ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

ایران کے ساتھ تیسری بار جنگ شروع ہونے کے باعث امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین نے سی این این کو بتایا ہے کہ ہتھیاروں کی یہ کمی مستقبل میں چین یا شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکی فوج کی لڑنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف گزشتہ سات ہفتوں کی جنگ کے دوران امریکہ اپنے جدید ترین میزائلوں کا ایک بڑا حصہ استعمال کر چکا ہے۔ اس میں تقریباً 45 فیصد پریسیژن اسٹرائیک میزائل، نصف سے زیادہ تھاڈ میزائل، اور تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں بلکہ وقت ہے۔ ان پیچیدہ ہتھیاروں کو دوبارہ تیار کرنے اور ذخائر کو مکمل کرنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

امریکی دفاعی ماہرین کو تشویش ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران کے ساتھ جنگ مزید طویل ہوئی تو امریکہ کے پاس چین کو بحرالکاہل خصوصاً تائیوان کے معاملے میں روکنے کے لیے ہتھیار کم پڑ سکتے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے اپنی تازہ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ واشنگٹن کے ہتھیاروں کی سپلائی کم ہو رہی ہے، لیکن ابھی وہ نازک سطح تک نہیں پہنچی۔

فروری سے اب تک جاری جنگ میں امریکہ نے ایران کے 13,000 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں، جن میں بنیادی طور پر اپنے سات طاقتور میزائلوں اور دفاعی نظاموں کا استعمال کیا گیا۔ ان میں ٹوماہاک، جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل، اسٹینڈرڈ میزائل تھری، اسٹینڈرڈ میزائل سکس، تھاڈ اور پیٹریاٹ شامل ہیں، جن میں سے امریکہ اپنے دستیاب ذخائر کا نصف سے زیادہ استعمال کر چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ان سے کم فاصلے تک مار کرنے والے ہزاروں ہتھیار ابھی بھی ذخیرے میں موجود ہیں، لیکن اب ان کے استعمال کا وقت بھی آتا دکھائی دے رہا ہے، اور اگر جنگ مزید ایک مہینہ جاری رہی تو وہ بھی ختم ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے پاس سمندر سے زمین پر مار کرنے والے تقریباً 3,000 ٹوماہاک میزائل موجود تھے، جن میں سے ایران کے ساتھ جنگ میں تقریباً 1,000 استعمال ہو چکے ہیں۔

جاسم کے تقریباً 4,000 میزائلوں میں سے 1,100 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

پی آر ایس ایم نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں، جن کی سپلائی پہلے ہی محدود تھی۔ 2023 سے اب تک ان میں سے صرف 90 میزائل امریکی دفاعی ادارے کو فراہم کیے گئے، جبکہ جنگ میں ان میں سے 40 سے 70 استعمال ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی فوجی رہنما کے مطابق اس جنگ میں ان کی تقریباً پوری دستیاب انوینٹری خرچ کر دی گئی ہے۔

اسٹینڈرڈ میزائل تھری اس جنگ میں استعمال ہونے والا سب سے مہنگا ہتھیار ہے، جس کی فی یونٹ قیمت تقریباً 28 ملین ڈالر ہے۔ یہ بحری جہاز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹر ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 410 میزائل تھے، جن میں سے اندازاً 130 سے 250 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

اسٹینڈرڈ میزائل سکس بھی بحری جہازوں سے داغے گئے۔ یہ میزائل بنیادی طور پر دشمن کے طیاروں، کروز میزائلوں اور بعض دیگر فضائی خطرات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 1,160 میزائل موجود تھے، لیکن اندازوں کے مطابق ایران کی جنگ میں ان میں سے 190 سے 370 تک استعمال ہو چکے ہیں۔

انتہائی مہنگے تھاڈ اینٹی بیلسٹک میزائل نظام کے اپریل تک امریکہ کے پاس تقریباً 360 انٹرسیپٹر موجود تھے، جن میں سے 190 سے 290 تک استعمال کیے جا چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھاڈ کی آٹھ بیٹریاں جن میں لانچر، انٹرسیپٹر اور ریڈار نظام شامل ہوتے ہیں، کے ذخائر بھی نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔

پیٹریاٹ میزائلوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس تقریباً 2,330 موجود تھے، جن میں سے 1,060 سے 1,430 کے درمیان استعمال کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ اس وقت پینٹاگون کے پاس تقریباً 400 پرانے پیٹریاٹ میزائل موجود ہیں، لیکن بتایا جاتا ہے کہ وہ اس جنگ میں استعمال کے قابل نہیں ہیں۔

عالمی دفاعی مبصرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی تیز اور جارحانہ حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں ایران کے خلاف جنگ کو تیز کر کے خود کو ایسے خطرے میں ڈال رہا ہے جیسے کوئی ویڈیو گیم کھیل رہا ہو، جس سے ایشیا میں چین کو کھلا میدان مل سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پینٹاگون کا یہ بیان کہ ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے محض ایک سیاسی بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی دفاعی پیداواری صنعت اس وقت بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے سے قاصر ہے۔

اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو جنگ کو طول دینے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر جنگ جاری رہی تو امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کرنے کے باوجود بھی اتنے بڑے ذخائر جلد دوبارہ تیار نہیں کر سکیں گے۔

واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے زیادہ اہم محاذ کون سا ہے، مشرق وسطی میں ایران کے ساتھ مقابلہ یا بحرالکاہل کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کے لیے بیک وقت دونوں محاذوں پر پوری طاقت کے ساتھ جنگ لڑنا اس کی استطاعت سے باہر ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ کے ایک پروگرام میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے رہنماؤں نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ ان کے پاس لامحدود ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر انتظامیہ نے امریکی دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور انہیں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی پیداوار ہنگامی بنیادوں پر دن رات جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ ان کمپنیوں نے بھی اس کام کا آغاز تیز رفتار بنیادوں پر کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جون میں ہی ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ پر دستخط کر دیے تھے۔ اگرچہ اسے کانگریس کی منظوری حاصل نہیں ہوئی، تاہم اسے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق دفاعی پیداوار بڑھانے کا یہ حکم اس بات کی علامت ہے کہ پینٹاگون کے اندر مستقبل کی سپلائی اور وقت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔

ایک طرف امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف اس کے عرب اتحادی بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے بھی امریکی دفاعی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے انہیں بھی ان کے خریدے ہوئے تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل فراہم کیے جائیں۔

تاہم واشنگٹن نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ ذخائر خود امریکہ کے پاس بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد روس کے خلاف جنگ کے دوران یوکرین کو فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ موجودہ جنگ کے باعث مزید میزائل فوری طور پر دستیاب نہیں۔

پہلے سے موجود سپلائی آرڈرز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ جاپان کے لیے 400 ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی، جو 2025 سے 2027 کے درمیان مکمل ہونی تھی، مقررہ وقت پر پوری نہ ہو سکی۔ اس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مئی میں کہا تھا کہ اس آرڈر کی تکمیل میں مزید دو سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

اسی دوران سوئٹزرلینڈ نے جون میں فرانس، اسرائیل اور جنوبی کوریا سے میزائل دفاعی نظام خریدنے کے لیے بیک وقت مذاکرات شروع کیے، جبکہ جاپان کے لیے ریتھیون کا 2022 کا آرڈر بھی تاخیر کا شکار ہے۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حال ہی میں کہا کہ اب نئے میزائل حاصل کرنے میں مہینے نہیں بلکہ سال لگ سکتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں میزائلوں پر کم انحصار ہو۔ ان کا اشارہ زمینی جنگ کی طرف تھا، جہاں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور عام فوجی نسبتاً کم قیمت ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑ سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کر کے فوری طور پر نئے ذخائر فراہم کر دیں گے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کو طویل کر کے دراصل امریکہ کے جدید ہتھیاروں کے ذخائر کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ اپنی مجوزہ 2027 کی 1.5 ٹریلین ڈالر کی دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ جدید ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ رقم 2026 کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 44 فیصد زیادہ ہے۔

سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے آئندہ سال کے لیے 785 ٹوماہاک میزائل طلب کیے تھے، لیکن ان میں سے صرف چند ہی فراہم ہو سکے۔ اسی طرح اس سال 821 جاسم میزائل درکار تھے، مگر وہ بھی تاحال مکمل طور پر فراہم نہیں کیے جا سکے۔

پی آر ایس ایم کے 1,134 میزائل درکار تھے، لیکن اس سال صرف 70 فراہم کیے گئے۔

اسٹینڈرڈ میزائل تھری کی ایک بڑی تعداد، جس کی درخواست کئی برس پہلے دی گئی تھی، اب تک فراہم نہیں ہو سکی۔ اسٹینڈرڈ میزائل سکس کے 540 میزائل طلب کیے گئے تھے، مگر صرف 125 موصول ہوئے۔ تھاڈ کے 857 انٹرسیپٹر میزائلوں کی درخواست کی گئی، لیکن اس سال صرف 92 فراہم کیے گئے۔

اسی طرح پیٹریاٹ میزائلوں کے لیے 2027 تک 3,202 میزائلوں کی درخواست دی گئی، جبکہ اب تک صرف 172 فراہم کیے جا سکے ہیں۔

دوسری جانب، اگرچہ اسرائیل کی دفاعی صنعت بہت ترقی یافتہ ہے، لیکن بیک وقت لبنان، یمن، غزہ اور ایران کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اس کے ہتھیاروں کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

اسرائیل کے مشہور دفاعی نظام آئرن ڈوم اور ایرو گزشتہ دو برس سے مسلسل استعمال ہو رہے ہیں۔ حزب اللہ اور حوثی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون مسلسل داغ رہے ہیں، جس کے باعث اسرائیل کو انہیں فضا میں تباہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

غزہ اور لبنان میں وسیع پیمانے پر بمباری کی وجہ سے اسرائیل کو آرٹلری گولوں اور گائیڈڈ بموں کی بھی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، جسے پورا کرنے کے لیے امریکہ نے ہنگامی بنیادوں پر اسرائیل کو فضائی راستے سے اسلحہ فراہم کیا۔

دریں اثنا، امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران جنگ، اسرائیل کے لیے جنگی فنڈنگ اور دفاعی تعاون سے متعلق سالانہ بل کو 50 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے روک دیا۔

سینیٹ کی نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کمیٹی میں چک شومر، کرس وان ہولن، برنی سینڈرز، الزبتھ وارن، ایڈ مارکی، جیف مرکلے اور پیٹر ویلچ سمیت کئی سینیٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت کو امریکی ٹیکس دہندگان کا مزید پیسہ دینا بند کیا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ 14 شہری اور جنگ مخالف تنظیموں، جن میں امریکن سول لبرٹیز یونین، جے اسٹریٹ، کوڈ پنک اور دیگر خارجہ پالیسی سے متعلق تنظیمیں شامل ہیں، نے بھی سینیٹ سے اپیل کی کہ اس بل کی منظوری نہ دی جائے۔

اب سوال یہ نہیں رہا کہ امریکہ جنگ جیت سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنے کی اپنی صلاحیت کو کب تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

جب تک امریکہ کا دفاعی پیداواری نظام برسوں کے بجائے مہینوں کی رفتار سے جدید ہتھیار تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا، ایران کے ساتھ جاری جنگ صرف مشرق وسطی کا مسئلہ نہیں رہے گی، بلکہ بحرالکاہل میں امریکہ کی مستقبل کی عسکری طاقت اور چین کے مقابلے میں اس کی حکمت عملی کا بھی ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔

اسی بارے میں: