Tag: موہن جو دڑو

  • مہرگڑھ سے موہن جو دڑو: وادی سندھ کی خودمختار بائیو لتھک اور تکنیکی پرواز

    مہرگڑھ سے موہن جو دڑو: وادی سندھ کی خودمختار بائیو لتھک اور تکنیکی پرواز

    تاریخ اکثر فاتحین اور استعماری طاقتوں کی قلم سے رقم ہوتی رہی ہے، اور وادی سندھ کی قدیم تاریخ بھی طویل عرصے تک اسی سامراجی انداز فکر کا شکار رہی۔

    انیسویں اور بیسویں صدی کے نوآبادیاتی مورخین اور مستشرقین مثلاً سر مارٹیمر بھیلر اور ویری گورڈن چائلڈ نے اپنے مخصوص ‘ڈفیوژنزمن’ (Diffusionism) کے نظریے کو بڑی شدومد سے پیش کیا۔ ان کا بنیادی مدعا یہ ثابت کرنا تھا کہ برصغیر کے مقامی باشندے کسی پیچیدہ تمدن، منظم تحریر، ریاضیاتی اور انجینئرنگ کے طرز فکر کی صلاحیت سے محروم تھے اور یہاں کا شہری عروج دراصل میسوپوٹیمیا یا وسطی ایشیائی ہجرتوں کا مرہون منت تھا۔ مارٹیمر بھیلر کا یہ متنازع دعویٰ کہ ‘اندرا (ہندو مذہب کی دیوی) کو ملزم قرار دیا جاتا ہے’ دہائیوں تک ‘آریا حملے کے نظریے’ (Aryan Invasion Theory) کا فکری و نصابی محور بنا رہا۔

    تاہم، اکیسویں صدی کی جدید ترین سائنسی پیشرفت، آرکیوجینیٹکس، ملٹی ڈائیمینشنل طبیعی بشریات، بائیو آرکیالوجی اور ‘اے ایم ایس ریڈیو کاربن تاریخ نگاری’  نے نوآبادیاتی تاریخ نگاری کے اس پورے پیراڈائم کو سائنسی بنیادوں پر زمین بوس کر دیا ہے۔ جدید آثار قدیمہ کا فریم ورک اب عمل پسند علم الآثار پر مبنی ہے، جو ثقافتی اور حیاتیاتی تبدیلیوں کو بیرونی مداخلت کے بجائے مقامی ماحولیاتی تنوع، تکنیکی جدت طرازی اور آبادی کے تسلسل کے تناظر میں پرکھتا ہے۔

    نیولیتھک ‘نو سنگی دور’ یا ‘جدید پتھر کا زمانہ’ انقلاب

    مہرگڑھ کی زرعی و مویشی بانی داستان

    دریائے بولان کے کنارے موجود مہرگڑھ (7000–2600 BCE) کی دریافت نے جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک انقلاب برپا کیا۔ فرانسیسی ماہر آثار قدیمہ جین فرنسوا جریج (Jean-François Jarrige) کی قیادت میں ہونے والی کاوشوں نے ثابت کیا کہ وادی سندھ کا زرعی انقلاب مشرق وسطیٰ کے ‘ہلال زرخیز’ (Fertile Crescent) کا محتاج نہیں تھا۔

    آرکیو بائیولوجیکل فلوٹیشن ٹیسٹس اور کاربن زدہ بیجوں کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مہرگڑھ کے دور اول ہی سے مقامی کاشتکاری کی بنیادیں پختہ تھیں۔

    مقامی نباتات: چھ رخا جو (Hordeum vulgare)، کھلا جو (Hordeum vulgare var. nudum) اور دیسی گندم (Triticum monococcum/dicoccum) کی منظم زراعت شروع ہو چکی تھی۔

    حیوانی انطباق اور زیبو (Zebu):

    ابتدائی ادوار میں شکار پر منحصر آبادی نے دیکھتے ہی دیکھتے مقامی کوہان والے برصغیری سانڈ (Bos indicus) کو پالتو بنایا۔ مہرگڑھ کے دوسرے دور تک زیبو مویشیوں کی ہڈیوں کا تناسب 80 فیصد تک پہنچ گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زیبو کی افزائش اسی دھرتی پر ہوئی۔ یہی زیبو آگے چل کر وادی سندھ کی مہروں (Steatite Seals) پر ایک مقدس اور سب سے نمایاں آئیکن بن کر ابھرا۔

    مہرگڑھ سے کوٹ ڈیجی اور نوشہرو، ہجرت کا ماحولیاتی سفر

    مہرگڑھ کا لامتناہی تسلسل کسی یکایک تباہی سے نہیں بلکہ ماحولیاتی ترغیب (Environmental Driver) کے باعث نئے جغرافیائی روپ دھارتا گیا۔ 3500 قبل مسیح کے بعد خشک سالی اور بولان کے میدانی علاقے میں پانی کی قلت نے آبادی کو سندھ کے طاس کے میدانی علاقوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیا۔

    سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع کوٹ ڈیجی اور بلوچستان میں نوشہرو وہ تاریخی کڑیاں ہیں جو نیولیتھک مہرگڑھ کو وادی سندھ کے ابتدائی کانسی کے دور سے جوڑتی ہیں۔ مہرگڑھ کے آخری ادوار کی ظروف سازی میں پائے جانے والے ہندسی پیٹرنز، پیپل کے پتے کی نقاشی اور سینگوں والے مویشی بان کی علامات براہ راست کوٹ ڈیجی اور بعد ازاں وادی سندھ کے مشہور مٹی کے برتنوں پر ‘بلیک آن ریڈ وئیر’ (Black-on-Red Ware) کا حصہ بنیں۔ کوٹ ڈیجی کی ابتدائی سٹریٹیجک فصیل بندی اس بات کا ثبوت تھی کہ مقامی سطح پر شہری نظام اور انتظامی ضوابط جنم لے رہے تھے۔

    آرکیوجینیٹکس کی گواہی، راکھی گڑھی اور aDNA کے نتائج

    نوآبادیاتی مفروضوں کو سب سے بڑا اور حتمی سائنسی دھچکا اکیسویں صدی میں قدیم ڈی این اے (aDNA) کے تجزیات سے لگا۔ سال 2019 میں ہندوستان کی ریاست ہریانہ میں واقع راکھی گڑھی کے 4500 سال پرانے قبرستان (نمونہ I6113) سے حاصل کردہ قدیم ترین ڈی این اے کی سیکوینسنگ نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچائی۔ اس ضمن میں واسنتا شندے، نیراج رائے اور ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ڈیوڈ ریک (David Reich) کی اس معرکہ آرا تحقیق نے درج ذیل جینیاتی حقائق سامنے رکھے۔

    یوریشین اسٹیپ (Steppe) انیسٹری کا فقدان:

    وادی سندھ کے باسیوں کے جینوم میں وسطی ایشیائی یا اسٹیپ چوپانوں کا جینیاتی مادہ 0.0 فیصد پایا گیا۔ اسٹیپ ڈی این اے کو روایتی طور پر آریا نسل کا حیاتیاتی نشان سمجھا جاتا تھا، جس کی مکمل عدم موجودگی نے ثابت کر دیا کہ ہڑپہ کے عروج کے وقت برصغیر میں کسی یوریشین یا نژادی گروہ کی شمولیت نہیں تھی۔

    مقامی جینیاتی مرکب:

    ہڑپہ کے باشندوں کا جینیاتی تعلق برصغیر کے قدیم شکاری گروہ (AASI) اور ایک ایسے قدیم ایرانی کسان گروہ سے تھا جو زراعت کی ابتدا سے بھی ہزاروں سال پہلے (تقریباً 10,000 BCE سے قبل) ایرانی وادیوں سے الگ ہو کر برصغیر میں آباد ہو چکا تھا۔

    یہ جینیاتی پروفائل اس قاطع حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ مہرگڑھ کے نیولیتھک کسان ہی براہ راست وادی سندھ کے بائیولوجیکل اجداد تھے۔

    جسمانی بشریات اور دانتوں کا مائیکروسکوپک مطالعہ

    حیاتیاتی تسلسل کی تصدیق صرف ڈی این اے تک محدود نہیں بلکہ جسمانی بشریات (Physical Anthropology) نے بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ امریکی ماہرین بشریات برائن ہیمفل (Brian E. Hemphill) اور جون لوکاس (John R. Lukacs) نے مہرگڑھ کے قبرستانوں اور ہڑپہ کے قبرستان R-37 کے انسانوں کی دانتوں کی ساخت (Dental Morphology) کا تجزیہ کیا اور ان سائنسی شواہد کی روشنی میں ہیمفل نے نتیجہ اخذ کیا کہ مہرگڑھ سے لے کر وادی سندھ کے پختہ کانسی کے دور کے انسانوں کے درمیان ایک اٹوٹ حیاتیاتی قرابت داری (Biological Affinity) موجود ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ باہر سے کسی نئی آبادی نے آ کر یہاں کے لوگوں کو بے دخل نہیں کیا۔

    شہری منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجیکل یکسانیت

    نوآبادیاتی مورخین اکثر موہنجو دڑو اور ہڑپہ کے متناسق گرڈ سسٹم اور اینٹوں کے تناسب کو میسوپوٹیمیا کی دین قرار دینے کی کوشش کرتے تھے، لیکن تکنیکی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔

    اینٹوں کا حتمی تناسب:

    میسوپوٹیمیا میں اینٹیں چپٹی اور اوپر سے ابھری ہوئی (Plano-convex) اور بے قاعدہ سائز کی ہوتی تھیں۔ اس کے برعکس، وادی سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں تمام اینٹیں ایک محیرالعقول ریاضیاتی تناسب 4 : 2 : 1 کی پابند تھیں۔

    اعشاری پیمائش کا نظام:

    لوتھل اور موہنجو دڑو سے ملنے والے وزن کے پیمانے (Scales) ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا چھوٹا ترین یونٹ 1.704 ملی میٹر تھا، جو کانسی کے زمانے کی سب سے دقیق اور باریک ترین پیمائش تھی۔

    نکاسی آب کی انجینئرنگ:

    وادی سندھ کا زیر زمین ڈھکا ہوا نکاسی آب کا نظام اور ہر گھر میں غسل خانوں کا وجود، اس دور کی دنیا میں حفظان صحت اور شہری ماحولیاتی انجینئرنگ کا وہ شاہکار تھا جس کی مثال مصر یا میسوپوٹیمیا میں نہیں ملتی۔

    آریا حملے’ کے نظریے کا ماحولیاتی اور پیتھالوجیکل زوال

    تاریخ کی کتابوں میں برسوں پڑھایا جانے والا ‘آریا حملہ’ جدید سائنسی تحقیقی حقائق کے سامنے محض ایک مفروضہ ثابت ہوا ہے۔

    پیلیو کلائمیٹولوجی کی گواہی:

    سمندری سیڈیمنٹ کورز اور غاروں کے اسپیلیوتھیمز میں آکسیجن آئسوٹوپ کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1900 قبل مسیح کے قریب شدید خشک سالی (4.2-kiloyear event) نے جنم لیا، جس سے دریائے سرسوتی (گھاگر-ہاکڑا) سمیت پانی کے بنیادی ذرائع خشک ہو گئے۔ اسی ماحولیاتی بحران کے باعث بڑے شہروں سے آبادی نے مشرق (گنگا وادی) اور جنوب (گجرات) کی طرف ہجرت کی۔

    ہڈیوں کا ٹروما تجزیہ (Skeletal Trauma Analysis):

    موہنجو دڑو اور ہڑپہ کے قبرستانوں کی ہڈیوں پر ملنے والے نشانات کسی اجتماعی قتل عام یا جنگ کے بجائے وبائی امراض (مثلاً جذام اور تپ دق) اور شدید غذائی و ماحولیاتی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    سائنسی، جینیاتی، بشریاتی اور تکنیکی حقائق یک زبان ہو کر اس تاریخی سچائی کا اعادہ کرتے ہیں کہ مہرگڑھ سے موہنجو دڑو تک کا سفر کسی بیرونی قوم کا لایا ہوا تحفہ یا فاتحین کی ہجرتوں کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ اسی مٹی کا اپنا تخلیقی اور ثقافتی ارتقا تھا۔ بلوچستان کے کچھی میدان کے جدید پتھر کے زمانے کے کسانوں نے جس علم و دانش کی بنیاد رکھی تھی، وہی نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی کانسی کے زمانے کی وادی سندھ میں دنیا کی سب سے منظم اور پرامن شہری تہذیب بن کر ابھری۔

    یہ دھرتی اور اس کی تہذیب کسی بیرونی آقا یا فاتح کی محتاج نہیں تھی، بلکہ اپنے ہی فرزندوں اور بیٹیوں کی ہزاروں سالہ محنت، حکمت اور تخلیقی صلاحیتوں کا لازوال شاہکار ہے۔

  • بھارتی نصابی کتاب میں موہن جو دڑو کی ‘ڈانسنگ گرل’ کی پر تنازع آخر ہے کیا؟

    بھارتی نصابی کتاب میں موہن جو دڑو کی ‘ڈانسنگ گرل’ کی پر تنازع آخر ہے کیا؟

    بھارت میں نویں جماعت کے لیے شائع ہونے والی ایک نئی درسی کتاب میں وادی سندھ کے قدیم شہر موہن جو دڑو سے ملنے والے سمبارا المعروف ڈانسنگ گرل کی تصویر کی شکل تبدیل کرنے کے بعد شدید تنقید کی وجہ سے بھارٹ سرکار تبدیل شدہ تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نویں جماعت کے لیے شائع ہونے والی ایک نئی درسی کتاب میں مجسمے کی تصویر کے دھڑ کے حصے کو گہرے رنگ کے شیڈ سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ ناقدین نے اسے تاریخی ورثے کی اصل شکل کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ تعلیمی مواد میں آثارِ قدیمہ کو ان کی اصل حالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ جس کے بعد حکومت نے تبدیل شدہ تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    شدید ردعمل کے بعد بھارتی حکام نے اعلان کیا کہ ترمیم شدہ تصویر واپس لے لی جائے گی۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کے ڈائریکٹر دنیش سکلانی کے مطابق کتاب کے ڈیجیٹل ایڈیشن میں اصل تصویر بحال کر دی گئی ہے جبکہ آئندہ شائع ہونے والے طباعتی نسخوں میں بھی غیر ترمیم شدہ تصویر شامل ہوگی۔

    وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والے دنیا کے معروف ترین آثارِ قدیمہ میں شامل ‘ڈانسنگ گرل’ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ اس بار وجہ اس کا تاریخی پس منظر نہیں بلکہ بھارت کی ایک نئی نصابی کتاب میں اس کی تصویر میں کی گئی تبدیلی ہے، جس نے مورخین، ماہرینِ تعلیم اور ثقافتی ورثے کے محافظوں میں شدید تشویش پیدا کر دی۔

    ڈانسنگ گرل کون ہے؟

    ڈانسنگ گرل وادیٔ سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھنے والا ایک کانسی کا مجسمہ ہے جو تقریباً 2500 قبل مسیح کا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی صرف 10.5 سینٹی میٹر ہے، لیکن آثارِ قدیمہ کی دنیا میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔

    یہ مجسمہ ایک نوجوان لڑکی کو دکھاتا ہے جو انتہائی پراعتماد انداز میں کھڑی ہے۔ ایک ہاتھ اس کی کمر پر ہے جبکہ دوسرا نیچے کی جانب ہے۔ اس کے بازو متعدد چوڑیوں سے سجے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مجسمے کا انداز، جسمانی توازن اور دھات سازی کی تکنیک اس بات کا ثبوت ہیں کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب فنون اور دھات کاری میں غیرمعمولی مہارت رکھتی تھی۔

    یہ تاریخی مجسمہ 1926 میں سندھ کے تاریخی شہر موہن جو دڑو میں کھدائی کے دوران دریافت ہوا تھا۔ موہن جو دڑو وادیٔ سندھ کی تہذیب کے سب سے بڑے اور اہم شہری مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مقام موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

    برطانوی دور میں دریافت ہونے والے اس مجسمے کو تقسیمِ ہند کے بعد ہونے والی نوادرات کی تقسیم کے دوران بھارت کے حصے میں دیا گیا تھا۔ آج ڈانسنگ گرل کا اصل کانسی کا مجسمہ نئی دہلی کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہے اور اسے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے نمایاں ترین نوادرات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں موہن جو دڑو اور دیگر عجائب گھروں میں اس کی نقول اور تصاویر موجود ہیں، جبکہ اصل مجسمہ بھارت کے پاس ہے, بھارت سرکار وادی سندھ کی تہذیب پر چھوٹا دعوی کرتی آئی ہے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق ڈانسنگ گرل کی تصویر کئی دہائیوں سے بھارتی نصابی کتابوں میں شائع ہوتی رہی ہے اور ماضی میں کبھی بھی اس کی جسمانی ساخت کو ڈھانپنے یا تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے نئی کتاب میں تصویر کو ترمیم شدہ شکل میں شائع کرنے پر سوالات اٹھے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ قدیم آثارِ قدیمہ کو موجودہ سماجی یا ثقافتی معیارات کے مطابق تبدیل کرنا تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ڈانسنگ گرل کی اہمیت اس کے لباس یا جسمانی خدوخال میں نہیں بلکہ اس کے اعتماد، فنکارانہ اظہار اور اس تہذیب کی نمائندگی میں ہے جس نے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل برصغیر میں شہری زندگی کی بنیاد رکھی۔

    بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنے اداریے میں لکھا کہ ڈانسنگ گرل کی اصل اہمیت اس کی خود اعتمادی، وقار اور مضبوط موجودگی میں ہے۔ اخبار کے مطابق تعلیم کا مقصد نوجوانوں کو تاریخ اور دنیا کو اس کی حقیقی شکل میں سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے، نہ کہ تاریخی نوادرات کو تبدیل شدہ انداز میں پیش کرنا۔

    یہ تنازع ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لے آیا ہے کہ کیا قدیم تہذیبوں کے آثار کو جدید حساسیت کے مطابق ڈھالنا چاہیے یا انہیں ان کی اصل شکل میں محفوظ اور پیش کیا جانا چاہیے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ موہن جو دڑو سے دریافت ہونے والی ڈانسنگ گرل آج بھی وادیٔ سندھ کی تہذیب کی سب سے طاقتور اور پہچانی جانے والی علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔

  • صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا آغاز

    صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا آغاز

    محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و لائبریریز سندھ کی جانب سے صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے خصوصی موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا آغاز کر دیا گیا۔

    موہن جو دڑو ٹرین سفاری کا افتتاح صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے کیا۔ صوبائی وزیر نے ٹرین کا معائنہ کیا اور سفر میں شریک سیاحوں سے ملاقات کی۔

    صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ خود بھی شرکا کے ہمراہ ٹرین میں روانہ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تاریخی اور ثقافتی مقامات کو عوام کے قریب لانے کے لیے ٹرین سفاری ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

    محکمہ سیاحت کے مطابق ٹرین میں 100 سے زائد سیاح اور فیملیز شامل ہیں، جبکہ مختلف ٹور آپریٹرز نے بھی اس سفری پروگرام میں شرکت کی ہے۔

    ٹرین سفاری کے پہلے روز شرکا  کو سیہون میں حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار کی زیارت کرائی جائے گی۔ بعد ازاں ٹرین سیہون سے لاڑکانہ روانہ ہوگی، جہاں قیام کے ساتھ شرکاء کے لیے خصوصی میوزیکل ایونٹ کا اہتمام کیا گیا ہے۔

    دوسرے روز ٹرین سفاری میں شریک سیاح یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل موہن جو دڑو کا دورہ کیا۔ محکمہ ثقافت کے مطابق اس سفری پروگرام کا مقصد نہ صرف سیاحت کو فروغ دینا ہے بلکہ سندھ کی قدیم تہذیب اور تاریخی ورثے سے نئی نسل کو روشناس کرانا بھی ہے۔

     

  • موہن جو دڑو میں شہر کی فصیل کی نئی دریافت، آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا بڑا انکشاف

    موہن جو دڑو میں شہر کی فصیل کی نئی دریافت، آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا بڑا انکشاف

    پاکستان کے سب سے بڑے آثارقدیمہ کے مرکز موہن جو دڑو میں جاری پاک–امریکہ مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کے دوران ایک اہم دریافت سامنے آئی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے قدیم شہر کے گرد مٹی کی اینٹوں سے بنی ایک باقاعدہ شہر پناہ (فصیل) کی نشاندہی کی ہے، جسے ماضی میں ایک اونچا پلیٹ فارم سمجھا جاتا تھا۔

    یہ تحقیق حکومتِ سندھ کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز اور سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی (SEAS)کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔ اس مشن کی نگرانی معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر جوناتھن مارک کینوائر (Jonathan Mark Kenoyer) کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی ٹیم میں علی لاشاری بھی شامل ہیں۔

    تحقیقی ٹیم کے مطابق 1950–51 میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر مورٹیمر ویلر( Sir Mortimer Wheeler) نے اس ساخت کو مٹی کی اینٹوں کا ایک بڑا پلیٹ فارم قرار دیا تھا، تاہم حالیہ کھدائی اور زمینی تہوں (اسٹریٹی گرافی) کے شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دراصل شہر کی فصیل تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فصیل ممکنہ طور پر تجارت کے نظم و ضبط، شہر میں داخلے کے کنٹرول اور انتظامی و شہری منصوبہ بندی کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔

    ماہرین کے مطابق یہ دریافت وادیٔ سندھ کی تہذیب کے شہری نظام، سماجی و معاشی کنٹرول اور منصوبہ بندی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔ یہ انکشاف اس بات کا ثبوت ہے کہ موہن جو دڑو نہ صرف ایک منظم شہر تھا بلکہ اس کی حفاظت اور انتظام کے لیے باقاعدہ ڈھانچے بھی موجود تھے۔

    موہن جو دڑو کی ابتدائی کھدائی کا باقاعدہ آغاز 1922 میں بھارتی ماہرِ آثارِ قدیمہ راکھیل داس بینرجی نے کیا، جس کے بعد جان مارشل اور دیگر ماہرین نے اس شہر کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ آج اس تاریخی مقام پر سیاحوں اور محققین کے لیے میوزیم، معلوماتی مرکز، رہنمائی کی سہولت، واک ویز، اور تحفظِ آثار کے لیے مخصوص انتظامات موجود ہیں۔ حکومتِ سندھ اور متعلقہ ادارے اس عالمی ورثے کے تحفظ اور سہولیات میں بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔

    موہن جو دڑو دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ مختلف ادوار میں یہاں کئی بین الاقوامی ماہرین نے کھدائیاں کیں، جن کے نتیجے میں نکاسیٔ آب کا شاندار نظام، پکی اینٹوں کی عمارتیں، عظیم غسل خانہ اور منظم گلیاں دریافت ہوئیں۔ یہ شہر سندھ کے تاریخی علاقے میں لاڑکانہ کے قریب واقع ہے اور پاکستان کے اہم ترین ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دریافت نہ صرف علمی دنیا کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے پاکستان کے تاریخی ورثے کی عالمی اہمیت بھی مزید اجاگر ہوگی۔ مزید تحقیق کے بعد اس فصیل کی مکمل ساخت اور اس کے استعمال کے بارے میں مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

     

  • موہن جو دڑو سے ملنے والا قدیم ساز بوڑینڈو، جس کو بجانے والے کم لوگ بچے ہیں

    موہن جو دڑو سے ملنے والا قدیم ساز بوڑینڈو، جس کو بجانے والے کم لوگ بچے ہیں

    بوڑینڈو سندھ کے قدیم سازوں میں سے ایک ساز ہے۔ بانسری، الگوزو، مرلی کی طرح بوڑینڈو پُھونک سے بجنے والے ساز ہے۔

    موہن جو دڑو کے قدیمی آثار سے کھدائی کے دوران ملنے والے اشیا میں بوڑینڈو بھی شامل ہے۔

    بنیادی طور پر یہ چرواہوں کا ساز ہے مگر اب یہ میوزک کا اہم حصہ ہے۔

    یہ موسیقی کا آلہ مٹی سے گولائی میں بنایا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ ساز کچا بجایا جاتا تھا مگر اب اسے بھٹی میں پکاتے ہیں۔

    بوڑینڈو مٹی سے بنا ساز ہے اس لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے اوائلی سازوں میں سے ایک ساز ہے۔

    اس وقت سندھ میں بوڑینڈو بجانے والے بہت ہی کم لوگ رہ گئے ہیں۔ ان میں سے ذوالفقار لونڈ اچھا بوڑینڈو نواز آرٹسٹ سمجھے جاتے ہیں۔

    ذوالفقار لنڈ کو بوڑینڈو بجانے پر پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور سندھ کا سب سے مشہور شاہ لطیف ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔