالیاتی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے داخلی سائبر سیکیورٹی پروگرامز کو اس حکمت عملی کے مطابق ہم آہنگ کریں تاکہ مکمل عملدرآمد ممکن ہو سکے۔
حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آن لائن بینکنگ میں تیزی سے اضافے کے باعث سائبر جرائم کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صورتحال تشویشناک نہیں تاہم بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بینکاروں کا کہنا ہے کہ فوری حفاظتی اقدامات سے نہ صرف سائبر جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ بینکاری نظام مزید مضبوط ہوگا۔
اسٹیٹ بینک نے کہا کہ سائبر شیلڈ پانچ اہم ترجیحات پر مشتمل ہے جن میں بینکوں کی سائبر حملوں کے خلاف مزاحمت بڑھانا، سائبر سیکیورٹی کے نظام میں بہتر نگرانی اور جوابدہی قائم کرنا، مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا، ماہر افرادی قوت تیار کرنا اور سیکیورٹی طریقہ کار کو مسلسل جدید خطرات کے مطابق اپ ڈیٹ رکھنا شامل ہے۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ وہ عالمی اور مقامی سطح پر سائبر خطرات کی مسلسل نگرانی کرے گا اور ضرورت کے مطابق حکمت عملی میں تبدیلیاں بھی کی جائیں گی تاکہ نئے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ اس اقدام سے صارفین کے مالی مفادات کا تحفظ، محفوظ ڈیجیٹل جدت کا فروغ اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب بینکاری شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی اداروں میں سائبر سیکیورٹی ماہرین کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاہم بہتر تنخواہوں کے باعث کئی پاکستانی ماہرین بیرون ملک ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں جس کے باعث مقامی سطح پر ماہرین کی کمی کا سامنا ہے۔
سائبر خطرات کون کون سے ہیں؟
پرائس واٹر ہاؤس کوپرز پاکستان کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 90 فیصد بینکار سائبر کرائم کو بینکاری صنعت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہیں، جبکہ 70 فیصد کے نزدیک فراڈ سب سے بڑا مسئلہ اور 60 فیصد کے مطابق دہشت گردی کی مالی معاونت ایک بڑا خطرہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بینک تیزی سے بدلتے ہوئے مالیاتی جرائم کے ماحول میں کام کر رہے ہیں، جس کے پیش نظر مضبوط سائبر سیکیورٹی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں سائبر خطرات کی نوعیت تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیکرز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے اور نئے گروہ بھی مالیاتی اداروں اور دیگر حساس اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بینکاری شعبے میں تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن کے باعث سائبر خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، تاہم سائبر دفاعی صلاحیتیں اسی رفتار سے بہتر نہیں ہو سکیں جس کے نتیجے میں سکیورٹی کمزور ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی اداروں کے بورڈ اور اعلیٰ انتظامیہ کو سائبر خطرات کی بہتر سمجھ پیدا کر
کے سکیورٹی پر سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی، جبکہ پرانے سسٹمز اور ٹیکنالوجی کی بروقت اپ گریڈیشن بھی ضروری ہے۔
حالیہ سائبر حملوں کے رجحانات نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اداروں میں حملوں کی بروقت نشاندہی اور فوری ردعمل کی صلاحیت مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ سائبر سکیورٹی کے ماہرین کی کمی، تھرڈ پارٹی سروس فراہم کرنے والوں پر زیادہ انحصار، اور بیرونی کمپنیوں کے استعمال سے وابستہ نگرانی کے مسائل بھی مالیاتی شعبے کے لیے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔

