‘سانول، گیت، غزل’: ‘سمبارا’ پبلیکیشن کے تحت شائع ہونے والی کتاب، جس کے گیت سندھ کے معروف گلوکاروں نے گائے

گیت

‘سانول کی شاعری ایک طرف محبوبوں کے ملاپ کا ذکر کرتی ہے، کہیں جدائی کے نوحے ہیں، اور بعض اشعار میں صرف درد ہی درد کی دھند چھائی ہوئی ہے۔ سانول عوام کا اور عوامی رنگوں کا مقبول شاعر ہے۔’

یہ خیالات نامور سندھی ادیب نصیر مرزا کے ہیں، جو انہوں نے سندھ کے سینئر اور عوامی شاعر سانول میرالی کے شعری مجموعے ‘یاروں سے کیسے حساب’ کے دیباچے میں لکھے ہیں۔

کتاب کے پچھلے صفحے پر جواد جعفری نے بالکل درست لکھا ہے کہ ‘سانول نے قلمی کام کو فرض سمجھ کر نبھایا ہے۔ ان کی کتاب گھٹن بھرے ماحول میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ثابت ہوئی ہے۔’

حیدرآباد سے ‘سمبارا’ پبلیکیشن کے تحت شائع ہونے والی اس کتاب میں سانول کے وہ گیت اور غزلیں شامل ہیں جنہیں سندھ کے معروف فنکاروں، شمن علی میرالی، ماسٹر منظور اور منظور سخیرانی سمیت دیگر فنکاروں نے گایا ہے۔

وہ شاعر واقعی خوش نصیب ہوتا ہے جس کی شاعری کو سریلی آوازیں جنگلوں اور بستیوں تک پہنچاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سانول کی شاعری سے میری شناسائی بھی انہی گلوکاروں کے ذریعے ہوئی۔

میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سانول کو جتنے لوگ جانتے ہیں، اتنے شاید ان ادیبوں کو بھی نہیں جانتے جو عمر بھر ادب کو دے کر درجنوں کتابیں لکھ چکے اور شائع کرا چکے ہیں، کیونکہ وہ صرف قارئین تک محدود رہتے ہیں، جبکہ سانول کے سامعین پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی شاعری کے گائے ہوئے کلام لاکھوں بار انٹرنیٹ پر سنے اور دیکھے جا چکے ہیں۔

سانول کی شاعری ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان کی شاعری کے تین رخ ہیں: ایک طرف محبت اور روح کو سکون دینے والی تخلیقات، دوسری طرف سماجی اور طبقاتی مسائل کی عکاسی، اور تیسری طرف انقلابی سوچ۔

انہوں نے کبھی کسی گلوکار سے اپنی شاعری گانے کی درخواست نہیں کی، نہ ہی شہرت نے انہیں مغرور بنایا۔ جتنا ان کا ادبی قد بڑھا، اتنی ہی عاجزی ان میں آئی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‘نین بھیگے رہے’ 24 سال پہلے شائع ہو چکا ہے۔ 1983 سے ادبی دنیا میں قدم رکھنے والے سانول کی شاعری 1986 سے اب تک ڈیڑھ سو کے قریب فنکار گا چکے ہیں۔

سانول نہ صرف خود شاعر ہیں بلکہ انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت بھی ادبی انداز میں کی ہے اور ان کے بیٹے بھی شاعری کرتے اور گنگناتے ہیں۔ ان کی شاعری میں نہ فحاشی ہے، نہ بے راہ روی، نہ نعرہ بازی اور نہ درباری سوچ۔ انہوں نے اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لی ہے کہ محبت کے قحط کے اس دور میں محبت کا سفیر بننا ہے۔

مثلاً ان کے اشعار:

‘پیار کیا نہیں جاتا، پیار ہو جاتا ہے
عشق آنکھوں سے
اظہار ہو جاتا ہے
کس کو اپنا بنانا کس کے بس میں نہیں
یہ ازل سے ہی بیوپار ہو جاتا ہے’

‘کس کو اپنا بنانا بس میں نہیں
یہ ازل سے ہی قرار ہو جاتا ہے’

سانول کی شاعری امید، حوصلے اور تسلی سے بھرپور ہے:

‘ماضی جیسا بھی گزرا ہو
مستقبل میں اجالا ہوگا’

وہ دوسروں کا حساب کرنے کے بجائے اپنا احتساب کرتے ہیں۔ ان کی فطرت میں سادگی، اخلاص اور صوفیانہ سوچ نمایاں ہے:

‘کیا حساب محبوبوں سے
جینے کے وعدے ہو جن سے’

‘چاہے خوشی دیں یا غم
لبوں سے کچھ نہیں کہنا ان سے’

سانول کی شاعری میں محبوب کے بغیر زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے:

‘زندگی کا سفر اجنبی لگتا ہے
تیرے بغیر گھر اجنبی لگتا ہے’

اور درد کی کیفیت کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

‘افسوس زندگی کا سہارا نہیں ملتا
لوگ بہت ملتے ہیں، مگر پیارا نہیں ملتا’

وہ اپنی تنہائی کو یوں بیان کرتے ہیں:

‘ہر روز تقدیر کے تارے دیکھتا ہوں
حسین ہزار، مگر سہارے دیکھتا ہوں’

جس دور میں بھارتی فلمی انداز کے گیتوں کا رواج تھا، اس وقت سانول کا بڑا چرچا تھا۔ ان کی کامیابی میں شمن علی میرالی کا کردار اہم رہا۔ جس طرح بیدل مسرور کی آواز نے شیخ ایاز کی تخلیق ‘سچ بڑا مجرم ہے’ کو مقبول بنایا، اسی طرح شمن علی میرالی کی آواز نے سانول کو عوامی شہرت دی۔

وہ آپس میں رشتہ دار نہیں ہیں، اور نہ ہی ذات پات کی بنیاد پر شمن نے انہیں کبھی برتر سمجھا ہے۔ سانول کی تخلیقی صلاحیت آج بھی قائم و دائم ہے۔

سانول نے ادب کی مختلف اصناف میں نہ صرف اپنی پہچان بنائی بلکہ خود کو منوایا بھی ہے۔ وزن و بحر کے تسلسل میں کچھ کمیوں کے باوجود، ان کی تقریباً 95 فیصد تخلیقات وزن و بحر کے مطابق لکھی گئی ہیں اور ان میں روانی بھی کمال کی ہے۔

شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے کے باوجود سانول نے اپنی سادگی، سنجیدگی، سچائی، ثابت قدمی اور عاجزی کو نہیں چھوڑا۔ ان کا خلوص سے بھرپور انداز اور گرمجوشی سے ملنا نہ صرف بڑی بات ہے بلکہ ملنے والوں کے لیے حوصلہ افزا بھی ہوتا ہے۔

ان کا شائع شدہ شعری مجموعہ ‘یارن سان ڪهڙا ليکا’ امید ہے کہ دیگر شعرا کے لیے بھی باعثِ حوصلہ بنے گا اور نئی نسل کو ماضی کی موسیقی کو نئے انداز میں پیش کرنے کی تحریک دے گا۔

اس شعری مجموعے میں غزلوں کے ساتھ ساتھ گیتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اگرچہ ان گیتوں پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے، لیکن یہاں چند گیتوں کا ذکر کیا جاتا ہے:

‘روتا دیکھتے مجھے ہنساتے’

‘دوست نہ رہا دوست، یار نہ رہا یار’

‘ہنسنے والے، ہنستے رہو، ہنسنے میں خدا راضی ہے’

‘میرا خون بڑھتا ہے، تم ہنستے رہو محبوب’

‘میں تو منت کرتا ہوں، ملنے کے لیے’

‘بے درد کو دل دے کر پچھتایا’

‘میرے دلبر کو سمجھاؤ’

‘جو مجھ سے وفا کرے، اس کو میں دوں دل’

‘روتا ہوں یار کی خاطر’

‘درد دل میں یار نہ ہے، تب ہی تو دل دکھاتے ہو’

‘یاروں سے کیسے حساب’

‘نہ تھا نبھانا مجھ سے پیار، کیوں کیا؟’

‘وقت وقت کی بات ہے’

سانول میرالی سندھ کا عوامی سرمایہ ہیں، کیونکہ دیہی علاقوں کے لوگ انہیں خوب جانتے ہیں۔ ان کے گیت گاتے ہیں اور ان کے میوزک البمز تحفے کے طور پر ایک دوسرے کو دیتے آئے ہیں۔ پولیس جیسے محکمے میں ہونے کے باوجود انہوں نے خود کو کبھی روایتی پولیس والا محسوس نہیں ہونے دیا۔

وہ ایک سخی دل انسان ہیں، جن کا دسترخوان کشادہ ہے اور جو سندھ کی مہمان نوازی کی روایت کے بہترین امین ہیں۔

لاڑکانہ آرٹس کونسل میں اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ان کی زیادہ تر شاعری ان کی محرومیوں کا ردعمل ہے۔ یتیمی کے دکھ نے انہیں زندگی میں جو تلخ تجربات دیے، وہ آج بھی ان کے لیے دردناک یادیں ہیں۔ اسی لیے ان کی شاعری بچپن میں والدین کی جدائی کے بعد پیش آنے والے حالات کا عکس ہے۔

سانول میرالی ایک نہایت حساس اور معصوم دل انسان ہیں، جو آسانی سے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ کم از کم دو مواقع پر راقم خود ان کے رونے کا گواہ رہا ہے۔ ایک بار جب ان کے قدردان افسر شیر از نظیر عباسی کا شکارپور سے تبادلہ ہوا تو وہ اپنے آنسو نہ روک سکے، اور دوسری بار لاڑکانہ آرٹس کونسل میں اپنی کتاب کی تقریب کے دوران والدین کو یاد کرتے ہوئے رو پڑے۔

سانول میرالی طلبہ کا ہجوم ساتھ رکھنے یا اس پر فخر کرنے کے قائل نہیں، بلکہ خاموشی سے ان کی ادبی تربیت کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایک مثبت روایت ہے، جسے جتنا سراہا جائے کم ہے۔

اسی بارے میں: