Tag: موہن جو دڑو

  • صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا آغاز

    صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا آغاز

    محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و لائبریریز سندھ کی جانب سے صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے خصوصی موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا آغاز کر دیا گیا۔

    موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا افتتاح صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے کیا۔ صوبائی وزیر نے ٹرین کا معائنہ کیا اور سفر میں شریک سیاحوں سے ملاقات کی۔

    صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ خود بھی شرکا کے ہمراہ ٹرین میں روانہ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تاریخی اور ثقافتی مقامات کو عوام کے قریب لانے کے لیے ٹرین سفاری ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

    محکمہ سیاحت کے مطابق ٹرین میں 100 سے زائد سیاح اور فیملیز شامل ہیں، جبکہ مختلف ٹور آپریٹرز نے بھی اس سفری پروگرام میں شرکت کی ہے۔

    ٹرین سفاری کے پہلے روز شرکا  کو سیہون میں حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار کی زیارت کرائی جائے گی۔ بعد ازاں ٹرین سیہون سے لاڑکانہ روانہ ہوگی، جہاں قیام کے ساتھ شرکاء کے لیے خصوصی میوزیکل ایونٹ کا اہتمام کیا گیا ہے۔

    دوسرے روز ٹرین سفاری میں شریک سیاح یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل موہن جو دڑو کا دورہ کیا۔ محکمہ ثقافت کے مطابق اس سفری پروگرام کا مقصد نہ صرف سیاحت کو فروغ دینا ہے بلکہ سندھ کی قدیم تہذیب اور تاریخی ورثے سے نئی نسل کو روشناس کرانا بھی ہے۔

     

  • موہن جو دڑو میں شہر کی فصیل کی نئی دریافت، آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا بڑا انکشاف

    موہن جو دڑو میں شہر کی فصیل کی نئی دریافت، آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا بڑا انکشاف

    پاکستان کے سب سے بڑے آثارقدیمہ کے مرکز موہن جو دڑو میں جاری پاک–امریکہ مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کے دوران ایک اہم دریافت سامنے آئی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے قدیم شہر کے گرد مٹی کی اینٹوں سے بنی ایک باقاعدہ شہر پناہ (فصیل) کی نشاندہی کی ہے، جسے ماضی میں ایک اونچا پلیٹ فارم سمجھا جاتا تھا۔

    یہ تحقیق حکومتِ سندھ کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز اور سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی (SEAS)کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔ اس مشن کی نگرانی معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر جوناتھن مارک کینوائر (Jonathan Mark Kenoyer) کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی ٹیم میں علی لاشاری بھی شامل ہیں۔

    تحقیقی ٹیم کے مطابق 1950–51 میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر مورٹیمر ویلر( Sir Mortimer Wheeler) نے اس ساخت کو مٹی کی اینٹوں کا ایک بڑا پلیٹ فارم قرار دیا تھا، تاہم حالیہ کھدائی اور زمینی تہوں (اسٹریٹی گرافی) کے شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دراصل شہر کی فصیل تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فصیل ممکنہ طور پر تجارت کے نظم و ضبط، شہر میں داخلے کے کنٹرول اور انتظامی و شہری منصوبہ بندی کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔

    ماہرین کے مطابق یہ دریافت وادیٔ سندھ کی تہذیب کے شہری نظام، سماجی و معاشی کنٹرول اور منصوبہ بندی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔ یہ انکشاف اس بات کا ثبوت ہے کہ موہن جو دڑو نہ صرف ایک منظم شہر تھا بلکہ اس کی حفاظت اور انتظام کے لیے باقاعدہ ڈھانچے بھی موجود تھے۔

    موہن جو دڑو کی ابتدائی کھدائی کا باقاعدہ آغاز 1922 میں بھارتی ماہرِ آثارِ قدیمہ راکھیل داس بینرجی نے کیا، جس کے بعد جان مارشل اور دیگر ماہرین نے اس شہر کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ آج اس تاریخی مقام پر سیاحوں اور محققین کے لیے میوزیم، معلوماتی مرکز، رہنمائی کی سہولت، واک ویز، اور تحفظِ آثار کے لیے مخصوص انتظامات موجود ہیں۔ حکومتِ سندھ اور متعلقہ ادارے اس عالمی ورثے کے تحفظ اور سہولیات میں بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔

    موہن جو دڑو دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ مختلف ادوار میں یہاں کئی بین الاقوامی ماہرین نے کھدائیاں کیں، جن کے نتیجے میں نکاسیٔ آب کا شاندار نظام، پکی اینٹوں کی عمارتیں، عظیم غسل خانہ اور منظم گلیاں دریافت ہوئیں۔ یہ شہر سندھ کے تاریخی علاقے میں لاڑکانہ کے قریب واقع ہے اور پاکستان کے اہم ترین ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دریافت نہ صرف علمی دنیا کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے پاکستان کے تاریخی ورثے کی عالمی اہمیت بھی مزید اجاگر ہوگی۔ مزید تحقیق کے بعد اس فصیل کی مکمل ساخت اور اس کے استعمال کے بارے میں مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

     

  • موہن جو دڑو سے ملنے والا قدیم ساز بوڑینڈو، جس کو بجانے والے کم لوگ بچے ہیں

    موہن جو دڑو سے ملنے والا قدیم ساز بوڑینڈو، جس کو بجانے والے کم لوگ بچے ہیں

    بوڑینڈو سندھ کے قدیم سازوں میں سے ایک ساز ہے۔ بانسری، الگوزو، مرلی کی طرح بوڑینڈو پُھونک سے بجنے والے ساز ہے۔

    موہن جو دڑو کے قدیمی آثار سے کھدائی کے دوران ملنے والے اشیا میں بوڑینڈو بھی شامل ہے۔

    بنیادی طور پر یہ چرواہوں کا ساز ہے مگر اب یہ میوزک کا اہم حصہ ہے۔

    یہ موسیقی کا آلہ مٹی سے گولائی میں بنایا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ ساز کچا بجایا جاتا تھا مگر اب اسے بھٹی میں پکاتے ہیں۔

    بوڑینڈو مٹی سے بنا ساز ہے اس لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے اوائلی سازوں میں سے ایک ساز ہے۔

    اس وقت سندھ میں بوڑینڈو بجانے والے بہت ہی کم لوگ رہ گئے ہیں۔ ان میں سے ذوالفقار لونڈ اچھا بوڑینڈو نواز آرٹسٹ سمجھے جاتے ہیں۔

    ذوالفقار لنڈ کو بوڑینڈو بجانے پر پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور سندھ کا سب سے مشہور شاہ لطیف ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔