‘سفارتی طور پر پاکستان کے قریب’ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا انتقال کرگئیں۔

خالدہ ضیا

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا آج انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 80 برس کے قریب تھی اور وہ طویل عرصے سے مختلف عارضوں میں مبتلا تھیں۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے سوشل میڈیا سائٹ ’فیس بک‘ پر ان کے انتقال کی تصدیق کی۔

ان کے انتقال کے ساتھ ہی بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک پورا عہد اختتام کو پہنچ گیا، جس میں اقتدار، مزاحمت، قید و بند اور شدید سیاسی محاذ آرائی شامل رہی۔

بیگم خالدہ ضیا تین مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں اور ملک کی سیاست میں وہ ایک مضبوط اور فیصلہ کن کردار کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ وہ سابق صدر ضیا الرحمن کی اہلیہ تھیں، جن کے قتل کے بعد خالدہ ضیا عملی سیاست میں داخل ہوئیں۔

ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ ابتدا میں وہ سیاست سے دور رہنا چاہتی تھیں، تاہم پارٹی کارکنوں اور فوجی پس منظر رکھنے والے حلقوں کے دباؤ پر انہوں نے بی این پی کی قیادت سنبھالی۔

پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ موضوعِ بحث رہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ خالدہ ضیا پاکستان کے قریب تھیں، مگر کم لوگوں کو معلوم ہے کہ بطور وزیراعظم انہوں نے تعلقات کو محتاط سفارتی دائرے میں رکھا۔

ان کے دور میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعاون تو محدود رہا، مگر تعلیمی روابط، طلبہ تبادلے اور سفارتی سطح پر روابط میں خاموش بہتری آئی۔ ان کے دورِ حکومت میں کئی بنگلہ دیشی افسران نے پاکستان میں تربیتی پروگرامز میں شرکت بھی کی۔

ایک اور کم معلوم پہلو یہ ہے کہ خالدہ ضیا نے 1971 کے واقعات پر بین الاقوامی سطح پر براہِ راست پاکستان کو نشانہ بنانے سے گریز کیا، حالانکہ اندرونِ ملک انہیں اس پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ماضی کی تلخیوں کے بجائے خطے کے مستقبل پر توجہ دی جانی چاہیے، تاہم یہ بات وہ زیادہ تر نجی محفلوں میں کہتی رہیں۔

خالدہ ضیا کا سیاسی مقابلہ شیخ حسینہ سے رہا، جس نے بنگلہ دیش کی سیاست کو دہائیوں تک دو واضح حصوں میں تقسیم رکھا۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پسِ پردہ مفاہمت کی کوششیں بھی ہوئیں، مگر باہمی عدم اعتماد کے باعث وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔

خالدہ ضیا کی شادی  1960 میں 15 سال کی عمر میں پاکستانی فوجی کے کیپٹن ضیا الرحمان سے ہوئی تھی۔ 1971 میں ضیا الرحمان مشرقی پاکستان میں ہونے والی بغاوت کا حصہ بنے۔

ضیا الرحمان بعد میں بنگلہ دیش کے صدر بنے اور میں وہ ایک قاتلانہ حملے میں مارے گئے۔ 36 سال کی عمر میں اپنے شوہر کی ہلاکت کے بعد خالدہ ضیا نے سیاست کا آغاز کیا تھا۔

بیگم خالدہ ضیا پہلی بار1991  میں بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں، جب بنگلہ دیش میں منتخب جمہوری حکومت بحال ہوئی۔ ان کا پہلا دورِ حکومت1991  تا 1996 رہا۔ اس دوران انہوں نے اقتصادی اصلاحات اور ملک کی داخلی سلامتی کے امور پر توجہ دی۔

بعد ازاں 1996  میں اقتدار چھوڑا اور2001 میں دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ ان کا دوسرا دورِ حکومت 2001  تا 2006 رہا، جس میں انہوں نے خطے میں بنگلہ دیش کے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی، خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط کو بہتر بنانے پر زور دیا۔

ان کے سیاسی کیریئر میں کشمکش بھی بہت رہی۔ 2007  میں فوجی حکومت کے دوران انہیں قید میں رکھا گیا اور کئی سنگین مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ یہ قید تقریباً چار سال تک جاری رہی، جس کے دوران انہیں صحت کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں عدالتوں کی کارروائی کے بعد وہ رہائی پا گئیں، مگر ان کی صحت اور سیاسی طاقت پر اس کا اثر واضح رہا۔

ان کے انتقال پر بنگلہ دیش بھر میں سوگ کی فضا ہے۔ سیاسی اختلافات کے باوجود ناقدین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ خالدہ ضیا نے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک مضبوط، خوددار اور مزاحمتی کردار ادا کیا۔ ان کی وفات کے بعد بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے خالدہ ضیا کی وفات پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’بیگم ضیا پاکستان کی دوست تھیں‘

 

اسی بارے میں: