پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر مل گئے ہیں: اسٹیٹ بینک

آئی ایم ایف

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کے تحت 1.3 ارب ڈالر موصول ہوگئے ہیں۔

بیان کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے آٹھ مئی 2026 کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے لیے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کا تیسرا جائزہ مکمل کیا اور 760 ملین ایس ڈی آر جاری کرنے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ، ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 154 ملین ایس ڈی آر کی دوسری قسط کی بھی منظوری دی گئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 12 مئی 2026 کو آئی ایم ایف سے مجموعی طور پر 914 ملین ایس ڈی آر موصول ہوئے، جو تقریباً 1.3 ارب امریکی ڈالر بنتے ہیں۔

یہ رقم 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل دکھائی دے گی۔

پاکستان کو معیشت بہتر بنانے اور مالی مسائل کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے دو اہم پروگراموں کے تحت قرض دیا جا رہا ہے۔ ان میں پہلا پروگرام ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) ہے۔ آئی ایم ایف نے 25 ستمبر 2024 کو اس پروگرام کی منظوری دی تھی۔ یہ پروگرام پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے، مہنگائی کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور حکومتی اصلاحات کے لیے بنایا گیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر سات ارب ڈالر کی مالی مدد دی جا رہی ہے۔ اس کی مدت 37 ماہ ہے۔ اب تک اس پروگرام کے تحت پاکستان کو تقریباً 4.1 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔

دوسرا پروگرام ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) 2022 کے سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں کی بحالی اور کلائمیٹ چینج کے اثرات میں کمی سے متعلق ہے۔

اس پروگرام کی منظوری نو مئی 2025 کو دی گئی تھی اور اس تازہ قسط کے ساتھ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو اب تک تقریباً 660 ملین ڈالر مل چکے ہیں۔

یہ پروگرام موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ پاکستان صاف توانائی، ماحول کے تحفظ اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے منصوبوں پر کام کر سکے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو تقریباً 1.4 ارب ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس کی مدت 28 ماہ ہے۔

آئی ایم ایف کے ان پروگراموں کے ساتھ حکومت کو بہت سے سخت معاشی فیصلے اور اصلاحات بھی کرنا پڑتی ہیں۔ دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر اب تک تقریباً 4.8 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں: