Tag: چین

  • صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    میں نے گزشتہ رات صدر آصف علی زرداری کے چین کے دورے کے بارے میں چائنا سینٹرل ٹیلی وژن کی ایک مختصر ڈاکیومنٹری دیکھی جو صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر بھی شیئر کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں پاکستانی صدر کے بجائے انہیں زیادہ تر پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے داماد اور بینظیر بھٹو کے شوہر کے طور پر متعارف کروایا جا رہا تھا۔

    پاکستان اور چین کے تعلقات ہمیشہ ریاستی مفادات کے ساتھ ساتھ دوستی پر مبنی رہے ہیں مگر ان تعلقات کو مضبوط بنانے میں قیادت کی دور اندیشی اور ان کے وفد کے انتخاب کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ ایک طرف ذوالفقار علی بھٹو کی علمی اور سفارتی حکمت عملی ہے اور دوسری طرف صدر آصف علی زرداری کے دور کے وفود کی سیاسی نوعیت۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا روح رواں سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس وقت چین سے دوستی کی بنیاد رکھی جب دنیا دو بلاکس میں تقسیم تھی۔ بھٹو صاحب کی کامیابی کا راز صرف ان کی شخصیت نہیں بلکہ ان کی بااعتماد اور ماہر ٹیم بھی تھی۔

    عزیز احمد ایک تجربہ کار سفارتکار تھے۔ بھٹو صاحب انہیں اپنے وفد میں اس لیے شامل کرتے تھے تاکہ بین الاقوامی معاہدوں کی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ ان کی موجودگی چین کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کو باوقار موقف فراہم کرتی تھی۔

    عبدالحفیظ پیرزادہ نہ صرف ایک سیاستدان بلکہ قانون کے ماہر بھی تھے۔ چین کے ساتھ ہونے والے دفاعی اور اقتصادی معاہدوں کو قانونی شکل دینے اور پاکستان کے مفادات کے تحفظ میں ان کا کردار نہایت اہم تھا۔

    ڈاکٹر مبشر حسن ایک ماہر معاشیات تھے۔ انہیں بخوبی علم تھا کہ امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان چین کے ساتھ کس طرح معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

    بھٹو صاحب کی حکمت عملی کے اثرات بھی نمایاں تھے۔ وہ چینی قیادت ماؤ زے تنگ اور چو این لائی سے برابری کی بنیاد پر بات کرتے تھے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کو ایسے ماہرین سے مزین کیا جو اپنے شعبے میں مہارت رکھتے تھے جس سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا۔

    صدر آصف علی زرداری کے دور میں چین کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی رخ پر زور دیا گیا جسے بعد میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شکل ملی تاہم ان کے وفود کے انتخاب پر اکثر تنقید بھی کی گئی۔

    جب ریاستی وفود میں ایسے افراد شامل کیے جائیں جن کا نہ خارجہ پالیسی سے تعلق ہو اور نہ ہی وہ سفارتی آداب سے واقف ہوں تو اس سے ملکی وقار متاثر ہوتا ہے۔ زرداری دور پر بڑی تنقید یہ رہی کہ اہم دوروں میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کی علمی سطح بین الاقوامی فورمز کے معیار کے مطابق نہیں تھی۔ جب سیاسی وفاداری کی بنیاد پر افراد کو آگے لایا جائے تو میزبان ممالک میں پاکستان کی سنجیدگی پر سوال اٹھتے ہیں۔

    وفد کے انتخاب کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قابلیت تجربہ اور علم کی جگہ اگر سیاسی وفاداری اور ذاتی تعلقات کو بنیاد بنایا جائے تو اعلیٰ سطح کے وفود محض سیر سپاٹے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

    کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب اسے چلانے والے افراد عزیز احمد عبدالحفیظ پیرزادہ اور ڈاکٹر مبشر حسن جیسے ماہر ہوں۔ جب علم اور دانائی کی جگہ خوشامد لے لے تو ریاست کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بھٹو صاحب نے چین کو مستقبل کا دوست بنایا مگر اس دوستی کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی ٹیم درکار ہے جو چینی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے نہ کہ صرف تصاویر بنوانے تک محدود رہے

  • چینی سرمایہ کاری: پاکستان کے پانڈا بانڈز کے اجرا میں مزید تاخیر کیوں؟

    چینی سرمایہ کاری: پاکستان کے پانڈا بانڈز کے اجرا میں مزید تاخیر کیوں؟

    پاکستان نے چین کی مالیاتی منڈی میں پہلی مرتبہ پانڈا بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے، تاہم اس منصوبے کو بار بار مؤخر کیے جانے کے باعث اس کی نئی تاریخ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق یہ بانڈز چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں چینی کرنسی یوآن میں جاری کیے جائیں گے، جس کا مقصد پاکستان کے بیرونی مالی وسائل کو متنوع بنانا اور ڈالر پر انحصار کم کرنا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے منصوبے کے مطابق ابتدائی طور پر تقریباً 25 کروڑ ڈالر کے مساوی پانڈا بانڈز جاری کرنے کی تیاری کی گئی تھی، جو بڑے پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر تک بڑھائے جا سکتے ہیں۔

    حکومت کی خواہش تھی کہ یہ بانڈز پہلے دسمبر 2025 میں جاری کیے جائیں، تاہم ریگولیٹری منظوریوں اور دیگر انتظامی امور کی تکمیل میں تاخیر کے باعث اجرا مؤخر کرنا پڑا۔

    بعد ازاں حکام نے اعلان کیا کہ بانڈز نئے سال کے آغاز یعنی جنوری 2026 میں جاری کیے جائیں گے، لیکن ضروری دستاویزی کارروائی اور تکنیکی معاملات مکمل نہ ہونے کے باعث یہ تاریخ بھی تبدیل کر دی گئی۔

    سرمایہ کاروں کو فروری 2026 کے پہلے ہفتے میں اجرا کی امید تھی، تاہم ایک مرتبہ پھر حکومتی تیاریاں رکاوٹ ثابت ہوئیں۔ اور نئی تاریخ کے بارے میں حتمی اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔ کچھ تجزیہ کاروں کو امید ہے یہ اجرا اب مارچ میں ہوگا۔

    ماہرین اقتصادیات کے مطابق پانڈا بانڈز دراصل ایسے قرضہ جاتی بانڈ ہوتے ہیں جو غیر ملکی حکومتیں یا ادارے چین کی مقامی سرمایہ منڈی میں یوآن کرنسی میں جاری کرتے ہیں، جس سے انہیں چین کے بڑے سرمایہ کاروں تک رسائی ملتی ہے اور قرضہ لینے کے ذرائع میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ اقدام اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ملک گزشتہ چند برسوں سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

    حکومت کا مؤقف ہے کہ پانڈا بانڈز کے اجرا سے پاکستان نہ صرف چین کی سرمایہ منڈی سے کم لاگت فنانسنگ حاصل کر سکے گا بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان اپنی قرضہ جاتی حکمت عملی کو مزید متوازن بنا رہا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ یوآن میں قرض لینے سے کرنسی کے خطرات میں بھی کمی آ سکتی ہے اور ملک کو مختلف کرنسیوں میں مالی وسائل حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بار بار تاخیر سے مارکیٹ میں کچھ غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، تاہم بانڈ کے اجرا کے بعد پاکستان کے لیے چین کی سرمایہ منڈی میں مستقل رسائی کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اس اقدام کو پاکستان اور چین کے درمیان مالیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق بانڈز کے اجرا کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور چینی ریگولیٹرز سے ضروری منظوریوں کا عمل جاری ہے، اور جیسے ہی یہ عمل مکمل ہوگا، اجرا کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

    وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پانڈا بانڈ پروگرام پاکستان کی طویل مدتی قرضہ جاتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سرمایہ کے نئے ذرائع تلاش کرنا اور بیرونی مالیاتی دباؤ کو کم کرنا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر یہ بانڈ کامیابی سے جاری ہو جاتے ہیں تو پاکستان کے لیے مستقبل میں مزید یوآن بانڈز جاری کرنے کا راستہ ہموار ہوگا اور ملک کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں اپنی ساکھ بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح پانڈا بانڈز کو پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتائج آنے والے برسوں میں واضح ہو سکتے ہیں۔

  • چین کا سینئر فوجی جنرل امریکہ کو جوہری معلومات فراہم کرنے کے الزام میں زیرِ تفتیش

    چین کا سینئر فوجی جنرل امریکہ کو جوہری معلومات فراہم کرنے کے الزام میں زیرِ تفتیش

    چین نے اپنے ایک سینئر فوجی افسر جنرل ژانگ یوکشیا کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ چین کی وزارتِ دفاع کے مطابق جنرل کے خلاف ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان میں سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ انہوں نے چین کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق
    حساس معلومات امریکہ کو منتقل کیں۔

    ایک امریکی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جنرل ژانگ یوکشیا پر نہ صرف جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے بدلے بھاری رشوت وصول کی۔
    رپورٹ کے مطابق یہ الزامات چین کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئی ایک بریفنگ کے دوران سامنے آئے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بریفنگ ہفتے کی صبح چین کی فوج کے اعلیٰ افسران کی موجودگی میں دی گئی، جبکہ اس سے کچھ ہی دیر قبل چین کی وزارتِ دفاع نے جنرل ژانگ یوکشیا کے خلاف باضابطہ تحقیقات کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

    جنرل ژانگ یوکشیا کون ہیں؟

    جنرل ژانگ یوکشیا چین کی سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین ہیں۔ یہ عہدہ چین کی مسلح افواج میں نہایت بااثر سمجھا جاتا ہے۔ وہ صدر شی جن پنگ کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے رہے ہیں، اسی لیے ان کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کو چین کی داخلی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے ابتدائی بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے سخت ضابطۂ اخلاق اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کے شبہات پر تحقیقات جاری ہیں، تاہم الزامات کی تفصیلی نوعیت بیان نہیں کی گئی۔

    الزامات کی نوعیت

    اخبار کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل ژانگ پر سیاسی گروہ بندی کے ذریعے پارٹی کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے سینٹرل ملٹری کمیشن میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، جو کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی عسکری فیصلوں کی نگرانی کرتا ہے۔

    تحقیقات میں ان کے زیرِ نگرانی ایک بااثر ادارہ بھی شامل ہے جو فوجی ساز و سامان کی تحقیق، ترقی اور خریداری کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ بریفنگ سے باخبر افراد کے مطابق اس ادارے میں تقرریوں اور عہدوں کے بدلے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔
    بریفنگ میں سب سے زیادہ سنگین الزام یہ سامنے آیا کہ جنرل ژانگ یوکشیا نے چین کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق بنیادی اور حساس تکنیکی معلومات امریکہ کے حوالے کیں۔

    عالمی اثرات

    اطلاعات کے مطابق چین میں بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے تحت دیگر کئی اعلیٰ فوجی افسران بھی زیرِ تفتیش ہیں۔ ان پر فوجی عہدوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اثر و رسوخ استعمال کرنے اور رشوت لینے کے الزامات ہیں۔
    مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ صرف بدعنوانی تک محدود نہیں بلکہ جوہری معلومات کے ممکنہ افشا سے جڑا ہوا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو چین کی قومی سلامتی اور علاقائی توازن پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • بیجنگ: ایک بٹن جو زندگی کی خبر دے، چین کی چونکا دینے والی ایپ ‘آر یو ڈیڈ’

    بیجنگ: ایک بٹن جو زندگی کی خبر دے، چین کی چونکا دینے والی ایپ ‘آر یو ڈیڈ’

    چین میں حالیہ دنوں ایک ایسی موبائل ایپ سامنے آئی ہے جس نے اپنے غیر معمولی نام کی وجہ سے لوگوں کو چونکا دیا ہے۔ اس ایپ کا نام آر یو ڈیڈ ہے، جس کا سادہ مطلب بنتا ہے ‘کیا آپ مر چکے ہیں؟’۔ نام سن کر بظاہر یہ ایپ خوفناک یا مذاق محسوس ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ اور ایک سادہ مگر اہم حل موجود ہے۔

    یہ ایپ خاص طور پر ان افراد کے لیے بنائی گئی ہے جو اکیلے رہتے ہیں۔ چین میں ایسے لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو کام، تعلیم یا حالات کے باعث خاندان سے دور تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں نوجوان بھی شامل ہیں اور بڑی عمر کے افراد بھی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں سب سے بڑا خدشہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ بیمار ہو جائیں یا کسی حادثے کا شکار ہو جائیں تو کئی دنوں تک کسی کو خبر نہ ہو۔

    ‘آر یو ڈیڈ’ ایپ اسی مسئلے کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ یہ نہ تو کوئی علاج فراہم کرتی ہے اور نہ ہی ایمبولینس یا ہسپتال سے براہ راست رابطہ کرتی ہے۔ یہ صرف ایک سادہ سا سوال روزانہ صارف سے پوچھتی ہے، کیا آپ ٹھیک ہیں۔

    ایپ کو استعمال کرنا نہایت آسان ہے۔ انسٹال کرنے کے بعد صارف اپنا نام درج کرتا ہے اور ایک ایسے شخص کی معلومات فراہم کرتا ہے جس پر وہ اعتماد کرتا ہو۔ یہ رابطہ کوئی قریبی دوست، رشتہ دار یا جاننے والا ہو سکتا ہے جو ضرورت پڑنے پر مدد کر سکے۔

    ایپ روزانہ یا مقررہ وقت کے اندر صارف سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک سبز رنگ کا بٹن دبائے۔ یہ بٹن دبانا اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ صارف زندہ ہے اور خیریت سے ہے۔ اس عمل میں چند سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لگتا۔

    اگر صارف ایک یا دو دن تک اس بٹن کو نہ دبائے تو ایپ خودکار طور پر منتخب رابطہ شخص کو اطلاع بھیج دیتی ہے۔ یہ اطلاع عموماً ای میل کے ذریعے دی جاتی ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ صارف کی جانب سے کافی وقت سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    اس کے بعد رابطہ شخص خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ فون کرے، پیغام بھیجے یا ذاتی طور پر جا کر صورتحال معلوم کرے۔ اس طریقے سے اگر واقعی کوئی مسئلہ ہو تو بروقت مدد کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

    چین میں اس ایپ کے مقبول ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا نام بھی بنا۔ ‘آر یو ڈیڈ’ جیسے الفاظ نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ کچھ لوگوں نے اسے خوفناک کہا، کچھ نے مذاق سمجھا، لیکن بڑی تعداد نے اس کے مقصد کو سمجھ کر اسے ایک مفید خیال قرار دیا۔

    چین میں اکیلے رہنے والے افراد، خاص طور پر بزرگ شہریوں میں یہ خدشہ عام ہے کہ اگر وہ اچانک بیمار ہو گئے تو کوئی جاننے والا کئی دن بعد ہی خبر لے گا۔ اسی احساس نے بہت سے لوگوں کو اس ایپ کو ایک خاموش محافظ کے طور پر اپنانے پر آمادہ کیا۔

    اگرچہ اس ایپ کو پذیرائی ملی، لیکن اس کے نام پر تنقید بھی سامنے آئی۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ آر یو ڈیڈ جیسے الفاظ ذہنی دباؤ پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر بڑی عمر کے افراد کے لیے۔ اسی تنقید کے بعد ایپ بنانے والوں نے بعض جگہوں پر اسے ایک نرم نام ڈی مو مو کے ساتھ پیش کرنا شروع کیا۔

    ماہرین کے مطابق اس ایپ کی کامیابی کی وجہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہ جدید معاشرے کے ایک تلخ سچ کو بھی سامنے لاتی ہے، اور وہ ہے تنہائی۔ بڑے شہروں میں رہنے والے لاکھوں افراد روزانہ سینکڑوں لوگوں کے درمیان ہوتے ہوئے بھی اصل میں اکیلے ہوتے ہیں۔

    یہ ایپ ایک طرح کی ڈیجیٹل یاد دہانی ہے کہ اگر کوئی شخص خاموش ہو جائے تو کوئی نہ کوئی اس کی خبر لینے والا ہونا چاہیے۔ یہ انسانی تعلق کا متبادل نہیں، لیکن ایک حفاظتی قدم ضرور ہے۔

    پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں خاندانی نظام اب بھی نسبتاً مضبوط ہے، مگر شہروں میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ نوکری، تعلیم اور مہنگائی کے باعث لوگ اکیلے رہنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ایسے میں مستقبل میں اس نوعیت کی ایپس کی ضرورت یہاں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔

    اگرچہ ‘آر یو ڈیڈ’ مکمل حل نہیں، لیکن یہ ایک سادہ اور کم خرچ طریقہ فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے یہ معلوم رکھا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص خیریت سے ہے یا نہیں۔ یہ ایپ خوف پھیلانے کے بجائے توجہ دلاتی ہے۔ ایک چھوٹا سا بٹن، ایک سادہ سی تصدیق، اور شاید کسی کی بروقت مدد کا ذریعہ بن جائے۔

  • چین سے منگوائے اجزا اورکھیر تھر کے پہاڑوں کی جڑی بوٹیوں سے تیار ہونے والا دادو کا اُگم حلوہ

    چین سے منگوائے اجزا اورکھیر تھر کے پہاڑوں کی جڑی بوٹیوں سے تیار ہونے والا دادو کا اُگم حلوہ

    سندھ کے شہر دادو قیام پاکستان سے قبل شروع ہونے والی منفرد مٹھائی، فیاض کا اُگم حلوا، جو کھیر تھر کی پہاڑوں میں اُگنے والے جڑی بوٹیوں سے تیار کیا جاتا ہے۔

    فیاض کا اگم حلوہ ہاؤس کے مالک لالہ شجاع کے مطابق فیاض کا حلوہ کھیرتھر کے پہاڑوں سے حاصل ہونے والے اجزا سے تیار کیا جاتا ہے، اگر کبھی وہاں سے دستیاب نہ ہو تو ہم اجزا چین سے منگواتے ہیں، یہ حلوہ جوڑوں اور کمر کے درد کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، اور لوگ اسے تحفے کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔

    اس حلوے کی شہرت صرف دادو تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سندھ کے مختلف شہروں میں پہچانا جانے والا خاص تحفہ بن چکا ہے۔
    اُگم حلوے کی خاص بات اس کی تیاری کا قدیم طریقہ ہے۔ اس حلوے کی تیاری کے لیے مختلف اجزا کو روایتی بڑے لوہے کے کڑاہی میں ہلکی آنچ پر گھنٹوں تک پکایا جاتا ہے، یہاں تک کہ دودھ کا ہر قطرہ ذائقے اور خوشبو میں ڈھل جاتا ہے۔ مسلسل چلانے کی وجہ سے حلوے میں ایک خاص لچک آتی ہے جو اسے عام حلووں سے منفرد بناتی ہے۔ فیاض کی دکان پر روزانہ تازہ تیار ہونے والا اُگم حلوہ دور دور سے آنے والے گاہکوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے لالہ شجاع نے بتایا: ‘فیاض کا اگم حلوہ سعودی عرب، ترکی، کینیڈا اور دبئی سمیت کئی ممالک میں بھیجا جاتا ہےخاص طور پر سعودی عرب میں تو یہ روزانہ جاتا ہے۔

    ‘حلوہ کئی مرحلوں سے گزر کر تیار ہوتا ہے اور اس کی تین سے چار اقسام بنائی جاتی ہیں، ہر قسم کے الگ الگ نرخ ہوتے ہیں، اگم حلوہ تیار ہونے میں تین گھنٹے لگ جاتے ہیں اور میعاد ایک ماہ تک ہے۔

    ‘یہ وہی ترکیب ہے جو میرے دادا اور والد استعمال کرتے تھے۔ اب میں اور میرا بیٹا اس کاروبار کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہمارا دکان پاکستان بننے سے پہلے قائم ہوا تھا۔’

    دادو کے مقامی لوگ اس حلوے کو اپنی ثقافت اور مہمان نوازی کی علامت سمجھتے ہیں۔ شادی بیاہ، میلوں، میلے ٹھیلوں اور خاص مہمانوں کی آمد پر اُگم حلوہ لازمی رکھا جاتا ہے۔ باہر سے آنے والے سیاح بھی دادو پہنچ کر سب سے پہلے اسی حلوے کا مزہ چکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔