Tag: بھارت

  • پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے چینی اور بھارتی ہیکروں کے نشانے پر، نئی رپورٹ میں انکشاف

    پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے چینی اور بھارتی ہیکروں کے نشانے پر، نئی رپورٹ میں انکشاف

    سائبر سکیورٹی کمپنی سینٹینل ون SentinelOne)) کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین اور بھارت سے منسلک ہیکنگ گروہوں نے گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان کے متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان حملوں کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور حساس سرکاری معلومات تک رسائی حاصل کرنا تھا۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ سائبر حملے فروری 2024 سے اپریل 2026 کے درمیان مختلف مراحل میں کیے گئے۔ ان کا ہدف بلوچستان پولیس، خیبر پختونخوا پولیس، اسلام آباد پولیس اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی سمیت کئی اہم ادارے تھے۔

    ان اداروں کے پاس دہشت گردی، جرائم، سرحدی سلامتی اور حساس انٹیلی جنس سے متعلق اہم معلومات موجود ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں سائبر جاسوسی کے لیے اہم ہدف سمجھا جاتا ہے۔

    سینٹینل ون کے محققین کا کہنا ہے کہ مختلف ہیکنگ گروہوں نے الگ الگ طریقوں سے پاکستانی اداروں کے کمپیوٹر نظام میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعض حملوں میں نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بعض میں اداروں کے اندر استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور شکایات کے انتظام کے نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے ایسے کمزور مقامات تلاش کیے جہاں سے وہ خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ان معلومات میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں، افغانستان سے متعلق سلامتی کی صورتحال، اور پاکستان میں کام کرنے والے چینی منصوبوں اور شہریوں کی حفاظت سے متعلق ریکارڈ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ چین سے منسلک گروہوں کی دلچسپی ممکنہ طور پر پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں اور منصوبوں کی سلامتی سے جڑی ہو سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں چینی شہریوں پر کئی حملے ہو چکے ہیں، اس لیے بیجنگ ان معاملات پر گہری نظر رکھتا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت سے منسلک ہیکنگ سرگرمیوں کا تعلق دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے معاملات سے ہو سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہا گیا کہ ان حملوں کا براہ راست حکم کسی حکومت نے دیا تھا۔

    روئٹرز کے مطابق پاکستان کے بعض اداروں نے ان حملوں کی اہمیت کو کم قرار دیا، جبکہ کچھ اداروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران سائبر سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم ادارے نے کہا کہ اس نے اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائبر حملوں میں بعض اوقات شکایات کے اندراج کے نظام اور دیگر سرکاری ایپلی کیشنز کو استعمال کرتے ہوئے اندرونی نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح کے حملے دنیا بھر میں سرکاری اداروں کے خلاف سائبر جاسوسی کے لیے عام ہوتے جا رہے ہیں۔

    چین کے سفارت خانے نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چین ہر قسم کی سائبر ہیکنگ اور آن لائن حملوں کی مخالفت کرتا ہے اور ایسے الزامات بے بنیاد ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے سفارت خانے نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ کمپیوٹر نیٹ ورک، سرکاری ڈیٹا بیس اور مواصلاتی نظام بھی قومی سلامتی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر کے ممالک اپنی سائبر دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ اس رپورٹ میں حساس معلومات کے چوری ہونے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن ایسے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سرکاری اداروں کو اپنے سائبر تحفظ کے نظام کو مسلسل بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس موجود معلومات نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ بین الاقوامی تعاون کے لیے بھی انتہائی اہم ہوتی ہیں۔

    رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سائبر جاسوسی کی سرگرمیاں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو اپنے حساس سرکاری نظام، ڈیٹا اور نیٹ ورک کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

  • بھارت نے واٹس ایپ کو یوزر نیم   کا نیا فیچر متعارف کرانے سے کیوں روک دیا؟

    بھارت نے واٹس ایپ کو یوزر نیم   کا نیا فیچر متعارف کرانے سے کیوں روک دیا؟

     بھارت کی حکومت نے واٹس ایپ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مجوزہ ’صارف نام‘ (یوزر نیم) فیچر کا اجرا فوری طور پر روک دے۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس فیچر پر متعلقہ اداروں سے مشاورت مکمل ہونے تک اسے متعارف نہ کرایا جائے۔ یہ بات حکومتی خط کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا کو یکم جولائی کو ایک خط بھیجا، جس میں کمپنی سے تین روز کے اندر اس نئے فیچر کی مکمل وضاحت طلب کی گئی۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ مشاورت مکمل ہونے تک اس فیچر کی آزمائش یا مرحلہ وار اجرا روک دیا جائے۔

    واٹس ایپ نے بہت سے ممالک میں ایک ایسا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے تحت صارفین اپنے موبائل نمبر کی بجائے ایک منفرد صارف نام بنا سکیں گے۔ اس کے بعد دوسرے صارفین انہیں فون نمبر دیکھے بغیر بھی تلاش کر سکیں گے اور رابطہ کر سکیں گے۔ اس وقت یہ فیچر مکمل طور پر متعارف نہیں کرایا گیا، تاہم اس کی محدود پیمانے پر آزمائش جاری ہے۔

    بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے صارفین کی شناخت چھپانا آسان ہو سکتا ہے، جس سے جعل سازی، نقالی، آن لائن دھوکا دہی اور فریب پر مبنی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کے مطابق اگر کسی شخص کا فون نمبر ظاہر نہ ہو تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشتبہ افراد کی شناخت اور تحقیقات مزید مشکل ہو سکتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بھارت کی وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے واٹس ایپ سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کمپنی اس فیچر کے ذریعے ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے کون سے حفاظتی اقدامات کر رہی ہے اور صارفین کو دھوکا دہی سے بچانے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ہیں۔

    واٹس ایپ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صارف ناموں کا فیچر ابھی مکمل طور پر متعارف نہیں کرایا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس میں کئی حفاظتی انتظامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔ واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ صارف نام رکھنے کے باوجود اکاؤنٹ بنانے کے لیے موبائل نمبر کی ضرورت برقرار رہے گی اور اجنبی افراد کی طرف سے غیر ضروری پیغامات بھیجنے پر بھی مختلف پابندیاں موجود ہوں گی۔

    بھارت واٹس ایپ کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے، جہاں اس کے 50 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں۔ اسی وجہ سے وہاں متعارف کرائے جانے والے کسی بھی نئے فیچر کے اثرات بہت وسیع ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کئی پیغام رسانی کی ایپس پہلے ہی صارف ناموں کی سہولت فراہم کرتی ہیں، تاہم بھارتی حکومت کو خدشہ ہے کہ اس سے آن لائن فراڈ کرنے والے افراد کے لیے جعلی شناخت اختیار کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

    ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیموں نے حکومت کے فیصلے پر تنقید بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس کسی نئی ٹیکنالوجی یا فیچر کو پیشگی منظوری سے مشروط کرنے کا واضح قانونی اختیار موجود نہیں، اس لیے اس طرح کے اقدامات سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مصنوعات کی تیاری اور جدت متاثر ہو سکتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام بھارت کی جانب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بڑھتی ہوئی نگرانی کا حصہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارتی حکومت مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے صارفین کی شناخت، مواد کی نگرانی اور آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد وضاحتیں طلب کرتی رہی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت اور واٹس ایپ کے درمیان مشاورت کے بعد اطمینان بخش حل سامنے آتا ہے تو مستقبل میں اس فیچر کے اجرا کے بارے میں دوبارہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال بھارتی صارفین کو اس سہولت کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا۔

  • بھارتی نصابی کتاب میں موہن جو دڑو کی ‘ڈانسنگ گرل’ کی پر تنازع آخر ہے کیا؟

    بھارتی نصابی کتاب میں موہن جو دڑو کی ‘ڈانسنگ گرل’ کی پر تنازع آخر ہے کیا؟

    بھارت میں نویں جماعت کے لیے شائع ہونے والی ایک نئی درسی کتاب میں وادی سندھ کے قدیم شہر موہن جو دڑو سے ملنے والے سمبارا المعروف ڈانسنگ گرل کی تصویر کی شکل تبدیل کرنے کے بعد شدید تنقید کی وجہ سے بھارٹ سرکار تبدیل شدہ تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نویں جماعت کے لیے شائع ہونے والی ایک نئی درسی کتاب میں مجسمے کی تصویر کے دھڑ کے حصے کو گہرے رنگ کے شیڈ سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ ناقدین نے اسے تاریخی ورثے کی اصل شکل کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ تعلیمی مواد میں آثارِ قدیمہ کو ان کی اصل حالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ جس کے بعد حکومت نے تبدیل شدہ تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    شدید ردعمل کے بعد بھارتی حکام نے اعلان کیا کہ ترمیم شدہ تصویر واپس لے لی جائے گی۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کے ڈائریکٹر دنیش سکلانی کے مطابق کتاب کے ڈیجیٹل ایڈیشن میں اصل تصویر بحال کر دی گئی ہے جبکہ آئندہ شائع ہونے والے طباعتی نسخوں میں بھی غیر ترمیم شدہ تصویر شامل ہوگی۔

    وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والے دنیا کے معروف ترین آثارِ قدیمہ میں شامل ‘ڈانسنگ گرل’ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ اس بار وجہ اس کا تاریخی پس منظر نہیں بلکہ بھارت کی ایک نئی نصابی کتاب میں اس کی تصویر میں کی گئی تبدیلی ہے، جس نے مورخین، ماہرینِ تعلیم اور ثقافتی ورثے کے محافظوں میں شدید تشویش پیدا کر دی۔

    ڈانسنگ گرل کون ہے؟

    ڈانسنگ گرل وادیٔ سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھنے والا ایک کانسی کا مجسمہ ہے جو تقریباً 2500 قبل مسیح کا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی صرف 10.5 سینٹی میٹر ہے، لیکن آثارِ قدیمہ کی دنیا میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔

    یہ مجسمہ ایک نوجوان لڑکی کو دکھاتا ہے جو انتہائی پراعتماد انداز میں کھڑی ہے۔ ایک ہاتھ اس کی کمر پر ہے جبکہ دوسرا نیچے کی جانب ہے۔ اس کے بازو متعدد چوڑیوں سے سجے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مجسمے کا انداز، جسمانی توازن اور دھات سازی کی تکنیک اس بات کا ثبوت ہیں کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب فنون اور دھات کاری میں غیرمعمولی مہارت رکھتی تھی۔

    یہ تاریخی مجسمہ 1926 میں سندھ کے تاریخی شہر موہن جو دڑو میں کھدائی کے دوران دریافت ہوا تھا۔ موہن جو دڑو وادیٔ سندھ کی تہذیب کے سب سے بڑے اور اہم شہری مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مقام موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

    برطانوی دور میں دریافت ہونے والے اس مجسمے کو تقسیمِ ہند کے بعد ہونے والی نوادرات کی تقسیم کے دوران بھارت کے حصے میں دیا گیا تھا۔ آج ڈانسنگ گرل کا اصل کانسی کا مجسمہ نئی دہلی کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہے اور اسے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے نمایاں ترین نوادرات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں موہن جو دڑو اور دیگر عجائب گھروں میں اس کی نقول اور تصاویر موجود ہیں، جبکہ اصل مجسمہ بھارت کے پاس ہے, بھارت سرکار وادی سندھ کی تہذیب پر چھوٹا دعوی کرتی آئی ہے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق ڈانسنگ گرل کی تصویر کئی دہائیوں سے بھارتی نصابی کتابوں میں شائع ہوتی رہی ہے اور ماضی میں کبھی بھی اس کی جسمانی ساخت کو ڈھانپنے یا تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے نئی کتاب میں تصویر کو ترمیم شدہ شکل میں شائع کرنے پر سوالات اٹھے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ قدیم آثارِ قدیمہ کو موجودہ سماجی یا ثقافتی معیارات کے مطابق تبدیل کرنا تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ڈانسنگ گرل کی اہمیت اس کے لباس یا جسمانی خدوخال میں نہیں بلکہ اس کے اعتماد، فنکارانہ اظہار اور اس تہذیب کی نمائندگی میں ہے جس نے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل برصغیر میں شہری زندگی کی بنیاد رکھی۔

    بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنے اداریے میں لکھا کہ ڈانسنگ گرل کی اصل اہمیت اس کی خود اعتمادی، وقار اور مضبوط موجودگی میں ہے۔ اخبار کے مطابق تعلیم کا مقصد نوجوانوں کو تاریخ اور دنیا کو اس کی حقیقی شکل میں سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے، نہ کہ تاریخی نوادرات کو تبدیل شدہ انداز میں پیش کرنا۔

    یہ تنازع ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لے آیا ہے کہ کیا قدیم تہذیبوں کے آثار کو جدید حساسیت کے مطابق ڈھالنا چاہیے یا انہیں ان کی اصل شکل میں محفوظ اور پیش کیا جانا چاہیے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ موہن جو دڑو سے دریافت ہونے والی ڈانسنگ گرل آج بھی وادیٔ سندھ کی تہذیب کی سب سے طاقتور اور پہچانی جانے والی علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔

  • بھارت میں قبرستان سے گیس سلنڈرزملنے کا انکشاف: قلت کے دوران بلیک مارکیٹ کا بڑا اسکینڈل بے نقاب

    بھارت میں قبرستان سے گیس سلنڈرزملنے کا انکشاف: قلت کے دوران بلیک مارکیٹ کا بڑا اسکینڈل بے نقاب

    بھارت کے شہر حیدرآباد (دکن) میں حال ہی میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پولیس نے قبرستان میں چھپائے گئے سینکڑوں گیس سلنڈرز برآمد کر لیے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب ملک میں ایل پی جی یعنی کھانا پکانے والی گیس کی شدید قلت چل رہی ہے۔ اس خبر نے نہ صرف بھارت بلکہ پورے جنوبی ایشیا خطے میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ مسئلہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔

    ‘صرف کل ہی تقریباً 2,600 چھاپے مارے گئے اور قریب 700 گیس سلنڈرز ضبط کیے گئے’ وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی سینئر افسر سجاتا شرما نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے متعلق ایک باقاعدہ بریفنگ میں بتایا۔

    انہوں نے کہا پولیس نے ایک کارروائی کے دوران حیدرآباد کے ایک قبرستان سے 414 گیس سلنڈرز برآمد کیے۔ یہ سلنڈرز زمین میں یا قبروں کے درمیان چھپا کر رکھے گئے تھے تاکہ حکام کی نظروں سے بچایا جا سکے۔

     پولیس نے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث 10 افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے، جبکہ اس میں شامل ایک ڈسٹری بیوٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلنڈرز بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جو کمرشل گیس سلنڈرزعام طور پر تقریباً 2100 بھارتی روپے میں ملتا ہے، اسے غیر قانونی طور پر 6000 روپے تک فروخت کیا جا رہا تھا۔ اس طرح ملزمان عوام کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر تین گنا زیادہ قیمت وصول کر رہے تھے۔

    یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بھارت میں گیس کی قلت بڑھنے لگی۔ اس قلت کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر سپلائی چین میں خلل پڑا ہے۔ بھارت چونکہ اپنی تقریباً 60 فیصد ایل پی جی ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لیے اس بحران کا اثر وہاں زیادہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔

    اس بحران کے پیش نظر حکومت متبادل ایندھن کے استعمال کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ لوگوں کو مٹی کا تیل، کوئلہ اور بایو گیس استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ گیس پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ گھروں تک پائپ کے ذریعے گیس کی فراہمی کے منصوبوں کو بھی تیز کیا جا رہا ہے۔

    پولیس کے مطابق ضبط کیے گئے سلنڈرز اور اس کارروائی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 22 لاکھ بھارتی روپے کے قریب ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ اس طرح کے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

    یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب کسی ملک میں ضروری اشیاء کی قلت پیدا ہوتی ہے تو بعض لوگ ناجائز منافع کمانے کے لیے غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔ قبرستان جیسے مقام کو استعمال کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملزمان نے قانون سے بچنے کے لیے انتہائی غیر معمولی طریقہ اختیار کیا۔

    ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر توانائی کا بحران جاری رہا تو ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں درآمدات پر زیادہ انحصار ہوتا ہے، وہاں سپلائی میں معمولی خلل بھی بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت میں سامنے آنے والا یہ واقعہ نہ صرف ایک مجرمانہ سرگرمی ہے بلکہ یہ عالمی توانائی بحران کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کریں بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی فوری توجہ دیں تاکہ عوام کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔

  • پرانا نام اور نیا تنازعہ: نئی ‘بابری مسجد’ کی تعمیر پر پابندی کی درخواست بھارتی سپریم کورٹ نے مسترد کردی

    پرانا نام اور نیا تنازعہ: نئی ‘بابری مسجد’ کی تعمیر پر پابندی کی درخواست بھارتی سپریم کورٹ نے مسترد کردی

    بھارت میں بابری مسجد کی تعمیر نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ مگر یہ وہ بابری مسجد نہیں جسے ایودھیہ میں منہدم کردیا گیا تھا۔

    مغربی بنگال کے علاقے مرشد آباد میں ترینمول کانگریس سے تعلق رکھنے والے ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے نئی ‘بابری مسجد’ کی تعمیر کا اعلان کیا تو انہیں ہندو انتہا پسند تنظیموں کے علاوہ اپنی جماعت میں بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق چھ دسمبر 2025 کو مسجد کی تعمیر کے لیے باقاعدہ سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اور زیر تعمیر مسجد میں نماز کی ادائیگی بھی شروع کردی گئی۔

    ہمایوں کبیر، جنہوں نے بعد میں اپنی جماعت ‘جنتا اُنیان پارٹی’ قائم کی، کو مرشد آباد میں "بابری مسجد” تعمیر کرنے کے اعلان پر ترینمول کانگریس نے معطل کر دیا تھا۔

    معطل ایم ایل اے ہمایوں کبیر کی جانب سے جاری کردہ منصوبے کے مطابق اس مسجد کا ڈیزائن منہدم کی گئی بابری مسجد جیسا ہی ہوگا۔ نئی بابری مسجد 11 ایکڑ رقبے پر محیط ہوگی اور اس کی تعمیر میں 50 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت آئے گی۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس مسجد کی تعمیر کے اعلان پر ایک طرف ہمایوں کبیر کو شدید مخالفت کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب مقامی آبادی میں کافی جوش و خروش دیکھنے میں آرہا ہے۔

    20 فروری 2026 کو بھی ہزاروں افراد نے زیر تعمیر مسجد کی جگہ پر جمعہ کی نماز ادا کی۔ اسی روز بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری یا بابر کے نام پر کسی بھی مسجد کی تعمیر کے خلاف درخواست مسترد کردی۔

    درخواست میں مغل بادشاہ بابر یا بابری مسجد کے نام پر کسی بھی مسجد یا مذہبی مقام کی تعمیر، قیام یا نام رکھنے پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

    درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ عدالت مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دے کہ بابر، بابری مسجد یا اسی نوعیت کی تاریخی شخصیات کے نام پر مساجد یا مذہبی مقامات کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے۔ اس حوالے سے انتظامی احکامات جاری کیے جائیں۔ درخواست میں مغربی بنگال میں حال ہی میں بابری مسجد کی تعمیر سے متعلق اعلانات کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔

    عدالتِ عظمیٰ نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

    بابری مسجد کا تنازعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیہ میں قدیم بابری مسجد کو منہدم کردیا گیا تھا۔

     

  • بھارت کے کروڑ پتی بھکاری کی کہانی

    بھارت کے کروڑ پتی بھکاری کی کہانی

    کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک کروڑ پتی بھکاری بھی ہے جو سات کروڑ روپے سے زیادہ کا مالک ہے، جس کی مہنگی جائیدادیں ہیں اور جس نے دکانیں بھی کرائے پر دے رکھی ہیں؟

    صرف یہی نہیں، اس بھکاری نے 18 ہزار بھکاریوں کی فورس بنائی ہے۔ اس نے بھکاریوں کا ایک پورا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے اور پیشہ ورانہ انداز میں ایک پوری کمپنی چلاتا ہے۔

    یہ بھرت جین ہے اور اس کا تعلق بھارتی شہر ممبئی سے ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھرت جین نے بھیک مانگنے کا باقاعدہ کاروباری ماڈل ترتیب دیا ہے۔

    آپ اکثر راہ چلتے ہوئے بھیک مانگنے والوں کی مدد کرتے ہوں گے، مگر بھرت جین ان سے مختلف ہے۔ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر معصوم چہرہ بنا کر لوگوں سے بھیک مانگنے والا یہ شخص 18 ہزار بھکاریوں کا نیٹ ورک چلاتا ہے۔ انہیں رہنے کی جگہ، کھانا پینا اور دیگر ضروریات فراہم کرتا ہے اور ان کی کمائی سے حصہ وصول کرتا ہے۔

    بھرت جین ایک تعلیم یافتہ شخص بتایا جاتا ہے، جو بھکاری انڈسٹری قائم کرنے کی وجہ سے خبروں کی زینت بنا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ ممبئی میں دو مہنگے فلیٹس کا مالک ہے اور کئی دکانیں کرائے پر دے رکھی ہیں۔ ایک پراپرٹی کی خریداری کے دوران وہ قانون کی گرفت میں بھی آ چکا ہے۔

    کراچی میں بھکاری نیٹ ورک اور ماہِ رمضان

    کراچی کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ کراچی میں بھی ایسے کئی ‘بھرت جین’ گھوم رہے ہیں جو معصوم چہرہ بنائے کسی سگنل یا فٹ پاتھ پر بیٹھے لوگوں کی ہمدردی سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہ محض ضرورت نہیں، اب ایک پیشہ بن چکا ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ماہِ رمضان کے آغاز میں ہی کراچی میں 3 سے 4 لاکھ پیشہ ور بھکاری پہنچ جاتے ہیں۔ چونکہ رمضان المبارک میں صدقات اور خیرات کا سلسلہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق زکوٰۃ بھی نکالتے ہیں، اس لیے یہ شہر ان کے لیے پرکشش بن جاتا ہے۔

    کئی دہائیوں سے پیشہ ور بھکاری ماہِ شعبان میں کراچی کا رخ کرتے ہیں اور منظم بھکاری مافیا کی نگرانی میں شہر کے مختلف علاقوں میں اپنی جگہیں سنبھال لیتے ہیں۔ یہ مافیا ملک بھر میں مضبوط نیٹ ورک رکھتا ہے۔

    یہ لوگ کراچی میں فلائی اوورز کے نیچے، خالی پلاٹوں اور دور دراز مضافاتی علاقوں میں عارضی جھگیاں اور ٹھکانے قائم کرتے ہیں اور مہینے بھر کمائی کرتے ہیں۔ انہیں باقاعدہ پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ مافیا انہیں رہائش گاہوں سے لے کر مخصوص مقامات تک پہنچاتا ہے اور رات کو واپس چھوڑ دیتا ہے۔

    ٹارگٹڈ علاقے

    کراچی میں طارق روڈ، حیدری، کلفٹن، جامعہ کلاتھ، صدر اور شہر کے بڑے بازار ان کے ٹارگٹڈ ایریاز ہوتے ہیں۔

    کوئی ہاتھ یا پاؤں سے جعلی معذور بن جاتا ہے، کوئی اندھے پن کی نقل کرتا ہے اور کوئی گونگا بن کر بھیک وصول کرتا ہے۔

    غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر کے کسی بھی علاقے میں اس وقت ایک ہزار سے کم بھکاری خاندان موجود نہیں، جن میں اوسطاً 8 افراد فی خاندان شامل ہوتے ہیں۔

    اس طرح کراچی میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ بھکاری پہلے ہی سرگرم ہیں۔ ایک سروے کے مطابق رمضان المبارک کے دوران ان کی تعداد اور آمدن میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

    عدالتی حکم اور انتظامیہ کی کارروائیاں

    مختلف حکومتوں نے اس مسئلے پر قابو پانے کی کوششیں کیں، تاہم پولیس کی عدم دلچسپی اور مبینہ بدعنوانی کے باعث یہ اقدامات مؤثر ثابت نہ ہو سکے۔

    دو برس قبل سندھ ہائی کورٹ نے بھی پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد شہری حکومت نے بھی مہم چلائی، مگر شہری ان اقدامات سے مطمئن نہیں۔

    بھکاری مافیا نہ صرف ان خاندانوں کے کراچی آنے کا انتظام کرتا ہے بلکہ انہیں رہائش اور تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ عدالت نے مؤثر کارروائی اور عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم بھی دیا تھا تاکہ زکوٰۃ اور خیرات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

    گزشتہ سال انسدادِ بھکاری مہم کے دوران ایک سیمینار میں انکشاف کیا گیا کہ بعض پیشہ ور بھکاری زمینوں پر قبضے، منشیات فروشی، جسم فروشی، بچوں کے اغوا اور دیگر جرائم میں بھی ملوث پائے گئے۔

    ایک قومی سطح کے مطالعے کے مطابق بھکاری مافیا منظم انداز میں بھکاریوں کو مخصوص مقامات الاٹ کرتا ہے اور ان علاقوں میں کام کرنے کے لیے باقاعدہ معاہدے کیے جاتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پیشہ ور بھکاری کراچی میں زیادہ تر حسن اسکوائر، گجر نالہ، راشد منہاس روڈ، نئی آبادی، گلشنِ غازی، سعید آباد، غوث نگر، بلدیہ ٹاؤن اور اتحاد ٹاؤن کی کچی آبادیوں میں مقیم ہیں۔

    بھکاری زمینوں پر قبضہ کر کے جائیداد کے کاروبار میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔ مافیا سرکاری زمینوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں بھکاری خاندان آباد کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں جب یہ علاقے کچی آبادی قرار دے کر قانونی حیثیت حاصل کر لیتے ہیں تو زمینیں بھاری قیمت پر فروخت کر دی جاتی ہیں۔

    یہ پورا نظام ایک منظم نیٹ ورک کے تحت چلایا جاتا ہے، جس میں بھکاری مافیا مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

  • باپ پر معذور بیٹی سے جنسی زیادتی اور حمل کا الزام، ڈی این اے رپورٹ میں تصدیق

    باپ پر معذور بیٹی سے جنسی زیادتی اور حمل کا الزام، ڈی این اے رپورٹ میں تصدیق

    بھارت کے شہر ممبئی کے علاقے کف پریڈ میں ایک شخص پر اپنی 20 سالہ معذور بیٹی سے طویل عرصے تک جنسی زیادتی کرنے اور اسے حاملہ کرنے کا الزام ثابت ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق جنین کے ڈی این اے نمونے کا میچ متاثرہ لڑکی کے والد سے ہوا، جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

    انڈین میڈیا کے مطابق متاثرہ لڑکی پیدائشی طور پر بہری اور گونگی ہے اور ذہنی معذوری کا بھی شکار بتائی جاتی ہے۔ وہ بات چیت اور اپنی ضروریات یا تکالیف کے اظہار میں شدید مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ستمبر 2025 میں لڑکی نے پیٹ میں درد کی شکایت کی، جس پر اس کی دادی اسے ہسپتال لے گئیں۔ طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ لڑکی پانچ ماہ کی حاملہ ہے۔

    ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد 22 ستمبر 2025 کو کف پریڈ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ڈاکٹروں کی سفارش پر حمل کو طبی بنیادوں پر ختم کیا گیا اور فرانزک جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس تفتیش کے دوران متاثرہ لڑکی کی جانب سے براہ راست بیان دینا ممکن نہیں تھا، جسے تفتیش کاروں نے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ اس مرحلے پر اشاروں کی زبان، کونسلنگ اور ماہرین کی مدد سے معلومات حاصل کی گئیں۔ ابتدائی طور پر لڑکی نے اشاروں کے ذریعے بتایا کہ مختلف افراد نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، جس پر پولیس نے 17 افراد، جن میں رشتہ دار اور قریبی افراد شامل تھے، کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے۔

    پولیس کے مطابق 27 جنوری 2026 کو موصول ہونے والی فرانزک رپورٹ میں صرف ایک ڈی این اے نمونہ جنین سے میچ ہوا، جو متاثرہ لڑکی کے والد کا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ایک بالغ شخص کو گرفتار اور ایک نابالغ لڑکے کو حراست میں لیا گیا تھا، جن سے تفتیش جاری ہے۔

    سماجی کارکنوں نے اس واقعے کے بعد معذور افراد کے تحفظ، ایسے جرائم کی بروقت نشاندہی اور انصاف کی فراہمی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں تیز رفتار عدالتی کارروائی اور متاثرین کے لیے مؤثر تحفظ اور بحالی کے اقدامات ضروری ہیں۔

    پولیس کے مطابق کیس کی تفتیش تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ اگر مزید شواہد سامنے آئے تو مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں، جبکہ مقدمہ سخت دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

     

  • سکھوں کے مقدس مقام  کے تالاب میں کُلّی کرنے پر گرفتاری: ’میں نے وضو کیا اور غلطی سے منھ سے نکلا پانی تالاب میں جا گرا‘

    سکھوں کے مقدس مقام کے تالاب میں کُلّی کرنے پر گرفتاری: ’میں نے وضو کیا اور غلطی سے منھ سے نکلا پانی تالاب میں جا گرا‘

    بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام ہرمندر صاحب کی بے حرمتی کے الزام پر ایک شخص کو مقدمہ درج ہونے پر اترپردیش کے شہر غازی آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔

    سری ہرمندر صاحب امرتسر میں سکھوں کا مقدس ترین مقام ہے۔ اسے گولڈن ٹیمپل اور دربار صاحب کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔
    بھارتی میڈیا کے مطابق ویڈیو میں گرفتار شخص مذکورہ تالاب کے پانی میں بیٹھا ہوا اپنے پاؤں پانی میں ڈال رہا تھا، اپنے منہ کو پانی سے صاف یا کلی کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایک بار پانی کو واپس تالاب میں کُلی کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔
    تفصیلات کے مطابق پولیس نے کیس کا چالان عدالت میں جمع کروا دیا ہے، جس کے بعد ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔
    جبکہ امرتسر کے پولیس کمشنر گرپیت سنگھ بھلر کا کہنا تھا کہ وہ غازی آباد میں متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں اور ملزم کو امرتسر لانے کے لیے پولیس کی ٹیم بھجوا دی گئی ہے۔پولیس نے ملزم کو مقدس مقام کی توہین اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے ، کہا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا اور سکھ تنظیموں نے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا جس کے بعد ویڈیو بنانے والے شخص نے معافی کی ویڈیو بھی شئیر کی ہے ۔

  • ‘انڈیا ایک کھلاڑی کی حفاظت نہیں کرسکتا، پوری ٹیم کیوں بھیجیں؟’: بنگلہ دیش کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ انڈیا میں نہ کھیلنے کا اعلان

    ‘انڈیا ایک کھلاڑی کی حفاظت نہیں کرسکتا، پوری ٹیم کیوں بھیجیں؟’: بنگلہ دیش کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ انڈیا میں نہ کھیلنے کا اعلان

    بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے سے صاف انکار کر دیا۔ سکیورٹی صورتحال پر شدید تحفظات کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا دوٹوک مؤقف سامنے آ گیا ہے کہ کھلاڑیوں کی جان کو خطرے میں ڈال کر کرکٹ نہیں کھیلی جائے گی۔

    اتوار کو منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز نے موجودہ حالات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم اس صورتحال میں انڈیا کا سفر ہرگز نہیں کرے گی۔

    ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے انٹرنیشل کرکٹ کاؤنسل کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ ICC Men’s T20 World Cup 2026 میں بنگلہ دیش کے تمام میچز انڈیا سے ہٹا کر کسی محفوظ اور غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں، جن میں سری لنکا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

    بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا سخت مؤقف ہے سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، حکومتی ہدایات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، فوری فیصلہ نہ آیا تو مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

    بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے واضح کر دیا ہے کہ اب فیصلہ آئی سی سی کو کرنا ہے۔

  • پٹنہ بھارت میں سرکاری تقریب کے دوران وزیراعلیٰ کا متنازع اقدام، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل

    پٹنہ بھارت میں سرکاری تقریب کے دوران وزیراعلیٰ کا متنازع اقدام، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل

    بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں 15 دسمبر 2025 کو منعقد ہونے والی ایک سرکاری تقریب اس وقت تنازع کا شکار ہو گئی جب وزیراعلیٰ نتیش کمار نے تقرری نامے تقسیم کرتے ہوئے ایک مسلم آیوش خاتون ڈاکٹر کے نقاب کو اپنے ہاتھ سے نیچے کیا۔ یہ لمحہ تقریب میں موجود کیمروں میں قید ہو گیا اور تقریباً 14 سیکنڈ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ اسٹیج پر کھڑی خاتون ڈاکٹر کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہیں اور ان کے چہرے سے نقاب ہٹا دیتے ہیں، جس پر خاتون واضح طور پر حیران اور پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

    اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنماؤں نے اس اقدام کو ’’قابلِ مذمت‘‘ اور ’’خواتین کی تذلیل‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سے فوری معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف ذاتی حدود کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی حساسیت سے لاعلمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو اب تک بارہ لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جبکہ ہزاروں صارفین نے سخت تنقیدی تبصرے کیے ہیں۔ کئی افراد نے اس واقعے کو بھارت میں مسلم اقلیت، بالخصوص مسلم خواتین کو درپیش وسیع تر مسائل سے جوڑا ہے۔

    پس منظر: حجاب اور مذہبی شناخت پر جاری بحث

    یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں مذہبی لباس، خصوصاً حجاب اور نقاب، ایک عرصے سے سیاسی اور عدالتی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ 2022 میں کرناٹک میں حجاب تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب سرکاری تعلیمی اداروں میں یونیفارم کی پابندی کے تحت حجاب پہننے پر عملی پابندی عائد کر دی گئی۔

    مارچ 2022 میں کرناٹک ہائی کورٹ نے حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب اسلام کی ’’لازمی مذہبی روایت‘‘ نہیں، تاہم اکتوبر 2022 میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کا فیصلہ منقسم رہا اور معاملہ بڑی بینچ کو بھیج دیا گیا، جہاں یہ کیس تاحال زیرِ سماعت ہے۔

    اگرچہ دسمبر 2023 میں کرناٹک کی نئی حکومت نے اس پابندی کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا، مگر سپریم کورٹ میں مقدمہ زیرِ التوا ہونے کے باعث عملی طور پر صورتِ حال اب بھی غیر واضح ہے۔

    مبصرین کے مطابق پٹنہ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ محض ایک انفرادی عمل نہیں بلکہ بھارت میں مذہبی آزادی، شخصی وقار اور اقلیتی حقوق سے جڑی جاری بحث کی ایک کڑی ہے، جس نے ایک بار پھر سیاسی قیادت کے رویّوں کو کڑی جانچ کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے

    ایڈیٹر فارن افئیرز ساگا ڈیجیٹل اے آئی