پاکستان میں غربت میں اضافہ، دیہی غربت کی شرح 36.2 فیصد تک پہنچ گئی: رپورٹ

غربت

حکومتِ پاکستان کے پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشی ایٹو ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ 2018-19 میں یہ شرح 21.9 فیصد تھی۔ اسی دوران دیہی علاقوں میں غربت کی شرح بڑھ کر 36.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

غربت کے تخمینے سے متعلق ابتدائی رپورٹ 2024-25 کے مطابق سال 2024-25 کے لیے مہنگائی کے حساب سے غربت کی حد 8,484 روپے ماہانہ فی بالغ فرد مقرر کی گئی۔ اس بنیاد پر ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت میں سب سے زیادہ اضافہ دیہی علاقوں میں ہوا۔ دیہی غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہوگئی، جبکہ شہری علاقوں میں بھی غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق صوبائی سطح پر بھی غربت اور آمدنی میں عدم مساوات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آمدنی کی ناہمواری ناپنے کے پیمانے، گنی کوایفیشنٹ، میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امیر اور غریب طبقوں کے درمیان آمدنی کا فرق مزید بڑھ رہا ہے۔

اس سے قبل ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2024 کے دوران پاکستان میں غربت میں 7 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد غربت کی شرح 25.3 فیصد تک پہنچ گئی اور مزید ایک کروڑ 30 لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے چلے گئے۔

ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق انسانی وسائل کے شعبے میں بھی سنگین مسائل موجود ہیں۔ تقریباً 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں، پرائمری اسکول جانے کی عمر کے ایک چوتھائی بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے باوجود 75 فیصد بچے ایک سادہ کہانی پڑھ کر سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا  کہ عوامی سہولیات کی فراہمی میں بھی کمی پائی جاتی ہے۔ 2018 میں صرف نصف گھرانوں کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل تھی، جبکہ 31 فیصد آبادی محفوظ صفائی کی سہولت سے محروم تھی۔

شہری اور دیہی عدم مساوات

حکومتی رپورٹ کے مطابق قومی سطح پر عدم مساوات کا اشاریہ 28.4 سے بڑھ کر 32.7 ہوگیا۔ شہری علاقوں میں یہ شرح 31.0 سے بڑھ کر 34.4 اور دیہی علاقوں میں 23.4 سے بڑھ کر 29.2 تک پہنچ گئی۔

صوبوں کے لحاظ سے پنجاب میں عدم مساوات 28.4 سے بڑھ کر 32.0، سندھ میں 29.7 سے بڑھ کر 35.9، خیبر پختونخوا میں 24.8 سے بڑھ کر 29.4 اور بلوچستان میں 21.0 سے بڑھ کر 26.5 ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 کے بعد پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز، جن میں داخلی اور بیرونی عوامل شامل ہیں، غربت میں اضافے کی اہم وجوہات رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی، معاشی سست روی اور آمدنی کے مواقع میں کمی نے عام شہریوں کی معاشی صورتحال کو متاثر کیا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019 سے مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کو عالمی اور ملکی سطح پر مشکل معاشی حالات کا سامنا رہا۔ کووڈ-19 وبا کے باعث معاشی سرگرمیاں سست ہوئیں، جبکہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کو کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا، جس سے حقیقی آمدنی متاثر ہوئی۔

اس کے علاوہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال نے سپلائی چینز کو متاثر کیا، جبکہ شدید موسمیاتی اثرات نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔ خصوصاً 2022 کے تباہ کن سیلاب سے تقریباً 30.1 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ 2025 میں 2.9 ارب ڈالر کے نقصانات نے روزگار، زرعی پیداوار اور اہم بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں غربت کے خطرات مزید بڑھ گئے۔

حکومتِ پاکستان نے بڑھتی ہوئی غربت کے رجحانات کو تبدیل کرنے اور جامع اصلاحاتی ایجنڈے کے ذریعے سب کے لیے مساوی اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس کے مرکز میں غربت میں کمی اور معاشی نمو کو بڑھانے والے اقدامات شامل ہیں۔

اس سلسلے میں حکومت کا دعویٰ ہےکہ ’اُڑان پاکستان‘ فریم ورک پر عملدرآمد کیا جارہاہے، جو پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی پر زور دیتا ہے، جس میں مساوات اور بااختیاری کو بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے تاکہ معاشی ترقی کے فوائد وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچیں اور معاشرے کا کوئی بھی طبقہ پیچھے نہ رہ جائے۔

اسی بارے میں: