چین کے صدر شی جن پنگ نے خود کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نئے عالمی نظام کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اس شعبے میں کھلے تعاون اور اوپن سورس ٹیکنالوجی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (WAIC) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے ترقی کرنے والے اس شعبے کے قواعد و ضوابط پر صرف ایک ملک کا اثر و رسوخ نہیں ہونا چاہیے۔
شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اوپن سورس مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ’تاریخی موقع‘ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ چین ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کرے گا۔
اسی مقصد کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ہزاروں افراد کو اے آئی کی تربیت فراہم کی جائے گی، جبکہ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ، برکس اور دیگر علاقائی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر جدید ٹیکنالوجی تک رسائی صرف چند ممالک تک محدود رہی تو اس سے دنیا میں ’تاریخی ناانصافیاں‘ جنم لے سکتی ہیں۔
شی جن پنگ کے اس خطاب کو اب تک مصنوعی ذہانت کے عالمی نظام کے بارے میں چین کے سب سے واضح مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے اوپن سورس اے آئی ماڈلز پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہونے چاہییں۔ اس طرح چین نے خود کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکہ کے متبادل عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، ایسے وقت میں جب جدید ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ تیزی سے جاری ہے۔
شی جن پنگ نے مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو بھاپ کے انجن اور بجلی کی ایجاد سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی دنیا میں ایک بڑا انقلاب لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین گلوبل ساؤتھ، یعنی ترقی پذیر ممالک، کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی، مہارت اور تجربہ شیئر کرنا چاہتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی چین اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے عالمی اصول اور ضابطے بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
امریکی پیکس سلیکا کا متبادل
اپنی تقریر میں شی جن پنگ نے چین کے مجوزہ عالمی اے آئی اتحاد کو ایک ایسے متبادل کے طور پر پیش کیا جو امریکہ کی قیادت میں قائم کیے گئے ’پیکس سلیکا‘ نامی بین الاقوامی اقدام کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس امریکی اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت اور اہم معدنی وسائل کی عالمی سپلائی چین کو محفوظ بنانا ہے، تاہم شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں امریکہ کا نام براہِ راست نہیں لیا۔
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ حالیہ عرصے میں بار بار یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ بیجنگ کی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی دراصل اس کوشش کا جواب ہے جسے چین، امریکہ کی قیادت میں قائم کیے جانے والے ’اے آئی آئرن کرٹن‘ یعنی مصنوعی ذہانت کی ایک نئی دیوار قرار دیتا ہے۔
جمعرات کو چینی سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی سے وابستہ معروف سوشل میڈیا اکاؤنٹ یو یوان تان تیان نے ایک تبصرے میں کہا کہ چین ایک نیا عالمی نظام قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں تمام ممالک اور پوری انسانیت مل کر اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا ایسا نظام تشکیل دیں جس میں سب کی شمولیت ہو اور ہر ملک کو برابر کے مواقع حاصل ہوں۔
شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس نے بھی یہ ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ چینی کمپنیوں کے اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور وہ امریکہ کی کمپنیوں، جیسے اوپن اے آئی اور انتھروپک کے محدود رسائی والے ماڈلز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
نئی چینی چینی ماڈلز اور مصنوعات
اسی دوران بیجنگ کی نئی ٹیکنالوجی کمپنی مون شاٹ اے آئی نے جمعہ کو اپنا نیا اے آئی ماڈل کیمی کے تھری (Kimi K3) متعارف کرایا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ پیرامیٹرز کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اوپن اے آئی ماڈل ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ قبل امریکی حکومت نے سکیورٹی خدشات کے باعث انتھروپک کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کی دستیابی اچانک محدود کر دی تھی۔
ماہرین کے مطابق چین اس وقت مصنوعی ذہانت کو اپنی صنعتی اور معاشی حکمت عملی کا اہم ستون بنا چکا ہے۔ حکومت کئی برسوں سے جدید چپس، ڈیٹا سینٹرز، سافٹ ویئر، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اس شعبے میں بیرونی انحصار کم کیا جا سکے۔
کانفرنس میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اپنی نئی مصنوعات پیش کیں۔ ہواوے نے اپنا جدید اٹلس 950 سپر پوڈ اے آئی کمپیوٹنگ نظام متعارف کرایا، جسے امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی چینی کمپنیوں نے نئے اوپن سورس اے آئی ماڈلز بھی پیش کیے، جن کا مقصد عالمی منڈی میں امریکی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور یورپی ممالک نے حالیہ برسوں میں قومی سلامتی کے خدشات کے باعث چین کو جدید سیمی کنڈکٹر چپس اور بعض حساس ٹیکنالوجیز کی برآمد پر مختلف پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال فوجی مقاصد کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ بیجنگ ان پابندیوں کو اپنی تکنیکی ترقی روکنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔
اسی پس منظر میں چین نے ایک نئی بین الاقوامی تنظیم ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کے بانی ارکان میں پاکستان سمیت 29 ممالک شامل ہیں۔ تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون، مشترکہ اصولوں کی تشکیل اور محفوظ استعمال کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ اس کا مرکزی دفتر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ صرف جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے پر ہی توجہ نہیں دے رہا بلکہ وہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے عالمی قوانین اور معیار طے کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے دنیا بھر میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مناسب قوانین اور نگرانی کا نظام نہ بنایا گیا تو یہ ٹیکنالوجی سائبر حملوں، غلط معلومات، جرائم اور فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک اس شعبے کے لیے عالمی ضابطے بنانے پر زور دے رہے ہیں، تاہم اس بارے میں اب تک عالمی اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا۔
مختلف عالمی نظریات
17 سے 20 جولائی تک ہونے والی اس کانفرنس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے دوران مصنوعی ذہانت پر اپنی پہلی سرکاری سطح کی بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ہونے والے ایک اجلاس میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اگر اس شعبے پر بہت زیادہ قوانین اور پابندیاں لگائی گئیں تو نئی ایجادات اور ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب چین نے اپنے کم لاگت والے اوپن سورس اے آئی ماڈلز کو فروغ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی ملے گی اور عالمی سطح پر موجود فرق کم ہوگا۔
امریکہ کی تجویز کردہ ’اے آئی اپرچیونٹی اسٹیٹمنٹ‘ کی حمایت اب تک 35 ممالک کر چکے ہیں، جبکہ چین کی قیادت میں قائم ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) میں 29 ممالک شامل ہوئے ہیں۔
امریکی مؤقف سے واقف ایک ذریعے کے مطابق قازقستان واحد ایسا ملک ہے جو دونوں اقدامات کا حصہ بنا ہے۔ اس ذریعے کا کہنا تھا کہ دونوں فہرستوں میں کم مشترکہ ممالک ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے فریم ورک کی حمایت کرنے والے زیادہ تر ممالک نے چین کے متبادل منصوبے کی تائید نہیں کی۔
ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتن چرن ویراکول بھی شریک ہیں۔







