پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں غربت کی شرح ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، تاہم حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ کمزور اور نادار طبقات کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ قومی اقتصادی سروے برائے 2025-26 کے مطابق غربت میں اضافے کے باوجود تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے کئی شعبوں میں بہتری بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں قومی غربت کی شرح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ معاشی مشکلات، مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے گھریلو آمدنی اور عوامی فلاح پر منفی اثر ڈالا۔
صوبائی سطح پر بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ 47 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ پنجاب میں یہ شرح 23.3 فیصد رہی۔ سندھ میں 32.6 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 35.3 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ سروے کے مطابق آمدنی میں عدم مساوات بھی بڑھی ہے اور قومی جینی کوایفیشنٹ 28.4 سے بڑھ کر 32.7 ہو گیا ہے۔
حکومت نے غربت کے اثرات کم کرنے کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران غریب دوست اخراجات 4,663 ارب روپے تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9.6 فیصد زیادہ ہیں۔ سماجی تحفظ اور فلاحی پروگراموں پر 822 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ پروگرام رہا۔ مالی سال 2025-26 میں اس کے لیے 722.49 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ مارچ تک 540.27 ارب روپے جاری کیے جا چکے تھے۔ پروگرام کے تحت 1 کروڑ 2 لاکھ خواتین مستفید ہوئیں جبکہ تعلیمی وظائف اور نشوونما پروگراموں سمیت مشروط نقد امداد سے 65 لاکھ 90 ہزار افراد کو فائدہ پہنچا۔
اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ حکومت بی آئی ایس پی کی ادائیگیوں کو مزید شفاف بنانے کے لیے "سوشل پروٹیکشن والٹس” متعارف کرا رہی ہے۔ اس نظام کے تحت مستحق افراد کو براہ راست ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم فراہم کی جائیں گی، جس سے بدعنوانی اور غیر ضروری کٹوتیوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔
پاکستان بیت المال نے بھی جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک 32 لاکھ سے زائد مستحق افراد کی مدد کی اور 6.56 ارب روپے تقسیم کیے۔ اسی طرح زکوٰۃ فنڈ کے تحت 11.77 ارب روپے صوبوں اور دیگر علاقوں کو منتقل کیے گئے۔ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) نے پنشن اور دیگر مدات میں 54.29 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کیں۔
اگرچہ غربت میں حالیہ اضافہ تشویش کا باعث ہے، تاہم اقتصادی سروے کے مطابق تعلیم، انٹرنیٹ تک رسائی، حفاظتی ٹیکہ کاری اور دیگر سماجی اشاریوں میں بہتری اس بات کا اشارہ ہے کہ سماجی تحفظ کے پروگرام عوامی فلاح میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معاشی استحکام اور مؤثر سماجی پالیسیوں کے ذریعے آنے والے برسوں میں غربت میں دوبارہ کمی لائی جا سکتی ہے۔


