بھارتی نصابی کتاب میں موہن جو دڑو کی ‘ڈانسنگ گرل’ کی پر تنازع آخر ہے کیا؟

موہن جو دڑو

بھارت میں نویں جماعت کے لیے شائع ہونے والی ایک نئی درسی کتاب میں وادی سندھ کے قدیم شہر موہن جو دڑو سے ملنے والے سمبارا المعروف ڈانسنگ گرل کی تصویر کی شکل تبدیل کرنے کے بعد شدید تنقید کی وجہ سے بھارٹ سرکار تبدیل شدہ تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

نویں جماعت کے لیے شائع ہونے والی ایک نئی درسی کتاب میں مجسمے کی تصویر کے دھڑ کے حصے کو گہرے رنگ کے شیڈ سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ ناقدین نے اسے تاریخی ورثے کی اصل شکل کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ تعلیمی مواد میں آثارِ قدیمہ کو ان کی اصل حالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ جس کے بعد حکومت نے تبدیل شدہ تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

شدید ردعمل کے بعد بھارتی حکام نے اعلان کیا کہ ترمیم شدہ تصویر واپس لے لی جائے گی۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کے ڈائریکٹر دنیش سکلانی کے مطابق کتاب کے ڈیجیٹل ایڈیشن میں اصل تصویر بحال کر دی گئی ہے جبکہ آئندہ شائع ہونے والے طباعتی نسخوں میں بھی غیر ترمیم شدہ تصویر شامل ہوگی۔

وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والے دنیا کے معروف ترین آثارِ قدیمہ میں شامل ‘ڈانسنگ گرل’ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ اس بار وجہ اس کا تاریخی پس منظر نہیں بلکہ بھارت کی ایک نئی نصابی کتاب میں اس کی تصویر میں کی گئی تبدیلی ہے، جس نے مورخین، ماہرینِ تعلیم اور ثقافتی ورثے کے محافظوں میں شدید تشویش پیدا کر دی۔

ڈانسنگ گرل کون ہے؟

ڈانسنگ گرل وادیٔ سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھنے والا ایک کانسی کا مجسمہ ہے جو تقریباً 2500 قبل مسیح کا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی صرف 10.5 سینٹی میٹر ہے، لیکن آثارِ قدیمہ کی دنیا میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔

یہ مجسمہ ایک نوجوان لڑکی کو دکھاتا ہے جو انتہائی پراعتماد انداز میں کھڑی ہے۔ ایک ہاتھ اس کی کمر پر ہے جبکہ دوسرا نیچے کی جانب ہے۔ اس کے بازو متعدد چوڑیوں سے سجے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مجسمے کا انداز، جسمانی توازن اور دھات سازی کی تکنیک اس بات کا ثبوت ہیں کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب فنون اور دھات کاری میں غیرمعمولی مہارت رکھتی تھی۔

یہ تاریخی مجسمہ 1926 میں سندھ کے تاریخی شہر موہن جو دڑو میں کھدائی کے دوران دریافت ہوا تھا۔ موہن جو دڑو وادیٔ سندھ کی تہذیب کے سب سے بڑے اور اہم شہری مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مقام موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

برطانوی دور میں دریافت ہونے والے اس مجسمے کو تقسیمِ ہند کے بعد ہونے والی نوادرات کی تقسیم کے دوران بھارت کے حصے میں دیا گیا تھا۔ آج ڈانسنگ گرل کا اصل کانسی کا مجسمہ نئی دہلی کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہے اور اسے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے نمایاں ترین نوادرات میں شمار کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں موہن جو دڑو اور دیگر عجائب گھروں میں اس کی نقول اور تصاویر موجود ہیں، جبکہ اصل مجسمہ بھارت کے پاس ہے, بھارت سرکار وادی سندھ کی تہذیب پر چھوٹا دعوی کرتی آئی ہے۔

تاریخ دانوں کے مطابق ڈانسنگ گرل کی تصویر کئی دہائیوں سے بھارتی نصابی کتابوں میں شائع ہوتی رہی ہے اور ماضی میں کبھی بھی اس کی جسمانی ساخت کو ڈھانپنے یا تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے نئی کتاب میں تصویر کو ترمیم شدہ شکل میں شائع کرنے پر سوالات اٹھے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ قدیم آثارِ قدیمہ کو موجودہ سماجی یا ثقافتی معیارات کے مطابق تبدیل کرنا تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ڈانسنگ گرل کی اہمیت اس کے لباس یا جسمانی خدوخال میں نہیں بلکہ اس کے اعتماد، فنکارانہ اظہار اور اس تہذیب کی نمائندگی میں ہے جس نے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل برصغیر میں شہری زندگی کی بنیاد رکھی۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنے اداریے میں لکھا کہ ڈانسنگ گرل کی اصل اہمیت اس کی خود اعتمادی، وقار اور مضبوط موجودگی میں ہے۔ اخبار کے مطابق تعلیم کا مقصد نوجوانوں کو تاریخ اور دنیا کو اس کی حقیقی شکل میں سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے، نہ کہ تاریخی نوادرات کو تبدیل شدہ انداز میں پیش کرنا۔

یہ تنازع ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لے آیا ہے کہ کیا قدیم تہذیبوں کے آثار کو جدید حساسیت کے مطابق ڈھالنا چاہیے یا انہیں ان کی اصل شکل میں محفوظ اور پیش کیا جانا چاہیے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ موہن جو دڑو سے دریافت ہونے والی ڈانسنگ گرل آج بھی وادیٔ سندھ کی تہذیب کی سب سے طاقتور اور پہچانی جانے والی علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔

اسی بارے میں: