Tag: چین

  • چین کی امریکہ کو للکار، شی جن پنگ نے نیا عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا نظام بنانے کا اعلان کردیا

    چین کی امریکہ کو للکار، شی جن پنگ نے نیا عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا نظام بنانے کا اعلان کردیا

    چین کے صدر شی جن پنگ نے خود کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نئے عالمی نظام کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اس شعبے میں کھلے تعاون اور اوپن سورس ٹیکنالوجی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

    انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (WAIC) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے ترقی کرنے والے اس شعبے کے قواعد و ضوابط پر صرف ایک ملک کا اثر و رسوخ نہیں ہونا چاہیے۔

    شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اوپن سورس مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ’تاریخی موقع‘ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ چین ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کرے گا۔

    اسی مقصد کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ہزاروں افراد کو اے آئی کی تربیت فراہم کی جائے گی، جبکہ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ، برکس اور دیگر علاقائی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر جدید ٹیکنالوجی تک رسائی صرف چند ممالک تک محدود رہی تو اس سے دنیا میں ’تاریخی ناانصافیاں‘ جنم لے سکتی ہیں۔

    شی جن پنگ کے اس خطاب کو اب تک مصنوعی ذہانت کے عالمی نظام کے بارے میں چین کے سب سے واضح مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے اوپن سورس اے آئی ماڈلز پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہونے چاہییں۔ اس طرح چین نے خود کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکہ کے متبادل عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، ایسے وقت میں جب جدید ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ تیزی سے جاری ہے۔

    شی جن پنگ نے مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو بھاپ کے انجن اور بجلی کی ایجاد سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی دنیا میں ایک بڑا انقلاب لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین گلوبل ساؤتھ، یعنی ترقی پذیر ممالک، کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی، مہارت اور تجربہ شیئر کرنا چاہتا ہے۔

    اس کے ساتھ ہی چین اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے عالمی اصول اور ضابطے بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

    امریکی پیکس سلیکا کا متبادل

    اپنی تقریر میں شی جن پنگ نے چین کے مجوزہ عالمی اے آئی اتحاد کو ایک ایسے متبادل کے طور پر پیش کیا جو امریکہ کی قیادت میں قائم کیے گئے ’پیکس سلیکا‘ نامی بین الاقوامی اقدام کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس امریکی اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت اور اہم معدنی وسائل کی عالمی سپلائی چین کو محفوظ بنانا ہے، تاہم شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں امریکہ کا نام براہِ راست نہیں لیا۔

    چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ حالیہ عرصے میں بار بار یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ بیجنگ کی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی دراصل اس کوشش کا جواب ہے جسے چین، امریکہ کی قیادت میں قائم کیے جانے والے ’اے آئی آئرن کرٹن‘ یعنی مصنوعی ذہانت کی ایک نئی دیوار قرار دیتا ہے۔

    جمعرات کو چینی سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی سے وابستہ معروف سوشل میڈیا اکاؤنٹ یو یوان تان تیان نے ایک تبصرے میں کہا کہ چین ایک نیا عالمی نظام قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں تمام ممالک اور پوری انسانیت مل کر اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا ایسا نظام تشکیل دیں جس میں سب کی شمولیت ہو اور ہر ملک کو برابر کے مواقع حاصل ہوں۔

    شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس نے بھی یہ ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ چینی کمپنیوں کے اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور وہ امریکہ کی کمپنیوں، جیسے اوپن اے آئی اور انتھروپک کے محدود رسائی والے ماڈلز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    نئی چینی چینی ماڈلز اور مصنوعات

    اسی دوران بیجنگ کی نئی ٹیکنالوجی کمپنی مون شاٹ اے آئی نے جمعہ کو اپنا نیا اے آئی ماڈل کیمی کے تھری (Kimi K3) متعارف کرایا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ پیرامیٹرز کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اوپن اے آئی ماڈل ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ قبل امریکی حکومت نے سکیورٹی خدشات کے باعث انتھروپک کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کی دستیابی اچانک محدود کر دی تھی۔

    ماہرین کے مطابق چین اس وقت مصنوعی ذہانت کو اپنی صنعتی اور معاشی حکمت عملی کا اہم ستون بنا چکا ہے۔ حکومت کئی برسوں سے جدید چپس، ڈیٹا سینٹرز، سافٹ ویئر، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اس شعبے میں بیرونی انحصار کم کیا جا سکے۔

    کانفرنس میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اپنی نئی مصنوعات پیش کیں۔ ہواوے نے اپنا جدید اٹلس 950 سپر پوڈ اے آئی کمپیوٹنگ نظام متعارف کرایا، جسے امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی چینی کمپنیوں نے نئے اوپن سورس اے آئی ماڈلز بھی پیش کیے، جن کا مقصد عالمی منڈی میں امریکی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ اور یورپی ممالک نے حالیہ برسوں میں قومی سلامتی کے خدشات کے باعث چین کو جدید سیمی کنڈکٹر چپس اور بعض حساس ٹیکنالوجیز کی برآمد پر مختلف پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال فوجی مقاصد کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ بیجنگ ان پابندیوں کو اپنی تکنیکی ترقی روکنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔

    اسی پس منظر میں چین نے ایک نئی بین الاقوامی تنظیم ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کے بانی ارکان میں پاکستان سمیت 29 ممالک شامل ہیں۔ تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون، مشترکہ اصولوں کی تشکیل اور محفوظ استعمال کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ اس کا مرکزی دفتر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ صرف جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے پر ہی توجہ نہیں دے رہا بلکہ وہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے عالمی قوانین اور معیار طے کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے دنیا بھر میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مناسب قوانین اور نگرانی کا نظام نہ بنایا گیا تو یہ ٹیکنالوجی سائبر حملوں، غلط معلومات، جرائم اور فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک اس شعبے کے لیے عالمی ضابطے بنانے پر زور دے رہے ہیں، تاہم اس بارے میں اب تک عالمی اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا۔

    مختلف عالمی نظریات

    17 سے 20 جولائی تک ہونے والی اس کانفرنس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے دوران مصنوعی ذہانت پر اپنی پہلی سرکاری سطح کی بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ہونے والے ایک اجلاس میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اگر اس شعبے پر بہت زیادہ قوانین اور پابندیاں لگائی گئیں تو نئی ایجادات اور ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب چین نے اپنے کم لاگت والے اوپن سورس اے آئی ماڈلز کو فروغ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی ملے گی اور عالمی سطح پر موجود فرق کم ہوگا۔

    امریکہ کی تجویز کردہ ’اے آئی اپرچیونٹی اسٹیٹمنٹ‘ کی حمایت اب تک 35 ممالک کر چکے ہیں، جبکہ چین کی قیادت میں قائم ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) میں 29 ممالک شامل ہوئے ہیں۔

    امریکی مؤقف سے واقف ایک ذریعے کے مطابق قازقستان واحد ایسا ملک ہے جو دونوں اقدامات کا حصہ بنا ہے۔ اس ذریعے کا کہنا تھا کہ دونوں فہرستوں میں کم مشترکہ ممالک ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے فریم ورک کی حمایت کرنے والے زیادہ تر ممالک نے چین کے متبادل منصوبے کی تائید نہیں کی۔

    ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتن چرن ویراکول بھی شریک ہیں۔

  • ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایران کے ساتھ تیسری بار جنگ شروع ہونے کے باعث امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین نے سی این این کو بتایا ہے کہ ہتھیاروں کی یہ کمی مستقبل میں چین یا شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکی فوج کی لڑنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

    واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف گزشتہ سات ہفتوں کی جنگ کے دوران امریکہ اپنے جدید ترین میزائلوں کا ایک بڑا حصہ استعمال کر چکا ہے۔ اس میں تقریباً 45 فیصد پریسیژن اسٹرائیک میزائل، نصف سے زیادہ تھاڈ میزائل، اور تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل شامل ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں بلکہ وقت ہے۔ ان پیچیدہ ہتھیاروں کو دوبارہ تیار کرنے اور ذخائر کو مکمل کرنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

    امریکی دفاعی ماہرین کو تشویش ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران کے ساتھ جنگ مزید طویل ہوئی تو امریکہ کے پاس چین کو بحرالکاہل خصوصاً تائیوان کے معاملے میں روکنے کے لیے ہتھیار کم پڑ سکتے ہیں۔

    واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے اپنی تازہ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ واشنگٹن کے ہتھیاروں کی سپلائی کم ہو رہی ہے، لیکن ابھی وہ نازک سطح تک نہیں پہنچی۔

    فروری سے اب تک جاری جنگ میں امریکہ نے ایران کے 13,000 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں، جن میں بنیادی طور پر اپنے سات طاقتور میزائلوں اور دفاعی نظاموں کا استعمال کیا گیا۔ ان میں ٹوماہاک، جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل، اسٹینڈرڈ میزائل تھری، اسٹینڈرڈ میزائل سکس، تھاڈ اور پیٹریاٹ شامل ہیں، جن میں سے امریکہ اپنے دستیاب ذخائر کا نصف سے زیادہ استعمال کر چکا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ان سے کم فاصلے تک مار کرنے والے ہزاروں ہتھیار ابھی بھی ذخیرے میں موجود ہیں، لیکن اب ان کے استعمال کا وقت بھی آتا دکھائی دے رہا ہے، اور اگر جنگ مزید ایک مہینہ جاری رہی تو وہ بھی ختم ہو سکتے ہیں۔

    امریکہ کے پاس سمندر سے زمین پر مار کرنے والے تقریباً 3,000 ٹوماہاک میزائل موجود تھے، جن میں سے ایران کے ساتھ جنگ میں تقریباً 1,000 استعمال ہو چکے ہیں۔

    جاسم کے تقریباً 4,000 میزائلوں میں سے 1,100 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    پی آر ایس ایم نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں، جن کی سپلائی پہلے ہی محدود تھی۔ 2023 سے اب تک ان میں سے صرف 90 میزائل امریکی دفاعی ادارے کو فراہم کیے گئے، جبکہ جنگ میں ان میں سے 40 سے 70 استعمال ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی فوجی رہنما کے مطابق اس جنگ میں ان کی تقریباً پوری دستیاب انوینٹری خرچ کر دی گئی ہے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری اس جنگ میں استعمال ہونے والا سب سے مہنگا ہتھیار ہے، جس کی فی یونٹ قیمت تقریباً 28 ملین ڈالر ہے۔ یہ بحری جہاز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹر ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 410 میزائل تھے، جن میں سے اندازاً 130 سے 250 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    اسٹینڈرڈ میزائل سکس بھی بحری جہازوں سے داغے گئے۔ یہ میزائل بنیادی طور پر دشمن کے طیاروں، کروز میزائلوں اور بعض دیگر فضائی خطرات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 1,160 میزائل موجود تھے، لیکن اندازوں کے مطابق ایران کی جنگ میں ان میں سے 190 سے 370 تک استعمال ہو چکے ہیں۔

    انتہائی مہنگے تھاڈ اینٹی بیلسٹک میزائل نظام کے اپریل تک امریکہ کے پاس تقریباً 360 انٹرسیپٹر موجود تھے، جن میں سے 190 سے 290 تک استعمال کیے جا چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھاڈ کی آٹھ بیٹریاں جن میں لانچر، انٹرسیپٹر اور ریڈار نظام شامل ہوتے ہیں، کے ذخائر بھی نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔

    پیٹریاٹ میزائلوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس تقریباً 2,330 موجود تھے، جن میں سے 1,060 سے 1,430 کے درمیان استعمال کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ اس وقت پینٹاگون کے پاس تقریباً 400 پرانے پیٹریاٹ میزائل موجود ہیں، لیکن بتایا جاتا ہے کہ وہ اس جنگ میں استعمال کے قابل نہیں ہیں۔

    عالمی دفاعی مبصرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی تیز اور جارحانہ حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں ایران کے خلاف جنگ کو تیز کر کے خود کو ایسے خطرے میں ڈال رہا ہے جیسے کوئی ویڈیو گیم کھیل رہا ہو، جس سے ایشیا میں چین کو کھلا میدان مل سکتا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پینٹاگون کا یہ بیان کہ ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے محض ایک سیاسی بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی دفاعی پیداواری صنعت اس وقت بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے سے قاصر ہے۔

    اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو جنگ کو طول دینے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر جنگ جاری رہی تو امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کرنے کے باوجود بھی اتنے بڑے ذخائر جلد دوبارہ تیار نہیں کر سکیں گے۔

    واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے زیادہ اہم محاذ کون سا ہے، مشرق وسطی میں ایران کے ساتھ مقابلہ یا بحرالکاہل کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کے لیے بیک وقت دونوں محاذوں پر پوری طاقت کے ساتھ جنگ لڑنا اس کی استطاعت سے باہر ہو سکتا ہے۔

    الجزیرہ کے ایک پروگرام میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے رہنماؤں نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ ان کے پاس لامحدود ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر انتظامیہ نے امریکی دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور انہیں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی پیداوار ہنگامی بنیادوں پر دن رات جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ ان کمپنیوں نے بھی اس کام کا آغاز تیز رفتار بنیادوں پر کر دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے جون میں ہی ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ پر دستخط کر دیے تھے۔ اگرچہ اسے کانگریس کی منظوری حاصل نہیں ہوئی، تاہم اسے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق دفاعی پیداوار بڑھانے کا یہ حکم اس بات کی علامت ہے کہ پینٹاگون کے اندر مستقبل کی سپلائی اور وقت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔

    ایک طرف امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف اس کے عرب اتحادی بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے بھی امریکی دفاعی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے انہیں بھی ان کے خریدے ہوئے تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل فراہم کیے جائیں۔

    تاہم واشنگٹن نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ ذخائر خود امریکہ کے پاس بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد روس کے خلاف جنگ کے دوران یوکرین کو فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ موجودہ جنگ کے باعث مزید میزائل فوری طور پر دستیاب نہیں۔

    پہلے سے موجود سپلائی آرڈرز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ جاپان کے لیے 400 ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی، جو 2025 سے 2027 کے درمیان مکمل ہونی تھی، مقررہ وقت پر پوری نہ ہو سکی۔ اس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مئی میں کہا تھا کہ اس آرڈر کی تکمیل میں مزید دو سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

    اسی دوران سوئٹزرلینڈ نے جون میں فرانس، اسرائیل اور جنوبی کوریا سے میزائل دفاعی نظام خریدنے کے لیے بیک وقت مذاکرات شروع کیے، جبکہ جاپان کے لیے ریتھیون کا 2022 کا آرڈر بھی تاخیر کا شکار ہے۔

    وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حال ہی میں کہا کہ اب نئے میزائل حاصل کرنے میں مہینے نہیں بلکہ سال لگ سکتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں میزائلوں پر کم انحصار ہو۔ ان کا اشارہ زمینی جنگ کی طرف تھا، جہاں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور عام فوجی نسبتاً کم قیمت ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑ سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کر کے فوری طور پر نئے ذخائر فراہم کر دیں گے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کو طویل کر کے دراصل امریکہ کے جدید ہتھیاروں کے ذخائر کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ اپنی مجوزہ 2027 کی 1.5 ٹریلین ڈالر کی دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ جدید ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ رقم 2026 کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 44 فیصد زیادہ ہے۔

    سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے آئندہ سال کے لیے 785 ٹوماہاک میزائل طلب کیے تھے، لیکن ان میں سے صرف چند ہی فراہم ہو سکے۔ اسی طرح اس سال 821 جاسم میزائل درکار تھے، مگر وہ بھی تاحال مکمل طور پر فراہم نہیں کیے جا سکے۔

    پی آر ایس ایم کے 1,134 میزائل درکار تھے، لیکن اس سال صرف 70 فراہم کیے گئے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری کی ایک بڑی تعداد، جس کی درخواست کئی برس پہلے دی گئی تھی، اب تک فراہم نہیں ہو سکی۔ اسٹینڈرڈ میزائل سکس کے 540 میزائل طلب کیے گئے تھے، مگر صرف 125 موصول ہوئے۔ تھاڈ کے 857 انٹرسیپٹر میزائلوں کی درخواست کی گئی، لیکن اس سال صرف 92 فراہم کیے گئے۔

    اسی طرح پیٹریاٹ میزائلوں کے لیے 2027 تک 3,202 میزائلوں کی درخواست دی گئی، جبکہ اب تک صرف 172 فراہم کیے جا سکے ہیں۔

    دوسری جانب، اگرچہ اسرائیل کی دفاعی صنعت بہت ترقی یافتہ ہے، لیکن بیک وقت لبنان، یمن، غزہ اور ایران کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اس کے ہتھیاروں کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    اسرائیل کے مشہور دفاعی نظام آئرن ڈوم اور ایرو گزشتہ دو برس سے مسلسل استعمال ہو رہے ہیں۔ حزب اللہ اور حوثی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون مسلسل داغ رہے ہیں، جس کے باعث اسرائیل کو انہیں فضا میں تباہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

    غزہ اور لبنان میں وسیع پیمانے پر بمباری کی وجہ سے اسرائیل کو آرٹلری گولوں اور گائیڈڈ بموں کی بھی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، جسے پورا کرنے کے لیے امریکہ نے ہنگامی بنیادوں پر اسرائیل کو فضائی راستے سے اسلحہ فراہم کیا۔

    دریں اثنا، امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران جنگ، اسرائیل کے لیے جنگی فنڈنگ اور دفاعی تعاون سے متعلق سالانہ بل کو 50 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے روک دیا۔

    سینیٹ کی نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کمیٹی میں چک شومر، کرس وان ہولن، برنی سینڈرز، الزبتھ وارن، ایڈ مارکی، جیف مرکلے اور پیٹر ویلچ سمیت کئی سینیٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت کو امریکی ٹیکس دہندگان کا مزید پیسہ دینا بند کیا جانا چاہیے۔

    اس کے علاوہ 14 شہری اور جنگ مخالف تنظیموں، جن میں امریکن سول لبرٹیز یونین، جے اسٹریٹ، کوڈ پنک اور دیگر خارجہ پالیسی سے متعلق تنظیمیں شامل ہیں، نے بھی سینیٹ سے اپیل کی کہ اس بل کی منظوری نہ دی جائے۔

    اب سوال یہ نہیں رہا کہ امریکہ جنگ جیت سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنے کی اپنی صلاحیت کو کب تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

    جب تک امریکہ کا دفاعی پیداواری نظام برسوں کے بجائے مہینوں کی رفتار سے جدید ہتھیار تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا، ایران کے ساتھ جاری جنگ صرف مشرق وسطی کا مسئلہ نہیں رہے گی، بلکہ بحرالکاہل میں امریکہ کی مستقبل کی عسکری طاقت اور چین کے مقابلے میں اس کی حکمت عملی کا بھی ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔

  • صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    میں نے گزشتہ رات صدر آصف علی زرداری کے چین کے دورے کے بارے میں چائنا سینٹرل ٹیلی وژن کی ایک مختصر ڈاکیومنٹری دیکھی جو صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر بھی شیئر کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں پاکستانی صدر کے بجائے انہیں زیادہ تر پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے داماد اور بینظیر بھٹو کے شوہر کے طور پر متعارف کروایا جا رہا تھا۔

    پاکستان اور چین کے تعلقات ہمیشہ ریاستی مفادات کے ساتھ ساتھ دوستی پر مبنی رہے ہیں مگر ان تعلقات کو مضبوط بنانے میں قیادت کی دور اندیشی اور ان کے وفد کے انتخاب کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ ایک طرف ذوالفقار علی بھٹو کی علمی اور سفارتی حکمت عملی ہے اور دوسری طرف صدر آصف علی زرداری کے دور کے وفود کی سیاسی نوعیت۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا روح رواں سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس وقت چین سے دوستی کی بنیاد رکھی جب دنیا دو بلاکس میں تقسیم تھی۔ بھٹو صاحب کی کامیابی کا راز صرف ان کی شخصیت نہیں بلکہ ان کی بااعتماد اور ماہر ٹیم بھی تھی۔

    عزیز احمد ایک تجربہ کار سفارتکار تھے۔ بھٹو صاحب انہیں اپنے وفد میں اس لیے شامل کرتے تھے تاکہ بین الاقوامی معاہدوں کی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ ان کی موجودگی چین کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کو باوقار موقف فراہم کرتی تھی۔

    عبدالحفیظ پیرزادہ نہ صرف ایک سیاستدان بلکہ قانون کے ماہر بھی تھے۔ چین کے ساتھ ہونے والے دفاعی اور اقتصادی معاہدوں کو قانونی شکل دینے اور پاکستان کے مفادات کے تحفظ میں ان کا کردار نہایت اہم تھا۔

    ڈاکٹر مبشر حسن ایک ماہر معاشیات تھے۔ انہیں بخوبی علم تھا کہ امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان چین کے ساتھ کس طرح معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

    بھٹو صاحب کی حکمت عملی کے اثرات بھی نمایاں تھے۔ وہ چینی قیادت ماؤ زے تنگ اور چو این لائی سے برابری کی بنیاد پر بات کرتے تھے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کو ایسے ماہرین سے مزین کیا جو اپنے شعبے میں مہارت رکھتے تھے جس سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا۔

    صدر آصف علی زرداری کے دور میں چین کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی رخ پر زور دیا گیا جسے بعد میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شکل ملی تاہم ان کے وفود کے انتخاب پر اکثر تنقید بھی کی گئی۔

    جب ریاستی وفود میں ایسے افراد شامل کیے جائیں جن کا نہ خارجہ پالیسی سے تعلق ہو اور نہ ہی وہ سفارتی آداب سے واقف ہوں تو اس سے ملکی وقار متاثر ہوتا ہے۔ زرداری دور پر بڑی تنقید یہ رہی کہ اہم دوروں میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کی علمی سطح بین الاقوامی فورمز کے معیار کے مطابق نہیں تھی۔ جب سیاسی وفاداری کی بنیاد پر افراد کو آگے لایا جائے تو میزبان ممالک میں پاکستان کی سنجیدگی پر سوال اٹھتے ہیں۔

    وفد کے انتخاب کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قابلیت تجربہ اور علم کی جگہ اگر سیاسی وفاداری اور ذاتی تعلقات کو بنیاد بنایا جائے تو اعلیٰ سطح کے وفود محض سیر سپاٹے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

    کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب اسے چلانے والے افراد عزیز احمد عبدالحفیظ پیرزادہ اور ڈاکٹر مبشر حسن جیسے ماہر ہوں۔ جب علم اور دانائی کی جگہ خوشامد لے لے تو ریاست کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بھٹو صاحب نے چین کو مستقبل کا دوست بنایا مگر اس دوستی کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی ٹیم درکار ہے جو چینی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے نہ کہ صرف تصاویر بنوانے تک محدود رہے

  • چینی سرمایہ کاری: پاکستان کے پانڈا بانڈز کے اجرا میں مزید تاخیر کیوں؟

    چینی سرمایہ کاری: پاکستان کے پانڈا بانڈز کے اجرا میں مزید تاخیر کیوں؟

    پاکستان نے چین کی مالیاتی منڈی میں پہلی مرتبہ پانڈا بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے، تاہم اس منصوبے کو بار بار مؤخر کیے جانے کے باعث اس کی نئی تاریخ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق یہ بانڈز چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں چینی کرنسی یوآن میں جاری کیے جائیں گے، جس کا مقصد پاکستان کے بیرونی مالی وسائل کو متنوع بنانا اور ڈالر پر انحصار کم کرنا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے منصوبے کے مطابق ابتدائی طور پر تقریباً 25 کروڑ ڈالر کے مساوی پانڈا بانڈز جاری کرنے کی تیاری کی گئی تھی، جو بڑے پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر تک بڑھائے جا سکتے ہیں۔

    حکومت کی خواہش تھی کہ یہ بانڈز پہلے دسمبر 2025 میں جاری کیے جائیں، تاہم ریگولیٹری منظوریوں اور دیگر انتظامی امور کی تکمیل میں تاخیر کے باعث اجرا مؤخر کرنا پڑا۔

    بعد ازاں حکام نے اعلان کیا کہ بانڈز نئے سال کے آغاز یعنی جنوری 2026 میں جاری کیے جائیں گے، لیکن ضروری دستاویزی کارروائی اور تکنیکی معاملات مکمل نہ ہونے کے باعث یہ تاریخ بھی تبدیل کر دی گئی۔

    سرمایہ کاروں کو فروری 2026 کے پہلے ہفتے میں اجرا کی امید تھی، تاہم ایک مرتبہ پھر حکومتی تیاریاں رکاوٹ ثابت ہوئیں۔ اور نئی تاریخ کے بارے میں حتمی اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔ کچھ تجزیہ کاروں کو امید ہے یہ اجرا اب مارچ میں ہوگا۔

    ماہرین اقتصادیات کے مطابق پانڈا بانڈز دراصل ایسے قرضہ جاتی بانڈ ہوتے ہیں جو غیر ملکی حکومتیں یا ادارے چین کی مقامی سرمایہ منڈی میں یوآن کرنسی میں جاری کرتے ہیں، جس سے انہیں چین کے بڑے سرمایہ کاروں تک رسائی ملتی ہے اور قرضہ لینے کے ذرائع میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ اقدام اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ملک گزشتہ چند برسوں سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

    حکومت کا مؤقف ہے کہ پانڈا بانڈز کے اجرا سے پاکستان نہ صرف چین کی سرمایہ منڈی سے کم لاگت فنانسنگ حاصل کر سکے گا بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان اپنی قرضہ جاتی حکمت عملی کو مزید متوازن بنا رہا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ یوآن میں قرض لینے سے کرنسی کے خطرات میں بھی کمی آ سکتی ہے اور ملک کو مختلف کرنسیوں میں مالی وسائل حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بار بار تاخیر سے مارکیٹ میں کچھ غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، تاہم بانڈ کے اجرا کے بعد پاکستان کے لیے چین کی سرمایہ منڈی میں مستقل رسائی کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اس اقدام کو پاکستان اور چین کے درمیان مالیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق بانڈز کے اجرا کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور چینی ریگولیٹرز سے ضروری منظوریوں کا عمل جاری ہے، اور جیسے ہی یہ عمل مکمل ہوگا، اجرا کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

    وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پانڈا بانڈ پروگرام پاکستان کی طویل مدتی قرضہ جاتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سرمایہ کے نئے ذرائع تلاش کرنا اور بیرونی مالیاتی دباؤ کو کم کرنا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر یہ بانڈ کامیابی سے جاری ہو جاتے ہیں تو پاکستان کے لیے مستقبل میں مزید یوآن بانڈز جاری کرنے کا راستہ ہموار ہوگا اور ملک کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں اپنی ساکھ بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح پانڈا بانڈز کو پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتائج آنے والے برسوں میں واضح ہو سکتے ہیں۔

  • چین کا سینئر فوجی جنرل امریکہ کو جوہری معلومات فراہم کرنے کے الزام میں زیرِ تفتیش

    چین کا سینئر فوجی جنرل امریکہ کو جوہری معلومات فراہم کرنے کے الزام میں زیرِ تفتیش

    چین نے اپنے ایک سینئر فوجی افسر جنرل ژانگ یوکشیا کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ چین کی وزارتِ دفاع کے مطابق جنرل کے خلاف ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان میں سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ انہوں نے چین کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق
    حساس معلومات امریکہ کو منتقل کیں۔

    ایک امریکی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جنرل ژانگ یوکشیا پر نہ صرف جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے بدلے بھاری رشوت وصول کی۔
    رپورٹ کے مطابق یہ الزامات چین کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئی ایک بریفنگ کے دوران سامنے آئے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بریفنگ ہفتے کی صبح چین کی فوج کے اعلیٰ افسران کی موجودگی میں دی گئی، جبکہ اس سے کچھ ہی دیر قبل چین کی وزارتِ دفاع نے جنرل ژانگ یوکشیا کے خلاف باضابطہ تحقیقات کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

    جنرل ژانگ یوکشیا کون ہیں؟

    جنرل ژانگ یوکشیا چین کی سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین ہیں۔ یہ عہدہ چین کی مسلح افواج میں نہایت بااثر سمجھا جاتا ہے۔ وہ صدر شی جن پنگ کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے رہے ہیں، اسی لیے ان کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کو چین کی داخلی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے ابتدائی بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے سخت ضابطۂ اخلاق اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کے شبہات پر تحقیقات جاری ہیں، تاہم الزامات کی تفصیلی نوعیت بیان نہیں کی گئی۔

    الزامات کی نوعیت

    اخبار کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل ژانگ پر سیاسی گروہ بندی کے ذریعے پارٹی کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے سینٹرل ملٹری کمیشن میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، جو کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی عسکری فیصلوں کی نگرانی کرتا ہے۔

    تحقیقات میں ان کے زیرِ نگرانی ایک بااثر ادارہ بھی شامل ہے جو فوجی ساز و سامان کی تحقیق، ترقی اور خریداری کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ بریفنگ سے باخبر افراد کے مطابق اس ادارے میں تقرریوں اور عہدوں کے بدلے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔
    بریفنگ میں سب سے زیادہ سنگین الزام یہ سامنے آیا کہ جنرل ژانگ یوکشیا نے چین کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق بنیادی اور حساس تکنیکی معلومات امریکہ کے حوالے کیں۔

    عالمی اثرات

    اطلاعات کے مطابق چین میں بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے تحت دیگر کئی اعلیٰ فوجی افسران بھی زیرِ تفتیش ہیں۔ ان پر فوجی عہدوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اثر و رسوخ استعمال کرنے اور رشوت لینے کے الزامات ہیں۔
    مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ صرف بدعنوانی تک محدود نہیں بلکہ جوہری معلومات کے ممکنہ افشا سے جڑا ہوا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو چین کی قومی سلامتی اور علاقائی توازن پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • بیجنگ: ایک بٹن جو زندگی کی خبر دے، چین کی چونکا دینے والی ایپ ‘آر یو ڈیڈ’

    بیجنگ: ایک بٹن جو زندگی کی خبر دے، چین کی چونکا دینے والی ایپ ‘آر یو ڈیڈ’

    چین میں حالیہ دنوں ایک ایسی موبائل ایپ سامنے آئی ہے جس نے اپنے غیر معمولی نام کی وجہ سے لوگوں کو چونکا دیا ہے۔ اس ایپ کا نام آر یو ڈیڈ ہے، جس کا سادہ مطلب بنتا ہے ‘کیا آپ مر چکے ہیں؟’۔ نام سن کر بظاہر یہ ایپ خوفناک یا مذاق محسوس ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ اور ایک سادہ مگر اہم حل موجود ہے۔

    یہ ایپ خاص طور پر ان افراد کے لیے بنائی گئی ہے جو اکیلے رہتے ہیں۔ چین میں ایسے لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو کام، تعلیم یا حالات کے باعث خاندان سے دور تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں نوجوان بھی شامل ہیں اور بڑی عمر کے افراد بھی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں سب سے بڑا خدشہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ بیمار ہو جائیں یا کسی حادثے کا شکار ہو جائیں تو کئی دنوں تک کسی کو خبر نہ ہو۔

    ‘آر یو ڈیڈ’ ایپ اسی مسئلے کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ یہ نہ تو کوئی علاج فراہم کرتی ہے اور نہ ہی ایمبولینس یا ہسپتال سے براہ راست رابطہ کرتی ہے۔ یہ صرف ایک سادہ سا سوال روزانہ صارف سے پوچھتی ہے، کیا آپ ٹھیک ہیں۔

    ایپ کو استعمال کرنا نہایت آسان ہے۔ انسٹال کرنے کے بعد صارف اپنا نام درج کرتا ہے اور ایک ایسے شخص کی معلومات فراہم کرتا ہے جس پر وہ اعتماد کرتا ہو۔ یہ رابطہ کوئی قریبی دوست، رشتہ دار یا جاننے والا ہو سکتا ہے جو ضرورت پڑنے پر مدد کر سکے۔

    ایپ روزانہ یا مقررہ وقت کے اندر صارف سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک سبز رنگ کا بٹن دبائے۔ یہ بٹن دبانا اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ صارف زندہ ہے اور خیریت سے ہے۔ اس عمل میں چند سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لگتا۔

    اگر صارف ایک یا دو دن تک اس بٹن کو نہ دبائے تو ایپ خودکار طور پر منتخب رابطہ شخص کو اطلاع بھیج دیتی ہے۔ یہ اطلاع عموماً ای میل کے ذریعے دی جاتی ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ صارف کی جانب سے کافی وقت سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    اس کے بعد رابطہ شخص خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ فون کرے، پیغام بھیجے یا ذاتی طور پر جا کر صورتحال معلوم کرے۔ اس طریقے سے اگر واقعی کوئی مسئلہ ہو تو بروقت مدد کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

    چین میں اس ایپ کے مقبول ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا نام بھی بنا۔ ‘آر یو ڈیڈ’ جیسے الفاظ نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ کچھ لوگوں نے اسے خوفناک کہا، کچھ نے مذاق سمجھا، لیکن بڑی تعداد نے اس کے مقصد کو سمجھ کر اسے ایک مفید خیال قرار دیا۔

    چین میں اکیلے رہنے والے افراد، خاص طور پر بزرگ شہریوں میں یہ خدشہ عام ہے کہ اگر وہ اچانک بیمار ہو گئے تو کوئی جاننے والا کئی دن بعد ہی خبر لے گا۔ اسی احساس نے بہت سے لوگوں کو اس ایپ کو ایک خاموش محافظ کے طور پر اپنانے پر آمادہ کیا۔

    اگرچہ اس ایپ کو پذیرائی ملی، لیکن اس کے نام پر تنقید بھی سامنے آئی۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ آر یو ڈیڈ جیسے الفاظ ذہنی دباؤ پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر بڑی عمر کے افراد کے لیے۔ اسی تنقید کے بعد ایپ بنانے والوں نے بعض جگہوں پر اسے ایک نرم نام ڈی مو مو کے ساتھ پیش کرنا شروع کیا۔

    ماہرین کے مطابق اس ایپ کی کامیابی کی وجہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہ جدید معاشرے کے ایک تلخ سچ کو بھی سامنے لاتی ہے، اور وہ ہے تنہائی۔ بڑے شہروں میں رہنے والے لاکھوں افراد روزانہ سینکڑوں لوگوں کے درمیان ہوتے ہوئے بھی اصل میں اکیلے ہوتے ہیں۔

    یہ ایپ ایک طرح کی ڈیجیٹل یاد دہانی ہے کہ اگر کوئی شخص خاموش ہو جائے تو کوئی نہ کوئی اس کی خبر لینے والا ہونا چاہیے۔ یہ انسانی تعلق کا متبادل نہیں، لیکن ایک حفاظتی قدم ضرور ہے۔

    پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں خاندانی نظام اب بھی نسبتاً مضبوط ہے، مگر شہروں میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ نوکری، تعلیم اور مہنگائی کے باعث لوگ اکیلے رہنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ایسے میں مستقبل میں اس نوعیت کی ایپس کی ضرورت یہاں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔

    اگرچہ ‘آر یو ڈیڈ’ مکمل حل نہیں، لیکن یہ ایک سادہ اور کم خرچ طریقہ فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے یہ معلوم رکھا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص خیریت سے ہے یا نہیں۔ یہ ایپ خوف پھیلانے کے بجائے توجہ دلاتی ہے۔ ایک چھوٹا سا بٹن، ایک سادہ سی تصدیق، اور شاید کسی کی بروقت مدد کا ذریعہ بن جائے۔

  • چین سے منگوائے اجزا اورکھیر تھر کے پہاڑوں کی جڑی بوٹیوں سے تیار ہونے والا دادو کا اُگم حلوہ

    چین سے منگوائے اجزا اورکھیر تھر کے پہاڑوں کی جڑی بوٹیوں سے تیار ہونے والا دادو کا اُگم حلوہ

    سندھ کے شہر دادو قیام پاکستان سے قبل شروع ہونے والی منفرد مٹھائی، فیاض کا اُگم حلوا، جو کھیر تھر کی پہاڑوں میں اُگنے والے جڑی بوٹیوں سے تیار کیا جاتا ہے۔

    فیاض کا اگم حلوہ ہاؤس کے مالک لالہ شجاع کے مطابق فیاض کا حلوہ کھیرتھر کے پہاڑوں سے حاصل ہونے والے اجزا سے تیار کیا جاتا ہے، اگر کبھی وہاں سے دستیاب نہ ہو تو ہم اجزا چین سے منگواتے ہیں، یہ حلوہ جوڑوں اور کمر کے درد کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، اور لوگ اسے تحفے کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔

    اس حلوے کی شہرت صرف دادو تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سندھ کے مختلف شہروں میں پہچانا جانے والا خاص تحفہ بن چکا ہے۔
    اُگم حلوے کی خاص بات اس کی تیاری کا قدیم طریقہ ہے۔ اس حلوے کی تیاری کے لیے مختلف اجزا کو روایتی بڑے لوہے کے کڑاہی میں ہلکی آنچ پر گھنٹوں تک پکایا جاتا ہے، یہاں تک کہ دودھ کا ہر قطرہ ذائقے اور خوشبو میں ڈھل جاتا ہے۔ مسلسل چلانے کی وجہ سے حلوے میں ایک خاص لچک آتی ہے جو اسے عام حلووں سے منفرد بناتی ہے۔ فیاض کی دکان پر روزانہ تازہ تیار ہونے والا اُگم حلوہ دور دور سے آنے والے گاہکوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے لالہ شجاع نے بتایا: ‘فیاض کا اگم حلوہ سعودی عرب، ترکی، کینیڈا اور دبئی سمیت کئی ممالک میں بھیجا جاتا ہےخاص طور پر سعودی عرب میں تو یہ روزانہ جاتا ہے۔

    ‘حلوہ کئی مرحلوں سے گزر کر تیار ہوتا ہے اور اس کی تین سے چار اقسام بنائی جاتی ہیں، ہر قسم کے الگ الگ نرخ ہوتے ہیں، اگم حلوہ تیار ہونے میں تین گھنٹے لگ جاتے ہیں اور میعاد ایک ماہ تک ہے۔

    ‘یہ وہی ترکیب ہے جو میرے دادا اور والد استعمال کرتے تھے۔ اب میں اور میرا بیٹا اس کاروبار کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہمارا دکان پاکستان بننے سے پہلے قائم ہوا تھا۔’

    دادو کے مقامی لوگ اس حلوے کو اپنی ثقافت اور مہمان نوازی کی علامت سمجھتے ہیں۔ شادی بیاہ، میلوں، میلے ٹھیلوں اور خاص مہمانوں کی آمد پر اُگم حلوہ لازمی رکھا جاتا ہے۔ باہر سے آنے والے سیاح بھی دادو پہنچ کر سب سے پہلے اسی حلوے کا مزہ چکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔