کراچی سے بدین کے زیرو پوائنٹ تک پھیلی سندھ کی ساحلی پٹی صدیوں سے ماہی گیروں کا مسکن رہی ہے۔
ان بستیوں کے بزرگ آج بھی ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب ان کے آباؤ اجداد خوشحال تھے، سمندر مچھلی سے بھرا رہتا تھا، دریائے سندھ کا میٹھا پانی ڈیلٹا تک پہنچتا تھا اور ساحلی علاقے زندگی سے بھرپور تھے۔
ان باتوں کو اکثر لوگ محض پرانی یادیں سمجھتے ہیں، لیکن معروف ماہی گیر رہنما مجید موٹانی کی نئی کتاب ’موجوں سے ماورا، ساحلی زندگی کے نشیب و فراز کی سرگزشت ‘ اس تاریخ کو دستاویزی شکل میں سامنے لاتی ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ انڈس ڈیلٹا کبھی قدرتی وسائل سے مالا مال تھا اور بیرونی حملہ آوروں کی نظریں بھی اسی دولت پر تھیں۔ آج یہی خطہ سمندر کی پیش قدمی، دریائے سندھ میں پانی کی کمی اور انسانی مداخلت کے باعث شدید تباہی کا شکار ہے۔
مجید موٹانی اپنی سرگزشت کے ذریعے صرف اپنی زندگی بیان نہیں کرتے بلکہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں آباد لاکھوں ماہی گیروں کی اجتماعی کہانی رقم کرتے ہیں۔ وہ دکھاتے ہیں کہ کس طرح گزشتہ ایک صدی کے دوران دریائے سندھ پر بیراجوں اور ڈیموں کی تعمیر کے بعد ڈیلٹا کا قدرتی نظام تیزی سے بگڑتا گیا، میٹھے پانی کی فراہمی کم ہوتی گئی، زرعی زمینیں سمندر برد ہوئیں اور ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔
مصنف کا تعلق کراچی کی قدیم ماہی گیر بستی ابراہیم حیدری سے ہے، تاہم ان کے آباؤ اجداد انڈس ڈیلٹا کے علاقے کے رہنے والے تھے۔ وہ کتاب میں پاکستان کی ان 17 کریکس کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں جو دریائے سندھ کو سمندر سے ملاتی ہیں اور جن کے کناروں پر کبھی بے شمار آبادیاں تھیں۔ ان میں سے چند کریکس اب بھارت کی حدود میں شامل ہوچکی ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ ان کے خاندان کا گاؤں چھان کریک کے مشرقی کنارے آباد تھا، جہاں سے بڑی تجارتی کشتیاں گزرتی تھیں۔ بعد میں دریائے سندھ نے اپنا راستہ بدلا اور ترچھان کریک وجود میں آگئی، جو کیٹی بندر کے قریب بہتی تھی۔
کتاب میں کیٹی بندر کی ماضی کی شان و شوکت کا بھی دلچسپ ذکر ملتا ہے۔ مجید موٹانی کے مطابق یہ کبھی سندھ کا اہم تجارتی مرکز تھا۔ 1818ء میں کیٹی بندر کی بلدیہ نے کراچی بلدیہ کی مالی مدد بھی کی تھی، مگر آج وہی شہر سمندر کے رحم و کرم پر ایک چھوٹے سے ماہی گیر قصبے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ہزاروں خاندان ہجرت کرچکے ہیں اور یہ بستی صرف حفاظتی بندوں اور سڑکوں کی وجہ سے باقی رہ گئی ہے۔
وہ یاد دلاتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے کیٹی بندر کے قریب لال چاول صاف کرنے کی ایک مشہور مل قائم تھی، مگر اب نہ وہ مل موجود ہے اور نہ ہی اس علاقے میں لال چاول کی کاشت ہوتی ہے۔ دریائے سندھ کا میٹھا پانی رک جانے کے بعد لاکھوں ایکڑ زرعی زمین سمندر نگل چکا ہے۔ زمینوں کے مالکان سندھ کے دوسرے علاقوں کو ہجرت کرگئے، جبکہ بے شمار ماہی گیر روزگار کی تلاش میں کراچی کی ساحلی بستیوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔
لانچ کی زندگی
مجید موٹانی کم عمری ہی میں ماہی گیری سے وابستہ ہوگئے تھے۔ ان کے والد کے پاس کئی لانچیں تھیں، مگر ان کا انتقال اس وقت ہوگیا جب مجید ابھی ساتویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ 1967ء میں والد کی وفات کے بعد انہوں نے عملی طور پر لانچ پر کام شروع کیا۔
وہ اپنی پہلی سمندری سفر کی کیفیت نہایت دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ لانچ کے مسلسل ہچکولوں سے انہیں شدید متلی ہوئی اور سارا کھانا باہر آگیا۔ کشتی کے ناکھوا نے انہیں تسلی دی کہ ابتدا میں ہر نئے ماہی گیر کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ چند ہی دنوں میں ان کا جسم سمندر کی لہروں کا عادی ہوگیا اور پھر انہیں کبھی سمندری بیماری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
کتاب میں سمندر میں کام کرنے والے ماہی گیروں کی روزمرہ زندگی، خطرات، طوفانوں، لانچوں کی دیکھ بھال اور مچھلی کے شکار کے مختلف مراحل کو بھی سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی کہانی
مجید موٹانی نے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کراچی کی تاریخ اور کردار پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق یہ ادارہ برطانوی دور میں ماہی گیروں کی فلاح کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر بعد میں بدعنوانی کا شکار ہوگیا۔
وہ لکھتے ہیں کہ ہر لانچ اپنے شکار کی فروخت پر 25.6 فیصد کمیشن سوسائٹی کو دیتی ہے۔ اس کے بدلے ماہی گیروں کو جال بنانے کا دھاگا، رسیاں، انجن اور دیگر سامان بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے کم قیمت پر فراہم کیا جاتا تھا۔ ماضی میں جاپانی انجن بھی ڈیوٹی فری درآمد کرکے ماہی گیروں کو دیے گئے، جس سے بادبانی کشتیوں کی جگہ انجن والی لانچوں نے لے لی۔
مصنف کی بیٹی فاطمہ مجید اس وقت فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی چیئرپرسن ہیں۔ کتاب کے مطابق انہوں نے ادارے میں موجود کرپشن کے خاتمے کی کوشش کی اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ رقم ماہی گیروں کی امانت ہے اور انہی کی فلاح پر خرچ ہوگی۔
مجید موٹانی خود بھی لانچوں کے انجنوں کے ماہر مکینک ہیں۔ ابراہیم حیدری میں ان کی ورکشاپ آج بھی مختلف لانچوں کے انجنوں کی مرمت کرتی ہے۔
پاک بھارت سرحد اور ماہی گیر قیدی
کتاب کا سب سے متاثر کن حصہ ان ماہی گیروں کی داستانیں ہیں جو برسوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع کا شکار ہوتے رہے ہیں۔
مصنف لکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے ماہی گیر اکثر سمندر میں غیر ارادی طور پر سرحد عبور کر جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں گرفتار کرکے لانچوں سمیت جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ بہت سے ماہی گیر برسوں تک قید رہتے ہیں اور بعض اپنی رہائی سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔
وہ 1965ء کی جنگ کے دوران گرفتار ہونے والے ایک ماہی گیر کارو ڈگانی کا واقعہ بھی بیان کرتے ہیں۔ اس کی کشتی کئی دن تک واپس نہ آئی تو پورا گاؤں پریشان ہوگیا۔ دو ماہ بعد بھارت کی جیل سے بھیجا گیا ایک خط ملا، جس سے معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہیں۔ تقریباً چھ ماہ بعد رہائی ملی، مگر بھارتی اہلکار انہیں سرحد کے قریب ویرانے میں چھوڑ کر چلے گئے۔ محدود خوراک اور پانی کے ساتھ یہ ماہی گیر دو دن اور دو رات پیدل چلتے ہوئے تھر کے ایک گاؤں پہنچے، جہاں مقامی لوگوں نے ان کی مدد کی اور انہیں کراچی پہنچایا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان تعلقات آج تک قائم ہیں اور رشتہ داریاں بھی ہوگئی ہیں۔
مجید موٹانی اپنی گرفتاری کا احوال بھی بیان کرتے ہیں۔ 12 جنوری 1988ء کو وہ اپنے 17 ساتھیوں کے ساتھ لانچ الاقصیٰ پر مچھلی کا شکار کر رہے تھے کہ پہلے ایک بھارتی ہیلی کاپٹر اور پھر ایک بھارتی بحری جہاز ان کے قریب آگیا۔ انہوں نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ساتھیوں کو جال کاٹنے کا حکم دیا، مگر بھارتی جہاز نے لاؤڈ اسپیکر پر انجن بند کرنے کی وارننگ
دے دی۔ انکار کی صورت میں فائرنگ کی دھمکی دی گئی، جس کے بعد لانچ کا پورا عملہ گرفتار کرلیا گیا۔ ان کے ساتھ مزید چار پاکستانی لانچیں بھی تحویل میں لے لی گئیں۔
تمام ماہی گیروں کو بھارتی بندرگاہ اوکھا لے جایا گیا اور بعد میں جیل منتقل کردیا گیا۔ تقریباً چھ ماہ بعد قیدیوں کے تبادلے کے تحت مجید موٹانی اور ان کے ساتھی وطن واپس لوٹ سکے۔
ایک اہم دستاویز
’موجوں سے ماورا‘محض ایک خود نوشت نہیں بلکہ سندھ کے ساحلی علاقوں، انڈس ڈیلٹا، ماہی گیر ثقافت، ماحولیات، ہجرت، سرحدی تنازعات اور ریاستی پالیسیوں کا ایک اہم تاریخی ریکارڈ بھی ہے۔ کتاب میں ذاتی یادوں کے ساتھ ایسے حقائق اور مشاہدات شامل ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں میں سندھ کے ساحلی خطے میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے قدیم ماہی گیر بستیوں، ابراہیم حیدری، کیٹی بندر، کھاروچھان پر الگ الگ چیپٹر لکھے ہیں۔ اس طرح، موسمیاتی تبدیلیوں پر تفصیل سے لکھا ہے۔
مجید موٹانی ستاروں کی چال سے بھی اچھی طرح سے واقف ہیں، انہوں نے اس پر بھی ایک چیپٹر تحریر کیا ہے۔ مئی اور جون کے مہینوں کے دوران سمندر میں طوفان بنتے ہیں۔ ایک طوفان 1999 میں آیا تھا، جو انڈس ڈیلٹا کے ساحلوں یعنی ٹھٹہ، سجاول اور بدین اضلاع سے ٹکرایا تھا، جس سے کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان کے ساحل متاثر ہوئے تھے اور ماہی گیر بستیوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
’موجوں سے ماورا‘کتاب صرف ماہی گیروں یا سمندر سے وابستہ افراد ہی کے لیے نہیں بلکہ ماحولیات، تاریخ، سماجیات، آبی وسائل اور سندھ کی ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے ہر قاری کے لیے قابل مطالعہ ہے۔

