Tag: کتاب

  •  ‘سانول، گیت، غزل’: ‘سمبارا’ پبلیکیشن کے تحت شائع ہونے والی کتاب، جس کے گیت سندھ کے معروف گلوکاروں نے گائے

     ‘سانول، گیت، غزل’: ‘سمبارا’ پبلیکیشن کے تحت شائع ہونے والی کتاب، جس کے گیت سندھ کے معروف گلوکاروں نے گائے

    ‘سانول کی شاعری ایک طرف محبوبوں کے ملاپ کا ذکر کرتی ہے، کہیں جدائی کے نوحے ہیں، اور بعض اشعار میں صرف درد ہی درد کی دھند چھائی ہوئی ہے۔ سانول عوام کا اور عوامی رنگوں کا مقبول شاعر ہے۔’

    یہ خیالات نامور سندھی ادیب نصیر مرزا کے ہیں، جو انہوں نے سندھ کے سینئر اور عوامی شاعر سانول میرالی کے شعری مجموعے ‘یاروں سے کیسے حساب’ کے دیباچے میں لکھے ہیں۔

    کتاب کے پچھلے صفحے پر جواد جعفری نے بالکل درست لکھا ہے کہ ‘سانول نے قلمی کام کو فرض سمجھ کر نبھایا ہے۔ ان کی کتاب گھٹن بھرے ماحول میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ثابت ہوئی ہے۔’

    حیدرآباد سے ‘سمبارا’ پبلیکیشن کے تحت شائع ہونے والی اس کتاب میں سانول کے وہ گیت اور غزلیں شامل ہیں جنہیں سندھ کے معروف فنکاروں، شمن علی میرالی، ماسٹر منظور اور منظور سخیرانی سمیت دیگر فنکاروں نے گایا ہے۔

    وہ شاعر واقعی خوش نصیب ہوتا ہے جس کی شاعری کو سریلی آوازیں جنگلوں اور بستیوں تک پہنچاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سانول کی شاعری سے میری شناسائی بھی انہی گلوکاروں کے ذریعے ہوئی۔

    میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سانول کو جتنے لوگ جانتے ہیں، اتنے شاید ان ادیبوں کو بھی نہیں جانتے جو عمر بھر ادب کو دے کر درجنوں کتابیں لکھ چکے اور شائع کرا چکے ہیں، کیونکہ وہ صرف قارئین تک محدود رہتے ہیں، جبکہ سانول کے سامعین پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی شاعری کے گائے ہوئے کلام لاکھوں بار انٹرنیٹ پر سنے اور دیکھے جا چکے ہیں۔

    سانول کی شاعری ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان کی شاعری کے تین رخ ہیں: ایک طرف محبت اور روح کو سکون دینے والی تخلیقات، دوسری طرف سماجی اور طبقاتی مسائل کی عکاسی، اور تیسری طرف انقلابی سوچ۔

    انہوں نے کبھی کسی گلوکار سے اپنی شاعری گانے کی درخواست نہیں کی، نہ ہی شہرت نے انہیں مغرور بنایا۔ جتنا ان کا ادبی قد بڑھا، اتنی ہی عاجزی ان میں آئی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‘نین بھیگے رہے’ 24 سال پہلے شائع ہو چکا ہے۔ 1983 سے ادبی دنیا میں قدم رکھنے والے سانول کی شاعری 1986 سے اب تک ڈیڑھ سو کے قریب فنکار گا چکے ہیں۔

    سانول نہ صرف خود شاعر ہیں بلکہ انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت بھی ادبی انداز میں کی ہے اور ان کے بیٹے بھی شاعری کرتے اور گنگناتے ہیں۔ ان کی شاعری میں نہ فحاشی ہے، نہ بے راہ روی، نہ نعرہ بازی اور نہ درباری سوچ۔ انہوں نے اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لی ہے کہ محبت کے قحط کے اس دور میں محبت کا سفیر بننا ہے۔

    مثلاً ان کے اشعار:

    ‘پیار کیا نہیں جاتا، پیار ہو جاتا ہے
    عشق آنکھوں سے
    اظہار ہو جاتا ہے
    کس کو اپنا بنانا کس کے بس میں نہیں
    یہ ازل سے ہی بیوپار ہو جاتا ہے’

    ‘کس کو اپنا بنانا بس میں نہیں
    یہ ازل سے ہی قرار ہو جاتا ہے’

    سانول کی شاعری امید، حوصلے اور تسلی سے بھرپور ہے:

    ‘ماضی جیسا بھی گزرا ہو
    مستقبل میں اجالا ہوگا’

    وہ دوسروں کا حساب کرنے کے بجائے اپنا احتساب کرتے ہیں۔ ان کی فطرت میں سادگی، اخلاص اور صوفیانہ سوچ نمایاں ہے:

    ‘کیا حساب محبوبوں سے
    جینے کے وعدے ہو جن سے’

    ‘چاہے خوشی دیں یا غم
    لبوں سے کچھ نہیں کہنا ان سے’

    سانول کی شاعری میں محبوب کے بغیر زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے:

    ‘زندگی کا سفر اجنبی لگتا ہے
    تیرے بغیر گھر اجنبی لگتا ہے’

    اور درد کی کیفیت کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

    ‘افسوس زندگی کا سہارا نہیں ملتا
    لوگ بہت ملتے ہیں، مگر پیارا نہیں ملتا’

    وہ اپنی تنہائی کو یوں بیان کرتے ہیں:

    ‘ہر روز تقدیر کے تارے دیکھتا ہوں
    حسین ہزار، مگر سہارے دیکھتا ہوں’

    جس دور میں بھارتی فلمی انداز کے گیتوں کا رواج تھا، اس وقت سانول کا بڑا چرچا تھا۔ ان کی کامیابی میں شمن علی میرالی کا کردار اہم رہا۔ جس طرح بیدل مسرور کی آواز نے شیخ ایاز کی تخلیق ‘سچ بڑا مجرم ہے’ کو مقبول بنایا، اسی طرح شمن علی میرالی کی آواز نے سانول کو عوامی شہرت دی۔

    وہ آپس میں رشتہ دار نہیں ہیں، اور نہ ہی ذات پات کی بنیاد پر شمن نے انہیں کبھی برتر سمجھا ہے۔ سانول کی تخلیقی صلاحیت آج بھی قائم و دائم ہے۔

    سانول نے ادب کی مختلف اصناف میں نہ صرف اپنی پہچان بنائی بلکہ خود کو منوایا بھی ہے۔ وزن و بحر کے تسلسل میں کچھ کمیوں کے باوجود، ان کی تقریباً 95 فیصد تخلیقات وزن و بحر کے مطابق لکھی گئی ہیں اور ان میں روانی بھی کمال کی ہے۔

    شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے کے باوجود سانول نے اپنی سادگی، سنجیدگی، سچائی، ثابت قدمی اور عاجزی کو نہیں چھوڑا۔ ان کا خلوص سے بھرپور انداز اور گرمجوشی سے ملنا نہ صرف بڑی بات ہے بلکہ ملنے والوں کے لیے حوصلہ افزا بھی ہوتا ہے۔

    ان کا شائع شدہ شعری مجموعہ ‘یارن سان ڪهڙا ليکا’ امید ہے کہ دیگر شعرا کے لیے بھی باعثِ حوصلہ بنے گا اور نئی نسل کو ماضی کی موسیقی کو نئے انداز میں پیش کرنے کی تحریک دے گا۔

    اس شعری مجموعے میں غزلوں کے ساتھ ساتھ گیتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اگرچہ ان گیتوں پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے، لیکن یہاں چند گیتوں کا ذکر کیا جاتا ہے:

    ‘روتا دیکھتے مجھے ہنساتے’

    ‘دوست نہ رہا دوست، یار نہ رہا یار’

    ‘ہنسنے والے، ہنستے رہو، ہنسنے میں خدا راضی ہے’

    ‘میرا خون بڑھتا ہے، تم ہنستے رہو محبوب’

    ‘میں تو منت کرتا ہوں، ملنے کے لیے’

    ‘بے درد کو دل دے کر پچھتایا’

    ‘میرے دلبر کو سمجھاؤ’

    ‘جو مجھ سے وفا کرے، اس کو میں دوں دل’

    ‘روتا ہوں یار کی خاطر’

    ‘درد دل میں یار نہ ہے، تب ہی تو دل دکھاتے ہو’

    ‘یاروں سے کیسے حساب’

    ‘نہ تھا نبھانا مجھ سے پیار، کیوں کیا؟’

    ‘وقت وقت کی بات ہے’

    سانول میرالی سندھ کا عوامی سرمایہ ہیں، کیونکہ دیہی علاقوں کے لوگ انہیں خوب جانتے ہیں۔ ان کے گیت گاتے ہیں اور ان کے میوزک البمز تحفے کے طور پر ایک دوسرے کو دیتے آئے ہیں۔ پولیس جیسے محکمے میں ہونے کے باوجود انہوں نے خود کو کبھی روایتی پولیس والا محسوس نہیں ہونے دیا۔

    وہ ایک سخی دل انسان ہیں، جن کا دسترخوان کشادہ ہے اور جو سندھ کی مہمان نوازی کی روایت کے بہترین امین ہیں۔

    لاڑکانہ آرٹس کونسل میں اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ان کی زیادہ تر شاعری ان کی محرومیوں کا ردعمل ہے۔ یتیمی کے دکھ نے انہیں زندگی میں جو تلخ تجربات دیے، وہ آج بھی ان کے لیے دردناک یادیں ہیں۔ اسی لیے ان کی شاعری بچپن میں والدین کی جدائی کے بعد پیش آنے والے حالات کا عکس ہے۔

    سانول میرالی ایک نہایت حساس اور معصوم دل انسان ہیں، جو آسانی سے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ کم از کم دو مواقع پر راقم خود ان کے رونے کا گواہ رہا ہے۔ ایک بار جب ان کے قدردان افسر شیر از نظیر عباسی کا شکارپور سے تبادلہ ہوا تو وہ اپنے آنسو نہ روک سکے، اور دوسری بار لاڑکانہ آرٹس کونسل میں اپنی کتاب کی تقریب کے دوران والدین کو یاد کرتے ہوئے رو پڑے۔

    سانول میرالی طلبہ کا ہجوم ساتھ رکھنے یا اس پر فخر کرنے کے قائل نہیں، بلکہ خاموشی سے ان کی ادبی تربیت کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایک مثبت روایت ہے، جسے جتنا سراہا جائے کم ہے۔

  • ماہی گیر رہنما مجید موٹانی کی کتاب ’موجوں سے ماورا‘ سندھ کے ساحلوں کی تباہی اور ماہی گیروں کی جدوجہد کی داستان

    ماہی گیر رہنما مجید موٹانی کی کتاب ’موجوں سے ماورا‘ سندھ کے ساحلوں کی تباہی اور ماہی گیروں کی جدوجہد کی داستان

    کراچی سے بدین کے زیرو پوائنٹ تک پھیلی سندھ کی ساحلی پٹی صدیوں سے ماہی گیروں کا مسکن رہی ہے۔

    ان بستیوں کے بزرگ آج بھی ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب ان کے آباؤ اجداد خوشحال تھے، سمندر مچھلی سے بھرا رہتا تھا، دریائے سندھ کا میٹھا پانی ڈیلٹا تک پہنچتا تھا اور ساحلی علاقے زندگی سے بھرپور تھے۔

    ان باتوں کو اکثر لوگ محض پرانی یادیں سمجھتے ہیں، لیکن معروف ماہی گیر رہنما مجید موٹانی کی نئی کتاب ’موجوں سے ماورا، ساحلی زندگی کے نشیب و فراز کی سرگزشت ‘ اس تاریخ کو دستاویزی شکل میں سامنے لاتی ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ انڈس ڈیلٹا کبھی قدرتی وسائل سے مالا مال تھا اور بیرونی حملہ آوروں کی نظریں بھی اسی دولت پر تھیں۔ آج یہی خطہ سمندر کی پیش قدمی، دریائے سندھ میں پانی کی کمی اور انسانی مداخلت کے باعث شدید تباہی کا شکار ہے۔

    مجید موٹانی اپنی سرگزشت کے ذریعے صرف اپنی زندگی بیان نہیں کرتے بلکہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں آباد لاکھوں ماہی گیروں کی اجتماعی کہانی رقم کرتے ہیں۔ وہ دکھاتے ہیں کہ کس طرح گزشتہ ایک صدی کے دوران دریائے سندھ پر بیراجوں اور ڈیموں کی تعمیر کے بعد ڈیلٹا کا قدرتی نظام تیزی سے بگڑتا گیا، میٹھے پانی کی فراہمی کم ہوتی گئی، زرعی زمینیں سمندر برد ہوئیں اور ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔

    مصنف کا تعلق کراچی کی قدیم ماہی گیر بستی ابراہیم حیدری سے ہے، تاہم ان کے آباؤ اجداد انڈس ڈیلٹا کے علاقے کے رہنے والے تھے۔ وہ کتاب میں پاکستان کی ان 17 کریکس کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں جو دریائے سندھ کو سمندر سے ملاتی ہیں اور جن کے کناروں پر کبھی بے شمار آبادیاں تھیں۔ ان میں سے چند کریکس اب بھارت کی حدود میں شامل ہوچکی ہیں۔

    وہ لکھتے ہیں کہ ان کے خاندان کا گاؤں چھان کریک کے مشرقی کنارے آباد تھا، جہاں سے بڑی تجارتی کشتیاں گزرتی تھیں۔ بعد میں دریائے سندھ نے اپنا راستہ بدلا اور ترچھان کریک وجود میں آگئی، جو کیٹی بندر کے قریب بہتی تھی۔

    کتاب میں کیٹی بندر کی ماضی کی شان و شوکت کا بھی دلچسپ ذکر ملتا ہے۔ مجید موٹانی کے مطابق یہ کبھی سندھ کا اہم تجارتی مرکز تھا۔ 1818ء میں کیٹی بندر کی بلدیہ نے کراچی بلدیہ کی مالی مدد بھی کی تھی، مگر آج وہی شہر سمندر کے رحم و کرم پر ایک چھوٹے سے ماہی گیر قصبے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ہزاروں خاندان ہجرت کرچکے ہیں اور یہ بستی صرف حفاظتی بندوں اور سڑکوں کی وجہ سے باقی رہ گئی ہے۔

    وہ یاد دلاتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے کیٹی بندر کے قریب لال چاول صاف کرنے کی ایک مشہور مل قائم تھی، مگر اب نہ وہ مل موجود ہے اور نہ ہی اس علاقے میں لال چاول کی کاشت ہوتی ہے۔ دریائے سندھ کا میٹھا پانی رک جانے کے بعد لاکھوں ایکڑ زرعی زمین سمندر نگل چکا ہے۔ زمینوں کے مالکان سندھ کے دوسرے علاقوں کو ہجرت کرگئے، جبکہ بے شمار ماہی گیر روزگار کی تلاش میں کراچی کی ساحلی بستیوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔

    لانچ کی زندگی

    مجید موٹانی کم عمری ہی میں ماہی گیری سے وابستہ ہوگئے تھے۔ ان کے والد کے پاس کئی لانچیں تھیں، مگر ان کا انتقال اس وقت ہوگیا جب مجید ابھی ساتویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ 1967ء میں والد کی وفات کے بعد انہوں نے عملی طور پر لانچ پر کام شروع کیا۔

    وہ اپنی پہلی سمندری سفر کی کیفیت نہایت دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ لانچ کے مسلسل ہچکولوں سے انہیں شدید متلی ہوئی اور سارا کھانا باہر آگیا۔ کشتی کے ناکھوا نے انہیں تسلی دی کہ ابتدا میں ہر نئے ماہی گیر کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ چند ہی دنوں میں ان کا جسم سمندر کی لہروں کا عادی ہوگیا اور پھر انہیں کبھی سمندری بیماری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    کتاب میں سمندر میں کام کرنے والے ماہی گیروں کی روزمرہ زندگی، خطرات، طوفانوں، لانچوں کی دیکھ بھال اور مچھلی کے شکار کے مختلف مراحل کو بھی سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی کہانی

    مجید موٹانی نے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کراچی کی تاریخ اور کردار پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق یہ ادارہ برطانوی دور میں ماہی گیروں کی فلاح کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر بعد میں بدعنوانی کا شکار ہوگیا۔

    وہ لکھتے ہیں کہ ہر لانچ اپنے شکار کی فروخت پر 25.6 فیصد کمیشن سوسائٹی کو دیتی ہے۔ اس کے بدلے ماہی گیروں کو جال بنانے کا دھاگا، رسیاں، انجن اور دیگر سامان بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے کم قیمت پر فراہم کیا جاتا تھا۔ ماضی میں جاپانی انجن بھی ڈیوٹی فری درآمد کرکے ماہی گیروں کو دیے گئے، جس سے بادبانی کشتیوں کی جگہ انجن والی لانچوں نے لے لی۔

    مصنف کی بیٹی فاطمہ مجید اس وقت فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی چیئرپرسن ہیں۔ کتاب کے مطابق انہوں نے ادارے میں موجود کرپشن کے خاتمے کی کوشش کی اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ رقم ماہی گیروں کی امانت ہے اور انہی کی فلاح پر خرچ ہوگی۔

    مجید موٹانی خود بھی لانچوں کے انجنوں کے ماہر مکینک ہیں۔ ابراہیم حیدری میں ان کی ورکشاپ آج بھی مختلف لانچوں کے انجنوں کی مرمت کرتی ہے۔

    پاک بھارت سرحد اور ماہی گیر قیدی

    کتاب کا سب سے متاثر کن حصہ ان ماہی گیروں کی داستانیں ہیں جو برسوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع کا شکار ہوتے رہے ہیں۔

    مصنف لکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے ماہی گیر اکثر سمندر میں غیر ارادی طور پر سرحد عبور کر جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں گرفتار کرکے لانچوں سمیت جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ بہت سے ماہی گیر برسوں تک قید رہتے ہیں اور بعض اپنی رہائی سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔

    وہ 1965ء کی جنگ کے دوران گرفتار ہونے والے ایک ماہی گیر کارو ڈگانی کا واقعہ بھی بیان کرتے ہیں۔ اس کی کشتی کئی دن تک واپس نہ آئی تو پورا گاؤں پریشان ہوگیا۔ دو ماہ بعد بھارت کی جیل سے بھیجا گیا ایک خط ملا، جس سے معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہیں۔ تقریباً چھ ماہ بعد رہائی ملی، مگر بھارتی اہلکار انہیں سرحد کے قریب ویرانے میں چھوڑ کر چلے گئے۔ محدود خوراک اور پانی کے ساتھ یہ ماہی گیر دو دن اور دو رات پیدل چلتے ہوئے تھر کے ایک گاؤں پہنچے، جہاں مقامی لوگوں نے ان کی مدد کی اور انہیں کراچی پہنچایا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان تعلقات آج تک قائم ہیں اور رشتہ داریاں بھی ہوگئی ہیں۔

    مجید موٹانی اپنی گرفتاری کا احوال بھی بیان کرتے ہیں۔ 12 جنوری 1988ء کو وہ اپنے 17 ساتھیوں کے ساتھ لانچ الاقصیٰ پر مچھلی کا شکار کر رہے تھے کہ پہلے ایک بھارتی ہیلی کاپٹر اور پھر ایک بھارتی بحری جہاز ان کے قریب آگیا۔ انہوں نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ساتھیوں کو جال کاٹنے کا حکم دیا، مگر بھارتی جہاز نے لاؤڈ اسپیکر پر انجن بند کرنے کی وارننگ

    دے دی۔ انکار کی صورت میں فائرنگ کی دھمکی دی گئی، جس کے بعد لانچ کا پورا عملہ گرفتار کرلیا گیا۔ ان کے ساتھ مزید چار پاکستانی لانچیں بھی تحویل میں لے لی گئیں۔

    تمام ماہی گیروں کو بھارتی بندرگاہ اوکھا لے جایا گیا اور بعد میں جیل منتقل کردیا گیا۔ تقریباً چھ ماہ بعد قیدیوں کے تبادلے کے تحت مجید موٹانی اور ان کے ساتھی وطن واپس لوٹ سکے۔

    ایک اہم دستاویز

    ’موجوں سے ماورا‘محض ایک خود نوشت نہیں بلکہ سندھ کے ساحلی علاقوں، انڈس ڈیلٹا، ماہی گیر ثقافت، ماحولیات، ہجرت، سرحدی تنازعات اور ریاستی پالیسیوں کا ایک اہم تاریخی ریکارڈ بھی ہے۔ کتاب میں ذاتی یادوں کے ساتھ ایسے حقائق اور مشاہدات شامل ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں میں سندھ کے ساحلی خطے میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

    انہوں نے قدیم ماہی گیر بستیوں، ابراہیم حیدری، کیٹی بندر، کھاروچھان پر الگ الگ چیپٹر لکھے ہیں۔ اس طرح، موسمیاتی تبدیلیوں پر تفصیل سے لکھا ہے۔

    مجید موٹانی ستاروں کی چال سے بھی اچھی طرح سے واقف ہیں، انہوں نے اس پر بھی ایک چیپٹر تحریر کیا ہے۔ مئی اور جون کے مہینوں کے دوران سمندر میں طوفان بنتے ہیں۔ ایک طوفان 1999 میں آیا تھا، جو انڈس ڈیلٹا کے ساحلوں یعنی ٹھٹہ، سجاول اور بدین اضلاع سے ٹکرایا تھا، جس سے کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان کے ساحل متاثر ہوئے تھے اور ماہی گیر بستیوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

    ’موجوں سے ماورا‘کتاب صرف ماہی گیروں یا سمندر سے وابستہ افراد ہی کے لیے نہیں بلکہ ماحولیات، تاریخ، سماجیات، آبی وسائل اور سندھ کی ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے ہر قاری کے لیے قابل مطالعہ ہے۔

  • بھارتی نصابی کتاب میں موہن جو دڑو کی ‘ڈانسنگ گرل’ کی پر تنازع آخر ہے کیا؟

    بھارتی نصابی کتاب میں موہن جو دڑو کی ‘ڈانسنگ گرل’ کی پر تنازع آخر ہے کیا؟

    بھارت میں نویں جماعت کے لیے شائع ہونے والی ایک نئی درسی کتاب میں وادی سندھ کے قدیم شہر موہن جو دڑو سے ملنے والے سمبارا المعروف ڈانسنگ گرل کی تصویر کی شکل تبدیل کرنے کے بعد شدید تنقید کی وجہ سے بھارٹ سرکار تبدیل شدہ تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نویں جماعت کے لیے شائع ہونے والی ایک نئی درسی کتاب میں مجسمے کی تصویر کے دھڑ کے حصے کو گہرے رنگ کے شیڈ سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ ناقدین نے اسے تاریخی ورثے کی اصل شکل کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ تعلیمی مواد میں آثارِ قدیمہ کو ان کی اصل حالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ جس کے بعد حکومت نے تبدیل شدہ تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    شدید ردعمل کے بعد بھارتی حکام نے اعلان کیا کہ ترمیم شدہ تصویر واپس لے لی جائے گی۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کے ڈائریکٹر دنیش سکلانی کے مطابق کتاب کے ڈیجیٹل ایڈیشن میں اصل تصویر بحال کر دی گئی ہے جبکہ آئندہ شائع ہونے والے طباعتی نسخوں میں بھی غیر ترمیم شدہ تصویر شامل ہوگی۔

    وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والے دنیا کے معروف ترین آثارِ قدیمہ میں شامل ‘ڈانسنگ گرل’ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ اس بار وجہ اس کا تاریخی پس منظر نہیں بلکہ بھارت کی ایک نئی نصابی کتاب میں اس کی تصویر میں کی گئی تبدیلی ہے، جس نے مورخین، ماہرینِ تعلیم اور ثقافتی ورثے کے محافظوں میں شدید تشویش پیدا کر دی۔

    ڈانسنگ گرل کون ہے؟

    ڈانسنگ گرل وادیٔ سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھنے والا ایک کانسی کا مجسمہ ہے جو تقریباً 2500 قبل مسیح کا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی صرف 10.5 سینٹی میٹر ہے، لیکن آثارِ قدیمہ کی دنیا میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔

    یہ مجسمہ ایک نوجوان لڑکی کو دکھاتا ہے جو انتہائی پراعتماد انداز میں کھڑی ہے۔ ایک ہاتھ اس کی کمر پر ہے جبکہ دوسرا نیچے کی جانب ہے۔ اس کے بازو متعدد چوڑیوں سے سجے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مجسمے کا انداز، جسمانی توازن اور دھات سازی کی تکنیک اس بات کا ثبوت ہیں کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب فنون اور دھات کاری میں غیرمعمولی مہارت رکھتی تھی۔

    یہ تاریخی مجسمہ 1926 میں سندھ کے تاریخی شہر موہن جو دڑو میں کھدائی کے دوران دریافت ہوا تھا۔ موہن جو دڑو وادیٔ سندھ کی تہذیب کے سب سے بڑے اور اہم شہری مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مقام موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

    برطانوی دور میں دریافت ہونے والے اس مجسمے کو تقسیمِ ہند کے بعد ہونے والی نوادرات کی تقسیم کے دوران بھارت کے حصے میں دیا گیا تھا۔ آج ڈانسنگ گرل کا اصل کانسی کا مجسمہ نئی دہلی کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہے اور اسے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے نمایاں ترین نوادرات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں موہن جو دڑو اور دیگر عجائب گھروں میں اس کی نقول اور تصاویر موجود ہیں، جبکہ اصل مجسمہ بھارت کے پاس ہے, بھارت سرکار وادی سندھ کی تہذیب پر چھوٹا دعوی کرتی آئی ہے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق ڈانسنگ گرل کی تصویر کئی دہائیوں سے بھارتی نصابی کتابوں میں شائع ہوتی رہی ہے اور ماضی میں کبھی بھی اس کی جسمانی ساخت کو ڈھانپنے یا تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے نئی کتاب میں تصویر کو ترمیم شدہ شکل میں شائع کرنے پر سوالات اٹھے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ قدیم آثارِ قدیمہ کو موجودہ سماجی یا ثقافتی معیارات کے مطابق تبدیل کرنا تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ڈانسنگ گرل کی اہمیت اس کے لباس یا جسمانی خدوخال میں نہیں بلکہ اس کے اعتماد، فنکارانہ اظہار اور اس تہذیب کی نمائندگی میں ہے جس نے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل برصغیر میں شہری زندگی کی بنیاد رکھی۔

    بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنے اداریے میں لکھا کہ ڈانسنگ گرل کی اصل اہمیت اس کی خود اعتمادی، وقار اور مضبوط موجودگی میں ہے۔ اخبار کے مطابق تعلیم کا مقصد نوجوانوں کو تاریخ اور دنیا کو اس کی حقیقی شکل میں سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے، نہ کہ تاریخی نوادرات کو تبدیل شدہ انداز میں پیش کرنا۔

    یہ تنازع ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لے آیا ہے کہ کیا قدیم تہذیبوں کے آثار کو جدید حساسیت کے مطابق ڈھالنا چاہیے یا انہیں ان کی اصل شکل میں محفوظ اور پیش کیا جانا چاہیے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ موہن جو دڑو سے دریافت ہونے والی ڈانسنگ گرل آج بھی وادیٔ سندھ کی تہذیب کی سب سے طاقتور اور پہچانی جانے والی علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔