اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 38 اعشاریہ تین فیصد آبادی کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے، جو بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غربت صرف آمدنی کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ صحت، تعلیم اور معیارِ زندگی سے متعلق متعدد محرومیاں بھی اس کا حصہ ہیں۔
12 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، یو این ڈی پی کے کثیرالجہتی غربت اشاریے (ایم پی آئی) میں پاکستان کی صورتحال خطے کے دیگر بڑے ممالک کے مقابلے میں تشویش ناک قرار دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کی 16 اعشاریہ چار فیصد اور بنگلہ دیش کی تقریباً 15 فیصد آبادی اس نوعیت کی غربت کا شکار ہے۔ تاہم ان ممالک کے اعداد و شمار مختلف برسوں میں کیے گئے گھریلو سروے پر مبنی ہیں، اس لیے ان کا موازنہ ایک ہی وقت کی صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں کثیرالجہتی غربت کا شکار افراد میں محرومیوں کی شدت 51 اعشاریہ سات فیصد ہے، جبکہ مزید تقریباً 13 فیصد آبادی ایسی ہے جو اس غربت کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک کی ایک بڑی آبادی کو بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اور حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں ان کی زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔
کثیرالجہتی غربت کا اشاریہ روایتی غربت کے پیمانوں سے مختلف ہے۔ اس میں صرف آمدنی یا اخراجات کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ غذائیت، بچوں کی اموات، تعلیم کے سال، اسکولوں میں حاضری، صفائی، پینے کے صاف پانی، بجلی، رہائش اور گھریلو اثاثوں جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بھی غربت میں اضافے کا رجحان سامنے آیا ہے۔ گزشتہ 15 برسوں میں پہلی مرتبہ کثیرالجہتی غربت میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھ کر ایک ارب 20 کروڑ ہوگئی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ رپورٹ کے مقابلے میں پانچ کروڑ 15 لاکھ زیادہ ہے۔
دنیا بھر میں اس غربت کا شکار افراد میں بچوں کی تعداد نصف سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 61 کروڑ 70 لاکھ بچے کثیرالجہتی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ایسے افراد میں سے 83 فیصد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔

یو این ڈی پی کے مطابق جنوبی ایشیا میں غربت اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا بھر میں غذائیت، رہائش اور تعلیم کے سالوں سے متعلق مجموعی محرومیوں میں سے کم از کم ایک تہائی کا تعلق اسی خطے سے ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تقریباً 15 کروڑ غریب افراد ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اسکول جانے کی عمر کا کم از کم ایک بچہ تعلیم حاصل نہیں کر رہا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں ترقی کے باوجود بچوں کو تعلیم تک رسائی دینے میں اہم رکاوٹیں موجود ہیں۔
یو این ڈی پی کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر جنوبی ایشیا کی تقریباً 19 اعشاریہ تین فیصد آبادی کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے، جبکہ مزید 18 اعشاریہ چار فیصد آبادی اس غربت کی زد میں آنے کے خطرے سے دوچار ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کثیرالجہتی غربت میں معیارِ زندگی کا حصہ 36 اعشاریہ تین فیصد، تعلیم کا 33 اعشاریہ سات فیصد اور صحت کا تقریباً 30 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ غربت کے مختلف پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک شعبے میں محرومی دوسرے شعبے کو بھی متاثر کرتی ہے۔
مثال کے طور پر، مناسب خوراک کی عدم دستیابی بچوں کی صحت اور تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ تعلیم کی کمی روزگار کے بہتر مواقع حاصل کرنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسی طرح صاف پانی، بجلی اور مناسب رہائش کی عدم دستیابی خاندانوں کی روزمرہ زندگی اور معاشی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔
یو این ڈی پی کے منتظم الیگزینڈر ڈی کرو نے عالمی سطح پر غربت میں اضافے کو خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے ایک ارب 20 کروڑ انسانوں کی مشکلات پوشیدہ ہیں، جنہیں بھوک، تعلیم سے محرومی، صاف پانی اور بجلی کی عدم دستیابی جیسے مسائل بیک وقت درپیش ہیں۔ ان کے بقول، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا بنیادی سہولتوں سے محروم ہونا ناقابل قبول ہے۔
رپورٹ کے نتائج کے مطابق غربت کے خاتمے کے لیے صرف لوگوں کی آمدنی بڑھانا کافی نہیں، بلکہ صحت، تعلیم، صاف پانی، بجلی اور بہتر رہائش تک رسائی یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لیے یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ غربت سے نمٹنے کی کوششوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور انسانی ترقی کو مرکزی اہمیت دینا ہوگی۔

