بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے پاکستان میں فارن ایکسچینج رکھنے کے لیے قائم روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) میں مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر سے زائد کی رقوم موصول ہو چکی ہیں، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اب تک 9 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم پر ان کے مسلسل اعتماد اور تعاون نے اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ مرکزی بینک کے حکام کے مطابق اوورسیز پاکستانی ملک کی معاشی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی سرمایہ کاری اور ترسیلاتِ زر پاکستان کے مالی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اس منصوبے پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق آر ڈی اے کے ذریعے آنے والی رقوم نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ مالیاتی استحکام کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کی شمولیت ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو رہی ہے۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ منصوبہ کے تحت بیرونِ ملک پاکستانی پاکستان آئے بغیر آسانی سے بینک اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں کے تعاون سے ایک ڈیجیٹل نظام تیار کیا، جس کے ذریعے غیر مقیم پاکستانی آن لائن طریقے سے اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت حاصل کرتے ہیں۔
اس اکاؤنٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے صارفین کو مختلف بینکاری سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جاتی ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہولڈرز بینکنگ لین دین، بلوں کی ادائیگی، فنڈز کی منتقلی اور دیگر مالی معاملات آسانی سے انجام دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مختلف مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں، جن میں حکومتی بانڈز اور دیگر مالیاتی منصوبے شامل ہیں۔
مزید برآں، یہ پلیٹ فارم بیرونِ ملک پاکستانیوں کو وطن میں آسانی سے رقوم بھیجنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ترسیلاتِ زر کی روانی میں بہتری پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مالیاتی نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس منصوبے کو مزید وسعت دی جائے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع متعارف کرائے جائیں تو بیرونِ ملک پاکستانیوں کی دلچسپی مزید بڑھ سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئی سہولیات متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ اوورسیز پاکستانی اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس اقدام کا مقصد بیرونِ ملک پاکستانیوں کو قومی معیشت کا فعال حصہ بنانا اور ملک میں سرمایہ کاری کے رجحان کو فروغ دینا ہے۔

