مہرگڑھ سے موہن جو دڑو: وادی سندھ کی خودمختار بائیو لتھک اور تکنیکی پرواز

مہرگڑھ

تاریخ اکثر فاتحین اور استعماری طاقتوں کی قلم سے رقم ہوتی رہی ہے، اور وادی سندھ کی قدیم تاریخ بھی طویل عرصے تک اسی سامراجی انداز فکر کا شکار رہی۔

انیسویں اور بیسویں صدی کے نوآبادیاتی مورخین اور مستشرقین مثلاً سر مارٹیمر بھیلر اور ویری گورڈن چائلڈ نے اپنے مخصوص ‘ڈفیوژنزمن’ (Diffusionism) کے نظریے کو بڑی شدومد سے پیش کیا۔ ان کا بنیادی مدعا یہ ثابت کرنا تھا کہ برصغیر کے مقامی باشندے کسی پیچیدہ تمدن، منظم تحریر، ریاضیاتی اور انجینئرنگ کے طرز فکر کی صلاحیت سے محروم تھے اور یہاں کا شہری عروج دراصل میسوپوٹیمیا یا وسطی ایشیائی ہجرتوں کا مرہون منت تھا۔ مارٹیمر بھیلر کا یہ متنازع دعویٰ کہ ‘اندرا (ہندو مذہب کی دیوی) کو ملزم قرار دیا جاتا ہے’ دہائیوں تک ‘آریا حملے کے نظریے’ (Aryan Invasion Theory) کا فکری و نصابی محور بنا رہا۔

تاہم، اکیسویں صدی کی جدید ترین سائنسی پیشرفت، آرکیوجینیٹکس، ملٹی ڈائیمینشنل طبیعی بشریات، بائیو آرکیالوجی اور ‘اے ایم ایس ریڈیو کاربن تاریخ نگاری’  نے نوآبادیاتی تاریخ نگاری کے اس پورے پیراڈائم کو سائنسی بنیادوں پر زمین بوس کر دیا ہے۔ جدید آثار قدیمہ کا فریم ورک اب عمل پسند علم الآثار پر مبنی ہے، جو ثقافتی اور حیاتیاتی تبدیلیوں کو بیرونی مداخلت کے بجائے مقامی ماحولیاتی تنوع، تکنیکی جدت طرازی اور آبادی کے تسلسل کے تناظر میں پرکھتا ہے۔

نیولیتھک ‘نو سنگی دور’ یا ‘جدید پتھر کا زمانہ’ انقلاب

مہرگڑھ کی زرعی و مویشی بانی داستان

دریائے بولان کے کنارے موجود مہرگڑھ (7000–2600 BCE) کی دریافت نے جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک انقلاب برپا کیا۔ فرانسیسی ماہر آثار قدیمہ جین فرنسوا جریج (Jean-François Jarrige) کی قیادت میں ہونے والی کاوشوں نے ثابت کیا کہ وادی سندھ کا زرعی انقلاب مشرق وسطیٰ کے ‘ہلال زرخیز’ (Fertile Crescent) کا محتاج نہیں تھا۔

آرکیو بائیولوجیکل فلوٹیشن ٹیسٹس اور کاربن زدہ بیجوں کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مہرگڑھ کے دور اول ہی سے مقامی کاشتکاری کی بنیادیں پختہ تھیں۔

مقامی نباتات: چھ رخا جو (Hordeum vulgare)، کھلا جو (Hordeum vulgare var. nudum) اور دیسی گندم (Triticum monococcum/dicoccum) کی منظم زراعت شروع ہو چکی تھی۔

حیوانی انطباق اور زیبو (Zebu):

ابتدائی ادوار میں شکار پر منحصر آبادی نے دیکھتے ہی دیکھتے مقامی کوہان والے برصغیری سانڈ (Bos indicus) کو پالتو بنایا۔ مہرگڑھ کے دوسرے دور تک زیبو مویشیوں کی ہڈیوں کا تناسب 80 فیصد تک پہنچ گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زیبو کی افزائش اسی دھرتی پر ہوئی۔ یہی زیبو آگے چل کر وادی سندھ کی مہروں (Steatite Seals) پر ایک مقدس اور سب سے نمایاں آئیکن بن کر ابھرا۔

مہرگڑھ سے کوٹ ڈیجی اور نوشہرو، ہجرت کا ماحولیاتی سفر

مہرگڑھ کا لامتناہی تسلسل کسی یکایک تباہی سے نہیں بلکہ ماحولیاتی ترغیب (Environmental Driver) کے باعث نئے جغرافیائی روپ دھارتا گیا۔ 3500 قبل مسیح کے بعد خشک سالی اور بولان کے میدانی علاقے میں پانی کی قلت نے آبادی کو سندھ کے طاس کے میدانی علاقوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیا۔

سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع کوٹ ڈیجی اور بلوچستان میں نوشہرو وہ تاریخی کڑیاں ہیں جو نیولیتھک مہرگڑھ کو وادی سندھ کے ابتدائی کانسی کے دور سے جوڑتی ہیں۔ مہرگڑھ کے آخری ادوار کی ظروف سازی میں پائے جانے والے ہندسی پیٹرنز، پیپل کے پتے کی نقاشی اور سینگوں والے مویشی بان کی علامات براہ راست کوٹ ڈیجی اور بعد ازاں وادی سندھ کے مشہور مٹی کے برتنوں پر ‘بلیک آن ریڈ وئیر’ (Black-on-Red Ware) کا حصہ بنیں۔ کوٹ ڈیجی کی ابتدائی سٹریٹیجک فصیل بندی اس بات کا ثبوت تھی کہ مقامی سطح پر شہری نظام اور انتظامی ضوابط جنم لے رہے تھے۔

آرکیوجینیٹکس کی گواہی، راکھی گڑھی اور aDNA کے نتائج

نوآبادیاتی مفروضوں کو سب سے بڑا اور حتمی سائنسی دھچکا اکیسویں صدی میں قدیم ڈی این اے (aDNA) کے تجزیات سے لگا۔ سال 2019 میں ہندوستان کی ریاست ہریانہ میں واقع راکھی گڑھی کے 4500 سال پرانے قبرستان (نمونہ I6113) سے حاصل کردہ قدیم ترین ڈی این اے کی سیکوینسنگ نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچائی۔ اس ضمن میں واسنتا شندے، نیراج رائے اور ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ڈیوڈ ریک (David Reich) کی اس معرکہ آرا تحقیق نے درج ذیل جینیاتی حقائق سامنے رکھے۔

یوریشین اسٹیپ (Steppe) انیسٹری کا فقدان:

وادی سندھ کے باسیوں کے جینوم میں وسطی ایشیائی یا اسٹیپ چوپانوں کا جینیاتی مادہ 0.0 فیصد پایا گیا۔ اسٹیپ ڈی این اے کو روایتی طور پر آریا نسل کا حیاتیاتی نشان سمجھا جاتا تھا، جس کی مکمل عدم موجودگی نے ثابت کر دیا کہ ہڑپہ کے عروج کے وقت برصغیر میں کسی یوریشین یا نژادی گروہ کی شمولیت نہیں تھی۔

مقامی جینیاتی مرکب:

ہڑپہ کے باشندوں کا جینیاتی تعلق برصغیر کے قدیم شکاری گروہ (AASI) اور ایک ایسے قدیم ایرانی کسان گروہ سے تھا جو زراعت کی ابتدا سے بھی ہزاروں سال پہلے (تقریباً 10,000 BCE سے قبل) ایرانی وادیوں سے الگ ہو کر برصغیر میں آباد ہو چکا تھا۔

یہ جینیاتی پروفائل اس قاطع حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ مہرگڑھ کے نیولیتھک کسان ہی براہ راست وادی سندھ کے بائیولوجیکل اجداد تھے۔

جسمانی بشریات اور دانتوں کا مائیکروسکوپک مطالعہ

حیاتیاتی تسلسل کی تصدیق صرف ڈی این اے تک محدود نہیں بلکہ جسمانی بشریات (Physical Anthropology) نے بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ امریکی ماہرین بشریات برائن ہیمفل (Brian E. Hemphill) اور جون لوکاس (John R. Lukacs) نے مہرگڑھ کے قبرستانوں اور ہڑپہ کے قبرستان R-37 کے انسانوں کی دانتوں کی ساخت (Dental Morphology) کا تجزیہ کیا اور ان سائنسی شواہد کی روشنی میں ہیمفل نے نتیجہ اخذ کیا کہ مہرگڑھ سے لے کر وادی سندھ کے پختہ کانسی کے دور کے انسانوں کے درمیان ایک اٹوٹ حیاتیاتی قرابت داری (Biological Affinity) موجود ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ باہر سے کسی نئی آبادی نے آ کر یہاں کے لوگوں کو بے دخل نہیں کیا۔

شہری منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجیکل یکسانیت

نوآبادیاتی مورخین اکثر موہنجو دڑو اور ہڑپہ کے متناسق گرڈ سسٹم اور اینٹوں کے تناسب کو میسوپوٹیمیا کی دین قرار دینے کی کوشش کرتے تھے، لیکن تکنیکی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔

اینٹوں کا حتمی تناسب:

میسوپوٹیمیا میں اینٹیں چپٹی اور اوپر سے ابھری ہوئی (Plano-convex) اور بے قاعدہ سائز کی ہوتی تھیں۔ اس کے برعکس، وادی سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں تمام اینٹیں ایک محیرالعقول ریاضیاتی تناسب 4 : 2 : 1 کی پابند تھیں۔

اعشاری پیمائش کا نظام:

لوتھل اور موہنجو دڑو سے ملنے والے وزن کے پیمانے (Scales) ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا چھوٹا ترین یونٹ 1.704 ملی میٹر تھا، جو کانسی کے زمانے کی سب سے دقیق اور باریک ترین پیمائش تھی۔

نکاسی آب کی انجینئرنگ:

وادی سندھ کا زیر زمین ڈھکا ہوا نکاسی آب کا نظام اور ہر گھر میں غسل خانوں کا وجود، اس دور کی دنیا میں حفظان صحت اور شہری ماحولیاتی انجینئرنگ کا وہ شاہکار تھا جس کی مثال مصر یا میسوپوٹیمیا میں نہیں ملتی۔

آریا حملے’ کے نظریے کا ماحولیاتی اور پیتھالوجیکل زوال

تاریخ کی کتابوں میں برسوں پڑھایا جانے والا ‘آریا حملہ’ جدید سائنسی تحقیقی حقائق کے سامنے محض ایک مفروضہ ثابت ہوا ہے۔

پیلیو کلائمیٹولوجی کی گواہی:

سمندری سیڈیمنٹ کورز اور غاروں کے اسپیلیوتھیمز میں آکسیجن آئسوٹوپ کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1900 قبل مسیح کے قریب شدید خشک سالی (4.2-kiloyear event) نے جنم لیا، جس سے دریائے سرسوتی (گھاگر-ہاکڑا) سمیت پانی کے بنیادی ذرائع خشک ہو گئے۔ اسی ماحولیاتی بحران کے باعث بڑے شہروں سے آبادی نے مشرق (گنگا وادی) اور جنوب (گجرات) کی طرف ہجرت کی۔

ہڈیوں کا ٹروما تجزیہ (Skeletal Trauma Analysis):

موہنجو دڑو اور ہڑپہ کے قبرستانوں کی ہڈیوں پر ملنے والے نشانات کسی اجتماعی قتل عام یا جنگ کے بجائے وبائی امراض (مثلاً جذام اور تپ دق) اور شدید غذائی و ماحولیاتی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سائنسی، جینیاتی، بشریاتی اور تکنیکی حقائق یک زبان ہو کر اس تاریخی سچائی کا اعادہ کرتے ہیں کہ مہرگڑھ سے موہنجو دڑو تک کا سفر کسی بیرونی قوم کا لایا ہوا تحفہ یا فاتحین کی ہجرتوں کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ اسی مٹی کا اپنا تخلیقی اور ثقافتی ارتقا تھا۔ بلوچستان کے کچھی میدان کے جدید پتھر کے زمانے کے کسانوں نے جس علم و دانش کی بنیاد رکھی تھی، وہی نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی کانسی کے زمانے کی وادی سندھ میں دنیا کی سب سے منظم اور پرامن شہری تہذیب بن کر ابھری۔

یہ دھرتی اور اس کی تہذیب کسی بیرونی آقا یا فاتح کی محتاج نہیں تھی، بلکہ اپنے ہی فرزندوں اور بیٹیوں کی ہزاروں سالہ محنت، حکمت اور تخلیقی صلاحیتوں کا لازوال شاہکار ہے۔

اسی بارے میں: