Tag: موہن جو دڑو

  • موہن جو دڑو کی دریافت سے سکھر بیراج تک، سندھ کے محسن، کراچی کی لارنس روڈ کے سر لارنس کی ایک بھولی بسری داستان

    موہن جو دڑو کی دریافت سے سکھر بیراج تک، سندھ کے محسن، کراچی کی لارنس روڈ کے سر لارنس کی ایک بھولی بسری داستان

    کراچی کی تاریخی شاہراہوں اور قدیم گلیوں کی اپنی ایک زبان دانی اور حافظہ ہوتا ہے۔ لارنس روڈ کراچی کے پرانے اور تاریخی علاقوں سے گزرتی ہے، جہاں برطانوی دور کی کئی پرانی عمارتیں، مساجد، مندر، چڑیا گھر اور بازار موجود ہیں۔

    بدلتے وقت کے ساتھ، گو کہ بلدیاتی کاغذات میں ’لارنس روڈ‘ کا نام تبدیل کرکے ’نشتر روڈ‘ رکھ دیا گیا ہو، لیکن اس شہرِ قائد کے پرانے اور اصیل کراچی واسیوں، قدیم تاجروں اور تاریخی شعور رکھنے والوں کے لبوں پر آج بھی یہ سڑک ’لارنس روڈ‘ ہی کے نام سے پکاری جاتی ہے۔

    آخر یہ ’لارنس‘ کون تھے؟

    یہ شخصیت انگریز افسر شاہی کا کوئی عام پرزہ نہیں، بلکہ سر ہنری اسٹیولی لارنس تھے، جنہوں نے 1916 سے 1920 کے درمیان بحیثیت ’کمشنر سندھ‘ اس خطے کی قسمت، معیشت اور سب سے بڑھ کر اس کی ہزاروں سالہ قدیم تاریخی شناخت کی بنیادیں ازسرِ نو استوار کیں۔ اگر سکھر بیراج نہ ہوتا تو آج کا سندھ زرعی اعتبار سے بنجر اور قحط کا شکار ہوتا، اور اگر سر لارنس کی آثارِ قدیمہ سے متعلق بصیرت نہ ہوتی تو موہن جو دڑو کی پانچ ہزار سالہ قدیم اور باوقار شہری تہذیب شاید دہائیوں تک مٹی کے ٹیلوں کے نیچے گمنام دفن رہتی۔

    تاریخ کا نیا موڑ: محمد بن قاسم اور راجہ داہر سے قبل سندھ کی شناخت

    سر ہنری لارنس کے دورِ کمشنری سے پہلے، سندھ کی تحریری اور عام فہم تاریخ کا افق انتہائی محدود تھا۔ مورخین، مستشرقین اور مقامی مؤلفین سندھ کی تاریخ کا آغاز بنیادی طور پر ’چچ نامہ‘ کے صفحات، راجہ داہر کے عہد اور 712 میں عماد الدین محمد بن قاسم کی آمد سے ہی فرض کرتے تھے۔

    سندھ کو محض ایک جغرافیائی گزرگاہ، فاتحین کا بابِ اسلام یا قرونِ وسطیٰ کے راجواڑوں کا علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ اس سے پہلے کا زمانہ اساطیری کہانیوں اور ناخواندہ روایات کے دھندلکوں میں چھپا ہوا تھا۔

    سر لارنس محض ایک سویلین افسر نہیں تھے، بلکہ وہ سندھ کے قدیم آثار، اس کے جغرافیے اور برصغیر کی قدیم تہذیبوں کا گہرا تحقیقی اور عمیق ادراک رکھتے تھے۔ انہوں نے اس روایتی اور محدود تاریخی بیانیے کو چیلنج کیا۔

    آر ڈی بینرجی کی تعیناتی اور موہن جو دڑو کا سفر

    1917 کے دوران سر لارنس نے انڈین آرکیالوجیکل سروے کے مغربی سرکل کے اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ راکھال داس بینرجی کو سندھ طلب کیا۔ انہوں نے بینرجی کو سندھ بھر کے قدیم ٹیلوں، آثار اور تاریخی مقامات کی سائنسی درجہ بندی کا باقاعدہ حکم جاری کیا۔

    انہی کی براہِ راست سرپرستی اور انتظامی احکامات کے تحت آر ڈی بینرجی نے 1918–1919 میں ضلع لاڑکانہ کے قریب واقع موہن جو دڑو کے پراسرار اور گمنام ٹیلوں کا رخ کیا۔ اس وقت تک عام خیال یہ تھا کہ یہ ٹیلے شاید کسی درمیانی دور کے بدھ مت کے اسٹوپا کی باقیات ہیں۔

    لیکن جب بینرجی نے ابتدائی کھدائی اور سروے کے بعد سر لارنس کو اپنی رپورٹس پیش کیں تو سر لارنس کی علمی پرکھ نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ محض دوسری یا تیسری صدی کا اسٹوپا نہیں، بلکہ اس کے نیچے مہروں اور اینٹوں کی جو چنائی ہے، وہ قبل از تاریخ کے ایک عظیم الشان دور کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    سر لارنس نے بمبئی حکومت سے ہنگامی فنڈز کی منظوری کروائی اور اس مقام کو اینٹیں چرانے والوں اور مقامی تجاوزات سے محفوظ کرنے کا فوری انتظامی حکم دیا۔ اگرچہ باقاعدہ وسیع کھدائی بعد میں 1922 میں سر جان مارشل کی قیادت میں شروع ہوئی، لیکن وہ سر ہنری لارنس ہی کا تاریخی فیصلہ اور بصیرت تھی جس نے موہن جو دڑو کو عالمی تاریخی نقشے پر ابھارا۔

    اس ایک دریافت نے سندھ کی تاریخ کو راجہ داہر اور عرب فتح سے 5,000 سال پیچھے دھکیل کر اسے مصر اور میسوپوٹیمیا کی قدیم رین شہری تہذیبوں کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیا۔

    سندھ کی معاشی شہ رگ، سکھر بیراج کا بانی

    سندھ کا زرعی اور معاشی جائزہ لیا جائے تو سندھ کی زندگی کا تمام تر انحصار دریائے سندھ پر ہے۔ لیکن سر لارنس کے کمشنر بننے سے قبل، سندھ میں آب پاشی کا نظام انتہائی غیر یقینی اور دیسی نوعیت کا تھا۔ زمینیں صرف گرمیوں میں دریا کے چڑھاؤ اور سیلابی نہروں کے رحم و کرم پر تھیں؛ اگر دریا میں طغیانی نہ آتی تو قحط اور فاقہ کشی سندھ کے کسانوں کا مقدر بن جاتی۔

    التوا کے شکار منصوبے کا احیا

    دریائے سندھ پر سکھر کے مقام پر بیراج بنانے کا خیال سب سے پہلے 1847 میں کپتان فائف نے پیش کیا تھا، لیکن مالیاتی اور تکنیکی الجھنوں کے باعث برطانوی ہندوستانی حکومت اس پر ستر سال تک ہچکچاہٹ کا شکار رہی۔

    1916 میں چارج سنبھالتے ہی سر ہنری اسٹیولی لارنس نے اس التوا کے شکار منصوبے کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ انہوں نے چیف انجینئروں کی ایک باصلاحیت ٹیم تشکیل دی، جس نے 1913 کی ناقص تجاویز کا ازسرِ نو سائنسی اور مالیاتی تجزیہ کرکے ایک انتہائی جامع اور عملی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی۔

    بمبئی کونسل کے ساتھ اعصاب شکن لابنگ کا سامنا

    چوں کہ اس وقت سندھ انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی کا ایک حصہ تھا، اس لیے بمبئی کے حکمران سندھ پر اتنا بھاری سرمایہ خرچ کرنے کو تیار نہ تھے۔ سر لارنس نے ایک سخت گیر منتظم اور ماہرِ معیشت کی حیثیت سے بمبئی کے گورنر اور دہلی کی مرکزی حکومت کو قائل کیا کہ یہ بیراج نہ صرف سندھ بلکہ پورے برصغیر کو غذائی طور پر خودکفیل بنا دے گا۔

    انہی کی محنت، خلوص اور مسلسل خط و کتابت کے نتیجے میں 1920 میں اس عظیم الشان منصوبے کو بمبئی حکومت نے حتمی منظوری کی راہ پر ڈالا، جس کا سنگِ بنیاد بعد میں 1923 میں رکھا گیا اور 1932 میں لائیڈ بیراج، یعنی سکھر بیراج، نے کام شروع کیا۔

    معاشی انقلاب اور دائمی زراعت

    سکھر بیراج کی تعمیر نے سندھ کی قسمت بدل دی۔ 80 لاکھ ایکڑ کی سیرابی: سندھ کے بنجر اور غیر آباد خطے اچانک شاداب ہو گئے۔ بارہ ماہ نہری نظام: دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام، بشمول نارا کینال، روہڑی کینال، رائس کینال اور دادو کینال، کا وجود ممکن ہوا، جس سے سندھ سال میں دو فصلیں، ربیع اور خریف، پیدا کرنے کے قابل ہوا۔

    کراچی بندرگاہ کے لیے ایندھن: سندھ کی بمپر کپاس اور چاول نے کراچی بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں میں دھاک بٹھائی، جس سے کراچی کو ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز کا درجہ ملا۔

    آج 90 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی سکھر بیراج سندھ کی معیشت کی شہ رگ ہے اور صوبے کے 80 فیصد سے زائد زرعی رقبے کو سیراب کر رہا ہے۔ اس عظیم معاشی انقلاب کے پیچھے جو بنیادی دماغ اور انتظامی جرات تھی، وہ سر ہنری اسٹیولی لارنس ہی کی تھی۔

    کراچی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جنگِ عظیم کا بحران

    بطور کمشنر سندھ، سر لارنس کا کراچی شہر سے تعلق بھی نہایت گہرا اور انقلابی نوعیت کا تھا۔ ان کا دورِ حکومت پہلی جنگِ عظیم کے انتہائی نازک اور پرآشوب سالوں پر محیط تھا۔

    بندر روڈ کی توسیع اور تجارتی زوننگ

    پہلی جنگِ عظیم کے دوران کراچی بندرگاہ برطانوی ہند کی اہم ترین جنگی اور تجارتی بندرگاہ بن کر ابھری۔ سر لارنس نے بندرگاہ سے لے کر شہر کے اندرونی حصوں تک مال برداری اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے موجودہ ایم اے جناح روڈ، سابقہ بندر روڈ، کی چوڑائی، پختگی اور اس کی رابطہ سڑکوں کی توسیع کے منصوبے منظور کرائے۔

    انہی کے دور میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ایسٹ وارف کو باقاعدہ ریلوے لائن سے جوڑا گیا تاکہ پنجاب اور بلوچستان کی اجناس براہِ راست گودیوں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے شہر کے اندرونی تجارتی حصوں، مثلاً برنس روڈ، کپڑا مارکیٹ اور بمبئی بازار، کی تجارتی زوننگ کی بنیاد رکھی۔

    غذائی بحران اور سستے غلے کی دکانیں

    1918 میں پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر جب پورا برصغیر شدید بارشوں کی کمی، قحط، ذخیرہ اندوزی اور اسپینش فلو کی مہلک وبا کی لپیٹ میں آیا تو سر لارنس نے کراچی اور سندھ کے عوام کو بھوک اور تباہی سے بچانے کے لیے حیران کن انتظامی صلاحیتوں کا اس طرح مظاہرہ کیا کہ: ’انہوں نے کراچی بندرگاہ سے غلے اور گندم کی بے دریغ برآمد پر ہنگامی پابندی عائد کی۔‘

    ’ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غلے کی قیمتیں سرکاری طور پر مقرر کیں۔‘

    ’کراچی کے غریب طبقے، بندرگاہ کے مزدوروں اور عام شہریوں کے لیے سرکاری سرپرستی میں راشن شاپس، یعنی سستے غلے کی دکانیں، قائم کیں، جہاں رعایتی نرخوں پر راشن اور گندم فراہم کی جاتی تھی۔‘

    یہ وہ اقدامات تھے جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب ہندوستان کے دیگر صوبے قحط اور فسادات کی آگ میں جل رہے تھے، کراچی سمیت سندھ کے عوام اس شدید غذائی بحران سے محفوظ رہے۔

    لارنس روڈ، ایک نام جو مٹایا نہ جا سکا

    سر ہنری اسٹیولی لارنس بعد میں بمبئی کے قائم مقام گورنر بھی رہے اور 29 جون 1949 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن سندھ اور کراچی کے لیے ان کی خدمات کا نقش اتنا گہرا تھا کہ کراچی کے ہندوؤں، مسلمانوں اور پارسیوں نے مل کر ان کی یاد میں اس اہم سڑک کا نام ’لارنس روڈ‘ رکھا تھا، جو کراچی کے پرانے تجارتی اور صنعتی علاقوں کو نیو کراچی اور سول لائنز سے جوڑتی تھی۔

    اگرچہ ہم نے تختیوں پر نام بدلنے کی روایتی روش پر عمل کرتے ہوئے اس سڑک کا نام کاغذی حد تک تبدیل کر دیا ہے، لیکن تاریخ کی سچائی کو سرکاری نوٹیفکیشنز کے ذریعے نہیں بدلا جا سکتا۔

    جب بھی کراچی کا کوئی باسی لارنس روڈ سے گزرتا ہے، جب بھی موہن جو دڑو کا ذکر دنیا کے سامنے سندھ کے فخر کے طور پر ابھرتا ہے، اور جب بھی سکھر بیراج کے 66 دروازوں سے سندھو ندی کا پانی نکل کر سندھ کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، تب تاریخ خاموشی سے سر ہنری اسٹیولی لارنس کی بصیرت کو سلام پیش کرتی ہے۔ وہ سندھ کے ایک سچے نوآبادیاتی محسن تھے، جنہوں نے اس دھرتی کو اس کا ہزاروں سالہ شاندار ماضی بھی لوٹایا اور اس کے مستقبل کی معاشی ضمانت بھی فراہم کی۔

  • زاویہ: موہن جو دڑو کا آدمی

    زاویہ: موہن جو دڑو کا آدمی

    ہمیں تو یہ بھی نہیں پتا کہ یہاں کے لوگ خود کو اور اپنے ’موہن جو دڑو‘ کو کیا کہتے تھے۔ وہ کون سی زبان بولتے تھے۔ ان کی آواز کیا تھی۔ ان لوگوں نے کچھ تو لکھا ہے لیکن کیا لکھا ہے، ہم نہیں جان سکتے۔

    لوگ ان کا نہایت مربوط سماجی انفرا سٹرکچر دیکھ کر تعجب ظاہر کرتے ہیں لیکن میں اپنے اور ان کے درمیان اس علمی عدم رسائی پر حیران ہوتا ہوں۔ ہمارے پاس ایک نامعلوم زبان کے ہزاروں چھوٹے پیٹرنز ہیں لیکن ایسی ڈکشنری کہاں سے لائیں جس کی مدد سے ان علامتوں کا مطلب جان سکیں۔

     اس لیے ہوا میں یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ وہ قدیم دراوڑی بولتے تھے،کیا خبر وہ انڈو یورپین زبان بولتے ہوں۔

    وہ کوئی بھی زبان بولتے تھے، آج یہاں جو زبان بولی جاتی ہے، وہ دریائے سندھ سے منسوب ہے، ایسی تہذیب سے جڑی ہے جس میں آج بھی وہی نفاست اور ایک مشترکہ سماجی ماحول کی جھلک ملتی ہے۔

      لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری آنکھیں کچھ اور بھی دیکھتی ہیں۔ کانسی کے دور میں انڈس تہذیب کے اُس اسرار کے پردے میں چھپے دور کا اصل حیرت زا نکتہ یہ ہے کہ اتنے بڑے شہری معاشرے کی اجتماعی تنظیم کہاں سے آئی؟ گورننس کا روپ کیا تھا؟۔

    ہم جانتے ہیں کہ اس کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے مگر اسے سوچتے ہی آج سندھ پر مسلط گورننس کا روپ ہمیں ڈرانے لگ جاتا ہے۔ آج اس خطے کی ہر گورننس کی طرح یہ گورننس بھی لسانی سیاست کے ہتھیار سے تو لیس ہے، لیکن شہری و دیہی انفرا سٹرکچر کا تہذیبی تسلسل کہیں دم توڑ چکا ہے۔

    اس وقت میں ایک ہراساں زندگی گزار رہا ہوں کیوں کہ ہر طرف لسانی سیاست کا ماحول گرم کیا جا چکا ہے۔ جب بھی لسانی گفتگو شروع ہوتی ہے مجھے لگتا ہے کوئی مجھے ہراساں کر رہا ہے۔ لوگ اپنی موجودہ ڈراؤنی شکلوں کو سہولت سے نظر انداز کر کے تہذیبی تواریخ پر چھلانگیں مارنے لگتے ہیں۔

     میں حیران ہوتا ہوں۔ پریشان ہوتا ہوں۔ اس لیے میں نے بھی موہن جو دڑو کی ایک ذرا سی سیر کرنی چاہی کہ وہاں جا کر کچھ دیر کے لیے دم لے لوں، انسان کی انسانی کیفیات کو محسوس کر پاؤں۔ ان قدیم لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ دیر کے لیے قلبی سکون پا لوں۔

     وہ لوگ جن کے علاقے میں کسی بادشاہ کا محل نظر نہیں آتا، کوئی معبد نہیں ملتا، کوئی اسلحہ خانہ نہیں ملتا۔ لیکن آج یہ تینوں یہاں ہم پر حملہ آور ہیں۔

    میں کراچی میں پیدا ہوا، یہ کہنا کہ یہ شہر اپنی ایک زبان رکھتا ہے، فریب ہے۔ اس کی کئی زبانیں ہیں۔ چند کلو میٹر کے سفر کے بعد زبان بالکل تبدیل ہو جاتی ہے۔ اتنی کہ آپ بولنا تو دور سمجھ بھی نہیں پاتے۔ بشریات کا مطالعہ مجھے یہ سبق دے چکا ہے کہ یہ ایک بہت خطرناک بات ہوتی ہے۔

      اتنی خطرناک جگہ پر’لے سانس بھی آہستہ‘ والی صورت حال ہوا کرتی ہے۔ محلاتی سازش کسی بھی پل اس تنوع کو تباہی میں بدل سکتی ہے۔ ہوا بھی یہی۔ میں 48 برسوں سے یہاں کی فضا میں سانسیں لے رہا ہوں۔ اب دھول اور دھوئیں کی طرح محل، معبد اور اسلحہ خانے کی وجہ سے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

     یہاں میں نے لڑکپن سے خود کو لسانی طور پر ہراساں محسوس کیا۔ جو شخص مزاجاً حملہ آور نہ ہو، ایسی جگہوں پر اس کا یہی مقدر ہوتا ہے۔

     مجھے مادری زبان کے طور پر زبان سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ یہ میرے لیے رکاوٹ ہے۔ یہ مجھے انسانوں سے بے وجہ جدا  کرتی ہے۔ مجھے کنوئیں کا مینڈک بناتی ہے۔ اس لیے کسی زبان پر فخر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

     میں سمجھتا ہوں زبان ایک انسان ہونے کے ناطے مجھ سے ہرگز بڑی نہیں ہے۔ مجھ سے یعنی میری سوچ سے۔ سوچ، جو مجھے میں بناتی ہے۔ تو زبان بس ایک چھوٹا سا ٹول ہے میرا۔ جتنا منجھا ہوا ہو، بہتر ہے۔

    اگر کل میری موجودگی میں میری زبان ختم ہو جائے تو میں اسے خاتمے کی جگہ ایک نئی شروعات سمجھوں گا۔ مجھے کوئی دکھ نہیں ہوگا۔ ہونا بھی نہیں چاہیے۔ موہن جو دڑو کے میرے پڑوسی، جو میرے آس پاس روحوں کی صورت گھوم رہے ہیں، انھیں بھی اپنی زبان ختم ہو جانے پر ذرا برابر بھی دکھ نہیں ہے۔

    اس لیے ، اے زبان کی سیاست کرنے والے بے پر کے فرشتو آدمیوں کو اپنی بے مایہ تین انچ کی زبان سے ہراساں کرنا چھوڑ دو۔ اور یونی کورن بن کر دکھاؤ۔

     آج اپنے آس پاس کا ماحول دیکھ کر تاریخ کی یہ گواہی سنائی دیتی ہے کہ موہن جو دڑو کا آدمی ہم سب سے بہتر نکلا۔

      ایک دن ان کے درمیان کے تخلیق کار نے ایک عجیب انسان کے بارے میں سنا۔ اور اس نے مٹی کے ڈھیر کے پاس بیٹھ کر اپنے تخیل کے زور پر پورے سماج کے سامنے اس کا ہیولا زندہ کر دیا۔ اگلی صبح جب شہر کے لوگ اٹھے تو انھوں نے خود کو یونی کورن کے روپ میں پایا۔ اور انھوں نے سمجھا کہ وہ ہمیشہ اسی روپ میں تھے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک دن ہم نے آئینوں میں اپنی تھوتنیاں دیکھیں اور حیرت کا اظہار بالکل نہ کیا۔

  • مہرگڑھ سے موہن جو دڑو: وادی سندھ کی خودمختار بائیو لتھک اور تکنیکی پرواز

    مہرگڑھ سے موہن جو دڑو: وادی سندھ کی خودمختار بائیو لتھک اور تکنیکی پرواز

    تاریخ اکثر فاتحین اور استعماری طاقتوں کی قلم سے رقم ہوتی رہی ہے، اور وادی سندھ کی قدیم تاریخ بھی طویل عرصے تک اسی سامراجی انداز فکر کا شکار رہی۔

    انیسویں اور بیسویں صدی کے نوآبادیاتی مورخین اور مستشرقین مثلاً سر مارٹیمر بھیلر اور ویری گورڈن چائلڈ نے اپنے مخصوص ‘ڈفیوژنزمن’ (Diffusionism) کے نظریے کو بڑی شدومد سے پیش کیا۔ ان کا بنیادی مدعا یہ ثابت کرنا تھا کہ برصغیر کے مقامی باشندے کسی پیچیدہ تمدن، منظم تحریر، ریاضیاتی اور انجینئرنگ کے طرز فکر کی صلاحیت سے محروم تھے اور یہاں کا شہری عروج دراصل میسوپوٹیمیا یا وسطی ایشیائی ہجرتوں کا مرہون منت تھا۔ مارٹیمر بھیلر کا یہ متنازع دعویٰ کہ ‘اندرا (ہندو مذہب کی دیوی) کو ملزم قرار دیا جاتا ہے’ دہائیوں تک ‘آریا حملے کے نظریے’ (Aryan Invasion Theory) کا فکری و نصابی محور بنا رہا۔

    تاہم، اکیسویں صدی کی جدید ترین سائنسی پیشرفت، آرکیوجینیٹکس، ملٹی ڈائیمینشنل طبیعی بشریات، بائیو آرکیالوجی اور ‘اے ایم ایس ریڈیو کاربن تاریخ نگاری’  نے نوآبادیاتی تاریخ نگاری کے اس پورے پیراڈائم کو سائنسی بنیادوں پر زمین بوس کر دیا ہے۔ جدید آثار قدیمہ کا فریم ورک اب عمل پسند علم الآثار پر مبنی ہے، جو ثقافتی اور حیاتیاتی تبدیلیوں کو بیرونی مداخلت کے بجائے مقامی ماحولیاتی تنوع، تکنیکی جدت طرازی اور آبادی کے تسلسل کے تناظر میں پرکھتا ہے۔

    نیولیتھک ‘نو سنگی دور’ یا ‘جدید پتھر کا زمانہ’ انقلاب

    مہرگڑھ کی زرعی و مویشی بانی داستان

    دریائے بولان کے کنارے موجود مہرگڑھ (7000–2600 BCE) کی دریافت نے جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک انقلاب برپا کیا۔ فرانسیسی ماہر آثار قدیمہ جین فرنسوا جریج (Jean-François Jarrige) کی قیادت میں ہونے والی کاوشوں نے ثابت کیا کہ وادی سندھ کا زرعی انقلاب مشرق وسطیٰ کے ‘ہلال زرخیز’ (Fertile Crescent) کا محتاج نہیں تھا۔

    آرکیو بائیولوجیکل فلوٹیشن ٹیسٹس اور کاربن زدہ بیجوں کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مہرگڑھ کے دور اول ہی سے مقامی کاشتکاری کی بنیادیں پختہ تھیں۔

    مقامی نباتات: چھ رخا جو (Hordeum vulgare)، کھلا جو (Hordeum vulgare var. nudum) اور دیسی گندم (Triticum monococcum/dicoccum) کی منظم زراعت شروع ہو چکی تھی۔

    حیوانی انطباق اور زیبو (Zebu):

    ابتدائی ادوار میں شکار پر منحصر آبادی نے دیکھتے ہی دیکھتے مقامی کوہان والے برصغیری سانڈ (Bos indicus) کو پالتو بنایا۔ مہرگڑھ کے دوسرے دور تک زیبو مویشیوں کی ہڈیوں کا تناسب 80 فیصد تک پہنچ گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زیبو کی افزائش اسی دھرتی پر ہوئی۔ یہی زیبو آگے چل کر وادی سندھ کی مہروں (Steatite Seals) پر ایک مقدس اور سب سے نمایاں آئیکن بن کر ابھرا۔

    مہرگڑھ سے کوٹ ڈیجی اور نوشہرو، ہجرت کا ماحولیاتی سفر

    مہرگڑھ کا لامتناہی تسلسل کسی یکایک تباہی سے نہیں بلکہ ماحولیاتی ترغیب (Environmental Driver) کے باعث نئے جغرافیائی روپ دھارتا گیا۔ 3500 قبل مسیح کے بعد خشک سالی اور بولان کے میدانی علاقے میں پانی کی قلت نے آبادی کو سندھ کے طاس کے میدانی علاقوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیا۔

    سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع کوٹ ڈیجی اور بلوچستان میں نوشہرو وہ تاریخی کڑیاں ہیں جو نیولیتھک مہرگڑھ کو وادی سندھ کے ابتدائی کانسی کے دور سے جوڑتی ہیں۔ مہرگڑھ کے آخری ادوار کی ظروف سازی میں پائے جانے والے ہندسی پیٹرنز، پیپل کے پتے کی نقاشی اور سینگوں والے مویشی بان کی علامات براہ راست کوٹ ڈیجی اور بعد ازاں وادی سندھ کے مشہور مٹی کے برتنوں پر ‘بلیک آن ریڈ وئیر’ (Black-on-Red Ware) کا حصہ بنیں۔ کوٹ ڈیجی کی ابتدائی سٹریٹیجک فصیل بندی اس بات کا ثبوت تھی کہ مقامی سطح پر شہری نظام اور انتظامی ضوابط جنم لے رہے تھے۔

    آرکیوجینیٹکس کی گواہی، راکھی گڑھی اور aDNA کے نتائج

    نوآبادیاتی مفروضوں کو سب سے بڑا اور حتمی سائنسی دھچکا اکیسویں صدی میں قدیم ڈی این اے (aDNA) کے تجزیات سے لگا۔ سال 2019 میں ہندوستان کی ریاست ہریانہ میں واقع راکھی گڑھی کے 4500 سال پرانے قبرستان (نمونہ I6113) سے حاصل کردہ قدیم ترین ڈی این اے کی سیکوینسنگ نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچائی۔ اس ضمن میں واسنتا شندے، نیراج رائے اور ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ڈیوڈ ریک (David Reich) کی اس معرکہ آرا تحقیق نے درج ذیل جینیاتی حقائق سامنے رکھے۔

    یوریشین اسٹیپ (Steppe) انیسٹری کا فقدان:

    وادی سندھ کے باسیوں کے جینوم میں وسطی ایشیائی یا اسٹیپ چوپانوں کا جینیاتی مادہ 0.0 فیصد پایا گیا۔ اسٹیپ ڈی این اے کو روایتی طور پر آریا نسل کا حیاتیاتی نشان سمجھا جاتا تھا، جس کی مکمل عدم موجودگی نے ثابت کر دیا کہ ہڑپہ کے عروج کے وقت برصغیر میں کسی یوریشین یا نژادی گروہ کی شمولیت نہیں تھی۔

    مقامی جینیاتی مرکب:

    ہڑپہ کے باشندوں کا جینیاتی تعلق برصغیر کے قدیم شکاری گروہ (AASI) اور ایک ایسے قدیم ایرانی کسان گروہ سے تھا جو زراعت کی ابتدا سے بھی ہزاروں سال پہلے (تقریباً 10,000 BCE سے قبل) ایرانی وادیوں سے الگ ہو کر برصغیر میں آباد ہو چکا تھا۔

    یہ جینیاتی پروفائل اس قاطع حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ مہرگڑھ کے نیولیتھک کسان ہی براہ راست وادی سندھ کے بائیولوجیکل اجداد تھے۔

    جسمانی بشریات اور دانتوں کا مائیکروسکوپک مطالعہ

    حیاتیاتی تسلسل کی تصدیق صرف ڈی این اے تک محدود نہیں بلکہ جسمانی بشریات (Physical Anthropology) نے بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ امریکی ماہرین بشریات برائن ہیمفل (Brian E. Hemphill) اور جون لوکاس (John R. Lukacs) نے مہرگڑھ کے قبرستانوں اور ہڑپہ کے قبرستان R-37 کے انسانوں کی دانتوں کی ساخت (Dental Morphology) کا تجزیہ کیا اور ان سائنسی شواہد کی روشنی میں ہیمفل نے نتیجہ اخذ کیا کہ مہرگڑھ سے لے کر وادی سندھ کے پختہ کانسی کے دور کے انسانوں کے درمیان ایک اٹوٹ حیاتیاتی قرابت داری (Biological Affinity) موجود ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ باہر سے کسی نئی آبادی نے آ کر یہاں کے لوگوں کو بے دخل نہیں کیا۔

    شہری منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجیکل یکسانیت

    نوآبادیاتی مورخین اکثر موہنجو دڑو اور ہڑپہ کے متناسق گرڈ سسٹم اور اینٹوں کے تناسب کو میسوپوٹیمیا کی دین قرار دینے کی کوشش کرتے تھے، لیکن تکنیکی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔

    اینٹوں کا حتمی تناسب:

    میسوپوٹیمیا میں اینٹیں چپٹی اور اوپر سے ابھری ہوئی (Plano-convex) اور بے قاعدہ سائز کی ہوتی تھیں۔ اس کے برعکس، وادی سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں تمام اینٹیں ایک محیرالعقول ریاضیاتی تناسب 4 : 2 : 1 کی پابند تھیں۔

    اعشاری پیمائش کا نظام:

    لوتھل اور موہنجو دڑو سے ملنے والے وزن کے پیمانے (Scales) ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا چھوٹا ترین یونٹ 1.704 ملی میٹر تھا، جو کانسی کے زمانے کی سب سے دقیق اور باریک ترین پیمائش تھی۔

    نکاسی آب کی انجینئرنگ:

    وادی سندھ کا زیر زمین ڈھکا ہوا نکاسی آب کا نظام اور ہر گھر میں غسل خانوں کا وجود، اس دور کی دنیا میں حفظان صحت اور شہری ماحولیاتی انجینئرنگ کا وہ شاہکار تھا جس کی مثال مصر یا میسوپوٹیمیا میں نہیں ملتی۔

    ‘آریا حملے’ کے نظریے کا ماحولیاتی اور پیتھالوجیکل زوال

    تاریخ کی کتابوں میں برسوں پڑھایا جانے والا ‘آریا حملہ’ جدید سائنسی تحقیقی حقائق کے سامنے محض ایک مفروضہ ثابت ہوا ہے۔

    پیلیو کلائمیٹولوجی کی گواہی:

    سمندری سیڈیمنٹ کورز اور غاروں کے اسپیلیوتھیمز میں آکسیجن آئسوٹوپ کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1900 قبل مسیح کے قریب شدید خشک سالی (4.2-kiloyear event) نے جنم لیا، جس سے دریائے سرسوتی (گھاگر-ہاکڑا) سمیت پانی کے بنیادی ذرائع خشک ہو گئے۔ اسی ماحولیاتی بحران کے باعث بڑے شہروں سے آبادی نے مشرق (گنگا وادی) اور جنوب (گجرات) کی طرف ہجرت کی۔

    ہڈیوں کا ٹروما تجزیہ (Skeletal Trauma Analysis):

    موہنجو دڑو اور ہڑپہ کے قبرستانوں کی ہڈیوں پر ملنے والے نشانات کسی اجتماعی قتل عام یا جنگ کے بجائے وبائی امراض (مثلاً جذام اور تپ دق) اور شدید غذائی و ماحولیاتی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    سائنسی، جینیاتی، بشریاتی اور تکنیکی حقائق یک زبان ہو کر اس تاریخی سچائی کا اعادہ کرتے ہیں کہ مہرگڑھ سے موہنجو دڑو تک کا سفر کسی بیرونی قوم کا لایا ہوا تحفہ یا فاتحین کی ہجرتوں کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ اسی مٹی کا اپنا تخلیقی اور ثقافتی ارتقا تھا۔ بلوچستان کے کچھی میدان کے جدید پتھر کے زمانے کے کسانوں نے جس علم و دانش کی بنیاد رکھی تھی، وہی نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی کانسی کے زمانے کی وادی سندھ میں دنیا کی سب سے منظم اور پرامن شہری تہذیب بن کر ابھری۔

    یہ دھرتی اور اس کی تہذیب کسی بیرونی آقا یا فاتح کی محتاج نہیں تھی، بلکہ اپنے ہی فرزندوں اور بیٹیوں کی ہزاروں سالہ محنت، حکمت اور تخلیقی صلاحیتوں کا لازوال شاہکار ہے۔

  • بھارتی نصابی کتاب میں موہن جو دڑو کی ‘ڈانسنگ گرل’ کی پر تنازع آخر ہے کیا؟

    بھارتی نصابی کتاب میں موہن جو دڑو کی ‘ڈانسنگ گرل’ کی پر تنازع آخر ہے کیا؟

    بھارت میں نویں جماعت کے لیے شائع ہونے والی ایک نئی درسی کتاب میں وادی سندھ کے قدیم شہر موہن جو دڑو سے ملنے والے سمبارا المعروف ڈانسنگ گرل کی تصویر کی شکل تبدیل کرنے کے بعد شدید تنقید کی وجہ سے بھارٹ سرکار تبدیل شدہ تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نویں جماعت کے لیے شائع ہونے والی ایک نئی درسی کتاب میں مجسمے کی تصویر کے دھڑ کے حصے کو گہرے رنگ کے شیڈ سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ ناقدین نے اسے تاریخی ورثے کی اصل شکل کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ تعلیمی مواد میں آثارِ قدیمہ کو ان کی اصل حالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ جس کے بعد حکومت نے تبدیل شدہ تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    شدید ردعمل کے بعد بھارتی حکام نے اعلان کیا کہ ترمیم شدہ تصویر واپس لے لی جائے گی۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کے ڈائریکٹر دنیش سکلانی کے مطابق کتاب کے ڈیجیٹل ایڈیشن میں اصل تصویر بحال کر دی گئی ہے جبکہ آئندہ شائع ہونے والے طباعتی نسخوں میں بھی غیر ترمیم شدہ تصویر شامل ہوگی۔

    وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والے دنیا کے معروف ترین آثارِ قدیمہ میں شامل ‘ڈانسنگ گرل’ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ اس بار وجہ اس کا تاریخی پس منظر نہیں بلکہ بھارت کی ایک نئی نصابی کتاب میں اس کی تصویر میں کی گئی تبدیلی ہے، جس نے مورخین، ماہرینِ تعلیم اور ثقافتی ورثے کے محافظوں میں شدید تشویش پیدا کر دی۔

    ڈانسنگ گرل کون ہے؟

    ڈانسنگ گرل وادیٔ سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھنے والا ایک کانسی کا مجسمہ ہے جو تقریباً 2500 قبل مسیح کا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی صرف 10.5 سینٹی میٹر ہے، لیکن آثارِ قدیمہ کی دنیا میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔

    یہ مجسمہ ایک نوجوان لڑکی کو دکھاتا ہے جو انتہائی پراعتماد انداز میں کھڑی ہے۔ ایک ہاتھ اس کی کمر پر ہے جبکہ دوسرا نیچے کی جانب ہے۔ اس کے بازو متعدد چوڑیوں سے سجے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مجسمے کا انداز، جسمانی توازن اور دھات سازی کی تکنیک اس بات کا ثبوت ہیں کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب فنون اور دھات کاری میں غیرمعمولی مہارت رکھتی تھی۔

    یہ تاریخی مجسمہ 1926 میں سندھ کے تاریخی شہر موہن جو دڑو میں کھدائی کے دوران دریافت ہوا تھا۔ موہن جو دڑو وادیٔ سندھ کی تہذیب کے سب سے بڑے اور اہم شہری مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مقام موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

    برطانوی دور میں دریافت ہونے والے اس مجسمے کو تقسیمِ ہند کے بعد ہونے والی نوادرات کی تقسیم کے دوران بھارت کے حصے میں دیا گیا تھا۔ آج ڈانسنگ گرل کا اصل کانسی کا مجسمہ نئی دہلی کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہے اور اسے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے نمایاں ترین نوادرات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں موہن جو دڑو اور دیگر عجائب گھروں میں اس کی نقول اور تصاویر موجود ہیں، جبکہ اصل مجسمہ بھارت کے پاس ہے, بھارت سرکار وادی سندھ کی تہذیب پر چھوٹا دعوی کرتی آئی ہے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق ڈانسنگ گرل کی تصویر کئی دہائیوں سے بھارتی نصابی کتابوں میں شائع ہوتی رہی ہے اور ماضی میں کبھی بھی اس کی جسمانی ساخت کو ڈھانپنے یا تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے نئی کتاب میں تصویر کو ترمیم شدہ شکل میں شائع کرنے پر سوالات اٹھے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ قدیم آثارِ قدیمہ کو موجودہ سماجی یا ثقافتی معیارات کے مطابق تبدیل کرنا تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ڈانسنگ گرل کی اہمیت اس کے لباس یا جسمانی خدوخال میں نہیں بلکہ اس کے اعتماد، فنکارانہ اظہار اور اس تہذیب کی نمائندگی میں ہے جس نے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل برصغیر میں شہری زندگی کی بنیاد رکھی۔

    بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنے اداریے میں لکھا کہ ڈانسنگ گرل کی اصل اہمیت اس کی خود اعتمادی، وقار اور مضبوط موجودگی میں ہے۔ اخبار کے مطابق تعلیم کا مقصد نوجوانوں کو تاریخ اور دنیا کو اس کی حقیقی شکل میں سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے، نہ کہ تاریخی نوادرات کو تبدیل شدہ انداز میں پیش کرنا۔

    یہ تنازع ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لے آیا ہے کہ کیا قدیم تہذیبوں کے آثار کو جدید حساسیت کے مطابق ڈھالنا چاہیے یا انہیں ان کی اصل شکل میں محفوظ اور پیش کیا جانا چاہیے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ موہن جو دڑو سے دریافت ہونے والی ڈانسنگ گرل آج بھی وادیٔ سندھ کی تہذیب کی سب سے طاقتور اور پہچانی جانے والی علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔

  • صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا آغاز

    صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا آغاز

    محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و لائبریریز سندھ کی جانب سے صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے خصوصی موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا آغاز کر دیا گیا۔

    موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا افتتاح صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے کیا۔ صوبائی وزیر نے ٹرین کا معائنہ کیا اور سفر میں شریک سیاحوں سے ملاقات کی۔

    صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ خود بھی شرکا کے ہمراہ ٹرین میں روانہ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تاریخی اور ثقافتی مقامات کو عوام کے قریب لانے کے لیے ٹرین سفاری ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

    محکمہ سیاحت کے مطابق ٹرین میں 100 سے زائد سیاح اور فیملیز شامل ہیں، جبکہ مختلف ٹور آپریٹرز نے بھی اس سفری پروگرام میں شرکت کی ہے۔

    ٹرین سفاری کے پہلے روز شرکا  کو سیہون میں حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار کی زیارت کرائی جائے گی۔ بعد ازاں ٹرین سیہون سے لاڑکانہ روانہ ہوگی، جہاں قیام کے ساتھ شرکاء کے لیے خصوصی میوزیکل ایونٹ کا اہتمام کیا گیا ہے۔

    دوسرے روز ٹرین سفاری میں شریک سیاح یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل موہن جو دڑو کا دورہ کیا۔ محکمہ ثقافت کے مطابق اس سفری پروگرام کا مقصد نہ صرف سیاحت کو فروغ دینا ہے بلکہ سندھ کی قدیم تہذیب اور تاریخی ورثے سے نئی نسل کو روشناس کرانا بھی ہے۔

     

  • موہن جو دڑو میں شہر کی فصیل کی نئی دریافت، آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا بڑا انکشاف

    موہن جو دڑو میں شہر کی فصیل کی نئی دریافت، آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا بڑا انکشاف

    پاکستان کے سب سے بڑے آثارقدیمہ کے مرکز موہن جو دڑو میں جاری پاک–امریکہ مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کے دوران ایک اہم دریافت سامنے آئی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے قدیم شہر کے گرد مٹی کی اینٹوں سے بنی ایک باقاعدہ شہر پناہ (فصیل) کی نشاندہی کی ہے، جسے ماضی میں ایک اونچا پلیٹ فارم سمجھا جاتا تھا۔

    یہ تحقیق حکومتِ سندھ کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز اور سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی (SEAS)کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔ اس مشن کی نگرانی معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر جوناتھن مارک کینوائر (Jonathan Mark Kenoyer) کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی ٹیم میں علی لاشاری بھی شامل ہیں۔

    تحقیقی ٹیم کے مطابق 1950–51 میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر مورٹیمر ویلر( Sir Mortimer Wheeler) نے اس ساخت کو مٹی کی اینٹوں کا ایک بڑا پلیٹ فارم قرار دیا تھا، تاہم حالیہ کھدائی اور زمینی تہوں (اسٹریٹی گرافی) کے شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دراصل شہر کی فصیل تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فصیل ممکنہ طور پر تجارت کے نظم و ضبط، شہر میں داخلے کے کنٹرول اور انتظامی و شہری منصوبہ بندی کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔

    ماہرین کے مطابق یہ دریافت وادیٔ سندھ کی تہذیب کے شہری نظام، سماجی و معاشی کنٹرول اور منصوبہ بندی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔ یہ انکشاف اس بات کا ثبوت ہے کہ موہن جو دڑو نہ صرف ایک منظم شہر تھا بلکہ اس کی حفاظت اور انتظام کے لیے باقاعدہ ڈھانچے بھی موجود تھے۔

    موہن جو دڑو کی ابتدائی کھدائی کا باقاعدہ آغاز 1922 میں بھارتی ماہرِ آثارِ قدیمہ راکھیل داس بینرجی نے کیا، جس کے بعد جان مارشل اور دیگر ماہرین نے اس شہر کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ آج اس تاریخی مقام پر سیاحوں اور محققین کے لیے میوزیم، معلوماتی مرکز، رہنمائی کی سہولت، واک ویز، اور تحفظِ آثار کے لیے مخصوص انتظامات موجود ہیں۔ حکومتِ سندھ اور متعلقہ ادارے اس عالمی ورثے کے تحفظ اور سہولیات میں بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔

    موہن جو دڑو دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ مختلف ادوار میں یہاں کئی بین الاقوامی ماہرین نے کھدائیاں کیں، جن کے نتیجے میں نکاسیٔ آب کا شاندار نظام، پکی اینٹوں کی عمارتیں، عظیم غسل خانہ اور منظم گلیاں دریافت ہوئیں۔ یہ شہر سندھ کے تاریخی علاقے میں لاڑکانہ کے قریب واقع ہے اور پاکستان کے اہم ترین ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دریافت نہ صرف علمی دنیا کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے پاکستان کے تاریخی ورثے کی عالمی اہمیت بھی مزید اجاگر ہوگی۔ مزید تحقیق کے بعد اس فصیل کی مکمل ساخت اور اس کے استعمال کے بارے میں مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

     

  • موہن جو دڑو سے ملنے والا قدیم ساز بوڑینڈو، جس کو بجانے والے کم لوگ بچے ہیں

    موہن جو دڑو سے ملنے والا قدیم ساز بوڑینڈو، جس کو بجانے والے کم لوگ بچے ہیں

    بوڑینڈو سندھ کے قدیم سازوں میں سے ایک ساز ہے۔ بانسری، الگوزو، مرلی کی طرح بوڑینڈو پُھونک سے بجنے والے ساز ہے۔

    موہن جو دڑو کے قدیمی آثار سے کھدائی کے دوران ملنے والے اشیا میں بوڑینڈو بھی شامل ہے۔

    بنیادی طور پر یہ چرواہوں کا ساز ہے مگر اب یہ میوزک کا اہم حصہ ہے۔

    یہ موسیقی کا آلہ مٹی سے گولائی میں بنایا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ ساز کچا بجایا جاتا تھا مگر اب اسے بھٹی میں پکاتے ہیں۔

    بوڑینڈو مٹی سے بنا ساز ہے اس لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے اوائلی سازوں میں سے ایک ساز ہے۔

    اس وقت سندھ میں بوڑینڈو بجانے والے بہت ہی کم لوگ رہ گئے ہیں۔ ان میں سے ذوالفقار لونڈ اچھا بوڑینڈو نواز آرٹسٹ سمجھے جاتے ہیں۔

    ذوالفقار لنڈ کو بوڑینڈو بجانے پر پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور سندھ کا سب سے مشہور شاہ لطیف ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔