چین نے اپنے ایک سینئر فوجی افسر جنرل ژانگ یوکشیا کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ چین کی وزارتِ دفاع کے مطابق جنرل کے خلاف ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان میں سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ انہوں نے چین کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق
حساس معلومات امریکہ کو منتقل کیں۔
ایک امریکی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جنرل ژانگ یوکشیا پر نہ صرف جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے بدلے بھاری رشوت وصول کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ الزامات چین کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئی ایک بریفنگ کے دوران سامنے آئے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بریفنگ ہفتے کی صبح چین کی فوج کے اعلیٰ افسران کی موجودگی میں دی گئی، جبکہ اس سے کچھ ہی دیر قبل چین کی وزارتِ دفاع نے جنرل ژانگ یوکشیا کے خلاف باضابطہ تحقیقات کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
جنرل ژانگ یوکشیا کون ہیں؟
جنرل ژانگ یوکشیا چین کی سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین ہیں۔ یہ عہدہ چین کی مسلح افواج میں نہایت بااثر سمجھا جاتا ہے۔ وہ صدر شی جن پنگ کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے رہے ہیں، اسی لیے ان کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کو چین کی داخلی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزارتِ دفاع کے ابتدائی بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے سخت ضابطۂ اخلاق اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کے شبہات پر تحقیقات جاری ہیں، تاہم الزامات کی تفصیلی نوعیت بیان نہیں کی گئی۔
الزامات کی نوعیت
اخبار کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل ژانگ پر سیاسی گروہ بندی کے ذریعے پارٹی کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے سینٹرل ملٹری کمیشن میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، جو کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی عسکری فیصلوں کی نگرانی کرتا ہے۔
تحقیقات میں ان کے زیرِ نگرانی ایک بااثر ادارہ بھی شامل ہے جو فوجی ساز و سامان کی تحقیق، ترقی اور خریداری کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ بریفنگ سے باخبر افراد کے مطابق اس ادارے میں تقرریوں اور عہدوں کے بدلے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔
بریفنگ میں سب سے زیادہ سنگین الزام یہ سامنے آیا کہ جنرل ژانگ یوکشیا نے چین کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق بنیادی اور حساس تکنیکی معلومات امریکہ کے حوالے کیں۔
عالمی اثرات
اطلاعات کے مطابق چین میں بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے تحت دیگر کئی اعلیٰ فوجی افسران بھی زیرِ تفتیش ہیں۔ ان پر فوجی عہدوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اثر و رسوخ استعمال کرنے اور رشوت لینے کے الزامات ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ صرف بدعنوانی تک محدود نہیں بلکہ جوہری معلومات کے ممکنہ افشا سے جڑا ہوا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو چین کی قومی سلامتی اور علاقائی توازن پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

