کراچی سے بدین کے زیرو پوائنٹ تک پھیلی سندھ کی ساحلی پٹی صدیوں سے ماہی گیروں کا مسکن رہی ہے۔
ان بستیوں کے بزرگ آج بھی ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب ان کے آباؤ اجداد خوشحال تھے، سمندر مچھلی سے بھرا رہتا تھا، دریائے سندھ کا میٹھا پانی ڈیلٹا تک پہنچتا تھا اور ساحلی علاقے زندگی سے بھرپور تھے۔
ان باتوں کو اکثر لوگ محض پرانی یادیں سمجھتے ہیں، لیکن معروف ماہی گیر رہنما مجید موٹانی کی نئی کتاب ’موجوں سے ماورا، ساحلی زندگی کے نشیب و فراز کی سرگزشت ‘ اس تاریخ کو دستاویزی شکل میں سامنے لاتی ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ انڈس ڈیلٹا کبھی قدرتی وسائل سے مالا مال تھا اور بیرونی حملہ آوروں کی نظریں بھی اسی دولت پر تھیں۔ آج یہی خطہ سمندر کی پیش قدمی، دریائے سندھ میں پانی کی کمی اور انسانی مداخلت کے باعث شدید تباہی کا شکار ہے۔
مجید موٹانی اپنی سرگزشت کے ذریعے صرف اپنی زندگی بیان نہیں کرتے بلکہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں آباد لاکھوں ماہی گیروں کی اجتماعی کہانی رقم کرتے ہیں۔ وہ دکھاتے ہیں کہ کس طرح گزشتہ ایک صدی کے دوران دریائے سندھ پر بیراجوں اور ڈیموں کی تعمیر کے بعد ڈیلٹا کا قدرتی نظام تیزی سے بگڑتا گیا، میٹھے پانی کی فراہمی کم ہوتی گئی، زرعی زمینیں سمندر برد ہوئیں اور ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔
مصنف کا تعلق کراچی کی قدیم ماہی گیر بستی ابراہیم حیدری سے ہے، تاہم ان کے آباؤ اجداد انڈس ڈیلٹا کے علاقے کے رہنے والے تھے۔ وہ کتاب میں پاکستان کی ان 17 کریکس کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں جو دریائے سندھ کو سمندر سے ملاتی ہیں اور جن کے کناروں پر کبھی بے شمار آبادیاں تھیں۔ ان میں سے چند کریکس اب بھارت کی حدود میں شامل ہوچکی ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ ان کے خاندان کا گاؤں چھان کریک کے مشرقی کنارے آباد تھا، جہاں سے بڑی تجارتی کشتیاں گزرتی تھیں۔ بعد میں دریائے سندھ نے اپنا راستہ بدلا اور ترچھان کریک وجود میں آگئی، جو کیٹی بندر کے قریب بہتی تھی۔
کتاب میں کیٹی بندر کی ماضی کی شان و شوکت کا بھی دلچسپ ذکر ملتا ہے۔ مجید موٹانی کے مطابق یہ کبھی سندھ کا اہم تجارتی مرکز تھا۔ 1818ء میں کیٹی بندر کی بلدیہ نے کراچی بلدیہ کی مالی مدد بھی کی تھی، مگر آج وہی شہر سمندر کے رحم و کرم پر ایک چھوٹے سے ماہی گیر قصبے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ہزاروں خاندان ہجرت کرچکے ہیں اور یہ بستی صرف حفاظتی بندوں اور سڑکوں کی وجہ سے باقی رہ گئی ہے۔
وہ یاد دلاتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے کیٹی بندر کے قریب لال چاول صاف کرنے کی ایک مشہور مل قائم تھی، مگر اب نہ وہ مل موجود ہے اور نہ ہی اس علاقے میں لال چاول کی کاشت ہوتی ہے۔ دریائے سندھ کا میٹھا پانی رک جانے کے بعد لاکھوں ایکڑ زرعی زمین سمندر نگل چکا ہے۔ زمینوں کے مالکان سندھ کے دوسرے علاقوں کو ہجرت کرگئے، جبکہ بے شمار ماہی گیر روزگار کی تلاش میں کراچی کی ساحلی بستیوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔
لانچ کی زندگی
مجید موٹانی کم عمری ہی میں ماہی گیری سے وابستہ ہوگئے تھے۔ ان کے والد کے پاس کئی لانچیں تھیں، مگر ان کا انتقال اس وقت ہوگیا جب مجید ابھی ساتویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ 1967ء میں والد کی وفات کے بعد انہوں نے عملی طور پر لانچ پر کام شروع کیا۔
وہ اپنی پہلی سمندری سفر کی کیفیت نہایت دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ لانچ کے مسلسل ہچکولوں سے انہیں شدید متلی ہوئی اور سارا کھانا باہر آگیا۔ کشتی کے ناکھوا نے انہیں تسلی دی کہ ابتدا میں ہر نئے ماہی گیر کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ چند ہی دنوں میں ان کا جسم سمندر کی لہروں کا عادی ہوگیا اور پھر انہیں کبھی سمندری بیماری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
کتاب میں سمندر میں کام کرنے والے ماہی گیروں کی روزمرہ زندگی، خطرات، طوفانوں، لانچوں کی دیکھ بھال اور مچھلی کے شکار کے مختلف مراحل کو بھی سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی کہانی
مجید موٹانی نے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کراچی کی تاریخ اور کردار پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق یہ ادارہ برطانوی دور میں ماہی گیروں کی فلاح کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر بعد میں بدعنوانی کا شکار ہوگیا۔
وہ لکھتے ہیں کہ ہر لانچ اپنے شکار کی فروخت پر 25.6 فیصد کمیشن سوسائٹی کو دیتی ہے۔ اس کے بدلے ماہی گیروں کو جال بنانے کا دھاگا، رسیاں، انجن اور دیگر سامان بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے کم قیمت پر فراہم کیا جاتا تھا۔ ماضی میں جاپانی انجن بھی ڈیوٹی فری درآمد کرکے ماہی گیروں کو دیے گئے، جس سے بادبانی کشتیوں کی جگہ انجن والی لانچوں نے لے لی۔
مصنف کی بیٹی فاطمہ مجید اس وقت فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی چیئرپرسن ہیں۔ کتاب کے مطابق انہوں نے ادارے میں موجود کرپشن کے خاتمے کی کوشش کی اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ رقم ماہی گیروں کی امانت ہے اور انہی کی فلاح پر خرچ ہوگی۔
مجید موٹانی خود بھی لانچوں کے انجنوں کے ماہر مکینک ہیں۔ ابراہیم حیدری میں ان کی ورکشاپ آج بھی مختلف لانچوں کے انجنوں کی مرمت کرتی ہے۔
پاک بھارت سرحد اور ماہی گیر قیدی
کتاب کا سب سے متاثر کن حصہ ان ماہی گیروں کی داستانیں ہیں جو برسوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع کا شکار ہوتے رہے ہیں۔
مصنف لکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے ماہی گیر اکثر سمندر میں غیر ارادی طور پر سرحد عبور کر جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں گرفتار کرکے لانچوں سمیت جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ بہت سے ماہی گیر برسوں تک قید رہتے ہیں اور بعض اپنی رہائی سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔
وہ 1965ء کی جنگ کے دوران گرفتار ہونے والے ایک ماہی گیر کارو ڈگانی کا واقعہ بھی بیان کرتے ہیں۔ اس کی کشتی کئی دن تک واپس نہ آئی تو پورا گاؤں پریشان ہوگیا۔ دو ماہ بعد بھارت کی جیل سے بھیجا گیا ایک خط ملا، جس سے معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہیں۔ تقریباً چھ ماہ بعد رہائی ملی، مگر بھارتی اہلکار انہیں سرحد کے قریب ویرانے میں چھوڑ کر چلے گئے۔ محدود خوراک اور پانی کے ساتھ یہ ماہی گیر دو دن اور دو رات پیدل چلتے ہوئے تھر کے ایک گاؤں پہنچے، جہاں مقامی لوگوں نے ان کی مدد کی اور انہیں کراچی پہنچایا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان تعلقات آج تک قائم ہیں اور رشتہ داریاں بھی ہوگئی ہیں۔
مجید موٹانی اپنی گرفتاری کا احوال بھی بیان کرتے ہیں۔ 12 جنوری 1988ء کو وہ اپنے 17 ساتھیوں کے ساتھ لانچ الاقصیٰ پر مچھلی کا شکار کر رہے تھے کہ پہلے ایک بھارتی ہیلی کاپٹر اور پھر ایک بھارتی بحری جہاز ان کے قریب آگیا۔ انہوں نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ساتھیوں کو جال کاٹنے کا حکم دیا، مگر بھارتی جہاز نے لاؤڈ اسپیکر پر انجن بند کرنے کی وارننگ
دے دی۔ انکار کی صورت میں فائرنگ کی دھمکی دی گئی، جس کے بعد لانچ کا پورا عملہ گرفتار کرلیا گیا۔ ان کے ساتھ مزید چار پاکستانی لانچیں بھی تحویل میں لے لی گئیں۔
تمام ماہی گیروں کو بھارتی بندرگاہ اوکھا لے جایا گیا اور بعد میں جیل منتقل کردیا گیا۔ تقریباً چھ ماہ بعد قیدیوں کے تبادلے کے تحت مجید موٹانی اور ان کے ساتھی وطن واپس لوٹ سکے۔
ایک اہم دستاویز
’موجوں سے ماورا‘محض ایک خود نوشت نہیں بلکہ سندھ کے ساحلی علاقوں، انڈس ڈیلٹا، ماہی گیر ثقافت، ماحولیات، ہجرت، سرحدی تنازعات اور ریاستی پالیسیوں کا ایک اہم تاریخی ریکارڈ بھی ہے۔ کتاب میں ذاتی یادوں کے ساتھ ایسے حقائق اور مشاہدات شامل ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں میں سندھ کے ساحلی خطے میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے قدیم ماہی گیر بستیوں، ابراہیم حیدری، کیٹی بندر، کھاروچھان پر الگ الگ چیپٹر لکھے ہیں۔ اس طرح، موسمیاتی تبدیلیوں پر تفصیل سے لکھا ہے۔
مجید موٹانی ستاروں کی چال سے بھی اچھی طرح سے واقف ہیں، انہوں نے اس پر بھی ایک چیپٹر تحریر کیا ہے۔ مئی اور جون کے مہینوں کے دوران سمندر میں طوفان بنتے ہیں۔ ایک طوفان 1999 میں آیا تھا، جو انڈس ڈیلٹا کے ساحلوں یعنی ٹھٹہ، سجاول اور بدین اضلاع سے ٹکرایا تھا، جس سے کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان کے ساحل متاثر ہوئے تھے اور ماہی گیر بستیوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
’موجوں سے ماورا‘کتاب صرف ماہی گیروں یا سمندر سے وابستہ افراد ہی کے لیے نہیں بلکہ ماحولیات، تاریخ، سماجیات، آبی وسائل اور سندھ کی ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے ہر قاری کے لیے قابل مطالعہ ہے۔
کراچی کے ساحل پر لہروں کے ساتھ جینے والے ہزاروں ماہی گیروں میں عبدالمجید موٹانی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے لیے سمندر صرف روزگار کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہی ان کا گھر، ان کا ٹریننگ ورکشاپ اور ماہی گیر برادری کے حقوق کے لیے جدوجہد کا میدان بھی رہا ہے۔
بچپن میں والد کی لانچ پر مچھلی کے شکار سے آغاز کرنے والے موٹانی بعد میں نہ صرف ماہی گیری کے شعبے میں ایک تجربہ کار نام بنے بلکہ ماہی گیروں کے حقوق کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط آواز کے طور پر بھی سامنے آئے۔ انجمن سماجی بہبود، ابراہیم حیدری سے لے کر پاکستان فشر فوک فورم تک، ان کا سفر کراچی کی ساحلی بستیوں کی کئی دہائیوں کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
75 سالہ عبدالمجید موٹانی اس نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے کراچی کو ایک روایتی ماہی گیری کے ساحل سے تیزی سے پھیلتے ہوئے شہری مرکز میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ ان کی زندگی صرف ذاتی جدوجہد کی کہانی نہیں بلکہ ان ہزاروں خاندانوں کی نمائندگی بھی کرتی ہے جن کی زندگی سمندر سے جڑی ہوئی ہے۔
کراچی کی سب سے بڑی ماہی گیر بستی ابراہیم حیدری کے ایک روایتی مچھیرا خاندان میں پیدا ہونے والے عبدالمجید موٹانی نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سمندر میں گزارا ہے۔ بچپن ہی سے وہ اپنے والد کے ساتھ لانچ پر جایا کرتے تھے اور مچھلی کے شکار کے عمل سے آشنا ہوگئے تھے، لیکن ان کی اصل دلچسپی شکار سے زیادہ لانچ کے انجن کو سمجھنے، کھولنے اور اس کی مرمت کرنے میں تھی۔
مجید موٹانی بتاتے ہیں، ’’میں صرف ساتویں جماعت تک پڑھ سکا تھا اور تقریباً 13 یا 14 سال کی عمر میں باقاعدہ لانچ پر جانا شروع کردیا تھا۔‘‘
وہ یاد کرتے ہیں کہ جب وہ ساتویں جماعت میں تھے تو 1967 میں ان کے والد انتقال کر گئے۔ والد کی وفات کے بعد گھر اور کاروبار کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آگئی، جس کے باعث انہیں تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی اور خاندان کے روزگار کو سنبھالنا پڑا۔
ان کے مطابق ان کے والد کے پاس دو لانچیں تھیں۔ والد کے انتقال کے فوراً بعد انہوں نے ان میں سے ایک لانچ، جس کا نام ’آزاد کشمیر‘ تھا، پر کام شروع کردیا۔
مجید موٹانی کہتے ہیں، ’’میں مسلسل تین سال تک اسی لانچ پر رہا اور اس دوران گھر بھی نہیں گیا۔‘‘
وہ بتاتے ہیں کہ صرف ایک مہینے کے اندر وہ لانچ چلانے لگے اور ڈرائیور کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ تین سال بعد انہوں نے والد کی دوسری لانچ ’الاقصیٰ‘ پر کام شروع کردیا، جہاں ان کا تجربہ مزید بڑھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ اُس زمانے میں جاپانی انجن ابھی مارکیٹ میں آنا شروع نہیں ہوئے تھے اور زیادہ تر لانچوں میں انگلینڈ میں تیار ہونے والے انجن استعمال کیے جاتے تھے۔ یہ انجن کراچی فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے ذریعے برطانیہ سے ڈیوٹی فری درآمد کیے جاتے تھے اور ماہی گیری کے شعبے میں انہی کا زیادہ استعمال تھا۔
مجید موٹانی کی دلچسپی وقت کے ساتھ انجنوں کی مرمت اور تکنیکی کام کی طرف بڑھتی گئی۔ انہوں نے لانچ انجن کے تجربہ کار کاریگروں کے ساتھ کام کیا اور مختصر عرصے میں اس شعبے میں مہارت حاصل کرلی۔ بعد میں وہ علاقے میں ’انجن ماسٹر‘ کے نام سے پہچانے جانے لگے۔
آج ان کے کئی درجن شاگرد خود ماہر انجن مکینک بن چکے ہیں اور ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ مجید موٹانی نے اپنے ایک بیٹے کو بھی اسی شعبے میں تربیت دی اور اسے لانچ انجن کا ماہر بنایا۔
عبدالمجید موٹانی کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ ان کی اہلیہ، ماہی گیر بستیوں کی بہت سی دوسری خواتین کی طرح، گھر اور خاندان کی ذمہ داریاں سنبھالتی رہی ہیں۔ ساحلی علاقوں میں یہ عام تصور پایا جاتا ہے کہ چونکہ مرد اکثر لمبے عرصے کے لیے سمندر میں رہتے ہیں، اس لیے گھریلو زندگی اور فیصلوں میں خواتین مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔
وقت کے ساتھ ماہی گیر خواتین کا کردار بھی تبدیل ہوا ہے اور اب بہت سی خواتین جال بنانے، جھینگوں کی صفائی اور دیگر معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ مجید موٹانی کے خاندان میں بھی یہ تبدیلی نظر آتی ہے۔ ان کی ایک صاحبزادی، فاطمہ مجید، اس وقت فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کراچی کی چیئرپرسن ہیں اور ماہی گیر برادری کی نمائندگی کر رہی ہیں۔
انڈین نیوی کے ہاتھوں گرفتاری اور گجرات کی جیل میں قید
12 جنوری 1988 کو مجید موٹانی حسبِ معمول اپنی لانچ الاقصیٰ پر دیگر پاکستانی ماہی گیروں کے ساتھ گہرے سمندر میں مچھلی کے شکار کے لیے موجود تھے۔ شام ہونے والی تھی۔ سندھ کے ساحلی علاقے کے قریب کاجر کریک کے اطراف کئی پاکستانی لانچیں شکار کی تیاری کر رہی تھیں اور جال ڈالے جا رہے تھے کہ اچانک انڈین نیوی کا ایک بحری جہاز وہاں پہنچ گیا۔
مجید موٹانی اس دن کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ’انڈین بحری جہاز کے ساتھ ایک ہیلی کاپٹر بھی تھا جو ہمارے سروں کے اوپر مسلسل پرواز کرتا رہا۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ہماری پانچ لانچیں، جن میں ایک لانچ بلوچستان سے جبکہ باقی کراچی کی تھیں، عملے سمیت اپنی تحویل میں لے لیں۔‘
گرفتاری کے بعد انڈین نیوی نے پانچوں لانچوں اور مجموعی طور پر 66 پاکستانی ماہی گیروں کو گجرات کی ریاست میں واقع دوارکا بندرگاہ منتقل کردیا۔ اگلے ہی روز تمام ماہی گیروں کو جام نگر جیل بھیج دیا گیا، جو دوارکا سے تقریباً 175 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی۔
مجید موٹانی کے مطابق، ’ہمیں ابتدائی 17 دن تک بغیر کسی عدالتی کارروائی یا سماعت کے جام نگر جیل میں رکھا گیا۔ اس کے بعد ہمیں دوبارہ دوارکا لے جایا گیا تاکہ عدالت میں پیش کیا جا سکے۔ عدالت میں پیشی کے لیے ہمیں دو بسوں میں منتقل کیا جاتا تھا۔ چونکہ جام نگر سے دوارکا کا فاصلہ کافی زیادہ تھا، اس لیے سفر میں کئی گھنٹے لگ جاتے تھے۔ بعد میں اسی مشکل کے باعث ہمیں پوربندر جیل منتقل کر دیا گیا، جو دوارکا سے تقریباً 100 کلومیٹر دور تھی۔‘
ان 66 پاکستانی ماہی گیروں کو پوربندر جیل میں منتقل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت وہاں پہلے سے تقریباً 110 پاکستانی ماہی گیر قید تھے۔ سرحدی سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزامات پر پاکستانی ماہی گیروں کی گرفتاریاں اُس دور میں معمول بن چکی تھیں اور بہت سے ماہی گیر برسوں تک رہائی کے منتظر رہتے تھے۔
مجید موٹانی خود کو خوش قسمت قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کی رہائی نسبتاً جلد ممکن ہو گئی۔ ان کے مطابق اس سے پہلے گرفتار ہونے والے کئی پاکستانی ماہی گیر طویل عرصے تک انڈین جیلوں میں قید رہے اور بعض کی واپسی برسوں تک ممکن نہ ہو سکی۔ اس صورتحال نے نہ صرف ان ماہیگیروں کے خاندانوں کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کیا بلکہ قید کی سختیوں اور غیر یقینی حالات نے ان ماہی گیروں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے بتایا کہ 1987 میں پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (ایم ایس اے) قائم ہوئی تھی اور قیام کے بعد 1988 کے دوران پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کے طور پر متعدد انڈین لانچوں اور ماہی گیروں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ جب
دونوں جانب گرفتار ماہی گیروں کی تعداد بڑھنے لگی تو انڈیا میں ماہی گیروں کی نمائندہ تنظیموں کے دباؤ کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان قیدی ماہی گیروں کے تبادلے پر بات چیت شروع ہوئی۔
اس سلسلے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت دونوں ممالک کے وفود ایک دوسرے کے ملک جا کر قیدی ماہی گیروں کی رہائی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیں گے۔
اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کراچی کی جانب سے 14 رکنی پاکستانی وفد اوکھا بندرگاہ پہنچا، جس میں سرکاری حکام، لانچ مالکان اور ماہی گیروں کے نمائندے شامل تھے۔ مجید موٹانی کے ایک بھائی بھی اس وفد کا حصہ تھے۔ پاکستانی وفد نے پوربندر میں انڈین وفد سے ملاقات کی، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے گرفتار ماہی گیروں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا۔
اس معاہدے کے نتیجے میں 30 مئی 1988 کو تقریباً 175 پاکستانی قیدی ماہی گیروں کو آزادی ملی۔
مجید موٹانی کہتے ہیں، ’رہائی کے بعد ہم نے اپنی تمام 14 لانچیں دوبارہ اپنے قبضے میں لیں۔ میری لانچ سمیت دو لانچیں اوکھا بندر پر کھڑی تھیں، جن کی میں نے خود مرمت کی۔ اس کے بعد ہم اپنی لانچ میں سوار ہو کر واپس پاکستان روانہ ہوئے۔‘
ستاروں سے کھلے سمندر میں سمت کا تعین
مجید موٹانی کی ایک منفرد مہارت کھلے سمندر میں رات کے وقت آسمان کے ستاروں کی مدد سے سمت کا تعین کرنا بھی ہے۔ ان کے لیے یہ صرف ایک روایتی علم نہیں بلکہ برسوں کے عملی تجربے اور نسل در نسل منتقل ہونے والی سمندری دانش کا حصہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ستاروں کو پڑھنے اور ان کی مدد سے راستہ تلاش کرنے کا فن انہوں نے اپنی لانچ پر کام کرنے والے تجربہ کار ناکھواؤں سے سیکھا۔ ان کے مطابق آج سے چند دہائیاں پہلے نہ کمپاس عام تھا اور نہ جدید نیویگیشن کے دیگر آلات موجود تھے، اس لیے ہر ناکھوا کے لیے ستاروں کے ذریعے سمت معلوم کرنا بنیادی مہارت سمجھی جاتی تھی۔
مجید موٹانی کہتے ہیں کہ آج کل لانچ کے سربراہ کو عموماً ’ناخدا‘ کہا جاتا ہے، لیکن ان کے مطابق اس لفظ کی اصل شکل ’ناکھوا‘ ہے، جو روایتی ساحلی زبان اور سمندری ثقافت سے جڑا ہوا لفظ ہے۔
ان کے مطابق مختلف موسموں میں آسمان پر مختلف ستارے نمودار ہوتے ہیں اور تجربہ کار ماہی گیر ان ستاروں کی حرکت، طلوع اور غروب کو دیکھ کر موسم کا اندازہ لگاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں یہی علم بارشوں، ہواؤں اور سمندری حالات کی پیش گوئی کا اہم ذریعہ تھا۔
مجید موٹانی بتاتے ہیں، ’آج کل موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بارشوں اور سمندری طوفانوں کی پیش گوئی پہلے کی نسبت مشکل ہوگئی ہے، لیکن اس کے باوجود ستاروں کو دیکھ کر کافی حد تک اندازہ ہوجاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں موسم کی صورتحال کیسی رہ سکتی ہے۔‘
کراچی کے ساحلی علاقوں کے دیگر ماہی گیروں کی طرح مجید موٹانی کے خاندان کا انحصار بھی روزانہ کی بنیاد پر مچھلی کے شکار اور ساحل و جزیروں کے درمیان موسمی نقل و حرکت پر رہا ہے۔ اسی وجہ سے موسم، سمندری لہروں، ہوا کے رخ اور آسمانی تبدیلیوں کا مشاہدہ ان کی زندگی کا لازمی حصہ بن گیا۔ وقت کے ساتھ یہ مشاہدہ صرف روزگار کی ضرورت نہیں رہا بلکہ ایک عملی علم میں تبدیل ہوگیا، جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔
مجید موٹانی کے مطابق سمت معلوم کرنے کے لیے وہ ہمیشہ قطب ستارے کو بنیادی حوالہ مانتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قطب ستارہ شمال کی مستقل سمت ظاہر کرتا ہے اور اسی بنیاد پر باقی سمتوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔
وہ سمجھاتے ہیں، ’ہم قطب ستارے کو شمال کی سمت یعنی صفر پوائنٹ تصور کرتے تھے۔ اگر سیدھا کندھا شمال کی طرف ہو تو چہرے کا رخ مغرب، الٹا کندھا جنوب اور پیٹھ مشرق کی طرف شمار کی جاتی تھی۔ اسی اصول کے تحت ہم سمندر میں اپنی سمت کا تعین کرتے اور سفر جاری رکھتے تھے۔‘
مجید موٹانی کے مطابق آج کل ماہی گیر جدید آلات اور کمپاس استعمال کرتے ہیں، لیکن بنیادی طور پر کمپاس بھی اسی اصول پر کام کرتا ہے جس کے ذریعے سمت کا تعین روایتی طور پر قطب ستارے سے کیا جاتا تھا۔ البتہ پرانے ناکھوا کمپاس اس وقت استعمال کرتے تھے جب بادلوں کی وجہ سے رات کے وقت قطب ستارہ نظر نہ آتا ہو۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ قطب ستارے کے گرد ایک اور ستارہ گردش کرتا دکھائی دیتا ہے جسے مقامی زبان میں ’چوکی‘ کہا جاتا ہے، اور تجربہ کار ماہی گیر اس کی مدد سے بھی سمت اور وقت کا اندازہ لگاتے تھے۔
مجید موٹانی اپنے استاد کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’ہماری کشتی آزاد کشمیر کے ناکھوا صالح محمد، جن کی عمر 1972 میں بھی تقریباً 70 سال تھی، وہ میرے استاد تھے۔ انہی نے مجھے ستاروں، موسم اور سمندر سے جڑی یہ تمام باتیں سکھائیں۔‘
وہ مزید بتاتے ہیں کہ ماہی گیروں کے روایتی علم میں بعض ستاروں کے ظاہر اور غائب ہونے کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اپریل اور مئی کے دوران جب مچھلی کے شکار پر پابندی ہوتی ہے تو 20 مئی کے بعد ’ٹیڑو‘ نامی ستارہ تقریباً چالیس دن تک آسمان میں نظر نہیں آتا۔ اسی عرصے کے دوران 30 مئی کے بعد ’لدو‘ ستارہ بھی کچھ وقت کے لیے نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔
مجید موٹانی کے مطابق سمندر میں جوار اور بھاٹا بھی چاند کے حساب سے تبدیل ہوتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہر ہجری مہینے میں دو مرتبہ پانی کی سطح زیادہ بلند ہوتی ہے، ایک 13 سے 16 تاریخ کے دوران اور دوسری بار 28 تاریخ سے اگلے مہینے کی 2 تاریخ تک۔ اس دوران لہریں ساحل تک زیادہ شدت سے پہنچتی ہیں۔
ان کے مطابق جوار کا حساب صرف قمری مہینوں سے نہیں بلکہ عیسوی کیلنڈر اور موسم کے حساب سے بھی لگایا جاتا ہے۔ گرمیوں میں چونکہ دن لمبے ہوتے ہیں، اس لیے دن کے اوقات میں پانی نسبتاً زیادہ اوپر آتا ہے، جبکہ سردیوں میں رات لمبی ہونے کی وجہ سے رات کے وقت پانی کی سطح زیادہ بلند ہوتی ہے۔
قدیم زمانے میں ماہی گیروں کے پاس چاند دیکھنے اور نئے مہینے کا اندازہ لگانے کے بھی اپنے روایتی طریقے تھے۔ مجید موٹانی کے مطابق ماہی گیر عید اور اسلامی مہینوں کے چاند کی رویت میں خاص مہارت رکھتے تھے۔
وہ بتاتے ہیں، ’اگر 27 تاریخ کو فجر کے وقت مشرق میں چاند نظر نہ آئے تو اس کا مطلب ہوتا تھا کہ 29 تاریخ کی مغرب کے بعد نیا چاند نظر آنے کا امکان ہے اور مہینہ 29 دن کا ہوگا۔ اسی طرح اگر 28 تاریخ کو فجر کے بعد بھی چاند نظر نہ آئے تو اندازہ کیا جاتا تھا کہ نیا چاند 30 تاریخ کی شام کو دکھائی دے گا اور مہینہ مکمل 30 دن کا ہوگا۔‘
یہ روایتی علم آج جدید آلات اور ٹیکنالوجی کے دور میں کم ضرور ہوگیا ہے، مگر ساحلی علاقوں کے بزرگ ماہی گیر اب بھی اسے سمندر سے اپنے رشتے اور نسلوں کے تجربے کا ایک اہم حصہ سمجھتے ہیں۔
ماہی گیروں کی تنظیم سازی
سندھ کے ساحلی علاقوں میں صدیوں سے آباد ماہی گیر برادری اپنی محنت کے باوجود غربت، غیر یقینی روزگار اور حکومتی بے توجہی کا شکار رہی ہے۔ سمندر سے وابستہ یہ کمیونٹیز نہ صرف معاشی مسائل سے دوچار رہیں بلکہ طویل عرصے تک ان کے حقوق، سماجی تحفظ اور نمائندگی کے مؤثر نظام بھی موجود نہیں رہے۔ برطانوی دورِ حکومت میں کراچی کے ماہی گیروں کی فلاح اور ماہی گیری کے شعبے کو منظم کرنے کے مقصد سے 1945 میں فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی (ایف سی ایس) قائم کی گئی۔
اس سوسائٹی کا بنیادی مقصد ماہی گیروں کو بندرگاہی سہولیات فراہم کرنا، کشتیوں کی رجسٹریشن، مچھلی کی فروخت کے انتظامات اور دیگر متعلقہ خدمات مہیا کرنا تھا۔ کراچی فش ہاربر کے انتظام اور ماہی گیری کی سرگرمیوں میں بھی اس ادارے کا اہم کردار رہا ہے۔ اس کے قیام کا مقصد ماہی گیروں کی معاشی حالت بہتر بنانا، سمندری وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا اور مقامی ماہی گیری کی صنعت کو مضبوط بنانا تھا۔ کراچی کی معیشت میں اس شعبے کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں رہی ہے کیونکہ مچھلی اور سمندری مصنوعات کی برآمدات ملکی زرمبادلہ حاصل کرنے کے اہم ذرائع میں شمار ہوتی ہیں۔
عبدالمجید موٹانی بھی ایف سی ایس کے 58 سال سے رکن ہیں۔
تاہم ماہی گیروں کے مطابق سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود ایف سی ایس وقت کے ساتھ بدانتظامی اور کرپشن کے الزامات کی زد میں آتا رہا اور ماہی گیر برادری کی توقعات پوری نہ کرسکا۔ ماہی گیروں کے لیے اس ادارے کے علاوہ کوئی مؤثر اور مستقل نمائندہ پلیٹ فارم موجود نہیں تھا۔ اگرچہ سوسائٹی کے بورڈ میں ماہی گیروں کے منتخب نمائندے بھی شامل ہوتے تھے، لیکن سرکاری اراکین کی اکثریت کی وجہ سے اکثر فیصلے ماہی گیروں کے مفاد کے مطابق نہیں ہو پاتے تھے۔
دوسری جانب ماہی گیروں کو طویل عرصے تک مزدور قوانین کے تحت باقاعدہ مزدور تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ اس وجہ سے نہ وہ قانونی طور پر یونین سازی کرسکتے تھے اور نہ ہی سوشل سیکیورٹی یا دیگر مزدور فلاحی اداروں کی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ ایسے حالات میں اجتماعی تنظیم سازی اور حقوق کی جدوجہد کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جانے لگی۔
مجید موٹانی بتاتے ہیں کہ وہ اسی ماحول میں ماہی گیروں کی اجتماعی فلاح اور حقوق کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اور ان کے دیگر ساتھیوں نے ایک مقامی تنظیم انجمن فلاح و بہبود، ابراہیم حیدری قائم کی، جو مقامی سطح پر ماہیگیروں کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی تھی۔
وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان فشر فوک فورم کے قیام سے کئی سال پہلے ایشین کلچر ڈویلپمنٹ فورم کے تحت سری لنکا اور دیگر ممالک سے محنت کشوں کا ایک بڑا وفد پاکستان آیا تھا، جس میں مزدوروں، ماہی گیروں اور سماجی تنظیموں کے نمائندے بھی شامل تھے۔
اس وفد میں سری لنکا سے ہرمن کمارا اور کے ایم ٹی پریرا، انڈیا سے ڈاکٹر فلیکس، فلپائن سے ڈیوڈ گری، ڈاکٹر پدما لال، تھائی لینڈ سے پیشتر اور ولائی جبکہ پاکستان سے ہاری مزدوروں کے نمائندے سردار ظفر حسین سانگی شامل تھے۔ وفد نے کراچی کے ساحلی علاقوں کا دورہ کیا اور ماہی گیر برادری سے ملاقاتیں کرکے ان کے مسائل، روزگار اور سماجی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کی۔
مجید موٹانی بتاتے ہیں کہ یہ وفد جب ابراہیم حیدری پہنچا تو پہلے اس نے محمد علی شاہ جو اس وقت یونین کونسل ابراہیم حیدری میں ملازمت کرتے تھے، ملا۔
موٹانی کے مطابق، ’شاہ صاحب نے مجھے بلایا اور کہا کہ میرا شعبہ ماہی گیری نہیں ہے اور نہ ہی میں اس کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں، آپ چونکہ خود ماہی گیر ہیں، اس لیے آپ وفد کو ماہی گیروں کے مسائل سے تفصیل سے آگاہ کریں۔‘
عبدالمجید موٹانی نے وفد کو ماہی گیروں کے حالات، روزمرہ مشکلات اور ساحلی برادری کے مسائل کے بارے میں تفصیل مہیا کی۔ ان کے مطابق اسی ملاقات کے بعد انہیں پورے پاکستان کے ماہی گیروں کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا۔
اس کے بعد ان کو فلپائین اور سری لنکا بلایا گیا، جہاں انہوں نے پاکستانی ماہی گیروں کے مسائل پر بات کی۔ ’مجھے انگریزی زبان تو آتی نہیں تھی، مگر میرے دیرینہ دوست ظفر سانگی نے میری بہت مدد کی اور وہ ترجمہ کرکے مجھے بتاتے رہتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ سری لنکا کے دورے کے دوران انہیں وہاں کی ماہی گیروں کی تنظیموں کی فیڈریشن سے ملنے اور ان کے کام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے فیڈریشن کے رہنماؤں سے درخواست کی کہ وہ ماہی گیروں کی تنظیم سازی اور حقوق کی جدوجہد کے اپنے تجربات ان کے ساتھ شیئر کریں تاکہ پاکستان میں بھی اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
مجید موٹانی کے مطابق، ’انہوں نے مجھے ایک ہفتے تک اپنے ساتھ رکھا، اپنی رکن تنظیموں کا دورہ کرایا اور عملی طور پر سکھایا کہ ماہی گیروں کے مسائل کو منظم انداز میں کیسے اجاگر کیا جاتا ہے، کمیونٹی کو کس طرح متحرک کیا جاتا ہے اور اجتماعی حقوق کے لیے تنظیم سازی کیسے کی جاتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ سری لنکا کا یہ دورہ ان کی زندگی اور ماہی گیروں کی تنظیم سازی کے سفر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہاں انہیں نہ صرف ماہی گیروں کی تنظیموں کے کام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا بلکہ عملی طور پر یہ بھی سیکھنے کا موقع ملا کہ ماہی گیروں کے مسائل کو منظم انداز میں کیسے اجاگر کیا جاتا ہے، کمیونٹی کو کیسے متحرک کیا جاتا ہے اور اجتماعی حقوق کے لیے مؤثر تنظیم سازی کس طرح کی جاتی ہے۔
مجید موٹانی کے مطابق، ’میں نے وہاں سے عملی طور پر بہت کچھ سیکھا۔ پاکستان واپس آکر میں نے اپنے تمام مشاہدات، تجربات اور سیکھے گئے طریقہ کار کراچی کے معروف محقق علی ارسلان، پائلر کے سربراہ کرامت علی اور محمد علی شاہ کے ساتھ شیئر کیے۔ بعد میں انہی تجربات اور تنظیمی ماڈلز کو پاکستان فشر فوک فورم کی بنیاد رکھنے، تنظیم سازی کو مضبوط بنانے اور ماہی گیروں کی اجتماعی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں استعمال کیا گیا۔‘
بعد ازاں مجید موٹانی انڈیا، بنگلا دیش، تھائی لینڈ اور فلپائن میں ہونے والے ماہی گیروں کے علاقائی اور بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے اور پاکستان کے ساحلی مزدوروں کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
ماضی کو یاد کرتے ہوئے مجید موٹانی نے بتایا کہ جنوبی ایشیا کی معروف امن پسند سماجی رہنما نرملا دیش پانڈے سے ان کی متعدد ملاقاتیں رہیں۔ ان کے مطابق جب نرملا دیش پانڈے پاکستان آئیں تو انہوں نے دونوں ممالک کے ماہی گیروں کو سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزامات میں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالنے کے عمل پر سخت تنقید کی تھی۔
مجید موٹانی کے مطابق نرملا دیش پانڈے جو انڈین راجیا سبھا کی رکن تھی، کا مؤقف تھا کہ سرحدی تنازعات یا سیاسی اختلافات کی قیمت غریب ماہی گیروں کو ادا نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ وہ صرف روزگار کی تلاش میں سمندر کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایسے اقدامات کو انسانی اور قانونی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت دونوں سے مطالبہ کیا تھا کہ گرفتار ماہی گیروں کی فوری رہائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے۔
پاکستان کی مزدور تحریکوں اور ساحلی علاقوں کے مقامی رہنماؤں کے اشتراک سے ماہی گیروں نے 5 مئی 1998 کو کراچی میں پاکستان فشر فوک فورم کی باقائدہ بنیاد رکھی گئی۔ اس تنظیم کے چیئرمین مرحوم محمد علی شاہ منتخب ہوئے جبکہ عبدالمجید موٹانی کو کراچی ڈویژن کا صدر مقرر کیا گیا۔
یہ تنظیم ابتدا میں ایک سماجی اور حقوقی پلیٹ فارم کے طور پر قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد پاکستان کے ساحلی اور اندرونِ سندھ کے ماہی گیروں کے معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا تھا۔
ابتدائی دور میں اس فورم میں بنیادی طور پر سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر رہنما، مقامی سماجی کارکن، ماہی گیر برادری کے نمائندے اور پانی، ماحولیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد شامل تھے۔
تنظیم کی ابتدائی سرگرمیوں کا مرکز ابراہیم حیدری اور ٹھٹہ اور بدین کے دیگر ساحلی علاقے تھے، تاہم بعد میں یہ پلیٹ فارم وسعت اختیار کرتا ہوا سندھ اور بلوچستان کے مختلف ساحلی اور اندرونی ماہی گیر علاقوں تک پہنچ گیا۔ تنظیم نے
خواتین ماہی گیروں اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو بھی اپنی جدوجہد کا اہم حصہ بنایا، جس میں اہم کردار مرحوم طاہرہ شاہ اور فاطمہ مجید کا رہا۔
پاکستان فشر فوک فورم کے نمایاں اقدامات میں بدین کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیری پر رینجرز کی اجارہ داری کے خاتمے کی جدوجہد، سندھ بھر میں ماہی گیری کے ٹھیکیداری نظام کے خاتمے کی تحریک، نقصان دہ جالوں کے استعمال پر پابندی کے مطالبات اور ماہی گیروں کو مزدوروں کے طور پر تسلیم کروانے کی کوششیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان فشر فوک فورم نے پاکستان کی کھلے سمندر میں ماہی گیری کی پالیسی، جو کہ ’ڈیپ سی فشنگ لائسنسنگ پالیسی‘ کے نام سے شروع کی گئی تھی، کے خلاف منظم تحریک شروع کی۔ اس پالیسی کے تحت خصوصی اقتصادی سمندری حدود (EEZ) کو تین واضح حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ماہی گیروں کا مطالبہ تھا کہ اس پالیسی کے تحت بین الاقوامی بڑے بڑے ٹرالرز مچھلی کی نسلوں کو تباہ کردیں گے اور مقامی ماہی گیر بے روزگا ہوجائیں گے۔
اسی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ بعد ازاں سندھ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2013 میں مزدور کی تعریف میں ماہی گیروں کو بھی شامل کیا گیا، جس سے انہیں تنظیم سازی اور اپنے حقوق کے لیے قانونی جدوجہد کا راستہ ملا۔
برمی اور بنگالی ماہی گیروں کی جانب سے نقصاندہ جالوں کا استعمال
کراچی کے ساحلوں پر مقامی ماہی گیروں کے ساتھ ساتھ برمی اور بنگالی مہاجروں کے گروہوں نے بھی ماہی گیری شروع کی، جس کی وجہ سے مقامی ماہی گیروں کا روزگار متاثر ہوا۔مجید موٹانی بتاتے ہیں کہ خاص طور پر برمی مہاجر ماہی گیروں نے نقصاندہ جالوں جیسا کہ بولو، گجو اور قطرہ کا استعمال بڑھا دیا، جس کی وجہ سے سمندر میں مچھلیوں کی نسل کشی ہونے لگی۔ روایتی طور پر مقامی ماہیگیر رچھ لاڈو جال استعمال کرتے تھے جن کے اکھ (سوراخ) کا سائیز تین سے چار انچ ہوتا تھا۔ پاریوں جال خاص طور پر پاپلیٹ، سیری، کرغان کے شکار کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
مگر برمی ماہی گیروں کی جانب سے استعمال کردہ یہ باریک سوراخوں والے جال کم عمر مچھلیوں، جھینگوں اور مچھلی کے بچوں کو بھی پکڑ لیتے تھے، جس سے مچھلیوں کی افزائش شدید متاثر ہو رہی تھی۔ فورم کا مؤقف تھا کہ اگر ان جالوں کا استعمال نہ روکا گیا تو سمندری وسائل اور ماہی گیروں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔
پاکستان فشر فوک فورم نے ان نقصاندہ جالوں کے خلاف ایک منظم تحریک شروع کی۔ جس کے نتیجے میں سندھ حکومت نے 1995 میں ان نقصاندہ ماہی گیری کے جالوں پر باضابطہ پابندی عائد کی
تاہم مجید موٹانی کے مطابق پابندی کے باوجود کئی برس تک اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہوسکا اور ساحلی علاقوں میں بااثر حلقوں کی سرپرستی میں ان جالوں کا استعمال جاری رہا، جس کے خلاف فورم نے مسلسل احتجاج اور مہم چلائی۔
ماہی گیروں کی مستقل نقل مکانی
سندھ کے انڈس ڈیلٹا کا علاقہ قدیم زمانے سے ماہیگیروں کی ایک مشہور تہذیب کے طور جانا جاتا تھا، مگر وقت گذرنے ساتھ دریائے سندھ پر ڈیم اور بیراجز کی تعمیر کے باعث دریا کے بہائو میں کمی آنے لگی، جس کی وجہ سے ڈیلٹا کا پورا علاقہ تباہ ہوچکا ہے۔ کیٹی بندر سے لے کر شاہ بندر اور کھارو چھان کے ماضی کے ترقی یافتہ ساحلی علاقے اب اپنا وجود برقرار رکھنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ ماہی گیروں کی سینکڑوں بستیاں اجڑ چکی ہیں اور بڑی تعداد میں ماہی گیر کراچی کے ساحلی علاقوں میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔
کراچی کے ساحلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تاریخ صرف تعمیر و ترقی کی کہانی نہیں بلکہ قدیم ماہی گیر آبادیوں کی بے دخلی اور ان کے روایتی طرزِ زندگی کے خاتمے کی داستان بھی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بندرگاہوں، رہائشی منصوبوں اور صنعتی زونز کے قیام نے ساحل سے وابستہ مقامی آبادیوں کو ان کی زمینوں، روزگار اور سمندر تک رسائی سے محروم کیا۔
1970 کی دہائی میں کراچی کے ساحلی علاقوں میں بڑے ترقیاتی منصوبے، جیسے پورٹ قاسم اور پاکستان اسٹیل مل، قائم کیے گئے۔ یہ منصوبے اُن علاقوں میں بنائے گئے جو لٹھ بستی کے مشرق سے شروع ہو کر گگر پھاٹک سے سمندر کی جانب پھیلے ہوئے تھے۔ ان علاقوں میں صرف ماہی گیر ہی آباد نہیں تھے بلکہ یہاں مال مویشی پالنے والے، چھوٹی سطح پر کھیتی باڑی کرنے والے خاندان اور ساحلی وسائل پر انحصار کرنے والی دیگر برادریاں بھی نسلوں سے رہائش پذیر تھیں۔
اسی علاقے میں سمندر کے کنارے ایک پہاڑی کی چوٹی پر بزرگ حس شاہ کا مزار بھی واقع ہے، جہاں ہر سال روایتی میلہ منعقد ہوتا ہے۔ ابراہیم حیدری سمیت پورے ساحلی پٹی سے لوگ اس میلے میں شرکت کے لیے آتے رہے ہیں۔ یہ میلہ صرف ایک مذہبی روایت نہیں بلکہ ساحلی کمیونٹی کی ثقافتی شناخت کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
مقامی آبادی کے مطابق آج صورتحال یہ ہے کہ انہی علاقوں پر دوبارہ ریاستی اور ترقیاتی منصوبوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور ساحلی آبادیوں کو اپنے مستقبل کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔
مجید موٹانی کے مطابق جب کراچی کی دوسری بڑی بندرگاہ، پورٹ قاسم، کے قیام کا عمل شروع ہوا تو علاقے کے مقامی رہائشیوں کو وہاں سے بے دخل کردیا گیا۔ بے دخلی کے بعد بڑی تعداد میں خاندان مختلف علاقوں میں منتقل ہوئے اور کئی خاندان رزاق آباد جا کر آباد ہوئے۔
ان کے مطابق مقامی لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں روزگار، متبادل زمین اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے، لیکن نصف صدی گزرنے کے باوجود زیادہ تر خاندان ان وعدوں کے عملی نتائج سے محروم رہے۔
مجید موٹانی بتاتے ہیں کہ گذری کے ماہی گیر ماضی میں مچھلی کے شکار کے لیے سی ویو ساحل کے اُس حصے تک جاتے تھے جہاں آج ڈی ایچ اے کے مرین کلب وغیرہ قائم ہیں۔ یہ علاقہ روایتی طور پر ماہی گیروں کے زیر استعمال تھا، مگر وقت کے ساتھ انہیں وہاں جانے سے روک دیا گیا۔
ان کے مطابق اس صورتحال کے خلاف پاکستان فشر فوک فورم نے احتجاجی تحریک بھی چلائی۔ بعد میں ڈی ایچ اے انتظامیہ کی جانب سے ماہی گیروں کو سمندر تک رسائی کے لیے متبادل گزرگاہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی، لیکن مجید موٹانی کے مطابق آج بھی گذری کے ماہی گیر اس علاقے تک آزادانہ رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔
اسی طرح لٹھ بستی کے ماہی گیروں کے روایتی راستے بھی بند کر دیے گئے۔ مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اور اگر کوئی ماہی گیر مچھلی کے شکار کے لیے آگے جانے کی کوشش کرے تو اسے واپس کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اس کی کشتی بھی روک لی جاتی ہے۔ بعد میں کئی درخواستوں اور کوششوں کے بعد کشتی واپس ملتی ہے۔
مجید موٹانی اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ہی علاقے میں اجنبی ہوگئے ہوں، جیسے کسی دوسرے ملک سے ہجرت کرکے آئے ہوں۔‘
تجربے اور دانش کی منتقلی
اپنے روایتی پیشے ماہی گیری اور لانچ کے انجن کی مرمت کے ساتھ ساتھ مجید موٹانی اب اپنی زندگی بھر کے تجربات، سمندر سے حاصل کی گئی عملی دانش اور ساحلی برادری کے علم کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے مشن میں مصروف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ماہی گیری صرف ایک روزگار نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی، مقامی علم اور ماحول سے جڑی ہوئی تہذیب ہے، جسے محفوظ رکھنا اور آنے والی نسلوں تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔
مجید موٹانی کہتے ہیں، ’آج کل مختلف جامعات اور تعلیمی ادارے مجھے مدعو کرتے ہیں اور ماہی گیری، موسمیاتی تبدیلی، سمندری ماحول اور ساحلی علاقوں کو درپیش مسائل پر لیکچر دینے کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں انہیں سندھ یونیورسٹی جامشورو، آغا خان یونیورسٹی، حبیب یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے مدعو کیا گیا، جہاں وہ طلبہ، محققین اور نوجوانوں کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں اور انہیں ماہی گیری کے شعبے کی اہمیت، ساحلی برادریوں کی زندگی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور سمندری وسائل کے تحفظ سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ان نشستوں کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ نوجوان نسل کو یہ سمجھانا بھی ہے کہ روایتی علم، مقامی تجربات اور جدید تحقیق کو ایک ساتھ جوڑ کر ہی ساحلی علاقوں اور ماہی گیر برادری کے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔