سائبر سکیورٹی کمپنی سینٹینل ون SentinelOne)) کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین اور بھارت سے منسلک ہیکنگ گروہوں نے گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان کے متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان حملوں کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور حساس سرکاری معلومات تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
خبررساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ سائبر حملے فروری 2024 سے اپریل 2026 کے درمیان مختلف مراحل میں کیے گئے۔ ان کا ہدف بلوچستان پولیس، خیبر پختونخوا پولیس، اسلام آباد پولیس اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی سمیت کئی اہم ادارے تھے۔
ان اداروں کے پاس دہشت گردی، جرائم، سرحدی سلامتی اور حساس انٹیلی جنس سے متعلق اہم معلومات موجود ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں سائبر جاسوسی کے لیے اہم ہدف سمجھا جاتا ہے۔
سینٹینل ون کے محققین کا کہنا ہے کہ مختلف ہیکنگ گروہوں نے الگ الگ طریقوں سے پاکستانی اداروں کے کمپیوٹر نظام میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعض حملوں میں نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بعض میں اداروں کے اندر استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور شکایات کے انتظام کے نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے ایسے کمزور مقامات تلاش کیے جہاں سے وہ خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ان معلومات میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں، افغانستان سے متعلق سلامتی کی صورتحال، اور پاکستان میں کام کرنے والے چینی منصوبوں اور شہریوں کی حفاظت سے متعلق ریکارڈ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ چین سے منسلک گروہوں کی دلچسپی ممکنہ طور پر پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں اور منصوبوں کی سلامتی سے جڑی ہو سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں چینی شہریوں پر کئی حملے ہو چکے ہیں، اس لیے بیجنگ ان معاملات پر گہری نظر رکھتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت سے منسلک ہیکنگ سرگرمیوں کا تعلق دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے معاملات سے ہو سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہا گیا کہ ان حملوں کا براہ راست حکم کسی حکومت نے دیا تھا۔
روئٹرز کے مطابق پاکستان کے بعض اداروں نے ان حملوں کی اہمیت کو کم قرار دیا، جبکہ کچھ اداروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران سائبر سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم ادارے نے کہا کہ اس نے اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائبر حملوں میں بعض اوقات شکایات کے اندراج کے نظام اور دیگر سرکاری ایپلی کیشنز کو استعمال کرتے ہوئے اندرونی نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح کے حملے دنیا بھر میں سرکاری اداروں کے خلاف سائبر جاسوسی کے لیے عام ہوتے جا رہے ہیں۔
چین کے سفارت خانے نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چین ہر قسم کی سائبر ہیکنگ اور آن لائن حملوں کی مخالفت کرتا ہے اور ایسے الزامات بے بنیاد ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے سفارت خانے نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ کمپیوٹر نیٹ ورک، سرکاری ڈیٹا بیس اور مواصلاتی نظام بھی قومی سلامتی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر کے ممالک اپنی سائبر دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس رپورٹ میں حساس معلومات کے چوری ہونے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن ایسے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سرکاری اداروں کو اپنے سائبر تحفظ کے نظام کو مسلسل بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس موجود معلومات نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ بین الاقوامی تعاون کے لیے بھی انتہائی اہم ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سائبر جاسوسی کی سرگرمیاں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو اپنے حساس سرکاری نظام، ڈیٹا اور نیٹ ورک کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔











