Tag: بنگلہ دیش

  • جین زی کے مطالبے پر عام انتخابات: 12 فروری کو 12 کروڑ سے زائد بنگلہ دیشی ووٹرز نئی حکومت کا انتخاب کریں گے

    جین زی کے مطالبے پر عام انتخابات: 12 فروری کو 12 کروڑ سے زائد بنگلہ دیشی ووٹرز نئی حکومت کا انتخاب کریں گے

    بنگلہ دیش کے عوام طویل حکمرانی کرنے والی جماعت عوامی لیگ کی شرکت کے بغیر ہونے والے عام انتخابات میں 12 فروری کونئےحکمران کا انتخاب کریں گے، جس میں جین زی یعنی نوجوان ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

    سیاسی مبصرین اس الیکشن کو انتہائی اور دلچسپ قرار دے رہے ہیں کیوں کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد ملک سے باہر ہیں اور ان کی جماعت کو ملک میں پابندیوں کا سامنا ہے۔

    جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں کافی گہماگہمی دیکھی جارہی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق کُل 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز ہیں، جن میں سے 44 فیصد کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے اور تقریباً 50 لاکھ افراد پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔

    فیصلہ کن کردار

    بنگلہ دیش کی سیاست ایک اہم اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے کیوں کہ کئی برس تک شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں اپوزیشن جماعتیں یا تو انتخابات کا بائیکاٹ کرتی رہیں یا ان کے رہنماؤں کو بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    تاہم اب منظرنامہ بدل چکا ہے۔ 2024 کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد نوجوان ووٹرز کا کہنا ہے کہ یہ 2009 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب بنگلہ دیش میں حقیقی اور جمہوری انتخابات ہو رہے ہیں۔

    عوامی لیگ 15 سالہ طویل اقتدار کے بعد مقابلے سے باہرہوچکی ہے۔ اب حکمرانی کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔

    تاہم جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد بھی میدان میں ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

    جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے انتخابی اتحاد میں شیخ حسینہ حکومت کے خلاف بغاوت کی بنیاد رکھنے اور اس کی قیادت کرنے والے نوجوانوں کی جماعت بھی شامل ہے۔

    بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا ہے کہ ان کی جماعت پارلیمان کی 300 نشستوں میں سے 292 پر انتخاب لڑ رہی ہے اور انہیں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل ہونے کا پورا یقین ہے۔

    بنگلہ دیش کے عام انتخابات کا خطے پر کیا اثرات ہوں گے؟

    سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں واضح اور فیصلہ کن نتیجہ سامنے آنا ضروری ہے کیوں کہ شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد مہینوں تک جاری رہنے والے عدم استحکام کی وجہ سے قومی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔

    اس الیکشن کے نتائج صرف داخلی نہیں بلکہ خطے کی سیاست پر بھی اثرانداز ہوں گے۔ خطے کی دو بڑی طاقتیں چین اور انڈیا بھی اس الیکشن کے نتائج کا انتظار کررہی ہیں ۔

    شیخ حسینہ کو انڈیا نواز سمجھا جاتا تھا اور اقتدار سے بے دخلی کے بعد وہ نئی دہلی منتقل ہو گئیں۔ ان کے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں چین کا اثر و رسوخ بڑھتا ہوا جبکہ انڈیا کا کردار نسبتاً کمزور دکھائی دے رہا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اگر جماعت اسلامی کی قیادت میں حکومت بنتی ہے تو بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان کی جانب بڑھ سکتا ہے، جو انڈیا کا دیرینہ حریف اور مسلم اکثریتی ملک ہے۔

    جماعت اسلامی کی جین زی اتحادی جماعت بھی نئی دہلی کی بالادستیکو اپنے اہم خدشات میں شمار کرتی ہے اور اس کے رہنماؤں کی حالیہ ملاقاتیں چینی سفارتکاروں سے ہو چکی ہیں۔

    دوسری طرف جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایک ملک کی طرف جھکاؤ کے بجائے اسلامی اصولوں پر مبنی معاشرے اور خودمختار خارجہ پالیسی کی حامی ہے۔

    جبکہ طارق رحمان کہتے ہیں کہ اگر بی این پی حکومت بناتی ہے تو وہ ہر اس ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرے گی جو بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے مفاد میں ہو۔

    بنگلہ دیش ایک نظر میں

    بارہ فروری 2026 کے انتخابات بنگلہ دیش کی 55 سالہ تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیے جا رہے ہیں۔ ملک کی آبادی 17 کروڑ سے زائد ہے اور یہ دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ گزشتہ 25 برسوں میں بنگلہ دیش کی معیشت تیزی سے ترقی کرتی رہی تاہم حالیہ برسوں میں اس رفتار میں کمی آئی ہے بلکہ مشکلات کا شکار ہے۔

    بنگلہ دیش کی 90 فیصد آبادی مسلمان ہے جبکہ تقریباً 8 فیصد ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

    ملک کی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ووٹرز کا بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔

    معیشت اور کرپشن اہم مسئلہ

    ملکی جی ڈی پی 461 ارب ڈالر ہے ،فی کس آمدنی تقریباً 1,990 ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش بینک کے مطابق جون 2025 تک مالی سال میں معاشی شرح نمو 3.97 فیصد رہی۔

    اقتصادی محاذ پر بنگلہ دیش شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بلند افراط زر، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سرمایہ کاری کی رفتار میں سست روی نے ملک کو 2022 سے اب تک بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بشمول آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، سے اربوں ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

    بنگلہ دیش کو مہنگائی، زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سرمایہ کاری کی سست رفتاری کا سامنا ہے۔سروے کے مطابق ووٹرز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور اس کے بعد مہنگائی ہے۔

    سیاسی جماعتیں

    اس انتخابی مرحلے میں 59 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں تاہم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل کر دی گئی ہے جس کے باعث وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی۔ 51

    جماعتیں عملی طور پر انتخابی میدان میں ہیں جبکہ مجموعی طور پر 1,981 امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں جن میں 249 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔

  • بنگلہ دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے بعد پاکستان کی جانب سے اہم فیصلہ زیر غور

    بنگلہ دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے بعد پاکستان کی جانب سے اہم فیصلہ زیر غور

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے بنگلہ دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان میں بھی صورتحال پر سنجیدہ غور جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے رویے کو نامناسب قرار دیا جا رہا ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی آج وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت یا عدم شرکت سے متعلق رہنمائی لی جائے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مکمل طور پر ٹورنامنٹ سے دستبرداری کے آپشن پر بھی غور کر رہا ہے۔ اگر شرکت کا فیصلہ ہوا تو انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے کے امکانات کم ہیں۔

    بنگلہ دیش کے معاملے کے بعد کرکٹ حلقوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ صورتحال کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

  • ‘سفارتی طور پر پاکستان کے قریب’ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا انتقال کرگئیں۔

    ‘سفارتی طور پر پاکستان کے قریب’ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا انتقال کرگئیں۔

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا آج انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 80 برس کے قریب تھی اور وہ طویل عرصے سے مختلف عارضوں میں مبتلا تھیں۔

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے سوشل میڈیا سائٹ ’فیس بک‘ پر ان کے انتقال کی تصدیق کی۔

    ان کے انتقال کے ساتھ ہی بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک پورا عہد اختتام کو پہنچ گیا، جس میں اقتدار، مزاحمت، قید و بند اور شدید سیاسی محاذ آرائی شامل رہی۔

    بیگم خالدہ ضیا تین مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں اور ملک کی سیاست میں وہ ایک مضبوط اور فیصلہ کن کردار کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ وہ سابق صدر ضیا الرحمن کی اہلیہ تھیں، جن کے قتل کے بعد خالدہ ضیا عملی سیاست میں داخل ہوئیں۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ ابتدا میں وہ سیاست سے دور رہنا چاہتی تھیں، تاہم پارٹی کارکنوں اور فوجی پس منظر رکھنے والے حلقوں کے دباؤ پر انہوں نے بی این پی کی قیادت سنبھالی۔

    پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ موضوعِ بحث رہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ خالدہ ضیا پاکستان کے قریب تھیں، مگر کم لوگوں کو معلوم ہے کہ بطور وزیراعظم انہوں نے تعلقات کو محتاط سفارتی دائرے میں رکھا۔

    ان کے دور میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعاون تو محدود رہا، مگر تعلیمی روابط، طلبہ تبادلے اور سفارتی سطح پر روابط میں خاموش بہتری آئی۔ ان کے دورِ حکومت میں کئی بنگلہ دیشی افسران نے پاکستان میں تربیتی پروگرامز میں شرکت بھی کی۔

    ایک اور کم معلوم پہلو یہ ہے کہ خالدہ ضیا نے 1971 کے واقعات پر بین الاقوامی سطح پر براہِ راست پاکستان کو نشانہ بنانے سے گریز کیا، حالانکہ اندرونِ ملک انہیں اس پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ماضی کی تلخیوں کے بجائے خطے کے مستقبل پر توجہ دی جانی چاہیے، تاہم یہ بات وہ زیادہ تر نجی محفلوں میں کہتی رہیں۔

    خالدہ ضیا کا سیاسی مقابلہ شیخ حسینہ سے رہا، جس نے بنگلہ دیش کی سیاست کو دہائیوں تک دو واضح حصوں میں تقسیم رکھا۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پسِ پردہ مفاہمت کی کوششیں بھی ہوئیں، مگر باہمی عدم اعتماد کے باعث وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔

    خالدہ ضیا کی شادی  1960 میں 15 سال کی عمر میں پاکستانی فوجی کے کیپٹن ضیا الرحمان سے ہوئی تھی۔ 1971 میں ضیا الرحمان مشرقی پاکستان میں ہونے والی بغاوت کا حصہ بنے۔

    ضیا الرحمان بعد میں بنگلہ دیش کے صدر بنے اور میں وہ ایک قاتلانہ حملے میں مارے گئے۔ 36 سال کی عمر میں اپنے شوہر کی ہلاکت کے بعد خالدہ ضیا نے سیاست کا آغاز کیا تھا۔

    بیگم خالدہ ضیا پہلی بار1991  میں بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں، جب بنگلہ دیش میں منتخب جمہوری حکومت بحال ہوئی۔ ان کا پہلا دورِ حکومت1991  تا 1996 رہا۔ اس دوران انہوں نے اقتصادی اصلاحات اور ملک کی داخلی سلامتی کے امور پر توجہ دی۔

    بعد ازاں 1996  میں اقتدار چھوڑا اور2001 میں دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ ان کا دوسرا دورِ حکومت 2001  تا 2006 رہا، جس میں انہوں نے خطے میں بنگلہ دیش کے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط کو بہتر بنانے پر زور دیا۔

    ان کے سیاسی کیریئر میں کشمکش بھی بہت رہی۔ 2007  میں فوجی حکومت کے دوران انہیں قید میں رکھا گیا اور کئی سنگین مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ یہ قید تقریباً چار سال تک جاری رہی، جس کے دوران انہیں صحت کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں عدالتوں کی کارروائی کے بعد وہ رہائی پا گئیں، مگر ان کی صحت اور سیاسی طاقت پر اس کا اثر واضح رہا۔

    ان کے انتقال پر بنگلہ دیش بھر میں سوگ کی فضا ہے۔ سیاسی اختلافات کے باوجود ناقدین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ خالدہ ضیا نے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک مضبوط، خوددار اور مزاحمتی کردار ادا کیا۔ ان کی وفات کے بعد بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کی وفات پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’بیگم ضیا پاکستان کی دوست تھیں‘