کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک کروڑ پتی بھکاری بھی ہے جو سات کروڑ روپے سے زیادہ کا مالک ہے، جس کی مہنگی جائیدادیں ہیں اور جس نے دکانیں بھی کرائے پر دے رکھی ہیں؟
صرف یہی نہیں، اس بھکاری نے 18 ہزار بھکاریوں کی فورس بنائی ہے۔ اس نے بھکاریوں کا ایک پورا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے اور پیشہ ورانہ انداز میں ایک پوری کمپنی چلاتا ہے۔
یہ بھرت جین ہے اور اس کا تعلق بھارتی شہر ممبئی سے ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھرت جین نے بھیک مانگنے کا باقاعدہ کاروباری ماڈل ترتیب دیا ہے۔
آپ اکثر راہ چلتے ہوئے بھیک مانگنے والوں کی مدد کرتے ہوں گے، مگر بھرت جین ان سے مختلف ہے۔ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر معصوم چہرہ بنا کر لوگوں سے بھیک مانگنے والا یہ شخص 18 ہزار بھکاریوں کا نیٹ ورک چلاتا ہے۔ انہیں رہنے کی جگہ، کھانا پینا اور دیگر ضروریات فراہم کرتا ہے اور ان کی کمائی سے حصہ وصول کرتا ہے۔
بھرت جین ایک تعلیم یافتہ شخص بتایا جاتا ہے، جو بھکاری انڈسٹری قائم کرنے کی وجہ سے خبروں کی زینت بنا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ ممبئی میں دو مہنگے فلیٹس کا مالک ہے اور کئی دکانیں کرائے پر دے رکھی ہیں۔ ایک پراپرٹی کی خریداری کے دوران وہ قانون کی گرفت میں بھی آ چکا ہے۔
کراچی میں بھکاری نیٹ ورک اور ماہِ رمضان
کراچی کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ کراچی میں بھی ایسے کئی ‘بھرت جین’ گھوم رہے ہیں جو معصوم چہرہ بنائے کسی سگنل یا فٹ پاتھ پر بیٹھے لوگوں کی ہمدردی سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہ محض ضرورت نہیں، اب ایک پیشہ بن چکا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ماہِ رمضان کے آغاز میں ہی کراچی میں 3 سے 4 لاکھ پیشہ ور بھکاری پہنچ جاتے ہیں۔ چونکہ رمضان المبارک میں صدقات اور خیرات کا سلسلہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق زکوٰۃ بھی نکالتے ہیں، اس لیے یہ شہر ان کے لیے پرکشش بن جاتا ہے۔
کئی دہائیوں سے پیشہ ور بھکاری ماہِ شعبان میں کراچی کا رخ کرتے ہیں اور منظم بھکاری مافیا کی نگرانی میں شہر کے مختلف علاقوں میں اپنی جگہیں سنبھال لیتے ہیں۔ یہ مافیا ملک بھر میں مضبوط نیٹ ورک رکھتا ہے۔
یہ لوگ کراچی میں فلائی اوورز کے نیچے، خالی پلاٹوں اور دور دراز مضافاتی علاقوں میں عارضی جھگیاں اور ٹھکانے قائم کرتے ہیں اور مہینے بھر کمائی کرتے ہیں۔ انہیں باقاعدہ پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ مافیا انہیں رہائش گاہوں سے لے کر مخصوص مقامات تک پہنچاتا ہے اور رات کو واپس چھوڑ دیتا ہے۔
ٹارگٹڈ علاقے
کراچی میں طارق روڈ، حیدری، کلفٹن، جامعہ کلاتھ، صدر اور شہر کے بڑے بازار ان کے ٹارگٹڈ ایریاز ہوتے ہیں۔
کوئی ہاتھ یا پاؤں سے جعلی معذور بن جاتا ہے، کوئی اندھے پن کی نقل کرتا ہے اور کوئی گونگا بن کر بھیک وصول کرتا ہے۔
غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر کے کسی بھی علاقے میں اس وقت ایک ہزار سے کم بھکاری خاندان موجود نہیں، جن میں اوسطاً 8 افراد فی خاندان شامل ہوتے ہیں۔
اس طرح کراچی میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ بھکاری پہلے ہی سرگرم ہیں۔ ایک سروے کے مطابق رمضان المبارک کے دوران ان کی تعداد اور آمدن میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
عدالتی حکم اور انتظامیہ کی کارروائیاں
مختلف حکومتوں نے اس مسئلے پر قابو پانے کی کوششیں کیں، تاہم پولیس کی عدم دلچسپی اور مبینہ بدعنوانی کے باعث یہ اقدامات مؤثر ثابت نہ ہو سکے۔
دو برس قبل سندھ ہائی کورٹ نے بھی پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد شہری حکومت نے بھی مہم چلائی، مگر شہری ان اقدامات سے مطمئن نہیں۔
بھکاری مافیا نہ صرف ان خاندانوں کے کراچی آنے کا انتظام کرتا ہے بلکہ انہیں رہائش اور تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ عدالت نے مؤثر کارروائی اور عوامی آگاہی مہم چلانے کا حکم بھی دیا تھا تاکہ زکوٰۃ اور خیرات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
گزشتہ سال انسدادِ بھکاری مہم کے دوران ایک سیمینار میں انکشاف کیا گیا کہ بعض پیشہ ور بھکاری زمینوں پر قبضے، منشیات فروشی، جسم فروشی، بچوں کے اغوا اور دیگر جرائم میں بھی ملوث پائے گئے۔
ایک قومی سطح کے مطالعے کے مطابق بھکاری مافیا منظم انداز میں بھکاریوں کو مخصوص مقامات الاٹ کرتا ہے اور ان علاقوں میں کام کرنے کے لیے باقاعدہ معاہدے کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پیشہ ور بھکاری کراچی میں زیادہ تر حسن اسکوائر، گجر نالہ، راشد منہاس روڈ، نئی آبادی، گلشنِ غازی، سعید آباد، غوث نگر، بلدیہ ٹاؤن اور اتحاد ٹاؤن کی کچی آبادیوں میں مقیم ہیں۔
بھکاری زمینوں پر قبضہ کر کے جائیداد کے کاروبار میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔ مافیا سرکاری زمینوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں بھکاری خاندان آباد کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں جب یہ علاقے کچی آبادی قرار دے کر قانونی حیثیت حاصل کر لیتے ہیں تو زمینیں بھاری قیمت پر فروخت کر دی جاتی ہیں۔
یہ پورا نظام ایک منظم نیٹ ورک کے تحت چلایا جاتا ہے، جس میں بھکاری مافیا مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
