[rank_math_breadcrumb]

مہنگائی میں کمی کے باوجود اسٹیٹ بینک نے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار کیوں رکھی؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق اگرچہ مہنگائی میں مجموعی سطح پر کمی آئی ہے، تاہم بنیادی مہنگائی کے دباؤ کے باعث محتاط پالیسی ضروری ہے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بتایا کہ دسمبر میں مجموعی مہنگائی کم ہو کر 5.6 فیصد رہی، جبکہ بنیادی مہنگائی 7.4 فیصد کی سطح پر برقرار ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رکھنے کے لیے محتاط رویہ اپنانا ناگزیر ہے۔

اہم معاشی اشاریے

معاشی نمو: مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی میں 3.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بڑے پیمانے کی صنعت اور زرعی شعبے کی بہتر کارکردگی کے باعث پورے مالی سال کی شرح نمو کا تخمینہ بڑھا کر 3.75 سے 4.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔

بیرونی شعبہ: تجارتی خسارہ بڑھنے کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابلِ انتظام رہا، جس کا تخمینہ جی ڈی پی کے صفر سے 1 فیصد کے درمیان لگایا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق ترسیلاتِ زر میں استحکام اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 16.1 ارب ڈالر تک پہنچنے سے بیرونی دباؤ محدود رہا۔

مالی صورتحال: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آمدن میں 9.5 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ حکومتی اہداف سے کم رہا۔ اس کے باوجود سود کی ادائیگیوں میں کمی کے باعث مجموعی مالی خسارہ قابو میں رہا۔

آئندہ منظرنامہ اور خدشات

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ ملکی طلب میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، جس کے شواہد گاڑیوں کی فروخت اور نجی شعبے کو قرضوں میں اضافے سے ملتے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق حقیقی شرح سود اب بھی مناسب حد تک مثبت ہے۔

تاہم عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ انتظامی ردوبدل کو اہم خطرات قرار دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے مالی نظم و ضبط، ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے ساختی اصلاحات اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری ضروری ہے۔ شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ معاشی سرگرمی اور قیمتوں کے استحکام کے درمیان توازن کے لیے کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں: