بنگلہ دیش کی معزول اور مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال ہر حال میں اپنے وطن واپس آنے کا اعلان کردیا۔ حالاں کہ ان کے خلاف غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی، غیر آئینی اور سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی دھمکی یا رکاوٹ سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
78 سالہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے بعد اقتدار سے محروم ہو گئی تھیں۔ حکومت کے خاتمے کے بعد وہ بھارت چلی گئی تھیں، جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔ انہوں نے بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں پہلی مرتبہ واضح طور پر کہا کہ وہ اسی سال بنگلہ دیش واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ سزائے موت کے باوجود کیا وہ اپنے وطن بنگلہ دیش واپس جائیں گی تو انہوں نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا کہ وہ ہر سازش اور ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے رواں سال اپنے ملک ضرور واپس جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور کسی بھی دباؤ کے آگے جھکنے والی نہیں ہیں۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ انہیں موت کا کوئی خوف نہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی ان کی جماعت کو ختم کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس بار بھی ان کی جماعت کو سیاسی میدان سے ختم کرنے کی کوشش ناکام ہوگی۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں ڈھاکہ کی ایک عدالت نے 2024 کے احتجاجی مظاہروں کے دوران قتل پر اکسانے، ہلاکتوں کے احکامات دینے اور مبینہ مظالم روکنے میں ناکامی کے الزامات پر شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے انہیں ان الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔
سابق وزیر اعظم نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کا عدالتی نظام سیاسی انتقام کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق عدالتوں کو عوامی لیگ کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ عدالتیں آزاد ہوں، لیکن موجودہ حالات میں ایسا نظر نہیں آ رہا۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ ان کی وطن واپسی کا مقصد اقتدار حاصل کرنا یا ذاتی خواہشات پوری کرنا نہیں بلکہ ملک میں سیاسی حقوق، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور 1971 کی جنگ آزادی کی روح کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے عوام کو آزادانہ سیاسی سرگرمیوں اور اظہار رائے کا حق ملنا چاہیے۔
انہوں نے اپنی جماعت عوامی لیگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی کاغذی تنظیم نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی تاریخ، ثقافت اور عوام سے جڑی ہوئی ایک مضبوط سیاسی جماعت ہے۔ ان کے مطابق عوامی لیگ کی جڑیں بنگال کی سرزمین میں بہت گہری ہیں اور اسے محض پابندی لگا کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
شیخ حسینہ نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کی جائے، جماعت کے رہنماؤں کے خلاف ان کے بقول جھوٹے مقدمات واپس لیے جائیں، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن انداز میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔
واضح رہے کہ عوامی لیگ پر پابندی پہلے عبوری حکومت نے عائد کی تھی، جس کے بعد فروری میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وزیر اعظم طارق رحمان کی حکومت قائم ہوئی۔ نئی حکومت نے بھی اس پابندی کو برقرار رکھا ہوا ہے۔
دوسری جانب موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کا مؤقف ہے کہ شیخ حسینہ اور ان کی حکومت کے دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی سیاسی انتقام نہیں بلکہ احتساب کے عمل کا حصہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 2024 کے آخری مہینوں میں ہونے والے واقعات کے دوران مبینہ جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شیخ حسینہ کا رواں سال وطن واپسی کا اعلان بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔ اگر وہ واقعی واپس آتی ہیں تو انہیں عدالتوں میں مقدمات، سزائے موت کے فیصلے اور دیگر قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ان کے حامی اس اعلان کو عوامی لیگ کی سیاست میں دوبارہ سرگرم ہونے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور عدالتوں کے فیصلوں کا احترام ضروری ہے۔




