موہن جو دڑو کی دریافت سے سکھر بیراج تک، سندھ کے محسن، کراچی کی لارنس روڈ کے سر لارنس کی ایک بھولی بسری داستان

کراچی

کراچی کی تاریخی شاہراہوں اور قدیم گلیوں کی اپنی ایک زبان دانی اور حافظہ ہوتا ہے۔ لارنس روڈ کراچی کے پرانے اور تاریخی علاقوں سے گزرتی ہے، جہاں برطانوی دور کی کئی پرانی عمارتیں، مساجد، مندر، چڑیا گھر اور بازار موجود ہیں۔

بدلتے وقت کے ساتھ، گو کہ بلدیاتی کاغذات میں ’لارنس روڈ‘ کا نام تبدیل کرکے ’نشتر روڈ‘ رکھ دیا گیا ہو، لیکن اس شہرِ قائد کے پرانے اور اصیل کراچی واسیوں، قدیم تاجروں اور تاریخی شعور رکھنے والوں کے لبوں پر آج بھی یہ سڑک ’لارنس روڈ‘ ہی کے نام سے پکاری جاتی ہے۔

آخر یہ ’لارنس‘ کون تھے؟

یہ شخصیت انگریز افسر شاہی کا کوئی عام پرزہ نہیں، بلکہ سر ہنری اسٹیولی لارنس تھے، جنہوں نے 1916 سے 1920 کے درمیان بحیثیت ’کمشنر سندھ‘ اس خطے کی قسمت، معیشت اور سب سے بڑھ کر اس کی ہزاروں سالہ قدیم تاریخی شناخت کی بنیادیں ازسرِ نو استوار کیں۔ اگر سکھر بیراج نہ ہوتا تو آج کا سندھ زرعی اعتبار سے بنجر اور قحط کا شکار ہوتا، اور اگر سر لارنس کی آثارِ قدیمہ سے متعلق بصیرت نہ ہوتی تو موہن جو دڑو کی پانچ ہزار سالہ قدیم اور باوقار شہری تہذیب شاید دہائیوں تک مٹی کے ٹیلوں کے نیچے گمنام دفن رہتی۔

تاریخ کا نیا موڑ: محمد بن قاسم اور راجہ داہر سے قبل سندھ کی شناخت

سر ہنری لارنس کے دورِ کمشنری سے پہلے، سندھ کی تحریری اور عام فہم تاریخ کا افق انتہائی محدود تھا۔ مورخین، مستشرقین اور مقامی مؤلفین سندھ کی تاریخ کا آغاز بنیادی طور پر ’چچ نامہ‘ کے صفحات، راجہ داہر کے عہد اور 712 میں عماد الدین محمد بن قاسم کی آمد سے ہی فرض کرتے تھے۔

سندھ کو محض ایک جغرافیائی گزرگاہ، فاتحین کا بابِ اسلام یا قرونِ وسطیٰ کے راجواڑوں کا علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ اس سے پہلے کا زمانہ اساطیری کہانیوں اور ناخواندہ روایات کے دھندلکوں میں چھپا ہوا تھا۔

سر لارنس محض ایک سویلین افسر نہیں تھے، بلکہ وہ سندھ کے قدیم آثار، اس کے جغرافیے اور برصغیر کی قدیم تہذیبوں کا گہرا تحقیقی اور عمیق ادراک رکھتے تھے۔ انہوں نے اس روایتی اور محدود تاریخی بیانیے کو چیلنج کیا۔

آر ڈی بینرجی کی تعیناتی اور موہن جو دڑو کا سفر

1917 کے دوران سر لارنس نے انڈین آرکیالوجیکل سروے کے مغربی سرکل کے اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ راکھال داس بینرجی کو سندھ طلب کیا۔ انہوں نے بینرجی کو سندھ بھر کے قدیم ٹیلوں، آثار اور تاریخی مقامات کی سائنسی درجہ بندی کا باقاعدہ حکم جاری کیا۔

انہی کی براہِ راست سرپرستی اور انتظامی احکامات کے تحت آر ڈی بینرجی نے 1918–1919 میں ضلع لاڑکانہ کے قریب واقع موہن جو دڑو کے پراسرار اور گمنام ٹیلوں کا رخ کیا۔ اس وقت تک عام خیال یہ تھا کہ یہ ٹیلے شاید کسی درمیانی دور کے بدھ مت کے اسٹوپا کی باقیات ہیں۔

لیکن جب بینرجی نے ابتدائی کھدائی اور سروے کے بعد سر لارنس کو اپنی رپورٹس پیش کیں تو سر لارنس کی علمی پرکھ نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ محض دوسری یا تیسری صدی کا اسٹوپا نہیں، بلکہ اس کے نیچے مہروں اور اینٹوں کی جو چنائی ہے، وہ قبل از تاریخ کے ایک عظیم الشان دور کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

سر لارنس نے بمبئی حکومت سے ہنگامی فنڈز کی منظوری کروائی اور اس مقام کو اینٹیں چرانے والوں اور مقامی تجاوزات سے محفوظ کرنے کا فوری انتظامی حکم دیا۔ اگرچہ باقاعدہ وسیع کھدائی بعد میں 1922 میں سر جان مارشل کی قیادت میں شروع ہوئی، لیکن وہ سر ہنری لارنس ہی کا تاریخی فیصلہ اور بصیرت تھی جس نے موہن جو دڑو کو عالمی تاریخی نقشے پر ابھارا۔

اس ایک دریافت نے سندھ کی تاریخ کو راجہ داہر اور عرب فتح سے 5,000 سال پیچھے دھکیل کر اسے مصر اور میسوپوٹیمیا کی قدیم رین شہری تہذیبوں کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیا۔

سندھ کی معاشی شہ رگ، سکھر بیراج کا بانی

سندھ کا زرعی اور معاشی جائزہ لیا جائے تو سندھ کی زندگی کا تمام تر انحصار دریائے سندھ پر ہے۔ لیکن سر لارنس کے کمشنر بننے سے قبل، سندھ میں آب پاشی کا نظام انتہائی غیر یقینی اور دیسی نوعیت کا تھا۔ زمینیں صرف گرمیوں میں دریا کے چڑھاؤ اور سیلابی نہروں کے رحم و کرم پر تھیں؛ اگر دریا میں طغیانی نہ آتی تو قحط اور فاقہ کشی سندھ کے کسانوں کا مقدر بن جاتی۔

التوا کے شکار منصوبے کا احیا

دریائے سندھ پر سکھر کے مقام پر بیراج بنانے کا خیال سب سے پہلے 1847 میں کپتان فائف نے پیش کیا تھا، لیکن مالیاتی اور تکنیکی الجھنوں کے باعث برطانوی ہندوستانی حکومت اس پر ستر سال تک ہچکچاہٹ کا شکار رہی۔

1916 میں چارج سنبھالتے ہی سر ہنری اسٹیولی لارنس نے اس التوا کے شکار منصوبے کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ انہوں نے چیف انجینئروں کی ایک باصلاحیت ٹیم تشکیل دی، جس نے 1913 کی ناقص تجاویز کا ازسرِ نو سائنسی اور مالیاتی تجزیہ کرکے ایک انتہائی جامع اور عملی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی۔

بمبئی کونسل کے ساتھ اعصاب شکن لابنگ کا سامنا

چوں کہ اس وقت سندھ انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی کا ایک حصہ تھا، اس لیے بمبئی کے حکمران سندھ پر اتنا بھاری سرمایہ خرچ کرنے کو تیار نہ تھے۔ سر لارنس نے ایک سخت گیر منتظم اور ماہرِ معیشت کی حیثیت سے بمبئی کے گورنر اور دہلی کی مرکزی حکومت کو قائل کیا کہ یہ بیراج نہ صرف سندھ بلکہ پورے برصغیر کو غذائی طور پر خودکفیل بنا دے گا۔

انہی کی محنت، خلوص اور مسلسل خط و کتابت کے نتیجے میں 1920 میں اس عظیم الشان منصوبے کو بمبئی حکومت نے حتمی منظوری کی راہ پر ڈالا، جس کا سنگِ بنیاد بعد میں 1923 میں رکھا گیا اور 1932 میں لائیڈ بیراج، یعنی سکھر بیراج، نے کام شروع کیا۔

معاشی انقلاب اور دائمی زراعت

سکھر بیراج کی تعمیر نے سندھ کی قسمت بدل دی۔ 80 لاکھ ایکڑ کی سیرابی: سندھ کے بنجر اور غیر آباد خطے اچانک شاداب ہو گئے۔ بارہ ماہ نہری نظام: دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام، بشمول نارا کینال، روہڑی کینال، رائس کینال اور دادو کینال، کا وجود ممکن ہوا، جس سے سندھ سال میں دو فصلیں، ربیع اور خریف، پیدا کرنے کے قابل ہوا۔

کراچی بندرگاہ کے لیے ایندھن: سندھ کی بمپر کپاس اور چاول نے کراچی بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں میں دھاک بٹھائی، جس سے کراچی کو ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز کا درجہ ملا۔

آج 90 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی سکھر بیراج سندھ کی معیشت کی شہ رگ ہے اور صوبے کے 80 فیصد سے زائد زرعی رقبے کو سیراب کر رہا ہے۔ اس عظیم معاشی انقلاب کے پیچھے جو بنیادی دماغ اور انتظامی جرات تھی، وہ سر ہنری اسٹیولی لارنس ہی کی تھی۔

کراچی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جنگِ عظیم کا بحران

بطور کمشنر سندھ، سر لارنس کا کراچی شہر سے تعلق بھی نہایت گہرا اور انقلابی نوعیت کا تھا۔ ان کا دورِ حکومت پہلی جنگِ عظیم کے انتہائی نازک اور پرآشوب سالوں پر محیط تھا۔

بندر روڈ کی توسیع اور تجارتی زوننگ

پہلی جنگِ عظیم کے دوران کراچی بندرگاہ برطانوی ہند کی اہم ترین جنگی اور تجارتی بندرگاہ بن کر ابھری۔ سر لارنس نے بندرگاہ سے لے کر شہر کے اندرونی حصوں تک مال برداری اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے موجودہ ایم اے جناح روڈ، سابقہ بندر روڈ، کی چوڑائی، پختگی اور اس کی رابطہ سڑکوں کی توسیع کے منصوبے منظور کرائے۔

انہی کے دور میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ایسٹ وارف کو باقاعدہ ریلوے لائن سے جوڑا گیا تاکہ پنجاب اور بلوچستان کی اجناس براہِ راست گودیوں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے شہر کے اندرونی تجارتی حصوں، مثلاً برنس روڈ، کپڑا مارکیٹ اور بمبئی بازار، کی تجارتی زوننگ کی بنیاد رکھی۔

غذائی بحران اور سستے غلے کی دکانیں

1918 میں پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر جب پورا برصغیر شدید بارشوں کی کمی، قحط، ذخیرہ اندوزی اور اسپینش فلو کی مہلک وبا کی لپیٹ میں آیا تو سر لارنس نے کراچی اور سندھ کے عوام کو بھوک اور تباہی سے بچانے کے لیے حیران کن انتظامی صلاحیتوں کا اس طرح مظاہرہ کیا کہ: ’انہوں نے کراچی بندرگاہ سے غلے اور گندم کی بے دریغ برآمد پر ہنگامی پابندی عائد کی۔‘

’ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غلے کی قیمتیں سرکاری طور پر مقرر کیں۔‘

’کراچی کے غریب طبقے، بندرگاہ کے مزدوروں اور عام شہریوں کے لیے سرکاری سرپرستی میں راشن شاپس، یعنی سستے غلے کی دکانیں، قائم کیں، جہاں رعایتی نرخوں پر راشن اور گندم فراہم کی جاتی تھی۔‘

یہ وہ اقدامات تھے جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب ہندوستان کے دیگر صوبے قحط اور فسادات کی آگ میں جل رہے تھے، کراچی سمیت سندھ کے عوام اس شدید غذائی بحران سے محفوظ رہے۔

لارنس روڈ، ایک نام جو مٹایا نہ جا سکا

سر ہنری اسٹیولی لارنس بعد میں بمبئی کے قائم مقام گورنر بھی رہے اور 29 جون 1949 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن سندھ اور کراچی کے لیے ان کی خدمات کا نقش اتنا گہرا تھا کہ کراچی کے ہندوؤں، مسلمانوں اور پارسیوں نے مل کر ان کی یاد میں اس اہم سڑک کا نام ’لارنس روڈ‘ رکھا تھا، جو کراچی کے پرانے تجارتی اور صنعتی علاقوں کو نیو کراچی اور سول لائنز سے جوڑتی تھی۔

اگرچہ ہم نے تختیوں پر نام بدلنے کی روایتی روش پر عمل کرتے ہوئے اس سڑک کا نام کاغذی حد تک تبدیل کر دیا ہے، لیکن تاریخ کی سچائی کو سرکاری نوٹیفکیشنز کے ذریعے نہیں بدلا جا سکتا۔

جب بھی کراچی کا کوئی باسی لارنس روڈ سے گزرتا ہے، جب بھی موہن جو دڑو کا ذکر دنیا کے سامنے سندھ کے فخر کے طور پر ابھرتا ہے، اور جب بھی سکھر بیراج کے 66 دروازوں سے سندھو ندی کا پانی نکل کر سندھ کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، تب تاریخ خاموشی سے سر ہنری اسٹیولی لارنس کی بصیرت کو سلام پیش کرتی ہے۔ وہ سندھ کے ایک سچے نوآبادیاتی محسن تھے، جنہوں نے اس دھرتی کو اس کا ہزاروں سالہ شاندار ماضی بھی لوٹایا اور اس کے مستقبل کی معاشی ضمانت بھی فراہم کی۔

اسی بارے میں: