بھارت نے واٹس ایپ کو یوزر نیم   کا نیا فیچر متعارف کرانے سے کیوں روک دیا؟

واٹس ایپ

 بھارت کی حکومت نے واٹس ایپ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مجوزہ ’صارف نام‘ (یوزر نیم) فیچر کا اجرا فوری طور پر روک دے۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس فیچر پر متعلقہ اداروں سے مشاورت مکمل ہونے تک اسے متعارف نہ کرایا جائے۔ یہ بات حکومتی خط کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا کو یکم جولائی کو ایک خط بھیجا، جس میں کمپنی سے تین روز کے اندر اس نئے فیچر کی مکمل وضاحت طلب کی گئی۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ مشاورت مکمل ہونے تک اس فیچر کی آزمائش یا مرحلہ وار اجرا روک دیا جائے۔

واٹس ایپ نے بہت سے ممالک میں ایک ایسا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے تحت صارفین اپنے موبائل نمبر کی بجائے ایک منفرد صارف نام بنا سکیں گے۔ اس کے بعد دوسرے صارفین انہیں فون نمبر دیکھے بغیر بھی تلاش کر سکیں گے اور رابطہ کر سکیں گے۔ اس وقت یہ فیچر مکمل طور پر متعارف نہیں کرایا گیا، تاہم اس کی محدود پیمانے پر آزمائش جاری ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے صارفین کی شناخت چھپانا آسان ہو سکتا ہے، جس سے جعل سازی، نقالی، آن لائن دھوکا دہی اور فریب پر مبنی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کے مطابق اگر کسی شخص کا فون نمبر ظاہر نہ ہو تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشتبہ افراد کی شناخت اور تحقیقات مزید مشکل ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کی وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے واٹس ایپ سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کمپنی اس فیچر کے ذریعے ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے کون سے حفاظتی اقدامات کر رہی ہے اور صارفین کو دھوکا دہی سے بچانے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ہیں۔

واٹس ایپ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صارف ناموں کا فیچر ابھی مکمل طور پر متعارف نہیں کرایا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس میں کئی حفاظتی انتظامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔ واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ صارف نام رکھنے کے باوجود اکاؤنٹ بنانے کے لیے موبائل نمبر کی ضرورت برقرار رہے گی اور اجنبی افراد کی طرف سے غیر ضروری پیغامات بھیجنے پر بھی مختلف پابندیاں موجود ہوں گی۔

بھارت واٹس ایپ کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے، جہاں اس کے 50 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں۔ اسی وجہ سے وہاں متعارف کرائے جانے والے کسی بھی نئے فیچر کے اثرات بہت وسیع ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کئی پیغام رسانی کی ایپس پہلے ہی صارف ناموں کی سہولت فراہم کرتی ہیں، تاہم بھارتی حکومت کو خدشہ ہے کہ اس سے آن لائن فراڈ کرنے والے افراد کے لیے جعلی شناخت اختیار کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیموں نے حکومت کے فیصلے پر تنقید بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس کسی نئی ٹیکنالوجی یا فیچر کو پیشگی منظوری سے مشروط کرنے کا واضح قانونی اختیار موجود نہیں، اس لیے اس طرح کے اقدامات سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مصنوعات کی تیاری اور جدت متاثر ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام بھارت کی جانب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بڑھتی ہوئی نگرانی کا حصہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارتی حکومت مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے صارفین کی شناخت، مواد کی نگرانی اور آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد وضاحتیں طلب کرتی رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت اور واٹس ایپ کے درمیان مشاورت کے بعد اطمینان بخش حل سامنے آتا ہے تو مستقبل میں اس فیچر کے اجرا کے بارے میں دوبارہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال بھارتی صارفین کو اس سہولت کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں: