بھارت کے شہر حیدرآباد (دکن) میں حال ہی میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پولیس نے قبرستان میں چھپائے گئے سینکڑوں گیس سلنڈرز برآمد کر لیے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب ملک میں ایل پی جی یعنی کھانا پکانے والی گیس کی شدید قلت چل رہی ہے۔ اس خبر نے نہ صرف بھارت بلکہ پورے جنوبی ایشیا خطے میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ مسئلہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔
‘صرف کل ہی تقریباً 2,600 چھاپے مارے گئے اور قریب 700 گیس سلنڈرز ضبط کیے گئے’ وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی سینئر افسر سجاتا شرما نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے متعلق ایک باقاعدہ بریفنگ میں بتایا۔
انہوں نے کہا پولیس نے ایک کارروائی کے دوران حیدرآباد کے ایک قبرستان سے 414 گیس سلنڈرز برآمد کیے۔ یہ سلنڈرز زمین میں یا قبروں کے درمیان چھپا کر رکھے گئے تھے تاکہ حکام کی نظروں سے بچایا جا سکے۔
پولیس نے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث 10 افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے، جبکہ اس میں شامل ایک ڈسٹری بیوٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلنڈرز بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جو کمرشل گیس سلنڈرزعام طور پر تقریباً 2100 بھارتی روپے میں ملتا ہے، اسے غیر قانونی طور پر 6000 روپے تک فروخت کیا جا رہا تھا۔ اس طرح ملزمان عوام کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر تین گنا زیادہ قیمت وصول کر رہے تھے۔
یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بھارت میں گیس کی قلت بڑھنے لگی۔ اس قلت کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر سپلائی چین میں خلل پڑا ہے۔ بھارت چونکہ اپنی تقریباً 60 فیصد ایل پی جی ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لیے اس بحران کا اثر وہاں زیادہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔
اس بحران کے پیش نظر حکومت متبادل ایندھن کے استعمال کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ لوگوں کو مٹی کا تیل، کوئلہ اور بایو گیس استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ گیس پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھروں تک پائپ کے ذریعے گیس کی فراہمی کے منصوبوں کو بھی تیز کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق ضبط کیے گئے سلنڈرز اور اس کارروائی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 22 لاکھ بھارتی روپے کے قریب ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ اس طرح کے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب کسی ملک میں ضروری اشیاء کی قلت پیدا ہوتی ہے تو بعض لوگ ناجائز منافع کمانے کے لیے غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔ قبرستان جیسے مقام کو استعمال کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملزمان نے قانون سے بچنے کے لیے انتہائی غیر معمولی طریقہ اختیار کیا۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر توانائی کا بحران جاری رہا تو ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں درآمدات پر زیادہ انحصار ہوتا ہے، وہاں سپلائی میں معمولی خلل بھی بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت میں سامنے آنے والا یہ واقعہ نہ صرف ایک مجرمانہ سرگرمی ہے بلکہ یہ عالمی توانائی بحران کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کریں بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی فوری توجہ دیں تاکہ عوام کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔








