Tag: چین

  • چین کے پہاڑ جو بادلوں میں تیرتے دکھائی دیتے ہیں، قدرت کا ایسا شاہکار جسے دیکھ کر آنکھیں حیران رہ جائیں

    چین کے پہاڑ جو بادلوں میں تیرتے دکھائی دیتے ہیں، قدرت کا ایسا شاہکار جسے دیکھ کر آنکھیں حیران رہ جائیں

    کیا آپ نے کبھی ایسے پہاڑ دیکھے ہیں جو زمین سے بلند ہو کر بادلوں کے درمیان تیرتے محسوس ہوں؟ جہاں بلند و بالا چٹانی ستون آسمان کو چھوتے دکھائی دیں، دھند پہاڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور ہر منظر کسی خیالی دنیا کی تصویر بن جائے؟

    یہ کوئی افسانوی دنیا نہیں، بلکہ چین کا ایک حقیقی مقام ہے، جسے ژانگ جیاجئے کہا جاتا ہے۔

    چین کے صوبے ہونان میں واقع ژانگ جیاجئے اپنے منفرد پہاڑی مناظر، گھنے جنگلات اور آسمان کی جانب بلند ہوتے سنگی ستونوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہاں سیکڑوں بلند چٹانی ستون ایک دوسرے کے قریب کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ جب ان کے درمیان بادل اور دھند پھیلتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ پہاڑ زمین سے کٹ کر فضا میں معلق ہو گئے ہوں۔

    ان پہاڑوں کی سب سے حیرت انگیز بات ان کی منفرد ساخت ہے۔ لاکھوں سال پر محیط قدرتی ارضیاتی عمل، چٹانوں کا کٹاؤ اور موسموں کے اثرات نے اس علاقے کو ایسی شکل دی ہے جو دنیا کے بیشتر پہاڑی مناظر سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔

    بارش کے بعد جب دھند بلند چٹانی ستونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے تو پہاڑ کبھی مکمل طور پر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور کبھی بادلوں کے درمیان سے اچانک نمودار ہوتے ہیں۔ سورج کی روشنی میں بدلتے رنگ اور گہری وادیوں کے اوپر تیرتی دھند اس منظر کو مزید دلکش بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقام فوٹوگرافروں، سیاحوں اور قدرت سے محبت کرنے والوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتا ہے۔

    ژانگ جیاجئے نیشنل فاریسٹ پارک وسیع تر وو لنگ یوان قدرتی منظرنامے کا حصہ ہے، جسے یونیسکو نے 1992 میں عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ اس علاقے کی اہمیت صرف اس کے بلند پہاڑوں تک محدود نہیں، بلکہ گھنے جنگلات، قدرتی مسکن اور حیاتیاتی تنوع بھی اسے نمایاں بناتے ہیں۔

    یہ مقام فلمی دنیا میں بھی خاص شہرت حاصل کر چکا ہے۔ اس کے بلند چٹانی ستونوں کو اکثر ہالی وڈ فلم ‘اوتار’ میں دکھائے گئے تیرتے پہاڑوں سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم فلم کی خیالی دنیا اور چین کے اس حقیقی قدرتی منظرنامے میں فرق موجود ہے۔

    یہاں شیشے کے راستے، بلند مقامات تک پہنچانے والی کیبل کاریں اور پہاڑی مناظر کا نظارہ کرنے کے لیے بنائے گئے راستے سیاحوں کو قدرت کے اس حیرت انگیز شاہکار کے قریب لے جاتے ہیں۔ ان راستوں سے گہری وادیوں، بلند چٹانوں اور جنگلات کا نظارہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کسی دوسری دنیا میں پہنچ گیا ہو۔

    لیکن ژانگ جیاجئے کی اصل خوب صورتی صرف سیاحتی سہولتوں میں نہیں، بلکہ قدرت کے اس فن میں ہے جو طویل ارضیاتی عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ یہاں کی چٹانیں، جنگلات اور بدلتے موسم اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ہماری زمین میں اب بھی ایسے مقامات موجود ہیں جو انسانی تخیل کو حیران کر دیتے ہیں۔

    کبھی بادلوں میں چھپے، کبھی سورج کی روشنی میں چمکتے اور کبھی دھند کے پردے سے جھانکتے ژانگ جیاجئے کے پہاڑ قدرت کی عظمت کا ایسا منظر پیش کرتے ہیں جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ حقیقت بعض اوقات افسانوں سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہوتی ہے۔

  • چین کے صوبہ ہونان اور سندھ سسٹر صوبے قرار : ٹرانسپورٹ، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    چین کے صوبہ ہونان اور سندھ سسٹر صوبے قرار : ٹرانسپورٹ، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے چین کے صوبہ ہونان کے شہر چانگشا میں ہونان صوبائی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین یانگ ہاؤڈونگ سے ملاقات کی، جس میں سندھ اور ہونان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی قاسم نوید قمر، گوانگ ژو میں پاکستان کے قونصل جنرل یاسر اقبال بٹ اور دیگر حکومتی حکام بھی موجود تھے۔ کثیر ملکی مکالمے میں بیلاروس، روس اور میکسیکو سمیت دیگر ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

    ملاقات کے دوران شرجیل انعام میمن نے سندھ حکومت کی جانب سے عوامی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کیے جانے والے اقدامات سے چینی حکام کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں عوام کو جدید، محفوظ اور کم خرچ سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ صوبے میں الیکٹرک بسوں، ڈبل ڈیکر بسوں، بی آر ٹی کوریڈورز اور الیکٹرک ٹیکسیوں کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے نظام کو ماحول دوست بنانا بھی ہے۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت عوامی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے۔ بڑے شہروں میں ٹریفک کے مسائل کم کرنے اور شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے صوبہ ہونان کے ساتھ توانائی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے میں سندھ حکومت کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے مختلف صوبوں کے ساتھ تعاون سے سندھ میں ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور اس سلسلے میں کاروباری اور سرکاری سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

    اس موقع پر یانگ ہاؤڈونگ نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے شعبوں میں سندھ اور ہونان کے درمیان کاروباری تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دونوں خطوں کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے کاروباری اداروں اور متعلقہ حکام کے درمیان روابط کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ملاقات میں سندھ اور ہونان کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، جاری اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں اور مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے عوامی مفاد کے منصوبوں، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔

    شرجیل انعام میمن نے اس امید کا اظہار کیا کہ سندھ اور ہونان کے درمیان تعاون مستقبل میں مزید وسیع ہوگا اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں سے دونوں خطوں کو فائدہ پہنچے گا۔

  • برکس کی 18ویں سربراہی کانفرنس: چین اور روس کا موقف اور جنوبی ایشیا کا جغرافیائی سیاسی تناظر

    برکس کی 18ویں سربراہی کانفرنس: چین اور روس کا موقف اور جنوبی ایشیا کا جغرافیائی سیاسی تناظر

    اکیسویں صدی کا عالمی نظام ایک نایاب اور تاریخی موڑ سے گزر رہا ہے۔ وہ دور اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے جب دنیا کے معاشی اور سیاسی فیصلے صرف چند مغربی دارالحکومتوں میں ہوا کرتے تھے۔

    عالمی طاقت کا محور اب مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب کی طرف منتقل ہو رہا ہے، اور اس تبدیلی کی سب سے بڑی قوت ‘برکس’ ہے۔ نئی دہلی میں منعقد ہونے والی 18ویں برکس سربراہی کانفرنس اسی بدلتے ہوئے عالمی نظام کی ایک جیتی جاگتی تصویر بن کر ابھری، جس میں عالمی سیاست، معیشت اور جنوبی ایشیائی خطے کے لیے دور رس نتائج کے حامل فیصلے کیے گئے۔

    برکس کی توسیع اور نئی دہلی اجلاس کا پس منظر

    برکس، جو کبھی صرف برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل ایک معاشی تنظیم تھی، اب ایک ہمہ گیر عالمی طاقت کا روپ دھار چکی ہے۔ مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کی مکمل رکنیت کے بعد اب یہ گروپ دنیا کی آبادی کے تقریباً نصف حصے اور عالمی معیشت کے 35 فیصد سے زائد کی نمائندگی کرتا ہے۔

    نئی دہلی کانفرنس کا مرکزی موضوع ‘مضبوطی، جدت، تعاون اور پائیداری کا قیام’ طے کیا گیا تھا۔ اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور دیگر رکن ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔

    اس اجلاس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مغربی پابندیوں اور تنہائی کی پالیسیوں کے باوجود برکس ممالک معاشی اور سفارتی طور پر ایک دوسرے کے قریب تر ہو رہے ہیں۔

    گریٹر برکس اور چین کا موقف

    چین اور روس برکس کے موجودہ 11 رکنی توسیع شدہ گروپ کو ‘گریٹر برکس’ کا نام دیتے ہیں۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے ‘گریٹر برکس ممالک’ کے درمیان معاشی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون بہتر بنائیں، صنعتی اور سپلائی چین کے استحکام کو برقرار رکھیں اور ایک مربوط منڈی کے قیام کے لیے کام کریں۔

    نئی دہلی اعلامیہ: عالمی اداروں پر عدم اطمینان اور متبادل فریم ورک

    کانفرنس کے اختتام پر متفقہ طور پر ‘نئی دہلی اعلامیہ’ جاری کیا گیا، جو عالمی نظام کے لیے ایک نیا روڈ میپ پیش کرتا ہے۔ اس اعلامیے کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

    اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں اصلاحات

    اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کی موجودہ ساخت جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہی۔ برکس نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل میں بھارت اور برازیل جیسے اہم ترقی پذیر ممالک کو مستقل نمائندگی دی جائے۔

    یکطرفہ پابندیوں کی شدید مذمت

    امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی جانب سے عائد کی جانے والی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور من مانے تجارتی محصولات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

    مقامی کرنسیوں میں تجارت

    ڈالر پر انحصار کم کرنے کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ رکن ممالک نے باہمی تجارت کے لیے اپنی مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کا عزم کیا۔

    غزہ کی صورتحال پر تشویش

    مشرق وسطیٰ کی ابتر صورتحال، بالخصوص غزہ میں جاری فائرنگ اور انسانی بحران پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور امدادی سامان کی بلارکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا۔

    میزبان ملک کے طور پر بھارت کے سفارتی و معاشی فوائد

    اس کانفرنس کی میزبانی بھارت کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ثابت ہوئی۔ نئی دہلی نے اپنی کثیر جہتی سفارتی صف بندی کی پالیسی کو بہترین طریقے سے استعمال کیا۔

    چین کے ساتھ برف پگھل گئی

    2020 کے لداخ سرحدی تنازع کے بعد سے بھارت اور چین کے تعلقات میں جو جمود اور کشیدگی تھی، اجلاس کی سائیڈ لائنز پر نریندر مودی اور شی جن پنگ کی دوطرفہ ملاقات نے اسے توڑ دیا۔ دونوں ممالک نے سرحدوں پر پائیدار امن اور تجارتی تعطل ختم کرنے پر اتفاق کیا۔

    عالمی جنوب کی قیادت

    بھارت نے خود کو ترقی پذیر ممالک کے وکیل اور برکس کی ایک اہم آواز کے طور پر پیش کیا۔

    توانائی کی حفاظت

    روس اور ایران کے ساتھ قریبی رابطوں نے بھارت کو سستے خام تیل اور گیس کی مسلسل فراہمی کی یقین دہانی کروائی، جو اس کی بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔

    پاکستان کا زاویہ نظر: ایک سفارتی چیلنج اور موقف

    اس تمام تر پیش رفت کو اسلام آباد میں انتہائی گہری نظر اور محتاط زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے نومبر 2023 میں برکس میں باقاعدہ شمولیت کی درخواست دی تھی، اور روس و چین نے اس خواہش کا کھلے دل سے خیرمقدم بھی کیا تھا۔ تاہم، بھارت کی جانب سے برکس کے ‘اتفاق رائے’ کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کا راستہ روکنا ایک حقیقت بن چکا ہے۔

    پاکستان اس صورتحال کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

    فورم کا سیاسی استعمال

    پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت برکس کو دوطرفہ تنازعات اور سیاسی عناد کی نذر کر رہا ہے، جو برکس کے بنیادی مقاصد، یعنی عالمی جنوب کے اتحاد، کی نفی ہے۔

    پارٹنر کنٹری کا درجہ اور پاکستان کا انحراف

    گزشتہ کازان سربراہی اجلاس کے بعد برکس نے 13 ممالک، جیسے ملائیشیا، ترکیہ، بیلاروس اور کیوبا وغیرہ، کو ‘پارٹنر کنٹری’ کا درجہ دیا، لیکن پاکستان نے اس درجے کو قبول نہیں کیا۔ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ وہ اپنے معاشی اور جغرافیائی قد کاٹھ کے مطابق برکس کا ‘مکمل رکن’ بننا چاہتا ہے، کسی ثانوی درجے کا نہیں۔

    اعلامیے کی زبان پر تحفظات

    اعلامیے میں انسداد دہشت گردی سے متعلق جملوں کی شمولیت پر پاکستان نظر رکھے ہوئے ہے، تاکہ بھارت اس زبان کو اپنے یکطرفہ بیانیے کے طور پر استعمال نہ کر سکے۔

    مستقبل کے امکانات: کیا پاکستان کے لیے دروازے کھلے ہیں؟

    یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا پاکستان کبھی برکس کا مکمل رکن بن سکے گا؟ اس کا قلیل مدتی جواب اگرچہ مشکل نظر آتا ہے، لیکن طویل مدتی مستقبل امید افزا ہے۔

    اگر چین اور روس کے اثر و رسوخ کے تحت برکس کے ارکان میں مزید توسیع ہوتی ہے، یا فیصلوں کے لیے ‘سو فیصد اتفاق رائے’ کے بجائے اکثریتی رائے کا نظام قائم ہوتا ہے، تو پاکستان کا راستہ فوراً ہموار ہو جائے گا۔ مزید برآں، اگر جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بیک چینل سفارت کاری کے ذریعے بہتری آتی ہے، تو بھارتی ویٹو کا موقف نرم ہو سکتا ہے۔

    18ویں برکس کانفرنس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب دنیا کو کنٹرول کرنے کے مراکز تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایک طرف جہاں یہ کانفرنس بھارت کے لیے عالمی سطح پر اپنی ساکھ مضبوط کرنے کا ذریعہ بنی، وہیں پاکستان کے لیے یہ ایک خاموش یاد دہانی ہے کہ اسے اپنی معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی سفارت کاری کو تیز تر کرنا ہوگا۔

    عالمی سیاست کا نیا اصول واضح ہے: اب بلاکس کسی ایک ملک کی جاگیر نہیں رہے، اور پاکستان جیسے جغرافیائی طور پر اہم ملک کو زیادہ دیر تک ان عالمی فورمز سے باہر رکھنا کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں سٹرٹیجک ریٹریٹ: پیٹرو ڈالر کا دفاع اور چین روس کا خاموش معاشی وار

    مشرقِ وسطیٰ میں سٹرٹیجک ریٹریٹ: پیٹرو ڈالر کا دفاع اور چین روس کا خاموش معاشی وار

    مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر اس وقت شطرنج کے مہرے جس تیزی سے بدل رہے ہیں، اس نے عالمی امور کے ماہرین کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ رواں سال 2026 کے آغاز میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی براہِ راست جنگ نے جہاں دہائیوں پرانے دفاعی توازن کو ہلا کر رکھ دیا، وہاں اب خطے میں ایک نیا جیو پولیٹیکل آرڈر جنم لے رہا ہے۔

    ایک ایسی صورتِ حال سامنے آ رہی ہے جہاں امریکہ اپنی فوجی حکمتِ عملی کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے، ایران پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے، اور چین و روس بغیر کوئی گولی چلائے واشنگٹن کی معیشت کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے چکر میں ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں پاکستانی سپہ سالار کا حالیہ دورۂ تہران محض ایک روایتی دورہ نہیں، بلکہ اس عظیم علاقائی تبدیلی کی ایک اہم کڑی ہے۔

    امریکی فوجی طاقت کا ابھرتا ہوا نیا حصار، خروج یا منتقلی؟

    عام طور پر یہ تاثر عام ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے امریکی اثر و رسوخ ختم ہو رہا ہے، لیکن باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ ‘انخلا’ نہیں بلکہ ایک ‘سٹرٹیجک ریٹریٹ’ یعنی چالاک منتقلی ہے۔ فروری کی جنگ کے دوران قطر میں قائم امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ، العدید، اور خلیجِ فارس کی دیگر تنصیبات ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا آسان نشانہ بنیں۔ اس تجربے نے پینٹاگون کو یہ سکھایا کہ خلیج کے اندر براہِ راست فوج رکھنا اب اثاثہ نہیں بلکہ ایک بڑی کمزوری بن چکا ہے۔

    چنانچہ امریکہ اب خلیجِ فارس کے اڈوں سے پیچھے ہٹ کر اپنے اثاثوں کو ایک نئے محور پر منتقل کر رہا ہے، جس کا مرکز اسرائیل اور اردن ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شام میں قائم امریکی طفیلی حکومت اور عراق میں موجود امریکی اثر و رسوخ کو بطور ‘بفر زون’ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس نئے دفاعی حصار کا مقصد خلیج کے پانیوں میں براہِ راست اترے بغیر، دور بیٹھ کر پورے خطے اور بالخصوص بحری تجارتی راستوں کی چوکیداری کرنا ہے۔

    پیٹرو ڈالر: امریکی معیشت کی وہ لائف لائن جسے چھوڑا نہیں جا سکتا، امریکہ اس نئی بساط کو کیوں بچھا رہا ہے؟

    اس کا جواب ایک لفظ میں چھپا ہے اور وہ ہے پیٹرو ڈالر۔ 1970 کی دہائی سے قائم اس نظام کے تحت دنیا بھر کے ممالک پابند ہیں کہ وہ تیل کی خرید و فروخت صرف امریکی ڈالر میں کریں۔ یہی وہ جادوئی چابی ہے جس کی بدولت امریکہ کھربوں ڈالر کے اندرونی و بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہونے کے باوجود سپر پاور بنا ہوا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں اس کے کاغذ کے نوٹ کی مانگ کبھی کم نہیں ہوتی۔

    امریکہ مشرقِ وسطیٰ کو مکمل طور پر کبھی نہیں چھوڑ سکتا، کیونکہ خلیج کے تیل پر کنٹرول کھونے کا مطلب پیٹرو ڈالر کا خاتمہ اور امریکی معیشت کا فوری طور پر دیوالیہ ہو جانا ہے۔ اس لیے واشنگٹن نے اسرائیل، اردن اور شام کے نئے محور کو اپنا سٹرٹیجک ہیڈکوارٹر بنا لیا ہے تاکہ تیل کی سپلائی لائنز پر اس کی دھاک برقرار رہے۔

    شام کی بے وفائی اور ایران کی ‘پھونک پھونک کر قدم رکھنے’ کی مجبوری

    اس پورے کھیل میں سب سے بڑا سسپنس شامی محاذ پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اسرائیل اور شام کے درمیان شروع ہونے والے حالیہ خفیہ مذاکرات نے دمشق میں ایران کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ دی ہے۔ ایک دہائی تک ایران نے جس شام کو اپنے ‘محورِ مزاحمت’ کا گڑھ بنایا اور حزب اللہ تک ہتھیار پہنچانے کا پل سمجھا، اب وہاں کی کمزور اور معاشی طور پر بدحال حکومت اپنی بقا اور تعمیرِ نو کے فنڈز کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے کیمپ میں جانے کو تیار بیٹھی ہے۔

    شام کی اس ممکنہ بے وفائی نے ایران کو شدید تزویراتی دھچکا پہنچایا ہے۔ ایران یہ جانتا ہے کہ اگر اس نے شام کے اندر موجود اپنی مسلح ملیشیاؤں کے ذریعے اس مذاکراتی عمل کو روکنے کی کوشش کی، تو شام کے اندر ایک نئی خانہ جنگی شروع ہو جائے گی جس کا وہ اس وقت معاشی اور فوجی طور پر متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اس وقت جارحیت کے بجائے ‘سیاسی بقا’ کے موڈ میں ہے اور بارگیننگ کی اس میز پر انتہائی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے۔

    پاکستانی فیلڈ مارشل کا دورہ تہران، مکہ معاہدہ اور بیک چینل ڈپلومیسی

    اس نازک موڑ پر پاکستان کے آرمی چیف کا دورہ تہران غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اس وقت خطے میں ایک ‘بفر اسٹیٹ’ اور سکیورٹی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ حال ہی میں قائم ہونے والا ‘مکہ معاہدہ’، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ بلاک، اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کی بڑی مسلم طاقتیں اب امریکی ڈیزائن کردہ سکیورٹی آرڈر سے باہر نکل کر اپنا وزن قائم کر رہی ہیں۔

    پاکستانی سپہ سالار کا تہران میں ہونا دراصل واشنگٹن کی خاموش رضامندی اور سعودی عرب کے تعاون سے چلنے والی ‘بیک چینل ڈپلومیسی’ کا حصہ ہے۔ پاکستان کا مشن ایران کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ امریکی اڈوں کی پیچھے منتقلی کو اپنی فتح سمجھ کر آبنائے ہرمز یا خلیجی ممالک کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرنے کی غلطی نہ کرے۔

    مکہ معاہدے کے ممالک ایران کو ایک سفارتی چھتری فراہم کر رہے ہیں تاکہ اسے مکمل تنہا ہونے اور کسی بڑے امریکی و اسرائیلی حملے سے بچایا جا سکے، بشرطیکہ ایران اپنی علاقائی جارحیت میں کمی لائے۔

    چین اور روس کا معاشی جال، بغیر گولی چلائے سپر پاور کو تھکانے کی پالیسی

    ایران اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ مکہ معاہدے کے ممالک، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ، کے امریکہ کے ساتھ گہرے معاشی و دفاعی روابط ہیں، اس لیے وہ ان پر اندھا بھروسہ نہیں کرے گا۔ شام کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد، ایران اپنی حتمی پناہ گاہ روس اور چین کے بلاک میں ہی تلاش کرے گا۔

    لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا چین اور روس ایران کے لیے امریکہ سے براہِ راست لڑیں گے؟

    جواب ہے، ہرگز نہیں۔ روس اور چین اس پوزیشن یا موڈ میں نہیں ہیں کہ وہ واشنگٹن سے کوئی روایتی فوجی ٹکراؤ کریں۔ ان کی حکمتِ عملی اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور گہری ہے۔ وہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور تائیوان جیسے متعدد محاذوں پر الجھا کر ‘ہزار زخموں سے تھکانے کی پالیسی’ پر عمل پیرا ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ اپنے مہنگے پیٹریاٹ میزائل اور بحری بیڑے تعینات رکھ رکھ کر اپنے وسائل کا خود ہی دیوالیہ نکال لے۔

    اصل جنگ فوجی نہیں بلکہ معاشی ہے۔ چین اور روس ‘برکس پلس’ کے ذریعے خاموشی سے پیٹرو ڈالر کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کو اس بلاک میں شامل کر کے اب تیل کی تجارت کو چینی یوآن اور مقامی کرنسیوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ چین کا ہدف یہ ہے کہ جب دنیا کا نصف سے زیادہ تیل ڈالر کے بغیر بکنے لگے گا تو امریکی معیشت کا ڈبہ خود بخود گول ہو جائے گا۔

    مستقبل کا مشرقِ وسطیٰ

    آرٹیکل کا لبِ لباب یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ کا نیا فوجی حصار ہے جو اسرائیل، اردن اور شام پر مشتمل ہے اور جس کا مقصد پیٹرو ڈالر کا تحفظ ہے۔ دوسری طرف چین اور روس کا یوریشین بلاک ہے، جس میں ایران معاشی مجبوری کے تحت ایک ‘بفر’ کے طور پر شامل ہو رہا ہے۔

    امریکہ اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اثاثے منتقل کر کے خطے کو دوبارہ کنٹرول کر لے گا، لیکن اس کا اصل حریف یعنی بیجنگ، اس کے پاؤں تلے سے پیٹرو ڈالر کا معاشی قالین کھینچ رہا ہے۔ فوجیں سرحدیں تو بچا سکتی ہیں، لیکن وہ گرتی ہوئی معیشت کو سہارا نہیں دے سکتیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی یہ دلدل امریکی بالادستی کے سورج کے غروب ہونے کا سبب بن سکتی ہے، اور چین کی یہی خاموش معاشی جنگ اس صدی کا سب سے بڑا جیو پولیٹیکل موڑ ہے۔

  • چین کی امریکہ کو للکار، شی جن پنگ نے نیا عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا نظام بنانے کا اعلان کردیا

    چین کی امریکہ کو للکار، شی جن پنگ نے نیا عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا نظام بنانے کا اعلان کردیا

    چین کے صدر شی جن پنگ نے خود کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نئے عالمی نظام کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اس شعبے میں کھلے تعاون اور اوپن سورس ٹیکنالوجی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

    انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (WAIC) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے ترقی کرنے والے اس شعبے کے قواعد و ضوابط پر صرف ایک ملک کا اثر و رسوخ نہیں ہونا چاہیے۔

    شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اوپن سورس مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ’تاریخی موقع‘ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ چین ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کرے گا۔

    اسی مقصد کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ہزاروں افراد کو اے آئی کی تربیت فراہم کی جائے گی، جبکہ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ، برکس اور دیگر علاقائی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر جدید ٹیکنالوجی تک رسائی صرف چند ممالک تک محدود رہی تو اس سے دنیا میں ’تاریخی ناانصافیاں‘ جنم لے سکتی ہیں۔

    شی جن پنگ کے اس خطاب کو اب تک مصنوعی ذہانت کے عالمی نظام کے بارے میں چین کے سب سے واضح مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے اوپن سورس اے آئی ماڈلز پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہونے چاہییں۔ اس طرح چین نے خود کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکہ کے متبادل عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، ایسے وقت میں جب جدید ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ تیزی سے جاری ہے۔

    شی جن پنگ نے مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو بھاپ کے انجن اور بجلی کی ایجاد سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی دنیا میں ایک بڑا انقلاب لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین گلوبل ساؤتھ، یعنی ترقی پذیر ممالک، کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی، مہارت اور تجربہ شیئر کرنا چاہتا ہے۔

    اس کے ساتھ ہی چین اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے عالمی اصول اور ضابطے بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

    امریکی پیکس سلیکا کا متبادل

    اپنی تقریر میں شی جن پنگ نے چین کے مجوزہ عالمی اے آئی اتحاد کو ایک ایسے متبادل کے طور پر پیش کیا جو امریکہ کی قیادت میں قائم کیے گئے ’پیکس سلیکا‘ نامی بین الاقوامی اقدام کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس امریکی اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت اور اہم معدنی وسائل کی عالمی سپلائی چین کو محفوظ بنانا ہے، تاہم شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں امریکہ کا نام براہِ راست نہیں لیا۔

    چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ حالیہ عرصے میں بار بار یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ بیجنگ کی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی دراصل اس کوشش کا جواب ہے جسے چین، امریکہ کی قیادت میں قائم کیے جانے والے ’اے آئی آئرن کرٹن‘ یعنی مصنوعی ذہانت کی ایک نئی دیوار قرار دیتا ہے۔

    جمعرات کو چینی سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی سے وابستہ معروف سوشل میڈیا اکاؤنٹ یو یوان تان تیان نے ایک تبصرے میں کہا کہ چین ایک نیا عالمی نظام قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں تمام ممالک اور پوری انسانیت مل کر اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا ایسا نظام تشکیل دیں جس میں سب کی شمولیت ہو اور ہر ملک کو برابر کے مواقع حاصل ہوں۔

    شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس نے بھی یہ ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ چینی کمپنیوں کے اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور وہ امریکہ کی کمپنیوں، جیسے اوپن اے آئی اور انتھروپک کے محدود رسائی والے ماڈلز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    نئی چینی چینی ماڈلز اور مصنوعات

    اسی دوران بیجنگ کی نئی ٹیکنالوجی کمپنی مون شاٹ اے آئی نے جمعہ کو اپنا نیا اے آئی ماڈل کیمی کے تھری (Kimi K3) متعارف کرایا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ پیرامیٹرز کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اوپن اے آئی ماڈل ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ قبل امریکی حکومت نے سکیورٹی خدشات کے باعث انتھروپک کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کی دستیابی اچانک محدود کر دی تھی۔

    ماہرین کے مطابق چین اس وقت مصنوعی ذہانت کو اپنی صنعتی اور معاشی حکمت عملی کا اہم ستون بنا چکا ہے۔ حکومت کئی برسوں سے جدید چپس، ڈیٹا سینٹرز، سافٹ ویئر، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اس شعبے میں بیرونی انحصار کم کیا جا سکے۔

    کانفرنس میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اپنی نئی مصنوعات پیش کیں۔ ہواوے نے اپنا جدید اٹلس 950 سپر پوڈ اے آئی کمپیوٹنگ نظام متعارف کرایا، جسے امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی چینی کمپنیوں نے نئے اوپن سورس اے آئی ماڈلز بھی پیش کیے، جن کا مقصد عالمی منڈی میں امریکی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ اور یورپی ممالک نے حالیہ برسوں میں قومی سلامتی کے خدشات کے باعث چین کو جدید سیمی کنڈکٹر چپس اور بعض حساس ٹیکنالوجیز کی برآمد پر مختلف پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال فوجی مقاصد کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ بیجنگ ان پابندیوں کو اپنی تکنیکی ترقی روکنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔

    اسی پس منظر میں چین نے ایک نئی بین الاقوامی تنظیم ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کے بانی ارکان میں پاکستان سمیت 29 ممالک شامل ہیں۔ تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون، مشترکہ اصولوں کی تشکیل اور محفوظ استعمال کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ اس کا مرکزی دفتر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت کے لیے امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ صرف جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے پر ہی توجہ نہیں دے رہا بلکہ وہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے عالمی قوانین اور معیار طے کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے دنیا بھر میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مناسب قوانین اور نگرانی کا نظام نہ بنایا گیا تو یہ ٹیکنالوجی سائبر حملوں، غلط معلومات، جرائم اور فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک اس شعبے کے لیے عالمی ضابطے بنانے پر زور دے رہے ہیں، تاہم اس بارے میں اب تک عالمی اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا۔

    مختلف عالمی نظریات

    17 سے 20 جولائی تک ہونے والی اس کانفرنس کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے دوران مصنوعی ذہانت پر اپنی پہلی سرکاری سطح کی بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ہونے والے ایک اجلاس میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اگر اس شعبے پر بہت زیادہ قوانین اور پابندیاں لگائی گئیں تو نئی ایجادات اور ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب چین نے اپنے کم لاگت والے اوپن سورس اے آئی ماڈلز کو فروغ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی ملے گی اور عالمی سطح پر موجود فرق کم ہوگا۔

    امریکہ کی تجویز کردہ ’اے آئی اپرچیونٹی اسٹیٹمنٹ‘ کی حمایت اب تک 35 ممالک کر چکے ہیں، جبکہ چین کی قیادت میں قائم ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) میں 29 ممالک شامل ہوئے ہیں۔

    امریکی مؤقف سے واقف ایک ذریعے کے مطابق قازقستان واحد ایسا ملک ہے جو دونوں اقدامات کا حصہ بنا ہے۔ اس ذریعے کا کہنا تھا کہ دونوں فہرستوں میں کم مشترکہ ممالک ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے فریم ورک کی حمایت کرنے والے زیادہ تر ممالک نے چین کے متبادل منصوبے کی تائید نہیں کی۔

    ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس میں چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتن چرن ویراکول بھی شریک ہیں۔

  • ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایک جنگ، دو محاذ، امریکہ کے میزائل ختم، چین کے لیے کھلا موقع

    ایران کے ساتھ تیسری بار جنگ شروع ہونے کے باعث امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین نے سی این این کو بتایا ہے کہ ہتھیاروں کی یہ کمی مستقبل میں چین یا شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکی فوج کی لڑنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

    واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف گزشتہ سات ہفتوں کی جنگ کے دوران امریکہ اپنے جدید ترین میزائلوں کا ایک بڑا حصہ استعمال کر چکا ہے۔ اس میں تقریباً 45 فیصد پریسیژن اسٹرائیک میزائل، نصف سے زیادہ تھاڈ میزائل، اور تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل شامل ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ پیسہ نہیں بلکہ وقت ہے۔ ان پیچیدہ ہتھیاروں کو دوبارہ تیار کرنے اور ذخائر کو مکمل کرنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

    امریکی دفاعی ماہرین کو تشویش ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایران کے ساتھ جنگ مزید طویل ہوئی تو امریکہ کے پاس چین کو بحرالکاہل خصوصاً تائیوان کے معاملے میں روکنے کے لیے ہتھیار کم پڑ سکتے ہیں۔

    واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے اپنی تازہ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ واشنگٹن کے ہتھیاروں کی سپلائی کم ہو رہی ہے، لیکن ابھی وہ نازک سطح تک نہیں پہنچی۔

    فروری سے اب تک جاری جنگ میں امریکہ نے ایران کے 13,000 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں، جن میں بنیادی طور پر اپنے سات طاقتور میزائلوں اور دفاعی نظاموں کا استعمال کیا گیا۔ ان میں ٹوماہاک، جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل، اسٹینڈرڈ میزائل تھری، اسٹینڈرڈ میزائل سکس، تھاڈ اور پیٹریاٹ شامل ہیں، جن میں سے امریکہ اپنے دستیاب ذخائر کا نصف سے زیادہ استعمال کر چکا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ان سے کم فاصلے تک مار کرنے والے ہزاروں ہتھیار ابھی بھی ذخیرے میں موجود ہیں، لیکن اب ان کے استعمال کا وقت بھی آتا دکھائی دے رہا ہے، اور اگر جنگ مزید ایک مہینہ جاری رہی تو وہ بھی ختم ہو سکتے ہیں۔

    امریکہ کے پاس سمندر سے زمین پر مار کرنے والے تقریباً 3,000 ٹوماہاک میزائل موجود تھے، جن میں سے ایران کے ساتھ جنگ میں تقریباً 1,000 استعمال ہو چکے ہیں۔

    جاسم کے تقریباً 4,000 میزائلوں میں سے 1,100 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    پی آر ایس ایم نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں، جن کی سپلائی پہلے ہی محدود تھی۔ 2023 سے اب تک ان میں سے صرف 90 میزائل امریکی دفاعی ادارے کو فراہم کیے گئے، جبکہ جنگ میں ان میں سے 40 سے 70 استعمال ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی فوجی رہنما کے مطابق اس جنگ میں ان کی تقریباً پوری دستیاب انوینٹری خرچ کر دی گئی ہے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری اس جنگ میں استعمال ہونے والا سب سے مہنگا ہتھیار ہے، جس کی فی یونٹ قیمت تقریباً 28 ملین ڈالر ہے۔ یہ بحری جہاز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹر ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 410 میزائل تھے، جن میں سے اندازاً 130 سے 250 استعمال کیے جا چکے ہیں۔

    اسٹینڈرڈ میزائل سکس بھی بحری جہازوں سے داغے گئے۔ یہ میزائل بنیادی طور پر دشمن کے طیاروں، کروز میزائلوں اور بعض دیگر فضائی خطرات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس اس کے تقریباً 1,160 میزائل موجود تھے، لیکن اندازوں کے مطابق ایران کی جنگ میں ان میں سے 190 سے 370 تک استعمال ہو چکے ہیں۔

    انتہائی مہنگے تھاڈ اینٹی بیلسٹک میزائل نظام کے اپریل تک امریکہ کے پاس تقریباً 360 انٹرسیپٹر موجود تھے، جن میں سے 190 سے 290 تک استعمال کیے جا چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھاڈ کی آٹھ بیٹریاں جن میں لانچر، انٹرسیپٹر اور ریڈار نظام شامل ہوتے ہیں، کے ذخائر بھی نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔

    پیٹریاٹ میزائلوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس تقریباً 2,330 موجود تھے، جن میں سے 1,060 سے 1,430 کے درمیان استعمال کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ اس وقت پینٹاگون کے پاس تقریباً 400 پرانے پیٹریاٹ میزائل موجود ہیں، لیکن بتایا جاتا ہے کہ وہ اس جنگ میں استعمال کے قابل نہیں ہیں۔

    عالمی دفاعی مبصرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی تیز اور جارحانہ حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں ایران کے خلاف جنگ کو تیز کر کے خود کو ایسے خطرے میں ڈال رہا ہے جیسے کوئی ویڈیو گیم کھیل رہا ہو، جس سے ایشیا میں چین کو کھلا میدان مل سکتا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پینٹاگون کا یہ بیان کہ ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے محض ایک سیاسی بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی دفاعی پیداواری صنعت اس وقت بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے سے قاصر ہے۔

    اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو جنگ کو طول دینے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر جنگ جاری رہی تو امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کرنے کے باوجود بھی اتنے بڑے ذخائر جلد دوبارہ تیار نہیں کر سکیں گے۔

    واشنگٹن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے زیادہ اہم محاذ کون سا ہے، مشرق وسطی میں ایران کے ساتھ مقابلہ یا بحرالکاہل کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کے لیے بیک وقت دونوں محاذوں پر پوری طاقت کے ساتھ جنگ لڑنا اس کی استطاعت سے باہر ہو سکتا ہے۔

    الجزیرہ کے ایک پروگرام میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے رہنماؤں نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ ان کے پاس لامحدود ہتھیار موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر انتظامیہ نے امریکی دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور انہیں میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی پیداوار ہنگامی بنیادوں پر دن رات جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ ان کمپنیوں نے بھی اس کام کا آغاز تیز رفتار بنیادوں پر کر دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے جون میں ہی ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ پر دستخط کر دیے تھے۔ اگرچہ اسے کانگریس کی منظوری حاصل نہیں ہوئی، تاہم اسے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق دفاعی پیداوار بڑھانے کا یہ حکم اس بات کی علامت ہے کہ پینٹاگون کے اندر مستقبل کی سپلائی اور وقت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔

    ایک طرف امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف اس کے عرب اتحادی بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے بھی امریکی دفاعی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے انہیں بھی ان کے خریدے ہوئے تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل فراہم کیے جائیں۔

    تاہم واشنگٹن نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ ذخائر خود امریکہ کے پاس بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد روس کے خلاف جنگ کے دوران یوکرین کو فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ موجودہ جنگ کے باعث مزید میزائل فوری طور پر دستیاب نہیں۔

    پہلے سے موجود سپلائی آرڈرز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ جاپان کے لیے 400 ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی، جو 2025 سے 2027 کے درمیان مکمل ہونی تھی، مقررہ وقت پر پوری نہ ہو سکی۔ اس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مئی میں کہا تھا کہ اس آرڈر کی تکمیل میں مزید دو سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

    اسی دوران سوئٹزرلینڈ نے جون میں فرانس، اسرائیل اور جنوبی کوریا سے میزائل دفاعی نظام خریدنے کے لیے بیک وقت مذاکرات شروع کیے، جبکہ جاپان کے لیے ریتھیون کا 2022 کا آرڈر بھی تاخیر کا شکار ہے۔

    وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حال ہی میں کہا کہ اب نئے میزائل حاصل کرنے میں مہینے نہیں بلکہ سال لگ سکتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس میں میزائلوں پر کم انحصار ہو۔ ان کا اشارہ زمینی جنگ کی طرف تھا، جہاں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور عام فوجی نسبتاً کم قیمت ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑ سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ امریکی اسلحہ ساز کارخانے دن رات کام کر کے فوری طور پر نئے ذخائر فراہم کر دیں گے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کو طویل کر کے دراصل امریکہ کے جدید ہتھیاروں کے ذخائر کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ اپنی مجوزہ 2027 کی 1.5 ٹریلین ڈالر کی دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ جدید ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ رقم 2026 کے دفاعی بجٹ سے تقریباً 44 فیصد زیادہ ہے۔

    سی ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے آئندہ سال کے لیے 785 ٹوماہاک میزائل طلب کیے تھے، لیکن ان میں سے صرف چند ہی فراہم ہو سکے۔ اسی طرح اس سال 821 جاسم میزائل درکار تھے، مگر وہ بھی تاحال مکمل طور پر فراہم نہیں کیے جا سکے۔

    پی آر ایس ایم کے 1,134 میزائل درکار تھے، لیکن اس سال صرف 70 فراہم کیے گئے۔

    اسٹینڈرڈ میزائل تھری کی ایک بڑی تعداد، جس کی درخواست کئی برس پہلے دی گئی تھی، اب تک فراہم نہیں ہو سکی۔ اسٹینڈرڈ میزائل سکس کے 540 میزائل طلب کیے گئے تھے، مگر صرف 125 موصول ہوئے۔ تھاڈ کے 857 انٹرسیپٹر میزائلوں کی درخواست کی گئی، لیکن اس سال صرف 92 فراہم کیے گئے۔

    اسی طرح پیٹریاٹ میزائلوں کے لیے 2027 تک 3,202 میزائلوں کی درخواست دی گئی، جبکہ اب تک صرف 172 فراہم کیے جا سکے ہیں۔

    دوسری جانب، اگرچہ اسرائیل کی دفاعی صنعت بہت ترقی یافتہ ہے، لیکن بیک وقت لبنان، یمن، غزہ اور ایران کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اس کے ہتھیاروں کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    اسرائیل کے مشہور دفاعی نظام آئرن ڈوم اور ایرو گزشتہ دو برس سے مسلسل استعمال ہو رہے ہیں۔ حزب اللہ اور حوثی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون مسلسل داغ رہے ہیں، جس کے باعث اسرائیل کو انہیں فضا میں تباہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

    غزہ اور لبنان میں وسیع پیمانے پر بمباری کی وجہ سے اسرائیل کو آرٹلری گولوں اور گائیڈڈ بموں کی بھی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، جسے پورا کرنے کے لیے امریکہ نے ہنگامی بنیادوں پر اسرائیل کو فضائی راستے سے اسلحہ فراہم کیا۔

    دریں اثنا، امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران جنگ، اسرائیل کے لیے جنگی فنڈنگ اور دفاعی تعاون سے متعلق سالانہ بل کو 50 کے مقابلے میں 46 ووٹوں سے روک دیا۔

    سینیٹ کی نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کمیٹی میں چک شومر، کرس وان ہولن، برنی سینڈرز، الزبتھ وارن، ایڈ مارکی، جیف مرکلے اور پیٹر ویلچ سمیت کئی سینیٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت کو امریکی ٹیکس دہندگان کا مزید پیسہ دینا بند کیا جانا چاہیے۔

    اس کے علاوہ 14 شہری اور جنگ مخالف تنظیموں، جن میں امریکن سول لبرٹیز یونین، جے اسٹریٹ، کوڈ پنک اور دیگر خارجہ پالیسی سے متعلق تنظیمیں شامل ہیں، نے بھی سینیٹ سے اپیل کی کہ اس بل کی منظوری نہ دی جائے۔

    اب سوال یہ نہیں رہا کہ امریکہ جنگ جیت سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنے کی اپنی صلاحیت کو کب تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

    جب تک امریکہ کا دفاعی پیداواری نظام برسوں کے بجائے مہینوں کی رفتار سے جدید ہتھیار تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا، ایران کے ساتھ جاری جنگ صرف مشرق وسطی کا مسئلہ نہیں رہے گی، بلکہ بحرالکاہل میں امریکہ کی مستقبل کی عسکری طاقت اور چین کے مقابلے میں اس کی حکمت عملی کا بھی ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے۔

  • صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    میں نے گزشتہ رات صدر آصف علی زرداری کے چین کے دورے کے بارے میں چائنا سینٹرل ٹیلی وژن کی ایک مختصر ڈاکیومنٹری دیکھی جو صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر بھی شیئر کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں پاکستانی صدر کے بجائے انہیں زیادہ تر پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے داماد اور بینظیر بھٹو کے شوہر کے طور پر متعارف کروایا جا رہا تھا۔

    پاکستان اور چین کے تعلقات ہمیشہ ریاستی مفادات کے ساتھ ساتھ دوستی پر مبنی رہے ہیں مگر ان تعلقات کو مضبوط بنانے میں قیادت کی دور اندیشی اور ان کے وفد کے انتخاب کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ ایک طرف ذوالفقار علی بھٹو کی علمی اور سفارتی حکمت عملی ہے اور دوسری طرف صدر آصف علی زرداری کے دور کے وفود کی سیاسی نوعیت۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا روح رواں سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس وقت چین سے دوستی کی بنیاد رکھی جب دنیا دو بلاکس میں تقسیم تھی۔ بھٹو صاحب کی کامیابی کا راز صرف ان کی شخصیت نہیں بلکہ ان کی بااعتماد اور ماہر ٹیم بھی تھی۔

    عزیز احمد ایک تجربہ کار سفارتکار تھے۔ بھٹو صاحب انہیں اپنے وفد میں اس لیے شامل کرتے تھے تاکہ بین الاقوامی معاہدوں کی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ ان کی موجودگی چین کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کو باوقار موقف فراہم کرتی تھی۔

    عبدالحفیظ پیرزادہ نہ صرف ایک سیاستدان بلکہ قانون کے ماہر بھی تھے۔ چین کے ساتھ ہونے والے دفاعی اور اقتصادی معاہدوں کو قانونی شکل دینے اور پاکستان کے مفادات کے تحفظ میں ان کا کردار نہایت اہم تھا۔

    ڈاکٹر مبشر حسن ایک ماہر معاشیات تھے۔ انہیں بخوبی علم تھا کہ امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان چین کے ساتھ کس طرح معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

    بھٹو صاحب کی حکمت عملی کے اثرات بھی نمایاں تھے۔ وہ چینی قیادت ماؤ زے تنگ اور چو این لائی سے برابری کی بنیاد پر بات کرتے تھے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کو ایسے ماہرین سے مزین کیا جو اپنے شعبے میں مہارت رکھتے تھے جس سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا۔

    صدر آصف علی زرداری کے دور میں چین کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی رخ پر زور دیا گیا جسے بعد میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شکل ملی تاہم ان کے وفود کے انتخاب پر اکثر تنقید بھی کی گئی۔

    جب ریاستی وفود میں ایسے افراد شامل کیے جائیں جن کا نہ خارجہ پالیسی سے تعلق ہو اور نہ ہی وہ سفارتی آداب سے واقف ہوں تو اس سے ملکی وقار متاثر ہوتا ہے۔ زرداری دور پر بڑی تنقید یہ رہی کہ اہم دوروں میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کی علمی سطح بین الاقوامی فورمز کے معیار کے مطابق نہیں تھی۔ جب سیاسی وفاداری کی بنیاد پر افراد کو آگے لایا جائے تو میزبان ممالک میں پاکستان کی سنجیدگی پر سوال اٹھتے ہیں۔

    وفد کے انتخاب کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قابلیت تجربہ اور علم کی جگہ اگر سیاسی وفاداری اور ذاتی تعلقات کو بنیاد بنایا جائے تو اعلیٰ سطح کے وفود محض سیر سپاٹے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

    کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب اسے چلانے والے افراد عزیز احمد عبدالحفیظ پیرزادہ اور ڈاکٹر مبشر حسن جیسے ماہر ہوں۔ جب علم اور دانائی کی جگہ خوشامد لے لے تو ریاست کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بھٹو صاحب نے چین کو مستقبل کا دوست بنایا مگر اس دوستی کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی ٹیم درکار ہے جو چینی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے نہ کہ صرف تصاویر بنوانے تک محدود رہے

  • چینی سرمایہ کاری: پاکستان کے پانڈا بانڈز کے اجرا میں مزید تاخیر کیوں؟

    چینی سرمایہ کاری: پاکستان کے پانڈا بانڈز کے اجرا میں مزید تاخیر کیوں؟

    پاکستان نے چین کی مالیاتی منڈی میں پہلی مرتبہ پانڈا بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے، تاہم اس منصوبے کو بار بار مؤخر کیے جانے کے باعث اس کی نئی تاریخ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق یہ بانڈز چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں چینی کرنسی یوآن میں جاری کیے جائیں گے، جس کا مقصد پاکستان کے بیرونی مالی وسائل کو متنوع بنانا اور ڈالر پر انحصار کم کرنا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے منصوبے کے مطابق ابتدائی طور پر تقریباً 25 کروڑ ڈالر کے مساوی پانڈا بانڈز جاری کرنے کی تیاری کی گئی تھی، جو بڑے پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر تک بڑھائے جا سکتے ہیں۔

    حکومت کی خواہش تھی کہ یہ بانڈز پہلے دسمبر 2025 میں جاری کیے جائیں، تاہم ریگولیٹری منظوریوں اور دیگر انتظامی امور کی تکمیل میں تاخیر کے باعث اجرا مؤخر کرنا پڑا۔

    بعد ازاں حکام نے اعلان کیا کہ بانڈز نئے سال کے آغاز یعنی جنوری 2026 میں جاری کیے جائیں گے، لیکن ضروری دستاویزی کارروائی اور تکنیکی معاملات مکمل نہ ہونے کے باعث یہ تاریخ بھی تبدیل کر دی گئی۔

    سرمایہ کاروں کو فروری 2026 کے پہلے ہفتے میں اجرا کی امید تھی، تاہم ایک مرتبہ پھر حکومتی تیاریاں رکاوٹ ثابت ہوئیں۔ اور نئی تاریخ کے بارے میں حتمی اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔ کچھ تجزیہ کاروں کو امید ہے یہ اجرا اب مارچ میں ہوگا۔

    ماہرین اقتصادیات کے مطابق پانڈا بانڈز دراصل ایسے قرضہ جاتی بانڈ ہوتے ہیں جو غیر ملکی حکومتیں یا ادارے چین کی مقامی سرمایہ منڈی میں یوآن کرنسی میں جاری کرتے ہیں، جس سے انہیں چین کے بڑے سرمایہ کاروں تک رسائی ملتی ہے اور قرضہ لینے کے ذرائع میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔

    پاکستان کے لیے یہ اقدام اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ملک گزشتہ چند برسوں سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

    حکومت کا مؤقف ہے کہ پانڈا بانڈز کے اجرا سے پاکستان نہ صرف چین کی سرمایہ منڈی سے کم لاگت فنانسنگ حاصل کر سکے گا بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان اپنی قرضہ جاتی حکمت عملی کو مزید متوازن بنا رہا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ یوآن میں قرض لینے سے کرنسی کے خطرات میں بھی کمی آ سکتی ہے اور ملک کو مختلف کرنسیوں میں مالی وسائل حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بار بار تاخیر سے مارکیٹ میں کچھ غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، تاہم بانڈ کے اجرا کے بعد پاکستان کے لیے چین کی سرمایہ منڈی میں مستقل رسائی کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اس اقدام کو پاکستان اور چین کے درمیان مالیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق بانڈز کے اجرا کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور چینی ریگولیٹرز سے ضروری منظوریوں کا عمل جاری ہے، اور جیسے ہی یہ عمل مکمل ہوگا، اجرا کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

    وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پانڈا بانڈ پروگرام پاکستان کی طویل مدتی قرضہ جاتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سرمایہ کے نئے ذرائع تلاش کرنا اور بیرونی مالیاتی دباؤ کو کم کرنا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر یہ بانڈ کامیابی سے جاری ہو جاتے ہیں تو پاکستان کے لیے مستقبل میں مزید یوآن بانڈز جاری کرنے کا راستہ ہموار ہوگا اور ملک کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں اپنی ساکھ بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح پانڈا بانڈز کو پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتائج آنے والے برسوں میں واضح ہو سکتے ہیں۔

  • چین کا سینئر فوجی جنرل امریکہ کو جوہری معلومات فراہم کرنے کے الزام میں زیرِ تفتیش

    چین کا سینئر فوجی جنرل امریکہ کو جوہری معلومات فراہم کرنے کے الزام میں زیرِ تفتیش

    چین نے اپنے ایک سینئر فوجی افسر جنرل ژانگ یوکشیا کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ چین کی وزارتِ دفاع کے مطابق جنرل کے خلاف ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان میں سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ انہوں نے چین کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق
    حساس معلومات امریکہ کو منتقل کیں۔

    ایک امریکی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جنرل ژانگ یوکشیا پر نہ صرف جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے بدلے بھاری رشوت وصول کی۔
    رپورٹ کے مطابق یہ الزامات چین کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئی ایک بریفنگ کے دوران سامنے آئے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بریفنگ ہفتے کی صبح چین کی فوج کے اعلیٰ افسران کی موجودگی میں دی گئی، جبکہ اس سے کچھ ہی دیر قبل چین کی وزارتِ دفاع نے جنرل ژانگ یوکشیا کے خلاف باضابطہ تحقیقات کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

    جنرل ژانگ یوکشیا کون ہیں؟

    جنرل ژانگ یوکشیا چین کی سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین ہیں۔ یہ عہدہ چین کی مسلح افواج میں نہایت بااثر سمجھا جاتا ہے۔ وہ صدر شی جن پنگ کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے رہے ہیں، اسی لیے ان کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کو چین کی داخلی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے ابتدائی بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے سخت ضابطۂ اخلاق اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کے شبہات پر تحقیقات جاری ہیں، تاہم الزامات کی تفصیلی نوعیت بیان نہیں کی گئی۔

    الزامات کی نوعیت

    اخبار کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل ژانگ پر سیاسی گروہ بندی کے ذریعے پارٹی کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے سینٹرل ملٹری کمیشن میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، جو کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی عسکری فیصلوں کی نگرانی کرتا ہے۔

    تحقیقات میں ان کے زیرِ نگرانی ایک بااثر ادارہ بھی شامل ہے جو فوجی ساز و سامان کی تحقیق، ترقی اور خریداری کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ بریفنگ سے باخبر افراد کے مطابق اس ادارے میں تقرریوں اور عہدوں کے بدلے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔
    بریفنگ میں سب سے زیادہ سنگین الزام یہ سامنے آیا کہ جنرل ژانگ یوکشیا نے چین کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق بنیادی اور حساس تکنیکی معلومات امریکہ کے حوالے کیں۔

    عالمی اثرات

    اطلاعات کے مطابق چین میں بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے تحت دیگر کئی اعلیٰ فوجی افسران بھی زیرِ تفتیش ہیں۔ ان پر فوجی عہدوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اثر و رسوخ استعمال کرنے اور رشوت لینے کے الزامات ہیں۔
    مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ صرف بدعنوانی تک محدود نہیں بلکہ جوہری معلومات کے ممکنہ افشا سے جڑا ہوا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو چین کی قومی سلامتی اور علاقائی توازن پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • بیجنگ: ایک بٹن جو زندگی کی خبر دے، چین کی چونکا دینے والی ایپ ‘آر یو ڈیڈ’

    بیجنگ: ایک بٹن جو زندگی کی خبر دے، چین کی چونکا دینے والی ایپ ‘آر یو ڈیڈ’

    چین میں حالیہ دنوں ایک ایسی موبائل ایپ سامنے آئی ہے جس نے اپنے غیر معمولی نام کی وجہ سے لوگوں کو چونکا دیا ہے۔ اس ایپ کا نام آر یو ڈیڈ ہے، جس کا سادہ مطلب بنتا ہے ‘کیا آپ مر چکے ہیں؟’۔ نام سن کر بظاہر یہ ایپ خوفناک یا مذاق محسوس ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ اور ایک سادہ مگر اہم حل موجود ہے۔

    یہ ایپ خاص طور پر ان افراد کے لیے بنائی گئی ہے جو اکیلے رہتے ہیں۔ چین میں ایسے لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو کام، تعلیم یا حالات کے باعث خاندان سے دور تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں نوجوان بھی شامل ہیں اور بڑی عمر کے افراد بھی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں سب سے بڑا خدشہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ بیمار ہو جائیں یا کسی حادثے کا شکار ہو جائیں تو کئی دنوں تک کسی کو خبر نہ ہو۔

    ‘آر یو ڈیڈ’ ایپ اسی مسئلے کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ یہ نہ تو کوئی علاج فراہم کرتی ہے اور نہ ہی ایمبولینس یا ہسپتال سے براہ راست رابطہ کرتی ہے۔ یہ صرف ایک سادہ سا سوال روزانہ صارف سے پوچھتی ہے، کیا آپ ٹھیک ہیں۔

    ایپ کو استعمال کرنا نہایت آسان ہے۔ انسٹال کرنے کے بعد صارف اپنا نام درج کرتا ہے اور ایک ایسے شخص کی معلومات فراہم کرتا ہے جس پر وہ اعتماد کرتا ہو۔ یہ رابطہ کوئی قریبی دوست، رشتہ دار یا جاننے والا ہو سکتا ہے جو ضرورت پڑنے پر مدد کر سکے۔

    ایپ روزانہ یا مقررہ وقت کے اندر صارف سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک سبز رنگ کا بٹن دبائے۔ یہ بٹن دبانا اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ صارف زندہ ہے اور خیریت سے ہے۔ اس عمل میں چند سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لگتا۔

    اگر صارف ایک یا دو دن تک اس بٹن کو نہ دبائے تو ایپ خودکار طور پر منتخب رابطہ شخص کو اطلاع بھیج دیتی ہے۔ یہ اطلاع عموماً ای میل کے ذریعے دی جاتی ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ صارف کی جانب سے کافی وقت سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    اس کے بعد رابطہ شخص خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ فون کرے، پیغام بھیجے یا ذاتی طور پر جا کر صورتحال معلوم کرے۔ اس طریقے سے اگر واقعی کوئی مسئلہ ہو تو بروقت مدد کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

    چین میں اس ایپ کے مقبول ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا نام بھی بنا۔ ‘آر یو ڈیڈ’ جیسے الفاظ نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ کچھ لوگوں نے اسے خوفناک کہا، کچھ نے مذاق سمجھا، لیکن بڑی تعداد نے اس کے مقصد کو سمجھ کر اسے ایک مفید خیال قرار دیا۔

    چین میں اکیلے رہنے والے افراد، خاص طور پر بزرگ شہریوں میں یہ خدشہ عام ہے کہ اگر وہ اچانک بیمار ہو گئے تو کوئی جاننے والا کئی دن بعد ہی خبر لے گا۔ اسی احساس نے بہت سے لوگوں کو اس ایپ کو ایک خاموش محافظ کے طور پر اپنانے پر آمادہ کیا۔

    اگرچہ اس ایپ کو پذیرائی ملی، لیکن اس کے نام پر تنقید بھی سامنے آئی۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ آر یو ڈیڈ جیسے الفاظ ذہنی دباؤ پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر بڑی عمر کے افراد کے لیے۔ اسی تنقید کے بعد ایپ بنانے والوں نے بعض جگہوں پر اسے ایک نرم نام ڈی مو مو کے ساتھ پیش کرنا شروع کیا۔

    ماہرین کے مطابق اس ایپ کی کامیابی کی وجہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہ جدید معاشرے کے ایک تلخ سچ کو بھی سامنے لاتی ہے، اور وہ ہے تنہائی۔ بڑے شہروں میں رہنے والے لاکھوں افراد روزانہ سینکڑوں لوگوں کے درمیان ہوتے ہوئے بھی اصل میں اکیلے ہوتے ہیں۔

    یہ ایپ ایک طرح کی ڈیجیٹل یاد دہانی ہے کہ اگر کوئی شخص خاموش ہو جائے تو کوئی نہ کوئی اس کی خبر لینے والا ہونا چاہیے۔ یہ انسانی تعلق کا متبادل نہیں، لیکن ایک حفاظتی قدم ضرور ہے۔

    پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں خاندانی نظام اب بھی نسبتاً مضبوط ہے، مگر شہروں میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ نوکری، تعلیم اور مہنگائی کے باعث لوگ اکیلے رہنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ایسے میں مستقبل میں اس نوعیت کی ایپس کی ضرورت یہاں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔

    اگرچہ ‘آر یو ڈیڈ’ مکمل حل نہیں، لیکن یہ ایک سادہ اور کم خرچ طریقہ فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے یہ معلوم رکھا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص خیریت سے ہے یا نہیں۔ یہ ایپ خوف پھیلانے کے بجائے توجہ دلاتی ہے۔ ایک چھوٹا سا بٹن، ایک سادہ سی تصدیق، اور شاید کسی کی بروقت مدد کا ذریعہ بن جائے۔